ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 8: سبق 8: سورۃ النبأ (آیات: 1 تا 40) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 20 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ النبأ ۔ آیات 1 اور 2)

«اَلنَّبَاِ الْعَظِيْمِ» سے مراد ہے:

الف) موت کی خبر • ب) قیامت کی خبر • ج) بارش کی خبر • د) خوشی کی خبر

جواب ب) قیامت کی خبر — «اَلنَّبَا» کا معنی (اہم) خبر ہے؛ اس عظیم خبر سے مراد قیامت کی خبر ہے، جس کے بارے میں کفار آپس میں سوال اور اختلاف کرتے تھے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ مِهَٰدٗا (سورۃ النبأ ۔ آیت 6)

«مِهٰدًا» کے معنی ہیں:

الف) چھت • ب) دیوار • ج) فرش • د) ستون

جواب ج) فرش — ذخیرۂ الفاظ میں «مِهٰدًا» کا معنی فرش دیا گیا ہے: کیا ہم نے زمین کو (رہنے کے لیے) فرش نہیں بنایا؟
3 کثیر الانتخابی سوالات

وَجَعَلۡنَا سِرَاجٗا وَهَّاجٗا (سورۃ النبأ ۔ آیت 13)

«سِرَاجًا وَّهَّاجًا» سے مراد ہے:

الف) شہابِ ثاقب • ب) سورج • ج) چاند • د) ستارہ

جواب ب) سورج — «سِرَاجًا وَّهَّاجًا» کا معنی روشن چراغ ہے، اور اس سے مراد سورج ہے، جو روشنی اور حرارت دونوں کا سرچشمہ ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلۡمُعۡصِرَٰتِ مَآءٗ ثَجَّاجٗا (سورۃ النبأ ۔ آیت 14)

«مَآءً ثَجَّاجًا» سے مراد ہے:

الف) خوب برسنے والا پانی • ب) ٹھنڈا پانی • ج) میٹھا پانی • د) گرم پانی

جواب الف) خوب برسنے والا پانی — ذخیرۂ الفاظ کے مطابق «ثَجَّاجًا» کا معنی خوب برسنے والا ہے: ہم نے بادلوں سے خوب برسنے والا پانی نازل فرمایا تاکہ اس سے اناج، سبزہ اور گھنے باغات نکالیں۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّآ أَنذَرۡنَٰكُمۡ عَذَابٗا قَرِيبٗا يَوۡمَ يَنظُرُ ٱلۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلۡكَافِرُ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ تُرَٰبَۢا (سورۃ النبأ ۔ آیت 40)

«يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا» کے مطابق قیامت کے دن کافر حسرت کرے گا:

الف) کاش میں پیدا نہ ہوتا • ب) کاش میں پتھر ہوتا • ج) کاش میں تنکا ہوتا • د) کاش میں مٹی ہوتا

جواب د) کاش میں مٹی ہوتا — «تُرَاب» کا معنی مٹی ہے: اپنے اعمال اور عبرت ناک انجام کو دیکھ کر کافر حسرت سے کہے گا کہ اے کاش! میں مٹی ہوتا (اور حساب سے بچ جاتا)۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ مِهَٰدٗا وَٱلۡجِبَالَ أَوۡتَادٗا وَخَلَقۡنَٰكُمۡ أَزۡوَٰجٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 6 تا 8)

آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی قدرتیں بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟ اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا)؟ اور ہم نے تمھیں (مرد و عورت کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا فرمایا۔

آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی تین قدرتیں بیان ہوئی ہیں۔

1 زمین فرش — زمین کو رہنے اور بسنے کے لیے فرش (بچھونا) بنایا۔
2 پہاڑ میخیں — پہاڑوں کو میخیں بنایا جو زمین کو جمائے رکھتے ہیں۔
3 جوڑوں میں تخلیق — انسانوں کو مرد اور عورت کے جوڑوں کی صورت میں پیدا فرمایا۔
7 مختصر جوابات

إِنَّ يَوۡمَ ٱلۡفَصۡلِ كَانَ مِيقَٰتٗا (سورۃ النبأ ۔ آیت 17)

«اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا» — آیتِ کریمہ میں فیصلے کے دن سے کیا مراد ہے؟

ترجمہ

بے شک فیصلے کے دن کا ایک مقررہ وقت ہے۔

جواب فیصلے کے دن («يَوْمُ الْفَصْل») سے مراد قیامت کا دن ہے، جس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے درمیان حق و باطل اور نیک و بد کا فیصلہ فرمائے گا۔ اس دن کا وقت اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرر ہے؛ جب صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ فوج در فوج چلے آئیں گے۔ (آیت 18)
8 مختصر جوابات

إِنَّهُمۡ كَانُواْ لَا يَرۡجُونَ حِسَابٗا وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا كِذَّابٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 27 اور 28)

آیاتِ کریمہ میں جہنمیوں کے کیا جرائم بیان ہوئے ہیں؟

ترجمہ

بے شک وہ کسی حساب کی امید نہیں رکھتے تھے۔ اور انھوں نے ہماری آیتوں کو خوب جھٹلایا تھا۔

آیاتِ کریمہ میں جہنمیوں کے دو جرائم بیان ہوئے ہیں۔

1 حساب کا انکار — وہ (قیامت کے) حساب کی کوئی امید ہی نہیں رکھتے تھے، یعنی آخرت کے منکر تھے۔
2 آیات کی تکذیب — انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو خوب جھٹلایا۔
جواب حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے؛ اس لیے ان سے کہا جائے گا: اب مزہ چکھو، ہم تمھارے لیے عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔ (آیات 29، 30)
9 مختصر جوابات

إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ مَفَازًا حَدَآئِقَ وَأَعۡنَٰبٗا وَكَوَاعِبَ أَتۡرَابٗا وَكَأۡسٗا دِهَاقٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 31 تا 34)

آیاتِ کریمہ میں پرہیزگاروں کو عطا کی جانے والی نعمتیں بیان کریں۔

ترجمہ

بے شک پرہیزگاروں کے لیے کامیابی ہے۔ (ان کے لیے) باغات اور انگور ہیں۔ اور نوجوان ہم عمر (بیویاں) ہیں۔ اور (پاکیزہ شراب کے) چھلکتے ہوئے جام ہیں۔

جواب پرہیزگاروں کے لیے یہ نعمتیں بیان ہوئی ہیں: کامیابی (جہنم سے نجات)، باغات اور انگور، نوجوان ہم عمر بیویاں اور پاکیزہ شراب کے چھلکتے ہوئے جام۔ وہاں وہ نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ — یہ آپ کے رب کی طرف سے بدلہ اور کافی عطا ہو گی۔ (آیات 35، 36)
10 مختصر جوابات

سُوْرَةُ النَّبَاِ میں استعمال ہونے والے کوئی سے تین نکرہ اسماء اور تین معرفہ اسماء تلاش کر کے تحریر کریں۔

تین نکرہ اسماء (تنوین والے) اور تین معرفہ اسماء («ال» والے)

1 تین نکرہ اسماء (تنوین والے) — 1۔ سِرَاجٗا — چراغ (سورج)۔ (آیت 13)
2 تین نکرہ اسماء (تنوین والے) — 2۔ مَآءٗ — پانی۔ (آیت 14)
3 تین نکرہ اسماء (تنوین والے) — 3۔ مَفَازًا — کامیابی۔ (آیت 31)
4 تین معرفہ اسماء («ال» والے) — 1۔ ٱلۡأَرۡضَ — زمین۔ (آیت 6)
5 تین معرفہ اسماء («ال» والے) — 2۔ وَٱلۡجِبَالَ — اور پہاڑ۔ (آیت 7)
6 تین معرفہ اسماء («ال» والے) — 3۔ اَلرَّحْمٰن — نہایت مہربان (اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام)۔ (آیات 37، 38)
جواب نکرہ وہ اسم ہے جو کسی غیر معین چیز پر دلالت کرے (عام طور پر تنوین کے ساتھ)، اور معرفہ وہ اسم ہے جو کسی معین چیز پر دلالت کرے (جیسے «ال» والے اسماء)۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلۡعَظِيمِ ٱلَّذِي هُمۡ فِيهِ مُخۡتَلِفُونَ كَلَّا سَيَعۡلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُونَ أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ مِهَٰدٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 1 تا 6)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

وہ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں؟ اس عظیم خبر (قیامت کی خبر) کے متعلق؟ جس کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ ہرگز (ایسا) نہیں! وہ عنقریب جان لیں گے۔ پھر ہرگز (ایسا) نہیں! وہ عنقریب جان لیں گے۔ کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟

جواب مکہ کے لوگ آپس میں قیامت کے بارے میں بحث کرتے تھے، کوئی مانتا تھا کوئی نہیں۔ اللہ نے سوال کے انداز میں فرمایا کہ یہ لوگ آخر کس بڑی خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ پھر تنبیہ کی کہ جلد ہی اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ خبر سچی ہے۔ اِس کے بعد اپنی قدرت کی نشانیاں یاد دلائیں کہ کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا؟ جو اللہ اتنی بڑی زمین کو رہنے کے قابل بنا سکتا ہے، وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی ضرور قادر ہے۔
12 تفصیلی جوابات

إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتۡ مِرۡصَادٗا لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابٗا لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحۡقَابٗا لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرۡدٗا وَلَا شَرَابًا إِلَّا حَمِيمٗا وَغَسَّاقٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 21 تا 25)

آیاتِ کریمہ میں سرکشوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

بے شک جہنم گھات میں ہے۔ (وہ) سرکشوں کے لیے ٹھکانا ہے۔ وہ اس میں مدتوں پڑے رہیں گے۔ نہ وہ اس میں کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا۔ سوائے کھولتے ہوئے پانی اور بہتی پیپ کے۔

سرکشوں کا انجام یہ بیان ہوا ہے:

1 جہنم ان کی گھات میں لگی ہوئی ہے اور وہی ان کا ٹھکانا ہے۔
2 وہ اس میں مدتوں پڑے رہیں گے۔
3 انھیں نہ کوئی ٹھنڈک ملے گی اور نہ کوئی پینے کی چیز — سوائے کھولتے پانی («حَمِيْم») اور بہتی پیپ («غَسَّاق») کے۔
4 یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہو گا، اور ان کے لیے عذاب ہی بڑھایا جاتا رہے گا۔ (آیات 26، 30)
13 تفصیلی جوابات

يَوۡمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ صَفّٗاۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنۡ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَقَالَ صَوَابٗا ذَٰلِكَ ٱلۡيَوۡمُ ٱلۡحَقُّۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ مَـَٔابًا (سورۃ النبأ ۔ آیات 38 اور 39)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

جس دن روح (جبریل علیہ السلام) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے، کوئی کلام نہیں کر سکے گا مگر وہ جسے رحمٰن اجازت عطا فرمائے گا اور وہ بات بھی ٹھیک کہے گا۔ یہ دن حق ہے، لہٰذا جو چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنا لے۔

جواب قیامت کے دن جبرائیل امینؑ اور تمام فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے۔ اُس دن اِتنا رعب ہوگا کہ کوئی بھی بات نہیں کر سکے گا، سوائے اُس کے جسے رحمٰن اجازت دے، اور وہ بھی صرف سچی بات کہے گا۔ نہ کوئی سفارش خود سے کر سکے گا، نہ کوئی بہانہ چلے گا۔ پھر فرمایا کہ یہ دن برحق ہے یعنی بالکل یقینی ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف لوٹنے کا راستہ بنا لے۔ سبق یہ ہے کہ آج ہمارے پاس موقع ہے، اُس دن صرف اعمال کام آئیں گے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ النَّبَاِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — «اَلنَّبَا» کے معنی اہم خبر کے ہیں۔ چوں کہ اس سورت میں قیامت کی خبر ہے، اس لیے اس کا نام «سُوْرَةُ النَّبَا» ہو گیا۔
2 دوسرا نام — اس سورت کو «سُوْرَةُ عَمَّ» بھی کہتے ہیں، کیوں کہ اس کا آغاز «عَمَّ» سے ہوتا ہے۔
3 مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 40 آیات ہیں۔
جواب مرکزی مضمون — آخرت کے انکار پر تنبیہ اور قیامت کے دن کی ہول ناکی کا بیان۔
15 تفصیلی جوابات

إِنَّآ أَنذَرۡنَٰكُمۡ عَذَابٗا قَرِيبٗا يَوۡمَ يَنظُرُ ٱلۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلۡكَافِرُ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ تُرَٰبَۢا (سورۃ النبأ ۔ آیت 40)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک ہم نے تمھیں قریبی عذاب سے ڈرا دیا ہے؛ اس دن ہر شخص دیکھ لے گا جو (اعمال) اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں، اور کافر کہے گا: اے کاش! میں مٹی ہوتا۔

جواب اللہ نے قریب آنے والے عذاب سے ڈرایا اور بتایا کہ اُس دن ہر انسان اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو دیکھ لے گا۔ ہر نیکی اور ہر برائی سامنے ہوگی، کچھ چھپا نہیں رہے گا۔ اُس وقت کافر حسرت سے کہے گا: کاش میں مٹی ہوتا! یعنی وہ چاہے گا کہ کاش میں پیدا ہی نہ ہوتا اور اِس حساب سے بچ جاتا۔ مگر اُس وقت افسوس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سبق یہ ہے کہ ہمیں ابھی سے اپنے اعمال درست کر لینے چاہئیں۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ النَّبَاِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ النبأ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 قیامت کے واقع ہونے کی خبر۔
2 کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کی مختلف نشانیوں اور قدرتوں کا بیان۔
3 آخرت میں کفار کی حسرت۔
4 قیامت کی ہول ناکی کا تذکرہ۔
5 آخرت میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر کسی کے سفارش نہ کر سکنے کا ذکر۔
6 جنت کی نعمتوں کا تذکرہ۔
7 اتنی بڑی کائنات بنانے والا اللہ تعالیٰ انسان کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔
8 اللہ تعالیٰ کی اجازت سے مقرب بندوں کی شفاعت کی قبولیت۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

17 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ مَفَازًا حَدَآئِقَ وَأَعۡنَٰبٗا وَكَوَاعِبَ أَتۡرَابٗا وَكَأۡسٗا دِهَاقٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 31 تا 36)

سُوْرَةُ النَّبَاِ میں بیان کی گئی جنت کی نعمتوں کی فہرست بنا کر مذاکرہ کریں۔

سورۃ النبأ (آیات 31 تا 36) میں پرہیزگاروں کے لیے جنت کی یہ نعمتیں بیان ہوئی ہیں:

مذاکرے کے نکات

1 مَفَاز — کامیابی — جہنم سے نجات اور مراد کا حصول۔ (آیت 31)
2 حَدَآئِق — (گھرے ہوئے سرسبز) باغات۔ (آیت 32)
3 اَعْنَاب — انگور (عمدہ پھل)۔ (آیت 32)
4 كَوَاعِبَ اَتْرَابًا — نوجوان ہم عمر بیویاں۔ (آیت 33)
5 كَاْسًا دِهَاقًا — (پاکیزہ شراب کے) چھلکتے ہوئے جام۔ (آیت 34)
6 پاکیزہ ماحول — وہاں نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ۔ (آیت 35)
7 رب کی عطا — یہ سب آپ کے رب کی طرف سے بدلہ اور کافی ہو جانے والا انعام ہو گا۔ (آیت 36)
8 یہ نعمتیں «لِلْمُتَّقِيْن» — پرہیزگاروں — کے لیے ہیں؛ نعمتوں کا راستہ تقویٰ ہے۔
9 جہنم کے حمیم و غساق کے مقابلے میں جنت کے پاکیزہ مشروبات — دونوں انجام اعمال کا پورا پورا بدلہ ہیں۔
18 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلۡمُعۡصِرَٰتِ مَآءٗ ثَجَّاجٗا لِّنُخۡرِجَ بِهِۦ حَبّٗا وَنَبَاتٗا وَجَنَّـٰتٍ أَلۡفَافًا (سورۃ النبأ ۔ آیات 14 تا 16)

سُوْرَةُ النَّبَاِ میں اللہ تعالیٰ نے بادلوں سے میٹھا پانی برسانے کا ذکر فرمایا ہے۔ سائنسی معلومات کی روشنی میں اس پورے عمل یعنی آبی چکر (Water cycle) کی منظر کشی کریں۔

ترجمہ

اور ہم نے بادلوں سے خوب برسنے والا پانی نازل فرمایا۔ تاکہ ہم اس کے ذریعے اناج اور سبزہ نکالیں۔ اور گھنے باغات (اگائیں)۔

آبی چکر (Water cycle) کے مراحل

1 1۔ بخارات بننا (Evaporation) — سورج — جسے اسی سورت میں «سِرَاجًا وَّهَّاجًا» (روشن چراغ) فرمایا گیا (آیت 13) — کی حرارت سے سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں کا پانی بخارات بن کر فضا میں بلند ہوتا ہے؛ پودوں سے بھی پانی بخارات بن کر اڑتا ہے۔
2 2۔ کھارے سے میٹھا — بخارات بنتے وقت نمکیات نیچے رہ جاتے ہیں؛ یوں سمندر کا کھارا پانی اوپر جا کر میٹھے پانی میں بدل جاتا ہے — یہی «میٹھا پانی» بارش میں برستا ہے۔
3 3۔ بادل بننا (Condensation) — بلندی پر ٹھنڈک سے بخارات ننھی بوندوں میں بدل کر بادل بناتے ہیں؛ قرآن نے انھیں «اَلْمُعْصِرَات» (خوب بھرے/نچڑنے والے بادل) فرمایا۔
4 4۔ بارش برسنا (Precipitation) — بوندیں مل کر بھاری ہوتی ہیں تو «مَآءً ثَجَّاجًا» — خوب برسنے والا پانی — بن کر برستی ہیں۔
5 5۔ جمع ہونا اور جذب ہونا (Collection) — بارش کا پانی ندی نالوں سے ہو کر دریاؤں اور سمندروں میں جمع ہوتا ہے اور کچھ زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی بنتا ہے۔
6 6۔ نباتات کا اگنا — اسی پانی سے اللہ تعالیٰ اناج («حَبًّا»)، سبزہ («نَبَاتًا») اور گھنے باغات («جَنّٰتٍ اَلْفَافًا») نکالتا ہے — اور پھر یہی چکر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔
جواب یہ مسلسل چلنے والا کامل نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کی نشانی ہے؛ طلبہ اس چکر کی خاکہ کشی (ڈایاگرام) بنا کر ہر مرحلے پر یہ آیات لکھیں۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

لِّنُخۡرِجَ بِهِۦ حَبّٗا وَنَبَاتٗا وَجَنَّـٰتٍ أَلۡفَافًا (سورۃ النبأ ۔ آیات 15 اور 16)

بیج سے پھل بننے کے تمام مراحل کے ذریعے انسانی زندگی کے تمام ادوار تحریر کریں اور ہر مرحلے کی اہمیت واضح کریں۔

اسی سورت میں اللہ تعالیٰ نے بارش کے پانی سے اناج، سبزہ اور باغات نکالنے کا ذکر فرمایا ہے (آیات 15، 16)۔ بیج سے پھل تک کا سفر انسانی زندگی کے ادوار سے حیرت انگیز مشابہت رکھتا ہے:

1 1۔ بیج — آغازِ زندگی — زمین میں چھپا ننھا بیج زندگی کا نقطۂ آغاز ہے، جیسے ماں کی گود میں نومولود بچہ۔ اہمیت: اچھا بیج (پاکیزہ آغاز اور اچھی تربیت کی بنیاد) ہی اچھے پھل کی ضمانت ہے۔
2 2۔ کونپل — بچپن — بیج پھوٹتا ہے اور نرم و نازک کونپل نکلتی ہے، جیسے بچپن۔ اہمیت: اس مرحلے میں حفاظت، پانی (شفقت) اور نگہداشت نہ ملے تو پودا مرجھا جاتا ہے؛ بچپن کی تربیت ساری عمر کی بنیاد ہے۔
3 3۔ بڑھتا پودا — لڑکپن اور طالب علمی — پودا جڑیں گہری کرتا اور قد نکالتا ہے، جیسے لڑکپن میں علم اور عادات کی جڑیں بنتی ہیں۔ اہمیت: یہی سیکھنے کا زمانہ ہے؛ جو جڑ اب گہری ہو گی وہی آندھیوں میں قائم رکھے گی۔
4 4۔ تناور درخت — جوانی — درخت اپنی پوری قوت پر ہوتا ہے، جیسے جوانی عمل اور محنت کا زمانہ ہے۔ اہمیت: قوت کے اس دور کو عبادت، حلال کمائی اور خدمت میں لگانا ہی اس کا حق ہے۔
5 5۔ پھول اور پھل — پختگی اور نفع رسانی — درخت پھل دے کر دوسروں کو کھلاتا ہے، جیسے پختہ عمر کا انسان خاندان اور معاشرے کو نفع دیتا ہے۔ اہمیت: انسان کی قدر اس کے نفع سے ہے — بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔
6 6۔ پھل کا پکنا اور بیج چھوڑ جانا — بڑھاپا اور موت — پھل پک کر جھڑ جاتا ہے مگر اپنے بیج (اگلی نسل اور اثرات) چھوڑ جاتا ہے، جیسے انسان دنیا سے جاتا ہے مگر نیک اولاد، علم اور صدقۂ جاریہ چھوڑ جاتا ہے۔ اہمیت: آخرت کی تیاری اور اچھا ورثہ چھوڑنا ہی اصل کامیابی ہے۔
جواب جس طرح مردہ زمین بارش سے جی اٹھتی اور بیج سے فصل نکل آتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ فرمائے گا — یہی اس سورت کا مرکزی درس ہے۔
20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

إِنَّ يَوۡمَ ٱلۡفَصۡلِ كَانَ مِيقَٰتٗا

سُوْرَةُ النَّبَاِ میں آنے والے اسماء کی نشاندہی کریں اور اسماء کی پہچان کیسے کرتے ہیں؟

اسم کی پہچان کی علامات اور سورۃ النبأ سے نشاندہی

1 اسم کی پہچان کی علامات — تنوین — جس لفظ کے آخر میں تنوین (ـً ـٍ ـٌ) ہو وہ اسم ہوتا ہے۔
2 اسم کی پہچان کی علامات — «ال» — جس لفظ کے شروع میں «ال» ہو وہ اسم ہوتا ہے۔
3 اسم کی پہچان کی علامات — حرفِ جر کے بعد — حروفِ جر (مِنْ، فِيْ، عَنْ، اِلٰى وغیرہ) کے بعد آنے والا لفظ اسم ہوتا ہے۔
4 اسم کی پہچان کی علامات — اضافت — مضاف اور مضاف الیہ (جیسے «يَوْمُ الْفَصْل») دونوں اسم ہوتے ہیں۔
5 سورۃ النبأ سے نشاندہی — تنوین والے (نکرہ) — سِرَاجٗا (آیت 13)، مَآءٗ (آیت 14)، مَفَازًا (آیت 31) — نیز مِهٰدًا، اَوْتَادًا، اَزْوَاجًا وغیرہ۔
6 سورۃ النبأ سے نشاندہی — «ال» والے (معرفہ) — ٱلۡأَرۡضَ (آیت 6)، وَٱلۡجِبَالَ (آیت 7) — نیز اَلنَّبَا، اَلَّيْل، اَلنَّهَار، اَلرَّحْمٰن وغیرہ۔
7 سورۃ النبأ سے نشاندہی — حرفِ جر کے بعد — «عَنِ النَّبَاِ» (آیت 2) اور «مِنَ الْمُعْصِرٰتِ» (آیت 14) میں «النَّبَا» اور «الْمُعْصِرٰت» اسم ہیں۔
جواب غیر منصرف — کچھ اسماء ایسے ہیں جن کے ساتھ نہ «ال» لکھا اور پڑھا جاتا ہے اور نہ ان کے آخر میں تنوین آ سکتی ہے (اور عام حالت میں آخری حرف پر زیر بھی نہیں آتی)، جیسے: اٰدَمُ، اِبْرٰهِيْمُ، اَحْمَدُ، رَمَضَانُ، اَبَابِيْلُ، سَلْوٰى — ایسے اسماء کو «غیر منصرف» کہتے ہیں۔ اسی سورت میں «جَهَنَّمَ» (آیت 21) بھی غیر منصرف اسم ہے۔ (تین نکرہ اور تین معرفہ اسماء کی الگ فہرست سوال 2 (س5) میں ملاحظہ کریں۔)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.