عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ النبأ ۔ آیات 1 اور 2)
«اَلنَّبَاِ الْعَظِيْمِ» سے مراد ہے:
الف) موت کی خبر • ب) قیامت کی خبر • ج) بارش کی خبر • د) خوشی کی خبر
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ النبأ ۔ آیات 1 اور 2)
«اَلنَّبَاِ الْعَظِيْمِ» سے مراد ہے:
الف) موت کی خبر • ب) قیامت کی خبر • ج) بارش کی خبر • د) خوشی کی خبر
أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ مِهَٰدٗا (سورۃ النبأ ۔ آیت 6)
«مِهٰدًا» کے معنی ہیں:
الف) چھت • ب) دیوار • ج) فرش • د) ستون
وَجَعَلۡنَا سِرَاجٗا وَهَّاجٗا (سورۃ النبأ ۔ آیت 13)
«سِرَاجًا وَّهَّاجًا» سے مراد ہے:
الف) شہابِ ثاقب • ب) سورج • ج) چاند • د) ستارہ
وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلۡمُعۡصِرَٰتِ مَآءٗ ثَجَّاجٗا (سورۃ النبأ ۔ آیت 14)
«مَآءً ثَجَّاجًا» سے مراد ہے:
الف) خوب برسنے والا پانی • ب) ٹھنڈا پانی • ج) میٹھا پانی • د) گرم پانی
إِنَّآ أَنذَرۡنَٰكُمۡ عَذَابٗا قَرِيبٗا يَوۡمَ يَنظُرُ ٱلۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلۡكَافِرُ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ تُرَٰبَۢا (سورۃ النبأ ۔ آیت 40)
«يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا» کے مطابق قیامت کے دن کافر حسرت کرے گا:
الف) کاش میں پیدا نہ ہوتا • ب) کاش میں پتھر ہوتا • ج) کاش میں تنکا ہوتا • د) کاش میں مٹی ہوتا
أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ مِهَٰدٗا وَٱلۡجِبَالَ أَوۡتَادٗا وَخَلَقۡنَٰكُمۡ أَزۡوَٰجٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 6 تا 8)
آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی قدرتیں بیان ہوئی ہیں؟
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟ اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا)؟ اور ہم نے تمھیں (مرد و عورت کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا فرمایا۔
آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی تین قدرتیں بیان ہوئی ہیں۔
إِنَّ يَوۡمَ ٱلۡفَصۡلِ كَانَ مِيقَٰتٗا (سورۃ النبأ ۔ آیت 17)
«اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا» — آیتِ کریمہ میں فیصلے کے دن سے کیا مراد ہے؟
بے شک فیصلے کے دن کا ایک مقررہ وقت ہے۔
إِنَّهُمۡ كَانُواْ لَا يَرۡجُونَ حِسَابٗا وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا كِذَّابٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 27 اور 28)
آیاتِ کریمہ میں جہنمیوں کے کیا جرائم بیان ہوئے ہیں؟
بے شک وہ کسی حساب کی امید نہیں رکھتے تھے۔ اور انھوں نے ہماری آیتوں کو خوب جھٹلایا تھا۔
آیاتِ کریمہ میں جہنمیوں کے دو جرائم بیان ہوئے ہیں۔
إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ مَفَازًا حَدَآئِقَ وَأَعۡنَٰبٗا وَكَوَاعِبَ أَتۡرَابٗا وَكَأۡسٗا دِهَاقٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 31 تا 34)
آیاتِ کریمہ میں پرہیزگاروں کو عطا کی جانے والی نعمتیں بیان کریں۔
بے شک پرہیزگاروں کے لیے کامیابی ہے۔ (ان کے لیے) باغات اور انگور ہیں۔ اور نوجوان ہم عمر (بیویاں) ہیں۔ اور (پاکیزہ شراب کے) چھلکتے ہوئے جام ہیں۔
سُوْرَةُ النَّبَاِ میں استعمال ہونے والے کوئی سے تین نکرہ اسماء اور تین معرفہ اسماء تلاش کر کے تحریر کریں۔
تین نکرہ اسماء (تنوین والے) اور تین معرفہ اسماء («ال» والے)
عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلۡعَظِيمِ ٱلَّذِي هُمۡ فِيهِ مُخۡتَلِفُونَ كَلَّا سَيَعۡلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُونَ أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ مِهَٰدٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 1 تا 6)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
وہ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں؟ اس عظیم خبر (قیامت کی خبر) کے متعلق؟ جس کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ ہرگز (ایسا) نہیں! وہ عنقریب جان لیں گے۔ پھر ہرگز (ایسا) نہیں! وہ عنقریب جان لیں گے۔ کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتۡ مِرۡصَادٗا لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابٗا لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحۡقَابٗا لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرۡدٗا وَلَا شَرَابًا إِلَّا حَمِيمٗا وَغَسَّاقٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 21 تا 25)
آیاتِ کریمہ میں سرکشوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟
بے شک جہنم گھات میں ہے۔ (وہ) سرکشوں کے لیے ٹھکانا ہے۔ وہ اس میں مدتوں پڑے رہیں گے۔ نہ وہ اس میں کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا۔ سوائے کھولتے ہوئے پانی اور بہتی پیپ کے۔
سرکشوں کا انجام یہ بیان ہوا ہے:
يَوۡمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ صَفّٗاۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنۡ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَقَالَ صَوَابٗا ذَٰلِكَ ٱلۡيَوۡمُ ٱلۡحَقُّۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ مَـَٔابًا (سورۃ النبأ ۔ آیات 38 اور 39)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
جس دن روح (جبریل علیہ السلام) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے، کوئی کلام نہیں کر سکے گا مگر وہ جسے رحمٰن اجازت عطا فرمائے گا اور وہ بات بھی ٹھیک کہے گا۔ یہ دن حق ہے، لہٰذا جو چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنا لے۔
سُوْرَةُ النَّبَاِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف
إِنَّآ أَنذَرۡنَٰكُمۡ عَذَابٗا قَرِيبٗا يَوۡمَ يَنظُرُ ٱلۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلۡكَافِرُ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ تُرَٰبَۢا (سورۃ النبأ ۔ آیت 40)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
بے شک ہم نے تمھیں قریبی عذاب سے ڈرا دیا ہے؛ اس دن ہر شخص دیکھ لے گا جو (اعمال) اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں، اور کافر کہے گا: اے کاش! میں مٹی ہوتا۔
سُوْرَةُ النَّبَاِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ النبأ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ مَفَازًا حَدَآئِقَ وَأَعۡنَٰبٗا وَكَوَاعِبَ أَتۡرَابٗا وَكَأۡسٗا دِهَاقٗا (سورۃ النبأ ۔ آیات 31 تا 36)
سُوْرَةُ النَّبَاِ میں بیان کی گئی جنت کی نعمتوں کی فہرست بنا کر مذاکرہ کریں۔
سورۃ النبأ (آیات 31 تا 36) میں پرہیزگاروں کے لیے جنت کی یہ نعمتیں بیان ہوئی ہیں:
مذاکرے کے نکات
وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلۡمُعۡصِرَٰتِ مَآءٗ ثَجَّاجٗا لِّنُخۡرِجَ بِهِۦ حَبّٗا وَنَبَاتٗا وَجَنَّـٰتٍ أَلۡفَافًا (سورۃ النبأ ۔ آیات 14 تا 16)
سُوْرَةُ النَّبَاِ میں اللہ تعالیٰ نے بادلوں سے میٹھا پانی برسانے کا ذکر فرمایا ہے۔ سائنسی معلومات کی روشنی میں اس پورے عمل یعنی آبی چکر (Water cycle) کی منظر کشی کریں۔
اور ہم نے بادلوں سے خوب برسنے والا پانی نازل فرمایا۔ تاکہ ہم اس کے ذریعے اناج اور سبزہ نکالیں۔ اور گھنے باغات (اگائیں)۔
آبی چکر (Water cycle) کے مراحل
لِّنُخۡرِجَ بِهِۦ حَبّٗا وَنَبَاتٗا وَجَنَّـٰتٍ أَلۡفَافًا (سورۃ النبأ ۔ آیات 15 اور 16)
بیج سے پھل بننے کے تمام مراحل کے ذریعے انسانی زندگی کے تمام ادوار تحریر کریں اور ہر مرحلے کی اہمیت واضح کریں۔
اسی سورت میں اللہ تعالیٰ نے بارش کے پانی سے اناج، سبزہ اور باغات نکالنے کا ذکر فرمایا ہے (آیات 15، 16)۔ بیج سے پھل تک کا سفر انسانی زندگی کے ادوار سے حیرت انگیز مشابہت رکھتا ہے:
إِنَّ يَوۡمَ ٱلۡفَصۡلِ كَانَ مِيقَٰتٗا
سُوْرَةُ النَّبَاِ میں آنے والے اسماء کی نشاندہی کریں اور اسماء کی پہچان کیسے کرتے ہیں؟
اسم کی پہچان کی علامات اور سورۃ النبأ سے نشاندہی
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔