ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 7: سبق 7: سورۃ ص (آیات: 1 تا 88) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 20 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّا سَخَّرۡنَا ٱلۡجِبَالَ مَعَهُۥ يُسَبِّحۡنَ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِشۡرَاقِ (سورۃ ص ۔ آیات 18 اور 19)

پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کرنے کا ذکر ہوا:

الف) سیدنا داؤد علیہ السلام کو • ب) سیدنا ایوب علیہ السلام کو • ج) سیدنا الیاس علیہ السلام کو • د) سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو

جواب الف) سیدنا داؤد علیہ السلام کو — اللہ تعالیٰ نے پہاڑ سیدنا داؤد علیہ السلام کے لیے مسخر کر دیے تھے جو صبح و شام ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے، اور پرندے بھی جمع ہو کر (تسبیح میں شریک ہوتے) تھے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

إِذۡ دَخَلُواْ عَلَىٰ دَاوُۥدَ فَفَزِعَ مِنۡهُمۡۖ قَالُواْ لَا تَخَفۡۖ (سورۃ ص ۔ آیت 22)

«لَا تَخَفْ» فعل ہے:

الف) ماضی • ب) مضارع • ج) امر • د) نہی

جواب د) نہی — «لَا تَخَفْ» (ڈرو نہیں) فعل نہی ہے: اس میں ڈرنے کے کام سے روکا گیا ہے۔ سبق کی گرامر کے مطابق ایسا فعل جس میں کسی کام سے روکا جائے، فعل نہی کہلاتا ہے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

هَٰذَاۚ وَإِنَّ لِلطَّـٰغِينَ لَشَرَّ مَـَٔابٖ (سورۃ ص ۔ آیت 55)

«وَاِنَّ لِلطّٰغِيْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ» — اور بہت ہی برا ٹھکانا ہو گا:

الف) سرکشوں کے لیے • ب) منافقوں کے لیے • ج) قاتلوں کے لیے • د) چوروں کے لیے

جواب الف) سرکشوں کے لیے — «اَلطّٰغِيْن» کا معنی سرکش ہے: پرہیزگاروں کے اچھے ٹھکانے کے مقابلے میں سرکشوں کے لیے بہت برا ٹھکانا — جہنم — ہے جس میں وہ داخل ہوں گے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

هَٰذَا فَلۡيَذُوقُوهُ حَمِيمٞ وَغَسَّاقٞ (سورۃ ص ۔ آیت 57)

«غَسَّاق» کے معنی ہیں:

الف) پیپ • ب) خون • ج) پانی • د) بہتا پانی

جواب الف) پیپ — ذخیرۂ الفاظ میں «غَسَّاق» کا معنی پیپ دیا گیا ہے: (جہنمیوں سے کہا جائے گا:) یہ کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ ہے، سو اسے چکھیں۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

إِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن طِينٖ (سورۃ ص ۔ آیت 71)

«اِنِّيْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍ» — بے شک میں بنانے والا ہوں ایک بشر:

الف) پانی سے • ب) پتھر سے • ج) مٹی سے • د) آگ سے

جواب ج) مٹی سے — «طِيْن» کا معنی مٹی ہے: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے ایک بشر (سیدنا آدم علیہ السلام) بنانے والا ہوں؛ ابلیس نے اسی پر تکبر کیا کہ میں آگ سے بنا ہوں۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

وَمَا يَنظُرُ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ مَّا لَهَا مِن فَوَاقٖ (سورۃ ص ۔ آیت 15)

«وَمَا يَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ» — آیتِ کریمہ میں کفارِ مکہ کی کس بات پر سرزنش کی گئی ہے؟

ترجمہ

اور یہ لوگ صرف ایک سخت چیخ (کے عذاب) کا انتظار کر رہے ہیں جس میں کوئی وقفہ نہ ہو گا۔

جواب کفارِ مکہ نے سابقہ قوموں کے انجام سے عبرت نہ پکڑی اور تکبر و مخالفت میں پڑ کر رسولوں کو جھٹلاتے رہے؛ اس پر سرزنش کی گئی کہ اب یہ صرف ایک سخت چیخ (اچانک آ جانے والے عذاب) کے منتظر ہیں، جس کے آنے کے بعد نہ کوئی وقفہ ملے گا اور نہ مہلت۔
7 مختصر جوابات

ٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلۡأَيۡدِۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ (سورۃ ص ۔ آیت 17)

«وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَيْدِ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ» — آیتِ کریمہ میں بیان کی گئی سیدنا داؤد علیہ السلام کی صفات تحریر کریں۔

ترجمہ

(اے نبی!) آپ ان کی باتوں پر صبر کیجیے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کیجیے جو بڑی قوت والے تھے؛ بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے۔

آیتِ کریمہ میں سیدنا داؤد علیہ السلام کی تین صفات بیان ہوئی ہیں۔

1 1۔ عَبْدَنَا — اللہ تعالیٰ کے (خاص) بندے۔
2 2۔ ذَا الْاَيْد — (عبادت اور دین کے معاملے میں) بڑی قوت والے۔
3 3۔ اَوَّاب — اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والے۔
8 مختصر جوابات

وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهُۥ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحِكۡمَةَ وَفَصۡلَ ٱلۡخِطَابِ (سورۃ ص ۔ آیت 20)

«وَشَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَاٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ» — آیتِ کریمہ میں سیدنا داؤد علیہ السلام کے لیے اللہ تعالیٰ کے کن احسانات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اور ہم نے ان کی سلطنت کو مضبوط کیا اور انھیں حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔

آیتِ کریمہ میں تین احسانات کا ذکر ہے۔

1 مضبوط سلطنت — اللہ تعالیٰ نے ان کی حکومت کو مضبوط اور مستحکم فرما دیا۔
2 حکمت — انھیں حکمت (دانائی اور نبوت) عطا فرمائی۔
3 فصل الخطاب — جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔
9 مختصر جوابات

كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ إِلَيۡكَ مُبَٰرَكٞ لِّيَدَّبَّرُوٓاْ ءَايَٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ (سورۃ ص ۔ آیت 29)

«كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ...» — آیتِ کریمہ میں نزولِ قرآن کے کون سے مقاصد بیان ہوئے ہیں؟

ترجمہ

(یہ) کتاب جو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے بہت بابرکت ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ عقل مند لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔

آیتِ کریمہ میں نزولِ قرآن کے دو مقاصد بیان ہوئے ہیں۔

1 تدبر — لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں۔
2 نصیحت — عقل مند لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔
جواب یعنی قرآنِ مجید صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ غور و فکر اور عمل کے لیے نازل ہوا ہے۔
10 مختصر جوابات

ٱرۡكُضۡ بِرِجۡلِكَۖ هَٰذَا مُغۡتَسَلُۢ بَارِدٞ وَشَرَابٞ (سورۃ ص ۔ آیت 42)

«اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ» — آیتِ کریمہ کی رو سے سیدنا ایوب علیہ السلام کی بیماری دور کرنے کا کیا سبب پیدا فرمایا گیا؟

ترجمہ

(ہم نے ایوب علیہ السلام سے فرمایا:) اپنا پاؤں (زمین پر) ماریے؛ یہ نہانے اور پینے کے لیے ٹھنڈا پانی ہے۔

جواب سیدنا ایوب علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ اپنا پاؤں زمین پر ماریں؛ (معجزانہ طور پر) ٹھنڈے پانی کا چشمہ جاری ہو گیا، جس سے نہانا اور جسے پینا ان کی بیماری اور تکلیف کے دور ہونے کا سبب بنا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے گھر والے اور ان جیسے مزید بھی عطا فرمائے۔ (آیت 43)

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَهَبۡ لِي مُلۡكٗا لَّا يَنۢبَغِي لِأَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ (سورۃ ص ۔ آیت 35)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

(سلیمان علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو زیبا نہ ہو؛ بے شک تو ہی بہت عطا فرمانے والا ہے۔

جواب حضرت سلیمانؑ کی ایک آزمائش ہوئی تو وہ فوراً اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا کی: اے میرے رب! مجھے معاف فرما دے۔ پھر اُنہوں نے ایسی بادشاہت مانگی جو اُن کے بعد کسی کو نہ ملے۔ یہ دنیا کے لالچ میں نہیں مانگی تھی، بلکہ اِس لیے کہ وہ اللہ کے دین کا کام کر سکیں اور یہ اُن کی نبوت کی ایک بڑی نشانی بن جائے۔ دعا کے آخر میں کہا کہ بےشک تُو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔ سبق یہ ہے کہ مانگنا صرف اللہ سے مانگنا چاہیے، اور دعا سے پہلے معافی مانگنی چاہیے۔
12 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ صٓ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — اس سورت کا آغاز حرف «صٓ» سے ہوتا ہے جو حروفِ مقطعات میں سے ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ صٓ» ہے۔
2 مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 88 آیات ہیں۔
3 اس سبق میں — اس سبق میں پوری سورت (آیات 1 تا 88) شامل ہے۔
جواب مرکزی مضمون — عقائدِ ثلاثہ (توحید، رسالت اور آخرت) کے دلائل۔
13 تفصیلی جوابات

فَسَخَّرۡنَا لَهُ ٱلرِّيحَ تَجۡرِي بِأَمۡرِهِۦ رُخَآءً حَيۡثُ أَصَابَ وَٱلشَّيَٰطِينَ كُلَّ بَنَّآءٖ وَغَوَّاصٖ (سورۃ ص ۔ آیات 36 اور 37)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

تو ہم نے ہوا کو ان (سلیمان علیہ السلام) کے لیے مسخر کر دیا جو ان کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جہاں وہ پہنچنا چاہتے، اور شیطانوں (جنات) کو بھی (تابع کر دیا): ہر عمارت بنانے والے اور غوطہ لگانے والے کو۔

جواب اللہ نے حضرت سلیمانؑ کی دعا قبول فرمائی اور اُنہیں بہت بڑی سلطنت عطا کی۔ ہوا کو اُن کے تابع کر دیا گیا جو اُن کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی، جہاں وہ چاہتے وہاں پہنچا دیتی تھی۔ اِسی طرح شیطانوں (جنات) کو بھی اُن کے قابو میں دے دیا گیا۔ اُن میں کچھ عمارتیں بنانے والے تھے اور کچھ سمندر میں غوطہ لگا کر موتی نکالنے والے۔ سبق یہ ہے کہ ہوا اور جنات جیسی چیزیں بھی اللہ کے حکم کی پابند ہیں، اور وہ جسے چاہے کتنی ہی بڑی نعمت دے سکتا ہے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ صٓ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ صٓ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 قرآنِ مجید نصیحت کا ذریعہ۔
2 گزشتہ قوموں کی ہلاکت کا سبب۔
3 مشرکین کا عقیدۂ توحید پر تعجب۔
4 نبی اکرم ﷺ کی رسالت پر کفار کا اعتراض۔
5 سابقہ جھٹلانے والی قوموں کا انجام۔
6 انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرت کی بہترین مثالیں۔
7 کائنات کی تخلیق کی حکمت۔
8 آخرت میں پرہیزگاروں اور سرکشوں کا انجام۔
9 نبی اکرم ﷺ کے منکرین کو تنبیہ۔
10 سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق اور ابلیس کے تکبر کا انجام۔
11 آپ ﷺ کی مشفقانہ شخصیت اور تعلیمِ قرآن۔
15 تفصیلی جوابات

لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ أَجۡمَعِينَ (سورۃ ص ۔ آیت 85)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

(اللہ نے فرمایا:) میں ضرور جہنم کو تجھ سے اور ان میں سے جتنے تیری پیروی کریں گے، ان سب سے بھر دوں گا۔

جواب جب ابلیس نے سجدے سے انکار کیا اور قسم کھائی کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے گا، تو اللہ نے دو ٹوک اعلان فرمایا۔ اُس نے کہا کہ میں جہنم کو تجھ سے اور اُن سب لوگوں سے بھر دوں گا جو تیرے پیچھے چلیں گے۔ یعنی شیطان تو خود سزا پائے گا ہی، اُس کی بات ماننے والے بھی اُس کے ساتھ ہوں گے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ شیطان کبھی کسی کا دوست نہیں، وہ صرف ساتھ لے ڈوبنا چاہتا ہے۔ سبق یہ ہے کہ شیطان کے بہکاوے سے بچیں اور اُس سے اللہ کی پناہ مانگتے رہیں۔
16 تفصیلی جوابات

وَلَا تَتَّبِعِ ٱلۡهَوَىٰ (سورۃ ص ۔ آیت 26)

فعل نہی کی تعریف کریں اور سُوْرَةُ صٓ سے کوئی ایک مثال تلاش کریں اور اس کی گردان کریں۔

1 تعریف — ایسا فعل جس میں کسی کام سے روکا جائے، فعل نہی کہلاتا ہے؛ جیسے: «لَا تَضْرِبْ» (تو ایک مرد نہ مار)، «لَا تَكْتُبْ» (تو ایک مرد نہ لکھ)، «لَا تَخْرُجُوْا» (تم سب مرد نہ نکلو)، «لَا تَفْعَلْنَ» (تم سب عورتیں نہ کرو)۔
2 سُوْرَةُ صٓ سے مثال — «وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى» — اور خواہش کی پیروی نہ کر (آیت 26)؛ یہاں خواہش کی پیروی سے روکا گیا ہے، لہٰذا «لَا تَتَّبِعْ» فعل نہی ہے۔ (آیت میں اگلے لفظ سے ملانے کی وجہ سے «تَتَّبِعِ» پڑھا جاتا ہے۔) اسی سورت میں «لَا تَخَفْ» (آیت 22) بھی فعل نہی ہے۔
3 گردان (سبق کے «لَا تَكْتُبْ» نمونے پر) — مذکر حاضر — لَا تَتَّبِعْ (واحد)، لَا تَتَّبِعَا (تثنیہ)، لَا تَتَّبِعُوْا (جمع)
4 گردان (سبق کے «لَا تَكْتُبْ» نمونے پر) — مؤنث حاضر — لَا تَتَّبِعِيْ (واحد)، لَا تَتَّبِعَا (تثنیہ)، لَا تَتَّبِعْنَ (جمع)
جواب نوٹ: «لَا تَضْرِبْ» وغیرہ کتاب کی تدریسی مثالیں ہیں اور گردان کے صیغے قواعد کے نمونے ہیں، قرآنی اقتباس نہیں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

17 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهُۥ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحِكۡمَةَ وَفَصۡلَ ٱلۡخِطَابِ (سورۃ ص ۔ آیات 17 تا 26)

سُوْرَةُ صٓ میں سیدنا داؤد علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے جن انعامات کا ذکر ہے انھیں تحریر کر کے مذاکرہ کریں۔

سورۃ صٓ (آیات 17 تا 26) میں سیدنا داؤد علیہ السلام پر یہ انعامات بیان ہوئے ہیں:

مذاکرے کے نکات

1 قوت اور رجوع — انھیں «ذَا الْاَيْد» (بڑی قوت والا) بنایا گیا اور وہ «اَوَّاب» (اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے) تھے۔ (آیت 17)
2 پہاڑوں کی تسخیر — پہاڑ ان کے لیے مسخر کر دیے گئے جو صبح و شام ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ (آیت 18)
3 پرندوں کی تسخیر — پرندے جمع ہو کر (تسبیح میں) شریک ہوتے؛ سب ان کے ساتھ رجوع کرنے والے تھے۔ (آیت 19)
4 مضبوط سلطنت — ان کی سلطنت مضبوط کر دی گئی۔ (آیت 20)
5 حکمت اور فصل الخطاب — انھیں حکمت اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت عطا ہوئی۔ (آیت 20)
6 مغفرت اور قرب — (مقدمے والی آزمائش پر استغفار کے بعد) انھیں بخش دیا گیا، اور ان کے لیے اللہ کے ہاں خاص قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔ (آیات 24، 25)
7 خلافت — انھیں زمین میں خلیفہ (نائب) بنایا گیا اور حق کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ (آیت 26)
8 نیک اولاد — انھیں سیدنا سلیمان علیہ السلام جیسا بیٹا عطا ہوا — بہترین بندہ، بہت رجوع کرنے والا۔ (آیت 30)
9 قوت اور اقتدار ملنے پر بھی سیدنا داؤد علیہ السلام کی پہچان عبادت اور رجوعِ الی اللہ رہی۔
10 حاکم کے لیے اصل زیور: حق کے ساتھ فیصلہ اور خواہش کی پیروی سے اجتناب۔ (آیت 26)
18 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن طِينٖ (سورۃ ص ۔ آیات 71 تا 85)

سیدنا آدم علیہ السلام اور ابلیس کے قصے سے حکمت کے چند نکات اپنے اساتذہ کرام کی مدد سے اخذ کریں۔

سورۃ صٓ (آیات 71 تا 85) میں بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی سے بشر (سیدنا آدم علیہ السلام) کو بنایا، اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا؛ سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے تکبر کیا اور کہا: میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے بنایا۔ اس پر وہ راندۂ درگاہ ہوا، اس پر قیامت تک لعنت ہوئی؛ اس نے مہلت مانگ کر سب کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی — سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے۔ اس قصے سے حکمت کے چند نکات:

1 تکبر سب سے بڑی تباہی — ابلیس کا جرم انکار سے پہلے تکبر تھا؛ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنا شیطان کا طریقہ ہے۔
2 غلط قیاس — آگ کو مٹی سے بہتر سمجھنا ابلیس کا اپنا (فاسد) قیاس تھا؛ اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنی عقل اور رائے کو کھڑا کرنا گمراہی ہے۔
3 حکمِ الٰہی پر فوری عمل — فرشتوں نے بلا حیل و حجت سجدہ کیا؛ بندگی کا تقاضا یہی ہے۔
4 شیطان کھلا دشمن — اس نے قسم کھا کر سب کو گمراہ کرنے کا اعلان کیا؛ ہمیں اسے اپنا دشمن سمجھ کر اس کے وسوسوں سے بچنا چاہیے۔
5 اخلاص ہی بچاؤ — شیطان کا بس اللہ کے مخلص بندوں پر نہیں چلتا (آیت 83)؛ شیطان سے حفاظت کا راستہ اخلاص ہے۔
6 مہلت دھوکا نہ دے — ابلیس کو قیامت تک مہلت ملی مگر انجام جہنم ٹھہرا؛ ڈھیل کو اللہ کی رضا نہ سمجھا جائے۔ (آیات 80، 81، 85)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدۡهُ عَذَابٗا ضِعۡفٗا فِي ٱلنَّارِ (سورۃ ص ۔ آیات 55 تا 64)

سُوْرَةُ صٓ میں کفار اور مشرکین کے سرداروں اور ان کے گمراہ پیروکاروں کی ایک دوسرے کے لیے بدعا کا ذکر ہے؛ اس سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

جہنم کا منظر (آیات 55 تا 64) اور اسباق

1 جہنم کا منظر (آیات 55 تا 64) — سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا — جہنم — ہو گا، جہاں کھولتا پانی اور پیپ چکھنے کو ملے گی۔ (آیات 55 تا 58)
2 جہنم کا منظر (آیات 55 تا 64) — جب پیروکاروں کا گروہ (سرداروں کے ساتھ) جہنم میں گھسے گا تو سردار کہیں گے: ان کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، یہ بھی آگ میں جھلسنے والے ہیں۔ (آیت 59)
3 جہنم کا منظر (آیات 55 تا 64) — پیروکار جواب دیں گے: (آیت 60)
4 جہنم کا منظر (آیات 55 تا 64) — قَالُواْ بَلۡ أَنتُمۡ لَا مَرۡحَبَۢا بِكُمۡۖ وہ (پیروکار) کہیں گے: بلکہ تم ہی ہو جن کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں؛ تم ہی یہ (عذاب) ہمارے آگے لائے ہو، سو (یہ) برا ٹھکانا ہے۔ — سورۃ ص ۔ آیت 60
5 جہنم کا منظر (آیات 55 تا 64) — پھر پیروکار اپنے گمراہ کرنے والے سرداروں کے لیے بدعا کریں گے: اے ہمارے رب! جو یہ (عذاب) ہمارے آگے لایا ہے اسے آگ میں دگنا عذاب دے۔ (آیت 61) — اور وہ آپس میں جھگڑتے رہیں گے۔ (آیت 64)
6 اسباق — اندھی تقلید سے بچنا — گمراہ رہنماؤں، سرداروں اور بڑوں کی بے سوچے سمجھے پیروی قیامت کے دن کام نہیں آئے گی؛ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔
7 اسباق — پیروی کا معیار حق — کسی کی پیروی صرف اس وقت جائز ہے جب وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ہو۔
8 اسباق — باطل کی دوستی کا انجام — گمراہی پر جمع ہونے والے دنیا کے ساتھی آخرت میں ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے والے ہوں گے۔
9 اسباق — گمراہ کرنے والے کا دوہرا بوجھ — جو دوسروں کو گمراہ کرتا ہے وہ اپنے گناہ کے ساتھ ان کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھاتا ہے؛ اسی لیے پیروکار اس کے لیے دگنے عذاب کی بدعا کریں گے۔
10 اسباق — صحبت کا اثر — اچھی صحبت جنت کی طرف اور بری صحبت جہنم کی طرف لے جاتی ہے؛ ساتھی سوچ سمجھ کر چنیں۔
20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلۡأَيۡدِۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ

فعل نہی کی پانچ قرآنی مثالیں تحریر کریں۔ (تعریف اور گردان کے لیے سوال 3 (3ب) ملاحظہ کریں۔)

فعل نہی کی پانچ قرآنی مثالیں درج ذیل ہیں (پہلی چار اسی سبق یعنی سورۃ صٓ سے ہیں):

1 1۔ لَا تَخَفۡۖ — «ڈرو نہیں» — (فریقین نے سیدنا داؤد علیہ السلام سے کہا)۔ (سورۃ ص ۔ آیت 22)
2 2۔ وَلَا تُشۡطِطۡ — «اور (فیصلے میں) بے انصافی نہ کیجیے»۔ (سورۃ ص ۔ آیت 22)
3 3۔ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلۡهَوَىٰ — «اور خواہش کی پیروی نہ کر»۔ (سورۃ ص ۔ آیت 26)
4 4۔ وَلَا تَحۡنَثۡۗ — «اور قسم نہ توڑ» — (سیدنا ایوب علیہ السلام کو حکم)۔ (سورۃ ص ۔ آیت 44)
5 5۔ وَلَا تَقۡرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ — «اور تم دونوں اس درخت کے قریب نہ جانا» — (سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کی اہلیہ کو حکم)۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 35)
جواب ان سب میں «لَا» (نہی) کے ذریعے کسی کام سے روکا گیا ہے، اس لیے یہ سب فعل نہی ہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.