1
جہنم کا منظر (آیات 55 تا 64) — سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا — جہنم — ہو گا، جہاں کھولتا پانی اور پیپ چکھنے کو ملے گی۔ (آیات 55 تا 58)
2
جہنم کا منظر (آیات 55 تا 64) — جب پیروکاروں کا گروہ (سرداروں کے ساتھ) جہنم میں گھسے گا تو سردار کہیں گے: ان کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، یہ بھی آگ میں جھلسنے والے ہیں۔ (آیت 59)
3
جہنم کا منظر (آیات 55 تا 64) — پیروکار جواب دیں گے: (آیت 60)
4
جہنم کا منظر (آیات 55 تا 64) — قَالُواْ بَلۡ أَنتُمۡ لَا مَرۡحَبَۢا بِكُمۡۖ وہ (پیروکار) کہیں گے: بلکہ تم ہی ہو جن کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں؛ تم ہی یہ (عذاب) ہمارے آگے لائے ہو، سو (یہ) برا ٹھکانا ہے۔ — سورۃ ص ۔ آیت 60
5
جہنم کا منظر (آیات 55 تا 64) — پھر پیروکار اپنے گمراہ کرنے والے سرداروں کے لیے بدعا کریں گے: اے ہمارے رب! جو یہ (عذاب) ہمارے آگے لایا ہے اسے آگ میں دگنا عذاب دے۔ (آیت 61) — اور وہ آپس میں جھگڑتے رہیں گے۔ (آیت 64)
6
اسباق — اندھی تقلید سے بچنا — گمراہ رہنماؤں، سرداروں اور بڑوں کی بے سوچے سمجھے پیروی قیامت کے دن کام نہیں آئے گی؛ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔
7
اسباق — پیروی کا معیار حق — کسی کی پیروی صرف اس وقت جائز ہے جب وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ہو۔
8
اسباق — باطل کی دوستی کا انجام — گمراہی پر جمع ہونے والے دنیا کے ساتھی آخرت میں ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے والے ہوں گے۔
9
اسباق — گمراہ کرنے والے کا دوہرا بوجھ — جو دوسروں کو گمراہ کرتا ہے وہ اپنے گناہ کے ساتھ ان کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھاتا ہے؛ اسی لیے پیروکار اس کے لیے دگنے عذاب کی بدعا کریں گے۔
10
اسباق — صحبت کا اثر — اچھی صحبت جنت کی طرف اور بری صحبت جہنم کی طرف لے جاتی ہے؛ ساتھی سوچ سمجھ کر چنیں۔