1
قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — قومِ موسیٰ کا فرد — قارون سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے تھا مگر اس نے اپنی ہی قوم پر سرکشی کی۔ (آیت 76)
2
قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — بے پناہ خزانے — اللہ تعالیٰ نے اسے اتنے خزانے دیے کہ ان کی کنجیاں اٹھانا طاقت ور آدمیوں کی جماعت پر بھی بھاری تھا۔ (آیت 76)
3
قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — قوم کی نصیحت — قوم نے کہا: اترا مت، مال سے آخرت کما، دنیا کا حصہ نہ بھول، احسان کر اور فساد نہ پھیلا۔ (آیات 76، 77)
4
قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — تکبر بھرا جواب — اس نے کہا: یہ سب کچھ تو مجھے میرے علم (ہنر) کی بنا پر دیا گیا ہے — حالاں کہ اللہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور جمعیت والوں کو ہلاک کر چکا تھا۔ (آیت 78)
5
قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — زینت کے ساتھ نکلنا — وہ اپنی قوم کے سامنے پوری آرائش کے ساتھ نکلا تو دنیا کے طالب کہنے لگے: کاش ہمیں بھی ایسا ہی مل جائے، یہ تو بڑا نصیب والا ہے۔ (آیت 79)
6
قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — اہلِ علم کا جواب — علم والوں نے کہا: افسوس! اللہ کا ثواب اس سے بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ (آیت 80)
7
قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — عبرت ناک انجام — اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے گھر (اور خزانوں) سمیت زمین میں دھنسا دیا؛ نہ کوئی جماعت مدد کر سکی اور نہ وہ خود بچ سکا۔ (آیت 81)
8
قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — تمنا کرنے والوں کی ندامت — جو کل اس جیسے مال کی تمنا کرتے تھے، وہ کہنے لگے: رزق تو اللہ ہی کشادہ اور تنگ کرتا ہے؛ اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ (آیت 82)
9
اسباق — مال و دولت اللہ کا فضل اور آزمائش ہے، اپنے علم و ہنر کا کمال نہیں۔
10
اسباق — مال پر تکبر اور اترانا اللہ کو ناپسند ہے اور تباہی کا راستہ ہے۔
11
اسباق — مال کا صحیح مصرف: آخرت کی طلب، احسان اور اللہ کی راہ میں خرچ۔
12
اسباق — آخرت کا گھر انھی کے لیے ہے جو زمین میں بڑائی اور فساد نہیں چاہتے۔ (آیت 83)