ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 6: سبق 6: سورۃ القصص (آیات: 43 تا 88) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 20 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوۡمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيۡهِمۡۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلۡعُصۡبَةِ أُوْلِي ٱلۡقُوَّةِ إِذۡ قَالَ لَهُۥ قَوۡمُهُۥ لَا تَفۡرَحۡۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡفَرِحِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 76)

سُوْرَةُ الْقَصَصِ میں عبرت ناک واقعہ بیان کیا گیا ہے:

الف) نمرود کا • ب) قارون کا • ج) جالوت کا • د) شداد کا

جواب ب) قارون کا — اس سبق میں قارون کا عبرت ناک واقعہ بیان ہوا ہے: مال و دولت پر گھمنڈ کرنے کی وجہ سے اسے اس کے گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ (آیات 76 تا 82)
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَلَٰكِنَّآ أَنشَأۡنَا قُرُونٗا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡعُمُرُۚ وَمَا كُنتَ ثَاوِيٗا فِيٓ أَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَا وَلَٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 45)

«ثَاوِيًا» کے معنی ہیں:

الف) مسافر • ب) مقیم • ج) مریض • د) تھکا ہوا

جواب ب) مقیم — ذخیرۂ الفاظ میں «ثَاوِيًا» کا معنی مقیم دیا گیا ہے: آپ ﷺ اہلِ مدین میں مقیم نہیں تھے کہ ان پر ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے؛ یہ خبریں اللہ تعالیٰ کی وحی سے آپ کو ملیں۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

وَقِيلَ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُمۡ وَرَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۚ لَوۡ أَنَّهُمۡ كَانُواْ يَهۡتَدُونَ (سورۃ القصص ۔ آیت 64)

«اُدْعُوْا» فعل ہے:

الف) ماضی • ب) مضارع • ج) امر • د) نہی

جواب ج) امر — «اُدْعُوْا» (تم سب پکارو) فعل امر ہے: قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائے گا کہ اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں کو پکارو، تو وہ پکاریں گے مگر وہ کوئی جواب نہ دیں گے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَأَصۡبَحَ ٱلَّذِينَ تَمَنَّوۡاْ مَكَانَهُۥ بِٱلۡأَمۡسِ يَقُولُونَ وَيۡكَأَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ وَيَقۡدِرُۖ لَوۡلَآ أَن مَّنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا لَخَسَفَ بِنَاۖ وَيۡكَأَنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ القصص ۔ آیت 82)

«تَمَنّٰى» کے معنی ہیں:

الف) امید • ب) قریب • ج) بعید • د) گمان

جواب الف) امید — «تَمَنّٰى» کا معنی امید و آرزو کرنا ہے: جو لوگ کل قارون کے مرتبے کی تمنا کر رہے تھے، وہ (اس کے دھنسائے جانے کے بعد) کہنے لگے کہ اللہ ہی رزق کشادہ اور تنگ کرتا ہے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

فَخَسَفۡنَا بِهِۦ وَبِدَارِهِ ٱلۡأَرۡضَ فَمَا كَانَ لَهُۥ مِن فِئَةٖ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُنتَصِرِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 81)

«فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ» کے مطابق ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا:

الف) فرعون کو • ب) قارون کو • ج) ہامان کو • د) ابوجہل کو

جواب ب) قارون کو — یہ آیت قارون کے بارے میں ہے: تکبر اور سرکشی کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے گھر (خزانوں) سمیت زمین میں دھنسا دیا؛ نہ کوئی جماعت اس کی مدد کر سکی اور نہ وہ خود بچ سکا۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

أُوْلَـٰٓئِكَ يُؤۡتَوۡنَ أَجۡرَهُم مَّرَّتَيۡنِ بِمَا صَبَرُواْ وَيَدۡرَءُونَ بِٱلۡحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ (سورۃ القصص ۔ آیت 54)

«وَيَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ» — آیتِ کریمہ میں اہلِ ایمان کی کن صفات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا، اس وجہ سے کہ انھوں نے صبر کیا؛ اور وہ بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انھیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

آیتِ کریمہ میں اہلِ ایمان کی تین صفات کا ذکر ہے۔

1 صبر — وہ (ایمان اور حق پر) صبر کرتے ہیں؛ اسی کی وجہ سے انھیں دوہرا اجر ملے گا۔
2 برائی کا جواب بھلائی سے — وہ برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کرتے ہیں۔
3 انفاق — اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔
7 مختصر جوابات

وَمِن رَّحۡمَتِهِۦ جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ (سورۃ القصص ۔ آیت 73)

آیتِ کریمہ میں رات اور دن کا کیا فائدہ بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

اور اس نے اپنی رحمت سے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم اس (رات) میں آرام کرو اور تاکہ تم (دن میں) اس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔

جواب بتایا گیا ہے کہ رات اور دن اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں: رات اس لیے بنائی کہ اس میں آرام اور سکون حاصل کرو، اور دن اس لیے کہ اس میں اللہ کا فضل (رزق) تلاش کرو — اور ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔
8 مختصر جوابات

وَٱبۡتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنۡيَاۖ وَأَحۡسِن كَمَآ أَحۡسَنَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ وَلَا تَبۡغِ ٱلۡفَسَادَ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُفۡسِدِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 77)

«وَابْتَغِ فِيْمَاۤ اٰتٰىكَ اللهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ» — آیتِ کریمہ میں انسان کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور اللہ نے تمھیں جو (مال) دے رکھا ہے اس کے ذریعے تم آخرت کے گھر کو طلب کرو اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ نہ بھولو۔

جواب حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال و اسباب کو آخرت کا گھر کمانے کا ذریعہ بناؤ — یعنی اسے اللہ کی راہ میں اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرو — اور ساتھ ہی دنیا میں سے اپنا (جائز) حصہ بھی نہ بھولو۔
9 مختصر جوابات

وَٱبۡتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنۡيَاۖ وَأَحۡسِن كَمَآ أَحۡسَنَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ وَلَا تَبۡغِ ٱلۡفَسَادَ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُفۡسِدِينَ (سورۃ القصص ۔ آیات 76 اور 77)

«وَاَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللهُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے قارون کی قوم نے اسے کن باتوں کی نصیحت کی؟

ترجمہ

اور (دوسروں سے) بھلائی کرو جیسا کہ اللہ نے تم پر احسان فرمایا ہے، اور زمین میں فساد کی کوشش نہ کرو۔ بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

قارون کی قوم (کے نیک لوگوں) نے اسے یہ نصیحتیں کیں:

1 (مال پر) اترا مت؛ بے شک اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (آیت 76)
2 اللہ کے دیے ہوئے مال کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کر۔
3 دنیا میں سے اپنا (جائز) حصہ نہ بھول۔
4 دوسروں سے بھلائی کر جیسے اللہ نے تجھ پر احسان فرمایا ہے۔
5 زمین میں فساد کی کوشش نہ کر، کیوں کہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
10 مختصر جوابات

وَأَصۡبَحَ ٱلَّذِينَ تَمَنَّوۡاْ مَكَانَهُۥ بِٱلۡأَمۡسِ يَقُولُونَ وَيۡكَأَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ وَيَقۡدِرُۖ لَوۡلَآ أَن مَّنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا لَخَسَفَ بِنَاۖ وَيۡكَأَنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ القصص ۔ آیت 82)

«اَللهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَيَقْدِرُ» — آیتِ کریمہ میں رزق کے حوالے سے کیا فرمایا گیا ہے؟

ترجمہ

(وہ کہنے لگے:) کیا خوب! اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ فرماتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے۔

جواب فرمایا گیا ہے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے: وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ۔ لہٰذا مال ملنے پر اترانا اور نہ ملنے پر مایوس ہونا، دونوں غلط ہیں؛ یہ سب اللہ کی حکمت اور آزمائش ہے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ مِنۢ بَعۡدِ مَآ أَهۡلَكۡنَا ٱلۡقُرُونَ ٱلۡأُولَىٰ بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ (سورۃ القصص ۔ آیت 43)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو، پہلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد، کتاب عطا فرمائی جو لوگوں کے لیے بصیرتوں (کا مجموعہ) اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

جواب پہلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو کتاب (تورات) عطا فرمائی۔ یہ کتاب لوگوں کے لیے بصیرت تھی، یعنی اِس سے اُنہیں سچ اور جھوٹ صاف دکھائی دیتا تھا۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی تھی اور رحمت بھی، تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ اِس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی کتاب انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ آج ہمارے پاس قرآن مجید ہے، جسے پڑھنا اور سمجھنا ہماری ذمہ داری ہے۔
12 تفصیلی جوابات

وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ فَيَقُولُ مَاذَآ أَجَبۡتُمُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَنۢبَآءُ يَوۡمَئِذٖ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُونَ (سورۃ القصص ۔ آیات 65 اور 66)

آیاتِ کریمہ کے مطابق قیامت والے دن اللہ تعالیٰ مشرکین کو ندا دے کر کیا فرمائے گا؟

ترجمہ

اور جس دن (اللہ) انھیں ندا دے گا تو فرمائے گا: تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟ تو اس دن ان پر تمام خبریں تاریک ہو جائیں گی، پھر وہ آپس میں (بھی) سوال نہیں کر سکیں گے۔

جواب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکین کو ندا دے کر فرمائے گا: «تم نے (میرے) رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟» اس سوال پر ان کی ساری باتیں اور بہانے (خبریں) ان پر تاریک ہو جائیں گے — کوئی جواب نہ سوجھے گا — اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ بھی نہیں سکیں گے۔ اسی دن ان سے ان کے (بنائے ہوئے) شریکوں کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا اور وہ انھیں پکاریں گے مگر کوئی جواب نہ پائیں گے۔ (آیات 62 تا 64)
13 تفصیلی جوابات

فَخَسَفۡنَا بِهِۦ وَبِدَارِهِ ٱلۡأَرۡضَ فَمَا كَانَ لَهُۥ مِن فِئَةٖ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُنتَصِرِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 81)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

پھر ہم نے اس (قارون) کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ (خود اپنا) بچاؤ کرنے والوں میں سے ہوا۔

جواب قارون بہت مالدار تھا اور اپنے خزانوں پر بہت غرور کرتا تھا۔ آخرکار اللہ نے اُسے اور اُس کے گھر دونوں کو زمین میں دھنسا دیا۔ اُس وقت کوئی گروہ ایسا نہ تھا جو اللہ کے مقابلے میں اُس کی مدد کر سکتا۔ اور نہ وہ خود اپنے آپ کو بچا سکا۔ سبق یہ ہے کہ مال و دولت پر تکبر کرنا بہت بری بات ہے، کیونکہ اللہ کی پکڑ کے سامنے کوئی دولت اور کوئی ساتھی کام نہیں آتا۔
14 تفصیلی جوابات

فَأَمَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَعَسَىٰٓ أَن يَكُونَ مِنَ ٱلۡمُفۡلِحِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 67)

«فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِيْنَ» — آیتِ کریمہ میں فلاح پانے کے لیے کیا شرطیں بیان کی گئی ہیں؟

ترجمہ

لیکن جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو امید ہے کہ وہ کامیاب ہونے والوں میں سے ہو گا۔

آیتِ کریمہ میں فلاح (کامیابی) کے لیے تین شرطیں بیان ہوئی ہیں۔

1 توبہ — کفر، شرک اور گناہوں سے سچی توبہ کرنا۔
2 ایمان — اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر (سچا) ایمان لانا۔
3 عملِ صالح — ایمان کے تقاضے کے مطابق نیک عمل کرنا۔
جواب جو ان تین شرطوں کو پورا کرے، اس کے لیے امید ہے کہ وہ قیامت کے دن کامیاب ہونے والوں میں سے ہو گا۔
15 تفصیلی جوابات

مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيۡرٞ مِّنۡهَاۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزَى ٱلَّذِينَ عَمِلُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ (سورۃ القصص ۔ آیت 84)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر (بدلہ) ہے، اور جو برائی لے کر آئے گا تو جنھوں نے برے عمل کیے انھیں صرف ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے۔

جواب اِس آیت میں اللہ کے انصاف اور مہربانی کا اصول بتایا گیا ہے۔ جو شخص ایک نیکی لے کر آئے گا، اُسے اُس سے کہیں بہتر بدلہ ملے گا۔ یعنی اللہ نیکی کا اجر بڑھا کر دیتا ہے۔ لیکن جو برائی لے کر آئے گا، اُسے اُتنی ہی سزا ملے گی جتنا اُس نے کیا ہوگا، اِس سے زیادہ نہیں۔ سبق یہ ہے کہ ہمیں چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، اور برائی سے بچنا چاہیے۔
16 تفصیلی جوابات

إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوۡمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيۡهِمۡۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلۡعُصۡبَةِ أُوْلِي ٱلۡقُوَّةِ إِذۡ قَالَ لَهُۥ قَوۡمُهُۥ لَا تَفۡرَحۡۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡفَرِحِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 76)

آیتِ کریمہ میں قارون کے متعلق کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

بے شک قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا، پھر اس نے ان پر سرکشی (ظلم) کی، اور ہم نے اسے اس قدر خزانے عطا فرمائے کہ اس کی کنجیاں (اٹھانا) طاقت ور آدمیوں کی ایک بڑی جماعت کو بھی مشکل ہوتا تھا۔ جب اس کی قوم نے اس سے کہا: اترا مت! بے شک اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

آیتِ کریمہ میں قارون کے متعلق یہ باتیں بتائی گئی ہیں:

1 وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم (بنی اسرائیل) کا فرد تھا۔
2 اس نے اپنی ہی قوم پر سرکشی اور ظلم کیا۔
3 اللہ تعالیٰ نے اسے اتنے خزانے دیے تھے کہ ان کی کنجیاں اٹھانا طاقت ور آدمیوں کی ایک بڑی جماعت پر بھی بھاری ہوتا تھا۔
4 قوم (کے نیک لوگوں) نے اسے نصیحت کی کہ مال پر اترا مت، کیوں کہ اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

17 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوۡمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيۡهِمۡۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلۡعُصۡبَةِ أُوْلِي ٱلۡقُوَّةِ إِذۡ قَالَ لَهُۥ قَوۡمُهُۥ لَا تَفۡرَحۡۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡفَرِحِينَ (سورۃ القصص ۔ آیات 76 تا 82)

مال و دولت پر گھمنڈ کرنے کی وجہ سے قارون کو عبرت ناک سزا ملی۔ قارون کا قصہ اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) اور اسباق

1 قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — قومِ موسیٰ کا فرد — قارون سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے تھا مگر اس نے اپنی ہی قوم پر سرکشی کی۔ (آیت 76)
2 قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — بے پناہ خزانے — اللہ تعالیٰ نے اسے اتنے خزانے دیے کہ ان کی کنجیاں اٹھانا طاقت ور آدمیوں کی جماعت پر بھی بھاری تھا۔ (آیت 76)
3 قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — قوم کی نصیحت — قوم نے کہا: اترا مت، مال سے آخرت کما، دنیا کا حصہ نہ بھول، احسان کر اور فساد نہ پھیلا۔ (آیات 76، 77)
4 قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — تکبر بھرا جواب — اس نے کہا: یہ سب کچھ تو مجھے میرے علم (ہنر) کی بنا پر دیا گیا ہے — حالاں کہ اللہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور جمعیت والوں کو ہلاک کر چکا تھا۔ (آیت 78)
5 قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — زینت کے ساتھ نکلنا — وہ اپنی قوم کے سامنے پوری آرائش کے ساتھ نکلا تو دنیا کے طالب کہنے لگے: کاش ہمیں بھی ایسا ہی مل جائے، یہ تو بڑا نصیب والا ہے۔ (آیت 79)
6 قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — اہلِ علم کا جواب — علم والوں نے کہا: افسوس! اللہ کا ثواب اس سے بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ (آیت 80)
7 قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — عبرت ناک انجام — اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے گھر (اور خزانوں) سمیت زمین میں دھنسا دیا؛ نہ کوئی جماعت مدد کر سکی اور نہ وہ خود بچ سکا۔ (آیت 81)
8 قارون کا قصہ (آیات 76 تا 82 کی روشنی میں) — تمنا کرنے والوں کی ندامت — جو کل اس جیسے مال کی تمنا کرتے تھے، وہ کہنے لگے: رزق تو اللہ ہی کشادہ اور تنگ کرتا ہے؛ اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ (آیت 82)
9 اسباق — مال و دولت اللہ کا فضل اور آزمائش ہے، اپنے علم و ہنر کا کمال نہیں۔
10 اسباق — مال پر تکبر اور اترانا اللہ کو ناپسند ہے اور تباہی کا راستہ ہے۔
11 اسباق — مال کا صحیح مصرف: آخرت کی طلب، احسان اور اللہ کی راہ میں خرچ۔
12 اسباق — آخرت کا گھر انھی کے لیے ہے جو زمین میں بڑائی اور فساد نہیں چاہتے۔ (آیت 83)
18 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ القصص ۔ آیات 43 تا 88

سُوْرَةُ الْقَصَصِ کے اس حصے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے واقعات زمانی ترتیب کے لحاظ سے نکات کی صورت میں تحریر کریں۔

اس حصے (آیات 43 تا 88) میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے واقعات مسلسل قصے کے بجائے حوالوں کی صورت میں آئے ہیں؛ زمانی ترتیب سے یہ نکات بنتے ہیں:

1 پہلی (نافرمان) امتوں کی ہلاکت کے بعد سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو کتاب (تورات) عطا کی گئی، جو لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت تھی۔ (آیت 43)
2 (کوہِ) طور کی غربی جانب جب موسیٰ علیہ السلام کی طرف حکم (رسالت) بھیجا گیا تو آپ ﷺ وہاں موجود نہ تھے؛ یہ خبریں آپ ﷺ کو وحی سے دی گئیں۔ (آیات 44، 46)
3 نہ آپ ﷺ اہلِ مدین میں مقیم تھے کہ ان کے حالات خود سن کر بیان کرتے — یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی ہوئی سچی خبریں ہیں۔ (آیت 45)
4 سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہی کی قوم کے فرد قارون کی سرکشی، تکبر اور عبرت ناک انجام کا واقعہ بیان ہوا۔ (آیات 76 تا 82)
جواب (پیدائش سے فرعون کی غرقابی تک کے واقعات کی مکمل زمانی ترتیب سبق نمبر 5 کی سرگرمی 2 میں گزر چکی ہے۔)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَمِن رَّحۡمَتِهِۦ جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ (سورۃ القصص ۔ آیات 71 تا 73)

دن اور رات کا نظام کس طرح جاری ہے؟ سائنسی حقائق کی روشنی میں واضح کریں۔

قرآنِ کریم کا بیان اور سائنسی حقائق کی روشنی میں

1 قرآنِ کریم کا بیان — اسی سبق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ رات طاری کر دے تو اس کے سوا کون معبود ہے جو تمھیں روشنی لا دے؟ اور اگر ہمیشہ دن طاری کر دے تو کون ہے جو تمھیں رات لا دے جس میں تم آرام کرو؟ (آیات 71، 72) پھر فرمایا کہ اس نے اپنی رحمت سے رات اور دن بنائے تاکہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل (رزق) تلاش کرو۔ (آیت 73)
2 سائنسی حقائق کی روشنی میں — زمین کی محوری گردش — زمین اپنے محور کے گرد تقریباً 24 گھنٹے میں ایک چکر مکمل کرتی ہے؛ جو حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے وہاں دن اور جو پیچھے ہوتا ہے وہاں رات ہوتی ہے۔
3 سائنسی حقائق کی روشنی میں — مسلسل نظام — یہ گردش ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکتی، اس لیے دن اور رات ایک مقررہ حساب سے مسلسل ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔
4 سائنسی حقائق کی روشنی میں — سورج کے گرد گردش اور محور کا جھکاؤ — زمین تقریباً ساڑھے 365 دن میں سورج کے گرد چکر پورا کرتی ہے، اور محور کے جھکاؤ کی وجہ سے دن رات کی لمبائی اور موسم بدلتے رہتے ہیں۔
5 سائنسی حقائق کی روشنی میں — رات اور نیند — اندھیرا چھانے پر جسم میں نیند کا نظام (سکون پہنچانے والے ہارمون) متحرک ہوتا ہے؛ یوں رات واقعی آرام کے لیے موزوں بنائی گئی ہے۔
6 سائنسی حقائق کی روشنی میں — دن اور معاش — دن کی روشنی کام کاج، پودوں کی نشوونما اور رزق کے حصول کا ذریعہ ہے — جیسا کہ آیت میں «فضل تلاش کرنے» سے تعبیر فرمایا گیا۔
جواب نتیجہ — دن اور رات کا یہ کامل اور مسلسل نظام نہ اتفاق ہے نہ کسی مخلوق کے بس میں؛ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور رحمت کی نشانی ہے، جس کا تقاضا شکر گزاری ہے۔
20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَمِن رَّحۡمَتِهِۦ جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ

فعل امر کی قرآنی مثالیں تحریر کریں اور تین افعال سے فعل امر کی گردان لکھیں۔

اسی سبق سے فعل امر کی قرآنی مثالیں اور گردانِ فعل امر (سبق کے «اُكْتُبْ» نمونے پر)

1 اسی سبق سے فعل امر کی قرآنی مثالیں — 1۔ قُلۡ فَأۡتُواْ — «فرما دیجیے: پس تم (کوئی کتاب) لے آؤ» — «قُلْ» اور «فَأْتُوْا» دونوں فعل امر ہیں۔ (آیت 49)
2 اسی سبق سے فعل امر کی قرآنی مثالیں — 2۔ ٱدۡعُواْ — «تم سب اپنے شریکوں کو پکارو»۔ (آیت 64)
3 اسی سبق سے فعل امر کی قرآنی مثالیں — 3۔ هَاتُواْ — «اپنی دلیل لاؤ»۔ (آیت 75)
4 اسی سبق سے فعل امر کی قرآنی مثالیں — 4۔ وَٱبۡتَغِ — «اور (مال کے ذریعے آخرت کا گھر) طلب کر»۔ (آیت 77)
5 اسی سبق سے فعل امر کی قرآنی مثالیں — 5۔ وَأَحۡسِن — «اور بھلائی کر (جیسے اللہ نے تجھ پر احسان کیا)»۔ (آیت 77)
6 گردانِ فعل امر (سبق کے «اُكْتُبْ» نمونے پر) — نمونہ: اُكْتُبْ (لکھ) — مذکر: اُكْتُبْ، اُكْتُبَا، اُكْتُبُوْا — مؤنث: اُكْتُبِيْ، اُكْتُبَا، اُكْتُبْنَ
7 گردانِ فعل امر (سبق کے «اُكْتُبْ» نمونے پر) — 1۔ اُشْكُرْ (شکر کر) — مذکر: اُشْكُرْ، اُشْكُرَا، اُشْكُرُوْا — مؤنث: اُشْكُرِيْ، اُشْكُرَا، اُشْكُرْنَ (آیت 73 میں شکر ہی کی تلقین ہے)
8 گردانِ فعل امر (سبق کے «اُكْتُبْ» نمونے پر) — 2۔ اُنْصُرْ (مدد کر) — مذکر: اُنْصُرْ، اُنْصُرَا، اُنْصُرُوْا — مؤنث: اُنْصُرِيْ، اُنْصُرَا، اُنْصُرْنَ
9 گردانِ فعل امر (سبق کے «اُكْتُبْ» نمونے پر) — 3۔ اِسْمَعْ (سن) — مذکر: اِسْمَعْ، اِسْمَعَا، اِسْمَعُوْا — مؤنث: اِسْمَعِيْ، اِسْمَعَا، اِسْمَعْنَ
جواب اہم بات: فعل امر کے شروع کا ہمزہ «ہمزۂ وصلی» کہلاتا ہے؛ اگر فعل امر سے پہلے «ف»، «و» یا کوئی اور لفظ آ جائے تو یہ ہمزہ پڑھا نہیں جاتا، صرف لکھنے میں باقی رہتا ہے، جیسے: «فَاعْفُوْا»، «وَانْظُرْ»، «يٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ»۔ گردان کے صیغے قواعد کے نمونے ہیں، قرآنی اقتباس نہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.