1
فرعون کی سرکشی: بنی اسرائیل کو کمزور کرنا، بیٹوں کو ذبح کرنا اور بیٹیوں کو زندہ رکھنا۔ (آیات 3 تا 6)
2
سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش؛ والدہ کو الہام: دودھ پلاتی رہو اور خطرے کے وقت صندوق دریا میں ڈال دو۔ (آیت 7)
3
فرعون کے گھر والوں کا صندوق اٹھا لینا؛ سیدہ آسیہ کی سفارش پر قتل سے حفاظت۔ (آیات 8، 9)
4
والدہ کے دل کی بے قراری؛ بہن کی نگرانی؛ دائیوں کا دودھ حرام ہونا؛ بالآخر والدہ ہی کی گود میں واپسی۔ (آیات 10 تا 13)
5
جوانی اور اعتدال کو پہنچنے پر حکمت اور علم کی عطا۔ (آیت 14)
6
شہر میں جھگڑا: قبطی کو مکا مارنا اور اس کا مر جانا؛ ندامت، استغفار اور معافی۔ (آیات 15، 16)
7
اگلے دن پھر وہی شخص؛ سرداروں کا قتل کا مشورہ؛ خیرخواہ شخص کی اطلاع پر شہر سے روانگی۔ (آیات 18 تا 21)
8
مدین کا رخ؛ کنویں پر دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلانا اور اللہ سے دعا۔ (آیات 22 تا 24)
9
حیا والی لڑکی کا بلانا؛ بزرگ (والد) کے سامنے سارا واقعہ بیان کرنا اور «ظالم قوم سے نجات» کی بشارت۔ (آیت 25)
10
آٹھ سال خدمت کے عوض نکاح کا معاہدہ؛ مدت پوری کرنا۔ (آیات 26 تا 28)
11
اہل و عیال کے ساتھ روانگی؛ کوہِ طور کی جانب آگ دیکھنا۔ (آیت 29)
12
مبارک جگہ پر ندا اور شرفِ کلام: «اِنِّيْۤ اَنَا اللهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ»۔ (آیت 30)
13
عصا اور یدِ بیضاء کے معجزات کی عطا؛ فرعون کی طرف جانے کا حکم۔ (آیات 31، 32)
14
قتل کے اندیشے کا ذکر؛ سیدنا ہارون علیہ السلام کو مددگار بنانے کی درخواست اور اس کی قبولیت۔ (آیات 33 تا 35)
15
فرعون کے دربار میں دعوت؛ «جادو» کہہ کر انکار؛ فرعون کا دعویٰ الوہیت اور اونچی عمارت (صرح) کا حکم۔ (آیات 36 تا 39)
16
فرعون اور اس کے لشکروں کی سمندر میں غرقابی؛ دنیا اور قیامت میں لعنت۔ (آیات 40 تا 42)