ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 5: سبق 5: سورۃ القصص (آیات: 1 تا 42) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 20 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَنَجۡعَلَهُمۡ أَئِمَّةٗ وَنَجۡعَلَهُمُ ٱلۡوَٰرِثِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 5)

«نُّرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ» — ہم نے چاہا کہ ہم احسان کریں ان لوگوں پر جو زمین میں کر دیے گئے:

الف) قید • ب) بیمار • ج) محتاج • د) کمزور

جواب د) کمزور — «اسْتُضْعِفُوْا» کا معنی ہے: کمزور کر دیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ زمین میں کمزور کر دیے گئے لوگوں (بنی اسرائیل) پر احسان کرے، انھیں پیشوا بنائے اور (ملک و مال کا) وارث بنائے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَرۡضِعِيهِۖ فَإِذَا خِفۡتِ عَلَيۡهِ فَأَلۡقِيهِ فِي ٱلۡيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحۡزَنِيٓۖ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيۡكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 7)

«وَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِيْهِ» — اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف الہام کیا کہ تم اسے پلاتی رہو:

الف) دودھ • ب) پانی • ج) دوا • د) شربت

جواب الف) دودھ — «اَرْضِعِيْهِ» کا معنی ہے: اسے دودھ پلاتی رہو۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو الہام کیا گیا کہ اسے دودھ پلاتی رہو اور خطرہ محسوس ہو تو دریا میں ڈال دو۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

فَلَمَّا جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّفۡتَرٗى وَمَا سَمِعۡنَا بِهَٰذَا فِيٓ ءَابَآئِنَا ٱلۡأَوَّلِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 36)

«سِحْر» کا معنی ہے:

الف) جادو • ب) کشش • ج) نظر • د) غیبت

جواب الف) جادو — «سِحْر» کا معنی جادو ہے: سیدنا موسیٰ علیہ السلام واضح نشانیاں لے کر آئے تو فرعونیوں نے کہا: یہ تو محض گھڑا ہوا جادو ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَأُ مَا عَلِمۡتُ لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرِي فَأَوۡقِدۡ لِي يَٰهَٰمَٰنُ عَلَى ٱلطِّينِ فَٱجۡعَل لِّي صَرۡحٗا لَّعَلِّيٓ أَطَّلِعُ إِلَىٰٓ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُۥ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 38)

«يٰۤاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» — فرعون نے سرداروں سے کہا کہ میرے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتا تمھارا:

الف) سپہ سالار • ب) بادشاہ • ج) رب • د) معبود

جواب د) معبود — «اِلٰه» کا معنی معبود ہے: فرعون نے تکبر میں کہا کہ میں تمھارے لیے اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا، اور ہامان کو اونچی عمارت بنانے کا حکم دیا۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَأَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهۡتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنّٞ وَلَّىٰ مُدۡبِرٗا وَلَمۡ يُعَقِّبۡۚ يَٰمُوسَىٰٓ أَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡۖ إِنَّكَ مِنَ ٱلۡأٓمِنِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 31)

«اَلْقِ» عربی قواعد کے اعتبار سے ہے:

الف) فعل ماضی • ب) فعل مضارع • ج) فعل امر • د) فعل نہی

جواب ج) فعل امر — «اَلْقِ» (ڈال دو) فعل امر ہے: اس میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو عصا ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سبق کی گرامر کے مطابق جس فعل میں کسی کام کے کرنے کا حکم، طلب یا درخواست پائی جائے وہ فعل امر کہلاتا ہے۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

إِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلَ أَهۡلَهَا شِيَعٗا يَسۡتَضۡعِفُ طَآئِفَةٗ مِّنۡهُمۡ يُذَبِّحُ أَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيِۦ نِسَآءَهُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 4)

«يُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَيَسْتَحْيٖ نِسَآءَهُمْ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ» — آیتِ کریمہ میں فرعون کے کون سے جرائم بیان ہوئے ہیں؟

ترجمہ

بے شک فرعون زمین میں سرکش ہو گیا تھا اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کر رکھا تھا؛ ان میں سے ایک گروہ کو اس نے کمزور کر دیا تھا: وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی عورتوں (بیٹیوں) کو زندہ رکھتا تھا۔ بے شک وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔

آیتِ کریمہ میں فرعون کے یہ جرائم بیان ہوئے ہیں:

1 زمین میں سرکشی اور تکبر اختیار کرنا۔
2 رعایا کو گروہوں میں بانٹ کر ان پر ظلم کرنا۔
3 ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو کمزور اور غلام بنا کر رکھنا۔
4 ان کے بیٹوں کو ذبح کرنا اور بیٹیوں کو (خدمت کے لیے) زندہ رکھنا۔
5 زمین میں فساد پھیلانا۔
7 مختصر جوابات

وَقَالَتِ ٱمۡرَأَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَيۡنٖ لِّي وَلَكَۖ لَا تَقۡتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوۡ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدٗا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ (سورۃ القصص ۔ آیت 9)

آیتِ کریمہ کے مطابق (سیدہ) آسیہ (سلام اللہ علیہا) نے فرعون سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے کیا کہا؟

ترجمہ

اور فرعون کی بیوی نے کہا: (یہ بچہ) میری اور تمھاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے؛ اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں، اور وہ (انجام سے) بے خبر تھے۔

جواب سیدہ آسیہ (سلام اللہ علیہا) نے کہا کہ یہ بچہ میری اور تمھاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے؛ اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی پرورش کا انتظام خود فرعون کے گھر میں فرما دیا۔
8 مختصر جوابات

فَجَآءَتۡهُ إِحۡدَىٰهُمَا تَمۡشِي عَلَى ٱسۡتِحۡيَآءٖ قَالَتۡ إِنَّ أَبِي يَدۡعُوكَ لِيَجۡزِيَكَ أَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَاۚ فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَقَصَّ عَلَيۡهِ ٱلۡقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفۡۖ نَجَوۡتَ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 25)

«فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ» — آیتِ مبارکہ میں کس صفت کو نمایاں کیا گیا ہے؟

ترجمہ

پھر (تھوڑی دیر بعد) ان دونوں میں سے ایک (لڑکی) حیا کے ساتھ چلتی ہوئی ان کے پاس آئی؛ اس نے کہا: میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ کو اس کا بدلہ دیں جو آپ نے ہمارے لیے (بکریوں کو) پانی پلایا ہے۔

جواب آیتِ مبارکہ میں «شرم و حیا» کی صفت کو نمایاں کیا گیا ہے: مدین کی نیک لڑکی حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اور مختصر، باوقار انداز میں پیغام پہنچایا۔ شرم و حیا مومن کی زینت اور ایمان کا حصہ ہے۔
9 مختصر جوابات

وَأَخِي هَٰرُونُ هُوَ أَفۡصَحُ مِنِّي لِسَانٗا فَأَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡءٗا يُصَدِّقُنِيٓۖ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ (سورۃ القصص ۔ آیت 34)

آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنے بھائی کے لیے کیا درخواست کی؟

ترجمہ

اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے، لہٰذا انھیں میری مدد کے لیے (رسول بنا کر) میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ میری تصدیق کریں۔ بے شک مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔

جواب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی کہ میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو، جن کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے، میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج دے تاکہ وہ میری تصدیق کریں، کیوں کہ مجھے جھٹلائے جانے کا اندیشہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ درخواست قبول فرما کر دونوں کو نشانیوں کے ساتھ غالب رہنے کی بشارت دی۔ (آیت 35)
10 مختصر جوابات

فَأَخَذۡنَٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡيَمِّۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلظَّـٰلِمِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 40)

آیتِ کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکروں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

ترجمہ

تو ہم نے اسے (فرعون کو) اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا، پھر ہم نے انھیں سمندر میں پھینک دیا۔ تو دیکھ لے کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا!

جواب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ کر سمندر میں پھینک (غرق کر) دیا، اور اسے ظالموں کے انجام کی عبرت بنا دیا: دنیا میں غرق، اور قیامت کے دن ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی۔ (آیات 41، 42)

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمۡتُ نَفۡسِي فَٱغۡفِرۡ لِي فَغَفَرَ لَهُۥٓۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ (سورۃ القصص ۔ آیت 16)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

(موسیٰ علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان کا نقصان کیا، لہٰذا تو مجھے معاف فرما دے، تو اللہ نے انھیں معاف فرما دیا۔ بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

جواب حضرت موسیٰؑ نے ایک اسرائیلی کی مدد کرتے ہوئے قبطی کو مکّا مارا اور وہ مر گیا۔ اُن کا ارادہ قتل کا بالکل نہیں تھا، پھر بھی وہ فوراً اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، مجھے معاف فرما دے۔ اللہ نے اُسی وقت اُنہیں معاف کر دیا، کیونکہ وہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔ سبق یہ ہے کہ غلطی ہو جائے تو بہانے بنانے کے بجائے فوراً اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ سچے دل سے مانگی گئی معافی اللہ کبھی رد نہیں کرتا۔
12 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْقَصَصِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — «قَصَص» کے معنی واقعات بیان کرنے کے ہیں۔ اس سورت کی آیت نمبر 25 میں واقعہ بیان کرنے کے لیے «وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ» کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ الْقَصَص» ہے۔
2 دوسرا نام — اس سورت میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے مختلف واقعات اور قارون کا واقعہ مذکور ہے؛ اسی لیے اس کا نام «سُوْرَةُ مُوْسٰى» بھی ہے۔
3 مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 88 آیات ہیں۔
4 اس سبق میں — اس سبق میں سورت کی ابتدائی آیات (1 تا 42) شامل ہیں۔
جواب مرکزی مضمون — سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ سے اہلِ ایمان کے لیے تسلی۔
13 تفصیلی جوابات

وَقَالَ مُوسَىٰ رَبِّيٓ أَعۡلَمُ بِمَن جَآءَ بِٱلۡهُدَىٰ مِنۡ عِندِهِۦ وَمَن تَكُونُ لَهُۥ عَٰقِبَةُ ٱلدَّارِۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ (سورۃ القصص ۔ آیت 37)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا: میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور اس کو بھی جس کے لیے آخرت کے گھر کا (اچھا) انجام ہے۔ بے شک ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔

جواب مکہ کے لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے مطالبہ کیا کہ کوئی خاص نشانی لے کر آؤ۔ اِس کے جواب میں فرمایا گیا کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ آخر میں کامیابی کس کے حصے میں آئے گی۔ فیصلہ لوگوں کے شور اور اعتراضات سے نہیں، بلکہ اللہ کے علم سے ہوتا ہے۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ ظلم کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْقَصَصِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ القصص کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 جابر حکمرانوں کا رعایا کے ساتھ سلوک۔
2 قصۂ سیدنا موسیٰ علیہ السلام میں اللہ تعالیٰ کی قدرتیں۔
3 اقوامِ عالم کے لیے عبرتیں۔
4 نبی اکرم ﷺ کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے حالات سے آگاہ فرما کر آپ ﷺ کو تسلی دینا۔
5 منکرینِ حق کے عذر اور ان کے جوابات کا بیان۔
6 بے کار اور بے ہودہ کاموں سے بچنے کے احکام۔
7 مال کے حوالے سے قرآنی احکام۔
8 نبی اکرم ﷺ کی بعثت اہلِ دنیا کے لیے نعمت و رحمت۔
9 سرکش قارون کے واقعے سے عبرت۔
10 قیامت کے احوال۔
11 اللہ تعالیٰ کی ملکیت و اختیار اور علم و طاقت کے دلائل۔
12 فکرِ آخرت اور شرک کی تردید۔
13 اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب۔
14 نبی کریم ﷺ کی دعوت کا انکار کرنے والوں کے شکوک و شبہات کا جواب۔
15 تفصیلی جوابات

وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةٗ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا يُنصَرُونَ (سورۃ القصص ۔ آیت 41)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور ہم نے انھیں (دوزخیوں کا) پیشوا بنایا جو (لوگوں کو) آگ کی طرف بلاتے ہیں، اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔

جواب فرعون اور اُس کے ساتھیوں کے بارے میں بتایا گیا کہ ہم نے اُنہیں ایسے پیشوا بنا دیا جو لوگوں کو آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ اُن کے پاس طاقت اور حکومت تھی، اِس لیے لوگ اُن کے پیچھے چل پڑے، مگر وہ راستہ جہنم کا تھا۔ قیامت کے دن اُن کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی — نہ اپنی طاقت کام آئے گی، نہ کوئی ساتھی۔ سبق یہ ہے کہ بڑے عہدے والا ہر آدمی صحیح راستے پر نہیں ہوتا۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کوئی ہمیں کس طرف بلا رہا ہے، پھر اُس کے پیچھے چلنا چاہیے۔
16 تفصیلی جوابات

فعل امر کی تعریف کریں اور سُوْرَةُ الْقَصَصِ میں فعل امر کی کوئی دو مثالیں تلاش کریں۔

تعریف اور سُوْرَةُ الْقَصَصِ سے دو مثالیں

1 تعریف — ایسا فعل جس میں کسی کام کے کرنے کا حکم، طلب یا درخواست پائی جائے، فعل امر کہلاتا ہے۔ اگر یہ حکم حاضر (سامنے والے) کو دیا جائے تو اسے امرِ حاضر کہتے ہیں، جیسے: «اِسْمَعْ» (تو ایک مرد سن)، «اُكْتُبْ» (تو ایک مرد لکھ)، «اُخْرُجُوْا» (تم سب مرد نکلو)، «اُنْصُرْنَ» (تم سب عورتیں مدد کرو)۔
2 سُوْرَةُ الْقَصَصِ سے دو مثالیں — 1۔ أَلۡقِ — «(اپنا عصا) ڈال دو» — سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو عصا ڈالنے کا حکم۔ (آیت 31)
3 سُوْرَةُ الْقَصَصِ سے دو مثالیں — 2۔ ٱسۡلُكۡ — «اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو» — یدِ بیضاء کے معجزے کا حکم۔ (آیت 32)
جواب نوٹ: «اِسْمَعْ»، «اُكْتُبْ» وغیرہ کتاب کی تدریسی (گرامر کی) مثالیں ہیں، قرآنی الفاظ نہیں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

17 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ القصص ۔ آیات 22 تا 28

مدین کے کنویں پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو پیش آنے والے واقعے سے ہمیں کیا اسباق حاصل ہوتے ہیں؟ اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور دو لڑکیاں اپنی بکریاں روکے الگ کھڑی ہیں۔ آپ نے ان کی بکریوں کو پانی پلایا، پھر سائے میں جا کر اللہ سے دعا کی۔ اس واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق درج ذیل ہیں:

1 کمزوروں کی مدد — مسافرت اور اپنی مشکل کے باوجود آپ نے کمزوروں (دو لڑکیوں) کی مدد کی؛ دوسروں کی مدد مومن کی صفت ہے۔
2 بے لوث خدمت — آپ نے مدد کا کوئی معاوضہ نہیں مانگا؛ نیکی صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنی چاہیے۔
3 اللہ سے سوال — خدمت کے بعد مخلوق کے بجائے اللہ کے حضور اپنی حاجت پیش کی:
4 فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَآ أَنزَلۡتَ إِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٖ فَقِيرٞ پھر (سائے کی طرف پلٹ کر) عرض کیا: اے میرے رب! تو جو بھی خیر میری طرف اتارے، میں اس کا محتاج ہوں۔ — سورۃ القصص ۔ آیت 24
5 شرم و حیا — لڑکی کا حیا کے ساتھ چلنا اور مختصر بات کرنا سکھاتا ہے کہ شرم و حیا ہر معاملے میں پیشِ نظر رہے۔ (آیت 25)
6 قوت اور امانت — کام پر رکھنے کا معیار لڑکی کی زبان سے بیان ہوا: (آیت 26)
7 ٱسۡتَـٔۡجِرۡهُۖ إِنَّ خَيۡرَ مَنِ ٱسۡتَـٔۡجَرۡتَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡأَمِينُ (اے ابا جان!) انھیں اجرت پر رکھ لیجیے؛ بے شک بہترین شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں وہی ہے جو طاقت ور اور امانت دار ہو۔ — سورۃ القصص ۔ آیت 26
8 معاہدے کی پاسداری — آٹھ سال کی خدمت کا معاہدہ ہوا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے (دس سال) پورے کیے؛ وعدہ اور معاہدہ پورا کرنا چاہیے۔ (آیات 27، 28)
9 توکل اور رزق — اجنبی شہر میں خالی ہاتھ پہنچنے والے کو اللہ تعالیٰ نے ٹھکانا، روزگار اور گھر عطا فرما دیا؛ رزق کا مالک اللہ ہے۔
18 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ القصص ۔ آیات 1 تا 42

سُوْرَةُ الْقَصَصِ کے اس حصے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے واقعات زمانی ترتیب کے لحاظ سے نکات کی صورت میں تحریر کریں۔

1 فرعون کی سرکشی: بنی اسرائیل کو کمزور کرنا، بیٹوں کو ذبح کرنا اور بیٹیوں کو زندہ رکھنا۔ (آیات 3 تا 6)
2 سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش؛ والدہ کو الہام: دودھ پلاتی رہو اور خطرے کے وقت صندوق دریا میں ڈال دو۔ (آیت 7)
3 فرعون کے گھر والوں کا صندوق اٹھا لینا؛ سیدہ آسیہ کی سفارش پر قتل سے حفاظت۔ (آیات 8، 9)
4 والدہ کے دل کی بے قراری؛ بہن کی نگرانی؛ دائیوں کا دودھ حرام ہونا؛ بالآخر والدہ ہی کی گود میں واپسی۔ (آیات 10 تا 13)
5 جوانی اور اعتدال کو پہنچنے پر حکمت اور علم کی عطا۔ (آیت 14)
6 شہر میں جھگڑا: قبطی کو مکا مارنا اور اس کا مر جانا؛ ندامت، استغفار اور معافی۔ (آیات 15، 16)
7 اگلے دن پھر وہی شخص؛ سرداروں کا قتل کا مشورہ؛ خیرخواہ شخص کی اطلاع پر شہر سے روانگی۔ (آیات 18 تا 21)
8 مدین کا رخ؛ کنویں پر دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلانا اور اللہ سے دعا۔ (آیات 22 تا 24)
9 حیا والی لڑکی کا بلانا؛ بزرگ (والد) کے سامنے سارا واقعہ بیان کرنا اور «ظالم قوم سے نجات» کی بشارت۔ (آیت 25)
10 آٹھ سال خدمت کے عوض نکاح کا معاہدہ؛ مدت پوری کرنا۔ (آیات 26 تا 28)
11 اہل و عیال کے ساتھ روانگی؛ کوہِ طور کی جانب آگ دیکھنا۔ (آیت 29)
12 مبارک جگہ پر ندا اور شرفِ کلام: «اِنِّيْۤ اَنَا اللهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ»۔ (آیت 30)
13 عصا اور یدِ بیضاء کے معجزات کی عطا؛ فرعون کی طرف جانے کا حکم۔ (آیات 31، 32)
14 قتل کے اندیشے کا ذکر؛ سیدنا ہارون علیہ السلام کو مددگار بنانے کی درخواست اور اس کی قبولیت۔ (آیات 33 تا 35)
15 فرعون کے دربار میں دعوت؛ «جادو» کہہ کر انکار؛ فرعون کا دعویٰ الوہیت اور اونچی عمارت (صرح) کا حکم۔ (آیات 36 تا 39)
16 فرعون اور اس کے لشکروں کی سمندر میں غرقابی؛ دنیا اور قیامت میں لعنت۔ (آیات 40 تا 42)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فَجَآءَتۡهُ إِحۡدَىٰهُمَا تَمۡشِي عَلَى ٱسۡتِحۡيَآءٖ قَالَتۡ إِنَّ أَبِي يَدۡعُوكَ لِيَجۡزِيَكَ أَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَاۚ فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَقَصَّ عَلَيۡهِ ٱلۡقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفۡۖ نَجَوۡتَ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ (سورۃ القصص ۔ آیت 25)

قرآن و حدیث کی روشنی میں شرم و حیا کی اہمیت اور معاشرے پر مرتب ہونے والے اس کے اثرات تحریر کریں۔

1 شرم و حیا کا مفہوم — شرم و حیا اس باطنی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو ہر بری، بے ہودہ اور نامناسب بات سے روک دیتی ہے۔ یہ انسان کی بہت بڑی خوبی اور فطرتِ سلیمہ کی علامت ہے۔
2 قرآنِ کریم کی روشنی میں — فَجَآءَتۡهُ إِحۡدَىٰهُمَا تَمۡشِي عَلَى ٱسۡتِحۡيَآءٖ پھر ان دونوں میں سے ایک (لڑکی) حیا کے ساتھ چلتی ہوئی ان کے پاس آئی۔ — سورۃ القصص ۔ آیت 25
3 قرآنِ کریم کی روشنی میں — اللہ تعالیٰ نے مدین کی نیک لڑکی کی چال میں حیا کو خاص طور پر ذکر فرما کر اس صفت کو نمایاں کیا؛ گفتگو بھی مختصر اور باوقار تھی۔ یہی اسلوب ہر مومن مرد اور عورت کے لیے نمونہ ہے۔
4 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
5 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں — آپ ﷺ نے فرمایا: حیا خیر ہی لاتی ہے۔ (متفق علیہ)
6 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں — آپ ﷺ نے فرمایا: جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر — یعنی بے حیا انسان ہر برائی کر گزرتا ہے۔ (صحیح بخاری)
7 معاشرے پر اثرات — پاکیزہ معاشرہ — شرم و حیا سے بے حیائی، فحاشی اور برائیوں کا راستہ رکتا ہے اور معاشرہ پاکیزہ رہتا ہے۔
8 معاشرے پر اثرات — خاندان کا تحفظ — حیا دار افراد سے گھر اور خاندان کے رشتے محفوظ اور مضبوط رہتے ہیں۔
9 معاشرے پر اثرات — باہمی عزت و وقار — حیا انسان کو دوسروں کی عزت کا محافظ بناتی ہے، جس سے معاشرے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
10 معاشرے پر اثرات — گناہوں سے حفاظت — حیا دل میں اللہ کے حضور جواب دہی کا احساس زندہ رکھتی ہے، جو گناہوں سے روکتا ہے۔
11 معاشرے پر اثرات — بے حیائی کے نقصانات — جس معاشرے سے حیا اٹھ جائے وہاں بے راہ روی، خاندانی نظام کی تباہی اور جرائم عام ہو جاتے ہیں۔
جواب خلاصہ — شرم و حیا ایمان کا جزو اور معاشرے کی حفاظت کا قلعہ ہے۔ ہمیں اپنی نظر، زبان، لباس اور معاملات — ہر چیز میں حیا کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ا؟ وَقَالَتِ ٱمۡرَأَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَيۡنٖ لِّي وَلَكَۖ لَا تَقۡتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوۡ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدٗا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ

فعل امر کی چند قرآنی مثالیں تحریر کریں۔ (تعریف کے لیے سوال 3 (3ب) ملاحظہ کریں۔)

سُوْرَةُ الْقَصَصِ (اسی سبق) سے فعل امر کی چند قرآنی مثالیں درج ذیل ہیں:

1 1۔ أَرۡضِعِيهِۖ — «تم اسے دودھ پلاتی رہو» — امرِ حاضر برائے واحد مؤنث؛ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو حکم۔ (آیت 7)
2 2۔ أَلۡقِ — «(اپنا عصا) ڈال دو» — واحد مذکر حاضر کو حکم۔ (آیت 31)
3 3۔ ٱسۡلُكۡ — «اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو»۔ (آیت 32)
4 4۔ وَٱضۡمُمۡ — «اور اپنا بازو اپنی طرف ملا لو» — خوف دور کرنے کا حکم۔ (آیت 32)
5 5۔ فَٱنظُرۡ — «پس دیکھ لے» — ظالموں کے انجام پر غور کا حکم۔ (آیت 40)
جواب ان سب میں کام کے کرنے کا حکم پایا جاتا ہے، اس لیے یہ سب فعل امر ہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.