ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 4: سبق 4: سورۃ طٰہٰ (آیات: 77 تا 135) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 21 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيهِۚ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 131)

«خَيْرٌ وَّاَبْقٰى» میں «خَيْرٌ» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر

جواب الف) اسم — «خَيْرٌ» (بہتر) اسم ہے اور اس پر تنوین (ـٌ) موجود ہے، جو اسم کی نمایاں پہچان ہے: آپ کے رب کا دیا ہوا رزق بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَلَقَدۡ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَسۡرِ بِعِبَادِي فَٱضۡرِبۡ لَهُمۡ طَرِيقٗا فِي ٱلۡبَحۡرِ يَبَسٗا لَّا تَخَٰفُ دَرَكٗا وَلَا تَخۡشَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 77)

«دَرَك» کا معنی ہے:

الف) پکڑنا • ب) روکنا • ج) قید کرنا • د) دبوچنا

جواب الف) پکڑنا — سبق کے لفظی ترجمے کے مطابق «لَا تَخٰفُ دَرَكًا» کا معنی ہے: نہ تمھیں (فرعون کے) پکڑے جانے کا خوف رہے — یعنی «دَرَك» پکڑنا / پا لینا۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

يَٰبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ قَدۡ أَنجَيۡنَٰكُم مِّنۡ عَدُوِّكُمۡ وَوَٰعَدۡنَٰكُمۡ جَانِبَ ٱلطُّورِ ٱلۡأَيۡمَنَ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 80)

«يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ قَدْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ» — اے بنی اسرائیل! یقیناً ہم نے تمھیں نجات عطا فرمائی:

الف) غلامی سے • ب) دریا سے • ج) بھوک سے • د) دشمن سے

جواب د) دشمن سے — «عَدُوّ» کا معنی دشمن ہے: بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات دی گئی، کوہِ طور کی دائیں جانب کا وعدہ فرمایا گیا اور ان پر من و سلویٰ نازل کیا گیا۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

فَأَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلٗا جَسَدٗا لَّهُۥ خُوَارٞ فَقَالُواْ هَٰذَآ إِلَٰهُكُمۡ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 88)

«فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ» — سامری نے ایک بچھڑا (کا مجسمہ) بنا کر نکالا جس میں سے آواز آتی تھی:

الف) شیر کی سی • ب) بھیڑیے کی سی • ج) گائے کی سی • د) اونٹ کی سی

جواب ج) گائے کی سی — ذخیرۂ الفاظ کے مطابق «خُوَار» کا معنی گائے کی سی آواز ہے۔ سامری نے زیورات سے بچھڑے کا ایسا جسم بنایا جس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

يَتَخَٰفَتُونَ بَيۡنَهُمۡ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا عَشۡرٗا (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 103)

«يَتَخَافَتُوْنَ بَيْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا» کے مطابق وہ آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے ہوں گے کہ تم دنیا میں نہیں ٹھہرے مگر:

الف) دو دن • ب) پانچ دن • ج) دس دن • د) سو دن

جواب ج) دس دن — «عَشْرًا» کا معنی دس ہے: قیامت کے دن مجرم آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ تم دنیا میں بس دس دن ہی ٹھہرے ہو — دنیا کی زندگی انھیں اتنی ہی مختصر محسوس ہو گی۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

وَلَقَدۡ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَسۡرِ بِعِبَادِي فَٱضۡرِبۡ لَهُمۡ طَرِيقٗا فِي ٱلۡبَحۡرِ يَبَسٗا لَّا تَخَٰفُ دَرَكٗا وَلَا تَخۡشَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 77)

آیتِ کریمہ میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو کیا بات وحی کی گئی؟

ترجمہ

اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جاؤ، پھر ان کے لیے سمندر میں خشک راستہ بناؤ؛ نہ تمھیں پکڑے جانے کا خوف رہے اور نہ (ڈوبنے کا) ڈر۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی گئی کہ:

1 میرے بندوں (بنی اسرائیل) کو راتوں رات (مصر سے) لے جاؤ۔
2 (عصا مار کر) ان کے لیے سمندر میں خشک راستہ بناؤ۔
3 نہ فرعون کے پکڑ لینے کا خوف کرو اور نہ ڈوبنے کا ڈر رکھو۔
7 مختصر جوابات

قَالَ فَإِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢ بَعۡدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِيُّ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 85)

آیتِ کریمہ کی رو سے کس شخص نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو گمراہ کیا؟

ترجمہ

فرمایا: بے شک ہم نے تمھارے بعد تمھاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور انھیں سامری نے گمراہ کر ڈالا۔

جواب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے (کوہِ طور پر جانے کے) بعد ان کی قوم کو «سامری» نامی شخص نے گمراہ کیا: اس نے زیورات سے بچھڑا بنا کر قوم کو اس کی پوجا میں لگا دیا۔
8 مختصر جوابات

فَوَسۡوَسَ إِلَيۡهِ ٱلشَّيۡطَٰنُ قَالَ يَـٰٓـَٔادَمُ هَلۡ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ ٱلۡخُلۡدِ وَمُلۡكٖ لَّا يَبۡلَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 120)

آیتِ کریمہ کی رو سے شیطان نے سیدنا آدم علیہ السلام کے دل میں کیا وسوسہ ڈالا؟

ترجمہ

تو شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا؛ کہنے لگا: اے آدم! کیا میں تمھیں ہمیشہ (کی زندگی) کا درخت بتاؤں اور ایسی بادشاہی جسے زوال نہ آئے؟

جواب شیطان نے سیدنا آدم علیہ السلام کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ کیا میں تمھیں ہمیشگی کی زندگی والا درخت («شَجَرَةُ الْخُلْد») اور کبھی زوال نہ آنے والی بادشاہی نہ بتاؤں؟ یعنی اس درخت سے کھا لو تو ہمیشہ کی زندگی اور لازوال بادشاہی مل جائے گی۔
9 مختصر جوابات

فَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوبِهَاۖ وَمِنۡ ءَانَآيِٕ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡ وَأَطۡرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرۡضَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 130)

آیتِ کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو کیا تلقین فرمائی گئی ہے؟

ترجمہ

پس (اے نبی!) یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کیجیے سورج کے طلوع سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے، اور رات کے کچھ اوقات میں بھی تسبیح کیجیے اور دن کے کناروں پر بھی، تاکہ آپ راضی ہو جائیں۔

نبی کریم ﷺ کو دو باتوں کی تلقین فرمائی گئی ہے۔

1 صبر — کفار کی (دل آزار) باتوں پر صبر کیجیے۔
2 تسبیح و حمد — طلوعِ آفتاب سے پہلے (فجر)، غروب سے پہلے (عصر)، رات کے اوقات (مغرب و عشاء) اور دن کے کناروں (ظہر) میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے — ان اوقات میں نمازوں کی طرف اشارہ ہے — تاکہ آپ راضی و خوش ہو جائیں۔
10 مختصر جوابات

وَأۡمُرۡ أَهۡلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَاۖ لَا نَسۡـَٔلُكَ رِزۡقٗاۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكَۗ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلتَّقۡوَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 132)

آیتِ کریمہ میں کیا حکم بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اور آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجیے اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہیے۔ ہم آپ سے کوئی رزق نہیں مانگتے، (بلکہ) ہم آپ کو رزق دیتے ہیں، اور بہتر انجام پرہیزگاری ہی کا ہے۔

جواب آیتِ کریمہ میں دو حکم بیان ہوئے ہیں: اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دینا اور خود بھی نماز پر ثابت قدم رہنا۔ ساتھ یہ حقیقت بیان ہوئی کہ رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر ہے — وہ بندے سے رزق نہیں مانگتا بلکہ خود رزق دیتا ہے — اور بہتر انجام تقویٰ ہی کا ہے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

وَلَقَدۡ قَالَ لَهُمۡ هَٰرُونُ مِن قَبۡلُ يَٰقَوۡمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ فَٱتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوٓاْ أَمۡرِي (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 90)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور یقیناً ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے ہی فرما دیا تھا: اے میری قوم! بے شک تم اس (بچھڑے) کے ذریعے آزمائے گئے ہو، حالاں کہ بے شک تمھارا رب تو رحمٰن ہے؛ لہٰذا تم میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو۔

جواب جب موسیٰؑ کوہِ طور پر گئے ہوئے تھے تو سامری نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجا میں لگا دیا۔ حضرت ہارونؑ نے موسیٰؑ کے آنے سے پہلے ہی اُنہیں روکا اور سمجھایا کہ یہ تو صرف تمہاری آزمائش ہے۔ اُنہوں نے یاد دلایا کہ تمہارا اصل رب تو رحمٰن ہے، یہ بےجان بچھڑا نہیں۔ پھر کہا کہ میری بات مانو اور میرے حکم پر چلو۔ سبق یہ ہے کہ غلط کام ہوتا دیکھ کر خاموش نہیں رہنا چاہیے، بلکہ نرمی سے سمجھانا چاہیے۔
12 تفصیلی جوابات

قَالَ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُواْ بِهِۦ فَقَبَضۡتُ قَبۡضَةٗ مِّنۡ أَثَرِ ٱلرَّسُولِ فَنَبَذۡتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِي نَفۡسِي (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 96)

آیتِ کریمہ کے مطابق سامری نے بنی اسرائیل کو کس طرح گمراہ کیا؟

ترجمہ

اس نے کہا: میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی تھی، تو میں نے فرشتے (جبریل علیہ السلام) کے نقشِ قدم سے ایک مٹھی (مٹی) بھر لی، پھر اسے (بچھڑے پر) ڈال دیا اور اسی طرح میرے نفس نے (اس کام کو) میرے لیے اچھا بنا دیا۔

سامری نے بنی اسرائیل کو یوں گمراہ کیا:

1 قوم کے (مصری) زیورات جمع کر کے آگ میں ڈالے اور ان سے بچھڑے کا مجسمہ بنایا۔ (آیت 87)
2 اس نے فرشتے کے نقشِ قدم کی ایک مٹھی مٹی اس پر ڈالی، جس سے اس جسم سے گائے کی سی آواز نکلنے لگی۔ (آیات 88، 96)
3 پھر قوم سے کہا: یہی تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ (اسے) بھول گئے ہیں۔ (آیت 88)
4 یوں اس کے نفس نے یہ برا کام اسے اچھا کر دکھایا اور کمزور ایمان لوگ بچھڑے کی پوجا میں لگ گئے۔
جواب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے واپس آ کر بچھڑے کو جلا کر دریا میں بہا دینے کا اعلان فرمایا اور سامری کو دھتکار دیا۔ (آیت 97)
13 تفصیلی جوابات

قَالَ يَبۡنَؤُمَّ لَا تَأۡخُذۡ بِلِحۡيَتِي وَلَا بِرَأۡسِيٓۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِي (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 94)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

(ہارون علیہ السلام نے) فرمایا: اے میری ماں کے بیٹے! آپ نہ میری داڑھی پکڑیں اور نہ میرا سر۔ بے شک مجھے ڈر تھا کہ آپ کہیں گے: تم نے بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا خیال نہیں رکھا۔

جواب واپس آ کر موسیٰؑ کو بہت غصہ آیا اور اُنہوں نے اپنے بھائی ہارونؑ کے سر اور داڑھی کے بال پکڑ لیے۔ ہارونؑ نے بڑی محبت سے کہا: اے میری ماں کے بیٹے! میرے بال نہ کھینچیں۔ پھر اپنی وجہ بتائی کہ میں ڈرا کہ اگر میں سختی کرتا تو قوم دو حصوں میں بٹ جاتی اور آپ کہتے کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی۔ اِس لیے میں نے آپ کے آنے کا انتظار کیا۔ سبق یہ ہے کہ غصے میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے اور دوسرے کی بات بھی سننی چاہیے۔
14 تفصیلی جوابات

وَمَنۡ أَعۡرَضَ عَن ذِكۡرِي فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةٗ ضَنكٗا وَنَحۡشُرُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ أَعۡمَىٰ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيٓ أَعۡمَىٰ وَقَدۡ كُنتُ بَصِيرٗا قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتۡكَ ءَايَٰتُنَا فَنَسِيتَهَاۖ وَكَذَٰلِكَ ٱلۡيَوۡمَ تُنسَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیات 124 تا 126)

آیاتِ کریمہ میں قرآنِ حکیم سے اعراض کرنے والوں کی کیا سزائیں بیان فرمائی گئی ہیں؟

ترجمہ

اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بے شک اس کی (دنیوی) زندگی تنگ کر دی جائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالاں کہ میں تو دیکھنے والا تھا؟ (اللہ) فرمائے گا: اسی طرح تمھارے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تم نے انھیں بھلا دیا، اور اسی طرح آج تمھیں بھی نظر انداز کر دیا جائے گا۔

اللہ کے ذکر (قرآنِ حکیم) سے اعراض کرنے والوں کی تین سزائیں بیان ہوئی ہیں۔

1 تنگ زندگی — دنیا میں اس کی معیشت (زندگی) تنگ کر دی جائے گی؛ مال کے باوجود دل کا سکون چھن جائے گا۔
2 اندھا اٹھایا جانا — قیامت کے دن اسے اندھا کر کے اٹھایا جائے گا۔
3 نظر انداز کیا جانا — جس طرح اس نے اللہ کی آیتوں کو بھلا دیا، اسی طرح اس دن اسے بھی (رحمت سے) بھلا دیا جائے گا۔
جواب اگلی آیت میں مزید فرمایا کہ آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ (آیت 127)
15 تفصیلی جوابات

إِنَّمَآ إِلَٰهُكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ وَسِعَ كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمٗا (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 98)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک تمھارا معبود تو اللہ ہی ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں؛ اس نے (اپنے) علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔

جواب سارے واقعے کے آخر میں اصل بات بتا دی گئی کہ تمہارا معبود صرف اللہ ہے۔ اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں — نہ بچھڑا، نہ بت، نہ کوئی اور چیز۔ پھر فرمایا کہ اُس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ یعنی کوئی بات، کوئی کام اور کوئی سوچ اُس سے چھپی ہوئی نہیں۔ سبق یہ ہے کہ ہم صرف ایک اللہ کو پکاریں اور یاد رکھیں کہ وہ ہمارے چھوٹے سے چھوٹے کام کو بھی جانتا ہے۔
16 تفصیلی جوابات

وَلَوۡ أَنَّآ أَهۡلَكۡنَٰهُم بِعَذَابٖ مِّن قَبۡلِهِۦ لَقَالُواْ رَبَّنَا لَوۡلَآ أَرۡسَلۡتَ إِلَيۡنَا رَسُولٗا فَنَتَّبِعَ ءَايَٰتِكَ مِن قَبۡلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخۡزَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 134)

آیتِ کریمہ کی رو سے اگر آپ ﷺ کے آنے سے پہلے ہی کفار کو عذاب سے ہلاک کر دیا جاتا تو کفار کیا اعتراض کرتے؟

ترجمہ

اور اگر ہم انھیں اس (رسول کے آنے) سے پہلے ہی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ ضرور کہتے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہی تیری آیتوں کی پیروی کر لیتے۔

جواب کفار یہ اعتراض کرتے کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا؟ اگر رسول آ جاتا تو ہم ذلت اور رسوائی (عذاب) سے پہلے ہی تیری آیتوں کی پیروی کر لیتے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے عذاب سے پہلے اتمامِ حجت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

17 سرگرمیاں برائے طلبہ

فَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوبِهَاۖ وَمِنۡ ءَانَآيِٕ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡ وَأَطۡرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرۡضَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 130)

صبح و شام کے مسنون اذکار کو تلاش کریں اور اپنے روزانہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔

اسی سبق میں طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروب سے پہلے اللہ کی حمد و تسبیح کا حکم آیا ہے (آیت 130)۔ صبح و شام کے چند مسنون اذکار درج ذیل ہیں؛ انھیں کسی مستند کتاب (جیسے حصنِ مسلم) سے مکمل الفاظ کے ساتھ یاد کریں:

معمول بنانے کی تدبیریں

1 آیۃ الکرسی — صبح و شام ایک ایک بار — پڑھنے والا اللہ کی حفاظت میں رہتا ہے۔
2 سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس — صبح و شام تین تین بار — ہر چیز سے کفایت کر جاتی ہیں۔
3 سیّد الاستغفار — «اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبِّيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ...» — استغفار کی سب سے افضل دعا۔
4 صبح و شام کی دعا — صبح: «اَصْبَحْنَا وَاَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ»، شام: «اَمْسَيْنَا وَاَمْسَى الْمُلْكُ لِلّٰهِ»۔
5 حفاظت کی دعا — «بِسْمِ اللهِ الَّذِيْ لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهٖ شَيْءٌ» — تین بار؛ ہر نقصان سے حفاظت۔
6 تسبیح و حمد — «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهٖ» — سو بار۔
7 درود شریف — صبح و شام کثرت سے درود پڑھنا۔
8 فجر کے بعد اور مغرب کے بعد کے چند منٹ اذکار کے لیے مقرر کر لیں۔
9 اذکار کی کتاب یا فہرست سامنے رکھیں اور روزانہ نشان لگائیں۔
10 گھر والوں کے ساتھ مل کر پڑھنے کا معمول بنائیں تاکہ پابندی آسان ہو۔
18 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَأۡمُرۡ أَهۡلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَاۖ لَا نَسۡـَٔلُكَ رِزۡقٗاۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكَۗ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلتَّقۡوَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 132)

«وَأْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا» — سورۃ طٰہٰ کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دینے کی تعلیم فرمائی ہے۔ خود بھی اس کا اہتمام کرتے ہوئے اپنے بہن بھائیوں کو بھی نماز کے فوائد بتائیں اور وقت کی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے کی ترغیب دیں۔

نماز کے فوائد اور بہن بھائیوں کو ترغیب دینے کے طریقے

1 نماز کے فوائد — گناہوں سے پاکی — پانچ نمازیں گناہوں کو یوں دھو دیتی ہیں جیسے دن میں پانچ بار نہانے سے میل باقی نہیں رہتا۔
2 نماز کے فوائد — برائی سے حفاظت — نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
3 نماز کے فوائد — اللہ سے تعلق اور سکون — نماز بندے اور رب کے درمیان براہِ راست تعلق ہے؛ اسی سے دل کو اطمینان ملتا ہے۔
4 نماز کے فوائد — رزق اور برکت — اسی آیت میں نماز کے حکم کے ساتھ فرمایا: ہم تم سے رزق نہیں مانگتے، ہم خود تمھیں رزق دیتے ہیں — نماز رزق میں برکت کا ذریعہ ہے۔
5 نماز کے فوائد — نظم اور وقت کی پابندی — پانچ وقت کی نماز زندگی کو باقاعدہ اور منظم بنا دیتی ہے۔
6 نماز کے فوائد — قیامت کی کامیابی — قیامت کے دن سب سے پہلے نماز ہی کا حساب ہو گا؛ یہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی درست ٹھہریں گے۔
7 بہن بھائیوں کو ترغیب دینے کے طریقے — سب سے پہلے خود پابندی کریں — عمل کی دعوت زبان کی دعوت سے زیادہ مؤثر ہے۔
8 بہن بھائیوں کو ترغیب دینے کے طریقے — نرمی اور محبت سے نماز کے فوائد اور اہمیت بتائیں۔
9 بہن بھائیوں کو ترغیب دینے کے طریقے — اذان ہوتے ہی ایک دوسرے کو یاد دلائیں اور مل کر (باجماعت) نماز پڑھنے کا اہتمام کریں۔
10 بہن بھائیوں کو ترغیب دینے کے طریقے — چھوٹے بہن بھائیوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کے لیے آسانی پیدا کریں۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَلَقَدۡ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَسۡرِ بِعِبَادِي فَٱضۡرِبۡ لَهُمۡ طَرِيقٗا فِي ٱلۡبَحۡرِ يَبَسٗا لَّا تَخَٰفُ دَرَكٗا وَلَا تَخۡشَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیات 123 تا 127)

قرآنِ مجید کی اہمیت اور اس سے منہ موڑنے کے نقصانات تحریر کریں۔

قرآنِ مجید کی اہمیت اور منہ موڑنے کے نقصانات

1 قرآنِ مجید کی اہمیت — اللہ کا کلام اور ہدایت — قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اور پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔
2 قرآنِ مجید کی اہمیت — گمراہی اور بدبختی سے حفاظت — اسی سبق میں فرمایا گیا (آیت 123):
3 قرآنِ مجید کی اہمیت — فَمَنِ ٱتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشۡقَىٰ پھر جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا، وہ نہ گمراہ ہو گا اور نہ بدبخت ہو گا۔ — سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 123
4 قرآنِ مجید کی اہمیت — نصیحت اور ذکر — قرآن دلوں کی غفلت دور کرنے والا ذکر اور ڈرانے والی نصیحت ہے، جو عربی زبان میں طرح طرح سے وعید بیان کرتا ہے تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں۔ (آیت 113)
5 قرآنِ مجید کی اہمیت — دلوں کا اطمینان — اس کی تلاوت، فہم اور عمل سے دنیا کی تنگی اور بے سکونی سے نجات ملتی ہے۔
6 منہ موڑنے کے نقصانات — تنگ زندگی — اعراض کرنے والے کی معیشت تنگ کر دی جاتی ہے۔ (آیت 124)
7 منہ موڑنے کے نقصانات — قیامت کے دن اندھا پن — اسے قیامت کے دن اندھا اٹھایا جائے گا اور نظر انداز کر دیا جائے گا۔ (آیات 124 تا 126)
8 منہ موڑنے کے نقصانات — سخت تر عذاب — آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ (آیت 127)
9 منہ موڑنے کے نقصانات — گناہ کا بوجھ — جو اس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے دن (گناہ کا) بوجھ اٹھائے گا۔ (آیت 100)
جواب اعراض کی سزاؤں کی تفصیل کے لیے سوال 3 (2ب) بھی ملاحظہ کریں۔
20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ا؟ قَالَ فَإِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢ بَعۡدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِيُّ

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو عطا ہونے والے معجزات تحریر کریں۔

سورۃ طٰہٰ میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے یہ معجزات بیان ہوئے ہیں:

1 1۔ عصا کا سانپ بن جانا — فَأَلۡقَىٰهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٞ تَسۡعَىٰ
2 1۔ عصا کا سانپ بن جانا — سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 20
3 1۔ عصا کا سانپ بن جانا — حکمِ الٰہی پر عصا ڈالا تو وہ اچانک دوڑتا ہوا سانپ بن گیا؛ پھر پکڑنے پر اپنی پہلی حالت پر لوٹ آیا۔ (آیات 19 تا 21)
4 2۔ یدِ بیضاء (روشن ہاتھ) — وَٱضۡمُمۡ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٍ
5 2۔ یدِ بیضاء (روشن ہاتھ) — سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 22
6 2۔ یدِ بیضاء (روشن ہاتھ) — ہاتھ بغل میں دبا کر نکالتے تو وہ کسی عیب کے بغیر سفید چمک دار ہو کر نکلتا — یہ دوسری نشانی تھی۔
7 3۔ شرفِ کلام — وادیِ مقدس طُوٰی میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے براہِ راست کلام فرمایا اور نبوت عطا فرمائی۔ (آیات 11 تا 13)
8 4۔ سمندر میں خشک راستہ — وَلَقَدۡ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَسۡرِ بِعِبَادِي فَٱضۡرِبۡ لَهُمۡ طَرِيقٗا فِي ٱلۡبَحۡرِ يَبَسٗا لَّا تَخَٰفُ دَرَكٗا وَلَا تَخۡشَىٰ
9 4۔ سمندر میں خشک راستہ — سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 77
10 4۔ سمندر میں خشک راستہ — عصا مارنے سے سمندر میں خشک راستہ بن گیا؛ بنی اسرائیل پار ہو گئے اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہوا۔ (آیات 77، 78)
جواب قوم کے لیے نعمتیں — نجات کے بعد بنی اسرائیل پر من و سلویٰ کا نزول بھی اللہ تعالیٰ کی خاص نشانیوں اور نعمتوں میں سے ہے۔ (آیت 80)
21 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

الا؟ فَوَسۡوَسَ إِلَيۡهِ ٱلشَّيۡطَٰنُ قَالَ يَـٰٓـَٔادَمُ هَلۡ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ ٱلۡخُلۡدِ وَمُلۡكٖ لَّا يَبۡلَىٰ

فعل مضارع معروف کی چند مثالیں تحریر کریں اور سُوْرَةُ طٰهٰ سے کوئی سے تین افعال تلاش کر کے گردان لکھیں۔

سبق کی «آسان عربی گرامر» میں «يَكْتُبُ» کی گردان دی گئی ہے۔ اسی نمونے پر سورۃ طٰہٰ (اسی سبق) سے تین افعال کی گردان درج ذیل ہے:

1 نمونہ: يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے) کی گردان — مذکر غائب — يَكْتُبُ (واحد)، يَكْتُبَانِ (تثنیہ)، يَكْتُبُوْنَ (جمع)
2 نمونہ: يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے) کی گردان — مؤنث غائب — تَكْتُبُ (واحد)، تَكْتُبَانِ (تثنیہ)، يَكْتُبْنَ (جمع)
3 نمونہ: يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے) کی گردان — مذکر حاضر — تَكْتُبُ (واحد)، تَكْتُبَانِ (تثنیہ)، تَكْتُبُوْنَ (جمع)
4 نمونہ: يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے) کی گردان — مؤنث حاضر — تَكْتُبِيْنَ (واحد)، تَكْتُبَانِ (تثنیہ)، تَكْتُبْنَ (جمع)
5 نمونہ: يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے) کی گردان — متکلم — اَكْتُبُ (واحد مذکر و مؤنث)، نَكْتُبُ (تثنیہ و جمع)
6 1۔ يَعۡلَمُ — يَعْلَمُ (وہ جانتا ہے) — سورۃ طٰہٰ میں: «يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ» (آیت 110)۔
7 1۔ يَعۡلَمُ — يَعْلَمُ (وہ جانتا ہے) — مذکر غائب — يَعْلَمُ، يَعْلَمَانِ، يَعْلَمُوْنَ
8 1۔ يَعۡلَمُ — يَعْلَمُ (وہ جانتا ہے) — مؤنث غائب — تَعْلَمُ، تَعْلَمَانِ، يَعْلَمْنَ
9 1۔ يَعۡلَمُ — يَعْلَمُ (وہ جانتا ہے) — مذکر حاضر — تَعْلَمُ، تَعْلَمَانِ، تَعْلَمُوْنَ
10 1۔ يَعۡلَمُ — يَعْلَمُ (وہ جانتا ہے) — مؤنث حاضر — تَعْلَمِيْنَ، تَعْلَمَانِ، تَعْلَمْنَ
11 1۔ يَعۡلَمُ — يَعْلَمُ (وہ جانتا ہے) — متکلم — اَعْلَمُ، نَعْلَمُ
12 2۔ يَحۡمِلُ — يَحْمِلُ (وہ اٹھاتا ہے) — سورۃ طٰہٰ میں: «فَاِنَّهٗ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وِزْرًا» (آیت 100)۔
13 2۔ يَحۡمِلُ — يَحْمِلُ (وہ اٹھاتا ہے) — مذکر غائب — يَحْمِلُ، يَحْمِلَانِ، يَحْمِلُوْنَ
14 2۔ يَحۡمِلُ — يَحْمِلُ (وہ اٹھاتا ہے) — مؤنث غائب — تَحْمِلُ، تَحْمِلَانِ، يَحْمِلْنَ
15 2۔ يَحۡمِلُ — يَحْمِلُ (وہ اٹھاتا ہے) — مذکر حاضر — تَحْمِلُ، تَحْمِلَانِ، تَحْمِلُوْنَ
16 2۔ يَحۡمِلُ — يَحْمِلُ (وہ اٹھاتا ہے) — مؤنث حاضر — تَحْمِلِيْنَ، تَحْمِلَانِ، تَحْمِلْنَ
17 2۔ يَحۡمِلُ — يَحْمِلُ (وہ اٹھاتا ہے) — متکلم — اَحْمِلُ، نَحْمِلُ
18 3۔ نَرۡزُقُكَۗ — يَرْزُقُ (وہ رزق دیتا ہے) — سورۃ طٰہٰ میں: «نَحْنُ نَرْزُقُكَ» (آیت 132)؛ یہاں صیغہ متکلم ہے اور «كَ» ضمیرِ مفعول ہے۔
19 3۔ نَرۡزُقُكَۗ — يَرْزُقُ (وہ رزق دیتا ہے) — مذکر غائب — يَرْزُقُ، يَرْزُقَانِ، يَرْزُقُوْنَ
20 3۔ نَرۡزُقُكَۗ — يَرْزُقُ (وہ رزق دیتا ہے) — مؤنث غائب — تَرْزُقُ، تَرْزُقَانِ، يَرْزُقْنَ
21 3۔ نَرۡزُقُكَۗ — يَرْزُقُ (وہ رزق دیتا ہے) — مذکر حاضر — تَرْزُقُ، تَرْزُقَانِ، تَرْزُقُوْنَ
22 3۔ نَرۡزُقُكَۗ — يَرْزُقُ (وہ رزق دیتا ہے) — مؤنث حاضر — تَرْزُقِيْنَ، تَرْزُقَانِ، تَرْزُقْنَ
23 3۔ نَرۡزُقُكَۗ — يَرْزُقُ (وہ رزق دیتا ہے) — متکلم — اَرْزُقُ، نَرْزُقُ
جواب نوٹ: گردان کے یہ صیغے قواعد کے نمونے ہیں؛ قرآنِ کریم میں ان میں سے صرف وہی صورتیں آئی ہیں جن کے حوالے اوپر دیے گئے ہیں۔ (فعل مضارع کی تعریف اور مزید مثالیں سبق نمبر 3 میں گزر چکی ہیں۔)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.