ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 3: سبق 3: سورۃ طٰہٰ (آیات: 1 تا 76) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 20 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

طه (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 1)

سُوْرَةُ طٰهٰ نازل ہوئی:

الف) معراج سے پہلے • ب) ہجرتِ مدینہ سے پہلے • ج) ہجرتِ حبشہ سے پہلے • د) سفرِ طائف سے پہلے

جواب ج) ہجرتِ حبشہ سے پہلے — سبق کے تعارف کے مطابق سورۃ طٰہٰ مکی دور میں ہجرتِ حبشہ سے پہلے نازل ہوئی۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

فَأَلۡقَىٰهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٞ تَسۡعَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 20)

«حَيَّةٌ» کے معنی ہیں:

الف) سانپ • ب) چھپکلی • ج) بچھو • د) گوہ

جواب الف) سانپ — ذخیرۂ الفاظ میں «حَيَّةٌ» کا معنی سانپ دیا گیا ہے: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عصا ڈالا تو وہ اچانک دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

قَالَ لَهُم مُّوسَىٰ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُواْ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا فَيُسۡحِتَكُم بِعَذَابٖۖ وَقَدۡ خَابَ مَنِ ٱفۡتَرَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 61)

«وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى» — اور واقعی وہ شخص ناکام ہوا جس نے:

الف) کفر کیا • ب) جھوٹ باندھا • ج) لالچ کیا • د) دھوکہ دیا

جواب ب) جھوٹ باندھا — «افْتَرٰى» کا معنی جھوٹ باندھنا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں سے فرمایا کہ اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ وہ عذاب سے تمھیں برباد کر دے گا، اور واقعی وہ ناکام ہوا جس نے جھوٹ باندھا۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

إِذۡ رَءَا نَارٗا فَقَالَ لِأَهۡلِهِ ٱمۡكُثُوٓاْ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا لَّعَلِّيٓ ءَاتِيكُم مِّنۡهَا بِقَبَسٍ أَوۡ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدٗى (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 10)

«اِنِّيْۤ اٰنَسْتُ نَارًا» — سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں نے دیکھی ہے:

الف) چھاؤں • ب) آگ • ج) بارش • د) دھوپ

جواب ب) آگ — «نَار» کا معنی آگ ہے: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ ٹھہرو، بے شک میں نے ایک آگ دیکھی ہے؛ شاید اس میں سے کوئی چنگاری لے آؤں یا آگ کے پاس کوئی راہ نمائی پاؤں۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

أَنِ ٱقۡذِفِيهِ فِي ٱلتَّابُوتِ فَٱقۡذِفِيهِ فِي ٱلۡيَمِّ فَلۡيُلۡقِهِ ٱلۡيَمُّ بِٱلسَّاحِلِ يَأۡخُذۡهُ عَدُوّٞ لِّي وَعَدُوّٞ لَّهُۥۚ وَأَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَبَّةٗ مِّنِّي وَلِتُصۡنَعَ عَلَىٰ عَيۡنِيٓ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 39)

«فَاقْذِفِيْهِ فِي الْيَمِّ» — سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو صندوق رکھنے کا کہا گیا:

الف) تالاب میں • ب) باغ میں • ج) دریا میں • د) غار میں

جواب ج) دریا میں — «اَلْيَمّ» کا معنی دریا ہے: الہام کیا گیا کہ انھیں صندوق میں رکھو، پھر صندوق دریا میں ڈال دو؛ دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا اور اسے وہ اٹھا لے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخۡفِيهَا لِتُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا تَسۡعَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 15)

آیتِ کریمہ میں قیامت کے متعلق کیا بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

بے شک قیامت آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو خفیہ رکھوں تاکہ ہر جان کو اس کا بدلہ دیا جائے جس کی وہ کوشش کرتی ہے۔

آیتِ کریمہ میں قیامت کے متعلق تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔

1 آمد یقینی — قیامت ضرور آنے والی ہے؛ اس میں کوئی شک نہیں۔
2 وقت خفیہ — اللہ تعالیٰ نے اس کا وقت خفیہ رکھا ہے تاکہ ہر شخص ہر وقت تیار رہے۔
3 جزا کا دن — اس دن ہر جان کو اس کی کوشش (اعمال) کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
7 مختصر جوابات

مِنۡهَا خَلَقۡنَٰكُمۡ وَفِيهَا نُعِيدُكُمۡ وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً أُخۡرَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 55)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟

ترجمہ

اسی (زمین) سے ہم نے تمھیں پیدا فرمایا اور اسی میں ہم تمھیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے ایک بار پھر تمھیں نکالیں گے۔

آیتِ کریمہ میں انسان کا زمین سے تین گونہ تعلق بیان فرمایا گیا ہے۔

1 پیدائش — انسان کو اسی زمین (مٹی) سے پیدا فرمایا گیا۔
2 واپسی — موت کے بعد اسی زمین میں لوٹایا جائے گا (دفن)۔
3 دوبارہ اٹھایا جانا — قیامت کے دن اسی زمین سے ایک بار پھر زندہ کر کے نکالا جائے گا۔
جواب یہ آیت عقیدۂ آخرت کی واضح دلیل ہے: جو اللہ مٹی سے پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
8 مختصر جوابات

فَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سُجَّدٗا قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَٰرُونَ وَمُوسَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 70)

آیتِ کریمہ کی رو سے جادوگروں نے کس چیز کا اعلان کیا؟

ترجمہ

تو جادوگر سجدے میں گر پڑے؛ وہ کہنے لگے: ہم ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لائے۔

جواب جادوگروں نے حق واضح ہو جانے پر سجدے میں گر کر ایمان کا اعلان کیا کہ ہم سیدنا ہارون اور سیدنا موسیٰ علیہما السلام کے رب پر ایمان لائے۔ پھر فرعون کی دھمکیوں کے باوجود وہ اپنے ایمان پر قائم رہے۔
9 مختصر جوابات

إِنَّهُۥ مَن يَأۡتِ رَبَّهُۥ مُجۡرِمٗا فَإِنَّ لَهُۥ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحۡيَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 74)

آیتِ کریمہ میں مجرم کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

بے شک جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا تو بے شک اس کے لیے جہنم ہے، جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جیے گا۔

جواب بتایا گیا ہے کہ جو شخص اپنے رب کے حضور مجرم (کافر و نافرمان) بن کر حاضر ہو گا اس کا ٹھکانا جہنم ہے، جہاں نہ اسے موت آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائے اور نہ ایسی زندگی ملے گی جس میں چین ہو۔
10 مختصر جوابات

وَمَن يَأۡتِهِۦ مُؤۡمِنٗا قَدۡ عَمِلَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلدَّرَجَٰتُ ٱلۡعُلَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیات 75 اور 76)

آیتِ کریمہ کی رو سے مومنوں کے لیے کیا انعام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اور جو شخص اس کے پاس مومن بن کر آئے گا، جس نے یقیناً نیک عمل کیے ہوں گے، تو انھی لوگوں کے لیے بلند درجات ہیں۔

جو شخص ایمان کے ساتھ نیک اعمال لے کر اللہ کے حضور حاضر ہو گا، اس کے لیے انعامات بیان ہوئے ہیں:

1 بلند درجات — انھی لوگوں کے لیے (جنت میں) بلند درجے ہیں۔
2 ہمیشہ کی جنتیں — ہمیشہ رہنے والے باغات، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں؛ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ (آیت 76)
3 پاکیزگی کا بدلہ — یہ اس شخص کا بدلہ ہے جو (کفر و گناہ سے) پاک ہوا۔ (آیت 76)

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

وَمَا تِلۡكَ بِيَمِينِكَ يَٰمُوسَىٰ قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّؤُاْ عَلَيۡهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَـَٔارِبُ أُخۡرَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیات 17 اور 18)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور اے موسیٰ! یہ تمھارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ انھوں نے عرض کیا: یہ میرا عصا (لاٹھی) ہے؛ میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے (پتے) جھاڑتا ہوں اور میرے لیے اس میں اور بھی کئی فائدے ہیں۔

جواب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ سے پوچھا کہ تمہارے دائیں ہاتھ میں یہ کیا ہے؟ اللہ کو تو پہلے سے معلوم تھا، لیکن یہ سوال اِس لیے کیا تاکہ موسیٰؑ اپنی لاٹھی کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جائیں۔ موسیٰؑ نے سادگی سے بتایا کہ یہ میری لاٹھی ہے، میں اِس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اِس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں۔ ابھی وہ ایک عام سی لاٹھی تھی جس کے چند معمولی فائدے تھے۔ مگر تھوڑی دیر بعد اللہ نے اِسی لاٹھی کو ایک بہت بڑا معجزہ بنا دیا۔ سبق یہ ہے کہ اللہ چاہے تو معمولی چیز سے بھی بڑا کام لے سکتا ہے۔
12 تفصیلی جوابات

طه (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 1)

سُوْرَةُ طٰهٰ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — «طٰهٰ» حروفِ مقطعات میں سے ہے۔ یہ سورۂ مبارکہ انھی حروف سے شروع ہوتی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ طٰهٰ» ہے۔
2 مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 135 آیات ہیں۔
3 زمانۂ نزول — یہ مکی دور میں ہجرتِ حبشہ سے پہلے نازل ہوئی۔
4 اس سبق میں — اس سبق میں سورت کی ابتدائی آیات (1 تا 76) شامل ہیں۔
جواب مرکزی مضمون — سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی ذکر۔
13 تفصیلی جوابات

ٱذۡهَبۡ أَنتَ وَأَخُوكَ بِـَٔايَٰتِي وَلَا تَنِيَا فِي ذِكۡرِي (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 42)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

(اے موسیٰ!) تم اور تمھارا بھائی میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔

جواب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور اُن کے بھائی حضرت ہارونؑ کو حکم دیا کہ دونوں میری نشانیاں لے کر فرعون کی طرف جاؤ۔ ساتھ ہی خاص ہدایت دی کہ میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔ یعنی اتنے بڑے اور مشکل کام میں بھی اللہ کو یاد کرنا نہ چھوڑنا۔ ذکر سے دل کو ہمت اور سکون ملتا ہے اور ڈر ختم ہو جاتا ہے۔ ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ پڑھائی ہو یا کوئی اور مشکل کام، اللہ کو یاد رکھنے سے کام آسان ہو جاتا ہے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ طٰهٰ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ طٰہٰ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 نزولِ قرآنِ مجید کی حکمت اور شان۔
2 نبی اکرم ﷺ کی رسالت پر دلائل اور آپ ﷺ کی ذمہ داری۔
3 پچھلی امتوں پر عذاب نازل ہونے کی وجوہات۔
4 سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ کی رسالت کے مشترکات۔
5 نماز، تسبیحات اور صبر کی اہمیت۔
6 قرآنِ مجید سے اعراض کی سزا۔
7 حفاظتِ قرآنِ مجید اور آپ ﷺ کو سکھائی گئی دعائیں۔
8 قیامت اور حشر کے ہول ناک واقعات اور جنت کی نعمتیں۔
9 دنیوی و اخروی نعمتوں کی حقیقت۔
10 نافرمان قوموں پر عذاب سے پہلے اتمامِ حجت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت۔
15 تفصیلی جوابات

وَأَلۡقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوٓاْۖ إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 69)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور تم (عصا زمین پر) ڈال دو جو تمھارے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ اس کو نگل جائے گا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے۔ بے شک جو کچھ انھوں نے بنایا ہے (وہ) صرف جادوگر کا دھوکا ہے، اور جادوگر کامیاب نہیں ہو گا جہاں کہیں (بھی) آئے۔

جواب جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو لوگوں کو ایسا لگا جیسے وہ سانپ بن کر دوڑ رہی ہوں۔ اللہ نے موسیٰؑ سے فرمایا کہ تم اپنے ہاتھ والی لاٹھی ڈال دو، یہ اُن کے سارے بنائے ہوئے کھیل کو نگل جائے گی۔ اللہ نے صاف بتا دیا کہ اُنہوں نے جو کیا ہے وہ صرف جادوگر کی چال ہے، حقیقت نہیں۔ اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتا، چاہے وہ کہیں سے بھی آئے۔ سبق یہ ہے کہ سچائی کے سامنے جھوٹ اور دھوکہ زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا۔
16 تفصیلی جوابات

فعل مضارع کی تعریف کریں اور سُوْرَةُ طٰهٰ سے فعل مضارع معروف کی کوئی سی تین مثالیں تلاش کر کے تحریر کریں۔

تعریف اور سُوْرَةُ طٰهٰ سے تین مثالیں

1 تعریف — وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے کا مفہوم زمانۂ حال یا مستقبل میں پایا جائے، فعل مضارع کہلاتا ہے۔ اگر اس میں فاعل کا ہونا معلوم ہو — خواہ فاعل ظاہر ہو یا ضمیر کی صورت میں چھپا ہو — تو وہ فعل مضارع معروف کہلاتا ہے۔
2 سُوْرَةُ طٰهٰ سے تین مثالیں — 1۔ يَعۡلَمُ — «وہ جانتا ہے» — «فَاِنَّهٗ يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰى»: بے شک وہ پوشیدہ بات اور اس سے زیادہ چھپی ہوئی بات کو جانتا ہے۔ فاعل اللہ تعالیٰ ہے۔ (آیت 7)
3 سُوْرَةُ طٰهٰ سے تین مثالیں — 2۔ تَسۡعَىٰ — «وہ دوڑتا ہے» — «فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعٰى»: تو وہ اچانک دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔ فاعل «هِيَ» (حَيَّة) ہے۔ (آیت 20)
4 سُوْرَةُ طٰهٰ سے تین مثالیں — 3۔ نَخَافُ — «ہم ڈرتے ہیں» — «اِنَّنَا نَخَافُ»: (موسیٰ اور ہارون علیہما السلام نے عرض کیا:) بے شک ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے۔ فاعل ضمیر «نَحْنُ» (ہم) ہے۔ (آیت 45)

سرگرمیاں برائے طلبہ

17 سرگرمیاں برائے طلبہ

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ لَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 8)

کوئی سے دس اَسْمَاءُ الْحُسْنٰى ترجمہ کے ساتھ یاد کریں۔

ترجمہ

اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں؛ اسی کے لیے سب اچھے نام ہیں۔

اَسْمَاءُ الْحُسْنٰى سے مراد اللہ تعالیٰ کے اچھے نام ہیں۔ دس نام ترجمے کے ساتھ درج ذیل ہیں:

1 1۔ اَلرَّحْمٰنُ — بہت مہربان۔
2 2۔ اَلرَّحِيْمُ — نہایت رحم فرمانے والا۔
3 3۔ اَلْمَلِكُ — (حقیقی) بادشاہ۔
4 4۔ اَلْقُدُّوْسُ — نہایت پاک۔
5 5۔ اَلسَّلٰمُ — سلامتی دینے والا۔
6 6۔ اَلْمُؤْمِنُ — امن دینے والا۔
7 7۔ اَلْعَزِيْزُ — سب پر غالب۔
8 8۔ اَلْخَالِقُ — پیدا فرمانے والا۔
9 9۔ اَلْغَفَّارُ — بہت بخشنے والا۔
10 10۔ اَلْعَلِيْمُ — سب کچھ جاننے والا۔
جواب انھیں یاد کر کے دعا میں انھی ناموں کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کو پکارنا چاہیے۔
18 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ طٰہٰ ۔ آیات 25 تا 28

سُوْرَةُ طٰهٰ آیات 25 تا 28 میں موجود سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعا ترجمہ کے ساتھ یاد کریں اور اپنے اساتذہ سے معلوم کریں کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا کس موقع پر پڑھی اور ہمیں یہ دعا کب پڑھنی چاہیے؟

ترجمہ

(موسیٰ علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے، اور میرے لیے میرا کام آسان بنا دے، اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

قَالَ رَبِّ ٱشۡرَحۡ لِي صَدۡرِي وَيَسِّرۡ لِيٓ أَمۡرِي وَٱحۡلُلۡ عُقۡدَةٗ مِّن لِّسَانِي يَفۡقَهُواْ قَوۡلِي (سورۃ طٰہٰ ۔ آیات 25 تا 28)

سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا کس موقع پر پڑھی؟ اور ہمیں یہ دعا کب پڑھنی چاہیے؟

1 سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا کس موقع پر پڑھی؟ — جب اللہ تعالیٰ نے وادیِ طُوٰی میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا فرما کر فرعون جیسے سرکش بادشاہ کے پاس جانے اور اسے دعوتِ حق دینے کا حکم دیا، تو اس عظیم ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے آپ نے یہ دعا مانگی۔
2 ہمیں یہ دعا کب پڑھنی چاہیے؟ — ہر مشکل اور اہم کام کے آغاز پر۔
3 ہمیں یہ دعا کب پڑھنی چاہیے؟ — پڑھائی، تقریر یا امتحان سے پہلے، تاکہ بات سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی ہو۔
4 ہمیں یہ دعا کب پڑھنی چاہیے؟ — جب بات واضح انداز میں کہنے میں دشواری محسوس ہو۔
5 ہمیں یہ دعا کب پڑھنی چاہیے؟ — دعوت و تبلیغ اور حق بات کہنے سے پہلے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخۡفِيهَا لِتُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا تَسۡعَىٰ

علم کی اہمیت تحریر کریں۔

علم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اسلام نے علم کو ایمان اور عمل کی بنیاد قرار دیا ہے: پہلی وحی کا آغاز ہی «اِقْرَأ» (پڑھیے) سے ہوا، اور سیدنا آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر فضیلت علم ہی کی بنا پر عطا ہوئی۔

قرآن کی روشنی میں اور علم کی اہمیت کے چند پہلو

1 قرآن کی روشنی میں — وَقُل رَّبِّ زِدۡنِي عِلۡمٗا اور (اے نبی!) دعا کیجیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔ — سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 114
2 قرآن کی روشنی میں — اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو دنیا کی کسی اور چیز کے بجائے علم میں اضافے کی دعا سکھائی؛ یہی علم کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ اسی سورت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت بھی بیان ہوئی ہے: وہ پوشیدہ بات اور اس سے زیادہ چھپی ہوئی بات کو جانتا ہے (آیت 7)، اور ہر چیز کا علم اس کے پاس ایک کتاب میں محفوظ ہے (آیت 52)۔
3 علم کی اہمیت کے چند پہلو — اللہ کی معرفت — علم ہی سے انسان اپنے خالق کو پہچانتا اور صحیح عقیدہ اپناتا ہے۔
4 علم کی اہمیت کے چند پہلو — عمل کی بنیاد — عبادات اور معاملات درست طریقے سے ادا کرنے کے لیے علم شرط ہے۔
5 علم کی اہمیت کے چند پہلو — انبیاء کی میراث — علماء انبیائے کرام علیہم السلام کے وارث ہیں؛ انبیاء درہم و دینار نہیں بلکہ علم چھوڑ کر جاتے ہیں۔
6 علم کی اہمیت کے چند پہلو — درجات کی بلندی — اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور علم والوں کے درجے بلند فرماتا ہے۔
7 علم کی اہمیت کے چند پہلو — حق و باطل کی تمیز — علم ہی سے انسان جادوگروں جیسے باطل اور معجزے جیسے حق میں فرق پہچانتا ہے، جیسا کہ اس سبق میں جادوگر حق پہچان کر ایمان لے آئے۔
8 علم کی اہمیت کے چند پہلو — دنیوی ترقی — قوموں کی ترقی اور عزت کا دار و مدار بھی علم ہی پر ہے۔
جواب خلاصہ — علم روشنی ہے اور جہالت اندھیرا۔ ہمیں چاہیے کہ دین اور دنیا کا مفید علم حاصل کریں، اس پر عمل کریں اور ہمیشہ «رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» کی دعا کرتے رہیں۔
20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ا؟ مِنۡهَا خَلَقۡنَٰكُمۡ وَفِيهَا نُعِيدُكُمۡ وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً أُخۡرَىٰ

فعل مضارع معروف کی پانچ قرآنی مثالیں تحریر کریں۔ (تعریف اور تین مثالوں کے لیے سوال 3 (3ب) ملاحظہ کریں۔)

سُوْرَةُ طٰهٰ (اسی سبق) سے فعل مضارع معروف کی پانچ قرآنی مثالیں درج ذیل ہیں:

1 1۔ يَعۡلَمُ — «وہ جانتا ہے» — فاعل اللہ تعالیٰ۔ (آیت 7)
2 2۔ يُؤۡمِنُ — «وہ ایمان رکھتا ہے» — «مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهَا» میں فعل «يُؤْمِنُ» مضارع معروف ہے اور «لَا» اس کی نفی کے لیے ہے۔ (آیت 16)
3 3۔ تَسۡعَىٰ — «وہ دوڑتی ہے» — فاعل «حَيَّة» (سانپ)۔ (آیت 20)
4 4۔ نَخَافُ — «ہم ڈرتے ہیں» — فاعل ضمیر «ہم»۔ (آیت 45)
5 5۔ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحۡيَىٰ — «نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جیے گا» — «يَمُوْتُ» اور «يَحْيٰى» دونوں فعل مضارع معروف ہیں؛ «لَا» زمانۂ حال و مستقبل کی نفی کے لیے ہے۔ (آیت 74)
جواب سبق کی گرامر کے مطابق زمانۂ حال اور مستقبل میں نفی کے لیے فعل مضارع کے شروع میں «لَا» لگاتے ہیں، جیسے: «لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰى»۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.