طه (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 1)
سُوْرَةُ طٰهٰ نازل ہوئی:
الف) معراج سے پہلے • ب) ہجرتِ مدینہ سے پہلے • ج) ہجرتِ حبشہ سے پہلے • د) سفرِ طائف سے پہلے
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
طه (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 1)
سُوْرَةُ طٰهٰ نازل ہوئی:
الف) معراج سے پہلے • ب) ہجرتِ مدینہ سے پہلے • ج) ہجرتِ حبشہ سے پہلے • د) سفرِ طائف سے پہلے
فَأَلۡقَىٰهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٞ تَسۡعَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 20)
«حَيَّةٌ» کے معنی ہیں:
الف) سانپ • ب) چھپکلی • ج) بچھو • د) گوہ
قَالَ لَهُم مُّوسَىٰ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُواْ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا فَيُسۡحِتَكُم بِعَذَابٖۖ وَقَدۡ خَابَ مَنِ ٱفۡتَرَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 61)
«وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى» — اور واقعی وہ شخص ناکام ہوا جس نے:
الف) کفر کیا • ب) جھوٹ باندھا • ج) لالچ کیا • د) دھوکہ دیا
إِذۡ رَءَا نَارٗا فَقَالَ لِأَهۡلِهِ ٱمۡكُثُوٓاْ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا لَّعَلِّيٓ ءَاتِيكُم مِّنۡهَا بِقَبَسٍ أَوۡ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدٗى (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 10)
«اِنِّيْۤ اٰنَسْتُ نَارًا» — سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں نے دیکھی ہے:
الف) چھاؤں • ب) آگ • ج) بارش • د) دھوپ
أَنِ ٱقۡذِفِيهِ فِي ٱلتَّابُوتِ فَٱقۡذِفِيهِ فِي ٱلۡيَمِّ فَلۡيُلۡقِهِ ٱلۡيَمُّ بِٱلسَّاحِلِ يَأۡخُذۡهُ عَدُوّٞ لِّي وَعَدُوّٞ لَّهُۥۚ وَأَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَبَّةٗ مِّنِّي وَلِتُصۡنَعَ عَلَىٰ عَيۡنِيٓ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 39)
«فَاقْذِفِيْهِ فِي الْيَمِّ» — سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو صندوق رکھنے کا کہا گیا:
الف) تالاب میں • ب) باغ میں • ج) دریا میں • د) غار میں
إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخۡفِيهَا لِتُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا تَسۡعَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 15)
آیتِ کریمہ میں قیامت کے متعلق کیا بیان کیا گیا ہے؟
بے شک قیامت آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو خفیہ رکھوں تاکہ ہر جان کو اس کا بدلہ دیا جائے جس کی وہ کوشش کرتی ہے۔
آیتِ کریمہ میں قیامت کے متعلق تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔
مِنۡهَا خَلَقۡنَٰكُمۡ وَفِيهَا نُعِيدُكُمۡ وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً أُخۡرَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 55)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟
اسی (زمین) سے ہم نے تمھیں پیدا فرمایا اور اسی میں ہم تمھیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے ایک بار پھر تمھیں نکالیں گے۔
آیتِ کریمہ میں انسان کا زمین سے تین گونہ تعلق بیان فرمایا گیا ہے۔
فَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سُجَّدٗا قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَٰرُونَ وَمُوسَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 70)
آیتِ کریمہ کی رو سے جادوگروں نے کس چیز کا اعلان کیا؟
تو جادوگر سجدے میں گر پڑے؛ وہ کہنے لگے: ہم ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لائے۔
إِنَّهُۥ مَن يَأۡتِ رَبَّهُۥ مُجۡرِمٗا فَإِنَّ لَهُۥ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحۡيَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 74)
آیتِ کریمہ میں مجرم کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟
بے شک جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا تو بے شک اس کے لیے جہنم ہے، جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جیے گا۔
وَمَن يَأۡتِهِۦ مُؤۡمِنٗا قَدۡ عَمِلَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلدَّرَجَٰتُ ٱلۡعُلَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیات 75 اور 76)
آیتِ کریمہ کی رو سے مومنوں کے لیے کیا انعام بیان ہوا ہے؟
اور جو شخص اس کے پاس مومن بن کر آئے گا، جس نے یقیناً نیک عمل کیے ہوں گے، تو انھی لوگوں کے لیے بلند درجات ہیں۔
جو شخص ایمان کے ساتھ نیک اعمال لے کر اللہ کے حضور حاضر ہو گا، اس کے لیے انعامات بیان ہوئے ہیں:
وَمَا تِلۡكَ بِيَمِينِكَ يَٰمُوسَىٰ قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّؤُاْ عَلَيۡهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَـَٔارِبُ أُخۡرَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیات 17 اور 18)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اور اے موسیٰ! یہ تمھارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ انھوں نے عرض کیا: یہ میرا عصا (لاٹھی) ہے؛ میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے (پتے) جھاڑتا ہوں اور میرے لیے اس میں اور بھی کئی فائدے ہیں۔
طه (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 1)
سُوْرَةُ طٰهٰ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف
ٱذۡهَبۡ أَنتَ وَأَخُوكَ بِـَٔايَٰتِي وَلَا تَنِيَا فِي ذِكۡرِي (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 42)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
(اے موسیٰ!) تم اور تمھارا بھائی میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔
سُوْرَةُ طٰهٰ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ طٰہٰ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
وَأَلۡقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوٓاْۖ إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 69)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اور تم (عصا زمین پر) ڈال دو جو تمھارے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ اس کو نگل جائے گا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے۔ بے شک جو کچھ انھوں نے بنایا ہے (وہ) صرف جادوگر کا دھوکا ہے، اور جادوگر کامیاب نہیں ہو گا جہاں کہیں (بھی) آئے۔
فعل مضارع کی تعریف کریں اور سُوْرَةُ طٰهٰ سے فعل مضارع معروف کی کوئی سی تین مثالیں تلاش کر کے تحریر کریں۔
تعریف اور سُوْرَةُ طٰهٰ سے تین مثالیں
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ لَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 8)
کوئی سے دس اَسْمَاءُ الْحُسْنٰى ترجمہ کے ساتھ یاد کریں۔
اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں؛ اسی کے لیے سب اچھے نام ہیں۔
اَسْمَاءُ الْحُسْنٰى سے مراد اللہ تعالیٰ کے اچھے نام ہیں۔ دس نام ترجمے کے ساتھ درج ذیل ہیں:
سورۃ طٰہٰ ۔ آیات 25 تا 28
سُوْرَةُ طٰهٰ آیات 25 تا 28 میں موجود سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعا ترجمہ کے ساتھ یاد کریں اور اپنے اساتذہ سے معلوم کریں کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا کس موقع پر پڑھی اور ہمیں یہ دعا کب پڑھنی چاہیے؟
(موسیٰ علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے، اور میرے لیے میرا کام آسان بنا دے، اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔
قَالَ رَبِّ ٱشۡرَحۡ لِي صَدۡرِي وَيَسِّرۡ لِيٓ أَمۡرِي وَٱحۡلُلۡ عُقۡدَةٗ مِّن لِّسَانِي يَفۡقَهُواْ قَوۡلِي (سورۃ طٰہٰ ۔ آیات 25 تا 28)
سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا کس موقع پر پڑھی؟ اور ہمیں یہ دعا کب پڑھنی چاہیے؟
إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخۡفِيهَا لِتُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا تَسۡعَىٰ
علم کی اہمیت تحریر کریں۔
علم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اسلام نے علم کو ایمان اور عمل کی بنیاد قرار دیا ہے: پہلی وحی کا آغاز ہی «اِقْرَأ» (پڑھیے) سے ہوا، اور سیدنا آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر فضیلت علم ہی کی بنا پر عطا ہوئی۔
قرآن کی روشنی میں اور علم کی اہمیت کے چند پہلو
ا؟ مِنۡهَا خَلَقۡنَٰكُمۡ وَفِيهَا نُعِيدُكُمۡ وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً أُخۡرَىٰ
فعل مضارع معروف کی پانچ قرآنی مثالیں تحریر کریں۔ (تعریف اور تین مثالوں کے لیے سوال 3 (3ب) ملاحظہ کریں۔)
سُوْرَةُ طٰهٰ (اسی سبق) سے فعل مضارع معروف کی پانچ قرآنی مثالیں درج ذیل ہیں:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔