وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُواْ سَلَٰمٗاۖ قَالَ سَلَٰمٞۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيذٖ (سورۃ ھود ۔ آیت 69)
«بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ» میں «عِجْل» کے معنی ہیں:
الف) دنبہ • ب) بکرا • ج) بچھڑا • د) بھنا ہوا
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُواْ سَلَٰمٗاۖ قَالَ سَلَٰمٞۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيذٖ (سورۃ ھود ۔ آیت 69)
«بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ» میں «عِجْل» کے معنی ہیں:
الف) دنبہ • ب) بکرا • ج) بچھڑا • د) بھنا ہوا
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَٱسۡتَعۡمَرَكُمۡ فِيهَا فَٱسۡتَغۡفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِۚ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٞ مُّجِيبٞ (سورۃ ھود ۔ آیت 61)
قومِ ثمود کی طرف بھیجے گئے:
الف) سیدنا ہود علیہ السلام • ب) سیدنا نوح علیہ السلام • ج) سیدنا صالح علیہ السلام • د) سیدنا شعیب علیہ السلام
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُواْ فَفِي ٱلنَّارِ لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَشَهِيقٌ (سورۃ ھود ۔ آیت 106)
«زَفِيْر» کے معنی ہیں:
الف) چیخنا • ب) پکارنا • ج) رونا • د) ڈرنا
فَلَوۡلَا كَانَ مِنَ ٱلۡقُرُونِ مِن قَبۡلِكُمۡ أُوْلُواْ بَقِيَّةٖ يَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡفَسَادِ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّنۡ أَنجَيۡنَا مِنۡهُمۡۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مَآ أُتۡرِفُواْ فِيهِ وَكَانُواْ مُجۡرِمِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 116)
«اُولُوْا بَقِيَّةٍ يَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ» — زمین میں فساد سے منع کرتے ہیں:
الف) عام لوگ • ب) سمجھ دار لوگ • ج) متقی لوگ • د) صاحبِ علم لوگ
وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخۡتَلِفِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 118)
«وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً» میں «اُمَّةً» عربی قواعد کی رو سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر
وَيَٰقَوۡمِ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٞ قَرِيبٞ (سورۃ ھود ۔ آیت 64)
آیتِ کریمہ کے مطابق قومِ ثمود کو اونٹنی کے حوالے سے کن باتوں کا حکم دیا گیا؟
اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے ایک نشانی ہے؛ لہٰذا تم اسے چھوڑ دو کہ وہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے، اور تم اسے برائی (کے ارادے) سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمھیں جلد ہی عذاب آ پکڑے گا۔
قومِ ثمود کو اونٹنی کے بارے میں دو باتوں کا حکم دیا گیا۔
إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّـٰهٞ مُّنِيبٞ (سورۃ ھود ۔ آیت 75)
آیتِ کریمہ کی روشنی میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی صفات تحریر کریں۔
یقیناً ابراہیم (علیہ السلام) بڑے بردبار، بہت نرم دل، (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والے تھے۔
آیتِ کریمہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تین صفات بیان ہوئی ہیں۔
وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُۥ فَٱعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ (سورۃ ھود ۔ آیت 123)
آیتِ کریمہ میں کن باتوں کا حکم دیا گیا ہے؟
اور آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں؛ لہٰذا آپ اسی کی عبادت کیجیے اور اسی پر بھروسا کیجیے۔ اور تمھارا رب ان کاموں سے بے خبر نہیں جو تم لوگ کرتے ہو۔
آیتِ کریمہ میں دو باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔
وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَيِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِۚ إِنَّ ٱلۡحَسَنَٰتِ يُذۡهِبۡنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ ذَٰلِكَ ذِكۡرَىٰ لِلذَّـٰكِرِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 114)
«اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے نیکی کا کیا اثر مرتب ہوتا ہے؟
اور دن کے دونوں کناروں (صبح و شام) اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کیجیے۔ بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے۔
وَلَا تَرۡكَنُوٓاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنۡ أَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ (سورۃ ھود ۔ آیت 113)
«وَلَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ» — آیتِ کریمہ میں ظالم کی طرف جھکاؤ کے لیے کیا وعید بیان ہوئی ہے؟
اور ان لوگوں کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تمھیں (جہنم کی) آگ چھوئے گی، اور تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں، پھر تمھاری مدد (بھی) نہیں کی جائے گی۔
قَالُواْ يَٰصَٰلِحُ قَدۡ كُنتَ فِينَا مَرۡجُوّٗا قَبۡلَ هَٰذَآۖ أَتَنۡهَىٰنَآ أَن نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكّٖ مِّمَّا تَدۡعُونَآ إِلَيۡهِ مُرِيبٖ (سورۃ ھود ۔ آیت 62)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
(قومِ ثمود نے) کہا: اے صالح! یقیناً اس سے پہلے تم ہم میں امیدوں کا مرکز تھے۔ کیا تم ہمیں ان (معبودوں) کی عبادت کرنے سے روکتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ اور بے شک ہم یقیناً اس (دعوتِ توحید) کے بارے میں، جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، ایسے شک میں ہیں جو بے چین کرنے والا ہے۔
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُواْ فَفِي ٱلنَّارِ لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَشَهِيقٌ (سورۃ ھود ۔ آیات 105 تا 107)
«فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» — آیتِ کریمہ میں بدنصیب لوگوں کے حوالے سے کیا فرمایا گیا ہے؟
پھر جو لوگ بدنصیب ہوں گے وہ آگ میں ہوں گے؛ ان کے لیے وہاں چیخنا اور دھاڑنا ہو گا۔
قیامت کے دن، جب سب لوگ جمع کیے جائیں گے، تو ان میں کچھ بدنصیب («شَقِيّ») ہوں گے اور کچھ خوش نصیب («سَعِيْد»)۔ بدنصیبوں کے بارے میں فرمایا گیا:
وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ وَلَا تَنقُصُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَۖ إِنِّيٓ أَرَىٰكُم بِخَيۡرٖ وَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ مُّحِيطٖ (سورۃ ھود ۔ آیت 84)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اور (ہم نے بھیجا اہلِ) مدین کی طرف ان کی برادری کے فرد شعیب (علیہ السلام) کو۔ انھوں نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، اور تم ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔ بے شک میں تمھیں خوش حالی میں دیکھتا ہوں اور بے شک میں تمھارے بارے میں گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمۡۗ وَتَمَّتۡ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 119)
«لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» — آیتِ کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ جہنم کو کس سے بھرے گا؟
مگر جس پر آپ کا رب رحم فرمائے، اور اسی لیے اس نے انھیں پیدا فرمایا ہے۔ اور آپ کے رب کی بات پوری ہو گئی کہ یقیناً میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھر دوں گا۔
فَٱسۡتَقِمۡ كَمَآ أُمِرۡتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطۡغَوۡاْۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ (سورۃ ھود ۔ آیت 112)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
پس (اے نبی ﷺ!) آپ ثابت قدم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ بھی (ثابت قدم رہیں) جنھوں نے آپ کے ساتھ (اللہ کی طرف) رجوع کیا ہے، اور تم حد سے نہ بڑھو۔ بے شک وہ، جو کچھ تم کرتے ہو، اسے خوب دیکھنے والا ہے۔
وَكُلّٗا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَۚ وَجَآءَكَ فِي هَٰذِهِ ٱلۡحَقُّ وَمَوۡعِظَةٞ وَذِكۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 120)
آیتِ کریمہ کے مطابق نبی کریم ﷺ کو سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے کیوں سنائے جاتے ہیں؟
اور رسولوں کی خبروں میں سے ہم آپ سے وہ سب بیان کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم آپ کے دل کو مضبوط کرتے ہیں، اور اس میں آپ کے پاس حق آیا ہے اور مومنوں کے لیے نصیحت اور یاددہانی ہے۔
آیتِ کریمہ کے مطابق سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے سنانے کے تین مقاصد ہیں۔
سورۃ ھود ۔ آیات 105 تا 108
اپنی روزمرہ کی عادات کا تجزیہ کریں کہ کون سی عادات انھیں سعید (خوش نصیب) اور کون سی انھیں شقی (بدبخت) بناتی ہیں۔
سورۃ ھود (آیات 105 تا 108) میں قیامت کے دن لوگوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں: شقی (بدنصیب) اور سعید (خوش نصیب)۔ اپنی عادات کا جائزہ اسی کسوٹی پر لینا چاہیے:
سعید (خوش نصیب) بنانے والی عادات اور شقی (بدبخت) بنانے والی عادات
سورۃ ھود ۔ آیات 77 تا 83
سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم کے برے اعمال اور ان کے انجام پر مکالمہ کریں۔
سُوْرَةُ هُوْد سے کوئی تین فعل ماضی معروف تلاش کر کے گردان تحریر کریں اور مذاکرہ کریں۔
سبق کی «آسان عربی گرامر» میں «كِتَابَةٌ» (لکھنا) مصدر سے فعل ماضی کی گردان دی گئی ہے۔ اسی نمونے پر سورۃ ھود سے تین فعل ماضی معروف کی گردان درج ذیل ہے:
وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُۥ فَٱعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ (سورۃ ھود ۔ آیت 123)
توکل کے موضوع پر ایک نوٹ تحریر کریں۔
إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّـٰهٞ مُّنِيبٞ
سورۃ ھود میں مذکور انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات، تعلیمات اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر کریں۔
سورۃ ھود میں متعدد انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات بیان ہوئے ہیں؛ ہر واقعے کا خلاصہ اور اس کی تعلیم درج ذیل ہے:
مجموعی اسباق
وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُۥ فَٱعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ (سورۃ ھود ۔ آیات 105 تا 115)
ایک مضمون تحریر کریں جس میں سعید شخص کی زندگی کے خصائل اور شقی شخص کے رذائل اور ان سے بچنے کے اقدامات تحریر کریں۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔