ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 2: سبق 2: سورۃ ھود (آیات: 61 تا 123) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 22 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُواْ سَلَٰمٗاۖ قَالَ سَلَٰمٞۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيذٖ (سورۃ ھود ۔ آیت 69)

«بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ» میں «عِجْل» کے معنی ہیں:

الف) دنبہ • ب) بکرا • ج) بچھڑا • د) بھنا ہوا

جواب ج) بچھڑا — سبق کی ذخیرۂ الفاظ کے مطابق «عِجْل» کا معنی بچھڑا اور «حَنِيْذ» کا معنی بھنا ہوا ہے؛ یعنی سیدنا ابراہیم علیہ السلام مہمان فرشتوں کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَٱسۡتَعۡمَرَكُمۡ فِيهَا فَٱسۡتَغۡفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِۚ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٞ مُّجِيبٞ (سورۃ ھود ۔ آیت 61)

قومِ ثمود کی طرف بھیجے گئے:

الف) سیدنا ہود علیہ السلام • ب) سیدنا نوح علیہ السلام • ج) سیدنا صالح علیہ السلام • د) سیدنا شعیب علیہ السلام

جواب ج) سیدنا صالح علیہ السلام — آیت کے الفاظ «وَاِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا» ہیں: قومِ ثمود کی طرف ان کی برادری کے فرد سیدنا صالح علیہ السلام کو بھیجا گیا۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُواْ فَفِي ٱلنَّارِ لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَشَهِيقٌ (سورۃ ھود ۔ آیت 106)

«زَفِيْر» کے معنی ہیں:

الف) چیخنا • ب) پکارنا • ج) رونا • د) ڈرنا

جواب الف) چیخنا — ذخیرۂ الفاظ میں «زَفِيْر» کا معنی چیخنا دیا گیا ہے۔ بدنصیب لوگوں کے لیے جہنم میں چیخنا («زَفِيْر») اور دھاڑنا («شَهِيْق») ہو گا۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

فَلَوۡلَا كَانَ مِنَ ٱلۡقُرُونِ مِن قَبۡلِكُمۡ أُوْلُواْ بَقِيَّةٖ يَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡفَسَادِ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّنۡ أَنجَيۡنَا مِنۡهُمۡۗ وَٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مَآ أُتۡرِفُواْ فِيهِ وَكَانُواْ مُجۡرِمِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 116)

«اُولُوْا بَقِيَّةٍ يَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ» — زمین میں فساد سے منع کرتے ہیں:

الف) عام لوگ • ب) سمجھ دار لوگ • ج) متقی لوگ • د) صاحبِ علم لوگ

جواب ب) سمجھ دار لوگ — ذخیرۂ الفاظ کے مطابق «اُولُوْا بَقِيَّةٍ» کا معنی سمجھ دار لوگ ہے، یعنی ایسے عقل مند لوگ جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے ہیں۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ ٱلنَّاسَ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخۡتَلِفِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 118)

«وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً» میں «اُمَّةً» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر

جواب الف) اسم — «اُمَّةً» (جماعت) اسم ہے اور اس پر تنوین (ـً) موجود ہے جو اسم کی نمایاں پہچان ہے۔ اسی آیت میں «شَآءَ» اور «جَعَلَ» فعل ماضی ہیں۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

وَيَٰقَوۡمِ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٞ قَرِيبٞ (سورۃ ھود ۔ آیت 64)

آیتِ کریمہ کے مطابق قومِ ثمود کو اونٹنی کے حوالے سے کن باتوں کا حکم دیا گیا؟

ترجمہ

اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے ایک نشانی ہے؛ لہٰذا تم اسے چھوڑ دو کہ وہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے، اور تم اسے برائی (کے ارادے) سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمھیں جلد ہی عذاب آ پکڑے گا۔

قومِ ثمود کو اونٹنی کے بارے میں دو باتوں کا حکم دیا گیا۔

1 آزاد چھوڑ دینا — یہ اونٹنی اللہ کی نشانی (معجزہ) ہے؛ اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں (جہاں چاہے) کھاتی پھرے۔
2 برائی سے ہاتھ نہ لگانا — اسے برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا (نہ ستانا، نہ نقصان پہنچانا)، ورنہ بہت جلد عذاب آ پکڑے گا۔
جواب مگر قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، جس پر تین دن کی مہلت کے بعد انھیں چیخ (ہولناک آواز) کے عذاب نے آ پکڑا۔
7 مختصر جوابات

إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّـٰهٞ مُّنِيبٞ (سورۃ ھود ۔ آیت 75)

آیتِ کریمہ کی روشنی میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی صفات تحریر کریں۔

ترجمہ

یقیناً ابراہیم (علیہ السلام) بڑے بردبار، بہت نرم دل، (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والے تھے۔

آیتِ کریمہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تین صفات بیان ہوئی ہیں۔

1 1۔ حَلِيْم — بڑے بردبار — غصے اور جلد بازی کے بجائے تحمل اور برداشت والے۔
2 2۔ اَوَّاه — بہت نرم دل — اللہ کے حضور آہ و زاری اور دعا کرنے والے۔
3 3۔ مُنِيْب — ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے۔
جواب انھی صفات کی بنا پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام قومِ لوط کے بارے میں ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتوں) سے جھگڑنے (سفارش کرنے) لگے تھے۔
8 مختصر جوابات

وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُۥ فَٱعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ (سورۃ ھود ۔ آیت 123)

آیتِ کریمہ میں کن باتوں کا حکم دیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں؛ لہٰذا آپ اسی کی عبادت کیجیے اور اسی پر بھروسا کیجیے۔ اور تمھارا رب ان کاموں سے بے خبر نہیں جو تم لوگ کرتے ہو۔

آیتِ کریمہ میں دو باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔

1 عبادت — صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کی جائے («فَاعْبُدْهُ»)۔
2 توکل — صرف اسی پر بھروسا کیا جائے («وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ»)۔
جواب ساتھ ہی یہ حقیقت بیان ہوئی کہ آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے پاس ہے، سب معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ لوگوں کے کاموں سے بے خبر نہیں۔
9 مختصر جوابات

وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَيِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِۚ إِنَّ ٱلۡحَسَنَٰتِ يُذۡهِبۡنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ ذَٰلِكَ ذِكۡرَىٰ لِلذَّـٰكِرِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 114)

«اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے نیکی کا کیا اثر مرتب ہوتا ہے؟

ترجمہ

اور دن کے دونوں کناروں (صبح و شام) اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کیجیے۔ بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے۔

جواب آیتِ کریمہ کی رو سے نیکیوں کا اثر یہ ہے کہ وہ برائیوں کو مٹا دیتی ہیں: نیک اعمال — خاص طور پر نماز — گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں اور دل سے برائی کا اثر زائل کر دیتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو یاد رکھنے والے ہیں۔
10 مختصر جوابات

وَلَا تَرۡكَنُوٓاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنۡ أَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ (سورۃ ھود ۔ آیت 113)

«وَلَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ» — آیتِ کریمہ میں ظالم کی طرف جھکاؤ کے لیے کیا وعید بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

اور ان لوگوں کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تمھیں (جہنم کی) آگ چھوئے گی، اور تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں، پھر تمھاری مدد (بھی) نہیں کی جائے گی۔

جواب وعید یہ بیان ہوئی ہے کہ ظالموں کی طرف جھکنے (ان پر بھروسا کرنے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے) والوں کو جہنم کی آگ چھوئے گی، اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہ ہو گا اور پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

قَالُواْ يَٰصَٰلِحُ قَدۡ كُنتَ فِينَا مَرۡجُوّٗا قَبۡلَ هَٰذَآۖ أَتَنۡهَىٰنَآ أَن نَّعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكّٖ مِّمَّا تَدۡعُونَآ إِلَيۡهِ مُرِيبٖ (سورۃ ھود ۔ آیت 62)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

(قومِ ثمود نے) کہا: اے صالح! یقیناً اس سے پہلے تم ہم میں امیدوں کا مرکز تھے۔ کیا تم ہمیں ان (معبودوں) کی عبادت کرنے سے روکتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ اور بے شک ہم یقیناً اس (دعوتِ توحید) کے بارے میں، جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، ایسے شک میں ہیں جو بے چین کرنے والا ہے۔

جواب یہ قومِ ثمود کا جواب ہے جو اُنہوں نے حضرت صالحؑ کو دیا۔ صالحؑ اُن میں بہت شریف اور قابلِ اعتماد سمجھے جاتے تھے۔ لیکن جیسے ہی اُنہوں نے توحید کی بات کی، لوگ ناراض ہو گئے۔ اُن کی سب سے بڑی دلیل یہی تھی کہ "ہمارے باپ دادا ایسا کرتے آئے ہیں"۔ سبق یہ ہے کہ کوئی کام صرف پرانا ہونے کی وجہ سے صحیح نہیں ہو جاتا — دیکھنا یہ ہے کہ اللہ نے اُس کا حکم دیا ہے یا نہیں۔
12 تفصیلی جوابات

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ شَقُواْ فَفِي ٱلنَّارِ لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَشَهِيقٌ (سورۃ ھود ۔ آیات 105 تا 107)

«فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» — آیتِ کریمہ میں بدنصیب لوگوں کے حوالے سے کیا فرمایا گیا ہے؟

ترجمہ

پھر جو لوگ بدنصیب ہوں گے وہ آگ میں ہوں گے؛ ان کے لیے وہاں چیخنا اور دھاڑنا ہو گا۔

قیامت کے دن، جب سب لوگ جمع کیے جائیں گے، تو ان میں کچھ بدنصیب («شَقِيّ») ہوں گے اور کچھ خوش نصیب («سَعِيْد»)۔ بدنصیبوں کے بارے میں فرمایا گیا:

1 ٹھکانا جہنم — وہ (جہنم کی) آگ میں ہوں گے۔
2 چیخ و پکار — وہاں ان کے لیے چیخنا («زَفِيْر») اور دھاڑنا («شَهِيْق») ہو گا۔
3 ہمیشگی — وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، مگر جو آپ کا رب چاہے؛ بے شک آپ کا رب جو ارادہ فرمائے کر گزرنے والا ہے۔ (آیت 107)
13 تفصیلی جوابات

وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ وَلَا تَنقُصُواْ ٱلۡمِكۡيَالَ وَٱلۡمِيزَانَۖ إِنِّيٓ أَرَىٰكُم بِخَيۡرٖ وَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ مُّحِيطٖ (سورۃ ھود ۔ آیت 84)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور (ہم نے بھیجا اہلِ) مدین کی طرف ان کی برادری کے فرد شعیب (علیہ السلام) کو۔ انھوں نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، اور تم ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔ بے شک میں تمھیں خوش حالی میں دیکھتا ہوں اور بے شک میں تمھارے بارے میں گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

جواب مدین کے لوگ تجارت کرتے تھے مگر ناپ تول میں بےایمانی کرتے تھے۔ حضرت شعیبؑ نے اُنہیں دو باتیں سکھائیں: ایک اللہ کی عبادت، اور دوسری لین دین میں ایمانداری۔ اُنہوں نے کہا کہ تم پہلے ہی خوشحال ہو، پھر چوری اور کمی کی کیا ضرورت؟ سبق یہ ہے کہ عبادت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے حقوق ادا کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
14 تفصیلی جوابات

إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمۡۗ وَتَمَّتۡ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 119)

«لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ» — آیتِ کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ جہنم کو کس سے بھرے گا؟

ترجمہ

مگر جس پر آپ کا رب رحم فرمائے، اور اسی لیے اس نے انھیں پیدا فرمایا ہے۔ اور آپ کے رب کی بات پوری ہو گئی کہ یقیناً میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھر دوں گا۔

جواب آیتِ کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ جہنم کو (نافرمان) جنوں اور انسانوں، دونوں سے بھرے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ بات ہے جو پوری ہو کر رہے گی؛ البتہ جن پر آپ کا رب رحم فرمائے وہ اختلاف اور گمراہی سے محفوظ رہیں گے۔
15 تفصیلی جوابات

فَٱسۡتَقِمۡ كَمَآ أُمِرۡتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطۡغَوۡاْۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ (سورۃ ھود ۔ آیت 112)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

پس (اے نبی ﷺ!) آپ ثابت قدم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ بھی (ثابت قدم رہیں) جنھوں نے آپ کے ساتھ (اللہ کی طرف) رجوع کیا ہے، اور تم حد سے نہ بڑھو۔ بے شک وہ، جو کچھ تم کرتے ہو، اسے خوب دیکھنے والا ہے۔

جواب اِس آیت میں نبی کریم ﷺ اور تمام ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ سیدھے راستے پر جمے رہو۔ "استقامت" کا مطلب ہے کہ مشکل آئے تو بھی نیکی نہ چھوڑو۔ ساتھ ہی منع کیا گیا کہ حد سے نہ بڑھو، یعنی دین میں اپنی طرف سے کمی بیشی نہ کرو۔ اور آخر میں یاد دلایا گیا کہ اللہ ہمارا ہر کام دیکھ رہا ہے۔ جب یہ بات یاد رہے تو انسان غلط کام سے بچ جاتا ہے۔
16 تفصیلی جوابات

وَكُلّٗا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَۚ وَجَآءَكَ فِي هَٰذِهِ ٱلۡحَقُّ وَمَوۡعِظَةٞ وَذِكۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 120)

آیتِ کریمہ کے مطابق نبی کریم ﷺ کو سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے کیوں سنائے جاتے ہیں؟

ترجمہ

اور رسولوں کی خبروں میں سے ہم آپ سے وہ سب بیان کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم آپ کے دل کو مضبوط کرتے ہیں، اور اس میں آپ کے پاس حق آیا ہے اور مومنوں کے لیے نصیحت اور یاددہانی ہے۔

آیتِ کریمہ کے مطابق سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے سنانے کے تین مقاصد ہیں۔

1 تثبیتِ قلب — ان قصوں کے ذریعے نبی کریم ﷺ کے دل کو مضبوط کیا جاتا ہے، کیوں کہ ہر نبی کو جھٹلایا گیا اور بالآخر اللہ نے انھی کو غالب فرمایا۔
2 حق کا بیان — ان قصوں میں آپ ﷺ کے پاس حق (سچی خبریں) آیا ہے۔
3 نصیحت اور یاددہانی — مومنوں کے لیے ان میں نصیحت اور یاددہانی ہے کہ وہ سابقہ اقوام کے انجام سے سبق لیں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

17 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ ھود ۔ آیات 105 تا 108

اپنی روزمرہ کی عادات کا تجزیہ کریں کہ کون سی عادات انھیں سعید (خوش نصیب) اور کون سی انھیں شقی (بدبخت) بناتی ہیں۔

سورۃ ھود (آیات 105 تا 108) میں قیامت کے دن لوگوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں: شقی (بدنصیب) اور سعید (خوش نصیب)۔ اپنی عادات کا جائزہ اسی کسوٹی پر لینا چاہیے:

سعید (خوش نصیب) بنانے والی عادات اور شقی (بدبخت) بنانے والی عادات

1 سعید (خوش نصیب) بنانے والی عادات — نماز کی پابندی — دن کے دونوں کناروں اور رات کے حصوں میں (آیت 114)۔
2 سعید (خوش نصیب) بنانے والی عادات — ایمان اور نیک اعمال میں مداومت اور استقامت (آیت 112)۔
3 سعید (خوش نصیب) بنانے والی عادات — سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا اور امانت داری۔
4 سعید (خوش نصیب) بنانے والی عادات — والدین اور اساتذہ کی اطاعت اور ادب۔
5 سعید (خوش نصیب) بنانے والی عادات — غلطی پر فوراً توبہ و استغفار کرنا اور نیکی سے برائی کا ازالہ کرنا (آیت 114)۔
6 سعید (خوش نصیب) بنانے والی عادات — برائی اور فساد سے خود بچنا اور دوسروں کو روکنا (آیت 116)۔
7 شقی (بدبخت) بنانے والی عادات — نماز اور اللہ کے ذکر سے غفلت۔
8 شقی (بدبخت) بنانے والی عادات — جھوٹ، دھوکا اور ناپ تول (لین دین) میں کمی۔
9 شقی (بدبخت) بنانے والی عادات — ظالموں کی طرف جھکاؤ اور ان کی صحبت (آیت 113)۔
10 شقی (بدبخت) بنانے والی عادات — حد سے بڑھنا (آیت 112) اور تکبر کرنا۔
11 شقی (بدبخت) بنانے والی عادات — دنیا کے عیش و عشرت کے پیچھے پڑ کر آخرت کو بھلا دینا (آیت 116)۔
جواب ہر طالب علم اپنی عادات کی فہرست بنا کر دیکھے کہ کون سی عادت کس خانے میں جاتی ہے، اور شقی بنانے والی عادات کو نیکیوں سے بدلنے کا عزم کرے۔
18 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ ھود ۔ آیات 77 تا 83

سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم کے برے اعمال اور ان کے انجام پر مکالمہ کریں۔

1 قومِ لوط کے برے اعمال — بدکاری — یہ قوم بدفعلی (عورتوں کے بجائے مردوں کی طرف رغبت) جیسی بے حیائی میں مبتلا تھی، اور اس سے پہلے بھی برے کام ہی کرتے تھے۔ (آیت 78)
2 قومِ لوط کے برے اعمال — بے حیائی میں دوڑ — سیدنا لوط علیہ السلام کے مہمانوں (فرشتوں) کی طرف بے اختیار دوڑے چلے آئے۔ (آیت 78)
3 قومِ لوط کے برے اعمال — نصیحت کا انکار — سیدنا لوط علیہ السلام نے فرمایا: «یہ میری (قوم کی) بیٹیاں تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں؛ اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔» مگر انھوں نے کہا: «تم جانتے ہو کہ ہمیں تمھاری بیٹیوں کی کوئی ضرورت نہیں۔» (آیات 78، 79)
4 قومِ لوط کے برے اعمال — داعی کو بے بس کرنا — سیدنا لوط علیہ السلام نے (بے بسی سے) فرمایا: کاش میرے پاس تمھارے مقابلے کی قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا! (آیت 80)
5 انجام — فرشتوں نے کہا: اے لوط! ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں؛ یہ لوگ ہرگز آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ آپ رات کے ایک حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جائیں اور آپ کی بیوی (جو کافروں کے ساتھ تھی) پر بھی وہی عذاب آئے گا۔ (آیت 81)
6 انجام — جب اللہ کا حکم آ گیا تو ہم نے اس بستی کے اوپر والے حصے کو نیچے کر دیا (الٹ دیا)۔ (آیت 82)
7 انجام — ان پر تہ بہ تہ، پکی مٹی کے نشان لگے ہوئے پتھر برسائے گئے۔ (آیات 82، 83)
8 انجام — اور یہ (بستیاں) ظالموں سے کچھ دور نہیں — یعنی ہر ظالم کو اس انجام سے ڈرنا چاہیے۔ (آیت 83)
9 مکالمے کے لیے نکات — بے حیائی جب اجتماعی ڈھٹائی بن جائے تو قومیں عذاب کی مستحق ٹھہرتی ہیں۔
10 مکالمے کے لیے نکات — داعی کا کام نصیحت ہے؛ نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
11 مکالمے کے لیے نکات — عذاب سے صرف ایمان اور اطاعت والے بچائے جاتے ہیں، رشتہ داری کام نہیں آتی (سیدنا لوط علیہ السلام کی بیوی)۔
19 سرگرمیاں برائے طلبہ

سُوْرَةُ هُوْد سے کوئی تین فعل ماضی معروف تلاش کر کے گردان تحریر کریں اور مذاکرہ کریں۔

سبق کی «آسان عربی گرامر» میں «كِتَابَةٌ» (لکھنا) مصدر سے فعل ماضی کی گردان دی گئی ہے۔ اسی نمونے پر سورۃ ھود سے تین فعل ماضی معروف کی گردان درج ذیل ہے:

1 نمونہ: كَتَبَ (اس نے لکھا) کی گردان — غائب مذکر — كَتَبَ (واحد)، كَتَبَا (تثنیہ)، كَتَبُوْا (جمع)
2 نمونہ: كَتَبَ (اس نے لکھا) کی گردان — غائب مؤنث — كَتَبَتْ (واحد)، كَتَبَتَا (تثنیہ)، كَتَبْنَ (جمع)
3 نمونہ: كَتَبَ (اس نے لکھا) کی گردان — حاضر مذکر — كَتَبْتَ (واحد)، كَتَبْتُمَا (تثنیہ)، كَتَبْتُمْ (جمع)
4 نمونہ: كَتَبَ (اس نے لکھا) کی گردان — حاضر مؤنث — كَتَبْتِ (واحد)، كَتَبْتُمَا (تثنیہ)، كَتَبْتُنَّ (جمع)
5 نمونہ: كَتَبَ (اس نے لکھا) کی گردان — متکلم — كَتَبْتُ (واحد مذکر و مؤنث)، كَتَبْنَا (تثنیہ و جمع)
6 1۔ ظَلَمُوٓاْ — ظَلَمَ (اس نے ظلم کیا) — سورۃ ھود میں: «وَلٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ» (آیت 101)۔
7 1۔ ظَلَمُوٓاْ — ظَلَمَ (اس نے ظلم کیا) — غائب مذکر — ظَلَمَ، ظَلَمَا، ظَلَمُوْا
8 1۔ ظَلَمُوٓاْ — ظَلَمَ (اس نے ظلم کیا) — غائب مؤنث — ظَلَمَتْ، ظَلَمَتَا، ظَلَمْنَ
9 1۔ ظَلَمُوٓاْ — ظَلَمَ (اس نے ظلم کیا) — حاضر مذکر — ظَلَمْتَ، ظَلَمْتُمَا، ظَلَمْتُمْ
10 1۔ ظَلَمُوٓاْ — ظَلَمَ (اس نے ظلم کیا) — حاضر مؤنث — ظَلَمْتِ، ظَلَمْتُمَا، ظَلَمْتُنَّ
11 1۔ ظَلَمُوٓاْ — ظَلَمَ (اس نے ظلم کیا) — متکلم — ظَلَمْتُ، ظَلَمْنَا
12 2۔ سَبَقَتۡ — سَبَقَ (وہ پہلے ہو چکا) — سورۃ ھود میں: «وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ» (آیت 110)؛ یہاں صیغہ واحد مؤنث غائب ہے۔
13 2۔ سَبَقَتۡ — سَبَقَ (وہ پہلے ہو چکا) — غائب مذکر — سَبَقَ، سَبَقَا، سَبَقُوْا
14 2۔ سَبَقَتۡ — سَبَقَ (وہ پہلے ہو چکا) — غائب مؤنث — سَبَقَتْ، سَبَقَتَا، سَبَقْنَ
15 2۔ سَبَقَتۡ — سَبَقَ (وہ پہلے ہو چکا) — حاضر مذکر — سَبَقْتَ، سَبَقْتُمَا، سَبَقْتُمْ
16 2۔ سَبَقَتۡ — سَبَقَ (وہ پہلے ہو چکا) — حاضر مؤنث — سَبَقْتِ، سَبَقْتُمَا، سَبَقْتُنَّ
17 2۔ سَبَقَتۡ — سَبَقَ (وہ پہلے ہو چکا) — متکلم — سَبَقْتُ، سَبَقْنَا
18 3۔ خَلَقَهُمۡۗ — خَلَقَ (اس نے پیدا کیا) — سورۃ ھود میں: «وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ» (آیت 119)؛ «هُمْ» ضمیرِ مفعول ہے اور فعل «خَلَقَ» واحد مذکر غائب ہے۔
19 3۔ خَلَقَهُمۡۗ — خَلَقَ (اس نے پیدا کیا) — غائب مذکر — خَلَقَ، خَلَقَا، خَلَقُوْا
20 3۔ خَلَقَهُمۡۗ — خَلَقَ (اس نے پیدا کیا) — غائب مؤنث — خَلَقَتْ، خَلَقَتَا، خَلَقْنَ
21 3۔ خَلَقَهُمۡۗ — خَلَقَ (اس نے پیدا کیا) — حاضر مذکر — خَلَقْتَ، خَلَقْتُمَا، خَلَقْتُمْ
22 3۔ خَلَقَهُمۡۗ — خَلَقَ (اس نے پیدا کیا) — حاضر مؤنث — خَلَقْتِ، خَلَقْتُمَا، خَلَقْتُنَّ
23 3۔ خَلَقَهُمۡۗ — خَلَقَ (اس نے پیدا کیا) — متکلم — خَلَقْتُ، خَلَقْنَا
جواب نوٹ: گردان کے یہ صیغے قواعد کے نمونے ہیں؛ قرآنِ کریم میں ان میں سے صرف وہی صورتیں آئی ہیں جن کے حوالے اوپر دیے گئے ہیں۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُۥ فَٱعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ (سورۃ ھود ۔ آیت 123)

توکل کے موضوع پر ایک نوٹ تحریر کریں۔

1 توکل کا مفہوم — توکل کا معنی ہے: تمام جائز اسباب اختیار کرنے کے بعد نتیجے کے لیے صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرنا اور اپنے معاملات اسی کے سپرد کر دینا۔ توکل اسباب چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ اسباب کے ساتھ دل کا سہارا صرف اللہ کی ذات کو بنانے کا نام ہے۔
2 سورۃ ھود میں توکل — سیدنا ہود علیہ السلام — پوری قوم کے مقابلے میں فرمایا: «اِنِّيْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ رَبِّيْ وَرَبِّكُمْ» — بے شک میں نے اللہ پر بھروسا کیا جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی۔ (آیت 56)
3 سورۃ ھود میں توکل — سیدنا شعیب علیہ السلام — دعوت کے ہر مرحلے پر اعلان فرمایا (آیت 88):
4 سورۃ ھود میں توکل — وَمَا تَوۡفِيقِيٓ إِلَّا بِٱللَّهِۚ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ اور مجھے جو توفیق ہے وہ اللہ ہی (کے فضل) سے ہے؛ میں نے اسی پر بھروسا کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ — سورۃ ھود ۔ آیت 88
5 سورۃ ھود میں توکل — نبی کریم ﷺ کو حکم — سورت کے اختتام پر حکم ہوا: «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» — اسی کی عبادت کیجیے اور اسی پر بھروسا کیجیے۔ (آیت 123)
6 ثمرات — دل کو اطمینان اور بے خوفی ملتی ہے؛ داعی پوری قوم کے سامنے بھی نہیں گھبراتا۔
7 ثمرات — انسان مخلوق کی محتاجی اور خوشامد سے آزاد ہو جاتا ہے۔
8 ثمرات — اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کا کافی ہو جاتا ہے اور ان کے کام بنا دیتا ہے۔
21 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّـٰهٞ مُّنِيبٞ

سورۃ ھود میں مذکور انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات، تعلیمات اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر کریں۔

سورۃ ھود میں متعدد انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات بیان ہوئے ہیں؛ ہر واقعے کا خلاصہ اور اس کی تعلیم درج ذیل ہے:

مجموعی اسباق

1 سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 25 تا 49) — ساڑھے نو سو برس دعوتِ توحید دی؛ قوم نے مذاق اڑایا تو حکمِ الٰہی سے کشتی بنائی؛ طوفان میں منکر غرق ہوئے، اہلِ ایمان بچا لیے گئے۔ تعلیم: دعوت میں استقامت اور اللہ کے وعدے پر یقین۔
2 سیدنا ہود علیہ السلام (آیات 50 تا 60) — قومِ عاد کو توحید اور توبہ و استغفار کی دعوت دی؛ قوم نے ضد اور الزام تراشی کی تو تباہ کر دی گئی۔ تعلیم: طاقت اور قوت پر گھمنڈ کرنے والی قومیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتیں۔
3 سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 61 تا 68) — قومِ ثمود کو دعوت دی؛ نشانی کے طور پر اونٹنی دی گئی جسے قوم نے کاٹ ڈالا؛ تین دن بعد چیخ نے انھیں ہلاک کر دیا۔ تعلیم: اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی تباہی کا راستہ ہے۔
4 سیدنا ابراہیم علیہ السلام (آیات 69 تا 76) — فرشتے بشارت لے کر آئے؛ آپ نے مہمانوں کا اکرام کیا (بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا)؛ آپ کو سیدنا اسحاق اور ان کے بعد سیدنا یعقوب علیہما السلام کی خوش خبری دی گئی۔ تعلیم: مہمان نوازی، بردباری اور نرم دلی انبیاء کی صفات ہیں۔
5 سیدنا لوط علیہ السلام (آیات 77 تا 83) — قوم بے حیائی میں مبتلا تھی اور باز نہ آئی؛ بستی الٹ دی گئی اور پتھر برسائے گئے۔ تعلیم: بے حیائی اجتماعی عذاب کو دعوت دیتی ہے۔
6 سیدنا شعیب علیہ السلام (آیات 84 تا 95) — اہلِ مدین کو توحید کے ساتھ ناپ تول پورا کرنے اور فساد سے بچنے کا حکم دیا؛ انکار پر چیخ نے انھیں پکڑ لیا۔ تعلیم: عبادت کے ساتھ معاملات کی درستی بھی دین کا حصہ ہے۔
7 سیدنا موسیٰ علیہ السلام (آیات 96 تا 99) — واضح نشانیوں کے ساتھ فرعون کی طرف بھیجے گئے؛ فرعون کے پیروکار قیامت کے دن اس کے پیچھے جہنم میں اتریں گے۔ تعلیم: باطل سرداروں کی پیروی دنیا اور آخرت دونوں میں لعنت کا سبب ہے۔
8 ہر نبی کی دعوت کا نکتۂ آغاز توحید ہے: «اعْبُدُوا اللهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ»۔
9 جھٹلانے والی قوموں کا انجام ہلاکت ہے، اور اہلِ ایمان ہر بار بچا لیے گئے۔
10 یہ قصے نبی کریم ﷺ کے دل کی تقویت اور مومنوں کی نصیحت کے لیے بیان ہوئے ہیں۔ (آیت 120)
22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ يُرۡجَعُ ٱلۡأَمۡرُ كُلُّهُۥ فَٱعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ (سورۃ ھود ۔ آیات 105 تا 115)

ایک مضمون تحریر کریں جس میں سعید شخص کی زندگی کے خصائل اور شقی شخص کے رذائل اور ان سے بچنے کے اقدامات تحریر کریں۔

1 تمہید — سورۃ ھود (آیات 105 تا 108) میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ دو ہی گروہوں میں ہوں گے: شقی (بدنصیب) اور سعید (خوش نصیب)۔ شقی جہنم میں چیختے دھاڑتے ہوں گے اور سعید جنت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتوں میں ہوں گے۔ دراصل یہ دونوں انجام دنیا کی زندگی کے طرزِ عمل کا نتیجہ ہیں۔
2 سعید شخص کے خصائل — ایمان اور استقامت — وہ ایمان لا کر حکمِ الٰہی کے مطابق ثابت قدم رہتا ہے۔ (آیت 112)
3 سعید شخص کے خصائل — نماز کی پابندی — دن کے دونوں کناروں اور رات کے حصوں میں نماز قائم کرتا ہے۔ (آیت 114)
4 سعید شخص کے خصائل — نیکیوں سے برائیوں کا ازالہ — غلطی ہو جائے تو فوراً نیکی اور توبہ سے اس کا اثر مٹاتا ہے۔ (آیت 114)
5 سعید شخص کے خصائل — صبر اور احسان — صبر کرتا ہے، اور اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔ (آیت 115)
6 سعید شخص کے خصائل — اصلاح اور نہی عن المنکر — خود اچھا ہونے کے ساتھ زمین میں فساد سے روکنے والا ہے۔ (آیت 116)
7 شقی شخص کے رذائل — کفر و ناشکری — اللہ کی نعمتوں پر ناشکری اور اس کے احکام کا انکار۔
8 شقی شخص کے رذائل — ظالموں کی طرف جھکاؤ — ظالموں پر بھروسا اور ان کی صحبت، جس پر جہنم کی آگ کی وعید ہے۔ (آیت 113)
9 شقی شخص کے رذائل — حد سے تجاوز — اللہ کی مقرر کردہ حدوں سے بڑھ جانا۔ (آیت 112)
10 شقی شخص کے رذائل — عیش پرستی — دنیا کے عیش و عشرت کے پیچھے پڑ کر آخرت کو بھلا دینا۔ (آیت 116)
11 شقی شخص کے رذائل — نماز اور ذکر سے غفلت — جس سے دل سخت اور برائی آسان ہو جاتی ہے۔
12 رذائل سے بچنے کے اقدامات — عقیدۂ توحید کی مضبوطی اور اللہ تعالیٰ پر توکل۔
13 رذائل سے بچنے کے اقدامات — نماز کی پابندی، کیوں کہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
14 رذائل سے بچنے کے اقدامات — گناہ پر فوری توبہ و استغفار۔
15 رذائل سے بچنے کے اقدامات — نیک صحبت اختیار کرنا اور ظالموں و بدکاروں کی صحبت سے بچنا۔
16 رذائل سے بچنے کے اقدامات — سابقہ اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کرنا۔
جواب خلاصہ — سعادت اور شقاوت کا فیصلہ اسی دنیا کے اعمال سے ہوتا ہے۔ جو شخص ایمان، نماز، صبر اور اصلاح کی راہ اختیار کرے وہ سعید ہے، اور جو ظلم، بے حیائی اور غفلت کی راہ چلے وہ شقی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سعادت والوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.