ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 21: سبق 21: سورۃ القارعۃ اور سورۃ التکاثر — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 21 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

ٱلۡقَارِعَةُ (سورۃ القارعۃ ۔ آیت 1)

«اَلْقَارِعَة» کے معنی ہیں:

الف) بھڑکتی ہوئی آگ • ب) کھڑکھڑانے والی • ج) قرآن مجید پڑھنے والی • د) لرزنے والی

جواب ب) کھڑکھڑانے والی — ذخیرۂ الفاظ میں «اَلْقَارِعَة» کا معنی ہے: کھڑکھڑانے والی — قیامت کا ایک نام، جو اپنی ہول ناکی سے دلوں کو کھڑکھڑا دے گی۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

يَوۡمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلۡفَرَاشِ ٱلۡمَبۡثُوثِ (سورۃ القارعۃ ۔ آیت 4)

«كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ» آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت والے دن انسانوں کی کیفیت ہو گی جیسے:

الف) اڑتے ہوئے پہاڑ • ب) دھنکی ہوئی اون • ج) بکھرے ہوئے پتنگے • د) کھایا ہوا بھس

جواب ج) بکھرے ہوئے پتنگے — «اَلْفَرَاش» پروانوں (پتنگوں) کو اور «اَلْمَبْثُوْث» بکھرے ہوئے کو کہتے ہیں: اس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

وَتَكُونُ ٱلۡجِبَالُ كَٱلۡعِهۡنِ ٱلۡمَنفُوشِ (سورۃ القارعۃ ۔ آیت 5)

«وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ» کی رو سے قیامت کے دن پہاڑ ہوں گے جیسے:

الف) اڑتے ہوئے غبار • ب) دھنکی ہوئی رنگین اون • ج) بکھرے ہوئے پتنگے • د) بکھرے ہوئے پھول

جواب ب) دھنکی ہوئی رنگین اون — «اَلْعِهْن» رنگین اون کو اور «اَلْمَنْفُوْش» دھنکی ہوئی کو کہتے ہیں: پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

«اَلتَّكَاثُر» کے معنی ہیں:

الف) مال جمع کرنے کی خواہش • ب) صدقہ کرنے کی خواہش • ج) نفل پڑھنے کی خواہش • د) روزہ رکھنے کی خواہش

جواب الف) مال جمع کرنے کی خواہش — ذخیرۂ الفاظ میں «اَلتَّكَاثُر» کا معنی ہے: زیادہ (مال) کی خواہش — یعنی مال و دولت کی کثرت کو کثرت سے طلب کرنا۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

أَلۡهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ حَتَّىٰ زُرۡتُمُ ٱلۡمَقَابِرَ (سورۃ التکاثر ۔ آیات 1 تا 2)

«اَلْهٰكُمُ التَّكَاثُرُ ۔ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ» کی رو سے مال زیادہ جمع کرنے کی خواہش جاری رہتی ہے:

الف) جوانی تک • ب) بڑھاپے تک • ج) قبر تک • د) لڑکپن تک

جواب ج) قبر تک — آیت کا ترجمہ ہے: بہت زیادہ (مال) کی خواہش نے تمھیں غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے — یعنی یہ خواہش قبر تک جاری رہتی ہے۔
6 کثیر الانتخابی سوالات

كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ (سورۃ التکاثر ۔ آیت 3)

«تَعْلَمُوْنَ» عربی قواعد کے اعتبار سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) مصدر

جواب ب) فعل — «تَعْلَمُوْنَ» (تم جان لو گے) فعل مضارع ہے: اس میں جاننے کا کام زمانۂ مستقبل میں پایا جاتا ہے۔

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

يَوۡمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلۡفَرَاشِ ٱلۡمَبۡثُوثِ (سورۃ القارعۃ ۔ آیت 4)

«يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن انسانوں کی کیا کیفیت ہو گی؟

ترجمہ

جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔

جواب قیامت کے دن انسانوں کی یہ کیفیت ہو گی کہ وہ گھبراہٹ اور بدحواسی میں بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح (ادھر اُدھر) پھر رہے ہوں گے — جیسے پروانے روشنی پر بے سمت گرتے ہیں، ویسے ہی لوگ ہول کے مارے بے قابو ہوں گے۔
8 مختصر جوابات

فَأَمَّا مَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ (سورۃ القارعۃ ۔ آیات 6 تا 7)

«فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ ۔ فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ» — آیاتِ کریمہ کی رو سے آخرت کی پسندیدہ زندگی کا کیا سبب بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

تو وہ شخص جس کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے۔ تو وہ خوش گوار پسندیدہ زندگی میں ہو گا۔

جواب آخرت کی پسندیدہ زندگی کا سبب نیک اعمال کے پلڑوں کا بھاری ہونا بیان ہوا ہے: جس کی نیکیاں میزانِ عدل میں وزنی ثابت ہوں گی، وہی خوش گوار پسندیدہ زندگی (جنت) میں ہو گا۔
9 مختصر جوابات

فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٞ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا هِيَهۡ نَارٌ حَامِيَةُۢ (سورۃ القارعۃ ۔ آیات 9 تا 11)

«فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ ۔ وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا هِيَهْ ۔ نَارٌ حَامِيَةٌ» — ان آیاتِ کریمہ میں «ہاویہ» کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

تو اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ کیا ہے؟ (وہ بے حد بھڑکتی ہوئی) گرم آگ ہے۔

جواب «ہاویہ» کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ ان لوگوں کا ٹھکانا ہے جن کے (نیک اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے (آیت 8)، اور یہ بے حد بھڑکتی ہوئی گرم آگ ہے — جہنم کا گہرا گڑھا، جس میں وہ اوندھے گرائے جائیں گے۔
10 مختصر جوابات

أَلۡهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ (سورۃ التکاثر ۔ آیت 1)

«اَلْهٰكُمُ التَّكَاثُرُ» — آیتِ کریمہ کی رو سے انسان کو غفلت میں ڈالنے والا کون سا عمل ہے؟

ترجمہ

بہت زیادہ (مال) کی خواہش نے تمھیں غافل کر دیا۔

جواب انسان کو غفلت میں ڈالنے والا عمل «تکاثر» ہے: مال و دولت (اور دنیاوی چیزوں) کی کثرت کی خواہش اور ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی دوڑ — یہی مشغلہ انسان کو آخرت کی تیاری سے غافل کر دیتا ہے۔
11 مختصر جوابات

ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ (سورۃ التکاثر ۔ آیت 8)

«ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيْمِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن انسان سے کس چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا؟

ترجمہ

پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا۔

جواب قیامت کے دن انسان سے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا: صحت، رزق، پانی، امن، وقت اور دیگر نعمتیں کہاں اور کیسے استعمال کیں — کیوں کہ دنیا کی نعمتیں امتحان کا ذریعہ ہیں۔
12 مختصر جوابات

سُوْرَةُ الْقَارِعَةِ اور سُوْرَةُ التَّكَاثُرِ میں استعمال ہونے والے کوئی سے تین اسماء اور تین افعال تلاش کر کے تحریر کریں۔

تین اسماء اور تین افعال

1 تین اسماء — 1 — «ٱلۡقَارِعَةُ» — کھڑکھڑانے والی (قیامت)۔ (القارعۃ: 1)
2 تین اسماء — 2 — «ٱلۡجِبَالُ» — پہاڑ۔ (القارعۃ: 5)
3 تین اسماء — 3 — «ٱلۡمَقَابِرَ» — قبریں۔ (التکاثر: 2)
4 تین افعال — 1 — «يَكُونُ» — ہوں گے؛ فعل مضارع۔ (القارعۃ: 4)
5 تین افعال — 2 — «ثَقُلَتۡ» — بھاری ہوئے؛ فعل ماضی۔ (القارعۃ: 6)
6 تین افعال — 3 — «زُرۡتُمُ» — تم پہنچ گئے؛ فعل ماضی۔ (التکاثر: 2)

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

ٱلۡقَارِعَةُ مَا ٱلۡقَارِعَةُ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡقَارِعَةُ (سورۃ القارعۃ ۔ آیات 1 تا 3)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

کھڑکھڑانے والی۔ کیا ہے کھڑکھڑانے والی؟ اور آپ کو کیا معلوم کہ کیا ہے کھڑکھڑانے والی؟

جواب قیامت کا ایک نام "القارعۃ" ہے، یعنی کھڑکھڑا دینے والی — وہ دن جو اپنی ہولناکی سے دلوں کو دہلا دے گا۔ اللہ نے سوال کے انداز میں فرمایا کہ وہ کھڑکھڑا دینے والی کیا ہے؟ پھر دوبارہ پوچھا کہ تمہیں کیا معلوم کہ وہ کھڑکھڑا دینے والی کیا ہے؟ بار بار سوال کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سننے والے کے دل میں اُس دن کی عظمت اور خوف بیٹھ جائے۔ سبق یہ ہے کہ قیامت کوئی معمولی دن نہیں، اِس لیے اُس کی تیاری کرنی چاہیے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْقَارِعَةِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — اس سورت کی ابتدا لفظ «اَلْقَارِعَة» (کھڑکھڑانے والی) سے ہوئی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلْقَارِعَة» ہے۔
2 مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 11 آیات ہیں۔
جواب مرکزی مضمون — روزِ قیامت کی ہول ناکی کا بیان۔
15 تفصیلی جوابات

أَلۡهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ حَتَّىٰ زُرۡتُمُ ٱلۡمَقَابِرَ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ (سورۃ التکاثر ۔ آیات 1 تا 4)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

بہت زیادہ (مال) کی خواہش نے تمھیں غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔ ہرگز (مال کام) نہیں (آئے گا)، تم جلد ہی (یہ حقیقت) جان لو گے۔ پھر ہرگز (مال کام) نہیں (آئے گا)، تم جلد ہی (اپنا انجام) جان لو گے۔

جواب اللہ نے انسان کی ایک بڑی کمزوری بتائی کہ زیادہ مال اور زیادہ گنتی کی ہوس نے تمہیں غفلت میں ڈال دیا۔ لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں اور اللہ کو بھول جاتے ہیں۔ یہ غفلت اُس وقت تک رہتی ہے جب تک تم قبروں میں نہ پہنچ جاؤ، یعنی موت آنکھیں کھول دیتی ہے۔ پھر دو بار تنبیہ کی گئی کہ ہرگز نہیں، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔ سبق یہ ہے کہ مال جمع کرنا اور ایک دوسرے پر فخر کرنا زندگی کا مقصد نہیں — اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ التَّكَاثُرِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فرامینِ نبوی ﷺ

1 تعارف — نام کی وجہ — اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ «تَكَاثُر» (مال و دولت کی کثرت کو کثرت سے طلب کرنا) آیا ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلتَّكَاثُر» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 8 آیات ہیں۔
3 فرامینِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا (اور اس کے مال و اسباب) سے بچاتا ہے، حالاں کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے — اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے تم اپنے بیمار آدمی کو ڈرتے ہوئے کھانے پینے سے بچاتے ہو۔» (جامع ترمذی: 2036)
4 فرامینِ نبوی ﷺ — نبی اکرم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس (ایسی) دو وادیاں ہو جائیں، اور انسان کا منہ (قبر کی) مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی، اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے جو توبہ کرے۔» سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ان الفاظ کو قرآن مجید کا حصہ ہی سمجھتے تھے، یہاں تک کہ آیت «اَلْهٰكُمُ التَّكَاثُرُ» نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری: 6439، 6440)
جواب مرکزی مضمون — کثرت کی ہوس اور اس کا انجام۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْقَارِعَةِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ القارعۃ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 قیامت کی ہول ناکی کا بیان۔
2 میدانِ حشر اور میزانِ عدل کا بیان۔
3 نیکو کاروں اور بدکاروں کے انجام کا تذکرہ۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ التَّكَاثُرِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ التکاثر کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 مال و دولت سے انسان کی بے پناہ محبت اور آخرت سے غفلت کا ذکر۔
2 آخرت سے غافل انسان کو برے انجام سے ڈرانے کا بیان۔
3 دنیوی نعمتوں کے بارے میں آخرت کے دن پوچھے جانے کا ذکر۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

فَأَمَّا مَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ وَأَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٞ (سورۃ القارعۃ ۔ آیات 6 تا 9)

قیامت کے دن ہمارے اعمال تولے جائیں گے — اس بات پر اپنے ہم جماعتوں سے مذاکرہ کریں۔

ترجمہ

تو وہ شخص جس کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے۔ تو وہ خوش گوار پسندیدہ زندگی میں ہو گا۔ اور وہ شخص جس کے (نیک اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے۔ تو اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے۔

مذاکرے (اور مضمون) کے لیے اہم نکات:

1 میزانِ عدل — قیامت کے دن اعمال تولنے کے لیے میزانِ عدل قائم کی جائے گی: یہ تول مکمل انصاف پر ہو گی اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا۔
2 پلڑوں کا فیصلہ — جس کے نیک اعمال کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ پسندیدہ زندگی (جنت) میں ہو گا؛ جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے اس کا ٹھکانا ہاویہ (بھڑکتی آگ) ہے۔
3 ذرہ برابر بھی — گزشتہ سبق کی سورۃ الزلزال میں گزرا کہ ذرہ برابر نیکی اور ذرہ برابر برائی بھی سامنے آ جائے گی — چنانچہ تول میں چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی شامل ہو گا۔
4 عملی نتیجہ — دنیا میں کیے گئے اعمال کا نتیجہ آخرت میں ضرور نکلے گا؛ لہٰذا نیکیوں سے پلڑا بھاری کرنے کی کوشش کی جائے اور اخلاص اختیار کیا جائے، کیوں کہ وزن اخلاص اور تقویٰ سے بڑھتا ہے۔
جواب مذاکرے میں ہر ساتھی ایک ایک نکتہ بیان کرے اور آخر میں سب مل کر یہ عہد کریں کہ کسی نیکی کو چھوٹا نہیں سمجھیں گے۔
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

قبر میں پوچھے جانے والے تین سوالات معلوم کر کے تحریر کریں۔

احادیثِ مبارکہ کے مطابق قبر میں منکر نکیر فرشتے میت سے تین سوالات کریں گے:

1 پہلا سوال — تیرا رب کون ہے؟ — مومن جواب دے گا: میرا رب اللہ ہے۔
2 دوسرا سوال — تیرا دین کیا ہے؟ — مومن جواب دے گا: میرا دین اسلام ہے۔
3 تیسرا سوال — یہ شخص کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے؟ — مومن جواب دے گا: یہ اللہ کے رسول محمد ﷺ ہیں۔
جواب یہ جواب رٹنے سے نہیں، ایمان اور عمل سے نصیب ہوتے ہیں: اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو (قبر میں) ثابت قدم رکھتا ہے۔ (مفہومِ حدیث — سنن ابی داود)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

21 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَتَكُونُ ٱلۡجِبَالُ كَٱلۡعِهۡنِ ٱلۡمَنفُوشِ (سورۃ القارعۃ ۔ آیت 5)

پہاڑ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں: پہاڑوں کی اہمیت کے بارے میں تحریر کریں۔

ترجمہ

اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔

قیامت کے دن یہ عظیم الشان پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی طرح اڑ جائیں گے — یہی منظر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ آج ان کی اہمیت پر غور کریں، جو اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں:

1 زمین کی میخیں — اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین میں میخوں کی طرح گاڑا ہے: «وَٱلۡجِبَالَ أَوۡتَادٗا» — اور پہاڑوں کو میخیں (بنایا)۔ (سورۃ النبأ ۔ آیت 7) — یہ زمین کو ڈگمگانے سے روکتے ہیں۔
2 پانی کے ذخیرے — پہاڑوں پر برف اور گلیشیئر جمع رہتے ہیں، جن سے چشمے، ندیاں اور دریا جاری ہوتے ہیں — ہمارے ملک کے دریاؤں کا پانی انہی پہاڑوں کی دین ہے۔
3 معدنیات اور پتھر — کوئلہ، نمک، ماربل، قیمتی پتھر اور دھاتیں پہاڑوں ہی سے نکلتی ہیں؛ تعمیرات کا سامان بھی یہیں سے ملتا ہے۔
4 آب و ہوا اور بارش — پہاڑ بادلوں کو روک کر بارش کا سبب بنتے ہیں اور علاقوں کی آب و ہوا کو معتدل رکھتے ہیں؛ ان پر جنگلات اور چراگاہیں ہیں۔
5 پناہ اور دفاع — پہاڑ قدرتی حفاظتی دیوار ہیں: سرحدوں کا دفاع اور جان داروں کی پناہ گاہیں انہی سے وابستہ ہیں۔
6 عبرت اور معرفت — ان کی عظمت اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے — سورۃ الغاشیۃ میں پہاڑوں کے گاڑے جانے پر غور کی دعوت دی گئی ہے۔ (سبق 14)
جواب جو ذات ان عظیم پہاڑوں کو اون کی طرح اڑا دینے پر قادر ہے، اسی کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور اس کے حضور جواب دہی کی تیاری کرنا ہی عقل مندی ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.