ٱلۡقَارِعَةُ (سورۃ القارعۃ ۔ آیت 1)
«اَلْقَارِعَة» کے معنی ہیں:
الف) بھڑکتی ہوئی آگ • ب) کھڑکھڑانے والی • ج) قرآن مجید پڑھنے والی • د) لرزنے والی
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
ٱلۡقَارِعَةُ (سورۃ القارعۃ ۔ آیت 1)
«اَلْقَارِعَة» کے معنی ہیں:
الف) بھڑکتی ہوئی آگ • ب) کھڑکھڑانے والی • ج) قرآن مجید پڑھنے والی • د) لرزنے والی
يَوۡمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلۡفَرَاشِ ٱلۡمَبۡثُوثِ (سورۃ القارعۃ ۔ آیت 4)
«كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ» آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت والے دن انسانوں کی کیفیت ہو گی جیسے:
الف) اڑتے ہوئے پہاڑ • ب) دھنکی ہوئی اون • ج) بکھرے ہوئے پتنگے • د) کھایا ہوا بھس
وَتَكُونُ ٱلۡجِبَالُ كَٱلۡعِهۡنِ ٱلۡمَنفُوشِ (سورۃ القارعۃ ۔ آیت 5)
«وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ» کی رو سے قیامت کے دن پہاڑ ہوں گے جیسے:
الف) اڑتے ہوئے غبار • ب) دھنکی ہوئی رنگین اون • ج) بکھرے ہوئے پتنگے • د) بکھرے ہوئے پھول
«اَلتَّكَاثُر» کے معنی ہیں:
الف) مال جمع کرنے کی خواہش • ب) صدقہ کرنے کی خواہش • ج) نفل پڑھنے کی خواہش • د) روزہ رکھنے کی خواہش
أَلۡهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ حَتَّىٰ زُرۡتُمُ ٱلۡمَقَابِرَ (سورۃ التکاثر ۔ آیات 1 تا 2)
«اَلْهٰكُمُ التَّكَاثُرُ ۔ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ» کی رو سے مال زیادہ جمع کرنے کی خواہش جاری رہتی ہے:
الف) جوانی تک • ب) بڑھاپے تک • ج) قبر تک • د) لڑکپن تک
كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ (سورۃ التکاثر ۔ آیت 3)
«تَعْلَمُوْنَ» عربی قواعد کے اعتبار سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) مصدر
يَوۡمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلۡفَرَاشِ ٱلۡمَبۡثُوثِ (سورۃ القارعۃ ۔ آیت 4)
«يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن انسانوں کی کیا کیفیت ہو گی؟
جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ (سورۃ القارعۃ ۔ آیات 6 تا 7)
«فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ ۔ فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ» — آیاتِ کریمہ کی رو سے آخرت کی پسندیدہ زندگی کا کیا سبب بیان ہوا ہے؟
تو وہ شخص جس کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے۔ تو وہ خوش گوار پسندیدہ زندگی میں ہو گا۔
فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٞ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا هِيَهۡ نَارٌ حَامِيَةُۢ (سورۃ القارعۃ ۔ آیات 9 تا 11)
«فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ ۔ وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا هِيَهْ ۔ نَارٌ حَامِيَةٌ» — ان آیاتِ کریمہ میں «ہاویہ» کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟
تو اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ کیا ہے؟ (وہ بے حد بھڑکتی ہوئی) گرم آگ ہے۔
أَلۡهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ (سورۃ التکاثر ۔ آیت 1)
«اَلْهٰكُمُ التَّكَاثُرُ» — آیتِ کریمہ کی رو سے انسان کو غفلت میں ڈالنے والا کون سا عمل ہے؟
بہت زیادہ (مال) کی خواہش نے تمھیں غافل کر دیا۔
ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ (سورۃ التکاثر ۔ آیت 8)
«ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيْمِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن انسان سے کس چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا؟
پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا۔
سُوْرَةُ الْقَارِعَةِ اور سُوْرَةُ التَّكَاثُرِ میں استعمال ہونے والے کوئی سے تین اسماء اور تین افعال تلاش کر کے تحریر کریں۔
تین اسماء اور تین افعال
ٱلۡقَارِعَةُ مَا ٱلۡقَارِعَةُ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡقَارِعَةُ (سورۃ القارعۃ ۔ آیات 1 تا 3)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
کھڑکھڑانے والی۔ کیا ہے کھڑکھڑانے والی؟ اور آپ کو کیا معلوم کہ کیا ہے کھڑکھڑانے والی؟
سُوْرَةُ الْقَارِعَةِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف
أَلۡهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ حَتَّىٰ زُرۡتُمُ ٱلۡمَقَابِرَ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُونَ (سورۃ التکاثر ۔ آیات 1 تا 4)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
بہت زیادہ (مال) کی خواہش نے تمھیں غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔ ہرگز (مال کام) نہیں (آئے گا)، تم جلد ہی (یہ حقیقت) جان لو گے۔ پھر ہرگز (مال کام) نہیں (آئے گا)، تم جلد ہی (اپنا انجام) جان لو گے۔
سُوْرَةُ التَّكَاثُرِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فرامینِ نبوی ﷺ
سُوْرَةُ الْقَارِعَةِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ القارعۃ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ التَّكَاثُرِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ التکاثر کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ وَأَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٞ (سورۃ القارعۃ ۔ آیات 6 تا 9)
قیامت کے دن ہمارے اعمال تولے جائیں گے — اس بات پر اپنے ہم جماعتوں سے مذاکرہ کریں۔
تو وہ شخص جس کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے۔ تو وہ خوش گوار پسندیدہ زندگی میں ہو گا۔ اور وہ شخص جس کے (نیک اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے۔ تو اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے۔
مذاکرے (اور مضمون) کے لیے اہم نکات:
قبر میں پوچھے جانے والے تین سوالات معلوم کر کے تحریر کریں۔
احادیثِ مبارکہ کے مطابق قبر میں منکر نکیر فرشتے میت سے تین سوالات کریں گے:
وَتَكُونُ ٱلۡجِبَالُ كَٱلۡعِهۡنِ ٱلۡمَنفُوشِ (سورۃ القارعۃ ۔ آیت 5)
پہاڑ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں: پہاڑوں کی اہمیت کے بارے میں تحریر کریں۔
اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔
قیامت کے دن یہ عظیم الشان پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی طرح اڑ جائیں گے — یہی منظر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ آج ان کی اہمیت پر غور کریں، جو اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔