«اَلزِّلْزَال» کے معنی ہیں:
الف) تیز آندھی • ب) شدید زلزلہ • ج) سمندری طوفان • د) سخت گرج
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
«اَلزِّلْزَال» کے معنی ہیں:
الف) تیز آندھی • ب) شدید زلزلہ • ج) سمندری طوفان • د) سخت گرج
يَوۡمَئِذٖ يَصۡدُرُ ٱلنَّاسُ أَشۡتَاتٗا لِّيُرَوۡاْ أَعۡمَٰلَهُمۡ (سورۃ الزلزال ۔ آیت 6)
«اَشْتَاتًا» کے معنی ہیں:
الف) گروہ در گروہ • ب) فرداً فرداً • ج) جوڑا جوڑا • د) ایک ساتھ
يَوۡمَئِذٖ تُحَدِّثُ أَخۡبَارَهَا (سورۃ الزلزال ۔ آیت 4)
سُوْرَةُ الزِّلْزَالِ میں انسانی اعمال پر گواہی دینے کا ذکر ہے:
الف) جسمانی اعضا کی • ب) فرشتوں کی • ج) زمین کی • د) لوگوں کی
فَٱلۡمُورِيَٰتِ قَدۡحٗا (سورۃ العادیات ۔ آیت 2)
«فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا» میں گھوڑوں کی قسم ہے جو استعمال ہوتے ہیں:
الف) میدانِ جہاد میں • ب) تجارتی قافلوں میں • ج) میدانِ دوڑ میں • د) شاہی سواریوں میں
إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ (سورۃ العادیات ۔ آیت 6)
«اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ» میں انسان کو کہا گیا ہے:
الف) بے صبرا • ب) جلد باز • ج) ناشکرا • د) نافرمان
وَحُصِّلَ مَا فِي ٱلصُّدُورِ (سورۃ العادیات ۔ آیت 10)
سُوْرَةُ الْعٰدِيٰتِ میں آخرت کے دن ظاہر کر دیے جانے کا ذکر ہے:
الف) اعمال ناموں کا • ب) زمین کے خزانوں کا • ج) سینوں کے رازوں کا • د) کاغذات کا
وَأَخۡرَجَتِ ٱلۡأَرۡضُ أَثۡقَالَهَا (سورۃ الزلزال ۔ آیت 2)
«وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا» — آیتِ کریمہ کی روشنی میں قیامت کا منظر بیان کریں۔
اور زمین اپنے (اندر کے) تمام بوجھ باہر نکال پھینکے گی۔
بِأَنَّ رَبَّكَ أَوۡحَىٰ لَهَا (سورۃ الزلزال ۔ آیت 5)
«بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا» — آیتِ کریمہ کی روشنی میں بتائیں کہ زمین اپنی خبریں کیوں بیان کرے گی؟
اس لیے کہ آپ کے رب نے اسے (یہی) حکم دیا ہو گا۔
وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ (سورۃ الزلزال ۔ آیت 8)
«وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ» — آیتِ کریمہ میں گناہ کے متعلق کیا کیفیت بیان ہوئی ہے؟
اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔
إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٞ (سورۃ العادیات ۔ آیات 6 تا 7)
«اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ ۔ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ» — آیاتِ کریمہ میں انسان کے متعلق کیا بتایا گیا ہے؟
بے شک انسان اپنے رب کا یقیناً بڑا ناشکرا ہے۔ اور بے شک وہ خود اس (ناشکری) پر یقیناً گواہ ہے۔
وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلۡخَيۡرِ لَشَدِيدٌ (سورۃ العادیات ۔ آیت 8)
«وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ» — آیتِ کریمہ میں انسان کی کس فطری کمزوری کو بیان کیا گیا ہے؟
اور بے شک وہ مال کی محبت میں یقیناً بہت سخت ہے۔
وَحُصِّلَ مَا فِي ٱلصُّدُورِ (سورۃ العادیات ۔ آیت 10)
«وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ» — آیتِ کریمہ میں سے اسم، فعل اور حرف الگ کریں۔
اور جو (بھید) سینوں میں (چھپے راز) ہیں انھیں ظاہر کر دیا جائے گا۔
يَوۡمَئِذٖ يَصۡدُرُ ٱلنَّاسُ أَشۡتَاتٗا لِّيُرَوۡاْ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ (سورۃ الزلزال ۔ آیات 6 تا 8)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اس دن لوگ گروہ در گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ انھیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔
سُوْرَةُ الزِّلْزَالِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فضیلت
وَٱلۡعَٰدِيَٰتِ ضَبۡحٗا فَٱلۡمُورِيَٰتِ قَدۡحٗا فَٱلۡمُغِيرَٰتِ صُبۡحٗا فَأَثَرۡنَ بِهِۦ نَقۡعٗا فَوَسَطۡنَ بِهِۦ جَمۡعًا (سورۃ العادیات ۔ آیات 1 تا 5)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو (میدانِ جہاد میں) تیزی سے دوڑتے ہیں زور سے ہانپتے ہوئے۔ پھر سم مار کر چنگاریاں نکالنے والے (گھوڑوں کی قسم)۔ پھر صبح کے وقت حملہ کرنے والے (گھوڑوں کی قسم)۔ پھر وہ اس وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ پھر وہ اس وقت (دشمن کی) فوج میں گھس جاتے ہیں۔
سُوْرَةُ الْعٰدِيٰتِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ
سُوْرَةُ الزِّلْزَالِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الزلزال کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ الْعٰدِيٰتِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ العادیات کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ (سورۃ الزلزال ۔ آیت 7)
روز مرہ زندگی کی چند نیکیوں کی فہرست بنائیں جنھیں ہم چھوٹا سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔
تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔
ایسی نیکیاں جنھیں ہم اکثر چھوٹا سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں:
وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ (سورۃ الزلزال ۔ آیت 8)
روز مرہ زندگی کی چند ایسی برائیوں کی فہرست بنائیں جنھیں ہم چھوٹا سمجھ کر گزرتے ہیں۔
اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔
ایسی برائیاں جنھیں ہم اکثر چھوٹا سمجھ کر کر گزرتے ہیں:
درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الزِّلْزَالِ اور سُوْرَةُ الْعٰدِيٰتِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ زمین کا بوجھ 2۔ خبروں کا بیان 3۔ ذرہ برابر نیکی 4۔ ذرہ برابر برائی 5۔ حملہ کرنے والے گھوڑے 6۔ دوڑنے والے گھوڑے 7۔ دشمن کی فوج میں گھسنے والے گھوڑے 8۔ مال سے شدید محبت
فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ (سورۃ الزلزال ۔ آیات 7 تا 8)
سورۃ الزلزال کے عملی زندگی پر ہونے والے اثرات تحریر کریں۔
تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔
جو شخص سورۃ الزلزال کے پیغام پر سچے دل سے یقین کر لے، اس کی عملی زندگی پر یہ اثرات پڑتے ہیں:
وَٱلۡعَٰدِيَٰتِ ضَبۡحٗا فَٱلۡمُورِيَٰتِ قَدۡحٗا فَٱلۡمُغِيرَٰتِ صُبۡحٗا فَأَثَرۡنَ بِهِۦ نَقۡعٗا فَوَسَطۡنَ بِهِۦ جَمۡعًا (سورۃ العادیات ۔ آیات 1 تا 5)
سورۃ العادیات کے ترجمہ و مفہوم کے مطابق جہاد فی سبیل اللہ میں استعمال ہونے والے چند وسائل کی اہمیت تحریر کریں۔
قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو (میدانِ جہاد میں) تیزی سے دوڑتے ہیں زور سے ہانپتے ہوئے۔ پھر سم مار کر چنگاریاں نکالنے والے۔ پھر صبح کے وقت حملہ کرنے والے۔ پھر وہ اس وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ پھر وہ اس وقت (دشمن کی) فوج میں گھس جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جہاد کے گھوڑوں کی قسم اٹھائی — کسی چیز کی قسم اس کی اہمیت کی دلیل ہے۔ اس سے جہاد فی سبیل اللہ کے وسائل کی اہمیت یوں سمجھ آتی ہے:
إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ (سورۃ العادیات ۔ آیت 6)
اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی چند نعمتیں تحریر کریں، اور ان میں سے کوئی تین نعمتوں کے متعلق شکر ادا کرنے کے طریقے تحریر کریں۔
بے شک انسان اپنے رب کا یقیناً بڑا ناشکرا ہے۔
اس سورت میں انسان کی ناشکری کی مذمت ہے — شکر گزاری کے لیے پہلے نعمتیں پہچاننا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی چند نعمتیں: ایمان اور قرآن مجید، صحت اور جسم کے اعضا (آنکھیں، کان، زبان)، والدین اور گھر، رزق اور پانی، علم اور عقل، وقت اور جوانی، امن اور وطن۔
تین نعمتوں کے شکر کے طریقے
إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٞ
سُوْرَةُ الزِّلْزَالِ اور سُوْرَةُ الْعٰدِيٰتِ میں سے اسم، فعل اور حرف کی مثالیں تلاش کر کے لکھیں۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔