ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 20: سبق 20: سورۃ الزلزال اور سورۃ العادیات — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 25 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

«اَلزِّلْزَال» کے معنی ہیں:

الف) تیز آندھی • ب) شدید زلزلہ • ج) سمندری طوفان • د) سخت گرج

جواب ب) شدید زلزلہ — «زِلْزَال» شدید زلزلے (ہلا دیے جانے) کو کہتے ہیں: قیامت کے دن زمین اپنے زلزلے سے پوری شدت سے ہلا دی جائے گی۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

يَوۡمَئِذٖ يَصۡدُرُ ٱلنَّاسُ أَشۡتَاتٗا لِّيُرَوۡاْ أَعۡمَٰلَهُمۡ (سورۃ الزلزال ۔ آیت 6)

«اَشْتَاتًا» کے معنی ہیں:

الف) گروہ در گروہ • ب) فرداً فرداً • ج) جوڑا جوڑا • د) ایک ساتھ

جواب الف) گروہ در گروہ — ذخیرۂ الفاظ میں «اَشْتَاتًا» کا معنی ہے: گروہ گروہ — اس دن لوگ گروہ در گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ انھیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

يَوۡمَئِذٖ تُحَدِّثُ أَخۡبَارَهَا (سورۃ الزلزال ۔ آیت 4)

سُوْرَةُ الزِّلْزَالِ میں انسانی اعمال پر گواہی دینے کا ذکر ہے:

الف) جسمانی اعضا کی • ب) فرشتوں کی • ج) زمین کی • د) لوگوں کی

جواب ج) زمین کی — اس سورت میں زمین کی گواہی کا ذکر ہے: اس دن زمین اپنے اوپر کیے گئے (اچھے یا برے سب اعمال کی) اپنی خبریں بیان کرے گی۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

فَٱلۡمُورِيَٰتِ قَدۡحٗا (سورۃ العادیات ۔ آیت 2)

«فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا» میں گھوڑوں کی قسم ہے جو استعمال ہوتے ہیں:

الف) میدانِ جہاد میں • ب) تجارتی قافلوں میں • ج) میدانِ دوڑ میں • د) شاہی سواریوں میں

جواب الف) میدانِ جہاد میں — یہ ان گھوڑوں کی قسم ہے جو میدانِ جہاد میں دوڑتے ہیں: سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں، صبح کے وقت (دشمن پر) حملہ کرتے ہیں اور فوج میں گھس جاتے ہیں۔ (آیات 1 تا 5)
5 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ (سورۃ العادیات ۔ آیت 6)

«اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ» میں انسان کو کہا گیا ہے:

الف) بے صبرا • ب) جلد باز • ج) ناشکرا • د) نافرمان

جواب ج) ناشکرا — ذخیرۂ الفاظ میں «لَكَنُوْد» کا معنی ہے: بڑا ناشکرا — بے شک انسان اپنے رب کا یقیناً بڑا ناشکرا ہے۔
6 کثیر الانتخابی سوالات

وَحُصِّلَ مَا فِي ٱلصُّدُورِ (سورۃ العادیات ۔ آیت 10)

سُوْرَةُ الْعٰدِيٰتِ میں آخرت کے دن ظاہر کر دیے جانے کا ذکر ہے:

الف) اعمال ناموں کا • ب) زمین کے خزانوں کا • ج) سینوں کے رازوں کا • د) کاغذات کا

جواب ج) سینوں کے رازوں کا — آیت کا ترجمہ ہے: اور جو (بھید) سینوں میں (چھپے راز) ہیں انھیں ظاہر کر دیا جائے گا — بے شک اس دن ان کا رب ان سے یقیناً خوب باخبر ہو گا۔ (آیت 11)

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

وَأَخۡرَجَتِ ٱلۡأَرۡضُ أَثۡقَالَهَا (سورۃ الزلزال ۔ آیت 2)

«وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا» — آیتِ کریمہ کی روشنی میں قیامت کا منظر بیان کریں۔

ترجمہ

اور زمین اپنے (اندر کے) تمام بوجھ باہر نکال پھینکے گی۔

جواب قیامت کے دن زمین اپنے زلزلے سے پوری شدت سے ہلا دی جائے گی اور اپنے اندر کے تمام بوجھ — مردے اور خزانے — باہر نکال پھینکے گی؛ انسان حیران ہو کر کہے گا کہ اسے کیا ہوا ہے؟ (آیات 1 تا 3)
8 مختصر جوابات

بِأَنَّ رَبَّكَ أَوۡحَىٰ لَهَا (سورۃ الزلزال ۔ آیت 5)

«بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا» — آیتِ کریمہ کی روشنی میں بتائیں کہ زمین اپنی خبریں کیوں بیان کرے گی؟

ترجمہ

اس لیے کہ آپ کے رب نے اسے (یہی) حکم دیا ہو گا۔

جواب زمین اپنی خبریں اس لیے بیان کرے گی کہ اس کے رب نے اسے اسی کا حکم دیا ہو گا: اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ اپنے اوپر کیے گئے سب اعمال کی گواہی دے گی — کوئی چیز اس کے علم اور حکم سے باہر نہیں۔
9 مختصر جوابات

وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ (سورۃ الزلزال ۔ آیت 8)

«وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ» — آیتِ کریمہ میں گناہ کے متعلق کیا کیفیت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔

جواب گناہ کے متعلق یہ کیفیت بیان ہوئی ہے کہ قیامت کے دن ذرہ برابر برائی بھی سامنے آ جائے گی اور کرنے والا اسے دیکھ لے گا — یعنی کوئی گناہ اتنا چھوٹا نہیں کہ اسے معمولی سمجھ کر کر لیا جائے؛ ہر عمل کا حساب ہونا ہے۔
10 مختصر جوابات

إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٞ (سورۃ العادیات ۔ آیات 6 تا 7)

«اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ ۔ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ» — آیاتِ کریمہ میں انسان کے متعلق کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

بے شک انسان اپنے رب کا یقیناً بڑا ناشکرا ہے۔ اور بے شک وہ خود اس (ناشکری) پر یقیناً گواہ ہے۔

جواب انسان کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے: نعمتیں پا کر بھی شکر ادا نہیں کرتا — اور اس کا اپنا ضمیر اور اس کا طرزِ عمل خود اس ناشکری پر گواہ ہے۔
11 مختصر جوابات

وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلۡخَيۡرِ لَشَدِيدٌ (سورۃ العادیات ۔ آیت 8)

«وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ» — آیتِ کریمہ میں انسان کی کس فطری کمزوری کو بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور بے شک وہ مال کی محبت میں یقیناً بہت سخت ہے۔

جواب اس آیت میں انسان کی یہ فطری کمزوری بیان ہوئی ہے کہ وہ مال و دولت کی محبت میں بہت سخت (حریص) ہے: مال کی یہی شدید محبت اسے اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی تک لے جاتی ہے۔
12 مختصر جوابات

وَحُصِّلَ مَا فِي ٱلصُّدُورِ (سورۃ العادیات ۔ آیت 10)

«وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ» — آیتِ کریمہ میں سے اسم، فعل اور حرف الگ کریں۔

ترجمہ

اور جو (بھید) سینوں میں (چھپے راز) ہیں انھیں ظاہر کر دیا جائے گا۔

1 اسم — «اَلصُّدُوْر» (سینے) — اس پر «ال» اسم کی علامت ہے؛ اور «مَا» (جو کچھ) اسم موصول ہے۔
2 فعل — «حُصِّلَ» (ظاہر کر دیا جائے گا) — فعل ماضی مجہول: فاعل مذکور نہیں اور فعل مفعول کی طرف منسوب ہے۔
3 حرف — «وَ» (حرفِ عطف) اور «فِيْ» (حرفِ جر)۔

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

يَوۡمَئِذٖ يَصۡدُرُ ٱلنَّاسُ أَشۡتَاتٗا لِّيُرَوۡاْ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ (سورۃ الزلزال ۔ آیات 6 تا 8)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اس دن لوگ گروہ در گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ انھیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔

جواب قیامت کے دن لوگ قبروں سے نکل کر مختلف گروہوں میں آئیں گے تاکہ اُنہیں اُن کے اعمال دکھائے جائیں۔ ہر شخص کو اُس کا اپنا کیا ہوا سامنے نظر آئے گا۔ پھر ایک بہت اہم اصول بتایا گیا کہ جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی، وہ اُسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی، وہ بھی اُسے دیکھ لے گا۔ سبق یہ ہے کہ کسی چھوٹی سی نیکی کو معمولی سمجھ کر نہ چھوڑیں اور کسی چھوٹے گناہ کو ہلکا نہ سمجھیں — اللہ کے ہاں ہر چیز کا حساب ہے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الزِّلْزَالِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فضیلت

1 تعارف — نام کی وجہ — اس سورت کی پہلی آیت میں قیامت کے دن زمین کے ہلائے جانے کا ذکر ہوا ہے اور اس سلسلے میں لفظ «زِلْزَال» آیا ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلزِّلْزَال» ہے۔
2 تعارف — مدنی سورت — یہ مدنی سورت ہے اور اس میں 8 آیات ہیں۔
3 فضیلت — ایک بوڑھے شخص نے نبی اکرم ﷺ سے قرآن مجید پڑھانے کی درخواست کی اور عرض کیا کہ میں بڑی سورتیں یاد نہیں کر سکتا، مجھے ایک مختصر اور جامع سورت پڑھا دیجیے — چنانچہ آپ ﷺ نے اسے سُوْرَةُ الزِّلْزَالِ پڑھائی۔ (سنن ابی داود: 1399)
4 فضیلت — اس سورت کو رسول اکرم ﷺ نے نصف قرآن کے برابر قرار دیا ہے۔ (جامع ترمذی: 2839)
جواب مرکزی مضمون — روزِ قیامت کے حالات اور لوگوں کے اعمال کی پیشی۔
15 تفصیلی جوابات

وَٱلۡعَٰدِيَٰتِ ضَبۡحٗا فَٱلۡمُورِيَٰتِ قَدۡحٗا فَٱلۡمُغِيرَٰتِ صُبۡحٗا فَأَثَرۡنَ بِهِۦ نَقۡعٗا فَوَسَطۡنَ بِهِۦ جَمۡعًا (سورۃ العادیات ۔ آیات 1 تا 5)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو (میدانِ جہاد میں) تیزی سے دوڑتے ہیں زور سے ہانپتے ہوئے۔ پھر سم مار کر چنگاریاں نکالنے والے (گھوڑوں کی قسم)۔ پھر صبح کے وقت حملہ کرنے والے (گھوڑوں کی قسم)۔ پھر وہ اس وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ پھر وہ اس وقت (دشمن کی) فوج میں گھس جاتے ہیں۔

جواب اللہ نے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم کھائی، جو تیز دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں۔ پھر اُن گھوڑوں کی جو اپنے سموں سے پتھروں پر ٹکرا کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔ اور اُن کی جو صبح سویرے دشمن پر اچانک حملہ کرتے ہیں۔ اُن کی دوڑ سے گرد و غبار اٹھتا ہے اور وہ دشمن کے لشکر کے بیچوں بیچ جا گھستے ہیں۔ اِن قسموں سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جانور تو اپنے مالک کی اِتنی وفاداری کرتے ہیں، مگر انسان اپنے رب کی ناشکری کرتا ہے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْعٰدِيٰتِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ

1 تعارف — نام کی وجہ — اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا «وَالْعٰدِيٰتِ» (تیزی سے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم) سے فرمائی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلْعٰدِيٰت» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 11 آیات ہیں۔
3 فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔» (بیہقی: 10019)
جواب مرکزی مضمون — انسان کی ناشکری کا بیان۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الزِّلْزَالِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الزلزال کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 قیامت کے دن زمین شدید زلزلے سے ہلا دیے جانے کا ذکر۔
2 زمین کا اپنے اندر کی سب چیزیں باہر نکالنے کا ذکر۔
3 زمین کا اپنے اوپر کی گئی تمام باتیں بیان کرنے کا بیان۔
4 لوگوں کے اچھے یا برے سب اعمال پر زمین کی گواہی کا ذکر۔
5 روزِ قیامت تمام انسانوں کا اپنے چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی دیکھنے کا بیان۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْعٰدِيٰتِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ العادیات کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 جہاد میں استعمال ہونے والے گھوڑوں کی قسموں کا بیان۔
2 انسان کی مال و دولت سے شدید محبت اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری کا بیان۔
3 قبر و آخرت کی یاد دہانی۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ (سورۃ الزلزال ۔ آیت 7)

روز مرہ زندگی کی چند نیکیوں کی فہرست بنائیں جنھیں ہم چھوٹا سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔

ترجمہ

تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔

ایسی نیکیاں جنھیں ہم اکثر چھوٹا سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں:

1 راستے سے تکلیف دہ چیز (پتھر، کانٹا، کوڑا) ہٹا دینا۔
2 سلام میں پہل کرنا اور مسکرا کر ملنا۔
3 کسی کو اچھی بات یا دعا کہہ دینا، پیاسے کو پانی پلا دینا۔
4 والدین کے چھوٹے چھوٹے کام کر دینا۔
5 کھانے سے پہلے بسم اللہ اور بعد میں الحمد للہ کہنا۔
6 کسی کے لیے دروازہ کھول دینا، بوجھ اٹھوانا یا راستہ بتا دینا۔
7 ایک آیت کی تلاوت یا ایک بار درود شریف پڑھ لینا۔
جواب قیامت کے دن ہر نیکی پیش ہو گی — چنانچہ کسی بھی نیکی کو معمولی سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہیے۔
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ (سورۃ الزلزال ۔ آیت 8)

روز مرہ زندگی کی چند ایسی برائیوں کی فہرست بنائیں جنھیں ہم چھوٹا سمجھ کر گزرتے ہیں۔

ترجمہ

اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔

ایسی برائیاں جنھیں ہم اکثر چھوٹا سمجھ کر کر گزرتے ہیں:

1 چھوٹا سا جھوٹ بول دینا یا مذاق میں غلط بات کہنا۔
2 کسی کا مذاق اڑانا، نام بگاڑنا یا طعنہ دینا۔
3 غیبت اور چغلی کی چھوٹی چھوٹی باتیں۔
4 وعدہ خلافی اور وقت کی پابندی نہ کرنا۔
5 راستے میں کوڑا پھینکنا یا پانی اور بجلی ضائع کرنا۔
6 بغیر اجازت کسی کی چیز استعمال کر لینا۔
7 نماز میں سستی اور بلا ضرورت موبائل پر وقت ضائع کرنا۔
جواب ذرہ برابر برائی بھی سامنے آنی ہے — چنانچہ کسی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر نہیں کرنا چاہیے۔
21 سرگرمیاں برائے طلبہ

درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الزِّلْزَالِ اور سُوْرَةُ الْعٰدِيٰتِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ زمین کا بوجھ 2۔ خبروں کا بیان 3۔ ذرہ برابر نیکی 4۔ ذرہ برابر برائی 5۔ حملہ کرنے والے گھوڑے 6۔ دوڑنے والے گھوڑے 7۔ دشمن کی فوج میں گھسنے والے گھوڑے 8۔ مال سے شدید محبت

1 1۔ زمین کا بوجھ — «ٱلۡأَرۡضُ أَثۡقَالَهَا» — زمین اپنے (اندر کے) تمام بوجھ (نکال پھینکے گی)۔ (الزلزال: 2)
2 2۔ خبروں کا بیان — «تُحَدِّثُ أَخۡبَارَهَا» — وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔ (الزلزال: 4)
3 3۔ ذرہ برابر نیکی — «مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا» — ذرہ برابر نیکی۔ (الزلزال: 7)
4 4۔ ذرہ برابر برائی — «مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا» — ذرہ برابر برائی۔ (الزلزال: 8)
5 5۔ حملہ کرنے والے گھوڑے — «فَٱلۡمُغِيرَٰتِ صُبۡحٗا» — پھر صبح کے وقت حملہ کرنے والے (گھوڑے)۔ (العادیات: 3)
6 6۔ دوڑنے والے گھوڑے — «وَٱلۡعَٰدِيَٰتِ ضَبۡحٗا» — تیزی سے دوڑنے والے (گھوڑے) زور سے ہانپتے ہوئے۔ (العادیات: 1)
7 7۔ دشمن کی فوج میں گھسنے والے گھوڑے — «فَوَسَطۡنَ بِهِۦ جَمۡعًا» — پھر وہ اس وقت (دشمن کی) فوج میں گھس جاتے ہیں۔ (العادیات: 5)
8 8۔ مال سے شدید محبت — «لِحُبِّ ٱلۡخَيۡرِ لَشَدِيدٌ» — وہ مال کی محبت میں یقیناً بہت سخت ہے۔ (العادیات: 8)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ (سورۃ الزلزال ۔ آیات 7 تا 8)

سورۃ الزلزال کے عملی زندگی پر ہونے والے اثرات تحریر کریں۔

ترجمہ

تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔

جو شخص سورۃ الزلزال کے پیغام پر سچے دل سے یقین کر لے، اس کی عملی زندگی پر یہ اثرات پڑتے ہیں:

1 چھوٹی نیکی کی قدر — وہ کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر نہیں چھوڑتا، کیوں کہ ذرہ برابر نیکی بھی قیامت کے دن سامنے آنی ہے۔
2 چھوٹے گناہ سے پرہیز — وہ کسی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر نہیں کرتا، کیوں کہ ذرہ برابر برائی بھی دیکھنی ہے۔
3 خلوت میں تقویٰ — وہ اکیلے میں بھی گناہ سے بچتا ہے، کیوں کہ زمین تک اس کے اعمال کی گواہ بنائی جائے گی۔
4 احتساب کی عادت — وہ روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے اور کثرت سے اعمالِ صالحہ کی کوشش کرتا ہے تاکہ قیامت کی سختی سے بچ سکے۔
5 حقوق کی ادائیگی — وہ لین دین اور معاملات میں ذرہ برابر ناانصافی سے بھی ڈرتا ہے۔
جواب گویا یہ سورت مومن کے اندر ہر لمحہ جواب دہی کا احساس زندہ رکھتی ہے — یہی احساس کردار سنوارنے کی جڑ ہے۔
23 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَٱلۡعَٰدِيَٰتِ ضَبۡحٗا فَٱلۡمُورِيَٰتِ قَدۡحٗا فَٱلۡمُغِيرَٰتِ صُبۡحٗا فَأَثَرۡنَ بِهِۦ نَقۡعٗا فَوَسَطۡنَ بِهِۦ جَمۡعًا (سورۃ العادیات ۔ آیات 1 تا 5)

سورۃ العادیات کے ترجمہ و مفہوم کے مطابق جہاد فی سبیل اللہ میں استعمال ہونے والے چند وسائل کی اہمیت تحریر کریں۔

ترجمہ

قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو (میدانِ جہاد میں) تیزی سے دوڑتے ہیں زور سے ہانپتے ہوئے۔ پھر سم مار کر چنگاریاں نکالنے والے۔ پھر صبح کے وقت حملہ کرنے والے۔ پھر وہ اس وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ پھر وہ اس وقت (دشمن کی) فوج میں گھس جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جہاد کے گھوڑوں کی قسم اٹھائی — کسی چیز کی قسم اس کی اہمیت کی دلیل ہے۔ اس سے جہاد فی سبیل اللہ کے وسائل کی اہمیت یوں سمجھ آتی ہے:

1 تیز رفتار سواری — گھوڑے اپنی تیز رفتاری اور جان نثاری کی وجہ سے میدانِ جہاد کا بنیادی وسیلہ تھے — آج کے دور میں یہی مقام تیز رفتار سواریوں اور نقل و حمل کے ذرائع کا ہے۔
2 تربیت اور تیاری — قسم ان گھوڑوں کی کھائی گئی جو سدھائے ہوئے ہیں: ہانپتے ہوئے بھی دوڑتے ہیں اور صبح سویرے حملے کے لیے تیار ہوتے ہیں — یعنی وسائل کے ساتھ تربیت اور مستقل تیاری بھی ضروری ہے۔
3 سازوسامان — سموں سے چنگاریاں نکلنا ساز و سامان اور قوت کی علامت ہے: دفاع کے لیے ضروری قوت تیار رکھنا شریعت کا حکم ہے۔
4 نظم اور وقت — صبح کے وقت حملہ اور فوج کے بیچ پہنچ جانا نظم، منصوبہ بندی اور درست وقت پر عمل کی اہمیت بتاتا ہے۔
5 جان نثاری کا سبق — گھوڑے اپنے مالک کے لیے جان تک قربان کر دیتے ہیں — اس لیے ہمیں بھی حق کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے اور اپنے مالک یعنی اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرنی چاہیے۔
24 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ (سورۃ العادیات ۔ آیت 6)

اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی چند نعمتیں تحریر کریں، اور ان میں سے کوئی تین نعمتوں کے متعلق شکر ادا کرنے کے طریقے تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک انسان اپنے رب کا یقیناً بڑا ناشکرا ہے۔

اس سورت میں انسان کی ناشکری کی مذمت ہے — شکر گزاری کے لیے پہلے نعمتیں پہچاننا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی چند نعمتیں: ایمان اور قرآن مجید، صحت اور جسم کے اعضا (آنکھیں، کان، زبان)، والدین اور گھر، رزق اور پانی، علم اور عقل، وقت اور جوانی، امن اور وطن۔

تین نعمتوں کے شکر کے طریقے

1 نعمتِ صحت — زبان سے الحمد للہ کہنا؛ صحت کو عبادت، تعلیم اور دوسروں کی خدمت میں لگانا؛ حرام اور نقصان دہ چیزوں سے جسم کو بچانا۔
2 نعمتِ رزق و مال — حلال کمانا اور حلال کھانا؛ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، زکوٰۃ و صدقہ دینا؛ اسراف اور ضیاع سے بچنا۔
3 نعمتِ علم — علم پر عمل کرنا؛ دوسروں کو سکھانا؛ علم کو حق کی خدمت میں استعمال کرنا اور اس پر تکبر نہ کرنا۔
جواب شکر کے تین درجے یاد رکھیے: دل سے نعمت کا اعتراف، زبان سے الحمد للہ، اور اعضا سے نعمت کا درست استعمال — یہی «كَنُوْد» (ناشکرے) کے مقابل شاکر بندے کی پہچان ہے۔
25 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٞ

سُوْرَةُ الزِّلْزَالِ اور سُوْرَةُ الْعٰدِيٰتِ میں سے اسم، فعل اور حرف کی مثالیں تلاش کر کے لکھیں۔

1 اسم کی مثالیں — 1 — «ٱلۡأَرۡضُ» — زمین۔ (الزلزال: 1)
2 اسم کی مثالیں — 2 — «ٱلنَّاسُ» — لوگ۔ (الزلزال: 6)
3 اسم کی مثالیں — 3 — «ٱلۡإِنسَٰنَ» — انسان۔ (العادیات: 6)
4 اسم کی مثالیں — 4 — «ٱلۡقُبُورِ» — قبریں۔ (العادیات: 9)
5 فعل کی مثالیں — 1 — «زُلۡزِلَتِ» — وہ ہلا دی جائے گی؛ فعل ماضی مجہول۔ (الزلزال: 1)
6 فعل کی مثالیں — 2 — «تُحَدِّثُ» — وہ بیان کرے گی؛ فعل مضارع۔ (الزلزال: 4)
7 فعل کی مثالیں — 3 — «بُعۡثِرَ» — (مردے) اٹھائے جائیں گے؛ فعل ماضی مجہول۔ (العادیات: 9)
8 فعل کی مثالیں — 4 — «وَحُصِّلَ» — ظاہر کر دیا جائے گا؛ فعل ماضی مجہول (شروع کا «وَ» حرفِ عطف)۔ (العادیات: 10)
9 حرف کی مثالیں — 1 — «إِذَا» — «اِذَا» حرفِ شرط/ظرف: جب۔ (الزلزال: 1)
10 حرف کی مثالیں — 2 — «فِي» — «فِيْ» حرفِ جر: میں۔ (العادیات: 10)
11 حرف کی مثالیں — 3 — «عَلَىٰ» — «عَلٰى» حرفِ جر: پر۔ (العادیات: 7)
جواب «مَا» (جو کچھ — العادیات: 10) اسم موصول ہے؛ اس کی تفصیل مختصر جوابات س6 میں بھی ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.