ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 22: سبق 22: سورۃ العصر اور سورۃ الھمزۃ — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 23 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلۡعَصۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیت 1)

سُوْرَةُ الْعَصْرِ میں قسم اٹھائی گئی ہے:

الف) قیامت کی • ب) قرآن مجید کی • ج) زمانے کی • د) کائنات کی

جواب ج) زمانے کی — ذخیرۂ الفاظ میں «اَلْعَصْر» کا معنی ہے: زمانہ — قسم ہے (تیزی سے گزرتے ہوئے) زمانے کی۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلۡعَصۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیت 1)

«اَلْعَصْر» قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر

جواب الف) اسم — «اَلْعَصْر» (زمانہ) اسم ہے: اس کے شروع میں «ال» اسم کی علامت ہے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیت 3)

«اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» آیتِ کریمہ میں آخرت کے نقصان سے بچنے کے لیے کتنے اعمال کا بیان ہے:

الف) دو • ب) چار • ج) پانچ • د) چھے

جواب ب) چار — چار اعمال بیان ہوئے ہیں: ایمان لانا، نیک عمل کرنا، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنا اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرنا۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 1)

«وَيْل» کے معنی ہیں:

الف) نزاکت • ب) بشارت • ج) ہلاکت • د) ظرافت

جواب ج) ہلاکت — «وَيْل» کا معنی ہلاکت ہے: ہر ایسے شخص کے لیے ہلاکت ہے جو (آمنے سامنے) طعنہ دینے والا اور (پیٹھ پیچھے) عیب نکالنے والا ہو۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 1)

«وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» آیتِ کریمہ کی رو سے ہلاکت ہے ہر اس شخص کے لیے جو طعنہ دینے والا اور:

الف) بدگمانی کرنے والا • ب) تجسس کرنے والا • ج) عیب نکالنے والا • د) مذاق اڑانے والا

جواب ج) عیب نکالنے والا — ذخیرۂ الفاظ میں «لُمَزَة» کا معنی ہے: پیٹھ پیچھے عیب نکالنے والا — «هُمَزَة» (طعنہ دینے والا) کے ساتھ اسی کے لیے ہلاکت کی وعید ہے۔
6 کثیر الانتخابی سوالات

ٱلَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى ٱلۡأَفۡـِٔدَةِ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 7)

«اَلْاَفْئِدَة» کے معنی ہیں:

الف) دل • ب) سینہ • ج) ہاتھ • د) پاؤں

جواب الف) دل — ذخیرۂ الفاظ میں «اَلْاَفْئِدَة» کا معنی ہے: دل — وہ (آگ) جو دلوں تک پہنچ جائے گی۔

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ (سورۃ العصر ۔ آیت 2)

«اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ» — آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے بارے میں کیا فرمایا؟

ترجمہ

بے شک انسان یقیناً نقصان میں ہے۔

جواب اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ (ہر) انسان یقیناً نقصان (گھاٹے) میں ہے: اس کی عمر کا سرمایہ ہر لمحہ گھٹ رہا ہے — سوائے ان لوگوں کے جن کی چار صفات اگلی آیت میں بیان ہوئی ہیں۔
8 مختصر جوابات

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیت 3)

«اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے اہلِ ایمان کی صفات تحریر کریں۔

ترجمہ

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔

خسارے سے بچنے والے اہلِ ایمان کی چار صفات بیان ہوئی ہیں:

1 وہ ایمان لائے۔
2 انھوں نے نیک عمل کیے۔
3 ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کرتے رہے۔
4 ایک دوسرے کو (مصیبتوں پر) صبر کی نصیحت کرتے رہے۔
9 مختصر جوابات

سُوْرَةُ الْعَصْرِ میں فعل ماضی کی مثالیں تلاش کریں۔

سورۃ العصر (آیت 3) میں فعل ماضی کی یہ مثالیں ہیں:

1 1 — «ءَامَنُواْ» — وہ ایمان لائے۔
2 2 — «وَعَمِلُواْ» — اور انھوں نے (نیک) عمل کیے (شروع کا «وَ» حرفِ عطف)۔
3 3 — «وَتَوَاصَوۡاْ» — اور انھوں نے ایک دوسرے کو نصیحت کی — یہ فعل آیت میں دو مرتبہ آیا ہے: حق کی نصیحت اور صبر کی نصیحت۔
10 مختصر جوابات

وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 1)

«وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» — آیتِ کریمہ میں کن لوگوں کے لیے تباہی بتائی گئی ہے؟

ترجمہ

ہر ایسے شخص کے لیے ہلاکت ہے جو (آمنے سامنے) طعنہ دینے والا (اور پیٹھ پیچھے) عیب نکالنے والا ہو۔

جواب ان لوگوں کے لیے تباہی بتائی گئی ہے جو دوسروں کو آمنے سامنے طعنے دیتے ہیں اور پیٹھ پیچھے ان کے عیب نکالتے ہیں — لوگوں کی تحقیر کرنے والے یہی «هُمَزَة لُمَزَة» ہیں۔
11 مختصر جوابات

ٱلَّذِي جَمَعَ مَالٗا وَعَدَّدَهُۥ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 2)

«اَلَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ» — آیتِ کریمہ میں آخرت سے غافل شخص کی کیا علامات بیان کی گئی ہیں؟

ترجمہ

جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا۔

جواب آخرت سے غافل شخص کی یہ علامات بیان ہوئی ہیں: وہ مال کو گن گن کر جمع کرتا ہے اور (خرچ کرنے کے بجائے) سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے، اور یہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ (آیت 3)
12 مختصر جوابات

سُوْرَةُ الْهُمَزَةِ میں آنے والے کوئی سے دو اسماء اور دو افعال تحریر کریں۔

دو اسماء اور دو افعال

1 دو اسماء — 1 — «مَالٗا» — مال (تنوین اسم کی علامت)۔ (آیت 2)
2 دو اسماء — 2 — «ٱلۡأَفۡـِٔدَةِ» — دل («ال» اسم کی علامت)۔ (آیت 7)
3 دو افعال — 1 — «جَمَعَ» — اس نے جمع کیا؛ فعل ماضی۔ (آیت 2)
4 دو افعال — 2 — «يَحۡسَبُ» — وہ خیال کرتا ہے؛ فعل مضارع۔ (آیت 3)

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

وَٱلۡعَصۡرِ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیات 1 تا 3)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

قسم ہے (تیزی سے گزرتے ہوئے) زمانے کی۔ بے شک انسان یقیناً نقصان میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔

جواب اللہ نے زمانے کی قسم کھا کر ایک بہت بڑی بات بتائی کہ بےشک انسان خسارے میں ہے۔ یعنی جو وقت گزر رہا ہے، وہ ہماری عمر کم کر رہا ہے اور ہم نقصان اٹھا رہے ہیں۔ پھر چار قسم کے لوگوں کو اِس نقصان سے الگ کیا گیا: جو ایمان لائے، جنہوں نے نیک عمل کیے، جو ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے ہیں، اور جو ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ سبق یہ ہے کہ وقت سب سے قیمتی چیز ہے، اور اِسے ایمان، نیکی اور دوسروں کی بھلائی میں لگانا ہی اصل کامیابی ہے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْعَصْرِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فضیلت

1 تعارف — نام کی وجہ — اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا «وَالْعَصْرِ» (زمانے کی قسم) سے فرمائی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلْعَصْر» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 3 آیات ہیں۔
3 فضیلت — رسول اکرم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب آپس میں ملاقات کرتے تو ایک دوسرے سے (اس وقت تک) جدا نہ ہوتے جب تک یہ سورت ایک دوسرے کو سنا نہ لیتے۔ (المعجم الاوسط طبرانی: 5124، السلسلۃ الصحیحۃ: 2816)
جواب مرکزی مضمون — عظیم ترین خسارے سے بچاؤ کا راستہ۔
15 تفصیلی جوابات

كَلَّاۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِي ٱلۡحُطَمَةِ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡحُطَمَةُ نَارُ ٱللَّهِ ٱلۡمُوقَدَةُ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیات 4 تا 6)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

(ایسا) ہرگز نہیں (ہو گا)! وہ ضرور چورا چورا کر دینے والی (آگ) میں پھینکا جائے گا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ چورا چورا کر دینے والی کیا ہے؟ (وہ) اللہ کی آگ ہے جو بھڑکائی ہوئی ہے۔

جواب جو شخص لوگوں کا مذاق اڑاتا، عیب نکالتا اور مال جمع کر کے سمجھتا ہے کہ یہ اُسے ہمیشہ زندہ رکھے گا، اُس کے بارے میں فرمایا گیا: ہرگز نہیں! وہ ضرور "حُطَمَہ" میں پھینکا جائے گا۔ پھر پوچھا گیا کہ تمہیں کیا معلوم کہ حُطَمَہ کیا ہے؟ بتایا گیا کہ یہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو ہر چیز کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ سبق یہ ہے کہ کسی کا مذاق اڑانا اور غیبت کرنا بہت بڑا گناہ ہے، اور مال انسان کو موت سے نہیں بچا سکتا۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْهُمَزَةِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فرامینِ نبوی ﷺ

1 تعارف — نام کی وجہ — اس سورت کا نام «هُمَزَة» (طعنہ دینا) ہے — یہ لفظ سورت کی پہلی آیت میں آیا ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلْهُمَزَة» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 9 آیات ہیں۔
3 فرامینِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بے حیا اور بدزبان نہیں ہوتا۔» (جامع ترمذی: 1977)
4 فرامینِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «اگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دنیا کی حقیقت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کافر کو پانی کا گھونٹ بھی نہ دیتا۔» (جامع ترمذی: 2320)
جواب مرکزی مضمون — طعنہ زنی اور مال جمع کرنے کی مذمت۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْعَصْرِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ العصر کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 وقت اور زمانے کی قسم اٹھانے سے مراد اس کی عظمت اور اہمیت کو واضح کرنا۔
2 وقت اور زندگی کو ضائع کرنے والے تمام انسانوں کا نقصان میں ہونے کا بیان۔
3 آخرت کے نقصان سے بچنے کے لیے چار اعمال — ایمان لانے، نیک عمل کرنے، ایک دوسرے کو حق بات بتانے اور مصیبتوں پر صبر کرنے — کا بیان۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْهُمَزَةِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الھمزۃ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 کفارِ مکہ کے رویوں کا بیان۔
2 آخرت سے غافل اور دنیا سے محبت کرنے والے انسان کا حال۔
3 دوسروں کے عیب نکالنا، طعنے دینا، مال کو گن گن کر جمع کرنا اور مال سے امیدیں رکھنا — آخرت سے غافل شخص کی صفات ہیں۔
4 آخرت سے غافل انسان کا انجام۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیت 3)

سُوْرَةُ الْعَصْرِ کی روشنی میں نجات کے لیے ضروری چار کاموں پر مذاکرہ کریں۔

ترجمہ

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔

مذاکرے کے لیے چاروں کاموں کے نکات:

1 1۔ ایمان — اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور آخرت پر سچا ایمان — یہی نجات کی بنیاد ہے؛ ایمان کے بغیر کوئی عمل کارآمد نہیں۔
2 2۔ نیک عمل — ایمان کا ثبوت عمل ہے: نماز، تلاوت، والدین کی خدمت، سچائی اور خدمتِ خلق — ہر نیکی خسارے سے بچاتی ہے۔
3 3۔ حق کی نصیحت — اپنا نیک ہونا کافی نہیں: دوسروں کو بھی حق بات بتانا اور نیکی کی تلقین کرنا لازم ہے — یہی دعوتِ دین ہے۔
4 4۔ صبر کی نصیحت — حق کی راہ میں مشکلات ضرور آتی ہیں؛ ہمت ہارنے کے بجائے خود بھی صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کو بھی صبر کی نصیحت کرتے رہیں۔
جواب مذاکرے میں ہر ساتھی ایک ایک کام پر بات کرے اور آخر میں سب یہ جائزہ لیں کہ ان چاروں میں سے کس پر عمل ہو رہا ہے اور کہاں کوشش بڑھانی ہے۔
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

ٱلَّذِي جَمَعَ مَالٗا وَعَدَّدَهُۥ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 2)

مال کی محبت کو دل سے کیسے دور کیا جا سکتا ہے؟ تین باتیں تحریر کریں۔

ترجمہ

جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا۔

مال کی (مذموم) محبت دل سے دور کرنے کی تین باتیں:

1 اللہ کی راہ میں خرچ — زکوٰۃ اور صدقہ کی پابندی کی جائے: خرچ کرنے سے مال کی گرفت دل پر کمزور ہوتی ہے اور شکر پیدا ہوتا ہے۔
2 موت اور آخرت کی یاد — قبر اور حساب کو یاد رکھا جائے: مال یہیں رہ جائے گا اور نعمتوں کے بارے میں سوال ہو گا — یہ یاد مال کی ہوس توڑ دیتی ہے۔
3 قناعت اور شکر — اپنے سے کم مال والوں کو دیکھ کر قناعت اختیار کی جائے اور جو ملا ہے اس پر شکر ادا کیا جائے؛ حلال کمائی پر اکتفا کیا جائے۔
جواب یاد رہے: مال بذاتِ خود برا نہیں — برائی اس کی محبت میں اندھا ہو کر حقوق روک لینے اور آخرت بھول جانے میں ہے۔
21 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ ٱلَّذِي جَمَعَ مَالٗا وَعَدَّدَهُۥ يَحۡسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخۡلَدَهُۥ كَلَّاۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِي ٱلۡحُطَمَةِ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡحُطَمَةُ نَارُ ٱللَّهِ ٱلۡمُوقَدَةُ ٱلَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى ٱلۡأَفۡـِٔدَةِ إِنَّهَا عَلَيۡهِم مُّؤۡصَدَةٞ فِي عَمَدٖ مُّمَدَّدَةِۭ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیات 1 تا 9)

سُوْرَةُ الْهُمَزَةِ اور سُوْرَةُ الْعَصْرِ ترجمہ کے ساتھ زبانی یاد کریں۔

ترجمہ

ہر ایسے شخص کے لیے ہلاکت ہے جو (آمنے سامنے) طعنہ دینے والا (اور پیٹھ پیچھے) عیب نکالنے والا ہو۔ جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا۔ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ (ایسا) ہرگز نہیں! وہ ضرور چورا چورا کر دینے والی (آگ) میں پھینکا جائے گا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ چورا چورا کر دینے والی کیا ہے؟ (وہ) اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ جو دلوں تک پہنچ جائے گی۔ بے شک وہ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی۔ لمبے لمبے ستونوں میں۔

1 یاد کرنے کا طریقہ — ایک ایک آیت کا عربی متن اور ترجمہ ملا کر پڑھیں، پھر ترجمہ زبانی دہرائیں؛ روزانہ کسی ساتھی یا گھر والے کو سنائیں یہاں تک کہ روانی سے یاد ہو جائے۔ (سُوْرَةُ الْعَصْرِ کا مکمل متن اور ترجمہ تفصیلی جوابات 1 الف میں ہے — اسے بھی اسی طریقے سے یاد کریں۔)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَٱلۡعَصۡرِ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ (سورۃ العصر ۔ آیات 1 تا 2)

«اَلْعَصْر» اور «اَلْخُسْر» کے الفاظ کی تشریح تحریر کریں۔

ترجمہ

قسم ہے (تیزی سے گزرتے ہوئے) زمانے کی۔ بے شک انسان یقیناً نقصان میں ہے۔

«اَلْعَصْر» کی تشریح

1 «عَصْر» کے معنی زمانے کے ہیں: تیزی سے گزرتا ہوا وقت — جو ہر انسان کے اعمال کا گواہ ہے۔ (بعض مفسرین نے اس سے عصر کا وقت بھی مراد لیا ہے۔) اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کی قسم اٹھانا اس کی عظمت کی دلیل ہے — یوں یہ قسم بتاتی ہے کہ وقت انسان کی سب سے قیمتی دولت ہے، جسے فضول کاموں میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
جواب «اَلْخُسْر» کی تشریح — «خُسْر» کے معنی نقصان اور گھاٹے کے ہیں — یہ تجارت کا لفظ ہے: جیسے تاجر کا سرمایہ ڈوب جائے۔ انسان کا اصل سرمایہ اس کی عمر ہے، جو ہر گزرتے لمحے گھٹ رہی ہے؛ جو شخص اس سرمائے سے آخرت کا نفع نہ کمائے وہ یقیناً خسارے میں ہے۔ اس گھاٹے سے صرف وہی محفوظ ہیں جو ایمان، نیک عمل، حق کی نصیحت اور صبر کی نصیحت — چاروں صفات — اختیار کریں۔ (آیت 3)
23 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 1)

غیبت اور چغلی کے نقصانات تحریر کریں۔

ترجمہ

ہر ایسے شخص کے لیے ہلاکت ہے جو (آمنے سامنے) طعنہ دینے والا (اور پیٹھ پیچھے) عیب نکالنے والا ہو۔

پیٹھ پیچھے کسی کا ایسا ذکر کرنا جو اسے ناگوار ہو «غیبت» ہے، اور لڑانے کے لیے ایک کی بات دوسرے تک پہنچانا «چغلی» — دونوں «هُمَزَة لُمَزَة» کے رویوں سے جڑی برائیاں ہیں۔ ان کے نقصانات:

1 گناہِ کبیرہ — قرآن مجید نے غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے (مفہوم — سورۃ الحجرات: 12)، اور چغل خور کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
2 نیکیوں کا ضیاع — قیامت کے دن غیبت کرنے والے کی نیکیاں اس شخص کو دے دی جائیں گی جس کی غیبت کی گئی — یعنی اپنا ہی خسارہ ہے۔
3 نفرت اور فساد — لوگوں کی تحقیر اور بات ادھر اُدھر پہنچانا باہمی تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے، دلوں میں نفرت ڈالتا ہے اور گھروں اور دوستیوں میں فساد کا باعث بنتا ہے۔
4 بداعتمادی — ایسا شخص کسی کے اعتماد کے قابل نہیں رہتا؛ معاشرے میں بدگمانی اور جاسوسی کی فضا بنتی ہے۔
5 آخرت کی وعید — اسی سبق میں طعنہ دینے اور عیب نکالنے والے کے لیے «حُطَمَة» — دلوں تک پہنچنے والی بھڑکائی ہوئی آگ — کی وعید ہے۔ (آیات 4 تا 9)
جواب بچاؤ کا راستہ: دوسروں کے عیب ٹٹولنے کے بجائے ہمیشہ اپنی اصلاح کی فکر کی جائے اور زبان کو طعنے، غیبت اور چغلی سے پاک رکھا جائے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.