وَٱلۡعَصۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیت 1)
سُوْرَةُ الْعَصْرِ میں قسم اٹھائی گئی ہے:
الف) قیامت کی • ب) قرآن مجید کی • ج) زمانے کی • د) کائنات کی
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَٱلۡعَصۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیت 1)
سُوْرَةُ الْعَصْرِ میں قسم اٹھائی گئی ہے:
الف) قیامت کی • ب) قرآن مجید کی • ج) زمانے کی • د) کائنات کی
وَٱلۡعَصۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیت 1)
«اَلْعَصْر» قواعد کی رو سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیت 3)
«اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» آیتِ کریمہ میں آخرت کے نقصان سے بچنے کے لیے کتنے اعمال کا بیان ہے:
الف) دو • ب) چار • ج) پانچ • د) چھے
وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 1)
«وَيْل» کے معنی ہیں:
الف) نزاکت • ب) بشارت • ج) ہلاکت • د) ظرافت
وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 1)
«وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» آیتِ کریمہ کی رو سے ہلاکت ہے ہر اس شخص کے لیے جو طعنہ دینے والا اور:
الف) بدگمانی کرنے والا • ب) تجسس کرنے والا • ج) عیب نکالنے والا • د) مذاق اڑانے والا
ٱلَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى ٱلۡأَفۡـِٔدَةِ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 7)
«اَلْاَفْئِدَة» کے معنی ہیں:
الف) دل • ب) سینہ • ج) ہاتھ • د) پاؤں
إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ (سورۃ العصر ۔ آیت 2)
«اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ» — آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے بارے میں کیا فرمایا؟
بے شک انسان یقیناً نقصان میں ہے۔
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیت 3)
«اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے اہلِ ایمان کی صفات تحریر کریں۔
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔
خسارے سے بچنے والے اہلِ ایمان کی چار صفات بیان ہوئی ہیں:
سُوْرَةُ الْعَصْرِ میں فعل ماضی کی مثالیں تلاش کریں۔
سورۃ العصر (آیت 3) میں فعل ماضی کی یہ مثالیں ہیں:
وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 1)
«وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ» — آیتِ کریمہ میں کن لوگوں کے لیے تباہی بتائی گئی ہے؟
ہر ایسے شخص کے لیے ہلاکت ہے جو (آمنے سامنے) طعنہ دینے والا (اور پیٹھ پیچھے) عیب نکالنے والا ہو۔
ٱلَّذِي جَمَعَ مَالٗا وَعَدَّدَهُۥ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 2)
«اَلَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ» — آیتِ کریمہ میں آخرت سے غافل شخص کی کیا علامات بیان کی گئی ہیں؟
جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا۔
سُوْرَةُ الْهُمَزَةِ میں آنے والے کوئی سے دو اسماء اور دو افعال تحریر کریں۔
دو اسماء اور دو افعال
وَٱلۡعَصۡرِ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیات 1 تا 3)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
قسم ہے (تیزی سے گزرتے ہوئے) زمانے کی۔ بے شک انسان یقیناً نقصان میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔
سُوْرَةُ الْعَصْرِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فضیلت
كَلَّاۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِي ٱلۡحُطَمَةِ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡحُطَمَةُ نَارُ ٱللَّهِ ٱلۡمُوقَدَةُ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیات 4 تا 6)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
(ایسا) ہرگز نہیں (ہو گا)! وہ ضرور چورا چورا کر دینے والی (آگ) میں پھینکا جائے گا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ چورا چورا کر دینے والی کیا ہے؟ (وہ) اللہ کی آگ ہے جو بھڑکائی ہوئی ہے۔
سُوْرَةُ الْهُمَزَةِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فرامینِ نبوی ﷺ
سُوْرَةُ الْعَصْرِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ العصر کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ الْهُمَزَةِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الھمزۃ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ (سورۃ العصر ۔ آیت 3)
سُوْرَةُ الْعَصْرِ کی روشنی میں نجات کے لیے ضروری چار کاموں پر مذاکرہ کریں۔
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔
مذاکرے کے لیے چاروں کاموں کے نکات:
ٱلَّذِي جَمَعَ مَالٗا وَعَدَّدَهُۥ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 2)
مال کی محبت کو دل سے کیسے دور کیا جا سکتا ہے؟ تین باتیں تحریر کریں۔
جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا۔
مال کی (مذموم) محبت دل سے دور کرنے کی تین باتیں:
وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ ٱلَّذِي جَمَعَ مَالٗا وَعَدَّدَهُۥ يَحۡسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخۡلَدَهُۥ كَلَّاۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِي ٱلۡحُطَمَةِ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡحُطَمَةُ نَارُ ٱللَّهِ ٱلۡمُوقَدَةُ ٱلَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى ٱلۡأَفۡـِٔدَةِ إِنَّهَا عَلَيۡهِم مُّؤۡصَدَةٞ فِي عَمَدٖ مُّمَدَّدَةِۭ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیات 1 تا 9)
سُوْرَةُ الْهُمَزَةِ اور سُوْرَةُ الْعَصْرِ ترجمہ کے ساتھ زبانی یاد کریں۔
ہر ایسے شخص کے لیے ہلاکت ہے جو (آمنے سامنے) طعنہ دینے والا (اور پیٹھ پیچھے) عیب نکالنے والا ہو۔ جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا۔ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ (ایسا) ہرگز نہیں! وہ ضرور چورا چورا کر دینے والی (آگ) میں پھینکا جائے گا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ چورا چورا کر دینے والی کیا ہے؟ (وہ) اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ جو دلوں تک پہنچ جائے گی۔ بے شک وہ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی۔ لمبے لمبے ستونوں میں۔
وَٱلۡعَصۡرِ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ (سورۃ العصر ۔ آیات 1 تا 2)
«اَلْعَصْر» اور «اَلْخُسْر» کے الفاظ کی تشریح تحریر کریں۔
قسم ہے (تیزی سے گزرتے ہوئے) زمانے کی۔ بے شک انسان یقیناً نقصان میں ہے۔
«اَلْعَصْر» کی تشریح
وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ (سورۃ الھمزۃ ۔ آیت 1)
غیبت اور چغلی کے نقصانات تحریر کریں۔
ہر ایسے شخص کے لیے ہلاکت ہے جو (آمنے سامنے) طعنہ دینے والا (اور پیٹھ پیچھے) عیب نکالنے والا ہو۔
پیٹھ پیچھے کسی کا ایسا ذکر کرنا جو اسے ناگوار ہو «غیبت» ہے، اور لڑانے کے لیے ایک کی بات دوسرے تک پہنچانا «چغلی» — دونوں «هُمَزَة لُمَزَة» کے رویوں سے جڑی برائیاں ہیں۔ ان کے نقصانات:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔