ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 19: سبق 19: سورۃ القدر اور سورۃ البینۃ — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 24 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

لَيْلَةُ الْقَدْرِ کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی راتوں میں تلاش کرنے کی تلقین ہے:

الف) طاق راتوں میں • ب) جفت راتوں میں • ج) تمام راتوں میں • د) آخری تین راتوں میں

جواب الف) طاق راتوں میں — نبی کریم ﷺ کی تعلیم کے مطابق لیلۃ القدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں (21، 23، 25، 27، 29) میں تلاش کرنا چاہیے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ (سورۃ القدر ۔ آیت 3)

«اَلْفِ شَهْرٍ» کے معنی ہیں:

الف) ہزار دن • ب) ہزار ہفتے • ج) ہزار سال • د) ہزار مہینے

جواب د) ہزار مہینے — ذخیرۂ الفاظ میں «اَلْف» کا معنی ہزار اور «شَهْر» کا معنی مہینہ ہے: شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ (سورۃ القدر ۔ آیت 4)

«تَنَزَّلُ» قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر

جواب ب) فعل — «تَنَزَّلُ» (اترتے ہیں) فعل مضارع ہے: اس میں اترنے کا کام زمانۂ حال میں پایا جاتا ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

فِيهَا كُتُبٞ قَيِّمَةٞ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 3)

«قَيِّمَة» کے معنی ہیں:

الف) کمزور • ب) بھاری • ج) مضبوط • د) ہلکی

جواب ج) مضبوط — ذخیرۂ الفاظ میں «قَيِّمَة» کا معنی ہے: مضبوط — ان (صحیفوں) میں مضبوط (اور درست) احکام ہیں۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 5)

«وَمَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ» میں حکم دیا گیا ہے:

الف) اطاعت کا • ب) اتباع کا • ج) عبادت کا • د) پرہیز گاری کا

جواب ج) عبادت کا — «لِيَعْبُدُوا» کا معنی ہے: تاکہ وہ عبادت کریں — انھیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں، اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔
6 کثیر الانتخابی سوالات

رَسُولٞ مِّنَ ٱللَّهِ يَتۡلُواْ صُحُفٗا مُّطَهَّرَةٗ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 2)

«يَتْلُوْا» قواعد کی رو سے ہے:

الف) فعل ماضی • ب) فعل مضارع • ج) فعل امر • د) فعل نہی

جواب ب) فعل مضارع — «يَتْلُوْا» (وہ تلاوت فرماتے ہیں) فعل مضارع ہے: اس میں تلاوت کا کام زمانۂ حال میں پایا جاتا ہے۔

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ (سورۃ القدر ۔ آیت 3)

«لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ» — آیتِ کریمہ کی رو سے لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی کیا فضیلت ہے؟

ترجمہ

شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

جواب لیلۃ القدر کی یہ فضیلت بیان ہوئی ہے کہ یہ اکیلی رات ہزار مہینوں (یعنی تراسی سال سے زائد عرصے) کی عبادت سے بہتر ہے: اس رات کی عبادت کا اجر ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ہے، اور اسی رات میں قرآن مجید نازل فرمایا گیا۔ (آیت 1)
8 مختصر جوابات

لَمۡ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡبَيِّنَةُ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 1)

«لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ» — آیتِ کریمہ میں اہلِ کتاب اور مشرکین کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے جنھوں نے کفر کیا، وہ (کفر سے) الگ ہونے والے نہ تھے، جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل (نہ) آ جائے۔

جواب ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے کفر سے اس وقت تک الگ ہونے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس بینۃ — واضح دلیل — نہ آ جائے؛ اور وہ واضح دلیل اللہ کے رسول ﷺ ہیں، جو پاکیزہ صحیفے تلاوت فرماتے ہیں۔ (آیت 2)
9 مختصر جوابات

تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ (سورۃ القدر ۔ آیت 4)

«تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَالرُّوْحُ» میں «روح» سے کون مراد ہے؟

ترجمہ

اس (رات) میں فرشتے اور روح (الامین) اترتے ہیں۔

جواب «اَلرُّوْح» سے مراد روح الامین سیدنا جبریل علیہ السلام ہیں: فرشتوں کے سردار ہونے کی وجہ سے ان کا ذکر خاص طور پر الگ فرمایا گیا — سب اپنے رب کے حکم سے ہر (نیک) کام کے انتظام کے لیے اترتے ہیں۔
10 مختصر جوابات

رَسُولٞ مِّنَ ٱللَّهِ يَتۡلُواْ صُحُفٗا مُّطَهَّرَةٗ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 2)

«رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً» — آیتِ کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم کی کیا صفت بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

(یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول، جو (ان پر) پاکیزہ صحیفے تلاوت فرماتے ہیں۔

جواب رسول اللہ ﷺ کی یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور پاکیزہ صحیفے (قرآن مجید) تلاوت فرماتے ہیں، جن میں مضبوط اور درست احکام ہیں — آپ ﷺ ہی وہ «بینۃ» ہیں جس کا کفار مطالبہ کرتے تھے۔ (آیت 3)
11 مختصر جوابات

وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 5)

«حُنَفَآءَ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ» — آیتِ کریمہ میں دینِ اسلام پر قائم رہنے کی کون سی شرائط بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

(انھیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ) صرف اللہ کی عبادت کریں، اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے، یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں — اور یہی مضبوط (اور درست) دین ہے۔

دینِ اسلام پر قائم رہنے کی یہ شرائط بیان ہوئی ہیں:

1 صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔
2 باطل سے ہٹ کر یکسو (حنیف) ہو کر اللہ ہی کی طرف رخ رکھا جائے۔
3 نماز قائم کی جائے۔
4 زکوٰۃ ادا کی جائے — یہی مضبوط اور درست دین ہے۔
12 مختصر جوابات

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمۡ خَيۡرُ ٱلۡبَرِيَّةِ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 7)

«اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ» — آیتِ کریمہ میں بہترین مخلوق کی کن صفات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، یہی لوگ بہترین مخلوق ہیں۔

جواب بہترین مخلوق (خیر البریۃ) کی دو صفات کا ذکر ہے: وہ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے — ایمان اور عملِ صالح کے اسی جوڑ پر انھیں بہترین مخلوق قرار دیا گیا اور ان کی جزا ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں۔ (آیت 8)

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ (سورۃ القدر ۔ آیات 4 تا 5)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اس (رات) میں فرشتے اور روح (الامین جبریل علیہ السلام) اپنے رب کے حکم سے ہر (نیک) کام (کے انتظام) کے لیے اترتے ہیں۔ یہ (رات) فجر کے طلوع ہونے تک سلامتی (ہی سلامتی) ہے۔

جواب شبِ قدر کی خاص برکتیں بیان کی گئی ہیں کہ اُس رات فرشتے اور روح الامین (جبرائیلؑ) اپنے رب کے حکم سے زمین پر اترتے ہیں۔ وہ ہر اُس کام کو لے کر آتے ہیں جو اُس سال کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔ وہ رات شروع سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک سراسر سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے۔ اُس میں نہ کوئی شر ہوتا ہے نہ تکلیف، بلکہ رحمت اور امن اترتا ہے۔ سبق یہ ہے کہ رمضان کی اِس رات کو تلاش کریں اور عبادت و دعا میں گزاریں، کیونکہ یہ ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْقَدْرِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فرامینِ نبوی ﷺ

1 تعارف — نام کی وجہ — اس سورت میں لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا بیان ہے، جس میں قرآن مجید کا نزول ہوا؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلْقَدْر» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 5 آیات ہیں۔
3 فرامینِ نبوی ﷺ — آپ ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «جس نے لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام پچھلے (صغیرہ) گناہ معاف فرما دے گا۔» (صحیح بخاری: 35)
4 فرامینِ نبوی ﷺ — لیلۃ القدر میں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کی دعا بھی آپ ﷺ نے سکھائی — دعا اور اس کا ترجمہ سرگرمی 1 میں درج ہے۔ (جامع ترمذی: 3513)
جواب مرکزی مضمون — لیلۃ القدر کی عظمت کا بیان۔
15 تفصیلی جوابات

جَزَآؤُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهُۥ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 8)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

ان کی جزا ان کے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں؛ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس (اللہ) سے راضی ہوئے — یہ (اجر) اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا رہا۔

جواب ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کا انعام بیان کیا گیا ہے کہ اُن کے رب کے پاس اُن کا بدلہ ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے کبھی نکالے نہیں جائیں گے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ اُن سے راضی ہوگا اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے — یہ جنت سے بھی بڑی نعمت ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ سب اُس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہو۔ سبق یہ ہے کہ اللہ کا خوف ہی انسان کو نیکی پر قائم رکھتا ہے اور یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْبَيِّنَةِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — اس سورت کی پہلی آیت میں «اَلْبَيِّنَة» (روشن دلیل) کا ذکر ہوا ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلْبَيِّنَة» رکھا گیا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں مشرکینِ عرب اور اہلِ کتاب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب تک کوئی بینۃ (حجت و دلیل) سامنے نہ آئے، ہم ایمان نہیں لائیں گے۔
2 مدنی سورت — یہ مدنی سورت ہے اور اس میں 8 آیات ہیں۔
جواب مرکزی مضمون — قرآنِ کریم کی حقانیت کا بیان۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْقَدْرِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ القدر کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 لیلۃ القدر (قدر کی رات) کی عظمت اور اہمیت کا بیان۔
2 نبی کریم ﷺ کی امت کو لیلۃ القدر عطا فرمانا۔
3 لیلۃ القدر کا ہزار مہینوں سے بہتر ہونا۔
4 اس رات کی عظمت کی وجہ قرآن مجید کا نازل کیا جانا۔
5 قدر کے معنی: عزت و شرف اور تقدیر۔
6 اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رمضان سے اگلے رمضان تک تمام مخلوقات کے لیے مقرر کردہ احکامات فرشتوں کے سپرد کیے جانا۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْبَيِّنَةِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ البینۃ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوموں کو کفر و شرک کی گمراہی سے نکالنے کے لیے انبیاء و رسل علیہم السلام کو واضح تعلیمات کے ساتھ بھیجنے کا بیان۔
2 ہدایت کا راستہ اختیار نہیں کرنے والے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق قرار۔
3 ہدایت کا راستہ اختیار کرنے والے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین مخلوق قرار۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

شبِ قدر کی دعا ترجمہ کے ساتھ یاد کریں اور اسے پڑھنے کا اہتمام کریں۔

نبی کریم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لیلۃ القدر کے لیے یہ دعا سکھائی: اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ (جامع ترمذی: 3513) ترجمہ: اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا ہے، تو معافی کو پسند فرماتا ہے، پس تو مجھے معاف فرما دے۔

1 یاد کرنے کا طریقہ — دعا کو ترجمے کے ساتھ روزانہ تین بار پڑھیں؛ الفاظ اور معنی جوڑ کر یاد کریں اور کسی کو سنا کر پختہ کریں۔
2 اہتمام — رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں یہ دعا کثرت سے پڑھیں — نماز، تلاوت اور ذکر کے ساتھ۔
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

باغات 9۔ نماز اور زکوٰۃ 10۔ مضبوط احکام

درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْقَدْرِ اور سُوْرَةُ الْبَيِّنَةِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ ہزار مہینوں سے بہتر رات 2۔ فرشتوں کا نزول 3۔ شبِ قدر 4۔ نزولِ قرآن 5۔ سلامتی والی رات 6۔ ایمان اور نیک عمل 7۔ اہلِ کتاب 8۔ ہمیشہ رہنے والے باغات 9۔ نماز اور زکوٰۃ 10۔ مضبوط احکام

1 1۔ ہزار مہینوں سے بہتر رات — «خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ» — (شبِ قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (القدر: 3)
2 2۔ فرشتوں کا نزول — «تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ» — اس میں فرشتے اترتے ہیں۔ (القدر: 4)
3 3۔ شبِ قدر — «لَيۡلَةِ ٱلۡقَدۡرِ» — قدر (عزت و شرف) والی رات۔ (القدر: 1)
4 4۔ نزولِ قرآن — «إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ» — بے شک ہم نے اس (قرآن) کو نازل فرمایا۔ (القدر: 1)
5 5۔ سلامتی والی رات — «سَلَٰمٌ هِيَ» — یہ (رات) سلامتی (ہی سلامتی) ہے۔ (القدر: 5)
6 6۔ ایمان اور نیک عمل — «ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ» — (جو لوگ) ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ (البینۃ: 7)
7 7۔ اہلِ کتاب — «أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ» — اہلِ کتاب (جن کو کتاب دی گئی)۔ (البینۃ: 1)
8 8۔ ہمیشہ رہنے والے باغات — «جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ» — ہمیشہ رہنے کے باغات۔ (البینۃ: 8)
9 9۔ نماز اور زکوٰۃ — «وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ» — اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ (البینۃ: 5)
10 10۔ مضبوط احکام — «كُتُبٞ قَيِّمَةٞ» — (ان میں) مضبوط (اور درست) احکام ہیں۔ (البینۃ: 3)
21 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةِ ٱلۡقَدۡرِ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ (سورۃ القدر ۔ آیات 1 تا 5)

سُوْرَةُ الْقَدْرِ کا ترجمہ زبانی یاد کریں۔

ترجمہ

بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل فرمایا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (الامین جبریل علیہ السلام) اپنے رب کے حکم سے ہر (نیک) کام (کے انتظام) کے لیے اترتے ہیں۔ یہ (رات) فجر کے طلوع ہونے تک سلامتی (ہی سلامتی) ہے۔

1 یاد کرنے کا طریقہ — ایک ایک آیت کا عربی متن اور ترجمہ ملا کر پڑھیں، پھر ترجمہ زبانی دہرائیں؛ روزانہ پانچوں آیتوں کا ترجمہ کسی ساتھی یا گھر والے کو سنائیں، یہاں تک کہ روانی سے یاد ہو جائے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ (سورۃ القدر ۔ آیت 5)

مسنون اعمال کی روشنی میں ہمیں لیلۃ القدر کیسے گزارنی چاہیے؟

ترجمہ

یہ (رات) فجر کے طلوع ہونے تک سلامتی (ہی سلامتی) ہے۔

لیلۃ القدر امن و سلامتی والی رات ہے؛ مسنون اعمال کی روشنی میں اسے یوں گزارنا چاہیے:

1 تلاش — رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں (21، 23، 25، 27، 29) میں اس رات کو تلاش کیا جائے؛ آپ ﷺ آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے اور عبادت میں خوب محنت فرماتے تھے۔
2 قیام — ایمان اور احتساب (ثواب کی نیت) کے ساتھ قیام کیا جائے — تراویح، تہجد اور نوافل — کہ اس پر پچھلے (صغیرہ) گناہوں کی معافی کا وعدہ ہے۔ (صحیح بخاری: 35)
3 مسنون دعا — آپ ﷺ کی سکھائی ہوئی دعا «اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ…» کثرت سے پڑھی جائے۔ (دعا مع ترجمہ سرگرمی 1 میں ہے۔)
4 تلاوت و ذکر — قرآن مجید کی تلاوت، ذکر، استغفار اور درود کا اہتمام کیا جائے۔
5 دعا و صدقہ — اپنے، والدین اور امت کے لیے دعائیں کی جائیں اور حسبِ استطاعت صدقہ کیا جائے۔
23 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآۚ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمۡ شَرُّ ٱلۡبَرِيَّةِ إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمۡ خَيۡرُ ٱلۡبَرِيَّةِ جَزَآؤُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهُۥ (سورۃ البینۃ ۔ آیات 6 تا 8)

«شَرُّ الْبَرِيَّةِ» اور «خَيْرُ الْبَرِيَّةِ» کے کردار اور انجام کے بارے میں تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے، (وہ) جہنم کی آگ میں ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے — یہی لوگ بدترین مخلوق ہیں۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، یہی لوگ بہترین مخلوق ہیں۔ ان کی جزا ان کے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں …

1 شر البریۃ کا کردار — واضح دلیل (رسول اللہ ﷺ اور قرآن) آ جانے کے باوجود کفر پر جمے رہنا اور حق کا انکار کرنا — خواہ اہلِ کتاب ہوں یا مشرکین۔
2 شر البریۃ کا انجام — جہنم کی آگ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے — اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہی بدترین مخلوق ہیں۔ (آیت 6)
3 خیر البریۃ کا کردار — ایمان لانا اور نیک عمل کرتے رہنا، اور اپنے رب کی خشیت (ڈر) دل میں رکھنا۔ (آیات 7، 8)
4 خیر البریۃ کا انجام — ہمیشہ رہنے کے باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہیں؛ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ (آیت 8)
جواب حاصل: مخلوق میں بہترین اور بدترین کا فیصلہ نسل یا مال سے نہیں، ایمان اور عمل سے ہوتا ہے — اور خشیتِ الٰہی ہی اس اجر کی کنجی ہے۔
24 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ

سُوْرَةُ الْقَدْرِ اور سُوْرَةُ الْبَيِّنَةِ میں سے اسم، فعل اور حرف کی مثالیں تلاش کر کے لکھیں۔

1 اسم کی مثالیں — 1 — «ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ» — فرشتے۔ (القدر: 4)
2 اسم کی مثالیں — 2 — «ٱلۡفَجۡرِ» — فجر۔ (القدر: 5)
3 اسم کی مثالیں — 3 — «رَسُولٞ» — رسول۔ (البینۃ: 2)
4 اسم کی مثالیں — 4 — «ٱلزَّكَوٰةَۚ» — زکوٰۃ۔ (البینۃ: 5)
5 فعل کی مثالیں — 1 — «أَنزَلۡنَٰهُ» — ہم نے اسے نازل فرمایا؛ فعل ماضی۔ (القدر: 1)
6 فعل کی مثالیں — 2 — «تَنَزَّلُ» — اترتے ہیں؛ فعل مضارع۔ (القدر: 4)
7 فعل کی مثالیں — 3 — «يَتۡلُواْ» — وہ تلاوت فرماتے ہیں؛ فعل مضارع۔ (البینۃ: 2)
8 فعل کی مثالیں — 4 — «رَّضِيَ» — وہ راضی ہوا؛ فعل ماضی۔ (البینۃ: 8)
9 حرف کی مثالیں — 1 — «فِي» — «فِيْ» حرفِ جر: (شبِ قدر) میں۔ (القدر: 1)
10 حرف کی مثالیں — 2 — «مِّنۡ» — «مِنْ» حرفِ جر: (ہزار مہینوں) سے۔ (القدر: 3)
11 حرف کی مثالیں — 3 — «حَتَّىٰ» — «حَتّٰى» حرفِ جر/غایت: (فجر کے طلوع ہونے) تک۔ (القدر: 5)
12 حرف کی مثالیں — 4 — «إِلَّا» — «اِلَّا» حرفِ استثنا: مگر/سوائے۔ (البینۃ: 5)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.