لَيْلَةُ الْقَدْرِ کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی راتوں میں تلاش کرنے کی تلقین ہے:
الف) طاق راتوں میں • ب) جفت راتوں میں • ج) تمام راتوں میں • د) آخری تین راتوں میں
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
لَيْلَةُ الْقَدْرِ کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی راتوں میں تلاش کرنے کی تلقین ہے:
الف) طاق راتوں میں • ب) جفت راتوں میں • ج) تمام راتوں میں • د) آخری تین راتوں میں
لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ (سورۃ القدر ۔ آیت 3)
«اَلْفِ شَهْرٍ» کے معنی ہیں:
الف) ہزار دن • ب) ہزار ہفتے • ج) ہزار سال • د) ہزار مہینے
تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ (سورۃ القدر ۔ آیت 4)
«تَنَزَّلُ» قواعد کی رو سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر
فِيهَا كُتُبٞ قَيِّمَةٞ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 3)
«قَيِّمَة» کے معنی ہیں:
الف) کمزور • ب) بھاری • ج) مضبوط • د) ہلکی
وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 5)
«وَمَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ» میں حکم دیا گیا ہے:
الف) اطاعت کا • ب) اتباع کا • ج) عبادت کا • د) پرہیز گاری کا
رَسُولٞ مِّنَ ٱللَّهِ يَتۡلُواْ صُحُفٗا مُّطَهَّرَةٗ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 2)
«يَتْلُوْا» قواعد کی رو سے ہے:
الف) فعل ماضی • ب) فعل مضارع • ج) فعل امر • د) فعل نہی
لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ (سورۃ القدر ۔ آیت 3)
«لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ» — آیتِ کریمہ کی رو سے لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی کیا فضیلت ہے؟
شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
لَمۡ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡبَيِّنَةُ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 1)
«لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ» — آیتِ کریمہ میں اہلِ کتاب اور مشرکین کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟
اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے جنھوں نے کفر کیا، وہ (کفر سے) الگ ہونے والے نہ تھے، جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل (نہ) آ جائے۔
تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ (سورۃ القدر ۔ آیت 4)
«تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَالرُّوْحُ» میں «روح» سے کون مراد ہے؟
اس (رات) میں فرشتے اور روح (الامین) اترتے ہیں۔
رَسُولٞ مِّنَ ٱللَّهِ يَتۡلُواْ صُحُفٗا مُّطَهَّرَةٗ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 2)
«رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً» — آیتِ کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم کی کیا صفت بیان کی گئی ہے؟
(یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول، جو (ان پر) پاکیزہ صحیفے تلاوت فرماتے ہیں۔
وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 5)
«حُنَفَآءَ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ» — آیتِ کریمہ میں دینِ اسلام پر قائم رہنے کی کون سی شرائط بیان ہوئی ہیں؟
(انھیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ) صرف اللہ کی عبادت کریں، اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے، یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں — اور یہی مضبوط (اور درست) دین ہے۔
دینِ اسلام پر قائم رہنے کی یہ شرائط بیان ہوئی ہیں:
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمۡ خَيۡرُ ٱلۡبَرِيَّةِ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 7)
«اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ» — آیتِ کریمہ میں بہترین مخلوق کی کن صفات کا ذکر ہے؟
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، یہی لوگ بہترین مخلوق ہیں۔
تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ (سورۃ القدر ۔ آیات 4 تا 5)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اس (رات) میں فرشتے اور روح (الامین جبریل علیہ السلام) اپنے رب کے حکم سے ہر (نیک) کام (کے انتظام) کے لیے اترتے ہیں۔ یہ (رات) فجر کے طلوع ہونے تک سلامتی (ہی سلامتی) ہے۔
سُوْرَةُ الْقَدْرِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فرامینِ نبوی ﷺ
جَزَآؤُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهُۥ (سورۃ البینۃ ۔ آیت 8)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
ان کی جزا ان کے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں؛ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس (اللہ) سے راضی ہوئے — یہ (اجر) اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا رہا۔
سُوْرَةُ الْبَيِّنَةِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف
سُوْرَةُ الْقَدْرِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ القدر کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ الْبَيِّنَةِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ البینۃ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
شبِ قدر کی دعا ترجمہ کے ساتھ یاد کریں اور اسے پڑھنے کا اہتمام کریں۔
نبی کریم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لیلۃ القدر کے لیے یہ دعا سکھائی: اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ (جامع ترمذی: 3513) ترجمہ: اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا ہے، تو معافی کو پسند فرماتا ہے، پس تو مجھے معاف فرما دے۔
باغات 9۔ نماز اور زکوٰۃ 10۔ مضبوط احکام
درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْقَدْرِ اور سُوْرَةُ الْبَيِّنَةِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ ہزار مہینوں سے بہتر رات 2۔ فرشتوں کا نزول 3۔ شبِ قدر 4۔ نزولِ قرآن 5۔ سلامتی والی رات 6۔ ایمان اور نیک عمل 7۔ اہلِ کتاب 8۔ ہمیشہ رہنے والے باغات 9۔ نماز اور زکوٰۃ 10۔ مضبوط احکام
إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةِ ٱلۡقَدۡرِ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ (سورۃ القدر ۔ آیات 1 تا 5)
سُوْرَةُ الْقَدْرِ کا ترجمہ زبانی یاد کریں۔
بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل فرمایا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (الامین جبریل علیہ السلام) اپنے رب کے حکم سے ہر (نیک) کام (کے انتظام) کے لیے اترتے ہیں۔ یہ (رات) فجر کے طلوع ہونے تک سلامتی (ہی سلامتی) ہے۔
سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ (سورۃ القدر ۔ آیت 5)
مسنون اعمال کی روشنی میں ہمیں لیلۃ القدر کیسے گزارنی چاہیے؟
یہ (رات) فجر کے طلوع ہونے تک سلامتی (ہی سلامتی) ہے۔
لیلۃ القدر امن و سلامتی والی رات ہے؛ مسنون اعمال کی روشنی میں اسے یوں گزارنا چاہیے:
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآۚ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمۡ شَرُّ ٱلۡبَرِيَّةِ إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمۡ خَيۡرُ ٱلۡبَرِيَّةِ جَزَآؤُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهُۥ (سورۃ البینۃ ۔ آیات 6 تا 8)
«شَرُّ الْبَرِيَّةِ» اور «خَيْرُ الْبَرِيَّةِ» کے کردار اور انجام کے بارے میں تحریر کریں۔
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے، (وہ) جہنم کی آگ میں ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے — یہی لوگ بدترین مخلوق ہیں۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، یہی لوگ بہترین مخلوق ہیں۔ ان کی جزا ان کے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں …
تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ
سُوْرَةُ الْقَدْرِ اور سُوْرَةُ الْبَيِّنَةِ میں سے اسم، فعل اور حرف کی مثالیں تلاش کر کے لکھیں۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔