سورۃ ھود کی آیات 50 تا 57 کی روشنی میں سیدنا ہود علیہ السلام اور قومِ عاد کا مکالمہ درج ذیل ہے:
1
سیدنا ہود علیہ السلام — اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں؛ تم (بتوں کو شریک بنا کر) محض جھوٹ گھڑنے والے ہو۔ (آیت 50)
2
سیدنا ہود علیہ السلام — اے میری قوم! میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا؛ میرا اجر تو صرف اس ذات پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (آیت 51)
3
سیدنا ہود علیہ السلام — اے میری قوم! اپنے رب سے مغفرت مانگو، پھر اس کے حضور توبہ کرو؛ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا اور تمھاری قوت میں اضافہ فرمائے گا، اور تم مجرم بن کر منہ نہ پھیرو۔ (آیت 52)
4
قومِ عاد — اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے، اور ہم تمھارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں۔ (آیت 53)
5
قومِ عاد — ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تمھیں خرابی (دیوانگی) میں مبتلا کر دیا ہے۔ (آیت 54)
6
سیدنا ہود علیہ السلام — بے شک میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان (سب) سے بری ہوں جنھیں تم اللہ کے سوا شریک ٹھہراتے ہو؛ پس تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کر لو اور مجھے مہلت نہ دو۔ (آیات 54، 55)
7
سیدنا ہود علیہ السلام — بے شک میں نے اللہ پر بھروسا کیا جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب؛ کوئی جاندار نہیں مگر اس کی چوٹی اسی کے قبضے میں ہے۔ بے شک میرا رب سیدھے راستے پر (ملتا) ہے۔ (آیت 56)
8
سیدنا ہود علیہ السلام — پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو جو پیغام دے کر مجھے بھیجا گیا تھا وہ میں تمھیں پہنچا چکا ہوں؛ میرا رب تمھاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ (آیت 57)
9
دعوت کا انداز — سیدنا ہود علیہ السلام نے نرمی، خیر خواہی اور دلیل کے ساتھ توحید کی دعوت دی۔
10
بے لوثی — انھوں نے دعوت پر کوئی اجر نہیں مانگا؛ داعی کو بے لوث ہونا چاہیے۔
11
قوم کا رویہ — قوم نے دلیل کے بجائے ضد، الزام تراشی اور دھمکی کا راستہ اپنایا۔
12
توکل — پوری قوم کے مقابلے میں سیدنا ہود علیہ السلام کا سہارا صرف اللہ تعالیٰ پر توکل تھا۔