ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 1: سبق 1: سورۃ ھود (آیات: 1 تا 60) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 21 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱصۡنَعِ ٱلۡفُلۡكَ بِأَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا وَلَا تُخَٰطِبۡنِي فِي ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ إِنَّهُم مُّغۡرَقُونَ (سورۃ ھود ۔ آیت 37)

«وَاصْنَعِ الْفُلْكَ» کی رو سے سیدنا نوح علیہ السلام کو بنانے کا حکم دیا گیا:

الف) گھر • ب) قلعہ • ج) دروازہ • د) کشتی

جواب د) کشتی — «اَلْفُلْك» کا معنی کشتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور ہماری وحی (ہدایت) کے مطابق کشتی بناؤ۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱصۡنَعِ ٱلۡفُلۡكَ بِأَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا وَلَا تُخَٰطِبۡنِي فِي ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ إِنَّهُم مُّغۡرَقُونَ (سورۃ ھود ۔ آیت 37)

«وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا» — اور مجھ سے بات نہ کرو ان لوگوں کے بارے میں:

الف) جنھوں نے کفر کیا • ب) جنھوں نے ظلم کیا • ج) جنھوں نے شرک کیا • د) جنھوں نے قتل کیا

جواب ب) جنھوں نے ظلم کیا — آیت کے الفاظ «فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا» ہیں، یعنی ظلم کرنے والوں کے حق میں سفارش نہ کرنا، کیوں کہ ان کے غرق کیے جانے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

إِنِّي تَوَكَّلۡتُ عَلَى ٱللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمۚ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ ءَاخِذُۢ بِنَاصِيَتِهَآۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ (سورۃ ھود ۔ آیت 56)

«اِنِّيْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ» میں «تَوَكَّلْتُ» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر

جواب ب) فعل — «تَوَكَّلْتُ» فعل ماضی معروف ہے: بھروسا کرنے کا کام گزرے ہوئے زمانے میں پایا گیا اور اس کے آخر میں «تُ» ضمیرِ فاعل (میں نے) موجود ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ فَأۡتُواْ بِعَشۡرِ سُوَرٖ مِّثۡلِهِۦ مُفۡتَرَيَٰتٖ وَٱدۡعُواْ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 13)

«فَأْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ» میں کفار سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ لے کر آئیں قرآنِ حکیم جیسی:

الف) ایک سورت • ب) دو سورتیں • ج) پانچ سورتیں • د) دس سورتیں

جواب د) دس سورتیں — «بِعَشْرِ سُوَرٍ» کا معنی دس سورتیں ہے۔ منکرینِ قرآن کو چیلنج دیا گیا کہ اگر تمھارے خیال میں یہ قرآن گھڑا ہوا ہے تو تم بھی اس جیسی دس گھڑی ہوئی سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جسے بلا سکتے ہو بلا لو۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَهِيَ تَجۡرِي بِهِمۡ فِي مَوۡجٖ كَٱلۡجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبۡنَهُۥ وَكَانَ فِي مَعۡزِلٖ يَٰبُنَيَّ ٱرۡكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلۡكَٰفِرِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 42)

«وَهِيَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ» — اور وہ کشتی ان کے ساتھ چلتی تھی ایسی موجوں میں:

الف) جو لہروں جیسی تھیں • ب) جو نیلوں جیسی تھیں • ج) جو جہاز جیسی تھیں • د) جو پہاڑ جیسی تھیں

جواب د) جو پہاڑ جیسی تھیں — «كَالْجِبَال» کا معنی پہاڑوں جیسی ہے۔ طوفان کی موجیں پہاڑوں کی طرح بلند تھیں اور کشتی انھی موجوں میں چل رہی تھی۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

وَأَنِ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِ يُمَتِّعۡكُم مَّتَٰعًا حَسَنًا إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى وَيُؤۡتِ كُلَّ ذِي فَضۡلٖ فَضۡلَهُۥۖ وَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٖ كَبِيرٍ (سورۃ ھود ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کرنے والوں کے لیے کن انعامات کا ذکر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور یہ کہ اپنے رب سے مغفرت مانگو، پھر اس کے حضور توبہ کرو تو وہ تمھیں ایک مقررہ مدت تک اچھا سامانِ (زندگی) دے گا اور ہر فضل والے کو اس کا فضل عطا فرمائے گا۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو بے شک میں تمھارے بارے میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

آیتِ کریمہ میں توبہ و استغفار کرنے والوں کے لیے دو انعامات کا ذکر ہے۔

1 اچھا سامانِ زندگی — اللہ تعالیٰ ایک مقررہ مدت (یعنی زندگی کی مہلت) تک اچھی گزران اور عمدہ سامانِ زندگی عطا فرمائے گا۔
2 ہر فضل والے کو اس کا فضل — جو جتنی فضیلت اور نیکی والا ہو گا، اللہ تعالیٰ اسے اس کے مرتبے کے مطابق فضل (اجر) عطا فرمائے گا۔
جواب ساتھ ہی تنبیہ بھی ہے کہ منہ پھیرنے والوں کے لیے بڑے دن (قیامت) کا عذاب ہے۔
7 مختصر جوابات

أَلَآ إِنَّهُمۡ يَثۡنُونَ صُدُورَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُواْ مِنۡهُۚ أَلَا حِينَ يَسۡتَغۡشُونَ ثِيَابَهُمۡ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ (سورۃ ھود ۔ آیت 5)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت کے حوالے سے کیا بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

آگاہ ہو جاؤ! بے شک وہ اپنے سینوں کو دہرا کر لیتے ہیں تاکہ اللہ سے چھپے رہیں۔ سن لو! جب وہ اپنے کپڑے اوڑھ لیتے ہیں (تب بھی) وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ بے شک وہ سینوں کے رازوں کو خوب جاننے والا ہے۔

آیتِ کریمہ میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے: انسان چھپ کر یا کپڑوں میں لپٹ کر بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہو سکتا۔

1 ظاہر و پوشیدہ سب معلوم — جو کچھ لوگ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں، دونوں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔
2 سینوں کے راز — وہ «عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْر» ہے، یعنی دلوں میں چھپی باتوں کو بھی خوب جانتا ہے۔
3 نتیجہ — لہٰذا اللہ تعالیٰ سے کچھ چھپانے کی کوشش بے سود ہے؛ ظاہر و باطن دونوں کو اسی کے سامنے درست رکھنا چاہیے۔
8 مختصر جوابات

وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَاۚ كُلّٞ فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ (سورۃ ھود ۔ آیت 6)

آیتِ کریمہ میں جان داروں کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

اور زمین میں چلنے پھرنے والا کوئی جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ (کے ذمۂ کرم) پر ہے، اور وہ اس کے رہنے کی جگہ کو بھی جانتا ہے اور اس کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی۔ سب کچھ واضح کتاب (لوحِ محفوظ) میں (لکھا ہوا) ہے۔

آیتِ کریمہ میں جان داروں کے متعلق تین باتیں بتائی گئی ہیں۔

1 رزق کی ذمہ داری — زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے۔
2 ٹھکانے کا علم — اللہ تعالیٰ ہر جاندار کے رہنے کی جگہ (مُسْتَقَر) اور سونپے جانے کی جگہ (مُسْتَوْدَع) کو جانتا ہے۔
3 لوحِ محفوظ میں اندراج — یہ سب کچھ واضح کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
9 مختصر جوابات

وَيَصۡنَعُ ٱلۡفُلۡكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَأٞ مِّن قَوۡمِهِۦ سَخِرُواْ مِنۡهُۚ قَالَ إِن تَسۡخَرُواْ مِنَّا فَإِنَّا نَسۡخَرُ مِنكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُونَ (سورۃ ھود ۔ آیت 38)

آیتِ کریمہ کی رو سے سیدنا نوح علیہ السلام نے قوم کے سرداروں کے مذاق کا کیا جواب دیا؟

ترجمہ

اور (نوح علیہ السلام) کشتی بناتے تھے اور جب بھی ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے۔ (نوح علیہ السلام نے) فرمایا: اگر (آج) تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو (کل) ہم بھی تمھارا اسی طرح مذاق اڑائیں گے جیسے تم مذاق اڑاتے ہو۔

جواب سیدنا نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم (کشتی بنانے پر) ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو عنقریب ہم بھی تمھارا اسی طرح مذاق اڑائیں گے جیسے تم اڑاتے ہو، اور جلد تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے۔
10 مختصر جوابات

وَهِيَ تَجۡرِي بِهِمۡ فِي مَوۡجٖ كَٱلۡجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبۡنَهُۥ وَكَانَ فِي مَعۡزِلٖ يَٰبُنَيَّ ٱرۡكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلۡكَٰفِرِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 42)

آیتِ کریمہ میں سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کیا فرمایا؟

ترجمہ

اور وہ (کشتی) انھیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لیے چل رہی تھی، اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو، جو الگ (کنارے پر کھڑا) تھا، پکارا: اے میرے پیارے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔

جواب سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پکار کر فرمایا: «يٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ» — اے میرے پیارے بیٹے! ہمارے ساتھ (کشتی میں) سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبۡغُونَهَا عِوَجٗا وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ (سورۃ ھود ۔ آیت 19)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

(یہ ظالم وہ ہیں) جو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی (ٹیڑھ) تلاش کرتے ہیں، اور وہی آخرت کا بھی انکار کرنے والے ہیں۔

جواب اللہ کا راستہ سیدھا اور صاف ہے۔ کچھ لوگ خود تو اِس پر چلتے ہی نہیں، اوپر سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔ وہ دین میں عیب نکالتے ہیں تاکہ لوگ شک میں پڑ جائیں۔ ایسا وہ اِس لیے کرتے ہیں کہ اُنہیں آخرت پر یقین ہی نہیں۔ سبق یہ ہے کہ ہم نیکی سے کسی کو روکیں نہیں، بلکہ خود بھی چلیں اور دوسروں کو بھی بلائیں۔
12 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ هُوْد کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور نبی کریم ﷺ پر اس سورت کا اثر

1 تعارف — نام کی وجہ — اس سورت کی آیت نمبر 50 تا 60 میں سیدنا ہود علیہ السلام اور ان کی قوم (عاد) کا واقعہ بیان ہوا ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ هُوْد» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 123 آیات ہیں۔
3 تعارف — اس سبق میں — اس سبق میں سورت کی ابتدائی آیات (1 تا 60) شامل ہیں۔
4 نبی کریم ﷺ پر اس سورت کا اثر — صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ سے بڑھاپے کے آثار جلد ظاہر ہونے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «مجھے سورۂ ہود، سورۂ واقعہ، سورۂ مرسلات، سورۂ عَمَّ يَتَسَآءَلُوْن اور سورۂ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ نے بوڑھا کر دیا ہے۔» (جامع ترمذی: 3297)
جواب مرکزی مضمون — توحید اور رسالت کی دعوت، اور اس (دعوت) کا انکار کرنے والوں کا عبرت ناک انجام۔
13 تفصیلی جوابات

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَأَخۡبَتُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ (سورۃ ھود ۔ آیت 23)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کی، وہی جنت والے ہیں؛ وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

جواب یہاں کامیاب لوگوں کی تین نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ دل سے ایمان لاتے ہیں، دوسری یہ کہ اچھے کام کرتے ہیں، اور تیسری یہ کہ اللہ کے سامنے عاجزی سے جھک جاتے ہیں۔ صرف زبان سے کہہ دینا کافی نہیں، عمل بھی ضروری ہے۔ ایسے لوگوں کا انعام جنت ہے۔ اور وہ جنت ختم نہیں ہوگی — وہ ہمیشہ ہمیشہ اُس میں رہیں گے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ هُوْد کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ ھود کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 قرآنِ حکیم کی حقانیت، توحید، رسالت اور آخرت کا بیان۔
2 مشرکینِ مکہ کے (معجزات کے) مطالبے پر ان کا مسکت جواب۔
3 منکرینِ قرآن سے اس قرآنِ کریم جیسی دس سورتیں لانے کا مطالبہ۔
4 اللہ تعالیٰ کے خالق اور قادر ہونے کا تذکرہ۔
5 قرآنِ مجید کے معجزہ ہونے کا بیان۔
6 قرآنِ کریم کو جھٹلانے والوں کے انجام کا بیان۔
7 سیدنا نوح، سیدنا ہود اور سیدنا صالح علیہم السلام کے واقعات کا ذکر۔
8 سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس مہمان فرشتوں کی آمد کا بیان۔
9 سیدنا شعیب اور سیدنا لوط علیہما السلام کے واقعات اور فرعون کے انجام کا بیان۔
10 کفر و تکذیب کا انجام اور اہلِ محشر کی اقسام کا ذکر۔
11 مشکل حالات میں احکامِ الٰہی (اقامتِ صلوٰۃ) پر استقامت کا حکم۔
12 سابقہ اقوام کی ہلاکت کے اسباب کا بیان۔
13 برائی سے روکنے والوں کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہنے کا بیان۔
14 واقعاتِ انبیائے کرام علیہم السلام میں مسلمانوں کے لیے نصیحت۔
15 انفرادی اور اجتماعی اصلاح کے لیے ترغیب و ترہیب کے مضامین۔
16 اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسا رکھنے کا حکم۔
15 تفصیلی جوابات

وَيَٰقَوۡمِ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِ يُرۡسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡكُم مِّدۡرَارٗا وَيَزِدۡكُمۡ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡاْ مُجۡرِمِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 52)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور اے میری قوم! اپنے رب سے مغفرت مانگو، پھر اس کے حضور توبہ کرو تو وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا اور تمھاری قوت میں مزید قوت کا اضافہ فرمائے گا، اور تم جرم کرتے ہوئے منہ نہ پھیرو۔

جواب یہ حضرت ہودؑ کی بات ہے جو اُنہوں نے اپنی قوم "عاد" سے کہی۔ وہ لوگ بہت طاقتور تھے مگر بت پرستی کرتے تھے۔ ہودؑ نے کہا: اللہ سے معافی مانگو اور اپنی غلطی چھوڑ دو۔ اِس کے بدلے اللہ تمہیں بارش بھی دے گا اور طاقت بھی بڑھا دے گا۔ سبق یہ ہے کہ توبہ اور استغفار سے اللہ ناراض نہیں ہوتا، بلکہ اپنی نعمتیں اور بڑھا دیتا ہے۔
16 تفصیلی جوابات

فعل ماضی معروف کی تعریف کریں اور سبق سے فعل ماضی معروف کی کوئی سی پانچ مثالیں تلاش کر کے تحریر کریں۔

تعریف اور سبق (سورۃ ھود) سے پانچ مثالیں

1 تعریف — وہ فعل جس میں کسی کام کا گزرے ہوئے زمانے میں کرنا، ہونا یا سہنے کا مفہوم پایا جائے، فعل ماضی کہلاتا ہے۔ اگر اس میں فاعل کا معلوم ہونا ظاہر ہو — خواہ فاعل ظاہر (اسم کی صورت میں) ہو یا ضمیر کی صورت میں چھپا ہوا — تو وہ فعل ماضی معروف کہلاتا ہے۔
2 سبق (سورۃ ھود) سے پانچ مثالیں — 1۔ خَلَقَ — «اس نے پیدا کیا» — «خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ» میں فاعل اللہ تعالیٰ ہے۔ (آیت 7)
3 سبق (سورۃ ھود) سے پانچ مثالیں — 2۔ سَخِرُواْ — «انھوں نے مذاق اڑایا» — فاعل قوم کے سردار ہیں۔ (آیت 38)
4 سبق (سورۃ ھود) سے پانچ مثالیں — 3۔ قَالَ — «اس نے کہا / فرمایا» — فاعل سیدنا نوح علیہ السلام ہیں۔ (آیت 38)
5 سبق (سورۃ ھود) سے پانچ مثالیں — 4۔ وَنَادَىٰ نُوحٌ — «اور نوح (علیہ السلام) نے پکارا» — فعل «نَادٰى» اور فاعل «نُوْح» ظاہر ہے۔ (آیت 42)
6 سبق (سورۃ ھود) سے پانچ مثالیں — 5۔ تَوَكَّلۡتُ — «میں نے بھروسا کیا» — فاعل ضمیر «تُ» (میں) کی صورت میں موجود ہے۔ (آیت 56)

سرگرمیاں برائے طلبہ

17 سرگرمیاں برائے طلبہ

کم از کم ان دس نیکیوں کی فہرست بنائیں جو اسکول میں رہتے ہوئے ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ کر سکتے ہیں۔

اسکول میں رہتے ہوئے ایک طالب علم درج ذیل نیکیاں کر سکتا ہے:

1 نماز کی پابندی کرنا اور ساتھیوں کو نماز کی ترغیب دینا۔
2 ہمیشہ سچ بولنا اور جھوٹ سے بچنا۔
3 اساتذہ کا ادب و احترام کرنا اور ان کی بات توجہ سے سننا۔
4 سلام میں پہل کرنا اور سب سے خندہ پیشانی سے ملنا۔
5 کمزور ہم جماعتوں کی پڑھائی میں مدد کرنا۔
6 صفائی کا خیال رکھنا اور کوڑا کوڑے دان میں ڈالنا۔
7 امانت داری اختیار کرنا؛ کسی کی چیز اجازت کے بغیر نہ لینا اور ملی ہوئی چیز مالک تک پہنچانا۔
8 وقت کی پابندی کرنا اور اسکول کے قواعد کی پاس داری کرنا۔
9 بجلی اور پانی ضائع نہ کرنا اور اسکول کی املاک کی حفاظت کرنا۔
10 لڑائی جھگڑے سے بچنا، ساتھیوں میں صلح کرانا اور بیمار ساتھی کی عیادت کرنا۔
18 سرگرمیاں برائے طلبہ

سورۃ ھود ۔ آیات 50 تا 57

سیدنا ھود علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والے مکالمہ پر مباحثہ کریں۔

سورۃ ھود کی آیات 50 تا 57 کی روشنی میں سیدنا ہود علیہ السلام اور قومِ عاد کا مکالمہ درج ذیل ہے:

مباحثے کے لیے نکات

1 سیدنا ہود علیہ السلام — اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں؛ تم (بتوں کو شریک بنا کر) محض جھوٹ گھڑنے والے ہو۔ (آیت 50)
2 سیدنا ہود علیہ السلام — اے میری قوم! میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا؛ میرا اجر تو صرف اس ذات پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (آیت 51)
3 سیدنا ہود علیہ السلام — اے میری قوم! اپنے رب سے مغفرت مانگو، پھر اس کے حضور توبہ کرو؛ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا اور تمھاری قوت میں اضافہ فرمائے گا، اور تم مجرم بن کر منہ نہ پھیرو۔ (آیت 52)
4 قومِ عاد — اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آئے، اور ہم تمھارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں۔ (آیت 53)
5 قومِ عاد — ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تمھیں خرابی (دیوانگی) میں مبتلا کر دیا ہے۔ (آیت 54)
6 سیدنا ہود علیہ السلام — بے شک میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان (سب) سے بری ہوں جنھیں تم اللہ کے سوا شریک ٹھہراتے ہو؛ پس تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کر لو اور مجھے مہلت نہ دو۔ (آیات 54، 55)
7 سیدنا ہود علیہ السلام — بے شک میں نے اللہ پر بھروسا کیا جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب؛ کوئی جاندار نہیں مگر اس کی چوٹی اسی کے قبضے میں ہے۔ بے شک میرا رب سیدھے راستے پر (ملتا) ہے۔ (آیت 56)
8 سیدنا ہود علیہ السلام — پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو جو پیغام دے کر مجھے بھیجا گیا تھا وہ میں تمھیں پہنچا چکا ہوں؛ میرا رب تمھاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ (آیت 57)
9 دعوت کا انداز — سیدنا ہود علیہ السلام نے نرمی، خیر خواہی اور دلیل کے ساتھ توحید کی دعوت دی۔
10 بے لوثی — انھوں نے دعوت پر کوئی اجر نہیں مانگا؛ داعی کو بے لوث ہونا چاہیے۔
11 قوم کا رویہ — قوم نے دلیل کے بجائے ضد، الزام تراشی اور دھمکی کا راستہ اپنایا۔
12 توکل — پوری قوم کے مقابلے میں سیدنا ہود علیہ السلام کا سہارا صرف اللہ تعالیٰ پر توکل تھا۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَيَٰقَوۡمِ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِ يُرۡسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡكُم مِّدۡرَارٗا وَيَزِدۡكُمۡ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡاْ مُجۡرِمِينَ (سورۃ ھود ۔ آیت 52)

توبہ و استغفار کے موضوع پر ایک نوٹ تحریر کریں۔

1 استغفار اور توبہ کا مفہوم — استغفار — گزشتہ گناہوں پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت (بخشش) طلب کرنا۔
2 استغفار اور توبہ کا مفہوم — توبہ — گناہ کو چھوڑ کر، نادم ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آنا اور آئندہ اطاعت کی راہ اختیار کرنا۔
3 توبہ کی شرائط — گناہ کو فوراً چھوڑ دینا۔
4 توبہ کی شرائط — اپنے کیے پر دل سے نادم ہونا۔
5 توبہ کی شرائط — آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرنا۔
6 توبہ کی شرائط — اگر کسی بندے کا حق تلف کیا ہو تو وہ حق ادا کرنا یا معاف کرانا۔
7 سورۃ ھود میں توبہ و استغفار کے ثمرات — اچھا سامانِ زندگی — مقررہ مدت تک عمدہ گزران اور ہر فضل والے کو اس کا فضل۔ (آیت 3)
8 سورۃ ھود میں توبہ و استغفار کے ثمرات — بارش اور قوت — آسمان سے خوب بارش اور قوت پر قوت کا اضافہ۔ (آیت 52)
جواب خلاصہ — توبہ و استغفار صرف زبانی کلمات نہیں بلکہ دل کی ندامت اور عمل کی اصلاح کا نام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کھولتے ہیں، رزق اور قوت میں برکت کا ذریعہ بنتے ہیں اور عذاب سے نجات دلاتے ہیں۔
20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

أَلَآ إِنَّهُمۡ يَثۡنُونَ صُدُورَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُواْ مِنۡهُۚ أَلَا حِينَ يَسۡتَغۡشُونَ ثِيَابَهُمۡ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ (سورۃ ھود ۔ آیات 9 تا 11)

مایوسی اور امید کے موضوع پر ایک پیراگراف تحریر کریں۔

جواب سورۃ ھود (آیات 9 تا 11) میں انسان کے مزاج کی یہ کمزوری بیان ہوئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت (نعمت) چکھا کر واپس لے لیتا ہے تو وہ سخت مایوس اور ناشکرا ہو جاتا ہے، اور جب تکلیف کے بعد نعمت ملتی ہے تو اترا کر کہتا ہے کہ اب ساری برائیاں مجھ سے دور ہو گئیں، اور وہ خوب خوش ہو کر فخر کرنے لگتا ہے۔ اہلِ ایمان کا طرزِ عمل اس کے برعکس ہے: وہ نہ نعمت کے چھن جانے پر اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں اور نہ نعمت ملنے پر اتراتے ہیں، بلکہ تکلیف میں صبر کرتے ہیں اور نعمت پر شکر ادا کرتے ہوئے نیک عمل کرتے ہیں؛ انھی کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ مومن کی زندگی خوف اور امید کے درمیان ہوتی ہے: وہ اللہ کی پکڑ سے بے خوف نہیں ہوتا اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا، کیوں کہ اللہ کی رحمت سے مایوسی گمراہوں کا کام ہے۔
21 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَاۚ كُلّٞ فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ

فعل ماضی نفی کی تعریف اور مثالیں تحریر کریں۔ (فعل ماضی معروف کی قرآنی مثالیں سوال 3 (3ب) میں ملاحظہ کریں۔)

اگر زمانۂ ماضی میں کسی بات کی نفی کرنی ہو تو فعل ماضی کے شروع میں «مَا» لگا دیتے ہیں؛ اسے فعل ماضی نفی کہتے ہیں۔

گرامر کی مثالیں (سبق کے «اہم معلومات» سے) اور قرآنی مثالیں

1 گرامر کی مثالیں (سبق کے «اہم معلومات» سے) — مَا كَتَبَ — اس نے نہیں لکھا۔
2 گرامر کی مثالیں (سبق کے «اہم معلومات» سے) — مَا نَصَرَ — اس نے مدد نہیں کی۔
3 گرامر کی مثالیں (سبق کے «اہم معلومات» سے) — مَا ذَهَبَ — وہ نہیں گیا۔
4 قرآنی مثالیں — وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٞ اور ان کے ساتھ ایمان نہیں لائے مگر تھوڑے (لوگ)۔ — سورۃ ھود ۔ آیت 40
5 قرآنی مثالیں — مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا، اس کے کچھ کام نہ آیا۔ — سورۃ اللھب ۔ آیت 2
جواب نوٹ: «مَا كَتَبَ»، «مَا نَصَرَ» اور «مَا ذَهَبَ» کتاب کی تدریسی (گرامر کی) مثالیں ہیں، قرآنی آیات نہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.