وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيۡتُونِ (سورۃ التین ۔ آیت 1)
«وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ» میں قسم اٹھائی گئی ہے:
الف) انجیر اور کھجور کی • ب) انجیر اور زیتون کی • ج) انجیر اور انار کی • د) انجیر اور انگور کی
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيۡتُونِ (سورۃ التین ۔ آیت 1)
«وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ» میں قسم اٹھائی گئی ہے:
الف) انجیر اور کھجور کی • ب) انجیر اور زیتون کی • ج) انجیر اور انار کی • د) انجیر اور انگور کی
وَهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ ٱلۡأَمِينِ (سورۃ التین ۔ آیت 3)
«وَهٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ» میں تذکرہ ہے:
الف) مکہ مکرمہ کا • ب) مدینہ منورہ کا • ج) طائف کا • د) شام کا
ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ (سورۃ العلق ۔ آیت 1)
«اِقْرَاْ» قواعد کی رو سے ہے فعل:
الف) ماضی • ب) مضارع • ج) امر • د) نہی
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَلَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونٖ (سورۃ التین ۔ آیت 6)
«غَيْرُ مَمْنُوْنٍ» کے معنی ہیں:
الف) کم • ب) زیادہ • ج) ختم ہونے والا • د) نہ ختم ہونے والا
خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ (سورۃ العلق ۔ آیت 2)
«خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ» کی رو سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا:
الف) پانی سے • ب) آگ سے • ج) جمے ہوئے خون سے • د) مٹی سے
ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ (سورۃ العلق ۔ آیت 4)
«اَلَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ» آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم سکھایا:
الف) قلم کے ذریعے • ب) سیاہی کے ذریعے • ج) کتاب کے ذریعے • د) کاغذ کے ذریعے
وَطُورِ سِينِينَ (سورۃ التین ۔ آیت 2)
«وَطُوْرِ سِيْنِيْنَ» — آیتِ کریمہ میں کس نبی علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے؟
اور طورِ سینا کی (قسم)۔
ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ (سورۃ التین ۔ آیت 5)
«ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ» — آیتِ کریمہ میں کس حقیقت کی طرف اشارہ ہے؟
پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف پھیر دیا۔
أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَحۡكَمِ ٱلۡحَٰكِمِينَ (سورۃ التین ۔ آیت 8)
«اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» — آیتِ کریمہ میں حاکمیتِ اعلیٰ کا کیا تصور پیش کیا گیا ہے؟
کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں؟ (یقیناً وہی ہے)۔
ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ (سورۃ العلق ۔ آیت 3)
«اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ» — آیتِ کریمہ میں رب کی کون سی صفت بیان کی گئی ہے؟
آپ (ﷺ) پڑھیے اور آپ (ﷺ) کا رب بڑا کریم ہے۔
عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ (سورۃ العلق ۔ آیت 5)
«عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» — آیتِ کریمہ کی رو سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیا سکھایا؟
(جس نے) انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
كَلَّآ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَيَطۡغَىٰٓ أَن رَّءَاهُ ٱسۡتَغۡنَىٰٓ (سورۃ العلق ۔ آیات 6 تا 7)
«كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰى ۔ اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى» — آیاتِ کریمہ میں نافرمان انسان کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟
ہرگز (نافرمانی) نہیں (کرنی چاہیے) مگر بے شک انسان ضرور سرکشی کرنے لگتا ہے۔ جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے۔
لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ (سورۃ التین ۔ آیات 4 تا 5)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت (سانچے) میں پیدا فرمایا۔ پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف پھیر دیا۔
سُوْرَةُ التِّيْنِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ
ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ (سورۃ العلق ۔ آیات 1 تا 3)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
آپ (ﷺ) اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے (سب کو) پیدا فرمایا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا فرمایا۔ آپ (ﷺ) پڑھیے اور آپ (ﷺ) کا رب بڑا کریم ہے۔
سُوْرَةُ الْعَلَقِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سُوْرَةُ التِّيْنِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ التین کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ الْعَلَقِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ العلق کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
نیکی کے دس کاموں کی فہرست بنائیں اور اپنا جائزہ لیں کہ آپ کون سے نیک کام کرتے ہیں اور کن گناہوں سے بچتے ہیں۔
نیکی کے دس کاموں کی ایک نمونہ فہرست (ہر طالب علم اپنی فہرست خود بنا کر جائزہ لے):
علم کے پانچ فوائد اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔
اساتذہ کرام سے معلوم کیے جانے والے علم کے پانچ فوائد:
نا 5۔ قلم اور علم
درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْعَلَقِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ سجدہ کرنا 2۔ رب کی طرف واپسی 3۔ رب کے نام سے پڑھنا 4۔ نماز پڑھنا 5۔ قلم اور علم
لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَلَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونٖ (سورۃ التین ۔ آیات 4 تا 6)
سورۃ التین کی روشنی میں کردار کی پستی اور بلندی کا کیا تصور/معیار پیش ہوا ہے؟ تحریر کریں۔
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت (سانچے) میں پیدا فرمایا۔ پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف پھیر دیا۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، تو ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
سورۃ التین کے مطابق کردار کی بلندی اور پستی کا معیار نہ مال ہے نہ نسل، نہ رنگ نہ طاقت — بلکہ ایمان اور عمل ہے:
لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ (سورۃ التین ۔ آیت 4)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھالا ہے: کسی شخص کی ظاہری معذوری کو دیکھنے پر ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے؟
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت (سانچے) میں پیدا فرمایا۔
«اَحْسَنِ تَقْوِيْم» کا شرف ہر انسان کو حاصل ہے — معذوری اس شرف کو کم نہیں کرتی، کیوں کہ اصل مقام کردار اور تقویٰ سے ہے، جسمانی ساخت سے نہیں۔ اس لیے کسی کی ظاہری معذوری دیکھ کر ہمارا رویہ یہ ہونا چاہیے:
ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ (سورۃ العلق ۔ آیت 4)
آج قلم اور علم کے کئی ذرائع ہیں، مثلاً کمپیوٹر، کتاب اور انٹرنیٹ وغیرہ: ان ذرائع کے پانچ اچھے استعمالات تحریر کریں۔
جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔
قلم کی طرح آج کے ذرائع — کتاب، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائل — بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں؛ ان کے پانچ اچھے استعمالات:
ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ (سورۃ العلق ۔ آیات 1 تا 5)
سورۃ العلق کی روشنی میں علم کی اہمیت و فضیلت پر مضمون تحریر کریں۔
آپ (ﷺ) اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے (سب کو) پیدا فرمایا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا فرمایا۔ آپ (ﷺ) پڑھیے اور آپ (ﷺ) کا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ (جس نے) انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
سورۃ العلق کی یہی پانچ آیات قرآن مجید کی پہلی وحی ہیں — اور وحی کا پہلا لفظ «اِقْرَاْ» (پڑھیے) ہے۔ اس سے بڑھ کر علم کی اہمیت کی کیا دلیل ہو گی کہ آسمانی ہدایت کا آغاز ہی پڑھنے کے حکم سے ہوا!
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔