ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 18: سبق 18: سورۃ التین اور سورۃ العلق — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 25 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيۡتُونِ (سورۃ التین ۔ آیت 1)

«وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ» میں قسم اٹھائی گئی ہے:

الف) انجیر اور کھجور کی • ب) انجیر اور زیتون کی • ج) انجیر اور انار کی • د) انجیر اور انگور کی

جواب ب) انجیر اور زیتون کی — «اَلتِّيْن» انجیر کو اور «اَلزَّيْتُوْن» زیتون کو کہتے ہیں: قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ ٱلۡأَمِينِ (سورۃ التین ۔ آیت 3)

«وَهٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ» میں تذکرہ ہے:

الف) مکہ مکرمہ کا • ب) مدینہ منورہ کا • ج) طائف کا • د) شام کا

جواب الف) مکہ مکرمہ کا — «اَلْبَلَدِ الْاَمِيْن» (امن والا شہر) سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے امن والا شہر بنایا۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ (سورۃ العلق ۔ آیت 1)

«اِقْرَاْ» قواعد کی رو سے ہے فعل:

الف) ماضی • ب) مضارع • ج) امر • د) نہی

جواب ج) امر — «اِقْرَاْ» (پڑھیے) فعل امر ہے: اس میں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَلَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونٖ (سورۃ التین ۔ آیت 6)

«غَيْرُ مَمْنُوْنٍ» کے معنی ہیں:

الف) کم • ب) زیادہ • ج) ختم ہونے والا • د) نہ ختم ہونے والا

جواب د) نہ ختم ہونے والا — ذخیرۂ الفاظ میں «غَيْرُ مَمْنُوْن» کا معنی ہے: نہ ختم ہونے والا — ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ (سورۃ العلق ۔ آیت 2)

«خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ» کی رو سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا:

الف) پانی سے • ب) آگ سے • ج) جمے ہوئے خون سے • د) مٹی سے

جواب ج) جمے ہوئے خون سے — «عَلَق» کا معنی جما ہوا خون ہے: اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا فرمایا۔
6 کثیر الانتخابی سوالات

ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ (سورۃ العلق ۔ آیت 4)

«اَلَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ» آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم سکھایا:

الف) قلم کے ذریعے • ب) سیاہی کے ذریعے • ج) کتاب کے ذریعے • د) کاغذ کے ذریعے

جواب الف) قلم کے ذریعے — آیت کا ترجمہ ہے: جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا — لکھنے پڑھنے کا سارا سلسلہ قلم ہی سے چلتا ہے۔

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

وَطُورِ سِينِينَ (سورۃ التین ۔ آیت 2)

«وَطُوْرِ سِيْنِيْنَ» — آیتِ کریمہ میں کس نبی علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے؟

ترجمہ

اور طورِ سینا کی (قسم)۔

جواب اس آیت میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے: طورِ سینا وہی مبارک پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا اور انھیں نبوت و تورات عطا فرمائی۔
8 مختصر جوابات

ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ (سورۃ التین ۔ آیت 5)

«ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ» — آیتِ کریمہ میں کس حقیقت کی طرف اشارہ ہے؟

ترجمہ

پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف پھیر دیا۔

جواب اس آیت میں انسان کے اخلاقی زوال کی حقیقت کی طرف اشارہ ہے: بہترین سانچے میں پیدا ہونے کے باوجود جب انسان ایمان اور نیک عمل چھوڑ کر خواہشات کے پیچھے چل پڑتا ہے تو وہ پست ترین حالت میں جا گرتا ہے — صرف ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے اس پستی سے محفوظ ہیں۔ (آیت 6)
9 مختصر جوابات

أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَحۡكَمِ ٱلۡحَٰكِمِينَ (سورۃ التین ۔ آیت 8)

«اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» — آیتِ کریمہ میں حاکمیتِ اعلیٰ کا کیا تصور پیش کیا گیا ہے؟

ترجمہ

کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں؟ (یقیناً وہی ہے)۔

جواب اس آیت میں یہ تصور پیش کیا گیا ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے: وہ سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، اس کا فیصلہ سب فیصلوں پر غالب ہے اور روزِ جزا میں وہی انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا — دنیا کے حاکموں کی حکومت عارضی اور اسی کی عطا کردہ ہے۔
10 مختصر جوابات

ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ (سورۃ العلق ۔ آیت 3)

«اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ» — آیتِ کریمہ میں رب کی کون سی صفت بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

آپ (ﷺ) پڑھیے اور آپ (ﷺ) کا رب بڑا کریم ہے۔

جواب اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت «اَلْاَكْرَم» بیان ہوئی ہے: وہ سب سے بڑھ کر کرم اور عزت والا ہے — اسی کرم سے اس نے انسان کو قلم کے ذریعے وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
11 مختصر جوابات

عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ (سورۃ العلق ۔ آیت 5)

«عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» — آیتِ کریمہ کی رو سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیا سکھایا؟

ترجمہ

(جس نے) انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

جواب اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ سب کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا: انسان دنیا میں کچھ نہ جانتا ہوا آتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ہی کے عطا کردہ ذرائع — سماعت، بصارت، عقل اور قلم — سے علم حاصل کرتا ہے؛ سارا علم اسی کی دین ہے۔
12 مختصر جوابات

كَلَّآ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَيَطۡغَىٰٓ أَن رَّءَاهُ ٱسۡتَغۡنَىٰٓ (سورۃ العلق ۔ آیات 6 تا 7)

«كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰى ۔ اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى» — آیاتِ کریمہ میں نافرمان انسان کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

ہرگز (نافرمانی) نہیں (کرنی چاہیے) مگر بے شک انسان ضرور سرکشی کرنے لگتا ہے۔ جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے۔

جواب نافرمان انسان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو (مال و اسباب میں) بے نیاز سمجھنے لگتا ہے تو سرکشی پر اتر آتا ہے — حالاں کہ اسے یاد رکھنا چاہیے کہ بے شک اس کے رب ہی کی طرف واپس جانا ہے۔ (آیت 8)

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ (سورۃ التین ۔ آیات 4 تا 5)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت (سانچے) میں پیدا فرمایا۔ پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف پھیر دیا۔

جواب اللہ نے فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ اُس کا جسم، عقل، بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت — سب مخلوقات میں سب سے عمدہ بنائی۔ لیکن پھر ہم نے اُسے سب سے نیچے گرا دیا، یعنی جب وہ اپنی عقل اور صلاحیتوں کو غلط کاموں میں لگاتا ہے تو جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ یہ خوبصورت شکل اُسے اُس وقت کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ سبق یہ ہے کہ اصل قیمت جسم کی نہیں بلکہ ایمان اور اچھے اعمال کی ہے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ التِّيْنِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ

1 تعارف — نام کی وجہ — اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا «وَالتِّيْنِ» (انجیر کی قسم) سے فرمائی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلتِّيْن» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 8 آیات ہیں۔
3 فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): جو شخص «وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ» (سورۃ التین) پڑھے اور پڑھتے ہوئے «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» (کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں؟) تک پہنچے تو کہے: «بَلٰى وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكَ مِنَ الشَّاهِدِيْنَ» — کیوں نہیں! اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں۔ (جامع ترمذی: 3347)
جواب مرکزی مضمون — انسان کی عظمت کا بیان۔
15 تفصیلی جوابات

ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ (سورۃ العلق ۔ آیات 1 تا 3)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

آپ (ﷺ) اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے (سب کو) پیدا فرمایا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا فرمایا۔ آپ (ﷺ) پڑھیے اور آپ (ﷺ) کا رب بڑا کریم ہے۔

جواب یہ وہ پہلی آیتیں ہیں جو غارِ حرا میں نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئیں۔ سب سے پہلا حکم "پڑھو" دیا گیا — اور وہ بھی اپنے رب کے نام سے، جس نے سب کچھ پیدا کیا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ علم حاصل کرنا اسلام کا سب سے پہلا سبق ہے۔ پھر بتایا کہ اُسی نے انسان کو جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے بنایا، تاکہ انسان اپنی حقیقت یاد رکھے اور غرور نہ کرے۔ تیسری بار پھر فرمایا: پڑھو! اور تمہارا رب بڑا کریم ہے، جو بغیر مانگے سکھاتا اور عطا کرتا ہے۔ سبق یہ ہے کہ علم اللہ کے نام کے ساتھ حاصل کیا جائے تو وہ برکت والا بنتا ہے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْعَلَقِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

1 تعارف — نام کی وجہ — اس سورت کی دوسری آیت میں لفظ «عَلَق» (جما ہوا خون) آیا ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلْعَلَق» ہے۔ اس کا دوسرا نام «اِقْرَاْ» (پڑھیے) بھی ہے، کیوں کہ سورت کا آغاز اسی لفظ سے ہوا ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 19 آیات ہیں۔
3 شانِ نزول — اس سورت کی پہلی پانچ آیات نبی کریم خاتم النبیین ﷺ پر غارِ حرا میں قرآن مجید کی پہلی وحی کی صورت میں نازل ہوئیں۔
4 فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «ایک عالم کی فضیلت ایک عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ پر۔» (جامع ترمذی: 2685)
جواب مرکزی مضمون — فضیلتِ علم اور عظمتِ باری تعالیٰ۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ التِّيْنِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ التین کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 اللہ تعالیٰ کی قسمیں اور ان کے مقاصد کا بیان۔
2 انسان کی بہترین تخلیق۔
3 انسان کے اخلاقی زوال کا بیان۔
4 ایمان اور نیک عمل کی اہمیت۔
5 آخرت پر سچے دل سے یقین کی اہمیت۔
6 اللہ تعالیٰ کے حقیقی حاکم ہونے کا بیان۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْعَلَقِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ العلق کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 علم کی اہمیت کا بیان۔
2 آخرت سے غافل انسان کے کردار کا بیان۔
3 ابوجہل کا ذکر، جو آپ ﷺ کو خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا۔
4 ابوجہل کے برے عمل پر برے انجام کی سخت تنبیہ۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

نیکی کے دس کاموں کی فہرست بنائیں اور اپنا جائزہ لیں کہ آپ کون سے نیک کام کرتے ہیں اور کن گناہوں سے بچتے ہیں۔

نیکی کے دس کاموں کی ایک نمونہ فہرست (ہر طالب علم اپنی فہرست خود بنا کر جائزہ لے):

1 پانچوں نمازوں کی پابندی کرنا۔
2 روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔
3 والدین کی خدمت اور فرماں برداری کرنا۔
4 سچ بولنا اور وعدہ پورا کرنا۔
5 یتیموں، مسکینوں اور سائلوں سے نرمی کا سلوک کرنا۔
6 صدقہ دینا اور دوسروں کی مدد کرنا۔
7 سلام پھیلانا اور بڑوں کا ادب کرنا۔
8 علم حاصل کرنا اور دوسروں کو سکھانا۔
9 صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا۔
10 جھوٹ، غیبت، چغلی اور گالی گلوچ سے بچنا۔
جواب جائزے کا طریقہ: فہرست کے سامنے نشان لگائیں کہ کون سا کام روزانہ ہوتا ہے، کون سا کبھی کبھی، اور کون سا ابھی شروع کرنا ہے؛ اسی طرح لکھیں کہ کن گناہوں سے بچنے میں کامیابی ہو رہی ہے اور کہاں مزید کوشش درکار ہے۔
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

علم کے پانچ فوائد اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

اساتذہ کرام سے معلوم کیے جانے والے علم کے پانچ فوائد:

1 علم اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی عبادت کا صحیح طریقہ سکھاتا ہے۔
2 علم حلال و حرام اور اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے۔
3 علم والے کو اللہ تعالیٰ بلند درجے عطا فرماتا ہے اور عالم کی فضیلت عابد پر ہے۔
4 علم دنیا کے کام آسان کرتا ہے اور عزت و روزگار کا ذریعہ بنتا ہے۔
5 علم انسان کو جہالت، وہم پرستی اور گمراہی سے بچاتا ہے اور معاشرے کی اصلاح کرتا ہے۔
21 سرگرمیاں برائے طلبہ

نا 5۔ قلم اور علم

درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْعَلَقِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ سجدہ کرنا 2۔ رب کی طرف واپسی 3۔ رب کے نام سے پڑھنا 4۔ نماز پڑھنا 5۔ قلم اور علم

1 1۔ سجدہ کرنا — «وَٱسۡجُدۡۤ» — اور (آپ ﷺ) سجدہ کریں (اور قرب حاصل کریں)۔ (العلق: 19)
2 2۔ رب کی طرف واپسی — «إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلرُّجۡعَىٰٓ» — بے شک آپ کے رب ہی کی طرف واپس جانا ہے۔ (العلق: 8)
3 3۔ رب کے نام سے پڑھنا — «ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ» — آپ (ﷺ) اپنے رب کے نام سے پڑھیے۔ (العلق: 1)
4 4۔ نماز پڑھنا — «عَبۡدًا إِذَا صَلَّىٰٓ» — ایک بندہ جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ (العلق: 10)
5 5۔ قلم اور علم — «عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ» — جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ (العلق: 4)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَلَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونٖ (سورۃ التین ۔ آیات 4 تا 6)

سورۃ التین کی روشنی میں کردار کی پستی اور بلندی کا کیا تصور/معیار پیش ہوا ہے؟ تحریر کریں۔

ترجمہ

یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت (سانچے) میں پیدا فرمایا۔ پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف پھیر دیا۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، تو ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔

سورۃ التین کے مطابق کردار کی بلندی اور پستی کا معیار نہ مال ہے نہ نسل، نہ رنگ نہ طاقت — بلکہ ایمان اور عمل ہے:

1 بلندی کا معیار — انسان کی اصل «اَحْسَنِ تَقْوِيْم» ہے: اللہ تعالیٰ نے اسے بہترین جسمانی اور روحانی سانچے میں بنایا اور اشرف المخلوقات بنایا۔ جو اس شرف کی حفاظت ایمان اور نیک عمل سے کرتا ہے، وہ بلندی پر قائم رہتا ہے اور اس کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
2 پستی کا معیار — جو انسان ایمان اور نیک عمل چھوڑ کر خواہشات کا غلام بن جاتا ہے، وہ اسی بہترین سانچے کے باوجود «اَسْفَلَ سٰفِلِيْن» — پست ترین حالت — میں جا گرتا ہے: جانوروں سے بھی بدتر کردار۔
3 کسوٹی — گویا عزت اور ذلت کی کسوٹی کردار ہے، اور کردار کی جڑ ایمان، نیک عمل اور روزِ جزا کا یقین ہے — اسی لیے آخر میں فرمایا کہ اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، جو ہر ایک کو اس کے کردار کا بدلہ دے گا۔ (آیات 7، 8)
جواب ہمیں پستی میں گرنے سے بچنے کے لیے اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنا چاہیے اور اپنے مقام کا احساس رکھنا چاہیے۔
23 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ (سورۃ التین ۔ آیت 4)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھالا ہے: کسی شخص کی ظاہری معذوری کو دیکھنے پر ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے؟

ترجمہ

یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت (سانچے) میں پیدا فرمایا۔

«اَحْسَنِ تَقْوِيْم» کا شرف ہر انسان کو حاصل ہے — معذوری اس شرف کو کم نہیں کرتی، کیوں کہ اصل مقام کردار اور تقویٰ سے ہے، جسمانی ساخت سے نہیں۔ اس لیے کسی کی ظاہری معذوری دیکھ کر ہمارا رویہ یہ ہونا چاہیے:

1 نہ مذاق اڑائیں، نہ حقارت سے دیکھیں اور نہ ایسے القاب دیں جن سے دل دکھے — ہر انسان اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی بہترین تخلیق ہے۔
2 عزت اور برابری کا برتاؤ کریں: بات چیت، دوستی اور معاملات میں کوئی فرق نہ رکھیں۔
3 ضرورت کے وقت مدد کریں، مگر اس انداز سے کہ عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔
4 ان کی صلاحیتوں کی قدر کریں اور آگے بڑھنے کے مواقع میں شریک کریں۔
5 اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور یاد رکھیں کہ آزمائش کسی پر بھی آ سکتی ہے — معذور بھائی کی دل جوئی نیکی ہے۔
جواب نبی کریم ﷺ کی تعلیم یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ صورتوں اور مالوں کو نہیں بلکہ دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے (مفہومِ حدیث) — لہٰذا ظاہری ساخت پر کسی کو کم تر سمجھنا خود اپنے کردار کی پستی ہے۔
24 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ (سورۃ العلق ۔ آیت 4)

آج قلم اور علم کے کئی ذرائع ہیں، مثلاً کمپیوٹر، کتاب اور انٹرنیٹ وغیرہ: ان ذرائع کے پانچ اچھے استعمالات تحریر کریں۔

ترجمہ

جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔

قلم کی طرح آج کے ذرائع — کتاب، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائل — بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں؛ ان کے پانچ اچھے استعمالات:

1 دینی علم — قرآن مجید کی تلاوت، ترجمہ و تفسیر، احادیث اور مستند دینی کتابیں پڑھنا اور سننا۔
2 تعلیم — نصابی سبق، لیکچر اور تعلیمی ویڈیوز سے پڑھائی میں مدد لینا اور تحقیق (ریسرچ) کرنا۔
3 مہارتیں — لکھنا، حساب، پروگرامنگ، ڈیزائن اور دیگر مفید ہنر سیکھنا۔
4 نیکی کی دعوت — اچھی بات، درست معلومات اور اصلاحی پیغامات آگے پہنچانا — جھوٹی خبر پھیلائے بغیر۔
5 رابطہ اور خدمت — رشتہ داروں سے صلہ رحمی، اساتذہ سے رہنمائی اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے رابطے میں رہنا۔
جواب شرط یہ ہے کہ وقت ضائع کرنے والے اور گناہ کے کاموں سے بچا جائے — ذریعہ وہی اچھا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے کام آئے۔
25 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ (سورۃ العلق ۔ آیات 1 تا 5)

سورۃ العلق کی روشنی میں علم کی اہمیت و فضیلت پر مضمون تحریر کریں۔

ترجمہ

آپ (ﷺ) اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے (سب کو) پیدا فرمایا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا فرمایا۔ آپ (ﷺ) پڑھیے اور آپ (ﷺ) کا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ (جس نے) انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

سورۃ العلق کی یہی پانچ آیات قرآن مجید کی پہلی وحی ہیں — اور وحی کا پہلا لفظ «اِقْرَاْ» (پڑھیے) ہے۔ اس سے بڑھ کر علم کی اہمیت کی کیا دلیل ہو گی کہ آسمانی ہدایت کا آغاز ہی پڑھنے کے حکم سے ہوا!

1 پہلا حکم: پڑھنا — اسلام کی پہلی تعلیم عبادت سے پہلے پڑھنے کا حکم ہے — مگر «اپنے رب کے نام سے»، یعنی علم اللہ تعالیٰ کے نام اور اس کی رضا سے جڑا ہو۔
2 قلم کی قسم کھانے والا رب — اللہ تعالیٰ نے اپنی صفتِ اکرم کے ساتھ قلم کے ذریعے علم سکھانے کا ذکر فرمایا: لکھنا پڑھنا اللہ کا خاص کرم ہے، جس سے علم نسل در نسل محفوظ رہتا ہے۔
3 علم اللہ کی عطا — انسان جمے ہوئے خون سے پیدا ہونے والی کمزور مخلوق ہے؛ جو کچھ وہ جانتا ہے، اللہ تعالیٰ ہی کا سکھایا ہوا ہے — یہ احساس عالم کو متکبر نہیں، شکر گزار بناتا ہے۔
4 عالم کی فضیلت — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): ایک عالم کی فضیلت ایک عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ پر۔ (جامع ترمذی: 2685)
5 علم بے عمل کی تنبیہ — اسی سورت میں اس انسان کا انجام بھی بیان ہوا جو جاننے کے باوجود سرکشی کرے — گویا علم کا مقصد اللہ کے سامنے جھکنا ہے: «سجدہ کریں اور قرب حاصل کریں»۔ (آیت 19)
جواب حاصل: علم اسلام میں عبادت کا دروازہ ہے؛ پہلی وحی کے تناظر میں ہمیں علم کی اہمیت سمجھتے ہوئے اس کے حصول کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنا چاہیے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.