وَٱلضُّحَىٰ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 1)
«اَلضُّحٰى» کے معنی ہیں:
الف) چڑھتے دن کی روشنی • ب) ڈھلتے دن کی روشنی • ج) چاند کی روشنی • د) ستاروں کی روشنی
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَٱلضُّحَىٰ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 1)
«اَلضُّحٰى» کے معنی ہیں:
الف) چڑھتے دن کی روشنی • ب) ڈھلتے دن کی روشنی • ج) چاند کی روشنی • د) ستاروں کی روشنی
وَٱلَّيۡلِ إِذَا سَجَىٰ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 2)
«وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى» میں قسم مذکور ہے:
الف) سورج کی • ب) دن کی • ج) زمین کی • د) رات کی
وَأَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 11)
«وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ» میں حکم دیا گیا (ہے) نعمتوں کے:
الف) استعمال کا • ب) بیان کا • ج) اخفا کا • د) حفاظت کا
«اَلْاِنْشِرَاح» کے معنی ہیں:
الف) تفریح کرنا • ب) کھولنا • ج) راہ دکھانا • د) تسلی کرنا
وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ (سورۃ الانشراح ۔ آیت 4)
«وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم پر انعام کا بیان ہے:
الف) سینہ کی کشادگی کا • ب) بوجھ اتارنے کا • ج) ذکر کی بلندی کا • د) مشکل کی آسانی کا
وَٱلَّيۡلِ إِذَا سَجَىٰ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 2)
عربی قواعد کی رو سے فعل ہے:
الف) اَلضُّحٰى • ب) سَجٰى • ج) اَلْاُوْلٰى • د) اَلَّيْل
وَوَجَدَكَ عَآئِلٗا فَأَغۡنَىٰ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 8)
«وَوَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰى» — آیتِ کریمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم کو دیے گئے کس انعام کی طرف اشارہ ہے؟
اور اس نے آپ (ﷺ) کو تنگ دست پایا تو غنی فرما دیا۔
فَأَمَّا ٱلۡيَتِيمَ فَلَا تَقۡهَرۡ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 9)
«فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ» — آیتِ کریمہ میں یتیم کے متعلق کیا حکم بیان ہوا ہے؟
تو آپ (ﷺ) یتیم پر سختی نہ فرمائیں۔
وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 10)
«وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ» — آیتِ کریمہ میں کس بات کی تعلیم دی گئی ہے؟
اور مانگنے والے کو نہ جھڑکیں۔
أَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ (سورۃ الانشراح ۔ آیت 1)
«اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ» — آیتِ کریمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم پر کس انعام کا ذکر ہے؟
کیا ہم نے آپ (ﷺ) کی خاطر آپ (ﷺ) کا سینہ کشادہ نہیں فرما دیا؟
إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا (سورۃ الانشراح ۔ آیت 6)
«اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» — آیتِ کریمہ میں اہلِ ایمان کو کیا تسلی دی گئی ہے؟
بے شک (ہر) مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
سُوْرَةُ الضُّحٰى اور سُوْرَةُ الْاِنْشِرَاحِ میں استعمال ہونے والے کوئی سے پانچ حروف تلاش کر کے تحریر کریں۔
دونوں سورتوں سے پانچ حروف درج ذیل ہیں:
وَلَلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لَّكَ مِنَ ٱلۡأُولَىٰ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيكَ رَبُّكَ فَتَرۡضَىٰٓ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیات 4 اور 5)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اور یقیناً ہر آنے والا (وقت) آپ (ﷺ) کے لیے پہلے (گزرے ہوئے) سے بہتر ہے۔ اور عنقریب آپ (ﷺ) کا رب آپ (ﷺ) کو (اتنا) عطا فرمائے گا کہ آپ (ﷺ) راضی ہو جائیں گے۔
سُوْرَةُ الضُّحٰى کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا (سورۃ الانشراح ۔ آیات 4 تا 6)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اور ہم نے آپ (ﷺ) کی خاطر آپ (ﷺ) کا ذکر بلند فرما دیا۔ تو بے شک (ہر) مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک (ہر) مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
سُوْرَةُ الْاِنْشِرَاحِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف
سُوْرَةُ الضُّحٰى کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الضحیٰ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ الْاِنْشِرَاحِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الانشراح کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الضُّحٰى اور سُوْرَةُ الْاِنْشِرَاحِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ رب کی نعمتوں کا ذکر کیجیے 2۔ یتیم پر سختی نہ کیجیے 3۔ مانگنے والے کو نہ جھڑکیے 4۔ آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا 5۔ مشکل کے ساتھ آسانی
نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم کی شان میں سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے چند نعتیہ اشعار ترجمہ کے ساتھ تحریر کریں۔
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ — شاعرِ رسول ﷺ — کے مشہور نعتیہ اشعار (یہ اشعار عربی شاعری ہیں، قرآنی متن نہیں): وَاَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِيْ ۔ وَاَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ دیوانِ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ترجمہ: میری آنکھ نے آپ (ﷺ) سے بڑھ کر حسین کبھی کسی کو نہیں دیکھا، اور آپ (ﷺ) سے بڑھ کر جمیل کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ خُلِقْتَ مُبَرَّءًا مِنْ كُلِّ عَيْبٍ ۔ كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَآءُ دیوانِ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ترجمہ: آپ (ﷺ) ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے، گویا آپ (ﷺ) ویسے ہی پیدا کیے گئے جیسا آپ نے چاہا۔
فَأَمَّا ٱلۡيَتِيمَ فَلَا تَقۡهَرۡ وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیات 9 اور 10)
یتیموں اور سائلین سے کیسے برتاؤ کرنا چاہیے؟ تحریر کریں۔
تو آپ (ﷺ) یتیم پر سختی نہ فرمائیں۔ اور مانگنے والے کو نہ جھڑکیں۔
یتیموں سے برتاؤ اور سائلین سے برتاؤ
أَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ وَوَضَعۡنَا عَنكَ وِزۡرَكَ ٱلَّذِيٓ أَنقَضَ ظَهۡرَكَ وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا فَإِذَا فَرَغۡتَ فَٱنصَبۡ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرۡغَب (سورۃ الانشراح ۔ آیات 1 تا 8)
سورۃ الانشراح کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم کی رفعتِ شان پر مضمون تحریر کریں۔
کیا ہم نے آپ (ﷺ) کی خاطر آپ (ﷺ) کا سینہ کشادہ نہیں فرما دیا؟ اور ہم نے آپ (ﷺ) سے آپ (ﷺ) کا (وہ) بوجھ اتار دیا۔ جس نے آپ (ﷺ) کی کمر جھکا دی تھی۔ اور ہم نے آپ (ﷺ) کی خاطر آپ (ﷺ) کا ذکر بلند فرما دیا۔ تو بے شک (ہر) مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک (ہر) مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ تو جب آپ (ﷺ) (تبلیغ کی ذمہ داری سے) فارغ ہو جایا کریں تو (عبادت میں) محنت فرمائیں۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہو جائیں۔
سورۃ الانشراح نبی کریم ﷺ کی رفعتِ شان کا بیان ہے: پوری سورت اللہ تعالیٰ کے اپنے حبیب ﷺ پر انعامات کے تذکرے سے عبارت ہے۔
وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ
اسم، فعل اور حرف کی تعریف کریں، اور سُوْرَةُ الْاِنْشِرَاحِ اور سُوْرَةُ الضُّحٰى سے مثالیں تلاش کر کے لکھیں۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔