ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 17: سبق 17: سورۃ الضحیٰ اور سورۃ الانشراح — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 23 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلضُّحَىٰ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 1)

«اَلضُّحٰى» کے معنی ہیں:

الف) چڑھتے دن کی روشنی • ب) ڈھلتے دن کی روشنی • ج) چاند کی روشنی • د) ستاروں کی روشنی

جواب الف) چڑھتے دن کی روشنی — ذخیرۂ الفاظ میں «اَلضُّحٰى» کا معنی ہے: چڑھتے دن کی روشنی — اسی کی قسم سے سورت کا آغاز ہوا ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلَّيۡلِ إِذَا سَجَىٰ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 2)

«وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى» میں قسم مذکور ہے:

الف) سورج کی • ب) دن کی • ج) زمین کی • د) رات کی

جواب د) رات کی — آیت کا ترجمہ ہے: اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے — «سَجٰى» کا معنی ہے: وہ چھایا۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

وَأَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 11)

«وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ» میں حکم دیا گیا (ہے) نعمتوں کے:

الف) استعمال کا • ب) بیان کا • ج) اخفا کا • د) حفاظت کا

جواب ب) بیان کا — «فَحَدِّثْ» کا معنی ہے: خوب بیان کیجیے — اور اپنے رب کی نعمتوں کا خوب بیان فرمائیں، کہ نعمت کا ذکر بھی شکر ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

«اَلْاِنْشِرَاح» کے معنی ہیں:

الف) تفریح کرنا • ب) کھولنا • ج) راہ دکھانا • د) تسلی کرنا

جواب ب) کھولنا — «اِنْشِرَاح» کے معنی کھولنے (کشادہ کرنے) کے ہیں: سورت کی ابتدا میں آپ ﷺ کے سینۂ مبارک کے کشادہ فرمانے کا ذکر ہے، اسی لیے اسے «اَلْاِنْشِرَاح» (اور «سُوْرَةُ اَلَمْ نَشْرَح» بھی) کہتے ہیں۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ (سورۃ الانشراح ۔ آیت 4)

«وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم پر انعام کا بیان ہے:

الف) سینہ کی کشادگی کا • ب) بوجھ اتارنے کا • ج) ذکر کی بلندی کا • د) مشکل کی آسانی کا

جواب ج) ذکر کی بلندی کا — آیت کا ترجمہ ہے: اور ہم نے آپ (ﷺ) کی خاطر آپ (ﷺ) کا ذکر بلند فرما دیا — اذان، اقامت، کلمہ اور درود میں آپ ﷺ کا ذکر اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ بلند ہوتا ہے۔
6 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلَّيۡلِ إِذَا سَجَىٰ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 2)

عربی قواعد کی رو سے فعل ہے:

الف) اَلضُّحٰى • ب) سَجٰى • ج) اَلْاُوْلٰى • د) اَلَّيْل

جواب ب) سَجٰى — «سَجٰى» (وہ چھایا) فعل ماضی ہے؛ باقی تینوں الفاظ پر «ال» ہے، جو اسم کی علامت ہے۔

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

وَوَجَدَكَ عَآئِلٗا فَأَغۡنَىٰ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 8)

«وَوَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰى» — آیتِ کریمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم کو دیے گئے کس انعام کی طرف اشارہ ہے؟

ترجمہ

اور اس نے آپ (ﷺ) کو تنگ دست پایا تو غنی فرما دیا۔

جواب اس آیت میں اس انعام کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تنگ دستی کے بعد غنی فرما دیا: مال کے اعتبار سے بھی (خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال اور تجارت کی برکت اور بعد کے اموال سے) اور دل کے اطمینان و قناعت کے اعتبار سے بھی — یعنی آپ ﷺ کو کسی کا محتاج نہ رہنے دیا۔
8 مختصر جوابات

فَأَمَّا ٱلۡيَتِيمَ فَلَا تَقۡهَرۡ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 9)

«فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ» — آیتِ کریمہ میں یتیم کے متعلق کیا حکم بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

تو آپ (ﷺ) یتیم پر سختی نہ فرمائیں۔

جواب یتیم کے متعلق یہ حکم بیان ہوا ہے کہ اس پر سختی نہ کی جائے: نہ اسے دبایا جائے، نہ اس کا مال یا حق مارا جائے، بلکہ اس کے ساتھ شفقت اور عزت کا برتاؤ کیا جائے — آپ ﷺ خود یتیم رہے تھے، اس لیے امت کو یتیموں سے نرمی کی خاص تلقین فرمائی گئی۔
9 مختصر جوابات

وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیت 10)

«وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ» — آیتِ کریمہ میں کس بات کی تعلیم دی گئی ہے؟

ترجمہ

اور مانگنے والے کو نہ جھڑکیں۔

جواب اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مانگنے والے (سائل) کو جھڑکا نہ جائے: کچھ دیا جا سکے تو نرمی سے دیا جائے، اور نہ دیا جا سکے تو نرم بات کہہ کر رخصت کیا جائے — کسی حال میں اسے جھڑک کر اس کی عزتِ نفس مجروح نہ کی جائے۔
10 مختصر جوابات

أَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ (سورۃ الانشراح ۔ آیت 1)

«اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ» — آیتِ کریمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم پر کس انعام کا ذکر ہے؟

ترجمہ

کیا ہم نے آپ (ﷺ) کی خاطر آپ (ﷺ) کا سینہ کشادہ نہیں فرما دیا؟

جواب اس آیت میں شرحِ صدر کے انعام کا ذکر ہے: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا سینۂ مبارک علم و حکمت، ایمان کے نور اور اطمینان سے کشادہ فرما دیا، جس سے دعوت و تبلیغ کی مشقتیں آسان ہو گئیں۔
11 مختصر جوابات

إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا (سورۃ الانشراح ۔ آیت 6)

«اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» — آیتِ کریمہ میں اہلِ ایمان کو کیا تسلی دی گئی ہے؟

ترجمہ

بے شک (ہر) مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

جواب اہلِ ایمان کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے: مشکلات کا دور مختصر اور عارضی ہوتا ہے، اس لیے ان سے گھبرانا نہیں چاہیے — یہ بات تاکید کے لیے دو مرتبہ فرمائی گئی۔ (آیات 5، 6)
12 مختصر جوابات

سُوْرَةُ الضُّحٰى اور سُوْرَةُ الْاِنْشِرَاحِ میں استعمال ہونے والے کوئی سے پانچ حروف تلاش کر کے تحریر کریں۔

دونوں سورتوں سے پانچ حروف درج ذیل ہیں:

1 1 — «مَا» — «مَا» حرفِ نفی: آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا۔ (الضحیٰ: 3)
2 2 — «مِنَ» — «مِنْ» حرفِ جر: پہلے (وقت) سے۔ (الضحیٰ: 4)
3 3 — «لَكَ» — «لَ» حرفِ جر («لَكَ» میں): آپ کی خاطر۔ (الانشراح: 1)
4 4 — «وَإِلَىٰ» — «اِلٰى» حرفِ جر (شروع کا «وَ» حرفِ عطف): اور اپنے رب کی طرف۔ (الانشراح: 8)
5 5 — «فَلَا» — «فَ» حرفِ عطف/جواب اور «لَا» حرفِ نہی: تو (یتیم پر) سختی نہ کیجیے۔ (الضحیٰ: 9)

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

وَلَلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لَّكَ مِنَ ٱلۡأُولَىٰ وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيكَ رَبُّكَ فَتَرۡضَىٰٓ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیات 4 اور 5)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور یقیناً ہر آنے والا (وقت) آپ (ﷺ) کے لیے پہلے (گزرے ہوئے) سے بہتر ہے۔ اور عنقریب آپ (ﷺ) کا رب آپ (ﷺ) کو (اتنا) عطا فرمائے گا کہ آپ (ﷺ) راضی ہو جائیں گے۔

جواب وحی کچھ عرصہ رک گئی تو مخالفوں نے طعنے دیے کہ آپ ﷺ کے رب نے آپ کو چھوڑ دیا۔ اللہ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ کے لیے آنے والا وقت پہلے سے بہتر ہے۔ یعنی آگے آگے کامیابیاں ہیں، اور آخرت تو دنیا سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ پھر ایک بہت پیارا وعدہ کیا کہ عنقریب آپ کا رب آپ کو اِتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ سبق یہ ہے کہ مشکل وقت میں مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ اپنے بندے کو کبھی نہیں بھولتا۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الضُّحٰى کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

1 تعارف — نام کی وجہ — اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا «وَالضُّحٰى» (چڑھتے دن کی روشنی کی قسم) سے فرمائی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلضُّحٰى» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 11 آیات ہیں۔
3 شانِ نزول — جب کچھ عرصے کے لیے آپ ﷺ پر وحی کے نازل ہونے کا سلسلہ رک گیا تو آپ ﷺ انتہائی غمگین ہو گئے۔ کفار نے بھی وحی کے نہ آنے پر آپ ﷺ کو طعنے دیے۔ اس موقع پر یہ سورت نازل ہوئی، جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی۔
4 فضیلت — نبی کریم ﷺ نے چاشت کی نماز میں سُوْرَةُ الشَّمْسِ اور سُوْرَةُ الضُّحٰى تلاوت کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ (السنن الصغیر للبیہقی: 829)
5 حدیثِ قدسی — اللہ تعالیٰ نے فرمایا (مفہوم): «اے جبریل! محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ اور کہہ دو کہ ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں راضی کر دیں گے اور آپ (ﷺ) کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے۔» (صحیح مسلم: 202)
جواب مرکزی مضمون — نبی کریم خاتم النبیین ﷺ پر انعاماتِ باری تعالیٰ۔
15 تفصیلی جوابات

وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا (سورۃ الانشراح ۔ آیات 4 تا 6)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور ہم نے آپ (ﷺ) کی خاطر آپ (ﷺ) کا ذکر بلند فرما دیا۔ تو بے شک (ہر) مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک (ہر) مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

جواب اللہ نے نبی کریم ﷺ پر اپنے احسانات یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔ آج دنیا کے ہر کونے میں اذان اور کلمے کے ساتھ آپ ﷺ کا نام لیا جاتا ہے۔ پھر ایک بہت بڑی خوشخبری دو بار دہرائی گئی کہ بےشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ایک ہی بات کو دو بار کہنا اِس لیے ہے کہ دل کو پورا یقین ہو جائے۔ سبق یہ ہے کہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی آتی ہے، اِس لیے مشکل میں صبر کرنا چاہیے اور ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْاِنْشِرَاحِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — اس سورت کی ابتدا میں آپ ﷺ کے سینۂ مبارک کے کشادہ فرمانے کا ذکر ہے؛ اسی لیے اس سورت کو «اَلْاِنْشِرَاح» کہتے ہیں، اور اسے «سُوْرَةُ اَلَمْ نَشْرَح» بھی کہا جاتا ہے۔
2 نزول — یہ مکی سورت ہے، جو سُوْرَةُ الضُّحٰى کے بعد نازل ہوئی؛ اس میں 8 آیات ہیں۔
جواب مرکزی مضمون — نبی کریم ﷺ پر انعاماتِ باری تعالیٰ کا بیان۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الضُّحٰى کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الضحیٰ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کے اوصاف اور آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات کا بیان۔
2 اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو اکیلا نہ چھوڑنے اور آپ ﷺ سے ناراض نہ ہونے کا بیان۔
3 مشکلات کا دور مختصر ہونے اور آپ ﷺ کے لیے ہر آنے والا وقت پہلے سے بہتر ہونے کا بیان۔
4 اللہ تعالیٰ کا آپ ﷺ کو بکثرت عنایات — مثلاً ختمِ نبوت، تکمیلِ دین، غلبۂ دین، معجزات، بہترین امت، شفاعتِ کبریٰ، حوضِ کوثر اور مقامِ محمود جیسی بہت سی نعمتیں — عطا فرمانے کا ذکر۔
5 دورِ یتیمی میں بھی آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل کا بیان۔
6 آپ ﷺ کے ذریعے امت کو یتیموں اور سائلین کے ساتھ نرمی کے سلوک کی تلقین اور نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا حکم۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْاِنْشِرَاحِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الانشراح کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 نبی کریم ﷺ کی عزت و عظمت کا ذکر۔
2 آپ ﷺ کو عطا فرمائے گئے انعامات کا تذکرہ۔
3 آپ ﷺ کے سینۂ مبارک کے کشادہ ہونے کا بیان۔
4 آپ ﷺ کا ذکر بلند فرمانے کا ذکر۔
5 مشکل کے ساتھ آسانی اور مشکلات کے عارضی ہونے کا بیان۔
6 نوافل اور اذکار وغیرہ کے ذریعے عبادت میں مشغول رہنے کی ترغیب۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الضُّحٰى اور سُوْرَةُ الْاِنْشِرَاحِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ رب کی نعمتوں کا ذکر کیجیے 2۔ یتیم پر سختی نہ کیجیے 3۔ مانگنے والے کو نہ جھڑکیے 4۔ آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا 5۔ مشکل کے ساتھ آسانی

1 1۔ رب کی نعمتوں کا ذکر کیجیے — «بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ» — اور اپنے رب کی نعمتوں کا خوب بیان فرمائیں۔ (الضحیٰ: 11)
2 2۔ یتیم پر سختی نہ کیجیے — «ٱلۡيَتِيمَ فَلَا تَقۡهَرۡ» — تو آپ یتیم پر سختی نہ فرمائیں۔ (الضحیٰ: 9)
3 3۔ مانگنے والے کو نہ جھڑکیے — «ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ» — اور مانگنے والے کو نہ جھڑکیں۔ (الضحیٰ: 10)
4 4۔ آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا — «وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ» — اور ہم نے آپ (ﷺ) کی خاطر آپ (ﷺ) کا ذکر بلند فرما دیا۔ (الانشراح: 4)
5 5۔ مشکل کے ساتھ آسانی — «إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا» — بے شک (ہر) مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ (الانشراح: 6)
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم کی شان میں سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے چند نعتیہ اشعار ترجمہ کے ساتھ تحریر کریں۔

سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ — شاعرِ رسول ﷺ — کے مشہور نعتیہ اشعار (یہ اشعار عربی شاعری ہیں، قرآنی متن نہیں): وَاَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِيْ ۔ وَاَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ دیوانِ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ترجمہ: میری آنکھ نے آپ (ﷺ) سے بڑھ کر حسین کبھی کسی کو نہیں دیکھا، اور آپ (ﷺ) سے بڑھ کر جمیل کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ خُلِقْتَ مُبَرَّءًا مِنْ كُلِّ عَيْبٍ ۔ كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَآءُ دیوانِ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ترجمہ: آپ (ﷺ) ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے، گویا آپ (ﷺ) ویسے ہی پیدا کیے گئے جیسا آپ نے چاہا۔

جواب یہی وہ شاعر ہیں جن کے لیے نبی کریم ﷺ نے مسجدِ نبوی میں منبر رکھوایا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ! حسان کی روح القدس (جبریل علیہ السلام) کے ذریعے مدد فرما۔ (مفہوم — صحیح بخاری)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

21 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فَأَمَّا ٱلۡيَتِيمَ فَلَا تَقۡهَرۡ وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ (سورۃ الضحیٰ ۔ آیات 9 اور 10)

یتیموں اور سائلین سے کیسے برتاؤ کرنا چاہیے؟ تحریر کریں۔

ترجمہ

تو آپ (ﷺ) یتیم پر سختی نہ فرمائیں۔ اور مانگنے والے کو نہ جھڑکیں۔

یتیموں سے برتاؤ اور سائلین سے برتاؤ

1 یتیموں سے برتاؤ — ان پر سختی نہ کی جائے، نہ انھیں دبایا جائے اور نہ ان کا مال یا حق مارا جائے۔
2 یتیموں سے برتاؤ — ان کے ساتھ شفقت، عزت اور دل جوئی کا معاملہ کیا جائے اور ان کی پرورش اور تعلیم کا خیال رکھا جائے۔
3 یتیموں سے برتاؤ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح (ساتھ ساتھ) ہوں گے» اور آپ ﷺ نے شہادت اور درمیانی انگلیوں کے اشارے سے (قرب کو) بتایا۔ (صحیح بخاری: 6005)
4 سائلین سے برتاؤ — مانگنے والے کو جھڑکا نہ جائے اور نہ اس کی عزتِ نفس مجروح کی جائے۔
5 سائلین سے برتاؤ — استطاعت ہو تو نرمی سے دیا جائے، ورنہ نرم بات کہہ کر معذرت کی جائے۔
6 سائلین سے برتاؤ — دے کر احسان نہ جتایا جائے — خرچ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو۔
جواب آپ ﷺ خود یتیمی سے گزرے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ٹھکانا دیا، تنگ دستی کے بعد غنی فرمایا — اسی احسان کے شکر کے طور پر امت کو یتیموں اور سائلین سے نرمی کا حکم دیا گیا۔ (تفصیل کے لیے مختصر جوابات س2 اور س3 بھی دیکھیے۔)
22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

أَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ وَوَضَعۡنَا عَنكَ وِزۡرَكَ ٱلَّذِيٓ أَنقَضَ ظَهۡرَكَ وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا فَإِذَا فَرَغۡتَ فَٱنصَبۡ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرۡغَب (سورۃ الانشراح ۔ آیات 1 تا 8)

سورۃ الانشراح کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم کی رفعتِ شان پر مضمون تحریر کریں۔

ترجمہ

کیا ہم نے آپ (ﷺ) کی خاطر آپ (ﷺ) کا سینہ کشادہ نہیں فرما دیا؟ اور ہم نے آپ (ﷺ) سے آپ (ﷺ) کا (وہ) بوجھ اتار دیا۔ جس نے آپ (ﷺ) کی کمر جھکا دی تھی۔ اور ہم نے آپ (ﷺ) کی خاطر آپ (ﷺ) کا ذکر بلند فرما دیا۔ تو بے شک (ہر) مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک (ہر) مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ تو جب آپ (ﷺ) (تبلیغ کی ذمہ داری سے) فارغ ہو جایا کریں تو (عبادت میں) محنت فرمائیں۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہو جائیں۔

سورۃ الانشراح نبی کریم ﷺ کی رفعتِ شان کا بیان ہے: پوری سورت اللہ تعالیٰ کے اپنے حبیب ﷺ پر انعامات کے تذکرے سے عبارت ہے۔

1 شرحِ صدر — اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا سینۂ مبارک علم و حکمت اور نورِ ایمان سے کشادہ فرمایا، جس سے دعوت کی مشقتیں آسان ہو گئیں۔ (آیت 1)
2 وضعِ وزر — آپ ﷺ سے وہ بوجھ اتار دیا گیا جو کمر جھکائے دیتا تھا — نبوت سے پہلے کی فکرمندی اور امت کے غم کا بوجھ ہلکا فرما دیا گیا۔ (آیات 2، 3)
3 رفعِ ذکر — آپ ﷺ کا ذکر بلند فرما دیا گیا: اذان، اقامت، کلمہ، تشہد اور درود میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ آپ ﷺ کا ذکر قیامت تک بلند ہوتا رہے گا۔ (آیت 4)
4 مشکل کے ساتھ آسانی — دو مرتبہ فرما کر یقین دلایا گیا کہ آپ ﷺ اور اہلِ ایمان کے لیے ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے — مشکلات کا دور عارضی ہے۔ (آیات 5، 6)
5 قربِ الٰہی کی دعوت — آپ ﷺ کو فرمایا گیا کہ تبلیغ سے فارغ ہو کر عبادت میں محنت کریں اور اپنے رب ہی کی طرف راغب رہیں — یہ آپ ﷺ کے مقامِ عبدیت کی رفعت ہے۔ (آیات 7، 8)
جواب حاصل: جس ہستی کا ذکر خود اللہ تعالیٰ بلند فرمائے، اس کی شان سے بڑھ کر کس کی شان ہو سکتی ہے! ہمیں چاہیے کہ آپ ﷺ کے مقام و مرتبہ کو سمجھ کر آپ ﷺ کی سیرت و سنت کو اپنائیں۔
23 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ

اسم، فعل اور حرف کی تعریف کریں، اور سُوْرَةُ الْاِنْشِرَاحِ اور سُوْرَةُ الضُّحٰى سے مثالیں تلاش کر کے لکھیں۔

1 اسم — وہ کلمہ جو کسی شخص، جگہ یا چیز کے نام کو ظاہر کرے اور اس کے معنی میں کوئی زمانہ نہ پایا جائے۔ مثالیں: «وَٱلضُّحَىٰ» (چڑھتے دن کی روشنی — الضحیٰ: 1)، «ٱلۡيَتِيمَ» (یتیم — الضحیٰ: 9)، «صَدۡرَكَ» (آپ کا سینہ — الانشراح: 1) اور «ٱلۡعُسۡرِ» (مشکل — الانشراح: 6)۔
2 فعل — وہ کلمہ جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا کسی زمانے (ماضی، حال، مستقبل) کے ساتھ پایا جائے۔ مثالیں: «سَجَىٰ» (وہ چھایا — ماضی، الضحیٰ: 2)، «وَدَّعَكَ» (اس نے آپ کو نہیں چھوڑا — ماضی، الضحیٰ: 3)، «فَحَدِّثۡ» (خوب بیان کیجیے — امر، الضحیٰ: 11) اور «نَشۡرَحۡ» (کیا ہم نے کشادہ نہیں کیا — مضارع، الانشراح: 1)۔
3 حرف — وہ کلمہ جو اکیلا پورا معنی نہ دے، بلکہ اسم یا فعل کے ساتھ مل کر معنی دے۔ مثالیں: «مَا» (حرفِ نفی — الضحیٰ: 3)، «مِنَ» (حرفِ جر — الضحیٰ: 4)، «لَكَ» (لَ حرفِ جر — الانشراح: 1) اور «وَإِلَىٰ» (وَ حرفِ عطف + اِلٰى حرفِ جر — الانشراح: 8)۔
جواب (پانچ حروف کی الگ فہرست مختصر جوابات س6 میں بھی ہے۔)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.