قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیت 9)
«قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا» کی رو سے وہ کامیاب ہوا جس نے:
الف) اپنے آپ کو پاک کیا • ب) سخت محنت کی • ج) صفائی کا خیال رکھا • د) روزہ رکھا
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیت 9)
«قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا» کی رو سے وہ کامیاب ہوا جس نے:
الف) اپنے آپ کو پاک کیا • ب) سخت محنت کی • ج) صفائی کا خیال رکھا • د) روزہ رکھا
فَقَالَ لَهُمۡ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقۡيَٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیت 13)
اللہ تعالیٰ نے قومِ ثمود کو معجزہ کے طور پر عطا فرمائی:
الف) بھینس • ب) مچھلی • ج) اونٹنی • د) شیرنی
وَٱلۡقَمَرِ إِذَا تَلَىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیت 2)
«اَلْقَمَر» عربی قواعد کی رو سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) مصدر
وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیت 2)
«وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى» — دن کی قسم جب وہ:
الف) روشن ہو جائے • ب) گرم ہو جائے • ج) طلوع ہو جائے • د) غروب ہو جائے
إِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتَّىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیت 4)
«اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى» کی رو سے انسانوں کی کوششیں ہوتی ہیں:
الف) ایک ہی طرح • ب) دو طرح • ج) تین طرح • د) مختلف طرح
وَصَدَّقَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیت 6)
«صَدَّقَ» عربی قواعد کی رو سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) مصدر
فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیت 8)
«فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا» — آیتِ کریمہ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر کس چیز کی پہچان رکھی ہے؟
پھر (اللہ نے) اس (نفس) میں اس کی برائی اور پرہیز گاری (کی پہچان) رکھ دی۔
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمۡ فَسَوَّىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیت 14)
«فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» — آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم عذابِ الٰہی میں کیوں گرفتار ہوئی؟
تو ان لوگوں نے ان (صالح علیہ السلام) کو جھٹلایا، پھر اس (اونٹنی) کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں، تو ان کے رب نے انھیں ان کے اس گناہ کی وجہ سے عذاب دے کر (ہلاک کر کے سب کو) برابر کر دیا۔
فَأَمَّا مَنۡ أَعۡطَىٰ وَٱتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡيُسۡرَىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیات 5 تا 7)
«فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى ۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى ۔ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى» — آیاتِ کریمہ کی روشنی میں نیکی کا راستہ کن لوگوں کے لیے آسان کیا گیا ہے؟
تو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور پرہیز گاری اختیار کی۔ اور اچھی بات کی تصدیق کی۔ تو ہم عنقریب اسے (نیکی کے) آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔
وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسۡتَغۡنَىٰ وَكَذَّبَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡعُسۡرَىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیات 8 تا 10)
«وَاَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰى ۔ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنٰى ۔ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى» — آیاتِ کریمہ کی روشنی میں برائی کا راستہ کن لوگوں کے لیے آسان کیا گیا ہے؟
اور جس نے بخل کیا اور (اللہ سے) لاپروا رہا۔ اور اس نے اچھی بات کو جھٹلایا۔ تو ہم عنقریب اسے (برائی کے) مشکل راستے کے لیے سہولت دیں گے۔
فَأَنذَرۡتُكُمۡ نَارٗا تَلَظَّىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیت 14)
«فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰى» — آیتِ کریمہ میں کس چیز سے ڈرانے کا بیان ہے؟
تو میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے۔
سُوْرَةُ الشَّمْسِ میں استعمال ہونے والے کوئی سے چار اسماء اور چار افعال تحریر کریں۔
چار اسماء اور چار افعال
وَنَفۡسٖ وَمَا سَوَّىٰهَا فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَىٰهَا قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا وَقَدۡ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیات 7 تا 10)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی (قسم) جس نے اسے درست بنایا۔ پھر (اللہ نے) اس (نفس) میں اس کی برائی اور پرہیز گاری (کی پہچان) رکھ دی۔ یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس (نفس) کو پاک کر لیا۔ اور یقیناً وہ ناکام ہوا جس نے اسے (گناہوں میں) دبا دیا۔
سُوْرَةُ الشَّمْسِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
لَا يَصۡلَىٰهَآ إِلَّا ٱلۡأَشۡقَى ٱلَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلۡأَتۡقَى ٱلَّذِي يُؤۡتِي مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةٖ تُجۡزَىٰٓ (سورۃ اللیل ۔ آیات 15 تا 19)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اس میں وہی جلے گا جو بڑا بدبخت ہے۔ جس نے (حق کو) جھٹلایا اور منہ پھیرا۔ اور عنقریب اس (جہنم) سے وہ دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیز گار ہے۔ جو اپنا مال (اللہ کے راستے میں) دیتا ہے تاکہ وہ پاک ہو جائے۔ اور کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا اس کو بدلہ دیا جائے۔
سُوْرَةُ الَّيْلِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ
سُوْرَةُ الشَّمْسِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الشمس کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ الَّيْلِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ اللیل کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
قومِ ثمود کے حوالے سے معلومات اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔
اساتذہ کرام سے معلوم کی جانے والی معلومات کا خلاصہ:
اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر ممکنہ حد تک کسی غریب بچے کی مدد کے لیے کوئی پروگرام بنائیں۔
یہ عملی سرگرمی ہے: گھر والوں کے مشورے سے ایک سادہ پروگرام یوں بن سکتا ہے:
فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَىٰهَا
سورۃ اللیل کی آیات «فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى» اور «فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى» کا مفہوم تحریر کریں۔
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡيُسۡرَىٰ سورۃ اللیل ۔ آیت 7 فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡعُسۡرَىٰ سورۃ اللیل ۔ آیت 10 ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی توفیق کا قانون بیان ہوا ہے: انسان جو راستہ خود چنتا ہے، اللہ تعالیٰ اسی راستے کی سہولت اس کے لیے بڑھا دیتا ہے۔
قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا وَقَدۡ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیات 9 تا 10)
آج کل کامیاب کسے سمجھا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب کون ہے؟ تحریر کریں۔
یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس (نفس) کو پاک کر لیا۔ اور یقیناً وہ ناکام ہوا جس نے اسے (گناہوں میں) دبا دیا۔
آج کل کا معیارِ کامیابی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب
فَأَمَّا مَنۡ أَعۡطَىٰ وَٱتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡيُسۡرَىٰ
سورۃ اللیل اور سورۃ الشمس سے فعل ماضی، مضارع، امر اور نہی کی مثالیں تحریر کریں۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔