ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 16: سبق 16: سورۃ الشمس اور سورۃ اللیل — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 23 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیت 9)

«قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا» کی رو سے وہ کامیاب ہوا جس نے:

الف) اپنے آپ کو پاک کیا • ب) سخت محنت کی • ج) صفائی کا خیال رکھا • د) روزہ رکھا

جواب الف) اپنے آپ کو پاک کیا — ذخیرۂ الفاظ میں «زَكّٰىهَا» کا معنی ہے: اس نے اس (نفس) کو پاک کر لیا — یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

فَقَالَ لَهُمۡ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقۡيَٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیت 13)

اللہ تعالیٰ نے قومِ ثمود کو معجزہ کے طور پر عطا فرمائی:

الف) بھینس • ب) مچھلی • ج) اونٹنی • د) شیرنی

جواب ج) اونٹنی — آیت میں «نَاقَةَ اللّٰهِ» (اللہ کی اونٹنی) کا ذکر ہے: سیدنا صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے (کی باری) کی حفاظت کرو۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلۡقَمَرِ إِذَا تَلَىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیت 2)

«اَلْقَمَر» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) مصدر

جواب الف) اسم — «اَلْقَمَر» (چاند) اسم ہے: اس کے شروع میں «ال» اسم کی علامت ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیت 2)

«وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى» — دن کی قسم جب وہ:

الف) روشن ہو جائے • ب) گرم ہو جائے • ج) طلوع ہو جائے • د) غروب ہو جائے

جواب الف) روشن ہو جائے — ذخیرۂ الفاظ میں «تَجَلّٰى» کا معنی ہے: وہ روشن ہوا — اور دن کی قسم جب وہ روشن ہو جائے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتَّىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیت 4)

«اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى» کی رو سے انسانوں کی کوششیں ہوتی ہیں:

الف) ایک ہی طرح • ب) دو طرح • ج) تین طرح • د) مختلف طرح

جواب د) مختلف طرح — «شَتّٰى» کا معنی مختلف ہے: بے شک تمھاری کوششیں ضرور مختلف ہیں — اگلی آیات میں یہی فرق دینے والے متقی اور بخیل منکر کی صورت میں بیان ہوا ہے۔
6 کثیر الانتخابی سوالات

وَصَدَّقَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیت 6)

«صَدَّقَ» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) مصدر

جواب ب) فعل — «صَدَّقَ» (اس نے تصدیق کی) فعل ماضی ہے: اس میں تصدیق کرنے کا کام گزرے ہوئے زمانے میں پایا جاتا ہے۔

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیت 8)

«فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا» — آیتِ کریمہ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر کس چیز کی پہچان رکھی ہے؟

ترجمہ

پھر (اللہ نے) اس (نفس) میں اس کی برائی اور پرہیز گاری (کی پہچان) رکھ دی۔

جواب اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے نفس (فطرت) میں نیکی اور برائی — فجور اور تقویٰ — کی پہچان رکھ دی ہے: ہر شخص اندر سے جانتا ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا؛ اب آزمائش یہ ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔
8 مختصر جوابات

فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمۡ فَسَوَّىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیت 14)

«فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» — آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم عذابِ الٰہی میں کیوں گرفتار ہوئی؟

ترجمہ

تو ان لوگوں نے ان (صالح علیہ السلام) کو جھٹلایا، پھر اس (اونٹنی) کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں، تو ان کے رب نے انھیں ان کے اس گناہ کی وجہ سے عذاب دے کر (ہلاک کر کے سب کو) برابر کر دیا۔

جواب قومِ ثمود اپنی سرکشی کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہوئی: انھوں نے اپنے رسول سیدنا صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور معجزے کے طور پر عطا کی گئی اللہ کی اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ کر اسے مار ڈالا — اس گناہ پر ان کے رب نے ان پر ایسا عذاب بھیجا کہ سب کو ہلاک کر کے برابر کر دیا، اور اللہ کو اس کے انجام کی کوئی پروا نہیں۔ (آیت 15)
9 مختصر جوابات

فَأَمَّا مَنۡ أَعۡطَىٰ وَٱتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡيُسۡرَىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیات 5 تا 7)

«فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى ۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى ۔ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى» — آیاتِ کریمہ کی روشنی میں نیکی کا راستہ کن لوگوں کے لیے آسان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

تو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور پرہیز گاری اختیار کی۔ اور اچھی بات کی تصدیق کی۔ تو ہم عنقریب اسے (نیکی کے) آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔

جواب نیکی کا راستہ ان لوگوں کے لیے آسان کیا گیا ہے جو تین صفات رکھتے ہیں: اللہ کی راہ میں مال دیتے ہیں، تقویٰ (پرہیز گاری) اختیار کرتے ہیں اور اچھی بات (دینِ حق) کی تصدیق کرتے ہیں۔
10 مختصر جوابات

وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسۡتَغۡنَىٰ وَكَذَّبَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡعُسۡرَىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیات 8 تا 10)

«وَاَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰى ۔ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنٰى ۔ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى» — آیاتِ کریمہ کی روشنی میں برائی کا راستہ کن لوگوں کے لیے آسان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور جس نے بخل کیا اور (اللہ سے) لاپروا رہا۔ اور اس نے اچھی بات کو جھٹلایا۔ تو ہم عنقریب اسے (برائی کے) مشکل راستے کے لیے سہولت دیں گے۔

جواب برائی کا (بظاہر آسان مگر انجام کے اعتبار سے) مشکل راستہ ان لوگوں کے لیے آسان کیا گیا ہے جو بخل کرتے ہیں، اللہ سے بے پروا ہو جاتے ہیں اور اچھی بات (دینِ حق) کو جھٹلاتے ہیں — جب وہ (جہنم میں) گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔ (آیت 11)
11 مختصر جوابات

فَأَنذَرۡتُكُمۡ نَارٗا تَلَظَّىٰ (سورۃ اللیل ۔ آیت 14)

«فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰى» — آیتِ کریمہ میں کس چیز سے ڈرانے کا بیان ہے؟

ترجمہ

تو میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے۔

جواب اس آیت میں جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرایا گیا ہے: اس میں وہی بڑا بدبخت جلے گا جس نے (حق کو) جھٹلایا اور منہ پھیرا، اور بڑا پرہیز گار اس سے دور رکھا جائے گا۔ (آیات 15 تا 17)
12 مختصر جوابات

سُوْرَةُ الشَّمْسِ میں استعمال ہونے والے کوئی سے چار اسماء اور چار افعال تحریر کریں۔

چار اسماء اور چار افعال

1 چار اسماء — 1 — «وَٱلشَّمۡسِ» — سورج۔ (آیت 1)
2 چار اسماء — 2 — «وَٱلۡقَمَرِ» — چاند۔ (آیت 2)
3 چار اسماء — 3 — «وَٱلسَّمَآءِ» — آسمان۔ (آیت 5)
4 چار اسماء — 4 — «وَٱلۡأَرۡضِ» — زمین۔ (آیت 6)
5 چار افعال — 1 — «تَلَىٰهَا» — وہ اس (سورج) کے پیچھے آیا؛ فعل ماضی۔ (آیت 2)
6 چار افعال — 2 — «جَلَّىٰهَا» — اس نے اس کو روشن کیا؛ فعل ماضی۔ (آیت 3)
7 چار افعال — 3 — «يَغۡشَىٰهَا» — وہ اس کو ڈھانپ لے؛ فعل مضارع۔ (آیت 4)
8 چار افعال — 4 — «كَذَّبَتۡ» — اس (قوم) نے جھٹلایا؛ فعل ماضی۔ (آیت 11)

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

وَنَفۡسٖ وَمَا سَوَّىٰهَا فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَىٰهَا قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا وَقَدۡ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیات 7 تا 10)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی (قسم) جس نے اسے درست بنایا۔ پھر (اللہ نے) اس (نفس) میں اس کی برائی اور پرہیز گاری (کی پہچان) رکھ دی۔ یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس (نفس) کو پاک کر لیا۔ اور یقیناً وہ ناکام ہوا جس نے اسے (گناہوں میں) دبا دیا۔

جواب اللہ نے نفس یعنی انسان کی جان کی قسم کھائی، جسے اُس نے بالکل ٹھیک اور متوازن بنایا۔ پھر بتایا کہ اُس نے ہر انسان کے دل میں دو راستے ڈال دیے — برائی کا بھی اور پرہیزگاری کا بھی۔ یعنی ہر شخص کے اندر یہ سمجھ رکھ دی گئی ہے کہ کون سا کام اچھا ہے اور کون سا برا۔ کامیاب وہ ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا، یعنی برائی سے بچا اور نیکی کی طرف بڑھا۔ اور ناکام وہ ہوا جس نے اُسے گناہوں میں دبا دیا۔ سبق یہ ہے کہ راستہ چننا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے، اِس لیے اپنے دل کو گناہوں سے صاف رکھنا چاہیے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الشَّمْسِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

1 تعارف — نام کی وجہ — اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا «وَالشَّمْسِ» (سورج کی قسم) سے فرمائی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ الشَّمْس» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 15 آیات ہیں۔
3 فضیلت — نبی کریم ﷺ عشاء کی نماز میں سُوْرَةُ الشَّمْسِ اور اس جیسی سورتیں تلاوت فرماتے تھے۔ (جامع ترمذی: 309)
4 فرمانِ نبوی ﷺ — اَللّٰهُمَّ اٰتِ نَفْسِيْ تَقْوٰىهَا وَزَكِّهَا اَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكّٰىهَا اَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلٰىهَا (صحیح مسلم: 6906)
5 فرمانِ نبوی ﷺ — ترجمہ: اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر اور اسے پاکیزہ بنا، تو پاکیزہ بنانے والوں میں سب سے بہتر ہے؛ تو ہی اس کا کارساز اور اس کا مولیٰ ہے۔ — یہ دعا اسی سورت کے مضمونِ تزکیہ سے جڑی ہے۔
جواب مرکزی مضمون — کامیاب اور ناکام لوگوں کا بیان۔
15 تفصیلی جوابات

لَا يَصۡلَىٰهَآ إِلَّا ٱلۡأَشۡقَى ٱلَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلۡأَتۡقَى ٱلَّذِي يُؤۡتِي مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةٖ تُجۡزَىٰٓ (سورۃ اللیل ۔ آیات 15 تا 19)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اس میں وہی جلے گا جو بڑا بدبخت ہے۔ جس نے (حق کو) جھٹلایا اور منہ پھیرا۔ اور عنقریب اس (جہنم) سے وہ دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیز گار ہے۔ جو اپنا مال (اللہ کے راستے میں) دیتا ہے تاکہ وہ پاک ہو جائے۔ اور کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا اس کو بدلہ دیا جائے۔

جواب اِس سے پہلے بھڑکتی ہوئی آگ کا ذکر ہوا، اور یہاں بتایا گیا کہ اُس میں وہی داخل ہوگا جو سب سے بدبخت ہو — جس نے سچ کو جھٹلایا اور منہ پھیر لیا۔ اِس کے مقابلے میں سب سے زیادہ پرہیزگار شخص کو اُس آگ سے بچا لیا جائے گا۔ وہ وہی ہے جو اپنا مال اللہ کی راہ میں دیتا ہے تاکہ اپنے آپ کو پاک کرے۔ اور اُس کے دل میں کسی کا احسان چکانے کا خیال نہیں ہوتا، یعنی وہ کسی سے بدلہ یا شکریہ لینے کے لیے خرچ نہیں کرتا۔ سبق یہ ہے کہ خرچ کرتے وقت نیت خالص ہونی چاہیے، صرف اللہ کی رضا کے لیے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الَّيْلِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ

1 تعارف — نام کی وجہ — اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا «وَالَّيْلِ» (رات کی قسم) سے فرمائی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ الَّيْل» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ سورت مکی دور میں نازل ہوئی اور اس میں 21 آیات ہیں۔
3 فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «مومن کی مثال پودے کی پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ جب بھی ہوا چلتی ہے اسے جھکا دیتی ہے، پھر وہ سیدھا ہو کر مصیبت برداشت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے؛ اور بدکار کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ سخت ہوتا ہے، سیدھا کھڑا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔» (صحیح بخاری: 5643)
جواب مرکزی مضمون — کامیاب اور ناکام دو گروہوں کا بیان۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الشَّمْسِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الشمس کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 سات چیزوں کی قسم اٹھانے کا بیان۔
2 انسان کو اپنے اعمال کا ذمہ دار بنانے کا بیان۔
3 انسانی فطرت میں نیکی اور برائی کی پہچان رکھنے کا ذکر۔
4 قومِ ثمود کی سرکشی اور برے انجام کا تذکرہ۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الَّيْلِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ اللیل کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 نیکی اور بدی کے راستے پر چلنے کے نتائج کا بیان۔
2 بخیل کو اس کے مال سے فائدہ نہ پہنچنے کا تذکرہ۔
3 خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر نیکی کرنے کے اجر کا بیان۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

قومِ ثمود کے حوالے سے معلومات اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

اساتذہ کرام سے معلوم کی جانے والی معلومات کا خلاصہ:

1 کون تھے؟ — قومِ ثمود قومِ عاد کے بعد کی مشہور عرب قوم تھی، جو حجاز اور شام کے درمیان وادیِ «حِجر» (موجودہ مدائنِ صالح، سعودی عرب) میں آباد تھی۔
2 مہارت — یہ لوگ پہاڑوں اور چٹانوں کو تراش کر مضبوط مکانات بناتے تھے — سورۃ الفجر میں انھیں «جنھوں نے وادی میں چٹانیں تراشیں» فرمایا گیا ہے۔ (الفجر: 9)
3 رسول — ان کی طرف سیدنا صالح علیہ السلام مبعوث ہوئے، جنھوں نے انھیں توحید کی دعوت دی۔
4 معجزہ — ان کے مطالبے پر اللہ تعالیٰ نے معجزے کے طور پر ایک اونٹنی عطا فرمائی اور پانی کی باری مقرر کر دی؛ تاکید کی گئی کہ اسے نہ چھیڑا جائے۔ (الشمس: 13)
5 جرم اور انجام — قوم کے سب سے بڑے بدبخت نے اٹھ کر اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں؛ قوم نے رسول کو جھٹلایا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسا عذاب (ہول ناک چیخ اور زلزلہ) بھیجا کہ سب برابر (ہلاک) کر دیے گئے۔ (الشمس: 11 تا 15)
6 سبق — اللہ کے رسولوں کو جھٹلانا اور اس کی نشانیوں سے چھیڑ چھاڑ تباہی کا راستہ ہے۔
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر ممکنہ حد تک کسی غریب بچے کی مدد کے لیے کوئی پروگرام بنائیں۔

یہ عملی سرگرمی ہے: گھر والوں کے مشورے سے ایک سادہ پروگرام یوں بن سکتا ہے:

1 انتخاب — محلے، مدرسے یا خاندان میں کسی ضرورت مند بچے کا (عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے) انتخاب کریں۔
2 ضرورت کی نشان دہی — معلوم کریں کہ اسے کس چیز کی زیادہ ضرورت ہے — فیس، کتابیں، یونیفارم، جوتے یا کھانا۔
3 حصہ ڈالنا — گھر کے سب افراد اپنے جیب خرچ یا بچت سے حصہ ڈالیں؛ تھوڑا تھوڑا مل کر بہت بن جاتا ہے۔
4 تسلسل — ایک ہی بار نہیں، بلکہ ماہانہ یا سہ ماہی مدد کا معمول بنانے کی کوشش کریں۔
5 اخلاص — مدد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، احسان جتائے بغیر — اسی سبق میں ایسے ہی خرچ کرنے والے کو «اَلْاَتْقَى» فرمایا گیا ہے، جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ پاک ہو جائے اور کسی کے احسان کا بدلہ اس پر نہیں ہوتا۔ (اللیل: 17 تا 21)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

21 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَىٰهَا

سورۃ اللیل کی آیات «فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى» اور «فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى» کا مفہوم تحریر کریں۔

فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡيُسۡرَىٰ سورۃ اللیل ۔ آیت 7 فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡعُسۡرَىٰ سورۃ اللیل ۔ آیت 10 ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی توفیق کا قانون بیان ہوا ہے: انسان جو راستہ خود چنتا ہے، اللہ تعالیٰ اسی راستے کی سہولت اس کے لیے بڑھا دیتا ہے۔

1 لِلْيُسْرٰى کا مفہوم — جو بندہ اللہ کی راہ میں دیتا ہے، تقویٰ اختیار کرتا ہے اور اچھی بات کی تصدیق کرتا ہے، اس کے لیے نیکی کا راستہ آسان کر دیا جاتا ہے: نیکی اس کی طبیعت بن جاتی ہے، عبادت میں دل لگتا ہے اور خیر کے مواقع خود چل کر آتے ہیں۔
2 لِلْعُسْرٰى کا مفہوم — جو بخل کرتا ہے، اللہ سے بے پروا ہو جاتا ہے اور حق کو جھٹلاتا ہے، اس کے لیے (انجام کے اعتبار سے) مشکل یعنی برائی کا راستہ آسان کر دیا جاتا ہے: نیکی اس پر بوجھ ہو جاتی ہے اور برائی آسان لگنے لگتی ہے، حالاں کہ اس راستے کی منزل بھڑکتی آگ ہے۔
جواب گویا توفیق بندے کے اپنے انتخاب کا پھل ہے: نیکی کا ایک قدم اگلی نیکی آسان کرتا ہے اور برائی کا ایک قدم اگلی برائی۔ (یہ راستے کن لوگوں کے لیے آسان ہوتے ہیں، اس کی تفصیل مختصر جوابات س3 اور س4 میں ہے۔)
22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا وَقَدۡ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا (سورۃ الشمس ۔ آیات 9 تا 10)

آج کل کامیاب کسے سمجھا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب کون ہے؟ تحریر کریں۔

ترجمہ

یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس (نفس) کو پاک کر لیا۔ اور یقیناً وہ ناکام ہوا جس نے اسے (گناہوں میں) دبا دیا۔

آج کل کا معیارِ کامیابی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب

1 آج کل کا معیارِ کامیابی — آج کل عام طور پر اسی کو کامیاب سمجھا جاتا ہے جس کے پاس زیادہ مال و دولت، بڑا گھر اور گاڑی، اونچا عہدہ، شہرت یا اقتدار ہو — یعنی کامیابی کو صرف دنیاوی چیزوں سے ناپا جاتا ہے، چاہے وہ حلال طریقے سے ملی ہوں یا حرام سے، اور چاہے آخرت برباد ہو رہی ہو۔
2 اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب — اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب وہ ہے جس نے اپنے نفس کو پاک کیا: عقیدہ شرک سے، دل تکبر اور حسد سے اور اعمال گناہوں سے پاک کیے؛ جس نے اللہ کی راہ میں دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی۔ ایسے ہی شخص کو سورۃ الشمس میں «قَدْ اَفْلَحَ» اور سورۃ اللیل میں «اَلْاَتْقَى» فرمایا گیا، جو عنقریب راضی ہو جائے گا۔ (اللیل: 21)
جواب حاصل: دنیاوی مال و مرتبہ آزمائش ہے، معیارِ کامیابی نہیں — اصل کامیابی تزکیۂ نفس اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔
23 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فَأَمَّا مَنۡ أَعۡطَىٰ وَٱتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡيُسۡرَىٰ

سورۃ اللیل اور سورۃ الشمس سے فعل ماضی، مضارع، امر اور نہی کی مثالیں تحریر کریں۔

1 فعل ماضی — 1 — «كَذَّبَتۡ» — (قومِ ثمود نے) جھٹلایا۔ (الشمس: 11)
2 فعل ماضی — 2 — «فَعَقَرُوهَا» — پھر انھوں نے اس (اونٹنی) کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔ (الشمس: 14)
3 فعل ماضی — 3 — «أَعۡطَىٰ» — اس نے (اللہ کی راہ میں) دیا۔ (اللیل: 5)
4 فعل ماضی — 4 — «بَخِلَ» — اس نے بخل کیا۔ (اللیل: 8)
5 فعل مضارع — 1 — «يَغۡشَىٰهَا» — وہ اس کو ڈھانپ لے۔ (الشمس: 4)
6 فعل مضارع — 2 — «وَلَا يَخَافُ» — اور وہ نہیں ڈرتا۔ (الشمس: 15)
7 فعل مضارع — 3 — «يُؤۡتِي» — وہ دیتا ہے۔ (اللیل: 18)
8 فعل مضارع — 4 — «تَلَظَّىٰ» — وہ بھڑکتی ہے۔ (اللیل: 14)
9 فعل امر اور فعل نہی — ان دونوں سورتوں میں کوئی فعل امر یا فعل نہی استعمال نہیں ہوا — اس لیے مثالیں گزشتہ اسباق کی سورتوں سے دی جاتی ہیں:
10 فعل امر اور فعل نہی — فعل امر — «ٱرۡجِعِيٓ» (واپس چل) اور «فَٱدۡخُلِي» (پس داخل ہو جا)۔ (الفجر: 28، 29)
11 فعل امر اور فعل نہی — فعل نہی — «أَنتَ وَزَوۡجُكَ ٱلۡجَنَّةَ …» — اور (اے آدم اور حوا!) اس درخت کے قریب نہ جانا۔ (البقرۃ: 35)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.