وَلَيَالٍ عَشۡرٖ (سورۃ الفجر ۔ آیت 2)
«وَلَيَالٍ عَشْرٍ» کے آغاز میں قسم کھائی گئی ہے:
الف) دس راتوں کی • ب) دس دنوں کی • ج) دس مہینوں کی • د) دس سالوں کی
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَلَيَالٍ عَشۡرٖ (سورۃ الفجر ۔ آیت 2)
«وَلَيَالٍ عَشْرٍ» کے آغاز میں قسم کھائی گئی ہے:
الف) دس راتوں کی • ب) دس دنوں کی • ج) دس مہینوں کی • د) دس سالوں کی
وَفِرۡعَوۡنَ ذِي ٱلۡأَوۡتَادِ (سورۃ الفجر ۔ آیت 10)
«ذِی الْاَوْتَادِ» کے معنی ہیں:
الف) پتھر تراشنے والا • ب) ستونوں والا • ج) میخوں والا • د) لشکر والا
ٱلَّتِي لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي ٱلۡبِلَٰدِ (سورۃ الفجر ۔ آیت 8)
«يُخْلَقْ» قواعد کی رو سے ہے:
الف) ماضی معروف • ب) ماضی مجہول • ج) مضارع معروف • د) مضارع مجہول
لَآ أُقۡسِمُ بِهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ (سورۃ البلد ۔ آیت 1)
«لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ» میں «اَلْبَلَد» سے مراد ہے:
الف) طائف • ب) مکہ مکرمہ • ج) مدینہ منورہ • د) بغداد
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا هُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ (سورۃ البلد ۔ آیت 19)
«وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ» میں اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ کی کیا برائی بیان کی گئی ہے:
الف) وہ لوگوں کو دھوکے دیتے ہیں • ب) وہ یتیم کو دھکے دیتے ہیں • ج) وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں • د) وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ نہیں کرتے ہیں
وَتَأۡكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكۡلٗا لَّمّٗا (سورۃ الفجر ۔ آیت 19)
«تَاْكُلُوْنَ» فعل ہے:
الف) ماضی • ب) مضارع • ج) امر • د) نہی
فَأَمَّا ٱلۡإِنسَٰنُ إِذَا مَا ٱبۡتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ فَأَكۡرَمَهُۥ وَنَعَّمَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّيٓ أَكۡرَمَنِ (سورۃ الفجر ۔ آیت 15)
«فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَنَعَّمَهٗ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے نعمتوں کی فراوانی پر انسان کا کیا طرزِ عمل ہوتا ہے؟
تو انسان (کا حال یہ ہے کہ) جب اس کا رب اسے آزماتا ہے، پھر اسے عزت اور نعمتیں عطا فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھے عزت بخشی۔
وَأَمَّآ إِذَا مَا ٱبۡتَلَىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّيٓ أَهَٰنَنِ (سورۃ الفجر ۔ آیت 16)
«وَاَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَهَانَنِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے رزق کی تنگ دستی پر انسان کا کیا طرزِ عمل ہوتا ہے؟
اور لیکن جب وہ اسے آزماتا ہے، پھر اس پر اس کا رزق تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔
وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ (سورۃ الفجر ۔ آیت 18)
«وَلَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ» — آیتِ کریمہ میں سے اسم، فعل اور حرف الگ کریں۔
اور نہ ہی تم مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو۔
لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِي كَبَدٍ (سورۃ البلد ۔ آیت 4)
«لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ» — آیتِ کریمہ میں انسان کے بارے میں کس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے؟
یقیناً ہم نے انسان کو (اس کی) مشقت میں پیدا فرمایا ہے۔
أَيَحۡسَبُ أَن لَّن يَقۡدِرَ عَلَيۡهِ أَحَدٞ (سورۃ البلد ۔ آیت 5)
«اَيَحْسَبُ اَنْ لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْهِ اَحَدٌ» — آیتِ کریمہ میں انسان کی کس غلط فہمی کا ذکر کیا گیا ہے؟
کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس پر ہرگز کوئی قابو نہ پا سکے گا؟
فَكُّ رَقَبَةٍ أَوۡ إِطۡعَٰمٞ فِي يَوۡمٖ ذِي مَسۡغَبَةٖ (سورۃ البلد ۔ آیات 13 تا 14)
«فَكُّ رَقَبَةٍ ۔ اَوْ اِطْعَامٌ فِيْ يَوْمٍ ذِيْ مَسْغَبَةٍ» — آیاتِ کریمہ کے مطابق «عقبہ» سے کیا مراد ہے؟
(وہ ہے) کسی گردن کو (غلامی سے) آزاد کرانا۔ یا بھوک والے دن میں کھانا کھلانا۔
يَـٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفۡسُ ٱلۡمُطۡمَئِنَّةُ ٱرۡجِعِيٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةٗ مَّرۡضِيَّةٗ فَٱدۡخُلِي فِي عِبَٰدِي وَٱدۡخُلِي جَنَّتِي (سورۃ الفجر ۔ آیات 27 تا 30)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اے نفسِ مطمئنہ! اپنے رب کی طرف واپس چل (اس حال میں کہ) تُو اس سے راضی ہو (اور) وہ تجھ سے راضی ہے۔ لہٰذا میرے (نیک) بندوں میں شامل ہو جا۔ اور میری جنت میں داخل ہو جا۔
سُوْرَةُ الْفَجْرِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ
ثُمَّ كَانَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡمَرۡحَمَةِ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ (سورۃ البلد ۔ آیات 17 تا 18)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
پھر وہ شخص ان لوگوں میں سے بھی ہو جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے رہے اور آپس میں رحم (کرنے) کی نصیحت کرتے رہے۔ یہی لوگ دائیں طرف والے (خوش نصیب) ہیں۔
سُوْرَةُ الْبَلَدِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف
سُوْرَةُ الْفَجْرِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الفجر کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ الْبَلَدِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ البلد کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
آپ کے محلے یا رشتہ داروں میں کوئی یتیم ہو تو والدین کی مشاورت سے اس کی دل جوئی کے لیے کوئی تحفہ دینے کی کوشش کریں۔
یہ عملی سرگرمی ہے: اپنے والدین سے مشورہ کر کے محلے یا خاندان کے کسی یتیم بچے کے لیے کوئی مناسب تحفہ (کپڑے، کتابیں، کھلونا یا کھانے کی چیز) تیار کریں اور ادب و محبت سے پیش کریں۔
درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْفَجْرِ اور سُوْرَةُ الْبَلَدِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ قومِ ارم 2۔ قومِ ثمود 3۔ دس راتیں 4۔ مطمئن جان 5۔ یتیم کی عزت 6۔ شہرِ مکہ 7۔ رحم کرنے کی نصیحت 8۔ دو آنکھیں 9۔ دو راستے 10۔ کھانا کھلانا
مکہ مکرمہ کے بارے میں کوئی پانچ اہم باتیں معلوم کر کے تحریر کریں۔
مکہ مکرمہ کے بارے میں پانچ اہم باتیں درج ذیل ہیں:
وَلَيَالٍ عَشۡرٖ (سورۃ الفجر ۔ آیت 2)
عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت تحریر کریں۔
اور دس راتوں کی قسم۔
مفسرین کے نزدیک «وَلَيَالٍ عَشْرٍ» سے مراد ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں — اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کی قسم اٹھانا ہی اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ ان دنوں کی فضیلت کے چند پہلو:
وَتَأۡكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكۡلٗا لَّمّٗا (سورۃ الفجر ۔ آیت 19)
سورۃ الفجر میں وراثت کا ذکر ہے: وراثت کو ناحق طریقے سے ضبط کرنے پر جو وعیدیں ہیں، تحریر کریں۔
اور تم وراثت کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔
اس آیت میں اہلِ مکہ کی یہ برائی بیان ہوئی کہ وہ «ٱلتُّرَاثَ أَكۡلٗا لَّمّٗا» — وراثت کا سارا مال سمیٹ کر خود کھا جاتے تھے: کمزور وارثوں، عورتوں اور یتیموں کو حصہ نہیں دیتے تھے۔ اس پر قرآن کی وعیدیں:
وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ
مکہ مکرمہ کی عظمت کے بارے میں پیراگراف تحریر کریں۔
مکہ مکرمہ روئے زمین کا مقدس ترین شہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البلد میں اس شہر کی قسم اٹھائی اور اس قسم کو نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کے اس میں قیام کی نسبت سے مزید عظمت بخشی۔ یہیں بیت اللہ ہے جسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا، یہیں زم زم کا چشمہ سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی قربانی کی یادگار ہے، اور صفا و مروہ کی سعی اسی واقعے کو زندہ رکھتی ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہیں دعا فرمائی تھی: رَبَّنَا وَٱبۡعَثۡ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَيُزَكِّيهِمۡۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ سورۃ البقرۃ ۔ آیت 129
فَلَا ٱقۡتَحَمَ ٱلۡعَقَبَةَ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡعَقَبَةُ (سورۃ البلد ۔ آیات 11 تا 12)
پہاڑ پر چڑھنے اور اترنے کی مثال کے ذریعے نیکی اور برائی کی منازل اور انجام تحریر کریں۔
تو وہ (نیکی کی) دشوار گھاٹی میں داخل نہیں ہوا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ دشوار گھاٹی کیا ہے؟
قرآن مجید نے نیکی کو «عَقَبَة» یعنی پہاڑ کی دشوار گھاٹی سے تشبیہ دی ہے — اس مثال سے نیکی اور برائی کی منازل یوں سمجھی جا سکتی ہیں:
أَيَحۡسَبُ أَن لَّن يَقۡدِرَ عَلَيۡهِ أَحَدٞ
فعل امر اور فعل نہی کی تعریف کریں، اور فعل مضارع مجہول کی قرآنی مثالیں تحریر کریں۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔