ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 15: سبق 15: سورۃ الفجر اور سورۃ البلد — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 26 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَلَيَالٍ عَشۡرٖ (سورۃ الفجر ۔ آیت 2)

«وَلَيَالٍ عَشْرٍ» کے آغاز میں قسم کھائی گئی ہے:

الف) دس راتوں کی • ب) دس دنوں کی • ج) دس مہینوں کی • د) دس سالوں کی

جواب الف) دس راتوں کی — «لَيَال» راتوں کو کہتے ہیں: لفظی ترجمے کے مطابق «اور دس راتوں کی (قسم)» — مفسرین کے نزدیک اس سے مراد ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَفِرۡعَوۡنَ ذِي ٱلۡأَوۡتَادِ (سورۃ الفجر ۔ آیت 10)

«ذِی الْاَوْتَادِ» کے معنی ہیں:

الف) پتھر تراشنے والا • ب) ستونوں والا • ج) میخوں والا • د) لشکر والا

جواب ج) میخوں والا — ذخیرۂ الفاظ میں «ذِی الْاَوْتَادِ» کا معنی ہے: میخوں والے — فرعون کو میخوں والا کہا گیا (وہ لوگوں کو میخوں سے سزائیں دیتا تھا)۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

ٱلَّتِي لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي ٱلۡبِلَٰدِ (سورۃ الفجر ۔ آیت 8)

«يُخْلَقْ» قواعد کی رو سے ہے:

الف) ماضی معروف • ب) ماضی مجہول • ج) مضارع معروف • د) مضارع مجہول

جواب د) مضارع مجہول — سبق کے گرامر باکس («فعل مضارع مجہول») میں «اَلَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» کو فعل مضارع مجہول ہی کی مثال بنایا گیا ہے: فاعل مذکور نہیں اور «مِثْل» نائب فاعل ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

لَآ أُقۡسِمُ بِهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ (سورۃ البلد ۔ آیت 1)

«لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ» میں «اَلْبَلَد» سے مراد ہے:

الف) طائف • ب) مکہ مکرمہ • ج) مدینہ منورہ • د) بغداد

جواب ب) مکہ مکرمہ — «اَلْبَلَد» (شہر) سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جس میں (نزول کے وقت) نبی کریم ﷺ رہائش پذیر تھے؛ اسی مناسبت سے سورت کا نام بھی «اَلْبَلَد» ہے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا هُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ (سورۃ البلد ۔ آیت 19)

«وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ» میں اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ کی کیا برائی بیان کی گئی ہے:

الف) وہ لوگوں کو دھوکے دیتے ہیں • ب) وہ یتیم کو دھکے دیتے ہیں • ج) وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں • د) وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ نہیں کرتے ہیں

جواب ج) وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں — آیت خود بتاتی ہے: جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا، وہی بائیں طرف والے (بدنصیب) ہیں — ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی آگ ہو گی۔ (آیت 20)
6 کثیر الانتخابی سوالات

وَتَأۡكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكۡلٗا لَّمّٗا (سورۃ الفجر ۔ آیت 19)

«تَاْكُلُوْنَ» فعل ہے:

الف) ماضی • ب) مضارع • ج) امر • د) نہی

جواب ب) مضارع — «تَاْكُلُوْنَ» (تم کھا جاتے ہو) فعل مضارع ہے: اس میں کھانے کا کام زمانۂ حال میں پایا جاتا ہے۔

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

فَأَمَّا ٱلۡإِنسَٰنُ إِذَا مَا ٱبۡتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ فَأَكۡرَمَهُۥ وَنَعَّمَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّيٓ أَكۡرَمَنِ (سورۃ الفجر ۔ آیت 15)

«فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَنَعَّمَهٗ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے نعمتوں کی فراوانی پر انسان کا کیا طرزِ عمل ہوتا ہے؟

ترجمہ

تو انسان (کا حال یہ ہے کہ) جب اس کا رب اسے آزماتا ہے، پھر اسے عزت اور نعمتیں عطا فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھے عزت بخشی۔

جواب نعمتوں کی فراوانی پر انسان (اسے آزمائش سمجھنے کے بجائے) اپنی عزت کا ثبوت سمجھ بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی ہے — حالاں کہ عزت اور نعمت دونوں دراصل آزمائش ہیں کہ بندہ شکر کرتا ہے یا نہیں۔
8 مختصر جوابات

وَأَمَّآ إِذَا مَا ٱبۡتَلَىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّيٓ أَهَٰنَنِ (سورۃ الفجر ۔ آیت 16)

«وَاَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَهَانَنِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے رزق کی تنگ دستی پر انسان کا کیا طرزِ عمل ہوتا ہے؟

ترجمہ

اور لیکن جب وہ اسے آزماتا ہے، پھر اس پر اس کا رزق تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے: میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔

جواب رزق کی تنگی پر انسان (اسے بھی آزمائش سمجھنے کے بجائے) شکوہ کرنے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا — حالاں کہ رزق کی کمی بیشی عزت و ذلت کا معیار نہیں بلکہ صبر کی آزمائش ہے۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے «كَلَّا» (ہرگز نہیں) فرما کر اس سوچ کی تردید فرمائی۔ (آیت 17)
9 مختصر جوابات

وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ (سورۃ الفجر ۔ آیت 18)

«وَلَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ» — آیتِ کریمہ میں سے اسم، فعل اور حرف الگ کریں۔

ترجمہ

اور نہ ہی تم مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو۔

1 اسم — «طَعَام» (کھانا) اور «اَلْمِسْكِيْن» (مسکین/محتاج) — «اَلْمِسْكِيْن» پر «ال» اسم کی علامت ہے۔
2 فعل — «تَحٰٓضُّوْنَ» (تم ترغیب دیتے ہو) — فعل مضارع۔
3 حرف — «وَ» (اور)، «لَا» (حرفِ نفی) اور «عَلٰى» (حرفِ جر)۔
10 مختصر جوابات

لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِي كَبَدٍ (سورۃ البلد ۔ آیت 4)

«لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ» — آیتِ کریمہ میں انسان کے بارے میں کس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے؟

ترجمہ

یقیناً ہم نے انسان کو (اس کی) مشقت میں پیدا فرمایا ہے۔

جواب اس آیت میں یہ حقیقت بیان ہوئی ہے کہ انسان کی پوری زندگی مشقت میں ہے: پیدائش سے موت تک وہ محنتوں، آزمائشوں اور مشکلوں سے گزرتا رہتا ہے — لہٰذا اسے دنیا میں آرام ہی آرام کی امید نہیں رکھنی چاہیے، بلکہ اس مشقت کو آخرت کی کامیابی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
11 مختصر جوابات

أَيَحۡسَبُ أَن لَّن يَقۡدِرَ عَلَيۡهِ أَحَدٞ (سورۃ البلد ۔ آیت 5)

«اَيَحْسَبُ اَنْ لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْهِ اَحَدٌ» — آیتِ کریمہ میں انسان کی کس غلط فہمی کا ذکر کیا گیا ہے؟

ترجمہ

کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس پر ہرگز کوئی قابو نہ پا سکے گا؟

جواب انسان کی اس غلط فہمی کا ذکر ہے کہ وہ اپنے آپ کو (اپنے مال اور طاقت کی وجہ سے) بے قابو سمجھتا ہے — کہ اس پر کسی کا بس نہیں چلے گا؛ حالاں کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور اس پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ ایسا شخص فخر سے کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال اڑا دیا۔ (آیت 6)
12 مختصر جوابات

فَكُّ رَقَبَةٍ أَوۡ إِطۡعَٰمٞ فِي يَوۡمٖ ذِي مَسۡغَبَةٖ (سورۃ البلد ۔ آیات 13 تا 14)

«فَكُّ رَقَبَةٍ ۔ اَوْ اِطْعَامٌ فِيْ يَوْمٍ ذِيْ مَسْغَبَةٍ» — آیاتِ کریمہ کے مطابق «عقبہ» سے کیا مراد ہے؟

ترجمہ

(وہ ہے) کسی گردن کو (غلامی سے) آزاد کرانا۔ یا بھوک والے دن میں کھانا کھلانا۔

جواب «اَلْعَقَبَة» (دشوار گھاٹی) سے مراد نیکی کی وہ دشوار گھاٹی ہے جسے سر کرنا نفس پر بھاری ہوتا ہے۔ ان آیات کے مطابق اس سے مراد یہ اعمال ہیں: کسی گردن کو غلامی سے آزاد کرانا، یا بھوک والے دن میں کسی قریبی رشتہ دار یتیم کو یا خاک نشین (انتہائی غریب) مسکین کو کھانا کھلانا۔ (آیات 15، 16)

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

يَـٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفۡسُ ٱلۡمُطۡمَئِنَّةُ ٱرۡجِعِيٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةٗ مَّرۡضِيَّةٗ فَٱدۡخُلِي فِي عِبَٰدِي وَٱدۡخُلِي جَنَّتِي (سورۃ الفجر ۔ آیات 27 تا 30)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اے نفسِ مطمئنہ! اپنے رب کی طرف واپس چل (اس حال میں کہ) تُو اس سے راضی ہو (اور) وہ تجھ سے راضی ہے۔ لہٰذا میرے (نیک) بندوں میں شامل ہو جا۔ اور میری جنت میں داخل ہو جا۔

جواب سورت کے آخر میں اُس خوش نصیب کو پکارا گیا ہے جس کا نفس مطمئن ہو چکا ہے — یعنی جو اللہ کے فیصلوں پر راضی رہا اور اُس کا دل ایمان کے ساتھ سکون میں تھا۔ اُس سے کہا جائے گا کہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اِس حال میں کہ تُو اُس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ یہ سب سے بڑی کامیابی ہے کہ بندہ بھی خوش ہو اور اللہ بھی خوش ہو۔ پھر حکم ہوگا کہ میرے نیک بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ سبق یہ ہے کہ دل کا اصل سکون اللہ کی رضا میں ہے، اور اِسی سکون والا دل جنت میں لے جاتا ہے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْفَجْرِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ

1 تعارف — نام کی وجہ — اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا «وَالْفَجْرِ» (صبح کی قسم) سے فرمائی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ الْفَجْر» ہو گیا۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 30 آیات ہیں۔
3 فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «رحمٰن کی عبادت کرو، لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور سلام کو خوب پھیلاؤ، تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔» (جامع ترمذی: 1855)
جواب مرکزی مضمون — دنیا پرستوں کی شدید مذمت کا بیان۔
15 تفصیلی جوابات

ثُمَّ كَانَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡمَرۡحَمَةِ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ (سورۃ البلد ۔ آیات 17 تا 18)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

پھر وہ شخص ان لوگوں میں سے بھی ہو جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے رہے اور آپس میں رحم (کرنے) کی نصیحت کرتے رہے۔ یہی لوگ دائیں طرف والے (خوش نصیب) ہیں۔

جواب پہلے مشکل گھاٹی چڑھنے کے کام بتائے گئے — غلام آزاد کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، یتیم اور مسکین کا خیال رکھنا۔ اب فرمایا گیا کہ اِس کے ساتھ ایمان لانا بھی ضروری ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر نیکی کا اجر نہیں ملتا۔ پھر ایسے لوگوں کی دو خوبیاں بتائیں: وہ ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں اور رحم کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہی لوگ دائیں ہاتھ والے یعنی خوش نصیب لوگ ہیں۔ سبق یہ ہے کہ خود نیکی کرنا کافی نہیں، دوسروں کو بھی صبر اور نرمی کی تلقین کرنی چاہیے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْبَلَدِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ «اَلْبَلَد» (شہر) آیا ہے، جس سے مراد شہر مکہ (مکہ مکرمہ) ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلْبَلَد» قرار دیا گیا ہے۔
2 مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 20 آیات ہیں۔
جواب مرکزی مضمون — قربِ الٰہی کا ذریعہ۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْفَجْرِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الفجر کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا بیان۔
2 پچھلی قوموں کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر۔
3 انسان کی کمزوریوں اور اعمال میں کوتاہی کا بیان۔
4 قیامت کے منظر، گناہ گاروں اور نیکو کاروں کے انجام کا بیان۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْبَلَدِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ البلد کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کی نسبت سے شہر مکہ کی عظمت و تقدس کا بیان۔
2 انسانی زندگی کی مشقتوں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تذکرہ۔
3 انسان کو نیکی اور بدی کے دونوں راستے دکھا کر اختیار دیے جانے کا بیان۔
4 نیکی اور صبر کی تلقین کرنے والوں ہی کو کامیاب قرار دیے جانے کا بیان۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

آپ کے محلے یا رشتہ داروں میں کوئی یتیم ہو تو والدین کی مشاورت سے اس کی دل جوئی کے لیے کوئی تحفہ دینے کی کوشش کریں۔

یہ عملی سرگرمی ہے: اپنے والدین سے مشورہ کر کے محلے یا خاندان کے کسی یتیم بچے کے لیے کوئی مناسب تحفہ (کپڑے، کتابیں، کھلونا یا کھانے کی چیز) تیار کریں اور ادب و محبت سے پیش کریں۔

1 یاد رکھیے — اسی سبق میں یتیم کی عزت نہ کرنے پر «كَلَّا» کی سخت تنبیہ آئی ہے (الفجر: 17) اور بھوک کے دن رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا «عقبہ» سر کرنے والی نیکیوں میں شمار ہوا ہے۔ (البلد: 14، 15)
2 ادب — تحفہ اس طرح دیں کہ یتیم کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو — دل جوئی اصل مقصد ہے، دکھاوا نہیں۔
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْفَجْرِ اور سُوْرَةُ الْبَلَدِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ قومِ ارم 2۔ قومِ ثمود 3۔ دس راتیں 4۔ مطمئن جان 5۔ یتیم کی عزت 6۔ شہرِ مکہ 7۔ رحم کرنے کی نصیحت 8۔ دو آنکھیں 9۔ دو راستے 10۔ کھانا کھلانا

1 1۔ قومِ ارم — «إِرَمَ ذَاتِ ٱلۡعِمَادِ» — اونچے ستونوں (قد و قامت) والے ارم (قومِ عاد)۔ (الفجر: 7)
2 2۔ قومِ ثمود — «وَثَمُودَ» — اور (قومِ) ثمود، جنھوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں۔ (الفجر: 9)
3 3۔ دس راتیں — «وَلَيَالٍ عَشۡرٖ» — اور دس راتوں کی قسم۔ (الفجر: 2)
4 4۔ مطمئن جان — «ٱلنَّفۡسُ ٱلۡمُطۡمَئِنَّةُ» — اے اطمینان والی جان! (الفجر: 27)
5 5۔ یتیم کی عزت — «لَّا تُكۡرِمُونَ ٱلۡيَتِيمَ» — (ہرگز نہیں! بلکہ) تم لوگ یتیم کی عزت نہیں کرتے۔ (الفجر: 17)
6 6۔ شہرِ مکہ — «بِهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ» — اس شہر (مکہ) کی (قسم)۔ (البلد: 1)
7 7۔ رحم کرنے کی نصیحت — «وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡمَرۡحَمَةِ» — اور آپس میں رحم (کرنے) کی نصیحت کرتے رہے۔ (البلد: 17)
8 8۔ دو آنکھیں — «عَيۡنَيۡنِ» — (کیا ہم نے اس کے لیے) دو آنکھیں (نہیں بنائیں)؟ (البلد: 8)
9 9۔ دو راستے — «ٱلنَّجۡدَيۡنِ» — (اور ہم نے اسے نیکی اور بدی کے) دونوں راستے دکھائے۔ (البلد: 10)
10 10۔ کھانا کھلانا — «إِطۡعَٰمٞ» — (بھوک والے دن میں) کھانا کھلانا۔ (البلد: 14)
21 سرگرمیاں برائے طلبہ

مکہ مکرمہ کے بارے میں کوئی پانچ اہم باتیں معلوم کر کے تحریر کریں۔

مکہ مکرمہ کے بارے میں پانچ اہم باتیں درج ذیل ہیں:

1 مکہ مکرمہ میں بیت اللہ (خانہ کعبہ) ہے، جسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ تعمیر کیا؛ یہی تمام مسلمانوں کا قبلہ ہے۔
2 یہ نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کی جائے پیدائش اور بعثت کا شہر ہے؛ اسی نسبت سے سورۃ البلد میں اس شہر کی قسم اٹھائی گئی۔ (البلد: 1، 2)
3 یہاں زم زم کا مبارک چشمہ ہے، جو سیدہ ہاجرہ علیہا السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے واقعے سے جاری ہوا؛ صفا و مروہ کی سعی بھی اسی واقعے کی یادگار ہے۔
4 یہ حرم اور امن والا شہر ہے: یہاں حج اور عمرے کے لیے دنیا بھر سے مسلمان حاضر ہوتے ہیں۔
5 مسجدِ حرام میں ایک نماز کا ثواب دوسری مساجد کی نمازوں سے کہیں بڑھ کر ہے؛ اس شہر کی عظمت و تقدس ہر مسلمان کے دل میں ہونی چاہیے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَلَيَالٍ عَشۡرٖ (سورۃ الفجر ۔ آیت 2)

عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت تحریر کریں۔

ترجمہ

اور دس راتوں کی قسم۔

مفسرین کے نزدیک «وَلَيَالٍ عَشْرٍ» سے مراد ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں — اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کی قسم اٹھانا ہی اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ ان دنوں کی فضیلت کے چند پہلو:

1 فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «کوئی دن ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کو ان (ذوالحجہ کے پہلے) دس دنوں سے زیادہ محبوب ہوں۔» صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ فرمایا: جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو جان و مال کے ساتھ نکلے اور کچھ بھی واپس نہ لائے۔ (صحیح بخاری: 969)
2 عبادات کا موسم — انہی دنوں میں حج کے ارکان ادا ہوتے ہیں؛ نویں ذوالحجہ کو یومِ عرفہ ہے، جس کے روزے سے (غیر حاجی کے لیے) دو سال کے گناہوں کی معافی کی امید ہے، اور دسویں کو عید الاضحیٰ اور قربانی ہے۔
3 معمولات — ان دنوں میں روزہ، تکبیرات، ذکر و تلاوت، صدقہ اور توبہ کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔
23 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَتَأۡكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكۡلٗا لَّمّٗا (سورۃ الفجر ۔ آیت 19)

سورۃ الفجر میں وراثت کا ذکر ہے: وراثت کو ناحق طریقے سے ضبط کرنے پر جو وعیدیں ہیں، تحریر کریں۔

ترجمہ

اور تم وراثت کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔

اس آیت میں اہلِ مکہ کی یہ برائی بیان ہوئی کہ وہ «ٱلتُّرَاثَ أَكۡلٗا لَّمّٗا» — وراثت کا سارا مال سمیٹ کر خود کھا جاتے تھے: کمزور وارثوں، عورتوں اور یتیموں کو حصہ نہیں دیتے تھے۔ اس پر قرآن کی وعیدیں:

1 «كَلَّا» کی تنبیہ — اللہ تعالیٰ نے «كَلَّا» (ہرگز نہیں!) فرما کر اس روش کو سختی سے رد فرمایا اور ساتھ ہی زمین کے کوٹ کر برابر کیے جانے، رب کی آمد اور جہنم کے لائے جانے کا منظر بیان فرمایا — اس دن انسان سمجھے گا، مگر سمجھنا اسے فائدہ نہ دے گا۔ (آیات 21 تا 23)
2 حسرت — ایسا شخص کہے گا: اے کاش! میں نے اپنی (آخرت کی) زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا — پھر اس دن اللہ کے عذاب جیسا عذاب کوئی نہ دے سکے گا۔ (آیات 24 تا 26)
3 یتیم اور مسکین سے جوڑ — وراثت ہڑپ کرنے کی یہ وعید یتیم کی عزت نہ کرنے اور مسکین کو کھانا نہ کھلانے کی مذمت کے ساتھ آئی ہے — یعنی کمزوروں کا حق مارنا دنیا پرستی کی بدترین شکل ہے۔ (آیات 17، 18)
جواب لہٰذا وراثت اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تمام حق داروں — مردوں اور عورتوں — میں تقسیم کرنا فرض ہے؛ کسی وارث کا حصہ دبانا ان ہی وعیدوں میں داخل ہے۔
24 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ

مکہ مکرمہ کی عظمت کے بارے میں پیراگراف تحریر کریں۔

مکہ مکرمہ روئے زمین کا مقدس ترین شہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البلد میں اس شہر کی قسم اٹھائی اور اس قسم کو نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کے اس میں قیام کی نسبت سے مزید عظمت بخشی۔ یہیں بیت اللہ ہے جسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا، یہیں زم زم کا چشمہ سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی قربانی کی یادگار ہے، اور صفا و مروہ کی سعی اسی واقعے کو زندہ رکھتی ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہیں دعا فرمائی تھی: رَبَّنَا وَٱبۡعَثۡ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَيُزَكِّيهِمۡۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ سورۃ البقرۃ ۔ آیت 129

جواب ترجمہ (مفہوم): اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے، انھیں کتاب اور حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے؛ بے شک تو ہی بہت غالب، بڑی حکمت والا ہے۔ — نبی کریم ﷺ کی بعثت اسی دعا کی قبولیت ہے، اور یوں مکہ مکرمہ کی ساری نشانیاں آپ ﷺ ہی کی ذات سے جڑ جاتی ہیں۔ یہ حرم اور امن کا شہر ہے: مسلمانوں کا قبلہ یہیں ہے اور حج و عمرہ کی سعادت اسی شہر میں نصیب ہوتی ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اس شہر کی عظمت و تقدس کو دل میں رکھے۔ (پانچ اہم باتوں کی فہرست کے لیے دیکھیے: سرگرمی 3)
25 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فَلَا ٱقۡتَحَمَ ٱلۡعَقَبَةَ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡعَقَبَةُ (سورۃ البلد ۔ آیات 11 تا 12)

پہاڑ پر چڑھنے اور اترنے کی مثال کے ذریعے نیکی اور برائی کی منازل اور انجام تحریر کریں۔

ترجمہ

تو وہ (نیکی کی) دشوار گھاٹی میں داخل نہیں ہوا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ دشوار گھاٹی کیا ہے؟

قرآن مجید نے نیکی کو «عَقَبَة» یعنی پہاڑ کی دشوار گھاٹی سے تشبیہ دی ہے — اس مثال سے نیکی اور برائی کی منازل یوں سمجھی جا سکتی ہیں:

1 نیکی: چڑھائی کا راستہ — پہاڑ پر چڑھنا محنت مانگتا ہے: قدم قدم پر سانس پھولتی ہے اور نفس پیچھے کھینچتا ہے۔ اسی طرح غلام آزاد کرانا، بھوک کے دن یتیم اور خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا اور ایمان و صبر پر جمے رہنا نفس اور مال کی محبت کے خلاف چڑھائی ہے۔ (آیات 13 تا 17)
2 نیکی کی منزل — جو یہ گھاٹی سر کر لیتا ہے وہ بلندی پر پہنچتا ہے: ایسے لوگ «اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَة» (دائیں طرف والے خوش نصیب) ہیں۔ (آیت 18)
3 برائی: ڈھلوان کا راستہ — اترائی پر پھسلنا آسان ہے: کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی۔ برائی بھی ایسی ہی ہے — نفس کی خواہش کے ساتھ بہہ جانا، مال اڑانا اور آیات کا انکار کر دینا۔ مگر یہ آسان راستہ نیچے ہی نیچے لے جاتا ہے۔
4 برائی کا انجام — ایسے لوگ «اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَة» (بائیں طرف والے بدنصیب) ہیں، جن پر ہر طرف سے بند کی ہوئی آگ ہو گی۔ (آیات 19، 20)
جواب حاصل: نیکی کی چڑھائی وقتی مشقت اور دائمی بلندی ہے؛ برائی کی ڈھلوان وقتی آسانی اور دائمی پستی ہے۔
26 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

أَيَحۡسَبُ أَن لَّن يَقۡدِرَ عَلَيۡهِ أَحَدٞ

فعل امر اور فعل نہی کی تعریف کریں، اور فعل مضارع مجہول کی قرآنی مثالیں تحریر کریں۔

1 فعل امر — وہ فعل جس میں (زمانۂ حال یا مستقبل میں) کوئی کام کرنے کا حکم دیا جائے، فعل امر کہلاتا ہے — جیسے اسی سبق میں «اِرْجِعِيْ» (واپس چل) اور «اُدْخُلِيْ» (داخل ہو جا)۔ (الفجر: 28 تا 30؛ تعریف اور گردان کے لیے دیکھیے سبق 5 اور 6 کے قواعد۔)
2 فعل نہی — وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے سے روکا (منع کیا) جائے، فعل نہی کہلاتا ہے — اس کی علامت مضارع سے پہلے «لَاءِ نہی» ہے۔ (تعریف اور گردان کے لیے دیکھیے سبق 7 کے قواعد۔)
3 فعل مضارع مجہول کی قرآنی مثالیں — سبق کے گرامر باکس کے مطابق فعل مضارع مجہول وہ فعل ہے جس میں زمانۂ حال یا مستقبل کا کام پایا جائے، لیکن فاعل کا ذکر نہ ہو بلکہ کام کے کیے جانے پر زور ہو؛ مفعول کو نائب فاعل بنا کر مرفوع کیا جاتا ہے۔ باکس میں «ان کو اس میں رزق دیا جائے گا» اور «ان کو اس سے نکالا جائے گا» جیسی مثالیں دی گئی ہیں۔ قرآنی مثالیں:
4 فعل مضارع مجہول کی قرآنی مثالیں — 1 — «يُخۡلَقۡ» — (وہ قوم) جس جیسی (دنیا کے) ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی۔ (الفجر: 8)
5 فعل مضارع مجہول کی قرآنی مثالیں — 2 — «تُبۡلَى» — (جس دن سب راز) ظاہر کر دیے جائیں گے۔ (الطارق: 9)
6 فعل مضارع مجہول کی قرآنی مثالیں — 3 — «تُسۡقَىٰ» — (جہنمیوں کو کھولتے چشمے سے پانی) پلایا جائے گا۔ (الغاشیۃ: 5)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.