ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 14: سبق 14: سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیۃ — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 24 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

سُوْرَةُ الْاَعْلٰى نازل ہوئی:

الف) مدینہ میں • ب) طائف میں • ج) مکہ میں • د) سفرِ جہاد میں

جواب ج) مکہ میں — سورۃ الاعلیٰ مکی سورت ہے، یعنی یہ مکہ مکرمہ میں (ہجرت سے پہلے) نازل ہوئی۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

سَبِّحِ ٱسۡمَ رَبِّكَ ٱلۡأَعۡلَى (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیت 1)

«سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى» میں حکم دیا گیا ہے:

الف) نصیحت کا • ب) اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے کا • ج) نماز پڑھنے کا • د) صدقہ کرنے کا

جواب ب) اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے کا — «سَبِّحْ» کا معنی ہے: پاکی بیان کیجیے — آپ ﷺ اپنے رب کے نام کی پاکی بیان کیجیے جو سب سے بلند (شان والا) ہے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيۡفَ رُفِعَتۡ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیت 18)

«رُفِعَتْ» قواعد کی رو سے ہے:

الف) ماضی معروف • ب) مضارع معروف • ج) ماضی مجہول • د) مضارع مجہول

جواب ج) ماضی مجہول — «رُفِعَتْ» (وہ بلند کی گئی) میں کام کرنے والے (فاعل) کا ذکر نہیں، بلکہ فعل مفعول (آسمان) کی طرف منسوب ہے — یہی فعل ماضی مجہول کی پہچان ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلۡغَٰشِيَةِ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیت 1)

«غَاشِيَة» نام ہے:

الف) دنیا کا • ب) قیامت کا • ج) برزخ کا • د) قبر کا

جواب ب) قیامت کا — «اَلْغَاشِيَة» کا معنی ہے: چھا جانے والی — اس سے مراد قیامت ہے، جو اپنی ہولناکیوں کے ساتھ سب پر چھا جائے گی۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

تُسۡقَىٰ مِنۡ عَيۡنٍ ءَانِيَةٖ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیت 5)

«عَيْنٍ اٰنِيَةٍ» کے معنی ہیں:

الف) کھولتا پانی • ب) کھولتا تیل • ج) میٹھا پانی • د) کھارا پانی

جواب الف) کھولتا پانی — ذخیرۂ الفاظ میں «اٰنِيَة» کا معنی ہے: کھولتا ہوا — جہنمیوں کو کھولتے ہوئے چشمے سے پانی پلایا جائے گا۔
6 کثیر الانتخابی سوالات

وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ نَّاعِمَةٞ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیت 8)

«وُجُوْهٌ» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) ضمیر • ب) فعل • ج) اسم • د) حرف

جواب ج) اسم — «وُجُوْهٌ» (چہرے) اسم ہے: اس کے آخر میں تنوین (دو پیش) اسم کی علامت ہے۔

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

وَٱلَّذِيٓ أَخۡرَجَ ٱلۡمَرۡعَىٰ فَجَعَلَهُۥ غُثَآءً أَحۡوَىٰ (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیات 4 تا 5)

«وَالَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى ۔ فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰى» — آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی قدرت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

اور جس نے (زمین سے) چارا نکالا۔ پھر اسے سیاہ کوڑا کر دیا۔

جواب ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت بیان ہوئی ہے کہ وہی زمین سے (سرسبز) چارا نکالتا ہے اور پھر وہی اسے (خشک کر کے) سیاہ کوڑا بنا دیتا ہے — یعنی اگانا اور سکھانا دونوں اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں، اور یہی نظام انسان کو اپنے انجام پر غور کی دعوت دیتا ہے۔
8 مختصر جوابات

فَذَكِّرۡ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكۡرَىٰ (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیت 9)

«فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى» — آیتِ کریمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم کو کیا حکم ہے؟

ترجمہ

پس آپ (ﷺ) نصیحت کرتے رہیں، اگر نصیحت کرنا فائدہ مند ہو۔

جواب نبی کریم ﷺ کو نصیحت کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے: عنقریب وہی نصیحت قبول کرے گا جو (اللہ سے) ڈرتا ہے، اور بدنصیب اس سے دور رہے گا۔ (آیات 10، 11)
9 مختصر جوابات

قَدۡ أَفۡلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ ٱسۡمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیات 14 تا 15)

«قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۔ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى» — آیاتِ کریمہ میں کامیاب لوگوں کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے پاکیزگی اختیار کی۔ اور جس نے اپنے رب کے نام کا ذکر کیا، پھر نماز ادا کی۔

کامیاب لوگوں کی تین صفات بیان ہوئی ہیں:

1 انھوں نے (ظاہری و باطنی) پاکیزگی اختیار کی۔
2 اپنے رب کے نام کا ذکر کیا۔
3 نماز ادا کی۔
10 مختصر جوابات

لَّيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٖ لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِي مِن جُوعٖ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیات 6 تا 7)

«لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۔ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِيْ مِنْ جُوْعٍ» — آیاتِ کریمہ کی رو سے جہنمیوں کو کیسا کھانا دیا جائے گا؟

ترجمہ

ان کے لیے کانٹے دار زہریلے درخت کے سوا (کچھ) کھانا نہ ہو گا۔ (یہ کھانا) نہ موٹا کرے گا اور نہ ہی بھوک ختم کرے گا۔

جواب جہنمیوں کو «ضَرِيْع» یعنی کانٹے دار زہریلے درخت کا کھانا دیا جائے گا، جو نہ جسم کو موٹا (توانا) کرے گا اور نہ بھوک ہی مٹائے گا — یعنی نہ غذا بنے گا نہ سیری دے گا۔
11 مختصر جوابات

وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ نَّاعِمَةٞ لِّسَعۡيِهَا رَاضِيَةٞ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٖ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیات 8 تا 10)

«وُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ ۔ لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ ۔ فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» — آیاتِ کریمہ کی رو سے اہلِ جنت کی کیا کیفیات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

(جب کہ) اس دن کئی چہرے تر و تازہ ہوں گے۔ اپنی (نیک) کوششوں کی وجہ سے خوش ہوں گے۔ عالی شان جنت میں ہوں گے۔

جواب اہلِ جنت کی یہ کیفیات بیان ہوئی ہیں: ان کے چہرے تر و تازہ ہوں گے، وہ اپنی (دنیا کی نیک) کوششوں پر خوش اور راضی ہوں گے اور عالی شان جنت میں ہوں گے، جہاں کوئی بے کار بات نہیں سنیں گے؛ وہاں بہتا ہوا چشمہ، اونچے اونچے تخت، رکھے ہوئے پیالے، قطاروں میں لگے تکیے اور بچھے ہوئے قالین ہوں گے۔ (آیات 11 تا 16)
12 مختصر جوابات

إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ ٱللَّهُ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَكۡبَرَ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیات 23 تا 24)

«اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ ۔ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ» — آیاتِ کریمہ میں نصیحت سے روگردانی کرنے والوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

مگر جس نے منہ موڑا اور کفر کیا۔ تو اللہ اسے بڑا (سخت) عذاب دے گا۔

جواب جو شخص نصیحت سے منہ موڑے اور کفر کرے، اس کا انجام یہ بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ اسے سب سے بڑا عذاب دے گا؛ بے شک ان سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے اور انہی کے ذمہ ان کا حساب لینا ہے۔ (آیات 25، 26)

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

بَلۡ تُؤۡثِرُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓ إِنَّ هَٰذَا لَفِي ٱلصُّحُفِ ٱلۡأُولَىٰ صُحُفِ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیات 16 تا 19)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالاں کہ آخرت بہت بہتر اور (ہمیشہ) باقی رہنے والی ہے۔ یقیناً یہ (تعلیم) پہلے صحیفوں میں (بھی) ہے۔ (یعنی) ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں۔

جواب اللہ نے انسان کی ایک بڑی کمزوری بتائی کہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، یعنی سامنے کے فائدے کو آخرت پر مقدم رکھتے ہو۔ حالانکہ آخرت کہیں بہتر بھی ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی ہے۔ دنیا چند دن کی ہے، جبکہ آخرت کبھی ختم نہیں ہوگی۔ پھر بتایا گیا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، یہی تعلیم پہلے صحیفوں میں بھی موجود تھی — حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ کے صحیفوں میں۔ سبق یہ ہے کہ تمام انبیاء کا پیغام ایک ہی رہا، اور عقلمند وہ ہے جو ہمیشہ رہنے والی چیز کو چنے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْاَعْلٰى کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فضیلت

1 تعارف — نام کی وجہ — اس سورت کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت «اَلْاَعْلٰى» (سب سے بلند) بیان ہوئی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلْاَعْلٰى» رکھا گیا ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 19 آیات ہیں۔
3 فضیلت — رسول اکرم ﷺ نمازِ جمعہ اور عیدین کی پہلی رکعت میں سُوْرَةُ الْاَعْلٰى اور دوسری رکعت میں سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ تلاوت فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم: 2028)
جواب مرکزی مضمون — اللہ تعالیٰ کی تسبیح، عظمت اور کبریائی۔
15 تفصیلی جوابات

وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ نَّاعِمَةٞ لِّسَعۡيِهَا رَاضِيَةٞ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٖ لَّا تَسۡمَعُ فِيهَا لَٰغِيَةٗ فِيهَا عَيۡنٞ جَارِيَةٞ فِيهَا سُرُرٞ مَّرۡفُوعَةٞ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیات 8 تا 13)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

(جب کہ) اس دن کئی چہرے تر و تازہ ہوں گے۔ اپنی (نیک) کوششوں کی وجہ سے خوش ہوں گے۔ عالی شان جنت میں ہوں گے۔ وہ اس (جنت) میں کوئی بے کار بات نہیں سنیں گے۔ اس میں بہتا ہوا چشمہ ہے۔ اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے۔

جواب اِس سے پہلے جہنم والوں کا حال بیان ہوا، اور اب جنت والوں کا ذکر ہے۔ اُس دن کچھ چہرے تروتازہ اور خوشی سے چمک رہے ہوں گے، کیونکہ وہ اپنی کوشش کا صلہ پا کر مطمئن ہوں گے — دنیا میں جو محنت اور عبادت کی تھی، اُس پر اُنہیں کوئی افسوس نہ ہوگا۔ وہ بلند و بالا جنت میں ہوں گے جہاں کوئی بیہودہ اور فضول بات سننے کو نہیں ملے گی، ہر بات اچھی اور پیاری ہوگی۔ اُس میں بہتے ہوئے چشمے ہوں گے اور اونچے اونچے تخت بچھے ہوں گے جن پر بیٹھ کر وہ آرام کریں گے۔ سبق یہ ہے کہ نیکی کی محنت کبھی ضائع نہیں جاتی، اور جنت میں ہر تکلیف اور ہر بری بات سے مکمل نجات ہوگی۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ «غَاشِيَة» آیا ہے، جس کا معنی ہے: چھا جانے والی — جس سے مراد قیامت ہے؛ اسی لیے اس کا نام «سُوْرَةُ الْغَاشِيَة» ہے۔
2 مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 26 آیات ہیں۔
جواب مرکزی مضمون — اثباتِ قیامت۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْاَعْلٰى کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الاعلیٰ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 اللہ تعالیٰ کی کبریائی، اس کی قدرتوں اور صفات کا تذکرہ۔
2 حفاظتِ قرآن مجید کا ذکر۔
3 بدبخت اور کامیاب انسان کی صفات اور انجام کا بیان۔
4 دنیا و آخرت کی حقیقت کا بیان۔
5 اسلام کی بنیادی تعلیمات کا پہلی آسمانی کتب میں موجود ہونے کا بیان۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الغاشیۃ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 اہلِ جہنم کی سزاؤں اور اہلِ جنت کی نعمتوں کا تذکرہ۔
2 مظاہرِ فطرت میں غور و فکر کی دعوت۔
3 دین کی دعوت دینے والے کے اوصاف۔
4 آخرت کی فکر اور تیاری کی نصیحت۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

ایک فہرست بنا کر اپنے اساتذہ کرام کی وہ نصیحتیں درج کریں جن پر آپ نے کسی بھی درجے میں عمل کیا ہو۔

یہ ذاتی سرگرمی ہے: ہر طالب علم اپنی فہرست خود بنائے۔ نمونے کے طور پر ایسی فہرست یوں بن سکتی ہے:

1 نماز کی پابندی — استاذ محترم کی نصیحت پر پانچوں نمازوں کا اہتمام شروع کیا۔
2 سچ بولنا — جھوٹ سے بچنے کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ہر حال میں سچ بولنے کی عادت بنائی۔
3 بڑوں کا ادب — والدین اور اساتذہ سے ادب سے بات کرنے کی نصیحت پر عمل کیا۔
4 صفائی — جسم، لباس اور کمرۂ جماعت کی صفائی رکھنے کی نصیحت اپنائی۔
5 وقت کی پابندی — اسکول اور سبق کے اوقات کی پابندی شروع کی۔
6 تلاوت کا معمول — روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کا معمول بنایا۔
جواب فہرست بنا کر یہ بھی لکھیے کہ کس نصیحت پر کتنا عمل ہو سکا اور جس پر کمی رہ گئی، اس کے لیے کیا ارادہ ہے — یہی اس سرگرمی کا اصل مقصد ہے۔
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْاَعْلٰى اور سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ چارا 2۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے 3۔ بلند شان والا رب 4۔ عمل کرنے کے لیے آسانی 5۔ بڑی آگ 6۔ اونٹ 7۔ نصیحت کرنے والے 8۔ اونچے اونچے تخت 9۔ چھا جانے والی قیامت 10۔ کھولتے ہوئے پانی کے چشمے

1 1۔ چارا — «ٱلۡمَرۡعَىٰ» — (جس نے زمین سے) چارا نکالا۔ (الاعلیٰ: 4)
2 2۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے — «صُحُفِ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ» — ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفے۔ (الاعلیٰ: 19)
3 3۔ بلند شان والا رب — «رَبِّكَ ٱلۡأَعۡلَى» — آپ کا رب جو سب سے بلند (شان والا) ہے۔ (الاعلیٰ: 1)
4 4۔ عمل کرنے کے لیے آسانی — «وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرَىٰ» — اور ہم آپ کے لیے آسانی کے (دین پر عمل کے) راستے کی سہولت عطا فرمائیں گے۔ (الاعلیٰ: 8)
5 5۔ بڑی آگ — «ٱلنَّارَ ٱلۡكُبۡرَىٰ» — (بدنصیب) بڑی آگ میں داخل ہو گا۔ (الاعلیٰ: 12)
6 6۔ اونٹ — «ٱلۡإِبِلِ» — (کیا وہ) اونٹ (کی طرف نہیں دیکھتے)؟ (الغاشیۃ: 17)
7 7۔ نصیحت کرنے والے — «مُذَكِّرٞ» — آپ (ﷺ) تو بس نصیحت کرنے والے ہیں۔ (الغاشیۃ: 21)
8 8۔ اونچے اونچے تخت — «سُرُرٞ مَّرۡفُوعَةٞ» — (جنت میں) اونچے اونچے تخت۔ (الغاشیۃ: 13)
9 9۔ چھا جانے والی قیامت — «ٱلۡغَٰشِيَةِ» — چھا جانے والی (قیامت)۔ (الغاشیۃ: 1)
10 10۔ کھولتے ہوئے پانی کے چشمے — «عَيۡنٍ ءَانِيَةٖ» — کھولتے ہوئے چشمے (سے پانی پلایا جائے گا)۔ (الغاشیۃ: 5)
21 سرگرمیاں برائے طلبہ

قیامت کے لیے قرآن حکیم میں استعمال کیے گئے ناموں میں سے کوئی پانچ نام تلاش کر کے تحریر کریں۔

قرآن حکیم میں قیامت کے لیے کئی نام آئے ہیں؛ ان میں سے پانچ درج ذیل ہیں:

1 1۔ اَلْغَاشِيَة (چھا جانے والی) — «ٱلۡغَٰشِيَةِ» — اسی سبق کی سورت کا نام۔ (الغاشیۃ: 1)
2 2۔ اَلْيَوْمُ الْمَوْعُوْد (وعدے والا دن) — «ٱلۡمَوۡعُودِ» — گزشتہ سبق کی سورۃ البروج میں اس کی قسم اٹھائی گئی۔ (البروج: 2)
3 3۔ اَلطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى (سب سے بڑی آفت) — «ٱلطَّآمَّةُ ٱلۡكُبۡرَىٰ» — (النازعات: 34)
4 4۔ اَلصَّآخَّة (کان بہرے کر دینے والی چیخ) — «ٱلصَّآخَّةُ» — (عبس: 33)
5 5۔ اَلْقَارِعَة (کھڑکھڑانے والی) — «ٱلۡقَارِعَةُ» — (القارعۃ: 1)
جواب ان کے علاوہ «اَلْحَآقَّة» (ثابت ہونے والی)، «اَلْوَاقِعَة» (واقع ہونے والی)، «يَوْمُ الدِّيْن» (بدلے کا دن) اور «يَوْمُ الْحِسَاب» (حساب کا دن) بھی قیامت ہی کے نام ہیں۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

قَدۡ أَفۡلَحَ مَن تَزَكَّىٰ (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیت 14)

ظاہری طہارت اور باطنی پاکیزگی کے بارے میں تحریر کریں: دونوں کا حصول کیسے ممکن ہے؟

ترجمہ

یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے پاکیزگی اختیار کی۔

1 ظاہری طہارت — ظاہری طہارت سے مراد جسم، لباس اور جگہ کی پاکی صفائی ہے: وضو اور غسل کا اہتمام، صاف ستھرا لباس، ناخن، بال اور دانتوں (مسواک) کی صفائی، اور گھر، مسجد اور مدرسے کو صاف رکھنا۔
2 باطنی پاکیزگی — باطنی پاکیزگی سے مراد دل اور نفس کی صفائی ہے: شرک، کفر اور نفاق سے پاک عقیدہ، اور تکبر، حسد، بغض، ریاکاری اور لالچ جیسی بری صفات سے دل کو پاک رکھنا۔
3 دونوں کا حصول کیسے ممکن ہے؟ — اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان اور خالص توحید اختیار کی جائے۔
4 دونوں کا حصول کیسے ممکن ہے؟ — گناہوں پر توبہ و استغفار کا معمول بنایا جائے۔
5 دونوں کا حصول کیسے ممکن ہے؟ — اپنے رب کے نام کا ذکر کیا جائے اور نماز کی پابندی کی جائے — یہی اگلی آیت میں کامیابی کا راستہ بتایا گیا ہے۔ (آیت 15)
6 دونوں کا حصول کیسے ممکن ہے؟ — وضو، غسل اور صفائی ستھرائی کو سنت کے مطابق اپنایا جائے۔
7 دونوں کا حصول کیسے ممکن ہے؟ — حلال کمائی کھائی جائے اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے۔
جواب ظاہر اور باطن دونوں کی پاکیزگی مل کر ہی «تَزَكّٰى» کا مصداق بنتی ہے، جس پر اس آیت میں کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔
23 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلۡإِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيۡفَ رُفِعَتۡ وَإِلَى ٱلۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ وَإِلَى ٱلۡأَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیات 17 تا 20)

سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ میں انسانوں کو چار مخلوقات — اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین — میں غور و فکر کی دعوت کیوں دی گئی ہے؟ ان چاروں مخلوقات کے کیا فوائد ہیں؟ تفصیل سے تحریر کریں۔

ترجمہ

کیا وہ (منکرینِ قدرت) اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بنایا گیا؟ اور آسمان کی طرف کہ وہ کیسے بلند کیا گیا ہے؟ اور پہاڑوں کی طرف کہ وہ کیسے گاڑے گئے ہیں؟ اور زمین کی طرف کہ وہ کیسے بچھائی گئی ہے؟

یہ چاروں مخلوقات ہر انسان — خصوصاً عرب کے باشندوں — کے روز مرہ مشاہدے میں تھیں: نہ ان کے دیکھنے کے لیے کسی آلے کی ضرورت ہے نہ سفر کی۔ ان میں غور و فکر کی دعوت اس لیے دی گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی کھلی نشانیاں ہیں: جو ذات انھیں بنانے، بلند کرنے، گاڑنے اور بچھانے پر قادر ہے، وہی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے — یوں یہ آیات سورت کے مرکزی مضمون (اثباتِ قیامت) کی دلیل ہیں، اور یہی نشانیاں اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ بھی ہیں۔

1 اونٹ — صحرا کا جہاز: سواری اور بار برداری کے کام آتا ہے؛ اس کا دودھ غذا اور گوشت حلال خوراک ہے؛ اون سے لباس اور خیمے بنتے ہیں؛ کئی دن بھوکا پیاسا رہ کر سخت گرم ریگستان کا سفر کرتا ہے — اس کی ساخت کا ہر پہلو قدرت کی نشانی ہے۔
2 آسمان — بغیر ستونوں کے بلند کیا گیا؛ سورج، چاند اور ستاروں سے روشنی اور زینت ملتی ہے؛ اسی سے بارش برستی ہے جس سے کھیتیاں اور چارا اگتا ہے۔
3 پہاڑ — زمین میں میخوں کی طرح گاڑے گئے ہیں تاکہ زمین ڈگمگائے نہیں؛ ان سے چشمے پھوٹتے ہیں، معدنیات اور پتھر ملتے ہیں اور آب و ہوا پر اثر ڈالتے ہیں۔
4 زمین — فرش کی طرح بچھائی گئی ہے: اسی پر رہائش، کھیتی باڑی اور چلنا پھرنا ممکن ہے؛ اس کے اندر پانی اور خزانے رکھے گئے ہیں۔
جواب غور و فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں پر شکر ادا کرے، خالق کی معرفت حاصل کرے اور قیامت کے دن اپنی جواب دہی کو یاد رکھے۔
24 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

قَدۡ أَفۡلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ ٱسۡمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ

سُوْرَةُ الْاَعْلٰى اور سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ میں آنے والے اسماء اور افعال کی نشان دہی کریں، اور فعل ماضی مجہول کی قرآنی مثالیں تحریر کریں۔

1 اسماء کی نشان دہی — چند اسماء: «ٱلۡمَرۡعَىٰ» (چارا)، «وُجُوهٞ» (چہرے — تنوین اسم کی علامت)، «ٱلۡجِبَالِ» (پہاڑ — «ال» اسم کی علامت) اور «ٱلۡغَٰشِيَةِ» (چھا جانے والی، یعنی قیامت)۔
2 افعال کی نشان دہی — چند افعال: «خَلَقَ» (اس نے پیدا کیا)، «قَدَّرَ» (اس نے اندازہ لگایا)، «أَخۡرَجَ» (اس نے نکالا) — تینوں فعل ماضی معروف ہیں (الاعلیٰ: 2 تا 4)؛ اور «تُسۡقَىٰ» (پلایا جائے گا) فعل مجہول ہے۔ (الغاشیۃ: 5)
3 فعل ماضی مجہول کیا ہے؟ — سبق کے گرامر باکس کے مطابق: وہ فعل جس میں فاعل (کام کرنے والے) کا ذکر نہ کیا جائے بلکہ فعل کو مفعول کی طرف منسوب کر دیا جائے، اور مفعول کو «نائب فاعل» بنا کر مرفوع کر دیا جائے — اسے فعل (ماضی) مجہول کہتے ہیں۔
4 فعل ماضی مجہول کی قرآنی مثالیں — 1 — «خُلِقَتۡ» — (اونٹ) کیسے بنایا گیا؟ (الغاشیۃ: 17)
5 فعل ماضی مجہول کی قرآنی مثالیں — 2 — «رُفِعَتۡ» — (آسمان) کیسے بلند کیا گیا؟ (الغاشیۃ: 18)
6 فعل ماضی مجہول کی قرآنی مثالیں — 3 — «نُصِبَتۡ» — (پہاڑ) کیسے گاڑے گئے؟ (الغاشیۃ: 19)
7 فعل ماضی مجہول کی قرآنی مثالیں — 4 — «سُطِحَتۡ» — (زمین) کیسے بچھائی گئی؟ (الغاشیۃ: 20)
8 فعل ماضی مجہول کی قرآنی مثالیں — 5 — «وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ» — جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ (التکویر: 3)
9 فعل ماضی مجہول کی قرآنی مثالیں — 6 — «وَإِذَا ٱلۡقُبُورُ بُعۡثِرَتۡ» — جب قبریں کھول کر (مردے) باہر نکال دی جائیں گی۔ (الانفطار: 4)
جواب آخری دو مثالیں سبق کے گرامر باکس ہی کی ہیں: ان میں «سُيِّرَتْ» اور «بُعْثِرَتْ» فعل مجہول ہیں۔ (اسماء اور افعال کی مزید پہچان کے لیے گزشتہ اسباق کے قواعد بھی دیکھیے۔)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.