سُوْرَةُ الْاَعْلٰى نازل ہوئی:
الف) مدینہ میں • ب) طائف میں • ج) مکہ میں • د) سفرِ جہاد میں
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
سُوْرَةُ الْاَعْلٰى نازل ہوئی:
الف) مدینہ میں • ب) طائف میں • ج) مکہ میں • د) سفرِ جہاد میں
سَبِّحِ ٱسۡمَ رَبِّكَ ٱلۡأَعۡلَى (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیت 1)
«سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى» میں حکم دیا گیا ہے:
الف) نصیحت کا • ب) اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے کا • ج) نماز پڑھنے کا • د) صدقہ کرنے کا
وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيۡفَ رُفِعَتۡ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیت 18)
«رُفِعَتْ» قواعد کی رو سے ہے:
الف) ماضی معروف • ب) مضارع معروف • ج) ماضی مجہول • د) مضارع مجہول
هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلۡغَٰشِيَةِ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیت 1)
«غَاشِيَة» نام ہے:
الف) دنیا کا • ب) قیامت کا • ج) برزخ کا • د) قبر کا
تُسۡقَىٰ مِنۡ عَيۡنٍ ءَانِيَةٖ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیت 5)
«عَيْنٍ اٰنِيَةٍ» کے معنی ہیں:
الف) کھولتا پانی • ب) کھولتا تیل • ج) میٹھا پانی • د) کھارا پانی
وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ نَّاعِمَةٞ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیت 8)
«وُجُوْهٌ» عربی قواعد کی رو سے ہے:
الف) ضمیر • ب) فعل • ج) اسم • د) حرف
وَٱلَّذِيٓ أَخۡرَجَ ٱلۡمَرۡعَىٰ فَجَعَلَهُۥ غُثَآءً أَحۡوَىٰ (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیات 4 تا 5)
«وَالَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى ۔ فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰى» — آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی قدرت بیان ہوئی ہے؟
اور جس نے (زمین سے) چارا نکالا۔ پھر اسے سیاہ کوڑا کر دیا۔
فَذَكِّرۡ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكۡرَىٰ (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیت 9)
«فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى» — آیتِ کریمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم کو کیا حکم ہے؟
پس آپ (ﷺ) نصیحت کرتے رہیں، اگر نصیحت کرنا فائدہ مند ہو۔
قَدۡ أَفۡلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ ٱسۡمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیات 14 تا 15)
«قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۔ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى» — آیاتِ کریمہ میں کامیاب لوگوں کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟
یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے پاکیزگی اختیار کی۔ اور جس نے اپنے رب کے نام کا ذکر کیا، پھر نماز ادا کی۔
کامیاب لوگوں کی تین صفات بیان ہوئی ہیں:
لَّيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٖ لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِي مِن جُوعٖ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیات 6 تا 7)
«لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۔ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِيْ مِنْ جُوْعٍ» — آیاتِ کریمہ کی رو سے جہنمیوں کو کیسا کھانا دیا جائے گا؟
ان کے لیے کانٹے دار زہریلے درخت کے سوا (کچھ) کھانا نہ ہو گا۔ (یہ کھانا) نہ موٹا کرے گا اور نہ ہی بھوک ختم کرے گا۔
وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ نَّاعِمَةٞ لِّسَعۡيِهَا رَاضِيَةٞ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٖ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیات 8 تا 10)
«وُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ ۔ لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ ۔ فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» — آیاتِ کریمہ کی رو سے اہلِ جنت کی کیا کیفیات بیان ہوئی ہیں؟
(جب کہ) اس دن کئی چہرے تر و تازہ ہوں گے۔ اپنی (نیک) کوششوں کی وجہ سے خوش ہوں گے۔ عالی شان جنت میں ہوں گے۔
إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ ٱللَّهُ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَكۡبَرَ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیات 23 تا 24)
«اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ ۔ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ» — آیاتِ کریمہ میں نصیحت سے روگردانی کرنے والوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟
مگر جس نے منہ موڑا اور کفر کیا۔ تو اللہ اسے بڑا (سخت) عذاب دے گا۔
بَلۡ تُؤۡثِرُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓ إِنَّ هَٰذَا لَفِي ٱلصُّحُفِ ٱلۡأُولَىٰ صُحُفِ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیات 16 تا 19)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالاں کہ آخرت بہت بہتر اور (ہمیشہ) باقی رہنے والی ہے۔ یقیناً یہ (تعلیم) پہلے صحیفوں میں (بھی) ہے۔ (یعنی) ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں۔
سُوْرَةُ الْاَعْلٰى کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فضیلت
وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ نَّاعِمَةٞ لِّسَعۡيِهَا رَاضِيَةٞ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٖ لَّا تَسۡمَعُ فِيهَا لَٰغِيَةٗ فِيهَا عَيۡنٞ جَارِيَةٞ فِيهَا سُرُرٞ مَّرۡفُوعَةٞ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیات 8 تا 13)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
(جب کہ) اس دن کئی چہرے تر و تازہ ہوں گے۔ اپنی (نیک) کوششوں کی وجہ سے خوش ہوں گے۔ عالی شان جنت میں ہوں گے۔ وہ اس (جنت) میں کوئی بے کار بات نہیں سنیں گے۔ اس میں بہتا ہوا چشمہ ہے۔ اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے۔
سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف
سُوْرَةُ الْاَعْلٰى کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الاعلیٰ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الغاشیۃ کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
ایک فہرست بنا کر اپنے اساتذہ کرام کی وہ نصیحتیں درج کریں جن پر آپ نے کسی بھی درجے میں عمل کیا ہو۔
یہ ذاتی سرگرمی ہے: ہر طالب علم اپنی فہرست خود بنائے۔ نمونے کے طور پر ایسی فہرست یوں بن سکتی ہے:
درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْاَعْلٰى اور سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ چارا 2۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے 3۔ بلند شان والا رب 4۔ عمل کرنے کے لیے آسانی 5۔ بڑی آگ 6۔ اونٹ 7۔ نصیحت کرنے والے 8۔ اونچے اونچے تخت 9۔ چھا جانے والی قیامت 10۔ کھولتے ہوئے پانی کے چشمے
قیامت کے لیے قرآن حکیم میں استعمال کیے گئے ناموں میں سے کوئی پانچ نام تلاش کر کے تحریر کریں۔
قرآن حکیم میں قیامت کے لیے کئی نام آئے ہیں؛ ان میں سے پانچ درج ذیل ہیں:
قَدۡ أَفۡلَحَ مَن تَزَكَّىٰ (سورۃ الاعلیٰ ۔ آیت 14)
ظاہری طہارت اور باطنی پاکیزگی کے بارے میں تحریر کریں: دونوں کا حصول کیسے ممکن ہے؟
یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے پاکیزگی اختیار کی۔
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلۡإِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيۡفَ رُفِعَتۡ وَإِلَى ٱلۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ وَإِلَى ٱلۡأَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ (سورۃ الغاشیۃ ۔ آیات 17 تا 20)
سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ میں انسانوں کو چار مخلوقات — اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین — میں غور و فکر کی دعوت کیوں دی گئی ہے؟ ان چاروں مخلوقات کے کیا فوائد ہیں؟ تفصیل سے تحریر کریں۔
کیا وہ (منکرینِ قدرت) اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بنایا گیا؟ اور آسمان کی طرف کہ وہ کیسے بلند کیا گیا ہے؟ اور پہاڑوں کی طرف کہ وہ کیسے گاڑے گئے ہیں؟ اور زمین کی طرف کہ وہ کیسے بچھائی گئی ہے؟
یہ چاروں مخلوقات ہر انسان — خصوصاً عرب کے باشندوں — کے روز مرہ مشاہدے میں تھیں: نہ ان کے دیکھنے کے لیے کسی آلے کی ضرورت ہے نہ سفر کی۔ ان میں غور و فکر کی دعوت اس لیے دی گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی کھلی نشانیاں ہیں: جو ذات انھیں بنانے، بلند کرنے، گاڑنے اور بچھانے پر قادر ہے، وہی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے — یوں یہ آیات سورت کے مرکزی مضمون (اثباتِ قیامت) کی دلیل ہیں، اور یہی نشانیاں اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ بھی ہیں۔
قَدۡ أَفۡلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ ٱسۡمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ
سُوْرَةُ الْاَعْلٰى اور سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ میں آنے والے اسماء اور افعال کی نشان دہی کریں، اور فعل ماضی مجہول کی قرآنی مثالیں تحریر کریں۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔