سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم پر نازل ہوئی:
الف) مدنی دور میں • ب) مکی دور میں • ج) دورانِ ہجرت • د) سفرِ طائف میں
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم پر نازل ہوئی:
الف) مدنی دور میں • ب) مکی دور میں • ج) دورانِ ہجرت • د) سفرِ طائف میں
قُتِلَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأُخۡدُودِ (سورۃ البروج ۔ آیت 4)
«اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ» سے مراد ہے:
الف) کنووں والے • ب) خندقوں والے • ج) پہاڑوں والے • د) غاروں والے
فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ مِمَّ خُلِقَ (سورۃ الطارق ۔ آیت 5)
«خَلَقَ يَخْلُقُ» کا تعلق ثلاثی مجرد کے باب سے ہے:
الف) فَتَحَ يَفْتَحُ • ب) ضَرَبَ يَضْرِبُ • ج) نَصَرَ يَنْصُرُ • د) كَرُمَ يَكْرُمُ
إِنَّهُۥ لَقَوۡلٞ فَصۡلٞ وَمَا هُوَ بِٱلۡهَزۡلِ (سورۃ الطارق ۔ آیات 13 تا 14)
اللہ تعالیٰ نے سُوْرَةُ الطَّارِقِ میں عظمت بیان فرمائی ہے:
الف) تورات کی • ب) زبور کی • ج) انجیل کی • د) قرآن مجید کی
ٱلنَّجۡمُ ٱلثَّاقِبُ (سورۃ الطارق ۔ آیت 3)
«اَلثَّاقِب» کے معنی ہیں:
الف) بجھا ہوا • ب) چمکتا ہوا • ج) ٹوٹا ہوا • د) گرا ہوا
إِنَّهُۥ لَقَوۡلٞ فَصۡلٞ (سورۃ الطارق ۔ آیت 13)
«اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ» آیت کی رو سے قرآن ہے:
الف) قولِ جامع • ب) قولِ فیصل • ج) قولِ بلیغ • د) قولِ فصیح
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلۡبُرُوجِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡمَوۡعُودِ (سورۃ البروج ۔ آیات 1 اور 2)
«وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ ۔ وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ» — آیاتِ کریمہ میں کن چیزوں کی قسم اٹھائی گئی ہے؟
قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔ اور قسم ہے وعدے والے دن کی۔
وَمَا نَقَمُواْ مِنۡهُمۡ إِلَّآ أَن يُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ (سورۃ البروج ۔ آیت 8)
«وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے ایمان والوں سے کس بات کا بدلہ لیا گیا؟
اور انھوں نے ان (مومنوں) سے صرف اس (بات) کا بدلہ لیا کہ وہ اس اللہ پر ایمان لائے تھے جو بہت غالب، بہت تعریفوں والا ہے۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُواْ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوبُواْ فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ ٱلۡحَرِيقِ (سورۃ البروج ۔ آیت 10)
«فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ» — آیتِ کریمہ میں ایمان والوں کو تکلیف پہنچانے والوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟
بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف پہنچائی، پھر وہ (توبہ) نہ کی، تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلانے والا عذاب ہے۔
إِن كُلُّ نَفۡسٖ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٞ (سورۃ الطارق ۔ آیت 4)
«اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ» — آیتِ کریمہ کی رو سے انسان پر کیا مقرر ہے؟
کوئی شخص ایسا نہیں جس پر کوئی محافظ (مقرر) نہ ہو۔
يَوۡمَ تُبۡلَى ٱلسَّرَآئِرُ (سورۃ الطارق ۔ آیت 9)
«يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ» — آیتِ کریمہ میں قیامت کے دن کی کیا کیفیت بیان ہوئی ہے؟
جس دن سب راز ظاہر کر دیے جائیں گے۔
سُوْرَةُ الطَّارِقِ اور سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ میں استعمال ہونے والے کوئی سے پانچ ثلاثی مجرد کے افعال تلاش کر کے تحریر کریں۔
دونوں سورتوں سے ثلاثی مجرد کے پانچ افعال درج ذیل ہیں:
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُواْ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوبُواْ فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ ٱلۡحَرِيقِ (سورۃ البروج ۔ آیت 10)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف پہنچائی، پھر انھوں نے توبہ نہ کی، تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلانے والا عذاب ہے۔
سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّآءٖ دَافِقٖ يَخۡرُجُ مِنۢ بَيۡنِ ٱلصُّلۡبِ وَٱلتَّرَآئِبِ إِنَّهُۥ عَلَىٰ رَجۡعِهِۦ لَقَادِرٞ (سورۃ الطارق ۔ آیات 5 تا 8)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
لہٰذا انسان کو غور کرنا چاہیے (کہ) وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟ وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ جو پیٹھ اور سینے (کی ہڈیوں) کے درمیان سے نکلتا ہے۔ بے شک وہ (اللہ) اسے لوٹا دینے پر ضرور قادر ہے۔
سُوْرَةُ الطَّارِقِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف
سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ البروج کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ الطَّارِقِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الطارق کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں سے کفار کے ظلم و ستم پر صبر و استقامت کے کوئی دو واقعات اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق گھر والوں کو سنائیں۔
درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ اور سُوْرَةُ الطَّارِقِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ رب کی پکڑ 2۔ خندقوں والے 3۔ لشکروں کی خبر 4۔ بہت محبت فرمانے والا 5۔ مومنین کو تکلیف پہنچانا 6۔ رات کو آنے والا 7۔ تھوڑی سی مہلت 8۔ محافظ 9۔ راز 10۔ فیصلہ کن کلام
وَشَاهِدٖ وَمَشۡهُودٖ (سورۃ البروج ۔ آیت 3)
«شاہد» اور «مشہود» کی وضاحت کریں: مفسرین نے اس سے کیا مراد لیا ہے؟
قسم ہے حاضر ہونے والے کی اور جس کے پاس حاضر ہوتے ہیں اس کی۔
لفظی اعتبار سے «شاہد» حاضر ہونے والے (یا گواہی دینے والے) کو اور «مشہود» اس کو کہتے ہیں جس کے پاس حاضر ہوا جائے (یا جس پر گواہی دی جائے)۔ مفسرین نے اس کی وضاحت میں کئی اقوال بیان فرمائے ہیں:
ا؟ وَمَا نَقَمُواْ مِنۡهُمۡ إِلَّآ أَن يُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ
سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ اور سُوْرَةُ الطَّارِقِ کے (بنیادی مضامین کے حوالے سے) ہمارے لیے کیا اسباق ہیں؟
دونوں سورتوں کے بنیادی مضامین تفصیلی جوابات (سوال 3 الف اور 3 ب) میں درج ہیں؛ ان مضامین سے ہمارے لیے درج ذیل اسباق حاصل ہوتے ہیں:
سورۃ البروج کے اسباق اور سورۃ الطارق کے اسباق
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُواْ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوبُواْ فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ ٱلۡحَرِيقِ
افعالِ ثلاثی کی چند قرآنی مثالیں تحریر کریں۔
جن افعال کے اصلی حروف تین ہوں انھیں ثلاثی کہتے ہیں۔ اگر ان تین حروف کے سوا کوئی زائد حرف نہ ہو تو فعل «ثلاثی مجرد» ہے، اور اگر اصلی حروف کے ساتھ زائد حرف بھی ہوں تو «ثلاثی مزید فیہ»۔ اسی سبق کی دونوں سورتوں سے مثالیں:
ثلاثی مجرد کی مثالیں (مع ابواب) اور ثلاثی مزید فیہ کی مثالیں
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔