ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 13: سبق 13: سورۃ البروج اور سورۃ الطارق — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 23 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وأصحابہٖ وسلم پر نازل ہوئی:

الف) مدنی دور میں • ب) مکی دور میں • ج) دورانِ ہجرت • د) سفرِ طائف میں

جواب ب) مکی دور میں — سورۃ البروج مکی سورت ہے: یہ اس دور میں نازل ہوئی جب کفارِ قریش مسلمانوں پر ظلم و ستم کر رہے تھے، اسی لیے اس میں اہلِ ایمان کو ثابت قدمی کی تلقین ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

قُتِلَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأُخۡدُودِ (سورۃ البروج ۔ آیت 4)

«اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ» سے مراد ہے:

الف) کنووں والے • ب) خندقوں والے • ج) پہاڑوں والے • د) غاروں والے

جواب ب) خندقوں والے — ذخیرۂ الفاظ میں «اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ» کا معنی ہے: خندقوں والے — وہ لوگ جنھوں نے ایمان والوں کو جلانے کے لیے خندقیں کھود کر ان میں آگ بھری تھی۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ مِمَّ خُلِقَ (سورۃ الطارق ۔ آیت 5)

«خَلَقَ يَخْلُقُ» کا تعلق ثلاثی مجرد کے باب سے ہے:

الف) فَتَحَ يَفْتَحُ • ب) ضَرَبَ يَضْرِبُ • ج) نَصَرَ يَنْصُرُ • د) كَرُمَ يَكْرُمُ

جواب ج) نَصَرَ يَنْصُرُ — «خَلَقَ» کے ماضی میں «ع» کلمہ (ل) پر زبر ہے اور مضارع «يَخْلُقُ» میں پیش — یہی باب نَصَرَ يَنْصُرُ (فَعَلَ يَفْعُلُ) کی علامت ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّهُۥ لَقَوۡلٞ فَصۡلٞ وَمَا هُوَ بِٱلۡهَزۡلِ (سورۃ الطارق ۔ آیات 13 تا 14)

اللہ تعالیٰ نے سُوْرَةُ الطَّارِقِ میں عظمت بیان فرمائی ہے:

الف) تورات کی • ب) زبور کی • ج) انجیل کی • د) قرآن مجید کی

جواب د) قرآن مجید کی — سورۃ الطارق میں فرمایا گیا: بے شک یہ (قرآن) ضرور ایک فیصلہ کن کلام ہے اور یہ ہنسی مذاق نہیں — یعنی قرآن مجید کی عظمت بیان ہوئی ہے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

ٱلنَّجۡمُ ٱلثَّاقِبُ (سورۃ الطارق ۔ آیت 3)

«اَلثَّاقِب» کے معنی ہیں:

الف) بجھا ہوا • ب) چمکتا ہوا • ج) ٹوٹا ہوا • د) گرا ہوا

جواب ب) چمکتا ہوا — ذخیرۂ الفاظ میں «اَلثَّاقِب» کا معنی ہے: چمکتا ہوا — «اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ» یعنی چمکتا ہوا ستارہ۔
6 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّهُۥ لَقَوۡلٞ فَصۡلٞ (سورۃ الطارق ۔ آیت 13)

«اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ» آیت کی رو سے قرآن ہے:

الف) قولِ جامع • ب) قولِ فیصل • ج) قولِ بلیغ • د) قولِ فصیح

جواب ب) قولِ فیصل — «فَصْل» کا معنی فیصلہ کن ہے: قرآن مجید حق اور باطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کرنے والا کلام ہے۔

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلۡبُرُوجِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡمَوۡعُودِ (سورۃ البروج ۔ آیات 1 اور 2)

«وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ ۔ وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ» — آیاتِ کریمہ میں کن چیزوں کی قسم اٹھائی گئی ہے؟

ترجمہ

قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔ اور قسم ہے وعدے والے دن کی۔

جواب ان آیات میں دو چیزوں کی قسم اٹھائی گئی ہے: برجوں والے (مضبوط قلعوں والے) آسمان کی، اور وعدے والے دن یعنی قیامت کے دن کی۔ اگلی آیت میں حاضر ہونے والے اور جس کے پاس حاضر ہوتے ہیں اس کی قسم بھی اٹھائی گئی ہے۔ (آیت 3)
8 مختصر جوابات

وَمَا نَقَمُواْ مِنۡهُمۡ إِلَّآ أَن يُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ (سورۃ البروج ۔ آیت 8)

«وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» — آیتِ کریمہ کی رو سے ایمان والوں سے کس بات کا بدلہ لیا گیا؟

ترجمہ

اور انھوں نے ان (مومنوں) سے صرف اس (بات) کا بدلہ لیا کہ وہ اس اللہ پر ایمان لائے تھے جو بہت غالب، بہت تعریفوں والا ہے۔

جواب ایمان والوں سے صرف اس بات کا بدلہ لیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تھے — ان کا کوئی اور قصور نہ تھا۔ اللہ ہی بہت غالب اور ہر تعریف کا مستحق ہے، جس کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت ہے۔ (آیت 9)
9 مختصر جوابات

إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُواْ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوبُواْ فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ ٱلۡحَرِيقِ (سورۃ البروج ۔ آیت 10)

«فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ» — آیتِ کریمہ میں ایمان والوں کو تکلیف پہنچانے والوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف پہنچائی، پھر وہ (توبہ) نہ کی، تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلانے والا عذاب ہے۔

جواب جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں کو (ایمان کی وجہ سے) تکلیفیں پہنچائیں اور پھر توبہ نہ کی، ان کا انجام یہ بیان ہوا کہ ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور (خاص طور پر) جلانے والا عذاب ہے — جیسے انھوں نے مومنوں کو آگ میں جلایا تھا۔
10 مختصر جوابات

إِن كُلُّ نَفۡسٖ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٞ (سورۃ الطارق ۔ آیت 4)

«اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ» — آیتِ کریمہ کی رو سے انسان پر کیا مقرر ہے؟

ترجمہ

کوئی شخص ایسا نہیں جس پر کوئی محافظ (مقرر) نہ ہو۔

جواب ہر انسان پر ایک محافظ (نگران فرشتہ) مقرر ہے: کوئی جان ایسی نہیں جس پر نگہبان نہ ہو، جو اس کے اعمال کی نگرانی اور حفاظت کرتا ہے۔
11 مختصر جوابات

يَوۡمَ تُبۡلَى ٱلسَّرَآئِرُ (سورۃ الطارق ۔ آیت 9)

«يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ» — آیتِ کریمہ میں قیامت کے دن کی کیا کیفیت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

جس دن سب راز ظاہر کر دیے جائیں گے۔

جواب قیامت کے دن کی یہ کیفیت بیان ہوئی ہے کہ اس دن تمام چھپے ہوئے راز کھول دیے جائیں گے: دلوں کے بھید اور خفیہ اعمال سب ظاہر ہو جائیں گے، اور اس وقت انسان کے پاس نہ کوئی قوت ہو گی اور نہ کوئی مددگار۔ (آیت 10)
12 مختصر جوابات

سُوْرَةُ الطَّارِقِ اور سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ میں استعمال ہونے والے کوئی سے پانچ ثلاثی مجرد کے افعال تلاش کر کے تحریر کریں۔

دونوں سورتوں سے ثلاثی مجرد کے پانچ افعال درج ذیل ہیں:

1 1 — «فَتَنُواْ» — انھوں نے تکلیف پہنچائی؛ مادہ: ف ت ن (فَتَنَ)۔ (البروج: 10)
2 2 — «نَقَمُواْ» — انھوں نے بدلہ لیا؛ مادہ: ن ق م (نَقَمَ)۔ (البروج: 8)
3 3 — «كَفَرُواْ» — انھوں نے کفر کیا؛ مادہ: ک ف ر (كَفَرَ)۔ (البروج: 19)
4 4 — «خُلِقَ» — وہ پیدا کیا گیا؛ مادہ: خ ل ق (خَلَقَ)۔ (الطارق: 5)
5 5 — «يَخۡرُجُ» — وہ نکلتا ہے؛ مادہ: خ ر ج (خَرَجَ)۔ (الطارق: 7)
جواب یہ سب افعال صرف تین اصلی حروف پر مشتمل ہیں، اس لیے ثلاثی مجرد کہلاتے ہیں۔ (ابواب کی نشان دہی کے لیے دیکھیے: اضافی سوالات، س3)

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُواْ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوبُواْ فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ ٱلۡحَرِيقِ (سورۃ البروج ۔ آیت 10)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف پہنچائی، پھر انھوں نے توبہ نہ کی، تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلانے والا عذاب ہے۔

جواب اِس سے پہلے اصحابِ اخدود کا واقعہ بیان ہوا، جنہوں نے خندقیں کھود کر ایمان والوں کو آگ میں ڈال دیا تھا۔ اِس آیت میں فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں کو ستایا اور پھر توبہ بھی نہ کی، اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے۔ یعنی جو آگ اُنہوں نے دوسروں کے لیے جلائی تھی، اُس سے کہیں بڑی آگ اُن کا انتظار کر رہی ہے۔ ساتھ ہی توبہ کا دروازہ بھی بتا دیا گیا کہ اگر وہ سچے دل سے رجوع کر لیں تو معافی ممکن ہے۔ سبق یہ ہے کہ کسی کو ایمان کی وجہ سے ستانا بہت بڑا جرم ہے، اور اللہ اپنے بندوں کا بدلہ ضرور لیتا ہے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

1 تعارف — نام کی وجہ — اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا «وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ» (برجوں والے آسمان کی قسم) سے فرمائی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ الْبُرُوْج» رکھا گیا۔ بروج کے معنی مضبوط قلعے ہیں۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 22 آیات ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب کفارِ قریش مسلمانوں پر ظلم و ستم کر رہے تھے۔
3 فضیلت — نبی کریم ﷺ عشاء کی نماز میں اکثر سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ اور سُوْرَةُ الطَّارِقِ کی تلاوت فرماتے تھے۔ (مسند احمد: 8332)
4 ظالم بادشاہ کا واقعہ — معروف تفاسیر کے مطابق اس سورت میں ایک ظالم بادشاہ کا ذکر ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے مومنوں کو اذیتیں دیں: بادشاہ نے خندقیں کھدوائیں اور انھیں آگ سے بھر دیا، پھر ایمان لانے والوں کو دھمکیاں دیں کہ انھیں آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ لیکن مومنوں نے اپنے ایمان پر ثابت قدمی دکھائی اور اپنے رب کی محبت میں جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کیا۔
جواب مرکزی مضمون — اہلِ حق کی تحسین اور اہلِ باطل کی مذمت۔
15 تفصیلی جوابات

فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّآءٖ دَافِقٖ يَخۡرُجُ مِنۢ بَيۡنِ ٱلصُّلۡبِ وَٱلتَّرَآئِبِ إِنَّهُۥ عَلَىٰ رَجۡعِهِۦ لَقَادِرٞ (سورۃ الطارق ۔ آیات 5 تا 8)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

لہٰذا انسان کو غور کرنا چاہیے (کہ) وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟ وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ جو پیٹھ اور سینے (کی ہڈیوں) کے درمیان سے نکلتا ہے۔ بے شک وہ (اللہ) اسے لوٹا دینے پر ضرور قادر ہے۔

جواب اللہ نے انسان کو دعوت دی کہ ذرا غور تو کرے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ اُس کی ابتدا ایک معمولی سے پانی کے قطرے سے ہوئی، جو جسم کے اندر ایک خاص جگہ سے نکلتا ہے۔ اِتنی چھوٹی اور کمزور چیز سے اللہ نے دیکھنے، سننے اور سوچنے والا مکمل انسان بنا دیا۔ پھر فرمایا کہ جو رب پہلی بار ایسا کر سکتا ہے، وہ اُسے دوبارہ زندہ کرنے پر بھی یقیناً قادر ہے۔ سبق یہ ہے کہ اپنی پیدائش پر غور کرنے سے تکبر ختم ہوتا ہے اور قیامت پر یقین پکا ہوتا ہے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الطَّارِقِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا میں آسمان اور طارق (رات میں نمودار ہونے والے تارے) کی قسم ذکر فرمائی ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «اَلطَّارِق» رکھا گیا ہے۔
2 مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 17 آیات ہیں۔
جواب مرکزی مضمون — تخلیقِ انسانی اور عظمتِ باری تعالیٰ۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ البروج کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 اصحٰب الاخدود یعنی خندقوں والوں کی ہلاکت کا بیان۔
2 ظلم و جبر کا سامنا کرنے والے اہلِ ایمان کا تذکرہ۔
3 مشکلات پر صبر کرنے والوں کے لیے جنت کی خوش خبری۔
4 اللہ تعالیٰ کی سخت پکڑ کا ذکر۔
5 قرآن حکیم کی عظمت اور شان کا بیان۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الطَّارِقِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الطارق کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نگرانی کا ذکر۔
2 انسان کی حقیقت کا بیان۔
3 موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور حساب کتاب ہونے کا ذکر۔
4 قرآن مجید کی عظمت کا ذکر۔
5 نبی اکرم ﷺ کو تسلی دینے اور کفار کو مہلت دیے جانے کا بیان۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں سے کفار کے ظلم و ستم پر صبر و استقامت کے کوئی دو واقعات اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق گھر والوں کو سنائیں۔

1 پہلا واقعہ: حضرت بلال رضی اللہ عنہ — حضرت بلال رضی اللہ عنہ مکہ میں امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ جب وہ ایمان لائے تو امیہ انھیں دوپہر کی شدید گرمی میں تپتی ریت پر لٹاتا، سینے پر بھاری پتھر رکھواتا اور کہتا کہ محمد (ﷺ) کا انکار کرو۔ لیکن حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہر اذیت پر صرف «اَحَد، اَحَد» (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے) کہتے رہے۔ بالآخر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انھیں خرید کر آزاد کر دیا، اور یہی بلال رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے مؤذن بنے۔
2 دوسرا واقعہ: آلِ یاسر رضی اللہ عنہم — حضرت یاسر، ان کی اہلیہ حضرت سمیہ اور بیٹے حضرت عمار رضی اللہ عنہم ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔ کفارِ مکہ انھیں تپتی ریت پر ڈال کر سخت اذیتیں دیتے۔ نبی کریم ﷺ ان کے پاس سے گزرتے تو فرماتے (مفہوم): «اے آلِ یاسر! صبر کرو، تمھارا ٹھکانا جنت ہے۔» حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا اسی راہ میں شہید ہوئیں اور اسلام کی پہلی شہید کہلائیں، مگر اس گھرانے میں سے کسی نے ایمان نہ چھوڑا۔
3 حاصل ہونے والے اسباق — ایمان سب سے قیمتی متاع ہے: اس کی خاطر ہر تکلیف برداشت کی جا سکتی ہے۔
4 حاصل ہونے والے اسباق — آزمائش میں ثابت قدمی ہی مومن کی پہچان ہے — جیسے اصحٰب الاخدود کے مومنوں نے دکھائی۔
5 حاصل ہونے والے اسباق — ظلم سہنے والوں کے لیے اللہ کے ہاں جنت کی خوش خبری ہے اور ظلم کرنے والوں کے لیے سخت پکڑ۔
6 حاصل ہونے والے اسباق — صبر کا انجام سرخروئی ہے: دنیا میں بھی (بلال رضی اللہ عنہ کی آزادی اور اذان) اور آخرت میں بھی۔
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ اور سُوْرَةُ الطَّارِقِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ رب کی پکڑ 2۔ خندقوں والے 3۔ لشکروں کی خبر 4۔ بہت محبت فرمانے والا 5۔ مومنین کو تکلیف پہنچانا 6۔ رات کو آنے والا 7۔ تھوڑی سی مہلت 8۔ محافظ 9۔ راز 10۔ فیصلہ کن کلام

1 1۔ رب کی پکڑ — «بَطۡشَ رَبِّكَ» — بے شک آپ کے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔ (البروج: 12)
2 2۔ خندقوں والے — «أَصۡحَٰبُ ٱلۡأُخۡدُودِ» — خندقوں والے ہلاک کر دیے گئے۔ (البروج: 4)
3 3۔ لشکروں کی خبر — «حَدِيثُ ٱلۡجُنُودِ» — کیا آپ کے پاس لشکروں کی خبر آئی ہے؟ (البروج: 17)
4 4۔ بہت محبت فرمانے والا — «ٱلۡوَدُودُ» — اور وہ بہت بخشنے والا، بہت محبت فرمانے والا ہے۔ (البروج: 14)
5 5۔ مومنین کو تکلیف پہنچانا — «فَتَنُواْ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ» — انھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف پہنچائی۔ (البروج: 10)
6 6۔ رات کو آنے والا — «ٱلطَّارِقُ» — رات کو آنے والا (چمکتا ہوا ستارہ)۔ (الطارق: 2)
7 7۔ تھوڑی سی مہلت — «أَمۡهِلۡهُمۡ رُوَيۡدَۢا» — آپ انھیں تھوڑی سی مہلت دیجیے۔ (الطارق: 17)
8 8۔ محافظ — «حَافِظٞ» — (ہر جان پر ایک) محافظ (مقرر) ہے۔ (الطارق: 4)
9 9۔ راز — «ٱلسَّرَآئِرُ» — (جس دن) سب راز (ظاہر کر دیے جائیں گے)۔ (الطارق: 9)
10 10۔ فیصلہ کن کلام — «لَقَوۡلٞ فَصۡلٞ» — (بے شک یہ قرآن) ضرور ایک فیصلہ کن کلام ہے۔ (الطارق: 13)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

21 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَشَاهِدٖ وَمَشۡهُودٖ (سورۃ البروج ۔ آیت 3)

«شاہد» اور «مشہود» کی وضاحت کریں: مفسرین نے اس سے کیا مراد لیا ہے؟

ترجمہ

قسم ہے حاضر ہونے والے کی اور جس کے پاس حاضر ہوتے ہیں اس کی۔

لفظی اعتبار سے «شاہد» حاضر ہونے والے (یا گواہی دینے والے) کو اور «مشہود» اس کو کہتے ہیں جس کے پاس حاضر ہوا جائے (یا جس پر گواہی دی جائے)۔ مفسرین نے اس کی وضاحت میں کئی اقوال بیان فرمائے ہیں:

1 پہلا قول — شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے اور مشہود سے مراد عرفہ (حج) کا دن — نبی کریم ﷺ سے یہی تفسیر مروی ہے (مفہوم): «موعود دن قیامت کا دن ہے، مشہود عرفہ کا دن ہے اور شاہد جمعہ کا دن ہے۔» (جامع ترمذی: 3339)
2 دوسرا قول — شاہد سے مراد ہر وہ ہستی ہے جو اس دن حاضر ہو گی اور مشہود قیامت کا دن ہے، جس میں تمام مخلوق حاضر کی جائے گی — جیسے سورۂ ھود میں قیامت کو «وَذَٰلِكَ يَوۡمٞ مَّشۡهُودٞ» (وہ دن جس میں سب حاضر کیے جائیں گے) فرمایا گیا۔ (سورۂ ھود: 103)
3 تیسرا قول — شاہد سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں جو اپنی امت پر گواہ ہوں گے، اور مشہود سے مراد وہ (امت یا قیامت کا دن) ہے جس پر گواہی دی جائے گی۔
جواب ان اقوال میں تضاد نہیں: قسم کا مقصد یہ ہے کہ وعدے کا دن ضرور آنے والا ہے، جہاں ہر گواہ اور ہر حاضر ہونے والا اللہ کے سامنے موجود ہو گا۔
22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ا؟ وَمَا نَقَمُواْ مِنۡهُمۡ إِلَّآ أَن يُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ

سُوْرَةُ الْبُرُوْجِ اور سُوْرَةُ الطَّارِقِ کے (بنیادی مضامین کے حوالے سے) ہمارے لیے کیا اسباق ہیں؟

دونوں سورتوں کے بنیادی مضامین تفصیلی جوابات (سوال 3 الف اور 3 ب) میں درج ہیں؛ ان مضامین سے ہمارے لیے درج ذیل اسباق حاصل ہوتے ہیں:

سورۃ البروج کے اسباق اور سورۃ الطارق کے اسباق

1 سورۃ البروج کے اسباق — ہماری نصیحت کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اچھے اور برے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے۔
2 سورۃ البروج کے اسباق — کفار اور مشرکین کا ظلم و ستم ایمان والوں کے لیے آزمائش ہوتا ہے۔
3 سورۃ البروج کے اسباق — ہمیں کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ اللہ ظالم کو سزا دیتا ہے اور اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔
4 سورۃ البروج کے اسباق — لوگوں کے جھٹلانے سے قرآن مجید کی عظمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جو لوحِ محفوظ میں موجود ہے۔
5 سورۃ الطارق کے اسباق — انسان کو اپنی حیثیت پہچاننی چاہیے کہ وہ ایک حقیر پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔
6 سورۃ الطارق کے اسباق — جس اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا، وہی اسے لوٹانے (دوبارہ زندہ کرنے) پر بھی قادر ہے۔
7 سورۃ الطارق کے اسباق — آخرت میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نہ کسی کے پاس طاقت ہو گی اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔
8 سورۃ الطارق کے اسباق — ہماری کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ قرآن مجید پر عمل کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے ہو گا۔
23 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُواْ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوبُواْ فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ ٱلۡحَرِيقِ

افعالِ ثلاثی کی چند قرآنی مثالیں تحریر کریں۔

جن افعال کے اصلی حروف تین ہوں انھیں ثلاثی کہتے ہیں۔ اگر ان تین حروف کے سوا کوئی زائد حرف نہ ہو تو فعل «ثلاثی مجرد» ہے، اور اگر اصلی حروف کے ساتھ زائد حرف بھی ہوں تو «ثلاثی مزید فیہ»۔ اسی سبق کی دونوں سورتوں سے مثالیں:

ثلاثی مجرد کی مثالیں (مع ابواب) اور ثلاثی مزید فیہ کی مثالیں

1 ثلاثی مجرد کی مثالیں (مع ابواب) — 1 — «فَتَنُواْ» — مادہ: ف ت ن؛ فَتَنَ يَفْتِنُ، باب ضَرَبَ يَضْرِبُ۔ (البروج: 10)
2 ثلاثی مجرد کی مثالیں (مع ابواب) — 2 — «قُتِلَ» — مادہ: ق ت ل؛ قَتَلَ يَقْتُلُ، باب نَصَرَ يَنْصُرُ۔ (البروج: 4)
3 ثلاثی مجرد کی مثالیں (مع ابواب) — 3 — «كَفَرُواْ» — مادہ: ک ف ر؛ كَفَرَ يَكْفُرُ، باب نَصَرَ يَنْصُرُ۔ (البروج: 19)
4 ثلاثی مجرد کی مثالیں (مع ابواب) — 4 — «خُلِقَ» — مادہ: خ ل ق؛ خَلَقَ يَخْلُقُ، باب نَصَرَ يَنْصُرُ۔ (الطارق: 5)
5 ثلاثی مجرد کی مثالیں (مع ابواب) — 5 — «يَخۡرُجُ» — مادہ: خ ر ج؛ خَرَجَ يَخْرُجُ، باب نَصَرَ يَنْصُرُ۔ (الطارق: 7)
6 ثلاثی مزید فیہ کی مثالیں — «يُؤۡمِنُواْ» — وہ ایمان لائیں؛ اصل مادہ ا م ن کے ساتھ زائد حروف بڑھے ہیں (باب اِفعال: آمَنَ يُؤْمِنُ)۔ (البروج: 8)
7 ثلاثی مزید فیہ کی مثالیں — «يُبۡدِئُ وَيُعِيدُ» — وہ پہلی بار پیدا فرماتا ہے اور دوبارہ پیدا فرمائے گا؛ دونوں افعال باب اِفعال سے ہیں (اَبْدَأَ، اَعَادَ)۔ (البروج: 13)
جواب ابواب کی نشان دہی (فَتَحَ، ضَرَبَ، نَصَرَ، سَمِعَ، حَسِبَ، كَرُمَ) سبق کے «افعالِ ثلاثی» گرامر باکس کے چھ گروپوں کے مطابق ہے؛ گردان کے یہ اوزان قواعد کی مثالیں ہیں، قرآنی اقتباس نہیں۔ (سادہ فہرست کے لیے دیکھیے: مختصر جوابات، س6)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.