ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 12: سبق 12: سورۃ المطففین اور سورۃ الانشقاق — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 23 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَيۡلٞ لِّلۡمُطَفِّفِينَ (سورۃ المطففین ۔ آیت 1)

«وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِيْنَ» کی رو سے ہلاکت ہے:

الف) چغلی کھانے والوں کے لیے • ب) غیبت کرنے والوں کے لیے • ج) ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے • د) جھوٹی قسمیں کھانے والوں کے لیے

جواب ج) ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے — «مُطَفِّفِيْن» کے معنی ناپ تول میں کمی کرنے والے ہیں: جو لوگوں سے (خود) ناپ کر لیں تو پورا لیتے ہیں اور جب انھیں ناپ یا تول کر دیں تو کم دیتے ہیں۔ (آیات 2، 3)
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَإِذَا كَالُوهُمۡ أَو وَّزَنُوهُمۡ يُخۡسِرُونَ (سورۃ المطففین ۔ آیت 3)

«يُخْسِرُوْنَ» کے معنی ہیں:

الف) زیادہ کر دیتے ہیں • ب) برابر کر دیتے ہیں • ج) کم کر دیتے ہیں • د) پورا کر دیتے ہیں

جواب ج) کم کر دیتے ہیں — «يُخْسِرُوْنَ» کا معنی ہے: وہ کم کر دیتے ہیں — جب دوسروں کو ناپ یا تول کر دیتے ہیں تو گھٹا کر دیتے ہیں۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ (سورۃ المطففین ۔ آیت 35)

«يَنْظُرُوْنَ» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر

جواب ب) فعل — «يَنْظُرُوْنَ» (وہ دیکھ رہے ہوں گے) فعل مضارع ہے: اس میں دیکھنے کا کام زمانۂ حال/مستقبل میں پایا جاتا ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا سِجِّينٞ (سورۃ المطففین ۔ آیت 8)

«وَمَاۤ اَدْرٰىكَ» میں «مَا» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) ضمیر • د) حرفِ استفہام

جواب د) حرفِ استفہام — سبق کی گرامر («اہم معلومات») کے مطابق «مَا» (کیا؟) حروفِ استفہام میں سے ہے: «وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌ» — اور آپ کو کیا معلوم کہ سجین کیا ہے؟
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَأَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡ (سورۃ الانشقاق ۔ آیت 2)

«اَذِنَتْ» کے معنی ہیں:

الف) مان لے گی • ب) حکم دے گی • ج) اذان دے گی • د) انگل دے گی

جواب الف) مان لے گی — ذخیرۂ الفاظ میں «اَذِنَتْ» کا معنی ہے: وہ مان لے گی — آسمان اپنے رب کا (حکم) مان لے گا اور یہی اس پر لازم ہے۔
6 کثیر الانتخابی سوالات

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡإِنسَٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدۡحٗا فَمُلَٰقِيهِ (سورۃ الانشقاق ۔ آیت 6)

«يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا» — آیت کے مطابق انسان کرنے والا ہے:

الف) قربانی • ب) صبر • ج) دعا • د) محنت

جواب د) محنت — «كَادِح» کا معنی محنت کرنے والا ہے: اے انسان! بے شک تو اپنے رب کی طرف (پہنچنے تک) خوب محنت کرنے والا ہے، پھر تو اس سے ملنے والا ہے۔

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

أَلَا يَظُنُّ أُوْلَـٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبۡعُوثُونَ لِيَوۡمٍ عَظِيمٖ (سورۃ المطففین ۔ آیات 4 تا 6)

«اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ۔ لِيَوْمٍ عَظِيْمٍ» — آیاتِ مبارکہ کی رو سے ناپ تول میں کمی کرنے کی کیا وجہ بتائی گئی ہے؟

ترجمہ

کیا یہ لوگ یقین نہیں رکھتے کہ بے شک وہ (مرنے کے بعد) اٹھائے جائیں گے۔ اس بڑے دن کے لیے۔

جواب ناپ تول میں کمی کی اصل وجہ آخرت پر یقین کا نہ ہونا بتائی گئی ہے: اگر انھیں یقین ہوتا کہ وہ اس بڑے دن کے لیے اٹھائے جائیں گے، جس دن سب لوگ ربِ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے، تو وہ کبھی ناپ تول میں کمی نہ کرتے۔ گویا ناپ تول میں کمی کرنا آخرت سے غفلت کی علامت ہے۔
8 مختصر جوابات

يَوۡمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ المطففین ۔ آیت 6)

«يَوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» — آیتِ کریمہ میں سے اسم، فعل اور حرف الگ کریں۔

ترجمہ

جس دن سب لوگ تمام جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

1 اسم — «يَوْمَ» (دن)، «اَلنَّاس» (لوگ)، «رَبّ» (رب) اور «اَلْعٰلَمِيْن» (تمام جہان) — «اَلنَّاس» اور «اَلْعٰلَمِيْن» پر «ال» اسم کی علامت ہے۔
2 فعل — «يَقُوْمُ» (کھڑے ہوں گے) — فعل مضارع۔
3 حرف — «لِ» («لِرَبِّ» میں) — حرفِ جر۔
9 مختصر جوابات

كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلۡفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٖ (سورۃ المطففین ۔ آیت 7)

«كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ» — آیتِ کریمہ کی رو سے بدکاروں کا اعمال نامہ کہاں ہو گا؟

ترجمہ

ہرگز (ایسا) نہیں (کہ جزا و سزا نہ ہو)! یقیناً بدکاروں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔

جواب بدکاروں کا اعمال نامہ «سِجِّيْن» میں ہو گا۔ «سِجِّيْن» کے لغوی معنی تہ خانوں کے ہیں؛ یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں گناہ گاروں کی روحیں مرنے کے بعد بھیجی جاتی ہیں اور وہیں پر ان کے اعمال نامے بھی رکھے جاتے ہیں — یہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے۔ (آیت 9)
10 مختصر جوابات

وَإِذَا مَرُّواْ بِهِمۡ يَتَغَامَزُونَ (سورۃ المطففین ۔ آیت 30)

«وَاِذَا مَرُّوْا بِهِمْ يَتَغَامَزُوْنَ» — آیتِ کریمہ کی رو سے کافر اہلِ ایمان کا مذاق کیسے اڑاتے تھے؟

ترجمہ

اور جب وہ ان (مومنوں) کے پاس سے گزرتے تھے تو آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے تھے۔

مجرم لوگ اہلِ ایمان کا مذاق یوں اڑاتے تھے:

1 ان پر ہنستے تھے۔ (آیت 29)
2 ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھوں کے اشاروں سے (ان کا مذاق اڑاتے) تھے۔ (آیت 30)
3 اپنے گھر والوں کی طرف دل لگیاں (فخر و مذاق) کرتے ہوئے لوٹتے تھے۔ (آیت 31)
4 انھیں دیکھ کر کہتے: یقیناً یہی لوگ گمراہ ہیں — حالاں کہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ (آیات 32، 33)
جواب آخرت میں معاملہ الٹ ہو گا: اس دن ایمان والے (تختوں پر بیٹھے) کافروں (کے حال) پر ہنس رہے ہوں گے۔ (آیات 34 تا 36)
11 مختصر جوابات

فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابٗا يَسِيرٗا وَيَنقَلِبُ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ مَسۡرُورٗا (سورۃ الانشقاق ۔ آیات 7 تا 9)

«فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۔ وَّيَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا» — آیاتِ مبارکہ میں اہلِ جنت کی کن کیفیات کا ذکر ہوا ہے؟

ترجمہ

تو عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔ اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف خوشی خوشی واپس آئے گا۔

جواب جس (خوش نصیب) کو اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا (آیت 7)، اس کی دو کیفیات بیان ہوئی ہیں: اس سے آسان حساب لیا جائے گا، اور وہ اپنے گھر والوں (جنت کے ساتھیوں) کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔
12 مختصر جوابات

إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ (سورۃ الانشقاق ۔ آیت 14)

«اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَ» — آیتِ کریمہ کی رو سے ناکام لوگ کس غلط فہمی کا شکار تھے؟

ترجمہ

بے شک اس کا خیال تھا کہ وہ (اللہ کی طرف) ہرگز واپس نہ جائے گا۔

جواب ناکام لوگ (جن کا اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا) اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ انھیں ہرگز (اللہ کی طرف) لوٹ کر نہیں جانا — یعنی وہ آخرت اور حساب کے منکر تھے اور دنیا میں اپنے گھر والوں میں مگن (خوش) تھے۔ حالاں کہ ان کا رب انھیں خوب دیکھ رہا تھا۔ (آیات 13، 15)

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ كَلَّاۖ بَلۡۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ (سورۃ المطففین ۔ آیات 13 تا 14)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے: (یہ تو) پچھلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ہرگز (ایسا) نہیں! بلکہ (جھٹلانے کی وجہ یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر (ان برے اعمال کا) زنگ چڑھ گیا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔

جواب جب ایسے شخص کے سامنے اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ وہ سچی بات کو مذاق سمجھ کر ٹال دیتا ہے۔ اللہ نے اِس کی اصل وجہ بتائی کہ ہرگز نہیں، بلکہ اُن کے دلوں پر اُن کے اپنے کاموں کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ جیسے لوہے پر زنگ لگ جائے تو وہ چمکتا نہیں، ویسے ہی گناہ بار بار کرنے سے دل سیاہ ہو جاتا ہے اور نصیحت اثر نہیں کرتی۔ سبق یہ ہے کہ چھوٹے گناہوں سے بھی بچنا چاہیے اور توبہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ دل صاف رہے۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْمُطَفِّفِيْنَ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ

1 تعارف — نام کی وجہ — اس سورت کے آغاز میں لفظ «مُطَفِّفِيْن» آیا ہے، جس کے معنی ناپ تول میں کمی کرنے والے ہیں؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ الْمُطَفِّفِيْن» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 36 آیات ہیں۔
3 فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر لے تو وہ نقطہ صاف ہو جاتا ہے، لیکن اگر وہ گناہ کرتا ہی چلا جائے تو پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔» (جامع ترمذی: 3334) — اسی سورت میں دلوں پر زنگ چڑھنے کا یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ (آیت 14)
جواب مرکزی مضمون — سرکشوں اور نیک لوگوں کا انجام۔
15 تفصیلی جوابات

إِنَّهُۥ كَانَ فِيٓ أَهۡلِهِۦ مَسۡرُورًا إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰٓۚ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرٗا (سورۃ الانشقاق ۔ آیات 13 تا 15)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک وہ (دنیا میں) اپنے گھر والوں میں خوش تھا۔ بے شک اس کا خیال تھا کہ وہ (اللہ کی طرف) ہرگز واپس نہ جائے گا۔ کیوں نہیں! بے شک اس کا رب اس کو خوب دیکھنے والا تھا۔

جواب یہ اُس شخص کا حال ہے جسے قیامت کے دن پیٹھ پیچھے سے اعمال نامہ دیا جائے گا۔ دنیا میں وہ اپنے گھر والوں میں بہت خوش اور مگن رہتا تھا، آخرت کی کوئی فکر ہی نہ تھی۔ اُس نے سمجھ لیا تھا کہ اُسے کبھی اللہ کی طرف لوٹ کر نہیں جانا۔ اللہ نے فرمایا: کیوں نہیں! ضرور لوٹنا ہے، اور اُس کا رب اُسے خوب دیکھ رہا تھا۔ سبق یہ ہے کہ خوشی منانا برا نہیں، مگر آخرت کو بھول جانا بہت بڑا نقصان ہے — کیونکہ اللہ ہمارا ہر کام دیکھ رہا ہے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاقِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ

1 تعارف — نام کی وجہ — اس سورت کے آغاز میں لفظ «انْشَقَّتْ» آیا ہے، جس کے معنی پھٹنے کے ہیں — یعنی یہ وہ سورت ہے جس میں قیامت کے دن آسمان کے پھٹنے کا ذکر ہوا ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 25 آیات ہیں۔
3 فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «قبر آخرت کی منزلوں میں سب سے پہلی منزل ہے۔ اگر کوئی آدمی اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بعد والے مراحل اس سے زیادہ آسان ہو جائیں گے، لیکن اگر کوئی شخص اس سے ہی نجات نہ پا سکا تو بعد والے مراحل اس سے مشکل ہوں گے۔» اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا: «اللہ کی قسم! میں نے جب بھی (اللہ تعالیٰ کے عذاب کے) مناظر دیکھے تو قبر کا منظر سب سے ہول ناک پایا۔» (مسند احمد: 4352)
جواب مرکزی مضمون — قیامت کے احوال اور اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کا بیان۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْمُطَفِّفِيْنَ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ المطففین کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت کا بیان۔
2 قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے وعید۔
3 نیکو کاروں کے لیے جنت کی نعمتوں کا ذکر۔
4 بدکاروں کے لیے جہنم میں ٹھکانا۔
5 دنیا میں مجرموں کا اہلِ ایمان کا مذاق اڑانا اور آخرت میں مجرموں کی رسوائی کا بیان۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاقِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الانشقاق کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 وقوعِ قیامت کے احوال۔
2 قیامت کے دن انسانوں کی اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری۔
3 نیکو کاروں اور سیاہ کاروں کو نامۂ اعمال دیے جانے اور ان کے انجام کا بیان۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

استاذ محترم کی مدد سے سُوْرَةُ الْمُطَفِّفِيْنَ اور سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاقِ کے اہم نکات پر مشتمل فہرست تیار کریں۔

سورۃ المطففین کے اہم نکات اور سورۃ الانشقاق کے اہم نکات

1 سورۃ المطففین کے اہم نکات — ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت: لینے کا اور دینے کا معیار الگ الگ رکھنا۔ (آیات 1 تا 3)
2 سورۃ المطففین کے اہم نکات — اس جرم کی جڑ: بڑے دن (قیامت) میں اٹھائے جانے کا یقین نہ ہونا۔ (آیات 4 تا 6)
3 سورۃ المطففین کے اہم نکات — بدکاروں کا اعمال نامہ سجین میں؛ جھٹلانے والوں کے لیے ویل۔ (آیات 7 تا 12)
4 سورۃ المطففین کے اہم نکات — دلوں پر گناہوں کا زنگ اور رب کے دیدار سے محرومی۔ (آیات 13 تا 17)
5 سورۃ المطففین کے اہم نکات — نیکوں کا اعمال نامہ علیین میں؛ نعمتیں: تخت، چہروں کی تازگی، رحیقِ مختوم، تسنیم۔ (آیات 18 تا 28)
6 سورۃ المطففین کے اہم نکات — دنیا میں مجرموں کا مومنوں پر ہنسنا اور آخرت میں معاملہ الٹ ہو جانا۔ (آیات 29 تا 36)
7 سورۃ الانشقاق کے اہم نکات — قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا اور زمین پھیلا کر خالی کر دی جائے گی؛ دونوں اپنے رب کا حکم مانیں گے۔ (آیات 1 تا 5)
8 سورۃ الانشقاق کے اہم نکات — انسان محنت کرتا ہوا اپنے رب سے ملنے والا ہے۔ (آیت 6)
9 سورۃ الانشقاق کے اہم نکات — دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ: آسان حساب اور مسرور واپسی؛ پیٹھ کے پیچھے سے: موت کو پکارنا اور بھڑکتی آگ۔ (آیات 7 تا 15)
10 سورۃ الانشقاق کے اہم نکات — شفق، رات اور چاند کی قسمیں: تم درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت پر چڑھو گے۔ (آیات 16 تا 19)
11 سورۃ الانشقاق کے اہم نکات — قرآن سن کر سجدہ نہ کرنے والوں پر عتاب اور جھٹلانے والوں کے لیے دردناک عذاب کی خبر۔ (آیات 20 تا 24)
12 سورۃ الانشقاق کے اہم نکات — ایمان اور عملِ صالح والوں کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر۔ (آیت 25)
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْمُطَفِّفِيْنَ اور سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاقِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ دلوں پر زنگ 2۔ علیین 3۔ سجین 4۔ ناپ تول میں کمی کرنے والے 5۔ تسنیم کا چشمہ 6۔ شام کی سرخی 7۔ نہ ختم ہونے والا اجر 8۔ آسمان کا پھٹنا 9۔ موت کو پکارنا 10۔ پورا چاند

1 1۔ دلوں پر زنگ — «رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم» — ان کے دلوں پر (برے اعمال کا) زنگ چڑھ گیا۔ (المطففین: 14)
2 2۔ علیین — «عِلِّيِّينَ» — نیک لوگوں کا اعمال نامہ علیین (بالا خانوں) میں ہے۔ (المطففین: 18)
3 3۔ سجین — «سِجِّينٖ» — بدکاروں کا اعمال نامہ سجین (تہ خانوں) میں ہے۔ (المطففین: 7)
4 4۔ ناپ تول میں کمی کرنے والے — «لِّلۡمُطَفِّفِينَ» — (ہلاکت ہے) ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔ (المطففین: 1)
5 5۔ تسنیم کا چشمہ — «مِن تَسۡنِيمٍ» — اس (شراب) میں تسنیم (جنت کے ایک چشمے) کی آمیزش ہو گی۔ (المطففین: 27)
6 6۔ شام کی سرخی — «بِٱلشَّفَقِ» — مجھے شام کی سرخی کی قسم! (الانشقاق: 16)
7 7۔ نہ ختم ہونے والا اجر — «أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونِۭ» — ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ (الانشقاق: 25)
8 8۔ آسمان کا پھٹنا — «إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتۡ» — جب آسمان پھٹ جائے گا۔ (الانشقاق: 1)
9 9۔ موت کو پکارنا — «يَدۡعُواْ ثُبُورٗا» — تو عنقریب وہ موت کو پکارے گا۔ (الانشقاق: 11)
10 10۔ پورا چاند — «وَٱلۡقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ» — اور چاند کی قسم جب وہ پورا ہو جائے۔ (الانشقاق: 18)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

21 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَيۡلٞ لِّلۡمُطَفِّفِينَ (سورۃ المطففین ۔ آیات 1 تا 3)

ناپ تول میں کمی کی ممکنہ صورتیں واضح کریں۔

ناپ تول میں کمی صرف ترازو کی ڈنڈی مارنے کا نام نہیں؛ ہر وہ معاملہ جس میں لینے کا معیار اور، اور دینے کا معیار اور ہو، «تطفیف» میں داخل ہے۔ اس کی چند ممکنہ صورتیں:

1 کم تولنا اور کم ناپنا — دیتے وقت وزن یا پیمائش گھٹا دینا، ترازو یا باٹوں میں گڑبڑ کرنا۔
2 دوہرا معیار — خود لیتے وقت پورا (بلکہ بڑھا کر) لینا اور دوسروں کو دیتے وقت کم دینا۔
3 ملاوٹ — دودھ، مسالوں، پٹرول یا کسی بھی چیز میں ملاوٹ کر کے مقدار یا معیار گھٹا دینا۔
4 عیب چھپانا — اچھا مال دکھا کر گھٹیا یا ناقص چیز دے دینا، خرابی بتائے بغیر بیچنا۔
5 گنتی میں کمی — درجن یا سیکڑے میں چیزیں کم نکال دینا۔
6 کام اور وقت کی چوری — ملازم کا پوری تنخواہ لے کر پورا وقت یا پورا کام نہ دینا — یہ بھی اپنے حق میں پورا لینا اور دوسرے کو کم دینا ہے۔
7 اجرت میں کمی — مزدور یا کاری گر سے پورا کام لے کر طے شدہ اجرت میں کٹوتی کرنا۔
8 خدمات میں کوتاہی — فیس پوری لے کر ناقص خدمت (تعلیم، علاج، مرمت وغیرہ) دینا، یا بجلی/گیس کے میٹر اور بلوں میں گڑبڑ کرنا۔
جواب ان سب صورتوں کی جڑ ایک ہی ہے: آخرت کے حساب سے غفلت۔ مسلمان کا اصول یہ ہے کہ لینے اور دینے کا معیار ایک جیسا ہو۔
22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَإِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقُرۡءَانُ لَا يَسۡجُدُونَۤ۩ (سورۃ الانشقاق ۔ آیت 21)

آیتِ سجدہ کے بارے میں تحریر کریں، نیز سجدۂ تلاوت کی دعا تحریر کریں۔

ترجمہ

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدہ نہیں کرتے۔

آیتِ سجدہ کیا ہے؟ اور سجدۂ تلاوت کی دعا

1 آیتِ سجدہ کیا ہے؟ — قرآنِ مجید میں چودہ (14) مقامات ایسے ہیں جنھیں آیاتِ سجدہ کہا جاتا ہے: ان میں سے کوئی آیت پڑھنے یا (توجہ سے) سننے والے پر سجدۂ تلاوت واجب ہو جاتا ہے۔ اسی سبق کی سورۃ الانشقاق کی آیت 21 بھی آیتِ سجدہ ہے، جس میں ان لوگوں پر عتاب ہے جو قرآن سن کر سجدہ نہیں کرتے۔ سجدۂ تلاوت کا طریقہ یہ ہے کہ (نماز کی شرائط یعنی وضو، قبلہ رخ ہو کر) اللہ اکبر کہہ کر ایک سجدہ کیا جائے اور پھر اللہ اکبر کہہ کر اٹھ جائے؛ مصحف میں ایسی آیات پر سجدے کی علامت (۩) بنی ہوتی ہے۔
2 سجدۂ تلاوت کی دعا — سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ خَلَقَهٗ وَشَقَّ سَمْعَهٗ وَبَصَرَهٗ بِحَوْلِهٖ وَقُوَّتِهٖ (جامع ترمذی)
جواب ترجمہ: میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا اور اپنی قوت و طاقت سے اس کے کان اور آنکھ بنائے۔ — سجدۂ تلاوت میں نماز کے سجدے کی طرح «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْاَعْلٰى» کہنا بھی درست ہے۔
23 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ا؟ كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلۡفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٖ

استفہام کی چند قرآنی مثالیں تحریر کریں۔

سبق کی گرامر کے مطابق عربی زبان میں سوال کرنے کے لیے جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں انھیں حروفِ استفہام کہتے ہیں؛ ان میں «أ» اور «هَلْ» (دونوں بمعنی: کیا؟) شامل ہیں، نیز مَا (کیا؟)، مَاذَا (کیا؟)، مَنْ (کون؟)، مَتٰى (کب؟)، اَيْنَ (کہاں؟)، كَيْفَ (کیسے؟)، لِمَاذَا (کیوں؟)، اَيّ (کون سا؟) اور كَمْ (کتنے؟) بھی حروفِ استفہام ہیں۔ چند قرآنی مثالیں:

1 1۔ أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ مِهَٰدٗا — «أ» — کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟ (سورۃ النبأ ۔ آیت 6)
2 2۔ أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمٗا نَّخِرَةٗ — «أ» — کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے (تو دوبارہ زندہ کیے جائیں گے)؟ (سورۃ النّٰزعٰت ۔ آیت 11)
3 3۔ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا سِجِّينٞ — «مَا» — اور آپ کو کیا معلوم کہ سجین کیا ہے؟ (سورۃ المطففین ۔ آیت 8)
4 4۔ هَلۡ ثُوِّبَ ٱلۡكُفَّارُ مَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ — «هَلْ» — کیا کافروں کو اس کا بدلہ دے دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے؟ (سورۃ المطففین ۔ آیت 36)
5 5۔ فَمَا لَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ — «مَا» — پھر انھیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے؟ (سورۃ الانشقاق ۔ آیت 20)
جواب سبق کے مطابق اگر عربی میں کسی سوال کا جواب «ہاں» میں دینا ہو تو «نَعَمْ» اور اگر «نہیں» میں دینا ہو تو «لَا» استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.