وَيۡلٞ لِّلۡمُطَفِّفِينَ (سورۃ المطففین ۔ آیت 1)
«وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِيْنَ» کی رو سے ہلاکت ہے:
الف) چغلی کھانے والوں کے لیے • ب) غیبت کرنے والوں کے لیے • ج) ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے • د) جھوٹی قسمیں کھانے والوں کے لیے
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَيۡلٞ لِّلۡمُطَفِّفِينَ (سورۃ المطففین ۔ آیت 1)
«وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِيْنَ» کی رو سے ہلاکت ہے:
الف) چغلی کھانے والوں کے لیے • ب) غیبت کرنے والوں کے لیے • ج) ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے • د) جھوٹی قسمیں کھانے والوں کے لیے
وَإِذَا كَالُوهُمۡ أَو وَّزَنُوهُمۡ يُخۡسِرُونَ (سورۃ المطففین ۔ آیت 3)
«يُخْسِرُوْنَ» کے معنی ہیں:
الف) زیادہ کر دیتے ہیں • ب) برابر کر دیتے ہیں • ج) کم کر دیتے ہیں • د) پورا کر دیتے ہیں
عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ (سورۃ المطففین ۔ آیت 35)
«يَنْظُرُوْنَ» عربی قواعد کی رو سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا سِجِّينٞ (سورۃ المطففین ۔ آیت 8)
«وَمَاۤ اَدْرٰىكَ» میں «مَا» عربی قواعد کی رو سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) ضمیر • د) حرفِ استفہام
وَأَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡ (سورۃ الانشقاق ۔ آیت 2)
«اَذِنَتْ» کے معنی ہیں:
الف) مان لے گی • ب) حکم دے گی • ج) اذان دے گی • د) انگل دے گی
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡإِنسَٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدۡحٗا فَمُلَٰقِيهِ (سورۃ الانشقاق ۔ آیت 6)
«يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا» — آیت کے مطابق انسان کرنے والا ہے:
الف) قربانی • ب) صبر • ج) دعا • د) محنت
أَلَا يَظُنُّ أُوْلَـٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبۡعُوثُونَ لِيَوۡمٍ عَظِيمٖ (سورۃ المطففین ۔ آیات 4 تا 6)
«اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ۔ لِيَوْمٍ عَظِيْمٍ» — آیاتِ مبارکہ کی رو سے ناپ تول میں کمی کرنے کی کیا وجہ بتائی گئی ہے؟
کیا یہ لوگ یقین نہیں رکھتے کہ بے شک وہ (مرنے کے بعد) اٹھائے جائیں گے۔ اس بڑے دن کے لیے۔
يَوۡمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ المطففین ۔ آیت 6)
«يَوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» — آیتِ کریمہ میں سے اسم، فعل اور حرف الگ کریں۔
جس دن سب لوگ تمام جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلۡفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٖ (سورۃ المطففین ۔ آیت 7)
«كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ» — آیتِ کریمہ کی رو سے بدکاروں کا اعمال نامہ کہاں ہو گا؟
ہرگز (ایسا) نہیں (کہ جزا و سزا نہ ہو)! یقیناً بدکاروں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔
وَإِذَا مَرُّواْ بِهِمۡ يَتَغَامَزُونَ (سورۃ المطففین ۔ آیت 30)
«وَاِذَا مَرُّوْا بِهِمْ يَتَغَامَزُوْنَ» — آیتِ کریمہ کی رو سے کافر اہلِ ایمان کا مذاق کیسے اڑاتے تھے؟
اور جب وہ ان (مومنوں) کے پاس سے گزرتے تھے تو آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے تھے۔
مجرم لوگ اہلِ ایمان کا مذاق یوں اڑاتے تھے:
فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابٗا يَسِيرٗا وَيَنقَلِبُ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ مَسۡرُورٗا (سورۃ الانشقاق ۔ آیات 7 تا 9)
«فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۔ وَّيَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا» — آیاتِ مبارکہ میں اہلِ جنت کی کن کیفیات کا ذکر ہوا ہے؟
تو عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔ اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف خوشی خوشی واپس آئے گا۔
إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ (سورۃ الانشقاق ۔ آیت 14)
«اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَ» — آیتِ کریمہ کی رو سے ناکام لوگ کس غلط فہمی کا شکار تھے؟
بے شک اس کا خیال تھا کہ وہ (اللہ کی طرف) ہرگز واپس نہ جائے گا۔
إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ كَلَّاۖ بَلۡۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ (سورۃ المطففین ۔ آیات 13 تا 14)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے: (یہ تو) پچھلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ہرگز (ایسا) نہیں! بلکہ (جھٹلانے کی وجہ یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر (ان برے اعمال کا) زنگ چڑھ گیا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔
سُوْرَةُ الْمُطَفِّفِيْنَ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ
إِنَّهُۥ كَانَ فِيٓ أَهۡلِهِۦ مَسۡرُورًا إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰٓۚ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرٗا (سورۃ الانشقاق ۔ آیات 13 تا 15)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
بے شک وہ (دنیا میں) اپنے گھر والوں میں خوش تھا۔ بے شک اس کا خیال تھا کہ وہ (اللہ کی طرف) ہرگز واپس نہ جائے گا۔ کیوں نہیں! بے شک اس کا رب اس کو خوب دیکھنے والا تھا۔
سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاقِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فرمانِ نبوی ﷺ
سُوْرَةُ الْمُطَفِّفِيْنَ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ المطففین کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاقِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الانشقاق کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
استاذ محترم کی مدد سے سُوْرَةُ الْمُطَفِّفِيْنَ اور سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاقِ کے اہم نکات پر مشتمل فہرست تیار کریں۔
سورۃ المطففین کے اہم نکات اور سورۃ الانشقاق کے اہم نکات
درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ الْمُطَفِّفِيْنَ اور سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاقِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ دلوں پر زنگ 2۔ علیین 3۔ سجین 4۔ ناپ تول میں کمی کرنے والے 5۔ تسنیم کا چشمہ 6۔ شام کی سرخی 7۔ نہ ختم ہونے والا اجر 8۔ آسمان کا پھٹنا 9۔ موت کو پکارنا 10۔ پورا چاند
وَيۡلٞ لِّلۡمُطَفِّفِينَ (سورۃ المطففین ۔ آیات 1 تا 3)
ناپ تول میں کمی کی ممکنہ صورتیں واضح کریں۔
ناپ تول میں کمی صرف ترازو کی ڈنڈی مارنے کا نام نہیں؛ ہر وہ معاملہ جس میں لینے کا معیار اور، اور دینے کا معیار اور ہو، «تطفیف» میں داخل ہے۔ اس کی چند ممکنہ صورتیں:
وَإِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقُرۡءَانُ لَا يَسۡجُدُونَۤ۩ (سورۃ الانشقاق ۔ آیت 21)
آیتِ سجدہ کے بارے میں تحریر کریں، نیز سجدۂ تلاوت کی دعا تحریر کریں۔
اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدہ نہیں کرتے۔
آیتِ سجدہ کیا ہے؟ اور سجدۂ تلاوت کی دعا
ا؟ كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلۡفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٖ
استفہام کی چند قرآنی مثالیں تحریر کریں۔
سبق کی گرامر کے مطابق عربی زبان میں سوال کرنے کے لیے جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں انھیں حروفِ استفہام کہتے ہیں؛ ان میں «أ» اور «هَلْ» (دونوں بمعنی: کیا؟) شامل ہیں، نیز مَا (کیا؟)، مَاذَا (کیا؟)، مَنْ (کون؟)، مَتٰى (کب؟)، اَيْنَ (کہاں؟)، كَيْفَ (کیسے؟)، لِمَاذَا (کیوں؟)، اَيّ (کون سا؟) اور كَمْ (کتنے؟) بھی حروفِ استفہام ہیں۔ چند قرآنی مثالیں:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔