ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 11: سبق 11: سورۃ التکویر اور سورۃ الانفطار — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 24 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ (سورۃ التکویر ۔ آیت 19)

سُوْرَةُ التَّكْوِيْرِ میں «رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ» سے مراد ہے:

الف) سیدنا میکائیل علیہ السلام • ب) سیدنا جبرائیل علیہ السلام • ج) سیدنا عزرائیل علیہ السلام • د) سیدنا اسرافیل علیہ السلام

جواب ب) سیدنا جبرائیل علیہ السلام — یہ قرآن بڑی عزت والے فرشتے — سیدنا جبرائیل علیہ السلام — کا (لایا ہوا) کلام ہے، جو قوت والے، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ والے ہیں۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیت 2)

«وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ» کی رو سے (قیامت کے دن) تارے:

الف) لپیٹ دیے جائیں گے • ب) گرا دیے جائیں گے • ج) بے نور کیے جائیں گے • د) چھپا دیے جائیں گے

جواب ج) بے نور کیے جائیں گے — ذخیرۂ الفاظ کے مطابق «اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ» کا معنی ہے: جب ستارے بے نور ہو جائیں گے۔ (سورج کے لیے «كُوِّرَتْ» — لپیٹ دیا جائے گا — آیا ہے۔)
3 کثیر الانتخابی سوالات

إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتۡ (سورۃ الانفطار ۔ آیت 1)

«اِنْفِطَار» کے معنی ہیں:

الف) کھول دینا • ب) پھٹ جانا • ج) لپیٹ دینا • د) توڑ دینا

جواب ب) پھٹ جانا — «اِنْفِطَار» کے معنی پھٹ جانے کے ہیں: سورت کی پہلی آیت میں ہے کہ جب آسمان پھٹ جائے گا؛ اسی مناسبت سے سورت کا نام «سُوْرَةُ الْاِنْفِطَار» ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَإِذَا ٱلۡكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتۡ (سورۃ الانفطار ۔ آیت 2)

«وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ» — آیت کی رو سے قیامت کے دن جھڑ جائیں گے:

الف) برج • ب) ستارے • ج) گناہ • د) آسمان

جواب ب) ستارے — «اَلْكَوَاكِب» کا معنی ستارے ہے: جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَإِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحَٰفِظِينَ كِرَامٗا كَٰتِبِينَ (سورۃ الانفطار ۔ آیات 10 تا 11)

«كِرَامًا كَاتِبِيْنَ» سے مراد فرشتے ہیں:

الف) روح نکالنے والے • ب) قبر میں سوال کرنے والے • ج) ہر قول و عمل لکھنے والے • د) بارش برسانے والے

جواب ج) ہر قول و عمل لکھنے والے — «كِرَامًا كَاتِبِيْنَ» سے مراد وہ معزز لکھنے والے (محافظ) فرشتے ہیں جو انسان کے ہر قول و عمل کو لکھتے ہیں؛ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔ (آیت 12)
6 کثیر الانتخابی سوالات

وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطَٰنٖ رَّجِيمٖ (سورۃ التکویر ۔ آیت 25)

«وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ» میں «هُوَ» قواعد کی رو سے ہے:

الف) فعل امر • ب) فعل ماضی • ج) ضمیر متصل • د) ضمیر منفصل

جواب د) ضمیر منفصل — «هُوَ» ضمیر منفصل ہے، کیوں کہ یہ کسی اسم یا فعل کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں بلکہ فاصلے پر — بالکل الگ لفظ کی صورت میں — آئی ہے۔ سبق کی گرامر کے مطابق ایسی ضمیر کو ضمیر منفصل کہتے ہیں۔

مختصر جوابات

7 مختصر جوابات

وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیت 6)

«وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» — آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن سمندروں کی کیا کیفیت ہو گی؟

ترجمہ

اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔

جواب قیامت کے دن سمندر بھڑکا دیے جائیں گے — یعنی ان کا پانی جوش میں لا کر آگ کی طرح بھڑکتا ہوا کر دیا جائے گا۔ (سورۃ الانفطار میں فرمایا کہ سمندر ابل پڑیں گے / پھاڑ دیے جائیں گے — آیت 3۔)
8 مختصر جوابات

ٱلَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ (سورۃ الانفطار ۔ آیت 7)

«اَلَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَ» — آیتِ کریمہ میں تخلیقِ انسانی کے متعلق کیا بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تجھے درست کیا، پھر تجھے (تیرے اعضا کو) متناسب بنایا۔

آیتِ کریمہ میں رب کریم کے احسان کے تین مرحلے بیان ہوئے ہیں۔

1 خَلَقَكَ — اس نے تجھے (عدم سے) پیدا کیا۔
2 فَسَوّٰىكَ — پھر تجھے درست اور ٹھیک ٹھیک بنایا — جسم و جان اور خوب صورت شکل و صورت عطا فرمائی۔
3 فَعَدَلَكَ — پھر تیرے اعضا کو متناسب (موزوں اور متوازن) بنایا، اور جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا۔ (آیت 8)
9 مختصر جوابات

وَإِذَا ٱلۡمَوۡءُۥدَةُ سُئِلَتۡ بِأَيِّ ذَنۢبٖ قُتِلَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیات 8 تا 9)

آیاتِ کریمہ کی رو سے زندہ درگور کی گئی بچی سے بروزِ قیامت کیا سوال ہو گا؟

ترجمہ

اور جب زندہ درگور کی ہوئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟

جواب قیامت کے دن زندہ درگور کی گئی بچی («اَلْمَوْءٗدَة») سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟ اس معصوم کا کوئی گناہ نہ تھا؛ یہ سوال دراصل اس ظلم کرنے والوں کی رسوائی اور ان سے بازپرس کے لیے ہو گا۔ اس آیت میں عرب کے بعض قبائل کی بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی رسمِ بد کی شدید مذمت ہے۔
10 مختصر جوابات

كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ (سورۃ الانفطار ۔ آیت 9)

«كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ» — آیتِ کریمہ میں بدلے کے دن سے کیا مراد ہے؟

ترجمہ

ہرگز نہیں (تم نافرمانی نہیں چھوڑتے)! بلکہ تم بدلے (کے دن) کو جھٹلاتے ہو۔

جواب بدلے کے دن («يَوْمُ الدِّيْن») سے مراد قیامت کا دن ہے، جس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا؛ اس دن کوئی شخص کسی کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گا اور اس دن حکم صرف اللہ ہی کا ہو گا۔ (آیت 19)
11 مختصر جوابات

فَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلۡخُنَّسِ ٱلۡجَوَارِ ٱلۡكُنَّسِ وَٱلَّيۡلِ إِذَا عَسۡعَسَ وَٱلصُّبۡحِ إِذَا تَنَفَّسَ (سورۃ التکویر ۔ آیات 15 تا 18)

آیاتِ کریمہ میں کن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے؟

ترجمہ

تو میں پیچھے ہٹ جانے والے (ستاروں) کی قسم فرماتا ہوں۔ جو چلنے والے، چھپ جانے والے ہیں۔ اور رات کی قسم جب وہ جانے لگتی ہے۔ اور صبح کی (قسم) جب وہ روشن ہوتی ہے۔

ان آیات میں تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔

1 ستارے — پیچھے ہٹ جانے والے («اَلْخُنَّس»)، چلنے والے اور چھپ جانے والے («اَلْجَوَارِ الْكُنَّس») ستارے۔
2 رات — جب وہ جانے (رخصت ہونے) لگتی ہے۔
3 صبح — جب وہ روشن ہوتی ہے۔
جواب ان قسموں کے بعد فرمایا گیا کہ یہ قرآن بڑی عزت والے فرشتے کا لایا ہوا کلام ہے — یعنی قسمیں قرآن کی صداقت کی دلیل کے طور پر ذکر ہوئیں۔
12 مختصر جوابات

إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي ٱلۡعَرۡشِ مَكِينٖ مُّطَاعٖ ثَمَّ أَمِينٖ (سورۃ التکویر ۔ آیات 19 تا 21)

«ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ ۔ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ» — ان آیاتِ کریمہ میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

بے شک یہ (قرآن) بڑی عزت والے فرشتے کا (لایا ہوا) کلام ہے۔ جو قوت والا ہے، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ والا ہے۔ جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے، (اور وہ) وہاں امانت دار ہے۔

ان آیات میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی پانچ صفات بیان ہوئی ہیں۔

1 1۔ كَرِيْم — بڑی عزت والے۔
2 2۔ ذِيْ قُوَّة — بڑی قوت والے۔
3 3۔ مَكِيْن — عرش والے (اللہ تعالیٰ) کے نزدیک بلند مرتبہ والے۔
4 4۔ مُطَاع — جن کی (آسمانوں میں فرشتوں کے ہاں) اطاعت کی جاتی ہے۔
5 5۔ اَمِيْن — وہاں امانت دار — وحی کو بغیر کمی بیشی کے پہنچانے والے۔

تفصیلی جوابات

13 تفصیلی جوابات

إِذَا ٱلشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتۡ وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ وَإِذَا ٱلۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیات 1 تا 4)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ اور جب دس ماہ والی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی۔

جواب اِن آیتوں میں قیامت کے آغاز کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ سب سے پہلے سورج کو لپیٹ دیا جائے گا اور اُس کی روشنی ختم ہو جائے گی۔ پھر ستارے بےنور ہو کر بکھر جائیں گے اور آسمان اندھیرا ہو جائے گا۔ اِس کے بعد بڑے بڑے مضبوط پہاڑ اپنی جگہ سے چلا دیے جائیں گے۔ اور جو اونٹنیاں عربوں کا سب سے قیمتی مال سمجھی جاتی تھیں، اُنہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا — کسی کو اُن کی فکر نہ رہے گی۔ سبق یہ ہے کہ اُس دن ساری دنیا کا نظام بدل جائے گا اور جن چیزوں پر ہم فخر کرتے ہیں، اُن کی کوئی قیمت نہیں رہے گی۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ التَّكْوِيْرِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف اور فضیلت

1 تعارف — نام کی وجہ — اس سورت میں قیامت کے دن سورج لپیٹ دیے جانے کے لیے لفظ «كُوِّرَتْ» استعمال ہوا ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ التَّكْوِيْر» ہے۔
2 تعارف — مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 29 آیات ہیں۔
3 فضیلت — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «جو شخص قیامت کو (گویا) اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے، اسے چاہیے کہ سُوْرَةُ التَّكْوِيْر، سُوْرَةُ الْاِنْفِطَار اور سُوْرَةُ الْاِنْشِقَاق کو پڑھ لے۔» (جامع ترمذی: 3333)
جواب مرکزی مضمون — قیامت کے واقع ہونے اور نبی کریم ﷺ کی صداقت کا بیان۔
15 تفصیلی جوابات

إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ لَفِي نَعِيمٖ وَإِنَّ ٱلۡفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٖ يَصۡلَوۡنَهَا يَوۡمَ ٱلدِّينِ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآئِبِينَ (سورۃ الانفطار ۔ آیات 13 تا 16)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک نیک لوگ نعمت (والی جنت) میں ہوں گے۔ اور بے شک بدکار لوگ جہنم میں ہوں گے۔ وہ اس میں بدلے کے دن داخل ہوں گے۔ اور وہ اس (جہنم) سے غائب نہ ہو سکیں گے۔

جواب اِن آیتوں میں قیامت کے دن لوگوں کے دو گروہ بیان کیے گئے ہیں۔ ایک وہ نیک لوگ جو نعمتوں بھری جنت میں ہوں گے، اور دوسرے وہ بدکار جو جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ بدکاروں کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ جزا کے دن اُس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ اُس سے کبھی غائب نہ ہو سکیں گے، یعنی نکلنے یا چھپنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ سبق یہ ہے کہ آج کے اعمال ہی فیصلہ کریں گے کہ ہم کس گروہ میں ہوں گے، اِس لیے ابھی سے نیکی کا راستہ چننا چاہیے۔
16 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْاِنْفِطَارِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

تعارف

1 نام کی وجہ — اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ «اِنْفَطَرَتْ» آیا ہے، جس کے معنی پھٹ جانے کے ہیں؛ اسی مناسبت سے اس کا نام «سُوْرَةُ الْاِنْفِطَار» ہے۔
2 مکی سورت — یہ مکی سورت ہے اور اس میں 19 آیات ہیں۔
جواب مرکزی مضمون — قیامت کے واقع ہونے اور لوگوں کے انجام کا بیان۔
17 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ التَّكْوِيْرِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ التکویر کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 قیامت کے منظر اور ہول ناکی کا بیان۔
2 عرب کے بعض قبائل کا بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی رسمِ بد کا تذکرہ۔
3 قرآنِ مجید اور سیدنا جبریل علیہ السلام کی عظمت کا بیان۔
4 نبی کریم ﷺ سے سیدنا جبریل علیہ السلام کی ملاقات کا بیان۔
5 قرآنِ مجید کی عظمت کا بیان۔
6 قرآنِ مجید سے نصیحت حاصل کرنے کی ترغیب۔
18 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْاِنْفِطَارِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الانفطار کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 انسان کو اپنے رب کے بارے میں دھوکے میں نہ پڑنے کی تنبیہ۔
2 رب کریم کے احسان کا بیان کہ اس نے انسان کو تخلیق فرما کر اسے جسم و جان اور خوب صورت شکل و صورت عطا فرمائی۔
3 انسانوں کے اعمال لکھنے کے لیے فرشتے مقرر فرمانے کا ذکر۔
4 اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور فضل کے باوجود اس کی نافرمانی پر گرفت اور حسابِ کتاب ضرور ہونے کا بیان۔
5 انسان کو قیامت کے دن کی فکر کی تلقین۔
6 قیامت کے دن صرف نیک اعمال کے فائدہ مند ہونے کا ذکر۔
7 ہر فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہونے کا بیان۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

19 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِذَا ٱلشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتۡ وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ وَإِذَا ٱلۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیات 1 تا 14)

قیامت کے حالات پر دس باتیں جمع کریں اور اپنے ہم جماعتوں سے مذاکرہ کریں۔

انھی دونوں سورتوں سے قیامت کے حالات پر دس باتیں درج ذیل ہیں:

1 سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ (التکویر: 1)
2 ستارے بے نور ہو کر جھڑ پڑیں گے۔ (التکویر: 2؛ الانفطار: 2)
3 پہاڑ (اپنی جگہ سے) چلائے جائیں گے۔ (التکویر: 3)
4 دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں (جیسے قیمتی مال) بے کار چھوڑ دی جائیں گی۔ (التکویر: 4)
5 وحشی جانور (خوف سے) جمع کر دیے جائیں گے۔ (التکویر: 5)
6 سمندر بھڑکا دیے جائیں گے / ابل پڑیں گے۔ (التکویر: 6؛ الانفطار: 3)
7 روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی۔ (التکویر: 7)
8 آسمان پھٹ جائے گا اور اس کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ (الانفطار: 1؛ التکویر: 11)
9 اعمال نامے کھول دیے جائیں گے اور قبریں اکھاڑ دی جائیں گی۔ (التکویر: 10؛ الانفطار: 4)
10 جہنم بھڑکائی جائے گی، جنت قریب کر دی جائے گی، اور ہر شخص جان لے گا جو کچھ اس نے آگے بھیجا۔ (التکویر: 12 تا 14)
جواب ہم جماعتوں سے مذاکرے میں یہ نکتہ ضرور اٹھائیں: ان ہول ناک مناظر کے بیان کا مقصد ڈرانا ہی نہیں، اس دن کی تیاری پر آمادہ کرنا ہے۔
20 سرگرمیاں برائے طلبہ

درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ التَّكْوِيْرِ اور سُوْرَةُ الْاِنْفِطَارِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ ایک نصیحت 2۔ شیطان مردود 3۔ آسمان کی کھال 4۔ وحشی جانور 5۔ بے نور ستارے 6۔ معزز لکھنے والے 7۔ بدلے کا دن 8۔ رب کے بارے میں دھوکا 9۔ اُبلتے ہوئے سمندر 10۔ اکھاڑی ہوئی قبریں

1 1۔ ایک نصیحت — «ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ» — (یہ قرآن) تمام جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ (التکویر: 27)
2 2۔ شیطان مردود — «شَيۡطَٰنٖ رَّجِيمٖ» — (یہ قرآن) کسی شیطان مردود کا کلام نہیں۔ (التکویر: 25)
3 3۔ آسمان کی کھال — «ٱلسَّمَآءُ كُشِطَتۡ» — جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ (التکویر: 11)
4 4۔ وحشی جانور — «ٱلۡوُحُوشُ» — جب وحشی جانور جمع کیے جائیں گے۔ (التکویر: 5)
5 5۔ بے نور ستارے — «ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتۡ» — جب ستارے بے نور ہو جائیں گے۔ (التکویر: 2)
6 6۔ معزز لکھنے والے — «كِرَامٗا كَٰتِبِينَ» — بہت معزز (اعمال) لکھنے والے (فرشتے)۔ (الانفطار: 11)
7 7۔ بدلے کا دن — «يَوۡمَ ٱلدِّينِ» — بدلے کا دن۔ (الانفطار: 15، 17، 18)
8 8۔ رب کے بارے میں دھوکا — «مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ٱلۡكَرِيمِ» — تجھے اپنے کریم رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈالا؟ (الانفطار: 6)
9 9۔ اُبلتے ہوئے سمندر — «ٱلۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ» — جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔ (التکویر: 6)
10 10۔ اکھاڑی ہوئی قبریں — «ٱلۡقُبُورُ بُعۡثِرَتۡ» — جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی۔ (الانفطار: 4)
21 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتۡ وَإِذَا ٱلۡكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتۡ وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ وَإِذَا ٱلۡقُبُورُ بُعۡثِرَتۡ عَلِمَتۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ وَأَخَّرَتۡ (سورۃ الانفطار ۔ آیات 1 تا 5)

سُوْرَةُ الْاِنْفِطَارِ کی آیت پانچ کے الفاظ «آگے بھیجا اور (جو کچھ) پیچھے چھوڑا» کی وضاحت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

ترجمہ

جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔ اور جب سمندر ابل پڑیں گے۔ اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی۔ (اس وقت) ہر شخص جان لے گا جو کچھ اس نے آگے بھیجا اور (جو کچھ) پیچھے چھوڑا۔

«آگے بھیجا» سے مراد اور «پیچھے چھوڑا» سے مراد

1 «آگے بھیجا» سے مراد — وہ اعمال — نیک ہوں یا بد — جو انسان نے اپنی زندگی میں خود کر کے اپنے سے پہلے (آخرت میں) بھیج دیے: نمازیں، صدقات، تلاوت، خدمت — یا گناہ اور زیادتیاں۔
2 «پیچھے چھوڑا» سے مراد — وہ اچھے یا برے اثرات جو انسان دنیا میں چھوڑ گیا اور اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہے: صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم، نیک اولاد کی دعا — یا کوئی برا طریقہ جس پر لوگ اس کے بعد چلتے رہے۔
3 «پیچھے چھوڑا» سے مراد — وہ نیکیاں بھی جو انسان کر سکتا تھا مگر (سستی سے) چھوڑ گیا۔
جواب گویا قیامت کے دن انسان کے سامنے اس کا پورا کھاتا ہو گا: جو خود کیا اور جو اثر پیچھے چھوڑا۔ اس وضاحت پر اپنے اساتذہ کرام سے مزید مثالیں معلوم کریں۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

22 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَإِذَا ٱلۡمَوۡءُۥدَةُ سُئِلَتۡ بِأَيِّ ذَنۢبٖ قُتِلَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیات 8 تا 9)

بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے فضائل تحریر کریں۔

زمانۂ جاہلیت میں عرب کے بعض قبائل بیٹیوں کو باعثِ عار سمجھ کر زندہ درگور کر دیتے تھے؛ اسی سبق میں اس رسمِ بد کی شدید مذمت آئی ہے کہ قیامت کے دن اس معصوم سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر قتل کی گئی۔ اسلام نے بیٹیوں کو رحمت قرار دے کر ان سے اچھے سلوک کے بڑے فضائل بیان فرمائے ہیں۔

فرمانِ نبوی ﷺ اور فضائل

1 فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مفہوم): «جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں، جن کی وہ (اچھی) پرورش کرے، ان پر شفقت کرے اور ان کی کفالت کرے تو اس کے لیے یقینی طور پر جنت واجب ہو جائے گی۔» کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کی دو بیٹیاں ہوں؟ فرمایا: «دو کا بھی یہی حکم ہے۔» بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ایک کے متعلق سوال کیا جاتا تو نبی کریم ﷺ یہ فرما دیتے کہ ایک بیٹی کا بھی یہی حکم ہے۔ (مسند احمد: 8425)
2 فضائل — جنت کا وعدہ — بیٹیوں کی اچھی پرورش، شفقت اور کفالت جنت کے واجب ہونے کا سبب ہے۔
3 فضائل — جہنم سے آڑ — حدیث کے مفہوم کے مطابق جو بیٹیوں کی آزمائش میں ان سے اچھا سلوک کرے، یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ (پردہ) بن جائیں گی۔
4 فضائل — نبی کریم ﷺ کی معیت — حدیث کے مفہوم کے مطابق بیٹیوں کی اچھی پرورش کرنے والا قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کے قریب ہو گا۔
5 فضائل — رحمت اور برکت — بیٹی رحمت ہے؛ اس کی پیدائش پر ناگواری جاہلیت کی سوچ ہے۔
6 فضائل — تعلیم و تربیت کا اجر — بیٹیوں کو تعلیم دلانا، ان کی اچھی تربیت کرنا اور ان کے حقوق (وراثت، رائے، عزت) ادا کرنا بڑے اجر کا کام ہے۔
جواب لہٰذا بیٹیوں اور بہنوں سے محبت، ان کی حوصلہ افزائی اور بیٹوں کے برابر ان کا خیال رکھنا ہر مسلمان گھرانے کی پہچان ہونی چاہیے۔
23 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ٱلَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ

قبر کے عذاب اور کشادگی کے بارے میں چند احادیثِ مبارکہ تحریر کریں اور قبر کی تیاری پر پیراگراف لکھیں۔

احادیثِ مبارکہ (مفہوم)

1 نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ اگر کسی نے اس سے نجات پا لی تو بعد کے مرحلے اس کے لیے آسان ہیں، لیکن اگر کسی کو اس سے نجات نہ ملی تو بعد کے مرحلے اس سے بھی زیادہ سخت ہیں۔» پھر فرمایا: «میں نے قبر کے منظر سے زیادہ گھبراہٹ میں مبتلا کرنے والا منظر نہیں دیکھا۔» (جامع ترمذی: 2308)
2 قبر (اعمال کے مطابق) یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ (جامع ترمذی)
3 مومن کے لیے اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے اور جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، جب کہ نافرمان پر قبر تنگ ہو جاتی ہے۔ (مفہومِ حدیث)
4 نبی کریم ﷺ ہر نماز میں عذابِ قبر سے پناہ مانگتے اور امت کو بھی اس کی تعلیم فرمائی۔ (صحیح بخاری و مسلم)
جواب قبر کی تیاری (پیراگراف) — قبر ہر انسان کی پہلی اور یقینی منزل ہے، اس لیے عقل مند وہی ہے جو اس کے لیے پہلے سے تیاری کرے۔ قبر کی اصل تیاری ایمان کی درستی اور نیک اعمال ہیں: فرائض کی پابندی، حرام سے بچنا، حقوق العباد کی ادائیگی اور گناہوں سے سچی توبہ۔ صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم اور اولاد کی نیک تربیت وہ اعمال ہیں جن کا فائدہ قبر میں بھی پہنچتا رہتا ہے۔ روزانہ کچھ دیر موت کو یاد کرنا، جنازوں اور قبرستان کی (مسنون) زیارت کرنا دل کو غفلت سے بچاتا ہے۔ ہمیں ہر نماز میں عذابِ قبر سے پناہ مانگنی چاہیے اور اپنا ہر دن یہ سوچ کر گزارنا چاہیے کہ آج جو کچھ ہم آگے بھیج رہے ہیں، کل وہی ہمارا استقبال کرے گا۔
24 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ا؟ وَإِذَا ٱلۡمَوۡءُۥدَةُ سُئِلَتۡ بِأَيِّ ذَنۢبٖ قُتِلَتۡ

ضمائرِ منفصلہ کی قرآنی مثالیں دیں۔

سبق کی گرامر کے مطابق ضمیر منفصل وہ ضمیر ہے جو اسم یا فعل سے فاصلے پر — یعنی بالکل الگ لفظ کی صورت میں — آتی ہے، جیسے: هُوَ، هِيَ، اَنْتَ، اَنَا، نَحْنُ وغیرہ۔ قرآنی مثالیں درج ذیل ہیں:

1 1۔ هُوَ — «وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ» — «هُوَ» (وہ) واحد مذکر غائب۔ (سورۃ التکویر ۔ آیت 25)
2 2۔ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا — «وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِيْنَ» — «هُمْ» (وہ سب) جمع مذکر غائب۔ (سورۃ الانفطار ۔ آیت 16)
3 3۔ إِنَّنِيٓ أَنَا ٱللَّهُ — «بے شک میں ہی اللہ ہوں» — «اَنَا» (میں) واحد متکلم۔ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 14)
4 4۔ نَّحۡنُ — «نَحْنُ نَرْزُقُكَ» — «نَحْنُ» (ہم) جمع متکلم۔ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 132)
5 5۔ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ — «بے شک تو ہی بہت عطا فرمانے والا ہے» — «اَنْتَ» (تو) واحد مذکر حاضر۔ (سورۃ ص ۔ آیت 35)
جواب ان سب میں ضمیر الگ لفظ کی صورت میں آئی ہے، اس لیے یہ ضمائرِ منفصلہ ہیں۔ (اسم، فعل یا حرف سے جڑی ہوئی ضمائرِ متصلہ کی مثالیں سبق نمبر 10 میں گزر چکی ہیں۔)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.