إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ (سورۃ التکویر ۔ آیت 19)
سُوْرَةُ التَّكْوِيْرِ میں «رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ» سے مراد ہے:
الف) سیدنا میکائیل علیہ السلام • ب) سیدنا جبرائیل علیہ السلام • ج) سیدنا عزرائیل علیہ السلام • د) سیدنا اسرافیل علیہ السلام
ساتویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ (سورۃ التکویر ۔ آیت 19)
سُوْرَةُ التَّكْوِيْرِ میں «رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ» سے مراد ہے:
الف) سیدنا میکائیل علیہ السلام • ب) سیدنا جبرائیل علیہ السلام • ج) سیدنا عزرائیل علیہ السلام • د) سیدنا اسرافیل علیہ السلام
وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیت 2)
«وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ» کی رو سے (قیامت کے دن) تارے:
الف) لپیٹ دیے جائیں گے • ب) گرا دیے جائیں گے • ج) بے نور کیے جائیں گے • د) چھپا دیے جائیں گے
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتۡ (سورۃ الانفطار ۔ آیت 1)
«اِنْفِطَار» کے معنی ہیں:
الف) کھول دینا • ب) پھٹ جانا • ج) لپیٹ دینا • د) توڑ دینا
وَإِذَا ٱلۡكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتۡ (سورۃ الانفطار ۔ آیت 2)
«وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ» — آیت کی رو سے قیامت کے دن جھڑ جائیں گے:
الف) برج • ب) ستارے • ج) گناہ • د) آسمان
وَإِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحَٰفِظِينَ كِرَامٗا كَٰتِبِينَ (سورۃ الانفطار ۔ آیات 10 تا 11)
«كِرَامًا كَاتِبِيْنَ» سے مراد فرشتے ہیں:
الف) روح نکالنے والے • ب) قبر میں سوال کرنے والے • ج) ہر قول و عمل لکھنے والے • د) بارش برسانے والے
وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطَٰنٖ رَّجِيمٖ (سورۃ التکویر ۔ آیت 25)
«وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ» میں «هُوَ» قواعد کی رو سے ہے:
الف) فعل امر • ب) فعل ماضی • ج) ضمیر متصل • د) ضمیر منفصل
وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیت 6)
«وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» — آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن سمندروں کی کیا کیفیت ہو گی؟
اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔
ٱلَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ (سورۃ الانفطار ۔ آیت 7)
«اَلَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَ» — آیتِ کریمہ میں تخلیقِ انسانی کے متعلق کیا بیان کیا گیا ہے؟
جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تجھے درست کیا، پھر تجھے (تیرے اعضا کو) متناسب بنایا۔
آیتِ کریمہ میں رب کریم کے احسان کے تین مرحلے بیان ہوئے ہیں۔
وَإِذَا ٱلۡمَوۡءُۥدَةُ سُئِلَتۡ بِأَيِّ ذَنۢبٖ قُتِلَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیات 8 تا 9)
آیاتِ کریمہ کی رو سے زندہ درگور کی گئی بچی سے بروزِ قیامت کیا سوال ہو گا؟
اور جب زندہ درگور کی ہوئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟
كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ (سورۃ الانفطار ۔ آیت 9)
«كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ» — آیتِ کریمہ میں بدلے کے دن سے کیا مراد ہے؟
ہرگز نہیں (تم نافرمانی نہیں چھوڑتے)! بلکہ تم بدلے (کے دن) کو جھٹلاتے ہو۔
فَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلۡخُنَّسِ ٱلۡجَوَارِ ٱلۡكُنَّسِ وَٱلَّيۡلِ إِذَا عَسۡعَسَ وَٱلصُّبۡحِ إِذَا تَنَفَّسَ (سورۃ التکویر ۔ آیات 15 تا 18)
آیاتِ کریمہ میں کن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے؟
تو میں پیچھے ہٹ جانے والے (ستاروں) کی قسم فرماتا ہوں۔ جو چلنے والے، چھپ جانے والے ہیں۔ اور رات کی قسم جب وہ جانے لگتی ہے۔ اور صبح کی (قسم) جب وہ روشن ہوتی ہے۔
ان آیات میں تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔
إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي ٱلۡعَرۡشِ مَكِينٖ مُّطَاعٖ ثَمَّ أَمِينٖ (سورۃ التکویر ۔ آیات 19 تا 21)
«ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ ۔ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ» — ان آیاتِ کریمہ میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟
بے شک یہ (قرآن) بڑی عزت والے فرشتے کا (لایا ہوا) کلام ہے۔ جو قوت والا ہے، عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ والا ہے۔ جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے، (اور وہ) وہاں امانت دار ہے۔
ان آیات میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی پانچ صفات بیان ہوئی ہیں۔
إِذَا ٱلشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتۡ وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ وَإِذَا ٱلۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیات 1 تا 4)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ اور جب دس ماہ والی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی۔
سُوْرَةُ التَّكْوِيْرِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف اور فضیلت
إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ لَفِي نَعِيمٖ وَإِنَّ ٱلۡفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٖ يَصۡلَوۡنَهَا يَوۡمَ ٱلدِّينِ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآئِبِينَ (سورۃ الانفطار ۔ آیات 13 تا 16)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
بے شک نیک لوگ نعمت (والی جنت) میں ہوں گے۔ اور بے شک بدکار لوگ جہنم میں ہوں گے۔ وہ اس میں بدلے کے دن داخل ہوں گے۔ اور وہ اس (جہنم) سے غائب نہ ہو سکیں گے۔
سُوْرَةُ الْاِنْفِطَارِ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
تعارف
سُوْرَةُ التَّكْوِيْرِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ التکویر کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سُوْرَةُ الْاِنْفِطَارِ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الانفطار کے چند بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
إِذَا ٱلشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتۡ وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ وَإِذَا ٱلۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیات 1 تا 14)
قیامت کے حالات پر دس باتیں جمع کریں اور اپنے ہم جماعتوں سے مذاکرہ کریں۔
انھی دونوں سورتوں سے قیامت کے حالات پر دس باتیں درج ذیل ہیں:
درج ذیل عنوانات پر قرآنی کلمات سُوْرَةُ التَّكْوِيْرِ اور سُوْرَةُ الْاِنْفِطَارِ میں تلاش کر کے تحریر کریں: 1۔ ایک نصیحت 2۔ شیطان مردود 3۔ آسمان کی کھال 4۔ وحشی جانور 5۔ بے نور ستارے 6۔ معزز لکھنے والے 7۔ بدلے کا دن 8۔ رب کے بارے میں دھوکا 9۔ اُبلتے ہوئے سمندر 10۔ اکھاڑی ہوئی قبریں
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتۡ وَإِذَا ٱلۡكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتۡ وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ وَإِذَا ٱلۡقُبُورُ بُعۡثِرَتۡ عَلِمَتۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ وَأَخَّرَتۡ (سورۃ الانفطار ۔ آیات 1 تا 5)
سُوْرَةُ الْاِنْفِطَارِ کی آیت پانچ کے الفاظ «آگے بھیجا اور (جو کچھ) پیچھے چھوڑا» کی وضاحت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔
جب آسمان پھٹ جائے گا۔ اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔ اور جب سمندر ابل پڑیں گے۔ اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی۔ (اس وقت) ہر شخص جان لے گا جو کچھ اس نے آگے بھیجا اور (جو کچھ) پیچھے چھوڑا۔
«آگے بھیجا» سے مراد اور «پیچھے چھوڑا» سے مراد
وَإِذَا ٱلۡمَوۡءُۥدَةُ سُئِلَتۡ بِأَيِّ ذَنۢبٖ قُتِلَتۡ (سورۃ التکویر ۔ آیات 8 تا 9)
بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے فضائل تحریر کریں۔
زمانۂ جاہلیت میں عرب کے بعض قبائل بیٹیوں کو باعثِ عار سمجھ کر زندہ درگور کر دیتے تھے؛ اسی سبق میں اس رسمِ بد کی شدید مذمت آئی ہے کہ قیامت کے دن اس معصوم سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر قتل کی گئی۔ اسلام نے بیٹیوں کو رحمت قرار دے کر ان سے اچھے سلوک کے بڑے فضائل بیان فرمائے ہیں۔
فرمانِ نبوی ﷺ اور فضائل
ٱلَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ
قبر کے عذاب اور کشادگی کے بارے میں چند احادیثِ مبارکہ تحریر کریں اور قبر کی تیاری پر پیراگراف لکھیں۔
احادیثِ مبارکہ (مفہوم)
ا؟ وَإِذَا ٱلۡمَوۡءُۥدَةُ سُئِلَتۡ بِأَيِّ ذَنۢبٖ قُتِلَتۡ
ضمائرِ منفصلہ کی قرآنی مثالیں دیں۔
سبق کی گرامر کے مطابق ضمیر منفصل وہ ضمیر ہے جو اسم یا فعل سے فاصلے پر — یعنی بالکل الگ لفظ کی صورت میں — آتی ہے، جیسے: هُوَ، هِيَ، اَنْتَ، اَنَا، نَحْنُ وغیرہ۔ قرآنی مثالیں درج ذیل ہیں:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔