وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 224)
سورۃ الشعراء کے آخر میں ذکر کیا ہے:
الف) جادوگروں کا • ب) تاجروں کا • ج) شاعروں کا • د) بادشاہوں کا
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 224)
سورۃ الشعراء کے آخر میں ذکر کیا ہے:
الف) جادوگروں کا • ب) تاجروں کا • ج) شاعروں کا • د) بادشاہوں کا
إِلَّا عَجُوزٗا فِي ٱلۡغَٰبِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 171)
«اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ» میں «عَجُوْزًا» عربی گرامر کے لحاظ سے ہے:
الف) ضمیر • ب) اسم • ج) فعل • د) حرف
۞أَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُخۡسِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 181)
«الْكَیْلَ» کا معنی ہے:
الف) قیمت • ب) ناپ تول • ج) مقدار • د) ترازو
نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلۡأَمِينُ عَلَىٰ قَلۡبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 193 اور 194)
آیتِ کریمہ کے مطابق حضرت جبرائیل علیہ السلام قرآنِ مجید لے کر اترے:
الف) بیت المقدس میں • ب) بیت المعمور میں • ج) قلبِ رسول ﷺ پر • د) وادیِ طویٰ میں
وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 224)
«وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ» ۔ آیت کے مطابق جھوٹے شاعروں کی پیروی کرنے والے ہوتے ہیں:
الف) غریب • ب) گم راہ • ج) امیر • د) عقل مند
فَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ إِلَّا عَجُوزٗا فِي ٱلۡغَٰبِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 170 اور 171)
آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم پر آنے والے عذاب سے کون محفوظ رہا؟
تو ہم نے انہیں اور ان کے سب گھر والوں کو نجات عطا فرمائی، سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔
عذاب سے حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے تمام گھر والے محفوظ رہے، سوائے ان کی اس بوڑھی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھی۔
اہم نکات
۞أَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُخۡسِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 181)
آیتِ کریمہ میں سیدنا شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو کیا حکم فرمایا؟
ناپ پورا پورا کرو اور نقصان پہنچانے والوں میں سے نہ بنو۔
حکم کے اجزا
فَأَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 187)
آیتِ کریمہ میں قوم نے سیدنا شعیب علیہ السلام سے کیا مطالبہ کیا؟
پس ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا گرا دو، اگر تم سچوں میں سے ہو۔
قوم نے مطالبہ کیا کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔
اہم نکات
وَأَنذِرۡ عَشِيرَتَكَ ٱلۡأَقۡرَبِينَ وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 214 اور 215)
آیتِ کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کو کیا تلقین فرمائی گئی ہے؟
اور اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈرائیے۔ اور ایمان والوں میں سے جو آپ کی پیروی کریں، ان کے لیے اپنا بازو (رحمت کا) جھکائیے۔
دو تلقینیں اور آگے کی ہدایات
تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 222)
آیتِ کریمہ میں کیسے لوگوں پر شیطان کے اترنے کا بیان ہے؟
وہ ہر بڑے جھوٹے، سخت گناہ گار پر اترتے ہیں۔
شیاطین ہر اُس شخص پر اترتے ہیں جو بہت بڑا جھوٹا اور سخت گناہ گار ہو۔
دو صفات
وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 183)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو، اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔
مفہوم اور اہم نکات
وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ أَلَمۡ تَرَ أَنَّهُمۡ فِي كُلِّ وَادٖ يَهِيمُونَ وَأَنَّهُمۡ يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 224 تا 226)
آیاتِ کریمہ میں شاعروں کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟
اور شاعروں کی پیروی گم راہ لوگ ہی کرتے ہیں۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں؟ اور وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔
برے شعرا کی تین کمزوریاں اور اچھے شعرا کا استثنا (آیت 227)
وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلۡأَمِينُ عَلَىٰ قَلۡبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ بِلِسَانٍ عَرَبِيّٖ مُّبِينٖ وَإِنَّهُۥ لَفِي زُبُرِ ٱلۡأَوَّلِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 192 تا 196)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
ترجمہ اور اہم نکات
وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ أَلَمۡ تَرَ أَنَّهُمۡ فِي كُلِّ وَادٖ يَهِيمُونَ وَأَنَّهُمۡ يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ
اسم، فعل اور حرف کی دو دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔
کلمہ کی تین اقسام ہیں: اسم، فعل اور حرف۔ اس سبق میں سے ان کی مثالیں درج ذیل ہیں:
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَذَكَرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱنتَصَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَيَّ مُنقَلَبٖ يَنقَلِبُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 227)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی تین شعرا کے نام اور آپ ﷺ کی شان میں ان کے دو دو نعتیہ اشعار تلاش کر کے لکھیں۔
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اللہ کو بکثرت یاد کیا اور ظلم کیے جانے کے بعد بدلہ لیا۔ اور عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس پلٹنے کی جگہ کی طرف پلٹتے ہیں۔
یہی وہ استثنا ہے جس کے تحت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے شعرا آتے ہیں۔ ان میں سے تین مشہور ترین نام یہ ہیں:
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 161 تا 169)
سیدنا لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس پر مذاکرہ کریں۔
یہ مکالمہ آیات 161 تا 169 میں بیان ہوا ہے۔ مکالمے کی صورت میں یوں ہے:
تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 222)
شیطان کے وسوسوں اور حملوں سے بچاؤ کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں چند باتیں تحریر کریں۔
قرآن و حدیث میں شیطان کے وسوسوں اور حملوں سے بچاؤ کے متعدد ذرائع بیان ہوئے ہیں:
ا؟ ۞أَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُخۡسِرِينَ
سیدنا لوط علیہ السلام اور سیدنا شعیب علیہ السلام کے واقعات مختصراً بیان کریں۔
اس سبق (آیات 160 تا 191) میں ان دونوں انبیائے کرام علیہما السلام کے واقعات درج ذیل ہیں:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔