چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 9: سبق 9: سورۃ الشعراء (آیات: 160 تا 227) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 224)

سورۃ الشعراء کے آخر میں ذکر کیا ہے:

الف) جادوگروں کا • ب) تاجروں کا • ج) شاعروں کا • د) بادشاہوں کا

جواب ج) شاعروں کا — سورت کے آخری چار آیات میں برے اور اچھے شعرا کی صفات بیان ہوئی ہیں، اور اسی مناسبت سے سورت کا نام «الشعراء» رکھا گیا۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

إِلَّا عَجُوزٗا فِي ٱلۡغَٰبِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 171)

«اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ» میں «عَجُوْزًا» عربی گرامر کے لحاظ سے ہے:

الف) ضمیر • ب) اسم • ج) فعل • د) حرف

جواب ب) اسم — «عَجُوْز» بڑھیا کو کہتے ہیں، یعنی یہ ایک ذات کا نام ہے۔ اس کے آخر میں تنوین (دو زبر) بھی ہے، جو اسم ہونے کی علامت ہے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

۞أَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُخۡسِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 181)

«الْكَیْلَ» کا معنی ہے:

الف) قیمت • ب) ناپ تول • ج) مقدار • د) ترازو

جواب ب) ناپ تول — حضرت شعیب علیہ السلام نے اہلِ ایکہ کو حکم دیا کہ ناپ پورا پورا دو اور نقصان پہنچانے والوں میں سے نہ بنو۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلۡأَمِينُ عَلَىٰ قَلۡبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 193 اور 194)

آیتِ کریمہ کے مطابق حضرت جبرائیل علیہ السلام قرآنِ مجید لے کر اترے:

الف) بیت المقدس میں • ب) بیت المعمور میں • ج) قلبِ رسول ﷺ پر • د) وادیِ طویٰ میں

جواب ج) قلبِ رسول ﷺ پر — «اَلرُّوْحُ الْاَمِیْن» سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں، جو قرآنِ مجید لے کر نبی کریم ﷺ کے قلبِ مبارک پر اترے تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوں۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 224)

«وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ» ۔ آیت کے مطابق جھوٹے شاعروں کی پیروی کرنے والے ہوتے ہیں:

الف) غریب • ب) گم راہ • ج) امیر • د) عقل مند

جواب ب) گم راہ — «اَلْغَاوٗنَ» کے معنی گم راہ لوگوں کے ہیں، یعنی جو حق کا راستہ چھوڑ کر بھٹک چکے ہوں۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

فَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ إِلَّا عَجُوزٗا فِي ٱلۡغَٰبِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 170 اور 171)

آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم پر آنے والے عذاب سے کون محفوظ رہا؟

ترجمہ

تو ہم نے انہیں اور ان کے سب گھر والوں کو نجات عطا فرمائی، سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔

عذاب سے حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے تمام گھر والے محفوظ رہے، سوائے ان کی اس بوڑھی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھی۔

اہم نکات

1 نجات پانے والے — حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے اہلِ خانہ، یعنی ایمان لانے والے۔
2 مستثنیٰ ہستی — ایک بوڑھی عورت (ان کی بیوی) جو قوم کے ساتھ ہی رہ گئی۔
3 سبب — نجات کا معیار رشتہ داری نہیں بلکہ ایمان ہے؛ نبی کی بیوی ہونا بھی کام نہ آیا۔
4 باقی قوم کا انجام — بقیہ لوگوں کو تباہ کر دیا گیا اور ان پر (پتھروں کی) شدید بارش برسائی گئی، جو ڈرائے جانے والوں کے لیے بہت بری بارش تھی۔
7 مختصر جوابات

۞أَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُخۡسِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 181)

آیتِ کریمہ میں سیدنا شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو کیا حکم فرمایا؟

ترجمہ

ناپ پورا پورا کرو اور نقصان پہنچانے والوں میں سے نہ بنو۔

حکم کے اجزا

1 ناپ پورا کرنا — خرید و فروخت میں پیمانہ پورا دیا جائے، کمی نہ کی جائے۔
2 نقصان دہی سے بچنا — کسی کا حق مار کر اسے خسارے میں مبتلا نہ کیا جائے۔
3 سیدھی ترازو — اگلی آیت میں فرمایا کہ درست اور سیدھی ترازو سے وزن کرو۔
4 لوگوں کا حق — اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔
5 فساد کی ممانعت — اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔
جواب اسی سے معلوم ہوا کہ دیانت دارانہ تجارت بھی دین کا حصہ ہے، محض عبادات ہی دین نہیں۔
8 مختصر جوابات

فَأَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 187)

آیتِ کریمہ میں قوم نے سیدنا شعیب علیہ السلام سے کیا مطالبہ کیا؟

ترجمہ

پس ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا گرا دو، اگر تم سچوں میں سے ہو۔

قوم نے مطالبہ کیا کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔

اہم نکات

1 مطالبے کی نوعیت — یہ ہدایت کی طلب نہیں بلکہ تمسخر اور ضد کے طور پر عذاب کا مطالبہ تھا۔
2 پہلے کے الزامات — انہوں نے کہا تھا کہ تم پر تو جادو کیا گیا ہے، تم ہمارے ہی جیسے بشر ہو، اور ہم تمھیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔
3 شعیب علیہ السلام کا جواب — انہوں نے فرمایا: میرا رب خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
4 انجام — انہیں «یَوْمِ الظُّلَّةِ» یعنی سائبان والے دن کے عذاب نے آ پکڑا، جو ایک بہت بڑے دن کا عذاب تھا۔
9 مختصر جوابات

وَأَنذِرۡ عَشِيرَتَكَ ٱلۡأَقۡرَبِينَ وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 214 اور 215)

آیتِ کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کو کیا تلقین فرمائی گئی ہے؟

ترجمہ

اور اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈرائیے۔ اور ایمان والوں میں سے جو آپ کی پیروی کریں، ان کے لیے اپنا بازو (رحمت کا) جھکائیے۔

دو تلقینیں اور آگے کی ہدایات

1 دو تلقینیں — اِنْذَارِ عشیرہ — دعوت کا آغاز اپنے قریبی رشتے داروں سے کیا جائے اور انہیں انجام سے خبردار کیا جائے۔
2 دو تلقینیں — خفضِ جناح — ایمان لانے والوں کے ساتھ نرمی، شفقت اور تواضع کا برتاؤ کیا جائے۔
3 آگے کی ہدایات — نافرمانی کی صورت میں — اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو فرما دیجیے کہ میں تمھارے اعمال سے بیزار ہوں۔
4 آگے کی ہدایات — توکل — اور اس عزیز و رحیم پر بھروسہ کیجیے جو آپ کو دیکھتا ہے جب آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہوتے ہیں۔
5 آگے کی ہدایات — تاریخی پہلو — اسی حکم کی تعمیل میں نبی کریم ﷺ نے کوہِ صفا پر چڑھ کر قریش کے خاندانوں کو جمع کر کے کھلی دعوت دی۔
10 مختصر جوابات

تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 222)

آیتِ کریمہ میں کیسے لوگوں پر شیطان کے اترنے کا بیان ہے؟

ترجمہ

وہ ہر بڑے جھوٹے، سخت گناہ گار پر اترتے ہیں۔

شیاطین ہر اُس شخص پر اترتے ہیں جو بہت بڑا جھوٹا اور سخت گناہ گار ہو۔

دو صفات

1 اَفَّاكٍ (بہت بڑا جھوٹا) — جو جھوٹ گھڑنے اور بہتان باندھنے کا عادی ہو۔
2 اَثِیْمٍ (سخت گناہ گار) — جو گناہوں میں ڈوبا ہوا اور نافرمانی پر جما ہوا ہو۔
جواب پس منظر — اس سے پہلے فرمایا گیا: کیا میں تمھیں بتاؤں کہ شیطان کن پر اترتے ہیں؟ اور اس کے بعد فرمایا کہ وہ (چوری چھپے) سنی ہوئی بات ڈال دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ ان مشرکین کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ پر بھی (معاذ اللہ) شیطان اترتا ہے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 183)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو، اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔

مفہوم اور اہم نکات

1 بَخْس کی ممانعت — کسی کا حق گھٹا کر دینا، چاہے وہ مال ہو، اجرت ہو یا کوئی خدمت — سب اس میں شامل ہے۔
2 فسادِ فی الارض — زمین میں بگاڑ پھیلانا، امن و انصاف کے نظام کو خراب کرنا۔
3 پس منظر — اہلِ ایکہ ناپ تول میں کمی کرنے اور لوگوں کا حق مارنے میں مشہور تھے۔
4 معاشی دیانت — یہ آیت بتاتی ہے کہ ایمان کا تقاضا صرف عبادت نہیں بلکہ لین دین میں دیانت داری بھی ہے۔
5 اگلی آیت — اور اس اللہ سے ڈرو جس نے تمھیں اور پچھلی مخلوق کو پیدا فرمایا۔
12 تفصیلی جوابات

وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ أَلَمۡ تَرَ أَنَّهُمۡ فِي كُلِّ وَادٖ يَهِيمُونَ وَأَنَّهُمۡ يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 224 تا 226)

آیاتِ کریمہ میں شاعروں کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

اور شاعروں کی پیروی گم راہ لوگ ہی کرتے ہیں۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں؟ اور وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔

برے شعرا کی تین کمزوریاں اور اچھے شعرا کا استثنا (آیت 227)

1 برے شعرا کی تین کمزوریاں — پیروکاروں کا معیار — ان کے پیچھے چلنے والے گم راہ لوگ ہوتے ہیں، اہلِ ہدایت نہیں۔
2 برے شعرا کی تین کمزوریاں — ہر وادی میں بھٹکنا — وہ خیالوں کی ہر وادی میں بے مقصد گھومتے ہیں — کبھی مدح، کبھی ہجو، کبھی مبالغہ — کسی ایک اصول پر قائم نہیں رہتے۔
3 برے شعرا کی تین کمزوریاں — قول و فعل کا تضاد — وہ وہ باتیں کہتے ہیں جن پر خود عمل نہیں کرتے۔
4 اچھے شعرا کا استثنا (آیت 227) — ایمان — جو اللہ پر ایمان لائے۔
5 اچھے شعرا کا استثنا (آیت 227) — عملِ صالح — اور نیک عمل کیے۔
6 اچھے شعرا کا استثنا (آیت 227) — کثرتِ ذکر — اور اللہ کو بکثرت یاد کیا۔
7 اچھے شعرا کا استثنا (آیت 227) — مظلومیت کے بعد دفاع — اور ظلم کیے جانے کے بعد (اپنے کلام سے) بدلہ لیا، یعنی حق اور اہلِ ایمان کا دفاع کیا۔
جواب نتیجہ — معلوم ہوا کہ شعر کہنا بذاتِ خود برا نہیں؛ برا وہ کلام ہے جو جھوٹ، بے حیائی اور قول و فعل کے تضاد پر مبنی ہو۔ اسی لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے شعرا موجود تھے جو اپنے کلام سے اسلام اور نبی کریم ﷺ کا دفاع کرتے تھے۔ آیت کا اختتام اس تنبیہ پر ہوا کہ ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کس پلٹنے کی جگہ کی طرف پلٹتے ہیں۔
13 تفصیلی جوابات

وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلۡأَمِينُ عَلَىٰ قَلۡبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ بِلِسَانٍ عَرَبِيّٖ مُّبِينٖ وَإِنَّهُۥ لَفِي زُبُرِ ٱلۡأَوَّلِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 192 تا 196)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ اور اہم نکات

1 ترجمہ — وَاِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ — اور بے شک یہ (قرآن) تمام جہانوں کے رب کا نازل کیا ہوا ہے۔
2 ترجمہ — نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ — اسے امانت دار فرشتہ (جبرائیل علیہ السلام) لے کر نازل ہوا ہے۔
3 ترجمہ — عَلٰی قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ — آپ کے قلبِ مبارک پر، تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہو جائیں۔
4 ترجمہ — بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ — واضح عربی زبان میں۔
5 ترجمہ — وَاِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ — اور بے شک اس (قرآن) کا ذکر پہلی کتابوں میں بھی موجود ہے۔
6 اہم نکات — منبع — قرآن رب العالمین کی نازل کردہ کتاب ہے، کسی انسان کا کلام نہیں۔
7 اہم نکات — واسطہ — اسے «الرُّوْحُ الْاَمِیْن» یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام لے کر آئے، جو امانت دار ہیں — لہٰذا اس میں کمی بیشی کا سوال ہی نہیں۔
8 اہم نکات — محلِ نزول — یہ نبی کریم ﷺ کے قلبِ مبارک پر اترا۔
9 اہم نکات — مقصد — تاکہ آپ ﷺ ڈرانے والوں میں سے ہوں۔
10 اہم نکات — زبان — واضح عربی زبان میں، تاکہ مخاطبین کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔
11 اہم نکات — پہلی کتابوں کی گواہی — اس کا ذکر پچھلے صحیفوں میں بھی موجود ہے، اور بنی اسرائیل کے علما اسے جانتے ہیں۔
14 تفصیلی جوابات

وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ أَلَمۡ تَرَ أَنَّهُمۡ فِي كُلِّ وَادٖ يَهِيمُونَ وَأَنَّهُمۡ يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ

اسم، فعل اور حرف کی دو دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔

کلمہ کی تین اقسام ہیں: اسم، فعل اور حرف۔ اس سبق میں سے ان کی مثالیں درج ذیل ہیں:

1 1۔ اسم — تعریف — کسی شخص، چیز یا جگہ کے نام کو اسم کہا جاتا ہے؛ اس کے آخر میں تنوین یا شروع میں «ال» آ سکتا ہے۔
2 1۔ اسم — سبق میں سے — «عَجُوْزًا» (آیت 171) اور «رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ» (آیت 162) — نیز «الْكَیْلَ» (آیت 181)، «الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ» (آیت 193) اور «الشُّعَرَآءُ» (آیت 224)
3 2۔ فعل — تعریف — وہ کلمہ جس سے کسی کام کا ہونا یا کرنا بیان ہو اور اس میں کوئی زمانہ پایا جائے۔
4 2۔ فعل — سبق میں سے — «كَذَّبَتْ» (آیت 160 — ماضی) اور «یَتَّبِعُهُمُ» (آیت 224 — مضارع) — نیز «نَزَلَ» (آیت 193)، «فَنَجَّیْنٰهُ» (آیت 170) اور «تَنَزَّلُ» (آیت 222)
5 3۔ حرف — تعریف — وہ کلمہ جو اکیلا اپنا معنی مکمل نہیں کرتا اور الفاظ کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔
6 3۔ حرف — سبق میں سے — «مِنَ» (آیت 165 — مِنَ الْعٰلَمِیْنَ) اور «عَلٰی» (آیت 194 — عَلٰی قَلْبِكَ) — نیز «فِیْ» (آیت 171)، «اِلَّا» (آیت 171) اور «بِ» (آیت 193 — نَزَلَ بِهٖ)

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَذَكَرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱنتَصَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَيَّ مُنقَلَبٖ يَنقَلِبُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 227)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی تین شعرا کے نام اور آپ ﷺ کی شان میں ان کے دو دو نعتیہ اشعار تلاش کر کے لکھیں۔

ترجمہ

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اللہ کو بکثرت یاد کیا اور ظلم کیے جانے کے بعد بدلہ لیا۔ اور عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس پلٹنے کی جگہ کی طرف پلٹتے ہیں۔

یہی وہ استثنا ہے جس کے تحت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے شعرا آتے ہیں۔ ان میں سے تین مشہور ترین نام یہ ہیں:

1 1۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ — لقب — شاعرِ رسول ﷺ۔
2 1۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ — خصوصیت — نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے مسجدِ نبوی میں منبر رکھوایا اور ان کے حق میں دعا فرمائی؛ آپ ﷺ نے فرمایا کہ روح القدس ان کی تائید کرتے ہیں۔
3 1۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ — کارنامہ — انہوں نے مشرکینِ قریش کی ہجو کا جواب اپنے کلام سے دیا اور اسلام کا دفاع کیا۔
4 1۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ — مشہور کلام — آپ ﷺ کی شان میں ان کے قصائد «دیوانِ حسان بن ثابت» میں محفوظ ہیں۔
5 2۔ حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ — پس منظر — پہلے اسلام کے مخالف تھے، پھر مسلمان ہو کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے۔
6 2۔ حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ — مشہور قصیدہ — «بَانَتْ سُعَادُ» — یہی وہ قصیدہ ہے جسے سن کر نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنی چادرِ مبارک عطا فرمائی۔
7 2۔ حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ — لقب — اسی چادر کی نسبت سے یہ قصیدہ «قصیدۂ بردہ» کہلاتا ہے۔
8 3۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ — حیثیت — انصار کے مشہور شاعر اور غزوۂ موتہ کے شہید۔
9 3۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ — خصوصیت — ان کے اشعار میں جہاد، شوقِ شہادت اور محبتِ رسول ﷺ کا رنگ نمایاں ہے۔
10 3۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ — واقعہ — عمرۃ القضا کے موقع پر انہوں نے آپ ﷺ کی موجودگی میں مکہ میں اشعار پڑھے۔
جواب طریقۂ کار — نوٹ: اس سرگرمی کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ خود تلاش کر کے اشعار لکھیں۔ مذکورہ بالا تینوں شعرا کے دو دو نعتیہ اشعار «دیوانِ حسان»، «قصیدہ بانت سعاد» اور کتبِ سیرت سے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اشعار لکھتے وقت عربی متن کے ساتھ اردو ترجمہ بھی درج کیجیے۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 161 تا 169)

سیدنا لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس پر مذاکرہ کریں۔

یہ مکالمہ آیات 161 تا 169 میں بیان ہوا ہے۔ مکالمے کی صورت میں یوں ہے:

1 مکالمہ — لوط علیہ السلام — کیا تم (اللہ کی نافرمانی سے) نہیں ڈرتے؟ بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا؛ میرا اجر تو صرف رب العالمین کے ذمے ہے۔
2 مکالمہ — لوط علیہ السلام (اصل جرم پر گرفت) — کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے پاس آتے ہو، اور اپنی بیویوں کو چھوڑ دیتے ہو جنہیں تمھارے رب نے تمھارے لیے پیدا فرمایا؟ بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔
3 مکالمہ — قوم — اے لوط! اگر تم باز نہ آئے تو ضرور تم (بستی سے) نکال دیے جاؤ گے۔
4 مکالمہ — لوط علیہ السلام — بے شک میں تمھارے اس عمل سے سخت نفرت کرنے والا ہوں۔
5 مکالمہ — لوط علیہ السلام (دعا) — اے میرے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے اس عمل (کے وبال) سے نجات عطا فرما۔
6 انجام — اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی، سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو پیچھے رہ گئی۔ پھر باقی لوگوں کو تباہ کر دیا گیا اور ان پر شدید بارش برسائی گئی۔
7 مذاکرے کے لیے نکات — دعوت کا یکساں آغاز — ہر نبی کی طرح انہوں نے بھی تقویٰ، امانت داری اور بے غرضی کے اعلان سے بات شروع کی۔
8 مذاکرے کے لیے نکات — برائی کی صاف نشان دہی — انہوں نے قوم کے مخصوص جرم کو بغیر کسی لگی لپٹی کے بیان کیا۔
9 مذاکرے کے لیے نکات — فطرت کی دلیل — انہوں نے یاد دلایا کہ اللہ نے تمھارے لیے بیویاں پیدا فرمائی ہیں — یعنی یہ عمل فطرت کے خلاف ہے۔
10 مذاکرے کے لیے نکات — باطل کا ہتھیار — دلیل نہ ہونے پر قوم نے شہر بدر کرنے کی دھمکی دی۔
11 مذاکرے کے لیے نکات — نفرت عمل سے — «اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَ» — نفرت برائی سے ہے، اور نبی کا ردِ عمل جذباتی نہیں بلکہ اصولی تھا۔
12 مذاکرے کے لیے نکات — آخری سہارا — انہوں نے معاملہ دعا کے ذریعے اللہ کے سپرد کر دیا۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

17 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 222)

شیطان کے وسوسوں اور حملوں سے بچاؤ کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں چند باتیں تحریر کریں۔

قرآن و حدیث میں شیطان کے وسوسوں اور حملوں سے بچاؤ کے متعدد ذرائع بیان ہوئے ہیں:

1 قرآنِ مجید کی روشنی میں — تعوذ (اللہ کی پناہ مانگنا) — سورۃ الأعراف میں ارشاد ہوا
2 قرآنِ مجید کی روشنی میں — وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ نَزۡغٞ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِ (اور اگر تمھیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لو) — سورۃ الأعراف: 200
3 قرآنِ مجید کی روشنی میں — تلاوت سے پہلے پناہ — سورۃ النحل میں حکم دیا گیا
4 قرآنِ مجید کی روشنی میں — فَإِذَا قَرَأۡتَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ (پس جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطانِ مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیجیے) — سورۃ النحل: 98
5 قرآنِ مجید کی روشنی میں — اہلِ ایمان پر شیطان کا زور نہیں — سورۃ النحل ہی میں ارشاد ہے
6 قرآنِ مجید کی روشنی میں — إِنَّهُۥ لَيۡسَ لَهُۥ سُلۡطَٰنٌ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ (بے شک اس کا ان لوگوں پر کوئی زور نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں) — سورۃ النحل: 99
7 قرآنِ مجید کی روشنی میں — تقویٰ اور یادِ الٰہی — سورۃ الأعراف میں فرمایا گیا
8 قرآنِ مجید کی روشنی میں — إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ إِذَا مَسَّهُمۡ طَـٰٓئِفٞ مِّنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبۡصِرُونَ (بے شک جو لوگ پرہیزگار ہیں، جب انہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ چھو جاتا ہے تو وہ (اللہ کو) یاد کرتے ہیں، پس اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں) — سورۃ الأعراف: 201
9 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں — آیت الکرسی — رات کو سوتے وقت آیت الکرسی پڑھنے والے کی اللہ کی طرف سے حفاظت کی جاتی ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں آتا۔ (صحیح بخاری)
10 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں — سورۃ البقرہ کی آخری آیات — جو رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے، وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔ (صحیح بخاری و مسلم)
11 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں — معوذتین — سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پناہ مانگنے کے لیے نازل ہوئیں اور نبی کریم ﷺ ان کے ذریعے پناہ طلب فرماتے تھے۔
12 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں — گھر میں داخلے اور کھانے کی بسم اللہ — بسم اللہ کے ساتھ گھر میں داخل ہونے اور کھانا کھانے سے شیطان کو ٹھکانا اور شریکِ طعام ہونے کا موقع نہیں ملتا۔ (صحیح مسلم)
13 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں — غصے کے وقت تعوذ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ غصے کی حالت میں «اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ» پڑھنے سے غصہ دور ہو جاتا ہے۔ (متفق علیہ)
14 عملی احتیاطیں — نماز کی پابندی — باجماعت نماز اور اذکار شیطان سے بچاؤ کی سب سے مضبوط ڈھال ہیں۔
15 عملی احتیاطیں — نیک صحبت — اچھے ساتھیوں کا انتخاب، کیوں کہ تنہائی اور بری صحبت وسوسوں کو تقویت دیتی ہیں۔
16 عملی احتیاطیں — گناہ کے مواقع سے دوری — شیطان انہی راستوں سے داخل ہوتا ہے جو ہم خود کھلے چھوڑ دیتے ہیں۔
17 عملی احتیاطیں — وسوسے پر عمل نہ کرنا — محض وسوسہ آنا گناہ نہیں؛ اسے دل میں جگہ دینا اور اس پر عمل کرنا نقصان دہ ہے۔
18 عملی احتیاطیں — فوری توبہ — لغزش ہو جائے تو فوراً استغفار کر لیا جائے۔
18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ا؟ ۞أَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُخۡسِرِينَ

سیدنا لوط علیہ السلام اور سیدنا شعیب علیہ السلام کے واقعات مختصراً بیان کریں۔

اس سبق (آیات 160 تا 191) میں ان دونوں انبیائے کرام علیہما السلام کے واقعات درج ذیل ہیں:

1 1۔ سیدنا لوط علیہ السلام (آیات 160 تا 175) — تکذیب — قومِ لوط نے رسولوں کو جھٹلایا۔
2 1۔ سیدنا لوط علیہ السلام (آیات 160 تا 175) — دعوت — انہوں نے فرمایا: کیا تم نہیں ڈرتے؟ میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں؛ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، اور میں کوئی اجر نہیں مانگتا۔
3 1۔ سیدنا لوط علیہ السلام (آیات 160 تا 175) — اصل جرم پر گرفت — کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے پاس آتے ہو اور اپنی بیویوں کو چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔
4 1۔ سیدنا لوط علیہ السلام (آیات 160 تا 175) — دھمکی — قوم نے کہا: اے لوط! اگر باز نہ آئے تو بستی سے نکال دیے جاؤ گے۔
5 1۔ سیدنا لوط علیہ السلام (آیات 160 تا 175) — اعلانِ نفرت — انہوں نے فرمایا: میں تمھارے اس عمل سے سخت نفرت کرنے والا ہوں۔
6 1۔ سیدنا لوط علیہ السلام (آیات 160 تا 175) — دعا — اے میرے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے اس عمل سے نجات دے۔
7 1۔ سیدنا لوط علیہ السلام (آیات 160 تا 175) — نجات اور ہلاکت — انہیں اور ان کے سب گھر والوں کو نجات ملی، سوائے ایک بوڑھی عورت کے؛ باقی قوم تباہ کر دی گئی اور ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی گئی۔
8 2۔ سیدنا شعیب علیہ السلام (آیات 176 تا 191) — مخاطب قوم — اصحابِ ایکہ (گھنے درختوں والی بستی کے لوگ) نے رسولوں کو جھٹلایا۔
9 2۔ سیدنا شعیب علیہ السلام (آیات 176 تا 191) — دعوت — انہوں نے فرمایا: کیا تم نہیں ڈرتے؟ میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں؛ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، اور میں کوئی اجر نہیں مانگتا۔
10 2۔ سیدنا شعیب علیہ السلام (آیات 176 تا 191) — معاشی اصلاح — ناپ پورا کرو، نقصان دینے والوں میں سے نہ بنو، سیدھی ترازو سے وزن کرو، لوگوں کی چیزیں کم کر کے نہ دو، اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔
11 2۔ سیدنا شعیب علیہ السلام (آیات 176 تا 191) — تقویٰ کی دعوت — اور اس اللہ سے ڈرو جس نے تمھیں اور پچھلی مخلوق کو پیدا فرمایا۔
12 2۔ سیدنا شعیب علیہ السلام (آیات 176 تا 191) — قوم کے الزامات — انہوں نے کہا: تم پر جادو کیا گیا ہے، تم ہمارے ہی جیسے بشر ہو، اور ہم تمھیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔
13 2۔ سیدنا شعیب علیہ السلام (آیات 176 تا 191) — عذاب کا مطالبہ — اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔
14 2۔ سیدنا شعیب علیہ السلام (آیات 176 تا 191) — پُر سکون جواب — انہوں نے فرمایا: میرا رب خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
15 2۔ سیدنا شعیب علیہ السلام (آیات 176 تا 191) — انجام — انہیں «یَوْمِ الظُّلَّةِ» یعنی سائبان والے دن کے عذاب نے آ پکڑا، جو ایک بہت بڑے دن کا عذاب تھا۔
16 دونوں واقعات کے مشترک نکات — دونوں نے ایک ہی الفاظ میں تقویٰ، اطاعت اور بے غرضی کی دعوت دی
17 دونوں واقعات کے مشترک نکات — دونوں نے قوم کے مخصوص بگاڑ پر براہِ راست گرفت کی — ایک نے اخلاقی، دوسرے نے معاشی
18 دونوں واقعات کے مشترک نکات — دونوں قوموں نے دلیل کے بجائے دھمکی اور تمسخر کا راستہ اختیار کیا
19 دونوں واقعات کے مشترک نکات — دونوں قصے اسی جملے پر ختم ہوئے: اس میں نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.