إِلَّا مَنۡ خَطِفَ ٱلۡخَطۡفَةَ فَأَتۡبَعَهُۥ شِهَابٞ ثَاقِبٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 10)
«شِهَابٌ ثَاقِبٌ» کا معنی ہے:
الف) خوب صورت چاند • ب) چمکتا ستارہ • ج) دھکتا ہوا شعلہ • د) بجھتا ہوا انگارہ
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
إِلَّا مَنۡ خَطِفَ ٱلۡخَطۡفَةَ فَأَتۡبَعَهُۥ شِهَابٞ ثَاقِبٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 10)
«شِهَابٌ ثَاقِبٌ» کا معنی ہے:
الف) خوب صورت چاند • ب) چمکتا ستارہ • ج) دھکتا ہوا شعلہ • د) بجھتا ہوا انگارہ
كَأَنَّهُنَّ بَيۡضٞ مَّكۡنُونٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 49)
«كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ» میں تشبیہ دی گئی ہے چھپا کر رکھے ہوئے:
الف) انڈوں سے • ب) خزانوں سے • ج) جواہرات سے • د) قیمتی پتھروں سے
قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 51)
«قَرِیْنٌ» کا معنی ہے:
الف) ہمسایہ • ب) ساتھی • ج) ہم سفر • د) عزیز
سورۃ الصّٰفّٰت میں انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا ذکر ہے:
الف) چھے • ب) سات • ج) آٹھ • د) نو
وَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلۡكَرۡبِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 76)
«وَنَجَّیْنٰهُ وَاَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ» میں «الْكَرْب» عربی قواعد کی رو سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر
إِنَّا زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِزِينَةٍ ٱلۡكَوَاكِبِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 6)
آیتِ کریمہ کے مطابق آسمانِ دنیا کو کس چیز سے سجایا گیا ہے؟
بے شک ہم ہی نے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زینت سے سجایا ہے۔
آسمانِ دنیا کو ستاروں (الْكَوَاكِب) کی زینت سے سجایا گیا ہے۔
اہم نکات
إِنَّهُمۡ كَانُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَهُمۡ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ يَسۡتَكۡبِرُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 35)
آیتِ کریمہ کے مطابق مجرم لوگوں کا دعوتِ توحید پر کیا رد عمل ہوتا تھا؟
بے شک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو وہ تکبر کیا کرتے تھے۔
کلمۂ توحید سن کر وہ تکبر کرتے اور اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔
رد عمل کی تفصیل
يُطَافُ عَلَيۡهِم بِكَأۡسٖ مِّن مَّعِينِۭ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 45)
آیتِ کریمہ میں اہلِ جنت کے لیے کس نعمت کا ذکر ہے؟
ان پر بہتی ہوئی شراب کے پیالوں کا دور چلایا جائے گا۔
اس آیت میں اہلِ جنت کے لیے صاف اور بہتے چشمے کی شراب کے پیالوں کی نعمت کا ذکر ہے، جو ان پر گردش کرائی جائے گی۔
اس شراب کی خصوصیات
إِنَّهَا شَجَرَةٞ تَخۡرُجُ فِيٓ أَصۡلِ ٱلۡجَحِيمِ طَلۡعُهَا كَأَنَّهُۥ رُءُوسُ ٱلشَّيَٰطِينِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 64 اور 65)
آیاتِ کریمہ میں زقوم کے درخت کے بارے میں کیا بیان ہوا ہے؟
بے شک وہ ایک ایسا درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے۔ اس کے خوشے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔
بیان کردہ باتیں
وَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلۡكَرۡبِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 76)
آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا نوح علیہ السلام کی دعا کے کیا اثرات سامنے آئے؟
اور ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات عطا فرمائی۔
ان کی دعا قبول ہوئی اور اس کے کئی اثرات سامنے آئے۔
دعا کے اثرات
إِنَّ إِلَٰهَكُمۡ لَوَٰحِدٞ رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا وَرَبُّ ٱلۡمَشَٰرِقِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 4 اور 5)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
بے شک تمھارا معبود ضرور ایک ہی ہے۔ (وہ) آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے (اس کا بھی)، اور مشرقوں کا (بھی) رب ہے۔
مفہوم اور اہم نکات
سورۃ الصّٰفّٰت کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سورۃ الصّٰفّٰت مکی سورت ہے اور اس کا نام سورت کے پہلے ہی لفظ کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔
وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات
سورۃ الصّٰفّٰت کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الصّٰفّٰت کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
سبق سے کوئی سے پانچ حروفِ ناصبہ تلاش کر کے مثالوں کے ساتھ تحریر کریں۔
حروفِ ناصبہ وہ حروف ہیں جو اسم کو نصب دیتے ہیں۔ ان میں «حروفِ مشبہ بالفعل» (اِنَّ، اَنَّ، کَاَنَّ، لٰکِنَّ، لَیْتَ، لَعَلَّ) جملہ اسمیہ میں مبتدا کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں، جبکہ اَنْ، لَنْ، کَیْ اور اِذَنْ فعلِ مضارع کو نصب دیتے ہیں۔
سبق میں سے پانچ مثالیں
إِلَّا مَنۡ خَطِفَ ٱلۡخَطۡفَةَ فَأَتۡبَعَهُۥ شِهَابٞ ثَاقِبٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 10)
«شِهَابٌ ثَاقِبٌ» کی وضاحت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔
مگر جو (شیطان) کوئی بات اچک لے تو ایک دھکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔
لفظی وضاحت اور سیاق و سباق
أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ رِزۡقٞ مَّعۡلُومٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 40 تا 61)
اس سورت کے مطابق اہلِ جنت کو ملنے والی نعمتوں کی فہرست مرتب کریں۔
آیات 40 تا 61 کے مطابق اہلِ جنت کو ملنے والی نعمتیں درج ذیل ہیں:
قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 50 تا 61)
اس سورت میں اہلِ جنت کے درمیان ہونے والے مکالمے کے نکات پر مذاکرہ کریں۔
یہ مکالمہ آیات 50 تا 61 میں بیان ہوا ہے۔ اس کے مراحل درج ذیل ہیں:
مکالمے کے مراحل اور مذاکرے کے لیے نکات
أَذَٰلِكَ خَيۡرٞ نُّزُلًا أَمۡ شَجَرَةُ ٱلزَّقُّومِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 62)
سورۃ الصّٰفّٰت (آیات 1 تا 82) میں بیان ہونے والے جہنمی عذابوں کو بیان کریں۔
اس سبق میں جہنم کے درج ذیل عذابوں کا ذکر ہوا ہے:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔