چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 10: سبق 10: سورۃ الصّٰفّٰت (آیات: 1 تا 82) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

إِلَّا مَنۡ خَطِفَ ٱلۡخَطۡفَةَ فَأَتۡبَعَهُۥ شِهَابٞ ثَاقِبٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 10)

«شِهَابٌ ثَاقِبٌ» کا معنی ہے:

الف) خوب صورت چاند • ب) چمکتا ستارہ • ج) دھکتا ہوا شعلہ • د) بجھتا ہوا انگارہ

جواب ج) دھکتا ہوا شعلہ — جو سرکش شیطان چوری چھپے کوئی بات اچک لے، ایک دھکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

كَأَنَّهُنَّ بَيۡضٞ مَّكۡنُونٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 49)

«كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ» میں تشبیہ دی گئی ہے چھپا کر رکھے ہوئے:

الف) انڈوں سے • ب) خزانوں سے • ج) جواہرات سے • د) قیمتی پتھروں سے

جواب الف) انڈوں سے — «بَیْض» انڈے کو اور «مَكْنُوْن» چھپا کر محفوظ رکھی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ان کی رنگت اور صفائی ایسی ہے جیسے پردے میں محفوظ رکھا ہوا انڈا، جس پر گرد و غبار کا اثر نہ ہوا ہو۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 51)

«قَرِیْنٌ» کا معنی ہے:

الف) ہمسایہ • ب) ساتھی • ج) ہم سفر • د) عزیز

جواب ب) ساتھی — ایک جنتی کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو مجھ سے کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی (قیامت کی) تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟
4 کثیر الانتخابی سوالات

سورۃ الصّٰفّٰت میں انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا ذکر ہے:

الف) چھے • ب) سات • ج) آٹھ • د) نو

جواب ج) آٹھ — یہ آٹھ انبیائے کرام یہ ہیں: سیدنا نوح، سیدنا ابراہیم، سیدنا اسماعیل، سیدنا موسیٰ، سیدنا ہارون، سیدنا لوط، سیدنا الیاس اور سیدنا یونس علیہم السلام۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلۡكَرۡبِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 76)

«وَنَجَّیْنٰهُ وَاَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ» میں «الْكَرْب» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر

جواب الف) اسم — «اَلْكَرْب» بڑی مصیبت اور غم کا نام ہے، اور اس کے شروع میں «ال» بھی آیا ہے۔ یہاں حرفِ جارہ «مِنْ» کی وجہ سے یہ مجرور ہے۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

إِنَّا زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِزِينَةٍ ٱلۡكَوَاكِبِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 6)

آیتِ کریمہ کے مطابق آسمانِ دنیا کو کس چیز سے سجایا گیا ہے؟

ترجمہ

بے شک ہم ہی نے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زینت سے سجایا ہے۔

آسمانِ دنیا کو ستاروں (الْكَوَاكِب) کی زینت سے سجایا گیا ہے۔

اہم نکات

1 پہلا مقصد — زینت — ستارے آسمان کی خوب صورتی اور اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں۔
2 دوسرا مقصد — حفاظت — اگلی آیت میں فرمایا کہ یہ ہر سرکش شیطان سے حفاظت کا ذریعہ بھی ہیں۔
3 ملأِ اعلیٰ کی باتیں — شیاطین عالمِ بالا کی باتیں نہیں سن سکتے اور ہر طرف سے بھگانے کے لیے ان پر (انگارے) پھینکے جاتے ہیں۔
4 اُچک لینے والا — جو کوئی بات اچک لے، ایک دھکتا ہوا شعلہ (شہابِ ثاقب) اس کا پیچھا کرتا ہے۔
7 مختصر جوابات

إِنَّهُمۡ كَانُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَهُمۡ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ يَسۡتَكۡبِرُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 35)

آیتِ کریمہ کے مطابق مجرم لوگوں کا دعوتِ توحید پر کیا رد عمل ہوتا تھا؟

ترجمہ

بے شک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو وہ تکبر کیا کرتے تھے۔

کلمۂ توحید سن کر وہ تکبر کرتے اور اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔

رد عمل کی تفصیل

1 استکبار — لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ سن کر وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے اور سر جھکانے سے انکار کر دیتے۔
2 طعنہ زنی — کہتے تھے: کیا ہم ایک دیوانے شاعر کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟
3 قرآن کا جواب — بلکہ وہ (رسول ﷺ) حق لے کر آئے ہیں اور انہوں نے تمام رسولوں کی تصدیق کی ہے۔
4 انجام — یقیناً تم دردناک عذاب چکھنے والے ہو، اور تمھیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔
8 مختصر جوابات

يُطَافُ عَلَيۡهِم بِكَأۡسٖ مِّن مَّعِينِۭ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 45)

آیتِ کریمہ میں اہلِ جنت کے لیے کس نعمت کا ذکر ہے؟

ترجمہ

ان پر بہتی ہوئی شراب کے پیالوں کا دور چلایا جائے گا۔

اس آیت میں اہلِ جنت کے لیے صاف اور بہتے چشمے کی شراب کے پیالوں کی نعمت کا ذکر ہے، جو ان پر گردش کرائی جائے گی۔

اس شراب کی خصوصیات

1 مَعِیْن (بہتا چشمہ) — یہ کسی برتن میں تیار کی ہوئی نہیں بلکہ جاری چشموں سے لی جائے گی۔
2 بَیْضَآء (سفید) — اس کی رنگت نہایت سفید اور خوش نما ہو گی۔
3 لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ — پینے والوں کے لیے سراسر لذت ہو گی۔
4 لَا فِیْهَا غَوْلٌ — اس میں کوئی درد سر یا نقصان نہیں ہو گا۔
5 وَلَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ — اور نہ ہی اس سے ان کی عقل زائل ہو گی۔
جواب یعنی دنیا کی شراب کے تمام نقصانات سے پاک، صرف لذت ہی لذت۔
9 مختصر جوابات

إِنَّهَا شَجَرَةٞ تَخۡرُجُ فِيٓ أَصۡلِ ٱلۡجَحِيمِ طَلۡعُهَا كَأَنَّهُۥ رُءُوسُ ٱلشَّيَٰطِينِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 64 اور 65)

آیاتِ کریمہ میں زقوم کے درخت کے بارے میں کیا بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

بے شک وہ ایک ایسا درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے۔ اس کے خوشے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔

بیان کردہ باتیں

1 اُگنے کی جگہ — یہ درخت جہنم کی جڑ (تہہ) میں سے نکلتا ہے۔
2 خوشوں کی شکل — اس کے خوشے شیطانوں کے سروں کی طرح بھیانک ہیں۔
3 آزمائش — اللہ تعالیٰ نے اسے ظالموں کے لیے ایک آزمائش بنایا ہے۔
4 جہنمیوں کی خوراک — وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹ بھریں گے۔
5 اس کے بعد — پھر اس پر کھولتا ہوا پانی ملا کر دیا جائے گا، اور پھر ان کا لوٹنا جہنم ہی کی طرف ہو گا۔
10 مختصر جوابات

وَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلۡكَرۡبِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 76)

آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا نوح علیہ السلام کی دعا کے کیا اثرات سامنے آئے؟

ترجمہ

اور ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات عطا فرمائی۔

ان کی دعا قبول ہوئی اور اس کے کئی اثرات سامنے آئے۔

دعا کے اثرات

1 قبولیتِ دعا — فرمایا گیا کہ نوح نے ہمیں پکارا تو ہم کیسے اچھے قبول فرمانے والے ہیں۔
2 نجات — انہیں اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت (طوفان) سے نجات عطا فرمائی گئی۔
3 نسل کی بقا — ان کی اولاد ہی کو باقی رہنے والا بنا دیا گیا۔
4 ذکرِ خیر — بعد میں آنے والوں میں ان کا ذکرِ خیر باقی رکھا گیا۔
5 سلامتی — فرمایا گیا: تمام جہانوں میں نوح پر سلام ہو۔
6 مخالفین کا انجام — اور باقی لوگوں کو غرق کر دیا گیا۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

إِنَّ إِلَٰهَكُمۡ لَوَٰحِدٞ رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا وَرَبُّ ٱلۡمَشَٰرِقِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 4 اور 5)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک تمھارا معبود ضرور ایک ہی ہے۔ (وہ) آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے (اس کا بھی)، اور مشرقوں کا (بھی) رب ہے۔

مفہوم اور اہم نکات

1 قسم کے بعد جواب — سورت کا آغاز صف بستہ فرشتوں، ڈانٹنے والوں اور تلاوت کرنے والوں کی قسم سے ہوا، اور جوابِ قسم یہی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی ہے۔
2 توحیدِ الوہیت — عبادت کے لائق صرف ایک ہی ذات ہے۔
3 توحیدِ ربوبیت — آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک اور پالنے والا بھی وہی ہے۔
4 رَبُّ الْمَشَارِقِ — مشرقوں کا رب — سورج کے طلوع ہونے کی جگہیں سال بھر بدلتی رہتی ہیں، اور یہ سب اسی کے مقرر کردہ نظام کے تحت ہے۔
5 استدلال — جب خالق اور مالک ایک ہے تو معبود بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔
12 تفصیلی جوابات

سورۃ الصّٰفّٰت کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ الصّٰفّٰت مکی سورت ہے اور اس کا نام سورت کے پہلے ہی لفظ کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔

وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات

1 وجہِ تسمیہ — سورت کا آغاز «وَالصّٰٓفّٰتِ» (قسم ہے صف بستہ فرشتوں کی) سے ہوا ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الصّٰفّٰت ہے۔
2 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید میں یہ 37ویں سورت ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 56ویں نمبر پر ہے۔
3 تعارفی معلومات — نوعیت — یہ مکی سورت ہے۔
4 تعارفی معلومات — آیات و رکوع — اس کی آیات کی تعداد 182 اور رکوع 5 ہیں۔
5 تعارفی معلومات — امتیازی خصوصیت — اس میں آٹھ انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات بیان ہوئے ہیں، اور ہر قصے کا اختتام سلام کے کلمات پر ہوتا ہے۔
جواب مرکزی مضمون — عقائدِ ثلاثہ (توحید، رسالت اور آخرت) کے دلائل۔
13 تفصیلی جوابات

سورۃ الصّٰفّٰت کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الصّٰفّٰت کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 توحید کے دلائل، وحی کی حفاظت اور آخرت سے متعلق کفار کے سوالات کے جوابات کا ذکر
2 فرماں برداروں کے لیے جنت کی نعمتوں اور نافرمانوں کے لیے جہنم کے مختلف عذابوں کا بیان
3 آٹھ انبیائے کرام (سیدنا نوح، سیدنا ابراہیم، سیدنا اسماعیل، سیدنا موسیٰ، سیدنا ہارون، سیدنا لوط، سیدنا الیاس اور سیدنا یونس علیہم السلام) کا ذکر
4 سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے واقعات کا ذکر
5 سیدنا یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ میں جانے کا واقعہ
6 جنات اور فرشتوں کے متعلق مشرکین کے غلط عقائد کی تردید
7 نبی اکرم ﷺ کے غالب آنے کی بشارت اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کا بیان
14 تفصیلی جوابات

سبق سے کوئی سے پانچ حروفِ ناصبہ تلاش کر کے مثالوں کے ساتھ تحریر کریں۔

حروفِ ناصبہ وہ حروف ہیں جو اسم کو نصب دیتے ہیں۔ ان میں «حروفِ مشبہ بالفعل» (اِنَّ، اَنَّ، کَاَنَّ، لٰکِنَّ، لَیْتَ، لَعَلَّ) جملہ اسمیہ میں مبتدا کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں، جبکہ اَنْ، لَنْ، کَیْ اور اِذَنْ فعلِ مضارع کو نصب دیتے ہیں۔

سبق میں سے پانچ مثالیں

1 1۔ اِنَّ (آیت 4) — «اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ» — «اِنَّ» کے داخل ہونے سے «اِلٰهَ» منصوب ہوا اور خبر «لَوَاحِدٌ» مرفوع رہی۔
2 2۔ اِنَّا [اِنَّ + نا] (آیت 6) — «اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا» — یہاں اِنَّ کا اسم ضمیر «نا» ہے جو محلاً منصوب ہے۔
3 3۔ اِنَّهُمْ (آیت 24) — «اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَ» — ضمیر «هُمْ» اِنَّ کا اسم ہے (محلاً منصوب) اور «مَّسْـُٔوْلُوْنَ» خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔
4 4۔ اِنَّكُمْ (آیت 38) — «اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِ» — اسی طرح یہاں بھی ضمیر «كُمْ» محلاً منصوب ہے۔
5 5۔ كَاَنَّ (آیات 49 اور 65) — «كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ» اور «طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ» — «كَاَنَّ» تشبیہ کے لیے آتا ہے اور اپنے اسم کو نصب دیتا ہے۔
جواب نوٹ — اس سبق (آیات 1 تا 82) میں اَنْ، لَنْ، کَیْ، اِذَنْ، لٰکِنَّ، لَیْتَ اور لَعَلَّ کی مثالیں موجود نہیں؛ ان کے لیے سبق نمبر 4 کی گرامر والی بحث دیکھی جا سکتی ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِلَّا مَنۡ خَطِفَ ٱلۡخَطۡفَةَ فَأَتۡبَعَهُۥ شِهَابٞ ثَاقِبٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 10)

«شِهَابٌ ثَاقِبٌ» کی وضاحت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

ترجمہ

مگر جو (شیطان) کوئی بات اچک لے تو ایک دھکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔

لفظی وضاحت اور سیاق و سباق

1 لفظی وضاحت — شِهَاب — چمکتا اور دھکتا ہوا شعلہ یا انگارہ۔
2 لفظی وضاحت — ثَاقِب — سوراخ کر دینے والا، یعنی ایسا تیز اور روشن کہ اندھیرے کو چیر ڈالے۔
3 لفظی وضاحت — مجموعی مفہوم — ایک تیز روشن شعلہ جو نہایت سرعت کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچتا ہے۔
4 سیاق و سباق — آسمان کی حفاظت — اللہ تعالیٰ نے آسمانِ دنیا کو ستاروں سے سجایا اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ رکھا۔
5 سیاق و سباق — ملأِ اعلیٰ — شیاطین عالمِ بالا (فرشتوں) کی گفتگو نہیں سن سکتے، اور انہیں ہر طرف سے بھگایا جاتا ہے۔
6 سیاق و سباق — چوری چھپے سننا — اگر کوئی شیطان کوئی بات اُچک لے تو یہ دھکتا ہوا شعلہ فوراً اس کا تعاقب کرتا ہے۔
7 سیاق و سباق — مقصد — وحی کی حفاظت — تاکہ آسمانی خبروں میں شیطانی ملاوٹ نہ ہو سکے۔
8 سیاق و سباق — متعلقہ آیات — یہی مضمون سورۃ الحجر (آیات 16 تا 18) اور سورۃ الجن (آیات 8 اور 9) میں بھی بیان ہوا ہے۔
جواب یاد رہے — یہ آیات وحی کی حفاظت کے بیان میں ہیں۔ ان سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ ستاروں کی گردش سے قسمت یا مستقبل کا حال معلوم ہوتا ہے؛ ایسا عقیدہ رکھنا شریعت میں ممنوع ہے۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ رِزۡقٞ مَّعۡلُومٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 40 تا 61)

اس سورت کے مطابق اہلِ جنت کو ملنے والی نعمتوں کی فہرست مرتب کریں۔

آیات 40 تا 61 کے مطابق اہلِ جنت کو ملنے والی نعمتیں درج ذیل ہیں:

1 مقررہ رزق — ان کے لیے ایک معلوم اور مقرر رزق ہے، جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔
2 میوے — ہر قسم کے پھل اور میوے میسر ہوں گے۔
3 عزت و اکرام — وہ «مُكْرَمُوْنَ» ہوں گے، یعنی مہمانوں کی طرح عزت کے ساتھ نوازے جائیں گے۔
4 جناتِ نعیم — نعمتوں والے باغات میں رہائش ہو گی۔
5 آمنے سامنے تخت — وہ تختوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے، جو باہمی انس اور محبت کی علامت ہے۔
6 بہتے چشمے کی شراب — ان پر جاری چشمے کی شراب کے پیالوں کا دور چلایا جائے گا۔
7 اس شراب کی صفات — سفید رنگت، پینے والوں کے لیے سراسر لذت، نہ اس میں درد سر اور نہ عقل زائل ہونے کا اندیشہ۔
8 قاصراتُ الطرف — ان کے پاس نیچی نگاہیں رکھنے والی بڑی آنکھوں والی رفیقات ہوں گی، جن کی صفائی چھپا کر رکھے ہوئے انڈے جیسی ہے۔
9 باہمی گفتگو — وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں باتیں کریں گے۔
10 موت کا خاتمہ — وہ کہیں گے کہ اب ہمیں کبھی موت نہیں آئے گی، سوائے اس پہلی موت کے، اور نہ ہمیں عذاب دیا جائے گا۔
11 فوزِ عظیم — یقیناً یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
جواب اصل بنیاد — یہ سب نعمتیں «عِبَادَ اللهِ الْمُخْلَصِیْنَ» یعنی اللہ کے خالص بندوں کے لیے ہیں۔ اسی لیے آیت 61 میں فرمایا گیا کہ ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
17 سرگرمیاں برائے طلبہ

قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٞ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 50 تا 61)

اس سورت میں اہلِ جنت کے درمیان ہونے والے مکالمے کے نکات پر مذاکرہ کریں۔

یہ مکالمہ آیات 50 تا 61 میں بیان ہوا ہے۔ اس کے مراحل درج ذیل ہیں:

مکالمے کے مراحل اور مذاکرے کے لیے نکات

1 مکالمے کے مراحل — 1۔ آغاز — اہلِ جنت ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں سوال و جواب کریں گے۔
2 مکالمے کے مراحل — 2۔ ایک جنتی کی بات — ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا۔
3 مکالمے کے مراحل — 3۔ ساتھی کا اعتراض — وہ مجھ سے کہا کرتا تھا: کیا تم بھی (قیامت کی) تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو ہمیں بدلہ دیا جائے گا؟
4 مکالمے کے مراحل — 4۔ جھانکنے کی پیشکش — وہ جنتی کہے گا: کیا تم (اسے) جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟
5 مکالمے کے مراحل — 5۔ منظر — پھر وہ جھانکے گا تو اپنے اس ساتھی کو عین جہنم کے بیچ میں دیکھے گا۔
6 مکالمے کے مراحل — 6۔ خطاب — کہے گا: اللہ کی قسم! تو تو قریب تھا کہ مجھے (بھی) ہلاک کر دیتا۔
7 مکالمے کے مراحل — 7۔ اعترافِ نعمت — اور اگر میرے رب کا فضل نہ ہوتا تو میں بھی حاضر کیے جانے والوں (عذاب میں) شامل ہوتا۔
8 مکالمے کے مراحل — 8۔ اظہارِ مسرت — کیا اب ہمیں موت نہیں آئے گی سوائے پہلی موت کے؟ اور نہ ہمیں عذاب دیا جائے گا؟ یقیناً یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
9 مکالمے کے مراحل — 9۔ دعوتِ عمل — ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
10 مذاکرے کے لیے نکات — صحبت کا اثر — برا ساتھی انسان کو ہلاکت کے دہانے تک لے جاتا ہے؛ جنتی کو یہ بات جنت میں پہنچ کر بھی یاد رہی۔
11 مذاکرے کے لیے نکات — استقامت کا ثمر — اس نے دنیا میں طعنوں کے باوجود عقیدۂ آخرت نہیں چھوڑا، اور یہی اس کی نجات کا سبب بنا۔
12 مذاکرے کے لیے نکات — نجات فضلِ الٰہی سے — اس نے اپنی نجات کو اپنے عمل کا نہیں بلکہ اللہ کے فضل کا نتیجہ قرار دیا۔
13 مذاکرے کے لیے نکات — انکارِ آخرت کا انجام — وہی اعتراض جو دنیا میں طنز کے طور پر کیا جاتا تھا، آخرت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا گیا۔
14 مذاکرے کے لیے نکات — عملی سبق — اچھے دوستوں کا انتخاب اور عقیدے پر ثابت قدمی — یہی اس مکالمے کا خلاصہ ہے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

أَذَٰلِكَ خَيۡرٞ نُّزُلًا أَمۡ شَجَرَةُ ٱلزَّقُّومِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 62)

سورۃ الصّٰفّٰت (آیات 1 تا 82) میں بیان ہونے والے جہنمی عذابوں کو بیان کریں۔

اس سبق میں جہنم کے درج ذیل عذابوں کا ذکر ہوا ہے:

1 سرکش شیاطین کے لیے — عَذَابٌ وَّاصِبٌ (آیت 9) — ہمیشہ رہنے والا، کبھی نہ ٹوٹنے والا عذاب۔
2 سرکش شیاطین کے لیے — شِهَابٌ ثَاقِبٌ (آیت 10) — دھکتا ہوا شعلہ جو چوری چھپے سننے والے کا تعاقب کرتا ہے۔
3 میدانِ حشر اور جہنم کی طرف روانگی — اجتماع (آیت 22) — حکم ہو گا کہ ظالموں، ان کے ساتھیوں اور جن کی وہ عبادت کرتے تھے، سب کو جمع کرو۔
4 میدانِ حشر اور جہنم کی طرف روانگی — صراطِ جحیم (آیت 23) — انہیں جہنم کے راستے کی طرف ہانک کر لے جایا جائے گا۔
5 میدانِ حشر اور جہنم کی طرف روانگی — پوچھ گچھ (آیت 24) — انہیں روک کر کھڑا کیا جائے گا، کیوں کہ ان سے سوال کیا جانا ہے۔
6 میدانِ حشر اور جہنم کی طرف روانگی — بے بسی (آیت 25) — کہا جائے گا: تمھیں کیا ہوا کہ آج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟
7 میدانِ حشر اور جہنم کی طرف روانگی — باہمی جھگڑا (آیات 27 تا 32) — پیروکار اور سردار ایک دوسرے پر الزام دھریں گے اور کوئی بری نہ ہو سکے گا۔
8 میدانِ حشر اور جہنم کی طرف روانگی — عذاب میں شرکت (آیت 33) — گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے، سب عذاب میں برابر کے شریک ہوں گے۔
9 میدانِ حشر اور جہنم کی طرف روانگی — عَذَابٌ اَلِیْمٌ (آیت 38) — یقیناً وہ دردناک عذاب چکھنے والے ہیں۔
10 میدانِ حشر اور جہنم کی طرف روانگی — عین انصاف (آیت 39) — اور انہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
11 زقّوم کا عذاب — اُگنے کی جگہ (آیت 64) — یہ درخت جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے۔
12 زقّوم کا عذاب — ہولناک شکل (آیت 65) — اس کے خوشے شیطانوں کے سروں کی طرح ہیں۔
13 زقّوم کا عذاب — کھانے پر مجبوری (آیت 66) — وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔
14 زقّوم کا عذاب — کھولتا پانی (آیت 67) — اس کے اوپر کھولتے ہوئے پانی کی ملاوٹ دی جائے گی۔
15 زقّوم کا عذاب — واپسی جہنم کی طرف (آیت 68) — اس کے بعد بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔
16 زقّوم کا عذاب — آزمائش (آیت 63) — اللہ تعالیٰ نے اسے ظالموں کے لیے ایک آزمائش بنایا۔
17 عذاب کے اسباب — استکبار (آیت 35) — کلمۂ توحید سن کر تکبر کرنا۔
18 عذاب کے اسباب — طعنہ زنی (آیت 36) — رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا۔
19 عذاب کے اسباب — انکارِ آخرت (آیات 16 اور 53) — مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا مذاق اڑانا۔
20 عذاب کے اسباب — اندھی تقلید (آیات 69 اور 70) — انہوں نے اپنے باپ دادا کو گم راہ پایا اور انہی کے نقشِ قدم پر دوڑ پڑے۔
جواب مستثنیٰ لوگ — آیات 40 اور 74 میں دو بار فرمایا گیا: «اِلَّا عِبَادَ اللهِ الْمُخْلَصِیْنَ» — سوائے اللہ کے خالص بندوں کے؛ یعنی اخلاص ہی وہ چیز ہے جو اس انجام سے بچاتی ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.