چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 8: سبق 8: سورۃ الشعراء (آیات: 69 تا 159) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

فَأَنجَيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 119)

«وَمَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ» میں «الْفُلْكِ» عربی قواعد کے لحاظ سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر

جواب الف) اسم — «اَلْفُلْك» کشتی کا نام ہے اور اس کے شروع میں «ال» آیا ہے، جو اسم ہونے کی علامت ہے۔ یہاں حرفِ جارہ «فِیْ» کی وجہ سے یہ مجرور ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 129)

«مَصَانِعَ» کا معنی ہے:

الف) بڑے بڑے میدان • ب) بڑے بڑے گھر • ج) بڑے بڑے محلات • د) بڑے بڑے صحرا

جواب ج) بڑے بڑے محلات — حضرت ہود علیہ السلام نے قومِ عاد پر تنبیہ فرمائی کہ تم بڑے بڑے محلات اس طرح بناتے ہو گویا تمھیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

وَزُرُوعٖ وَنَخۡلٖ طَلۡعُهَا هَضِيمٞ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 148)

«هَضِیْمٌ» کا معنی ہے:

الف) نرم و نازک • ب) دبلا پتلا • ج) ملائم • د) سنگ دل

جواب الف) نرم و نازک — حضرت صالح علیہ السلام نے قومِ ثمود کو یاد دلایا کہ تمھیں باغات، چشمے، کھیتیاں اور ایسے کھجور کے درخت دیے گئے جن کے خوشے نرم و نازک ہیں۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 121)

«وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ» ۔ ان میں سے اکثر نہیں تھے:

الف) صبر کرنے والے • ب) ایمان لانے والے • ج) شکر کرنے والے • د) نصیحت کرنے والے

جواب ب) ایمان لانے والے — یہ جملہ اس سورت میں ہر قصے کے اختتام پر دہرایا گیا ہے، تاکہ نبی کریم ﷺ کو تسلی ہو کہ اکثریت کا انکار کرنا کوئی نئی بات نہیں۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

فَعَقَرُوهَا فَأَصۡبَحُواْ نَٰدِمِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 157)

«فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَ» ۔ آیت کی رو سے مجرمین ہو گئے:

الف) ناکام • ب) گم راہ • ج) نادم • د) پریشان

جواب ج) نادم — قومِ ثمود نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں، پھر شرمندہ ہوئے؛ مگر عذاب دیکھنے کے بعد کی ندامت کوئی فائدہ نہیں دیتی۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُونَكُمۡ إِذۡ تَدۡعُونَ أَوۡ يَنفَعُونَكُمۡ أَوۡ يَضُرُّونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 72 اور 73)

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کی حقیقت واضح کرنے کے لیے قوم سے کیا سوالات کیے؟

ترجمہ

انہوں نے فرمایا: کیا وہ تمھاری (پکار) سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟ یا وہ تمھیں کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا نقصان؟

کیے گئے سوالات اور قوم کا جواب اور اس کا رد

1 کیے گئے سوالات — کیا وہ سنتے ہیں؟ — جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری آواز سنتے بھی ہیں؟
2 کیے گئے سوالات — کیا وہ نفع دیتے ہیں؟ — کیا وہ تمھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟
3 کیے گئے سوالات — کیا وہ نقصان دے سکتے ہیں؟ — کیا ان کے بس میں ہے کہ تمھیں کوئی ضرر پہنچائیں؟
4 قوم کا جواب اور اس کا رد — قوم کا جواب — ان کے پاس کوئی دلیل نہ تھی، صرف یہ کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے۔
5 قوم کا جواب اور اس کا رد — ابراہیم علیہ السلام کا رد — انہوں نے فرمایا کہ جن کی تم اور تمھارے پہلے باپ دادا عبادت کرتے رہے، وہ سب میرے دشمن ہیں، سوائے رب العالمین کے۔
6 قوم کا جواب اور اس کا رد — اندازِ دعوت — انہوں نے حکم دینے کے بجائے سوالات کے ذریعے قوم کو خود سوچنے پر مجبور کیا۔
7 مختصر جوابات

فَكُبۡكِبُواْ فِيهَا هُمۡ وَٱلۡغَاوُۥنَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 94)

آیتِ کریمہ میں مجرمین کی کس سزا کا بیان ہے؟

ترجمہ

پس وہ اور تمام گم راہ اس (جہنم) میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔

آیت میں یہ سزا بیان ہوئی ہے کہ مجرموں کو ان کے جھوٹے معبودوں سمیت جہنم میں اوندھے منہ گرا دیا جائے گا۔

اہم نکات

1 كُبْكِبُوْا کا مفہوم — اوپر تلے، بار بار لڑھکاتے ہوئے اوندھے منہ گرا دینا — یہ انتہائی ذلت کا منظر ہے۔
2 کون گرائے جائیں گے؟ — جھوٹے معبود، ان کے پجاری (الْغَاوٗنَ) اور ابلیس کے سارے لشکر۔
3 باہمی جھگڑا — وہاں وہ آپس میں جھگڑتے ہوئے کہیں گے کہ اللہ کی قسم! ہم کھلی گم راہی میں تھے جب ہم تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔
4 حسرت — پھر کہیں گے کہ آج نہ کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی گرم جوش دوست؛ کاش ہمیں ایک بار واپسی نصیب ہو تو ہم مومنوں میں سے ہو جائیں۔
8 مختصر جوابات

إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 124 اور 125)

آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا ہود علیہ السلام نے قوم کو کیا تلقین فرمائی؟

ترجمہ

جب ان سے ان کے بھائی ہود نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے؟ بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔

تلقین کے اجزا

1 تقویٰ کی دعوت — «اَلَا تَتَّقُوْنَ» — کیا تم اللہ کی نافرمانی سے نہیں ڈرتے؟
2 امانت داری کا اعلان — میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں؛ وہ ان کے درمیان پہلے سے معروف اور قابلِ اعتماد تھے۔
3 اطاعت کا مطالبہ — اگلی آیت میں فرمایا: اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
4 بے غرضی — اور میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف رب العالمین کے ذمے ہے۔
جواب یہی چار جملے اس سورت میں حضرت نوح، ہود، صالح اور دیگر انبیا علیہم السلام کی زبان سے دہرائے گئے ہیں، جو دعوتِ انبیا کی یکسانیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
9 مختصر جوابات

وَتَنۡحِتُونَ مِنَ ٱلۡجِبَالِ بُيُوتٗا فَٰرِهِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 149)

آیتِ کریمہ میں سیدنا صالح علیہ السلام نے قوم کی کس برائی کو بیان کیا؟

ترجمہ

اور تم پہاڑوں کو تراش کر اتراتے ہوئے گھر بناتے ہو۔

انہوں نے قوم کی اس برائی کا ذکر کیا کہ وہ پہاڑوں کو تراش کر فخر و غرور کے ساتھ گھر بناتے تھے۔

برائی کی نوعیت

1 فَارِهِیْنَ کا مفہوم — اتراتے ہوئے، فخر اور نمود و نمائش کے ساتھ — یعنی برائی گھر بنانے میں نہیں بلکہ اس تکبر میں تھی۔
2 غفلت اور بے فکری — وہ اس اطمینان میں تھے کہ یہ عیش و آرام ہمیشہ رہے گا اور آخرت کی کوئی فکر نہ تھی۔
3 نعمتوں کی ناشکری — انہی آیات میں یاد دلایا گیا کہ باغات، چشمے، کھیتیاں اور نرم و نازک خوشوں والے کھجور کے درخت انہی کو عطا ہوئے تھے۔
4 اصل مطالبہ — اسی لیے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔
10 مختصر جوابات

قَالَ هَٰذِهِۦ نَاقَةٞ لَّهَا شِرۡبٞ وَلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيمٖ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 155 اور 156)

سیدنا صالح علیہ السلام نے قوم کو اونٹنی کے بارے میں کیا ہدایات فرمائیں؟

ترجمہ

انہوں نے فرمایا: یہ اونٹنی ہے، ایک باری اس کے پینے کی ہے اور ایک مقررہ دن تمھارے پینے کی باری ہے۔ اور اسے برائی کے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ تمھیں ایک بڑے دن کا عذاب آ پکڑے گا۔

دی گئی ہدایات

1 پانی کی باری مقرر — ایک دن پانی پینے کی باری اونٹنی کی ہو گی اور ایک مقررہ دن قوم کی۔
2 باری کا احترام — کسی کو حق نہیں کہ اونٹنی کی باری میں دخل دے۔
3 کوئی تکلیف نہ پہنچانا — اسے برے ارادے سے چھونا بھی منع تھا۔
4 عذاب کی تنبیہ — خلاف ورزی کی صورت میں ایک بڑے دن کے عذاب کی صریح وارننگ دی گئی۔
5 قوم کا انجام — انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، پھر نادم ہوئے، مگر عذاب نے انہیں آ پکڑا۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

قَالَ وَمَا عِلۡمِي بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ إِنۡ حِسَابُهُمۡ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّيۖ لَوۡ تَشۡعُرُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 112 اور 113)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

انہوں نے فرمایا: مجھے کیا خبر کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں؟ ان کا حساب تو صرف میرے رب کے ذمے ہے، کاش کہ تم سمجھتے۔

مفہوم اور اہم نکات

1 پس منظر — قومِ نوح کے سرداروں نے کہا تھا کہ ہم تم پر کیسے ایمان لائیں جبکہ تمھاری پیروی تو حقیر لوگ کر رہے ہیں۔
2 جواب کا انداز — حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کے اعمال اور نیتوں کا علم مجھے نہیں، نہ ہی یہ میرا کام ہے۔
3 حساب اللہ کے ذمے — ان کا حساب لینا صرف میرے رب کا کام ہے۔
4 طبقاتی امتیاز کا رد — اگلی آیت میں فرمایا کہ میں ایمان لانے والوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔
5 اپنے منصب کا اعلان — میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔
6 سبق — دین میں معیار مال و مرتبہ نہیں بلکہ ایمان ہے؛ کسی کو اس کے سماجی درجے کی بنا پر حقیر نہیں سمجھا جا سکتا۔
12 تفصیلی جوابات

أَتَبۡنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةٗ تَعۡبَثُونَ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 128 اور 129)

آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد کو کن باتوں پر تنبیہ کی ہے؟

ترجمہ

کیا تم ہر اونچی جگہ پر بلا ضرورت ایک یادگار (عمارت) بناتے ہو؟ اور تم بڑے بڑے محلات بناتے ہو، گویا تم ہمیشہ (زندہ) رہو گے۔

تنبیہ کی گئی باتیں اور قوم کا جواب اور انجام

1 تنبیہ کی گئی باتیں — بے مقصد تعمیرات — ہر اونچی جگہ پر محض دکھاوے اور فخر کے لیے یادگاریں بنانا، جن کی کوئی حقیقی ضرورت نہ تھی۔
2 تنبیہ کی گئی باتیں — ہمیشگی کا گمان — مضبوط محلات اس طرح بنانا جیسے موت آنی ہی نہ ہو اور یہیں ہمیشہ رہنا ہو۔
3 تنبیہ کی گئی باتیں — جبر و تشدد — اگلی آیت میں فرمایا کہ جب تم کسی کو پکڑتے ہو تو سخت جابر بن کر پکڑتے ہو۔
4 تنبیہ کی گئی باتیں — نعمتوں کی ناقدری — انہیں یاد دلایا گیا کہ مویشی، بیٹے، باغات اور چشمے سب اسی اللہ نے دیے جسے تم بھول بیٹھے ہو۔
5 قوم کا جواب اور انجام — بے پروائی — انہوں نے کہا کہ تم نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے برابر ہے۔
6 قوم کا جواب اور انجام — پرانی روش کا بہانہ — یہ تو صرف پچھلے لوگوں کی عادت ہے، اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔
7 قوم کا جواب اور انجام — انجام — انہوں نے جھٹلایا تو انہیں ہلاک کر دیا گیا۔
جواب ہمارے لیے سبق — تعمیر کرنا یا وسائل رکھنا ممنوع نہیں؛ ممنوع یہ ہے کہ انسان انہیں فخر، اسراف اور دنیا میں ہمیشگی کے گمان کا ذریعہ بنا لے اور آخرت کو بھول جائے۔
13 تفصیلی جوابات

فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 108 اور 109)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمے ہے۔

مفہوم اور اہم نکات

1 دو بنیادی مطالبے — تقویٰ یعنی اللہ کی نافرمانی سے بچنا، اور رسول کی اطاعت کرنا — یہی دعوتِ انبیا کا خلاصہ ہے۔
2 بے غرضی کا اعلان — انبیا نے کبھی اپنی دعوت پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا۔
3 اجر کا ذمہ دار — ان کا اجر صرف رب العالمین کے ذمے ہے، اسی لیے وہ کسی دباؤ یا لالچ سے متاثر نہیں ہوتے۔
4 تکرار کی حکمت — یہی الفاظ اس سورت میں نوح، ہود، صالح، لوط اور شعیب علیہم السلام سب کی زبان سے دہرائے گئے، جو دعوت کی وحدت کا ثبوت ہے۔
5 داعی کے لیے سبق — دین کی دعوت کو ذاتی مفاد سے پاک رکھنا ہی اس کے مؤثر ہونے کی شرط ہے۔
14 تفصیلی جوابات

أَتَبۡنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةٗ تَعۡبَثُونَ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُونَ

نکرہ اور معرفہ کی تعریف اور ہر ایک کی دو دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔

خاص اور عام ہونے کے لحاظ سے اسم کی دو قسمیں ہیں: نکرہ اور معرفہ۔

1۔ نکرہ اور 2۔ معرفہ

1 1۔ نکرہ — تعریف — وہ اسم جو عام ہو۔ اس کے شروع میں «ال» نہیں آتا، البتہ آخر میں تنوین آ سکتی ہے۔ اس کے معنی میں «ایک، کوئی یا کچھ» کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔
2 1۔ نکرہ — عام مثالیں — کِتَابٌ (ایک کتاب)، قَلَمٌ (کوئی قلم)، مُؤْمِنٌ (کوئی مومن)، جِدَارٌ (کوئی دیوار)، لَبَنٌ (کچھ دودھ)
3 1۔ نکرہ — سبق میں سے — «رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ» (آیت 125) اور «نَاقَةٌ» (آیت 155) — نیز «اَصْنَامًا» (آیت 71) اور «بُیُوْتًا» (آیت 149)
4 2۔ معرفہ — تعریف — وہ اسم جو کسی خاص شخص، جگہ یا چیز پر دلالت کرے۔
5 2۔ معرفہ — عام مثالیں — زَیْدٌ، مَکَّةُ، اَلْکِتَابُ
6 2۔ معرفہ — سبق میں سے — «اِبْرَاهِیْمَ» (آیت 69) اور «الْفُلْكِ» (آیت 119) — نیز «نُوْحٌ» (آیت 106)، «هُوْدٌ» (آیت 124)، «صَالِحٌ» (آیت 142) اور «الْجِبَالِ» (آیت 149)
جواب اہم معلومات — عربی میں اسم پر یا تو شروع میں «ال» آ سکتا ہے یا آخر میں تنوین آ سکتی ہے۔ یہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں آتے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

ٱلَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهۡدِينِ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 78 تا 82)

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے «رب العالمین» کی جو صفات بیان فرمائیں، انھیں تحریر کریں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آیات 78 تا 82 میں رب العالمین کی پانچ صفات بیان فرمائیں:

قابلِ غور نکات اور اس کے بعد کی دعائیں (آیات 83 تا 89)

1 1۔ خالق اور ہادی — «اَلَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِ» — وہی ہے جس نے مجھے پیدا کیا، پس وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔
2 2۔ رازق (کھلانے اور پلانے والا) — «وَالَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِ» — اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔
3 3۔ شفا دینے والا — «وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ» — اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔
4 4۔ موت اور زندگی دینے والا — «وَالَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِ» — اور وہی مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ فرمائے گا۔
5 5۔ بخشنے والا — «وَالَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ» — اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ قیامت کے دن میری خطائیں بخش دے گا۔
6 قابلِ غور نکات — ادب کا اسلوب — بیماری کی نسبت انہوں نے اپنی طرف کی («مَرِضْتُ») اور شفا کی نسبت اللہ کی طرف — یہ انبیا کے ادب کی اعلیٰ مثال ہے۔
7 قابلِ غور نکات — ترتیب کی حکمت — پیدائش سے شروع ہو کر ہدایت، رزق، صحت، موت، دوبارہ زندگی اور آخرت میں مغفرت تک — پوری زندگی کا سفر آ گیا۔
8 قابلِ غور نکات — توحید کا استدلال — یہ سب کام صرف اللہ کے ہیں، اس لیے عبادت کا حق بھی صرف اسی کا ہے۔
9 اس کے بعد کی دعائیں (آیات 83 تا 89) — حکمت اور صالحین کی رفاقت — اے میرے رب! مجھے حکمت عطا فرما اور مجھے صالحین میں شامل فرما۔
10 اس کے بعد کی دعائیں (آیات 83 تا 89) — لسانِ صدق — اور بعد میں آنے والوں میں میرا ذکرِ خیر جاری فرما۔
11 اس کے بعد کی دعائیں (آیات 83 تا 89) — جنتِ نعیم کی وراثت — اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔
12 اس کے بعد کی دعائیں (آیات 83 تا 89) — رسوائی سے پناہ — اور مجھے اس دن رسوا نہ کرنا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔
13 اس کے بعد کی دعائیں (آیات 83 تا 89) — قلبِ سلیم — اس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے، مگر جو اللہ کے پاس قلبِ سلیم لے کر آئے۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 105 تا 118)

سیدنا نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس پر مذاکرہ کریں۔

یہ مکالمہ آیات 105 تا 118 میں بیان ہوا ہے۔ اسے مکالمے کی صورت میں یوں پیش کیا جا سکتا ہے:

1 مکالمہ — نوح علیہ السلام — کیا تم (اللہ کی نافرمانی سے) نہیں ڈرتے؟ بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا؛ میرا اجر تو صرف رب العالمین کے ذمے ہے۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
2 مکالمہ — قوم — کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں، حالانکہ تمھاری پیروی تو حقیر لوگ کر رہے ہیں؟
3 مکالمہ — نوح علیہ السلام — مجھے کیا خبر کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں؟ ان کا حساب تو صرف میرے رب کے ذمے ہے، کاش کہ تم سمجھتے۔ اور میں ایمان والوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔ میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔
4 مکالمہ — قوم — اے نوح! اگر تم باز نہ آئے تو ضرور تم سنگسار کیے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔
5 مکالمہ — نوح علیہ السلام (بارگاہِ الٰہی میں) — اے میرے رب! بے شک میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔ سو میرے اور ان کے درمیان کھلا فیصلہ فرما دے، اور مجھے اور میرے ساتھ جو مومن ہیں انہیں نجات عطا فرما۔
6 انجام — اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں نجات عطا فرمائی، اور اس کے بعد باقی رہ جانے والوں کو غرق کر دیا۔
7 مذاکرے کے لیے نکات — انکار کی اصل وجہ — دلیل نہیں بلکہ طبقاتی تکبر — کہ غریب لوگ کیوں ایمان لائے۔
8 مذاکرے کے لیے نکات — نبی کا اصولی مؤقف — انہوں نے مالداروں کو خوش کرنے کے لیے کمزور مومنوں کو دور کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
9 مذاکرے کے لیے نکات — باطل کا آخری ہتھیار — جب دلیل نہ رہی تو سنگسار کرنے کی دھمکی دی گئی۔
10 مذاکرے کے لیے نکات — نبی کا سہارا — انہوں نے جواب میں لڑائی نہیں کی بلکہ معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا۔
11 مذاکرے کے لیے نکات — ہمارے لیے سبق — دعوت میں لوگوں کے سماجی درجے کو نہیں، ان کے ایمان کو دیکھنا چاہیے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

17 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُونَكُمۡ إِذۡ تَدۡعُونَ أَوۡ يَنفَعُونَكُمۡ أَوۡ يَضُرُّونَ

سیدنا نوح علیہ السلام، سیدنا صالح علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے واقعات مختصراً بیان کریں۔

اس سبق (آیات 69 تا 159) میں بیان کردہ ان تینوں انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا خلاصہ درج ذیل ہے:

1 1۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام (آیات 69 تا 104) — سوال سے آغاز — انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور انہی پر جمے رہنے والے ہیں۔
2 1۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام (آیات 69 تا 104) — تین سوال — انہوں نے پوچھا: کیا وہ تمھاری پکار سنتے ہیں؟ یا تمھیں نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟ قوم کے پاس صرف باپ دادا کی تقلید کا جواب تھا۔
3 1۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام (آیات 69 تا 104) — اعلانِ برأت — انہوں نے فرمایا کہ یہ سب میرے دشمن ہیں، سوائے رب العالمین کے۔
4 1۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام (آیات 69 تا 104) — صفاتِ رب — پھر پانچ صفات بیان فرمائیں: پیدا کرنے اور ہدایت دینے والا، کھلانے اور پلانے والا، شفا دینے والا، موت اور زندگی دینے والا، اور قیامت کے دن بخشنے والا۔
5 1۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام (آیات 69 تا 104) — دعائیں — حکمت، صالحین کی رفاقت، ذکرِ خیر، جنت کی وراثت اور قیامت کے دن رسوائی سے پناہ کی دعا مانگی۔
6 1۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام (آیات 69 تا 104) — قلبِ سلیم — فرمایا کہ اس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے، مگر جو قلبِ سلیم لے کر حاضر ہو۔
7 1۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام (آیات 69 تا 104) — مجرموں کا انجام — مجرم، گم راہ اور ابلیس کے لشکر جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے، جہاں وہ آپس میں جھگڑیں گے اور واپسی کی تمنا کریں گے۔
8 2۔ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 105 تا 122) — دعوت — انہوں نے فرمایا: کیا تم نہیں ڈرتے؟ میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں؛ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
9 2۔ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 105 تا 122) — بے غرضی — میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر رب العالمین کے ذمے ہے۔
10 2۔ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 105 تا 122) — قوم کا اعتراض — ہم تم پر کیسے ایمان لائیں جبکہ تمھاری پیروی حقیر لوگ کر رہے ہیں؟
11 2۔ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 105 تا 122) — اصولی جواب — ان کا حساب میرے رب کے ذمے ہے، اور میں ایمان والوں کو دھتکارنے والا نہیں۔
12 2۔ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 105 تا 122) — دھمکی — قوم نے سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔
13 2۔ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 105 تا 122) — دعا اور نجات — انہوں نے فیصلہ اللہ کے سپرد کیا؛ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں نجات ملی اور باقی غرق کر دیے گئے۔
14 3۔ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 141 تا 159) — دعوت — قومِ ثمود سے فرمایا: کیا تم نہیں ڈرتے؟ میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں؛ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، اور میں کوئی اجر نہیں مانگتا۔
15 3۔ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 141 تا 159) — نعمتوں کی یاد دہانی — انہیں یاد دلایا کہ باغات، چشمے، کھیتیاں اور نرم و نازک خوشوں والے کھجور کے درخت انہی کو عطا ہوئے۔
16 3۔ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 141 تا 159) — تنبیہ — تم پہاڑوں کو تراش کر اتراتے ہوئے گھر بناتے ہو؛ اللہ سے ڈرو اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو جو زمین میں فساد کرتے ہیں۔
17 3۔ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 141 تا 159) — قوم کا الزام — انہوں نے کہا کہ تم پر تو جادو کیا گیا ہے، تم ہمارے ہی جیسے بشر ہو؛ کوئی نشانی لے آؤ۔
18 3۔ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 141 تا 159) — اونٹنی کی نشانی — انہوں نے فرمایا کہ یہ اونٹنی ہے، ایک باری اس کی اور ایک مقررہ دن تمھارے پینے کی؛ اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا۔
19 3۔ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 141 تا 159) — انجام — انہوں نے کونچیں کاٹ دیں، پھر نادم ہوئے، مگر عذاب نے انہیں آ پکڑا۔
20 تینوں واقعات کے مشترک نکات — ہر نبی کی دعوت کا آغاز تقویٰ اور توحید سے ہوا
21 تینوں واقعات کے مشترک نکات — ہر نبی نے اپنی امانت داری کا اعلان کیا اور اجر لینے سے انکار کیا
22 تینوں واقعات کے مشترک نکات — انکار کی جڑ ہمیشہ تکبر، تقلید یا دنیا کی محبت رہی
23 تینوں واقعات کے مشترک نکات — ہر قصے کا اختتام ایک ہی جملے پر ہوا: اس میں نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے؛ اور بے شک تمھارا رب ہی غالب اور رحم فرمانے والا ہے

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.