فَأَنجَيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 119)
«وَمَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ» میں «الْفُلْكِ» عربی قواعد کے لحاظ سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
فَأَنجَيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 119)
«وَمَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ» میں «الْفُلْكِ» عربی قواعد کے لحاظ سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 129)
«مَصَانِعَ» کا معنی ہے:
الف) بڑے بڑے میدان • ب) بڑے بڑے گھر • ج) بڑے بڑے محلات • د) بڑے بڑے صحرا
وَزُرُوعٖ وَنَخۡلٖ طَلۡعُهَا هَضِيمٞ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 148)
«هَضِیْمٌ» کا معنی ہے:
الف) نرم و نازک • ب) دبلا پتلا • ج) ملائم • د) سنگ دل
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 121)
«وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ» ۔ ان میں سے اکثر نہیں تھے:
الف) صبر کرنے والے • ب) ایمان لانے والے • ج) شکر کرنے والے • د) نصیحت کرنے والے
فَعَقَرُوهَا فَأَصۡبَحُواْ نَٰدِمِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 157)
«فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَ» ۔ آیت کی رو سے مجرمین ہو گئے:
الف) ناکام • ب) گم راہ • ج) نادم • د) پریشان
قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُونَكُمۡ إِذۡ تَدۡعُونَ أَوۡ يَنفَعُونَكُمۡ أَوۡ يَضُرُّونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 72 اور 73)
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کی حقیقت واضح کرنے کے لیے قوم سے کیا سوالات کیے؟
انہوں نے فرمایا: کیا وہ تمھاری (پکار) سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟ یا وہ تمھیں کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا نقصان؟
کیے گئے سوالات اور قوم کا جواب اور اس کا رد
فَكُبۡكِبُواْ فِيهَا هُمۡ وَٱلۡغَاوُۥنَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 94)
آیتِ کریمہ میں مجرمین کی کس سزا کا بیان ہے؟
پس وہ اور تمام گم راہ اس (جہنم) میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔
آیت میں یہ سزا بیان ہوئی ہے کہ مجرموں کو ان کے جھوٹے معبودوں سمیت جہنم میں اوندھے منہ گرا دیا جائے گا۔
اہم نکات
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 124 اور 125)
آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا ہود علیہ السلام نے قوم کو کیا تلقین فرمائی؟
جب ان سے ان کے بھائی ہود نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے؟ بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔
تلقین کے اجزا
وَتَنۡحِتُونَ مِنَ ٱلۡجِبَالِ بُيُوتٗا فَٰرِهِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 149)
آیتِ کریمہ میں سیدنا صالح علیہ السلام نے قوم کی کس برائی کو بیان کیا؟
اور تم پہاڑوں کو تراش کر اتراتے ہوئے گھر بناتے ہو۔
انہوں نے قوم کی اس برائی کا ذکر کیا کہ وہ پہاڑوں کو تراش کر فخر و غرور کے ساتھ گھر بناتے تھے۔
برائی کی نوعیت
قَالَ هَٰذِهِۦ نَاقَةٞ لَّهَا شِرۡبٞ وَلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيمٖ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 155 اور 156)
سیدنا صالح علیہ السلام نے قوم کو اونٹنی کے بارے میں کیا ہدایات فرمائیں؟
انہوں نے فرمایا: یہ اونٹنی ہے، ایک باری اس کے پینے کی ہے اور ایک مقررہ دن تمھارے پینے کی باری ہے۔ اور اسے برائی کے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ تمھیں ایک بڑے دن کا عذاب آ پکڑے گا۔
دی گئی ہدایات
قَالَ وَمَا عِلۡمِي بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ إِنۡ حِسَابُهُمۡ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّيۖ لَوۡ تَشۡعُرُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 112 اور 113)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
انہوں نے فرمایا: مجھے کیا خبر کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں؟ ان کا حساب تو صرف میرے رب کے ذمے ہے، کاش کہ تم سمجھتے۔
مفہوم اور اہم نکات
أَتَبۡنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةٗ تَعۡبَثُونَ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 128 اور 129)
آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد کو کن باتوں پر تنبیہ کی ہے؟
کیا تم ہر اونچی جگہ پر بلا ضرورت ایک یادگار (عمارت) بناتے ہو؟ اور تم بڑے بڑے محلات بناتے ہو، گویا تم ہمیشہ (زندہ) رہو گے۔
تنبیہ کی گئی باتیں اور قوم کا جواب اور انجام
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 108 اور 109)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمے ہے۔
مفہوم اور اہم نکات
أَتَبۡنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةٗ تَعۡبَثُونَ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُونَ
نکرہ اور معرفہ کی تعریف اور ہر ایک کی دو دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔
خاص اور عام ہونے کے لحاظ سے اسم کی دو قسمیں ہیں: نکرہ اور معرفہ۔
1۔ نکرہ اور 2۔ معرفہ
ٱلَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهۡدِينِ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 78 تا 82)
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے «رب العالمین» کی جو صفات بیان فرمائیں، انھیں تحریر کریں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آیات 78 تا 82 میں رب العالمین کی پانچ صفات بیان فرمائیں:
قابلِ غور نکات اور اس کے بعد کی دعائیں (آیات 83 تا 89)
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 105 تا 118)
سیدنا نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس پر مذاکرہ کریں۔
یہ مکالمہ آیات 105 تا 118 میں بیان ہوا ہے۔ اسے مکالمے کی صورت میں یوں پیش کیا جا سکتا ہے:
قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُونَكُمۡ إِذۡ تَدۡعُونَ أَوۡ يَنفَعُونَكُمۡ أَوۡ يَضُرُّونَ
سیدنا نوح علیہ السلام، سیدنا صالح علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے واقعات مختصراً بیان کریں۔
اس سبق (آیات 69 تا 159) میں بیان کردہ ان تینوں انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا خلاصہ درج ذیل ہے:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔