چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 7: سبق 7: سورۃ الشعراء (آیات: 1 تا 68) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 2)

«مُبِیْنٌ» کا معنی ہے:

الف) بیان • ب) مخفی • ج) مبہم • د) واضح

جواب د) واضح — سورت کے آغاز میں فرمایا گیا کہ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں، یعنی وہ کتاب جو حق کو کھول کر بیان کر دیتی ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

فَأَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 53)

«فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَ» ۔ فرعون نے شہروں میں بھیجے:

الف) قتل کرنے والے • ب) جمع کرنے والے • ج) فساد پھیلانے والے • د) جادو کرنے والے

جواب ب) جمع کرنے والے — «حٰشِرِیْن» جمع کرنے والوں کو کہتے ہیں۔ بنی اسرائیل کی روانگی کا علم ہوتے ہی فرعون نے شہروں میں لشکر جمع کرنے والے بھیج دیے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَٰذِرُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 56)

«وَاِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَ» ۔ اور فرعون نے کہا بے شک ہم جماعت ہیں:

الف) بڑی طاقتور • ب) بڑی بہادر • ج) بڑی محتاط • د) بڑی عقل مند

جواب ج) بڑی محتاط — «حٰذِرُوْن» چوکنا اور محتاط رہنے والوں کو کہتے ہیں۔ فرعون نے اپنے لشکر کو یہ کہہ کر ابھارا کہ یہ (بنی اسرائیل) تو ایک چھوٹی سی جماعت ہے، ہمیں غصہ دلا رہی ہے، اور ہم پوری طرح چوکس ہیں۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

فَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡبَحۡرَۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٖ كَٱلطَّوۡدِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 63)

«الْبَحْرَ» کا معنی ہے:

الف) سمندر • ب) تالاب • ج) جھیل • د) ندی

جواب الف) سمندر — حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنا عصا سمندر پر ماریں، چنانچہ وہ پھٹ گیا اور ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح ہو گیا۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 9)

«اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ» میں «الْعَزِیْزُ» عربی قواعد کے لحاظ سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر

جواب الف) اسم — «اَلْعَزِیْز» اللہ تعالیٰ کی ایک صفت کا نام ہے اور اس کے شروع میں «ال» بھی آیا ہے، جو اسم ہونے کی علامت ہے۔ اس میں کسی زمانے کا مفہوم نہیں پایا جاتا۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

قَالَ أَلَمۡ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدٗا وَلَبِثۡتَ فِينَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 18)

آیتِ کریمہ کی روشنی میں جواب دیں کہ فرعون نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سامنے کیا احسان جتلایا؟

ترجمہ

(فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تمھیں اپنے پاس بچپن میں پالا نہیں تھا؟ اور تم نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کئی سال گزارے۔

فرعون نے یہ احسان جتلایا کہ ہم نے تمھیں بچپن میں اپنے ہاں پالا پوسا اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے پاس گزارے۔

اہم نکات

1 احسان جتلانے کا مقصد — دعوتِ حق کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے شرمندہ کر کے خاموش کرانا۔
2 دوسرا الزام — اگلی آیت میں اس نے قبطی کے قتل کا واقعہ بھی یاد دلایا اور ناشکری کا طعنہ دیا۔
3 موسیٰ علیہ السلام کا جواب — انہوں نے فرمایا کہ وہ کام مجھ سے بے خبری میں ہوا، پھر میں تم سے ڈر کر نکل گیا، تو میرے رب نے مجھے حکمت عطا فرمائی اور رسولوں میں شامل کیا۔
4 احسان کا رد — انہوں نے فرمایا کہ یہ کون سا احسان ہے جو تو مجھ پر جتا رہا ہے، جبکہ تو نے پوری بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔
7 مختصر جوابات

فَأَلۡقَوۡاْ حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 44)

جادوگروں نے کس طرح جادو پیش کیا؟

ترجمہ

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں ڈال دیں اور کہا: فرعون کی عزت کی قسم! بے شک ہم ہی غالب آنے والے ہیں۔

پیش کرنے کا انداز

1 رسیاں اور لاٹھیاں — انہوں نے میدان میں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں، جو دیکھنے والوں کو دوڑتے سانپ محسوس ہوئیں۔
2 فرعون کی قسم — انہوں نے «بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ» کہہ کر فرعون کی عزت کی قسم کھائی، جو ان کی وابستگی اور غرور کا اظہار تھا۔
3 فتح کا دعویٰ — انہوں نے پورے اعتماد سے کہا کہ غالب ہم ہی آئیں گے۔
4 انجام — حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عصا ڈالا تو وہ ان کے سارے فریب کو نگل گیا، اور جادوگر سجدے میں گر پڑے۔
8 مختصر جوابات

قَالَ ءَامَنتُمۡ لَهُۥ قَبۡلَ أَنۡ ءَاذَنَ لَكُمۡۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِي عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحۡرَ فَلَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 49)

فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو کس سزا کی دھمکی دی؟

ترجمہ

(فرعون نے) کہا: تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمھیں اجازت دوں؟ بے شک یہ تمھارا بڑا (استاد) ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، سو عنقریب تم جان لو گے۔ میں ضرور تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا اور ضرور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔

دھمکی کی تفصیل

1 اعضا کاٹنا — ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دینے کی دھمکی۔
2 سولی پر لٹکانا — سب کو اجتماعی طور پر سولی دینے کی دھمکی۔
3 جھوٹا الزام — اس نے یہ الزام بھی لگایا کہ موسیٰ ہی تمھارا استاد ہے اور یہ سب پہلے سے طے شدہ سازش ہے۔
4 جادوگروں کا جواب — انہوں نے کہا: کوئی نقصان نہیں، ہم تو اپنے رب ہی کی طرف پلٹنے والے ہیں؛ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے گا، کیوں کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔
9 مختصر جوابات

قَالَ كَلَّآۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهۡدِينِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 62)

جب قوم نے پکڑے جانے کا ڈر ظاہر کیا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے انہیں کیا تسلی دی؟

ترجمہ

انہوں نے فرمایا: ہرگز نہیں! بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راستہ دکھا دے گا۔

انہوں نے دو ٹوک انکار کے ساتھ فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا، کیوں کہ میرا رب میرے ساتھ ہے اور وہی مجھے راستہ دکھائے گا۔

تسلی کے اجزا

1 كَلَّا (ہرگز نہیں) — اندیشے کی قطعی نفی، تاکہ قوم کے دلوں سے خوف نکل جائے۔
2 اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ — میرے ساتھ میرا رب ہے — یہی ایمان کی اصل طاقت ہے۔
3 سَیَهْدِیْنِ — وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا اور نکلنے کا راستہ بنائے گا۔
4 فوری تصدیق — اسی وقت وحی آئی کہ عصا سمندر پر مارو، اور راستہ بن گیا۔
10 مختصر جوابات

فَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡبَحۡرَۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٖ كَٱلطَّوۡدِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 63)

جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عصا مارا تو سمندر کا کیا حال ہوا؟

ترجمہ

تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ پس وہ پھٹ گیا، تو اس کا ہر حصہ بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہو گیا۔

سمندر کی حالت

1 پھٹ جانا (فَانْفَلَقَ) — عصا لگتے ہی سمندر بارہ حصوں میں پھٹ گیا۔
2 پہاڑ جیسے حصے — ہر حصہ «كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ» یعنی ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا۔
3 خشک راستے — ان کے درمیان خشک راستے نمودار ہو گئے جن سے بنی اسرائیل گزر گئے۔
4 انجام — حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے سب ساتھی بچا لیے گئے اور فرعون اور اس کا لشکر غرق کر دیا گیا۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

وَيَضِيقُ صَدۡرِي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرۡسِلۡ إِلَىٰ هَٰرُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 13)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان (خوب روانی سے) نہیں چلتی، پس ہارون کی طرف (بھی نبوت) بھیج دے۔

مفہوم اور اہم نکات

1 پس منظر — اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی ظالم قوم کی طرف جانے کا حکم دیا۔
2 پہلا اندیشہ — انہوں نے عرض کیا کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔
3 سینے کی تنگی — جھٹلائے جانے کے خدشے سے دل پر بوجھ اور گھٹن محسوس ہوتی ہے۔
4 زبان کی روانی — گفتگو میں روانی کی کمی کا ذکر کیا، تاکہ دعوت کا حق ادا ہو سکے۔
5 ہارون علیہ السلام کی درخواست — انہوں نے اپنے بھائی کے لیے نبوت اور معاونت کی درخواست کی، جو قبول فرما لی گئی۔
6 سبق — دعوتِ دین میں اپنی کمزوری کا اعتراف اور مددگار کا طلب کرنا سنتِ انبیا ہے۔
12 تفصیلی جوابات

سورۃ الشعراء کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ الشعراء مکی سورت ہے اور اس کا نام سورت کے آخری حصے کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔

وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات

1 وجہِ تسمیہ — سورۃ الشعراء کے آخر میں اچھے اور برے شعرا کی صفات کا بیان ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام «الشعراء» ہے۔
2 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید میں یہ 26ویں سورت ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 47ویں نمبر پر ہے۔
3 تعارفی معلومات — نوعیت — یہ مکی سورت ہے۔
4 تعارفی معلومات — آیات و رکوع — اس کی آیات کی تعداد 227 اور رکوع 11 ہیں۔
5 تعارفی معلومات — امتیازی خصوصیت — آیات کی تعداد کے لحاظ سے سورۃ الشعراء طویل ترین سورت ہے۔
جواب مرکزی مضمون — عقائدِ ثلاثہ (توحید، رسالت اور آخرت) کا اثبات اور ہلاک کی گئی سابقہ اقوام کا تذکرہ۔
13 تفصیلی جوابات

سورۃ الشعراء کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الشعراء کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 مشرکینِ مکہ کے بارے میں آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلی
2 سات انبیائے کرام علیہم السلام کا اپنی قوم کو بڑی ہمت اور عزیمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دینے کا ذکر
3 دعوتِ توحید کو قبول کرنے والوں کے نجات پانے اور کفار پر دنیا میں بھی عذاب اتارے جانے کا بیان
4 سابقہ نافرمان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کا ذکر
5 فضائلِ قرآن کا ذکر
6 شاعروں کی عمومی کمزوریوں کو بیان کر کے اچھے شعرا کی صفات کا ذکر
7 جھوٹے اور گناہ گار لوگوں پر شیاطین کے اترنے کا ذکر
14 تفصیلی جوابات

مذکر اور مؤنث کی تعریف کریں اور ہر ایک کی دو دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔

جنس کے لحاظ سے اسم کی دو اقسام ہیں: مذکر اور مؤنث۔

1 1۔ مذکر — تعریف — وہ اسم جو انسان، حیوان یا کسی چیز کے نر کو ظاہر کرے اور اس میں مؤنث کی علامت نہ ہو۔
2 1۔ مذکر — عام مثالیں — رَجُلٌ، مُسْلِمٌ، صَالِحٌ
3 1۔ مذکر — سبق میں سے — «اَلْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ» (آیت 9) اور «الطَّوْدِ الْعَظِیْمِ» (آیت 63) — نیز «ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ» (آیت 32)
4 2۔ مؤنث — تعریف — وہ اسم جس میں مؤنث کی علامت لفظاً یا معناً پائی جاتی ہو۔
5 2۔ مؤنث — علاماتِ تانیث — (1) گول «ۃ» — جیسے مُسْلِمٌ سے مُسْلِمَةٌ، مُؤْمِنٌ سے مُؤْمِنَةٌ۔ (2) الفِ مقصورہ — جیسے صُغْرٰی، حُسْنٰی۔ (3) الفِ ممدودہ — جیسے سَوْدَآءُ، حَمْرَآءُ۔
6 2۔ مؤنث — مؤنث سماعی — بعض اسماء میں مؤنث کی علامت نہیں ہوتی، لیکن اہلِ لسان انہیں مؤنث مراد لیتے ہیں، جیسے یَدٌ، بِئْرٌ۔ انہیں مؤنث سماعی کہا جاتا ہے۔
7 2۔ مؤنث — سبق میں سے — «بَیْضَآءُ» (آیت 33) — الفِ ممدودہ کی وجہ سے مؤنث، اور «فَعْلَتَكَ» (آیت 19) — گول «ۃ» کی وجہ سے مؤنث۔ نیز «نِعْمَةٌ» (آیت 22)
8 اہم معلومات — اسم اگر مؤنث جمع ہو تو اس کے آخر میں «ت» آئے گی، جیسے: مُسْلِمَاتٌ، مُؤْمِنَاتٌ، صَالِحَاتٌ۔
9 «مُفْلِحٌ» (کامیاب ہونے والا) کی گردان — مذکر واحد — رفع: مُفْلِحٌ • نصب: مُفْلِحًا • جر: مُفْلِحٍ
10 «مُفْلِحٌ» (کامیاب ہونے والا) کی گردان — مذکر تثنیہ — رفع: مُفْلِحَانِ • نصب و جر: مُفْلِحَیْنِ
11 «مُفْلِحٌ» (کامیاب ہونے والا) کی گردان — مذکر جمع — رفع: مُفْلِحُوْنَ • نصب و جر: مُفْلِحِیْنَ
12 «مُفْلِحٌ» (کامیاب ہونے والا) کی گردان — مؤنث واحد — رفع: مُفْلِحَةٌ • نصب: مُفْلِحَةً • جر: مُفْلِحَةٍ
13 «مُفْلِحٌ» (کامیاب ہونے والا) کی گردان — مؤنث تثنیہ — رفع: مُفْلِحَتَانِ • نصب و جر: مُفْلِحَتَیْنِ
14 «مُفْلِحٌ» (کامیاب ہونے والا) کی گردان — مؤنث جمع — رفع: مُفْلِحَاتٌ • نصب و جر: مُفْلِحَاتِ

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

قَالَ أَلَمۡ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدٗا وَلَبِثۡتَ فِينَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 18 تا 31)

سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان ہونے والی گفتگو پر مذاکرہ کریں۔

یہ گفتگو آیات 18 تا 31 میں بیان ہوئی ہے۔ اس کے مراحل درج ذیل ہیں:

گفتگو کے مراحل اور مذاکرے کے لیے نکات

1 گفتگو کے مراحل — 1۔ احسان جتلانا — فرعون نے کہا: کیا ہم نے تمھیں بچپن میں اپنے ہاں نہیں پالا؟ اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے پاس گزارے۔
2 گفتگو کے مراحل — 2۔ پرانا الزام — اور تم نے وہ کام بھی کیا جو تم نے کیا (قبطی کا قتل)، اور تم ناشکروں میں سے ہو۔
3 گفتگو کے مراحل — 3۔ موسیٰ علیہ السلام کا جواب — میں نے وہ کام اس وقت کیا جب مجھے (اس کے انجام کا) پتا نہ تھا۔ پھر میں تم سے ڈر کر نکل گیا، تو میرے رب نے مجھے حکمت عطا فرمائی اور رسولوں میں شامل کر لیا۔
4 گفتگو کے مراحل — 4۔ احسان کا رد — یہ کون سا احسان ہے جو تو مجھ پر جتا رہا ہے، جبکہ تو نے پوری بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔
5 گفتگو کے مراحل — 5۔ رب کے بارے میں سوال — فرعون نے پوچھا: اور رب العالمین کیا ہے؟
6 گفتگو کے مراحل — 6۔ پہلا جواب — وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
7 گفتگو کے مراحل — 7۔ طنز اور دوسرا جواب — فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا: کیا تم سن نہیں رہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ تمھارا رب بھی ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا بھی۔
8 گفتگو کے مراحل — 8۔ دیوانگی کا الزام — فرعون بولا: تمھاری طرف بھیجا گیا یہ رسول تو ضرور دیوانہ ہے۔ انہوں نے فرمایا: وہ مشرق و مغرب اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو۔
9 گفتگو کے مراحل — 9۔ قید کی دھمکی — فرعون نے کہا: اگر تو نے میرے سوا کوئی اور معبود بنایا تو میں ضرور تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا۔
10 گفتگو کے مراحل — 10۔ معجزے کی پیشکش — انہوں نے فرمایا: اگرچہ میں تمھارے پاس کوئی واضح چیز لے آؤں (تب بھی)؟ فرعون نے کہا: تو لے آ، اگر تو سچوں میں سے ہے۔
11 مذاکرے کے لیے نکات — اہلِ باطل کا انداز — دلیل کے بجائے احسان جتلانا، پرانی باتیں یاد دلانا، طنز کرنا، دیوانگی کا الزام لگانا اور آخر میں دھمکی دینا۔
12 مذاکرے کے لیے نکات — اہلِ حق کا انداز — ہر بار سکون کے ساتھ ٹھوس جواب دینا، توحید کی طرف لوٹنا اور کبھی موضوع سے نہ ہٹنا۔
13 مذاکرے کے لیے نکات — اصل نکتہ — گفتگو کا محور فرعون کا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ ربوبیت کا سوال تھا، اور موسیٰ علیہ السلام نے ہر جواب میں اسی کو مضبوط کیا۔
14 مذاکرے کے لیے نکات — حکمرانی کا نشہ — جب دلائل ختم ہو گئے تو فرعون کے پاس صرف قید اور طاقت کی دھمکی باقی رہ گئی۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

قَالُواْ لَا ضَيۡرَۖ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 50)

جادوگروں نے فرعون کے ظلم کے باوجود حق کو پہچان کر اس پر ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر کریں۔

ترجمہ

انہوں نے کہا: کوئی نقصان نہیں، بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف پلٹنے والے ہیں۔

اس واقعے سے ہمیں درج ذیل اہم اسباق ملتے ہیں:

1 حق کی پہچان علم سے آتی ہے — جادوگر خود اس فن کے ماہر تھے، اسی لیے وہ فوراً جان گئے کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ کی نشانی ہے۔
2 حق قبول کرنے میں تاخیر نہ کرنا — انہوں نے سوچ بچار یا مصلحت کا انتظار کیے بغیر اسی وقت ایمان کا اعلان کر دیا۔
3 اعلانِ حق میں جھجک نہ ہو — انہوں نے یہ اعلان فرعون کے اپنے دربار میں، اس کے سامنے کیا۔
4 ایمان دلوں کو بدل دیتا ہے — صبح جو لوگ انعام کے لالچ میں آئے تھے، شام ہوتے ہوتے شہادت کے لیے تیار ہو گئے۔
5 دھمکی سے حق نہیں چھوڑا جاتا — ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی کی دھمکی پر انہوں نے کہا: «لَا ضَیْرَ» — کوئی نقصان نہیں۔
6 آخرت کا یقین — ان کی اصل طاقت یہ یقین تھا کہ ہم بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
7 مغفرت کی امید — انہوں نے ماضی کے گناہوں سے مایوس ہونے کے بجائے امید رکھی کہ رب ہماری خطائیں بخش دے گا۔
8 باطل کی بے بسی — فرعون کے پاس جواب کے نام پر صرف الزام اور ظلم رہ گیا تھا۔
9 سچی توبہ ماضی کو مٹا دیتی ہے — وہی ہاتھ جو جادو میں مصروف تھے، سب سے پہلے سجدے میں گر پڑے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

17 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فَلَمَّا تَرَـٰٓءَا ٱلۡجَمۡعَانِ قَالَ أَصۡحَٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدۡرَكُونَ قَالَ كَلَّآۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهۡدِينِ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 61 اور 62)

ساحلِ سمندر پر جب فرعون کا لشکر اور بنی اسرائیل عین آمنے سامنے تھے، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو کیا فرمایا؟

ترجمہ

پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا: بے شک ہم تو پکڑے گئے۔ انہوں نے فرمایا: ہرگز نہیں! بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راستہ دکھا دے گا۔

1 منظر کی تصویر — ایک طرف سامنے گہرا سمندر تھا اور دوسری طرف پیچھے سے فرعون کا مسلح لشکر آ رہا تھا۔ ظاہری اسباب کے اعتبار سے بچنے کی کوئی صورت باقی نہ تھی۔ ساتھیوں کے منہ سے بے اختیار نکلا: «اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ» — ہم تو پکڑے گئے۔
2 موسیٰ علیہ السلام کا جواب — كَلَّا — انہوں نے پہلے ہی لفظ سے اندیشے کو قطعی رد کر دیا: ہرگز ایسا نہیں ہو گا۔
3 موسیٰ علیہ السلام کا جواب — اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ — میرے ساتھ میرا رب ہے — یعنی گنتی اور ہتھیار کا نہیں، معیت الٰہی کا حساب لگاؤ۔
4 موسیٰ علیہ السلام کا جواب — سَیَهْدِیْنِ — وہ ضرور مجھے راستہ دکھائے گا؛ یہ جملہ حال پر نہیں، مستقبل پر یقین کا اعلان ہے۔
5 اس کے بعد کیا ہوا؟ — وحیِ الٰہی — فوراً حکم آیا کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔
6 اس کے بعد کیا ہوا؟ — سمندر کا پھٹنا — سمندر پھٹ گیا اور ہر حصہ بہت بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا۔
7 اس کے بعد کیا ہوا؟ — نجات اور غرق — موسیٰ علیہ السلام اور ان کے سب ساتھی بچا لیے گئے، اور پیچھے آنے والوں کو غرق کر دیا گیا۔
8 ہمارے لیے سبق — اسباب ختم ہو جائیں تب بھی اللہ کا سہارا ختم نہیں ہوتا
9 ہمارے لیے سبق — قائد کا کام گھبراہٹ میں یقین دلانا ہے، خوف بڑھانا نہیں
10 ہمارے لیے سبق — اللہ کی مدد اکثر آخری لمحے میں آتی ہے، تاکہ توکل کا امتحان مکمل ہو
11 ہمارے لیے سبق — اطاعت پہلے، معجزہ بعد میں — عصا مارنے کا حکم ماننا شرط تھا
18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ا؟ فَأَلۡقَوۡاْ حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبُونَ

سبق نمبر 7 میں قومِ موسیٰ علیہ السلام کے چند واقعات بیان ہوئے ہیں، وہ تحریر کریں۔

اس سبق (آیات 1 تا 68) میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے متعلق درج ذیل واقعات بیان ہوئے ہیں:

1 نبوت اور حکمِ روانگی (آیات 10 تا 15) — اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پکارا کہ ظالم قوم یعنی قومِ فرعون کے پاس جاؤ۔ انہوں نے جھٹلائے جانے کا اندیشہ ظاہر کیا اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے لیے درخواست کی، جو قبول ہوئی۔
2 فرعون کے دربار میں پیغام (آیت 16) — دونوں نے جا کر کہا کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے رسول ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو۔
3 احسان جتلانا اور مکالمہ (آیات 18 تا 28) — فرعون نے پرورش کا احسان جتلایا اور قتل کا واقعہ یاد دلایا؛ پھر رب العالمین کے بارے میں سوالات کیے، جن کے موسیٰ علیہ السلام نے مضبوط جوابات دیے۔
4 قید کی دھمکی اور دو معجزے (آیات 29 تا 33) — فرعون نے قید کی دھمکی دی، تو انہوں نے عصا ڈالا جو کھلا اژدہا بن گیا، اور ہاتھ نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا سفید تھا۔
5 جادوگروں کا اجتماع (آیات 34 تا 42) — فرعون نے انہیں ماہر جادوگر قرار دیا اور شہروں سے جادوگر جمع کیے، جنہوں نے انعام کا مطالبہ کیا۔
6 مقابلہ اور جادوگروں کا ایمان (آیات 43 تا 48) — جادوگروں نے رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں؛ موسیٰ علیہ السلام کے عصا نے سب نگل لیا، اور وہ سجدے میں گر کر رب العالمین پر ایمان لے آئے۔
7 دھمکی اور استقامت (آیات 49 تا 51) — فرعون نے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی کی دھمکی دی، مگر انہوں نے کہا: کوئی نقصان نہیں، ہم اپنے رب ہی کی طرف پلٹنے والے ہیں۔
8 رات کو ہجرت کا حکم (آیت 52) — اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ میرے بندوں کو رات کو لے کر نکل جاؤ، تمھارا پیچھا کیا جائے گا۔
9 فرعون کا تعاقب (آیات 53 تا 60) — اس نے شہروں میں لشکر جمع کرنے والے بھیجے اور کہا کہ یہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے جو ہمیں غصہ دلا رہی ہے اور ہم پوری طرح چوکس ہیں۔
10 ساحلِ سمندر پر خوف اور تسلی (آیات 61 اور 62) — ساتھیوں نے کہا کہ ہم پکڑے گئے، تو انہوں نے فرمایا: ہرگز نہیں، میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔
11 سمندر کا پھٹنا اور نجات (آیات 63 تا 66) — عصا مارنے پر سمندر پھٹ گیا، ہر حصہ بڑے پہاڑ جیسا ہو گیا؛ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی بچ گئے اور فرعون کا لشکر غرق ہو گیا۔
12 عبرت کا اعلان (آیات 67 اور 68) — فرمایا گیا کہ اس میں یقیناً بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے؛ اور بے شک تمھارا رب ہی غالب اور رحم فرمانے والا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.