تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 2)
«مُبِیْنٌ» کا معنی ہے:
الف) بیان • ب) مخفی • ج) مبہم • د) واضح
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 2)
«مُبِیْنٌ» کا معنی ہے:
الف) بیان • ب) مخفی • ج) مبہم • د) واضح
فَأَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 53)
«فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَ» ۔ فرعون نے شہروں میں بھیجے:
الف) قتل کرنے والے • ب) جمع کرنے والے • ج) فساد پھیلانے والے • د) جادو کرنے والے
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَٰذِرُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 56)
«وَاِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَ» ۔ اور فرعون نے کہا بے شک ہم جماعت ہیں:
الف) بڑی طاقتور • ب) بڑی بہادر • ج) بڑی محتاط • د) بڑی عقل مند
فَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡبَحۡرَۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٖ كَٱلطَّوۡدِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 63)
«الْبَحْرَ» کا معنی ہے:
الف) سمندر • ب) تالاب • ج) جھیل • د) ندی
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 9)
«اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ» میں «الْعَزِیْزُ» عربی قواعد کے لحاظ سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر
قَالَ أَلَمۡ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدٗا وَلَبِثۡتَ فِينَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 18)
آیتِ کریمہ کی روشنی میں جواب دیں کہ فرعون نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سامنے کیا احسان جتلایا؟
(فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تمھیں اپنے پاس بچپن میں پالا نہیں تھا؟ اور تم نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کئی سال گزارے۔
فرعون نے یہ احسان جتلایا کہ ہم نے تمھیں بچپن میں اپنے ہاں پالا پوسا اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے پاس گزارے۔
اہم نکات
فَأَلۡقَوۡاْ حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 44)
جادوگروں نے کس طرح جادو پیش کیا؟
تو انہوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں ڈال دیں اور کہا: فرعون کی عزت کی قسم! بے شک ہم ہی غالب آنے والے ہیں۔
پیش کرنے کا انداز
قَالَ ءَامَنتُمۡ لَهُۥ قَبۡلَ أَنۡ ءَاذَنَ لَكُمۡۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِي عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحۡرَ فَلَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 49)
فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو کس سزا کی دھمکی دی؟
(فرعون نے) کہا: تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمھیں اجازت دوں؟ بے شک یہ تمھارا بڑا (استاد) ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، سو عنقریب تم جان لو گے۔ میں ضرور تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا اور ضرور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔
دھمکی کی تفصیل
قَالَ كَلَّآۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهۡدِينِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 62)
جب قوم نے پکڑے جانے کا ڈر ظاہر کیا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے انہیں کیا تسلی دی؟
انہوں نے فرمایا: ہرگز نہیں! بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راستہ دکھا دے گا۔
انہوں نے دو ٹوک انکار کے ساتھ فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا، کیوں کہ میرا رب میرے ساتھ ہے اور وہی مجھے راستہ دکھائے گا۔
تسلی کے اجزا
فَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡبَحۡرَۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٖ كَٱلطَّوۡدِ ٱلۡعَظِيمِ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 63)
جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عصا مارا تو سمندر کا کیا حال ہوا؟
تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ پس وہ پھٹ گیا، تو اس کا ہر حصہ بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہو گیا۔
سمندر کی حالت
وَيَضِيقُ صَدۡرِي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرۡسِلۡ إِلَىٰ هَٰرُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 13)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اور میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان (خوب روانی سے) نہیں چلتی، پس ہارون کی طرف (بھی نبوت) بھیج دے۔
مفہوم اور اہم نکات
سورۃ الشعراء کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سورۃ الشعراء مکی سورت ہے اور اس کا نام سورت کے آخری حصے کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔
وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات
سورۃ الشعراء کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الشعراء کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
مذکر اور مؤنث کی تعریف کریں اور ہر ایک کی دو دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔
جنس کے لحاظ سے اسم کی دو اقسام ہیں: مذکر اور مؤنث۔
قَالَ أَلَمۡ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدٗا وَلَبِثۡتَ فِينَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِينَ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 18 تا 31)
سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان ہونے والی گفتگو پر مذاکرہ کریں۔
یہ گفتگو آیات 18 تا 31 میں بیان ہوئی ہے۔ اس کے مراحل درج ذیل ہیں:
گفتگو کے مراحل اور مذاکرے کے لیے نکات
قَالُواْ لَا ضَيۡرَۖ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 50)
جادوگروں نے فرعون کے ظلم کے باوجود حق کو پہچان کر اس پر ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر کریں۔
انہوں نے کہا: کوئی نقصان نہیں، بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف پلٹنے والے ہیں۔
اس واقعے سے ہمیں درج ذیل اہم اسباق ملتے ہیں:
فَلَمَّا تَرَـٰٓءَا ٱلۡجَمۡعَانِ قَالَ أَصۡحَٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدۡرَكُونَ قَالَ كَلَّآۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهۡدِينِ (سورۃ الشعراء ۔ آیات 61 اور 62)
ساحلِ سمندر پر جب فرعون کا لشکر اور بنی اسرائیل عین آمنے سامنے تھے، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو کیا فرمایا؟
پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا: بے شک ہم تو پکڑے گئے۔ انہوں نے فرمایا: ہرگز نہیں! بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راستہ دکھا دے گا۔
ا؟ فَأَلۡقَوۡاْ حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبُونَ
سبق نمبر 7 میں قومِ موسیٰ علیہ السلام کے چند واقعات بیان ہوئے ہیں، وہ تحریر کریں۔
اس سبق (آیات 1 تا 68) میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے متعلق درج ذیل واقعات بیان ہوئے ہیں:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔