وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 157)
«الطَّیِّبٰتِ» کے معنی ہیں:
الف) روشن چیزیں • ب) پاکیزہ چیزیں • ج) خالص چیزیں • د) نئی چیزیں
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 157)
«الطَّیِّبٰتِ» کے معنی ہیں:
الف) روشن چیزیں • ب) پاکیزہ چیزیں • ج) خالص چیزیں • د) نئی چیزیں
وَقَطَّعۡنَٰهُمُ ٱثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ أَسۡبَاطًا أُمَمٗا (سورۃ الأعراف ۔ آیت 160)
آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو تقسیم کیا:
الف) دس خاندانوں میں • ب) گیارہ خاندانوں میں • ج) بارہ خاندانوں میں • د) اٹھارہ خاندانوں میں
كُونُواْ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 166)
«قِرَدَةً» کے معنی ہیں:
الف) خنزیر • ب) شیر • ج) بندر • د) بھیڑیا
بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 205)
«الْغُدُوِّ» کے معنی ہیں:
الف) صبح • ب) دوپہر • ج) شام • د) رات
وَيُسَبِّحُونَهُۥ وَلَهُۥ يَسۡجُدُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 206)
«یُسَبِّحُوْنَ» کے معنی ہیں:
الف) وہ تسبیح بیان کرتے ہیں • ب) وہ تلاوت کرتے ہیں • ج) وہ ذکر کرتے ہیں • د) وہ نماز پڑھتے ہیں
وَٱخۡتَارَ مُوسَىٰ قَوۡمَهُۥ سَبۡعِينَ رَجُلٗا لِّمِيقَٰتِنَاۖ فَلَمَّآ أَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ قَالَ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ أَهۡلَكۡتَهُم مِّن قَبۡلُ وَإِيَّـٰيَۖ أَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآۖ إِنۡ هِيَ إِلَّا فِتۡنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهۡدِي مَن تَشَآءُۖ أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَاۖ وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡغَٰفِرِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 155)
آیتِ کریمہ میں کیا دعا مانگی گئی ہے؟
تو ہی ہمارا کارساز ہے، لہٰذا ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔
یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا ہے جو انہوں نے کوہِ طور پر ستر منتخب افراد کے ساتھ حاضری کے موقع پر مانگی۔
دعا کے اجزا
ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِيَّ ٱلۡأُمِّيَّ ٱلَّذِي يَجِدُونَهُۥ مَكۡتُوبًا عِندَهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ يَأۡمُرُهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَىٰهُمۡ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡخَبَـٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ إِصۡرَهُمۡ وَٱلۡأَغۡلَٰلَ ٱلَّتِي كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُواْ ٱلنُّورَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 157)
آیتِ کریمہ میں کامیاب لوگوں کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟
پس جو لوگ ان (نبی ﷺ) پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم کی اور ان کی مدد کی اور اس نور (قرآن) کی پیروی کی جو ان کے ساتھ اتارا گیا، یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
کامیاب لوگوں کی چار صفات
خُذِ ٱلۡعَفۡوَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡعُرۡفِ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡجَٰهِلِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 199)
آیتِ کریمہ میں کن تعلیمات کا ذکر ہے؟
در گزر کا رویہ اپنائیے، اور نیکی کا حکم دیجیے، اور جاہلوں سے کنارہ کشی کر لیجیے۔
تین بنیادی تعلیمات
وَٱذۡكُر رَّبَّكَ فِي نَفۡسِكَ تَضَرُّعٗا وَخِيفَةٗ وَدُونَ ٱلۡجَهۡرِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡغَٰفِلِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 205)
آیتِ کریمہ میں ذکر کے حوالے سے کن آداب کا بیان ہے؟
اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے صبح و شام یاد کیا کرو، اور غافلوں میں سے نہ ہو جاؤ۔
ذکر کے آداب
وَإِذَا قُرِئَ ٱلۡقُرۡءَانُ فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 204)
آیتِ کریمہ میں تلاوتِ قرآنِ حکیم کے کیا آداب بیان کیے گئے ہیں؟
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
دو بنیادی آداب
أَلَهُمۡ أَرۡجُلٞ يَمۡشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَيۡدٖ يَبۡطِشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَعۡيُنٞ يُبۡصِرُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ ءَاذَانٞ يَسۡمَعُونَ بِهَاۗ قُلِ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 195)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
کیا ان (بتوں) کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں؟ یا کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہوں؟ یا کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں؟ یا کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں؟ آپ فرما دیجیے: تم اپنے شریکوں کو بلا لو، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کرو اور مجھے مہلت نہ دو۔
مفہوم اور اہم نکات
وَإِذۡ قَالَتۡ أُمَّةٞ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُونَ قَوۡمًا ٱللَّهُ مُهۡلِكُهُمۡ أَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗاۖ قَالُواْ مَعۡذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 164)
آیتِ کریمہ میں نصیحت کرنے والوں نے نافرمان لوگوں کو سمجھانے کی کیا وجہ بیان کی؟
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا: تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے؟ انہوں نے کہا: تمھارے رب کے سامنے معذرت پیش کرنے کے لیے، اور شاید وہ پرہیزگار بن جائیں۔
نصیحت کرنے والوں نے دو وجوہات بیان کیں۔
دونوں وجوہات اور پس منظر اور نتیجہ
إِنَّ وَلِـِّۧيَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡكِتَٰبَۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّـٰلِحِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 196)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
بے شک میرا کارساز وہ اللہ ہے جس نے (یہ) کتاب نازل فرمائی، اور وہ نیک بندوں کی کارسازی فرماتا ہے۔
مفہوم اور اہم نکات
وَإِذۡ قَالَتۡ أُمَّةٞ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُونَ قَوۡمًا ٱللَّهُ مُهۡلِكُهُمۡ أَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗاۖ قَالُواْ مَعۡذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ
واحد، تثنیہ اور جمع کی تعریف کریں اور ہر ایک کی دو دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔
عربی زبان میں تعداد کے لحاظ سے اسم تین حالتوں میں آتا ہے: واحد، تثنیہ اور جمع۔
وَلَقَدۡ ذَرَأۡنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ لَهُمۡ قُلُوبٞ لَّا يَفۡقَهُونَ بِهَا وَلَهُمۡ أَعۡيُنٞ لَّا يُبۡصِرُونَ بِهَا وَلَهُمۡ ءَاذَانٞ لَّا يَسۡمَعُونَ بِهَآۚ أُوْلَـٰٓئِكَ كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّۚ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 179)
سورۃ الأعراف میں لوگوں کو چوپایوں کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ پر مذاکرہ کریں۔
اور بے شک ہم نے جہنم کے لیے جنات اور انسانوں میں سے بہت سوں کو پیدا کیا۔ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گم راہ ہیں۔ یہی لوگ غافل ہیں۔
وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ وَذَرُواْ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ أَسۡمَـٰٓئِهِۦۚ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 180)
اسماء الحسنیٰ کی اہمیت و فضیلت تلاش کریں اور کوئی سے دس اسماء الحسنیٰ ترجمے کے ساتھ زبانی یاد کریں۔
اور اللہ ہی کے لیے سب اچھے نام ہیں، لہٰذا اسے انہی (ناموں) کے ساتھ پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں۔ عنقریب انہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
اہمیت و فضیلت اور دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ
وَسۡـَٔلۡهُمۡ عَنِ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِي كَانَتۡ حَاضِرَةَ ٱلۡبَحۡرِ إِذۡ يَعۡدُونَ فِي ٱلسَّبۡتِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 163)
سورۃ الأعراف کی روشنی میں کسی ایک قصے کے اہم نکات جمع کر کے مذاکرہ کریں۔
یہاں «اصحابِ سبت» (ہفتے والوں) کے قصے کے اہم نکات پیش کیے جا رہے ہیں (آیات 163 تا 166):
مذاکرے کے لیے اسباق
ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِيَّ ٱلۡأُمِّيَّ ٱلَّذِي يَجِدُونَهُۥ مَكۡتُوبًا عِندَهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ يَأۡمُرُهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَىٰهُمۡ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡخَبَـٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ إِصۡرَهُمۡ وَٱلۡأَغۡلَٰلَ ٱلَّتِي كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُواْ ٱلنُّورَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 157)
سورۃ الأعراف کی آیت 157 میں نبی کریم ﷺ کی صفات اور بنیادی اختیارات بیان کیے گئے ہیں، وہ تحریر کریں۔
وہ لوگ جو اس رسول، نبیِ اُمّی کی پیروی کرتے ہیں، جنہیں وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ (نبی) انہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام کرتے ہیں، اور ان سے ان کے بوجھ اتارتے ہیں اور وہ طوق (بھی) جو ان پر پڑے ہوئے تھے۔ پس جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم کی اور ان کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو ان کے ساتھ اتارا گیا، یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
وَقَطَّعۡنَٰهُمُ ٱثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ أَسۡبَاطًا أُمَمٗاۚ وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسۡتَسۡقَىٰهُ قَوۡمُهُۥٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡحَجَرَۖ فَٱنۢبَجَسَتۡ مِنۡهُ ٱثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنٗاۖ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٖ مَّشۡرَبَهُمۡۚ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلۡغَمَٰمَ وَأَنزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰۖ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 160)
سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ کہانی کی صورت میں بیان کریں۔
سورۃ الأعراف میں بیان کردہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ کہانی کی صورت میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔