چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 6: سبق 6: سورۃ الأعراف (آیات: 152 تا 206) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 19 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 157)

«الطَّیِّبٰتِ» کے معنی ہیں:

الف) روشن چیزیں • ب) پاکیزہ چیزیں • ج) خالص چیزیں • د) نئی چیزیں

جواب ب) پاکیزہ چیزیں — آیت میں نبی کریم ﷺ کی صفت بیان ہوئی ہے کہ آپ پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور ناپاک چیزوں (الْخَبٰٓئِث) کو حرام فرماتے ہیں۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَقَطَّعۡنَٰهُمُ ٱثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ أَسۡبَاطًا أُمَمٗا (سورۃ الأعراف ۔ آیت 160)

آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو تقسیم کیا:

الف) دس خاندانوں میں • ب) گیارہ خاندانوں میں • ج) بارہ خاندانوں میں • د) اٹھارہ خاندانوں میں

جواب ج) بارہ خاندانوں میں — بنی اسرائیل کو بارہ الگ الگ جماعتوں (اسباط) میں تقسیم کیا گیا، اور پتھر سے بھی انہی کے مطابق بارہ چشمے جاری کیے گئے تاکہ ہر قبیلہ اپنا گھاٹ پہچان لے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

كُونُواْ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 166)

«قِرَدَةً» کے معنی ہیں:

الف) خنزیر • ب) شیر • ج) بندر • د) بھیڑیا

جواب ج) بندر — یہ ان اہلِ سبت کا انجام ہے جنہوں نے ہفتے کے دن مچھلی کے شکار کی ممانعت کے باوجود سرکشی کی، تو انہیں ذلیل بندر بنا دیا گیا۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 205)

«الْغُدُوِّ» کے معنی ہیں:

الف) صبح • ب) دوپہر • ج) شام • د) رات

جواب الف) صبح — «الْغُدُوّ» صبح کو اور «الْاٰصَال» شام کو کہتے ہیں، یعنی صبح و شام مسلسل ذکر کرنے کا حکم دیا گیا۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَيُسَبِّحُونَهُۥ وَلَهُۥ يَسۡجُدُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 206)

«یُسَبِّحُوْنَ» کے معنی ہیں:

الف) وہ تسبیح بیان کرتے ہیں • ب) وہ تلاوت کرتے ہیں • ج) وہ ذکر کرتے ہیں • د) وہ نماز پڑھتے ہیں

جواب الف) وہ تسبیح بیان کرتے ہیں — یہ سورت کی آخری آیت ہے، جس میں فرشتوں کی شان بیان ہوئی کہ وہ عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ یہ آیتِ سجدہ ہے۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

وَٱخۡتَارَ مُوسَىٰ قَوۡمَهُۥ سَبۡعِينَ رَجُلٗا لِّمِيقَٰتِنَاۖ فَلَمَّآ أَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ قَالَ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ أَهۡلَكۡتَهُم مِّن قَبۡلُ وَإِيَّـٰيَۖ أَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآۖ إِنۡ هِيَ إِلَّا فِتۡنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهۡدِي مَن تَشَآءُۖ أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَاۖ وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡغَٰفِرِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 155)

آیتِ کریمہ میں کیا دعا مانگی گئی ہے؟

ترجمہ

تو ہی ہمارا کارساز ہے، لہٰذا ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا ہے جو انہوں نے کوہِ طور پر ستر منتخب افراد کے ساتھ حاضری کے موقع پر مانگی۔

دعا کے اجزا

1 اقرارِ ولایت — «اَنْتَ وَلِیُّنَا» — تو ہی ہمارا کارساز، مالک اور مددگار ہے۔
2 طلبِ مغفرت — «فَاغْفِرْ لَنَا» — ہماری خطاؤں کو بخش دے۔
3 طلبِ رحمت — «وَارْحَمْنَا» — ہم پر اپنی رحمت فرما۔
4 وسیلۂ صفت — «وَاَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ» — دعا کا اختتام اللہ کی صفتِ مغفرت کے حوالے سے کیا گیا۔
5 پس منظر — انہوں نے عرض کیا تھا کہ کیا تو ہمیں ان بے وقوفوں کے کیے پر ہلاک کرے گا؟ یہ تو تیری آزمائش ہے۔
7 مختصر جوابات

ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِيَّ ٱلۡأُمِّيَّ ٱلَّذِي يَجِدُونَهُۥ مَكۡتُوبًا عِندَهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ يَأۡمُرُهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَىٰهُمۡ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡخَبَـٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ إِصۡرَهُمۡ وَٱلۡأَغۡلَٰلَ ٱلَّتِي كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُواْ ٱلنُّورَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 157)

آیتِ کریمہ میں کامیاب لوگوں کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

پس جو لوگ ان (نبی ﷺ) پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم کی اور ان کی مدد کی اور اس نور (قرآن) کی پیروی کی جو ان کے ساتھ اتارا گیا، یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

کامیاب لوگوں کی چار صفات

1 ایمان (اٰمَنُوْا بِهٖ) — نبی کریم ﷺ کی رسالت پر دل سے ایمان لانا۔
2 تعظیم و توقیر (عَزَّرُوْهُ) — آپ ﷺ کا ادب، عزت اور احترام بجا لانا۔
3 نصرت (نَصَرُوْهُ) — آپ ﷺ کی مدد کرنا اور آپ کے دین کی اشاعت میں حصہ لینا۔
4 اتباعِ نور (اتَّبَعُوا النُّوْرَ) — اس نور یعنی قرآنِ حکیم کی پیروی کرنا جو آپ ﷺ کے ساتھ نازل کیا گیا۔
جواب انہی چار صفات کے حامل لوگوں کو قرآن نے «اَلْمُفْلِحُوْن» یعنی حقیقی کامیاب قرار دیا۔
8 مختصر جوابات

خُذِ ٱلۡعَفۡوَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡعُرۡفِ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡجَٰهِلِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 199)

آیتِ کریمہ میں کن تعلیمات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

در گزر کا رویہ اپنائیے، اور نیکی کا حکم دیجیے، اور جاہلوں سے کنارہ کشی کر لیجیے۔

تین بنیادی تعلیمات

1 خُذِ الْعَفْوَ (عفو و درگزر) — لوگوں کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے، ان کے ساتھ نرمی اور آسانی کا معاملہ رکھا جائے اور ان سے وہی لیا جائے جو وہ آسانی سے دے سکیں۔
2 وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ (امر بالمعروف) — بھلائی اور نیکی کا حکم دیا جائے، اور معاشرے میں معروف و پسندیدہ کاموں کو فروغ دیا جائے۔
3 وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ (اعراض) — جاہلوں سے الجھنے کے بجائے ان سے کنارہ کشی اختیار کی جائے اور ان کی بات کا جواب نہ دیا جائے۔
جواب مفسرین نے فرمایا کہ یہ ایک مختصر آیت میں حسنِ اخلاق کا مکمل نصاب ہے۔
9 مختصر جوابات

وَٱذۡكُر رَّبَّكَ فِي نَفۡسِكَ تَضَرُّعٗا وَخِيفَةٗ وَدُونَ ٱلۡجَهۡرِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡغَٰفِلِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 205)

آیتِ کریمہ میں ذکر کے حوالے سے کن آداب کا بیان ہے؟

ترجمہ

اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے صبح و شام یاد کیا کرو، اور غافلوں میں سے نہ ہو جاؤ۔

ذکر کے آداب

1 فِیْ نَفْسِكَ — ذکر دل ہی دل میں کیا جائے، محض زبان کی حرکت نہ ہو۔
2 تَضَرُّعًا — عاجزی اور گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہو۔
3 وَّخِیْفَةً — دل میں اللہ کا خوف اور اس کی عظمت کا احساس ہو۔
4 دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ — آواز پست رکھی جائے، بلند آواز سے نہ ہو۔
5 بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ — صبح و شام یعنی مسلسل اور پابندی کے ساتھ ہو۔
6 وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ — غفلت سے بچا جائے، کیوں کہ ذکر کا مقصد ہی دل کی بیداری ہے۔
10 مختصر جوابات

وَإِذَا قُرِئَ ٱلۡقُرۡءَانُ فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 204)

آیتِ کریمہ میں تلاوتِ قرآنِ حکیم کے کیا آداب بیان کیے گئے ہیں؟

ترجمہ

اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

دو بنیادی آداب

1 فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ (غور سے سننا) — قرآن کی تلاوت کو پوری توجہ اور دل کی حاضری کے ساتھ سنا جائے۔
2 وَاَنْصِتُوْا (خاموش رہنا) — اس دوران بات چیت اور ہر مشغلہ چھوڑ کر مکمل خاموشی اختیار کی جائے۔
3 صلہ — ان آداب کا صلہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے — «لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ»۔
جواب اسی سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ نماز میں امام کی قراءت کے وقت مقتدی خاموشی سے سماعت کرے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

أَلَهُمۡ أَرۡجُلٞ يَمۡشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَيۡدٖ يَبۡطِشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَعۡيُنٞ يُبۡصِرُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ ءَاذَانٞ يَسۡمَعُونَ بِهَاۗ قُلِ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 195)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

کیا ان (بتوں) کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں؟ یا کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہوں؟ یا کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں؟ یا کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں؟ آپ فرما دیجیے: تم اپنے شریکوں کو بلا لو، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کرو اور مجھے مہلت نہ دو۔

مفہوم اور اہم نکات

1 بتوں کی بے بسی — چار سوالوں کے ذریعے بتایا گیا کہ معبودانِ باطلہ نہ چل سکتے ہیں، نہ پکڑ سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سن سکتے ہیں۔
2 عبادت کی شرط — جو خود عاجز اور بے حس ہو، وہ کسی کی حاجت کیسے پوری کرے گا؟
3 کھلا چیلنج — نبی کریم ﷺ کو حکم ہوا کہ ان سب کو جمع کر کے میرے خلاف تدبیر کر لینے کا چیلنج دیجیے۔
4 توکل کی انتہا — «فَلَا تُنْظِرُوْنِ» — مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو؛ یہ اللہ پر مکمل بھروسے کا اظہار ہے۔
5 اگلی آیت کا جوڑ — اس کے فوراً بعد فرمایا کہ میرا کارساز تو وہ اللہ ہے جس نے کتاب نازل فرمائی۔
12 تفصیلی جوابات

وَإِذۡ قَالَتۡ أُمَّةٞ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُونَ قَوۡمًا ٱللَّهُ مُهۡلِكُهُمۡ أَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗاۖ قَالُواْ مَعۡذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 164)

آیتِ کریمہ میں نصیحت کرنے والوں نے نافرمان لوگوں کو سمجھانے کی کیا وجہ بیان کی؟

ترجمہ

اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا: تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے؟ انہوں نے کہا: تمھارے رب کے سامنے معذرت پیش کرنے کے لیے، اور شاید وہ پرہیزگار بن جائیں۔

نصیحت کرنے والوں نے دو وجوہات بیان کیں۔

دونوں وجوہات اور پس منظر اور نتیجہ

1 دونوں وجوہات — مَعْذِرَةً اِلٰی رَبِّكُمْ — تاکہ اللہ کے حضور ہماری معذرت اور بریت ہو جائے کہ ہم نے اپنا فریضۂ نصیحت ادا کر دیا اور خاموش تماشائی نہیں بنے رہے۔
2 دونوں وجوہات — وَلَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ — اس امید پر کہ شاید یہ لوگ نصیحت قبول کر کے پرہیزگاری اختیار کر لیں۔
3 پس منظر اور نتیجہ — اہلِ سبت کا واقعہ — یہ سمندر کے کنارے بسنے والی اس بستی کا ذکر ہے جس کے لوگ ہفتے کے دن مچھلی کے شکار کی ممانعت کی خلاف ورزی کرتے تھے۔
4 پس منظر اور نتیجہ — تین گروہ — ایک گروہ نافرمانی کر رہا تھا، دوسرا نصیحت کر رہا تھا، اور تیسرا خاموش تھا اور نصیحت کرنے والوں کو بے فائدہ کہہ رہا تھا۔
5 پس منظر اور نتیجہ — انجام — اللہ نے نصیحت کرنے والوں (الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ) کو نجات دی اور ظلم کرنے والوں کو سخت عذاب میں پکڑ لیا۔
6 پس منظر اور نتیجہ — سبق — امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ نتیجے کی پروا کیے بغیر ادا کرتے رہنا چاہیے۔
13 تفصیلی جوابات

إِنَّ وَلِـِّۧيَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡكِتَٰبَۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّـٰلِحِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 196)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک میرا کارساز وہ اللہ ہے جس نے (یہ) کتاب نازل فرمائی، اور وہ نیک بندوں کی کارسازی فرماتا ہے۔

مفہوم اور اہم نکات

1 حقیقی ولی — مدد گار، مالک اور کارساز صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، بتوں یا کسی مخلوق کی نہیں۔
2 دلیل — اسی نے کتاب (قرآنِ مجید) نازل فرمائی — یہ اس کی قدرت اور رہنمائی کا کھلا ثبوت ہے۔
3 ولایت کا معیار — «وَهُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ» — اللہ کی خصوصی نصرت نیک بندوں کے حصے میں آتی ہے۔
4 عملی سبق — اللہ کی مدد چاہیے تو صالحین کی صف میں شامل ہونا ہو گا۔
14 تفصیلی جوابات

وَإِذۡ قَالَتۡ أُمَّةٞ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُونَ قَوۡمًا ٱللَّهُ مُهۡلِكُهُمۡ أَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗاۖ قَالُواْ مَعۡذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ

واحد، تثنیہ اور جمع کی تعریف کریں اور ہر ایک کی دو دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔

عربی زبان میں تعداد کے لحاظ سے اسم تین حالتوں میں آتا ہے: واحد، تثنیہ اور جمع۔

1 1۔ واحد — تعریف — ایک عدد کے لیے بولا جانے والا اسم واحد کہلاتا ہے۔
2 1۔ واحد — عام مثالیں — کِتَابٌ، کِتَابًا، کِتَابٍ / مُسْلِمٌ، مُسْلِمًا، مُسْلِمٍ
3 1۔ واحد — سبق میں سے — «الْكِتٰبَ» (آیت 196) اور «الْكَلْبِ» (آیت 176)
4 2۔ تثنیہ — تعریف — دو عدد کے لیے بولا جانے والا اسم تثنیہ کہلاتا ہے، اور اس کی پہچان یہ ہے کہ اس کے آخر میں «ان» یا «ـَیْنِ» آتا ہے۔
5 2۔ تثنیہ — عام مثالیں — کِتَابَانِ، کِتَابَیْنِ / مُسْلِمَانِ، مُسْلِمَیْنِ
6 2۔ تثنیہ — سبق میں سے — «اثْنَتَیْ عَشْرَةَ» (آیت 160) میں «اثْنَتَیْ» تثنیہ کا صیغہ ہے، اور اسی آیت میں «اثْنَتَا عَشْرَةَ» بھی۔
7 3۔ جمع — تعریف — دو سے زیادہ کے لیے بولا جانے والا اسم جمع کہلاتا ہے۔ اس کے آخر میں «ـُوْنَ» یا «ـِیْنَ» یا «اتٌ، اتِ» آتا ہے۔
8 3۔ جمع — جمع سالم — ایسی جمع جس کے واحد میں کوئی تبدیلی نہ آئے، بلکہ آخر میں مخصوص حروف کا اضافہ کر کے جمع بنائی جائے۔ جیسے مُفْلِحٌ سے مُفْلِحُوْنَ، صَالِحٌ سے صَالِحُوْنَ۔
9 3۔ جمع — سبق میں سے — «الْمُفْلِحُوْنَ» (آیت 157)، «الصّٰلِحِیْنَ» (آیت 196) اور «الْغٰفِلِیْنَ» (آیت 205)
10 واحد، تثنیہ اور جمع کی مثالیں (جدول) — مُسْلِمٌ — تثنیہ: مُسْلِمَانِ • جمع: مُسْلِمُوْنَ
11 واحد، تثنیہ اور جمع کی مثالیں (جدول) — مُؤْمِنٌ — تثنیہ: مُؤْمِنَانِ • جمع: مُؤْمِنُوْنَ
12 واحد، تثنیہ اور جمع کی مثالیں (جدول) — سَاجِدٌ — تثنیہ: سَاجِدَانِ • جمع: سَاجِدُوْنَ
13 واحد، تثنیہ اور جمع کی مثالیں (جدول) — صَالِحٌ — تثنیہ: صَالِحَانِ • جمع: صَالِحُوْنَ
14 واحد، تثنیہ اور جمع کی مثالیں (جدول) — کَافِرٌ — تثنیہ: کَافِرَانِ • جمع: کَافِرُوْنَ
15 واحد، تثنیہ اور جمع کی مثالیں (جدول) — مُفْلِحٌ — تثنیہ: مُفْلِحَانِ • جمع: مُفْلِحُوْنَ
جواب اہم معلومات — جمع مکسر — بعض جمع ایسی ہیں جن کے بنانے کے لیے واحد کے حروف میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے، انہیں جمع مکسر (ٹوٹی ہوئی جمع) کہتے ہیں۔ جیسے: رَجُلٌ سے رِجَالٌ، طِفْلٌ سے اَطْفَالٌ، کِتَابٌ سے کُتُبٌ، مَدْرَسَةٌ سے مَدَارِسُ، مَسْجِدٌ سے مَسَاجِدُ، قَلْبٌ سے قُلُوْبٌ، تَاجِرٌ سے تُجَّارٌ۔ جمع مکسر اگر غیر عاقل ہو اور فاعل یا مبتدا بنے تو اس کے ساتھ فعل واحد مؤنث آتا ہے، جیسے «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ»۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَلَقَدۡ ذَرَأۡنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ لَهُمۡ قُلُوبٞ لَّا يَفۡقَهُونَ بِهَا وَلَهُمۡ أَعۡيُنٞ لَّا يُبۡصِرُونَ بِهَا وَلَهُمۡ ءَاذَانٞ لَّا يَسۡمَعُونَ بِهَآۚ أُوْلَـٰٓئِكَ كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّۚ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 179)

سورۃ الأعراف میں لوگوں کو چوپایوں کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ پر مذاکرہ کریں۔

ترجمہ

اور بے شک ہم نے جہنم کے لیے جنات اور انسانوں میں سے بہت سوں کو پیدا کیا۔ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گم راہ ہیں۔ یہی لوگ غافل ہیں۔

1 تشبیہ کی وجہ — صلاحیتیں بے کار چھوڑ دینا — اللہ نے دل، آنکھ اور کان اس لیے دیے کہ ان سے حق کو سمجھا، دیکھا اور سنا جائے؛ مگر انہوں نے یہ صلاحیتیں معطل کر رکھی ہیں۔
2 تشبیہ کی وجہ — صرف مادی ضروریات تک محدود ہونا — چوپایہ کھانے، پینے اور آرام سے آگے کچھ نہیں جانتا؛ جو انسان بھی صرف انہی چیزوں میں مگن ہو، وہ اسی درجے پر آ جاتا ہے۔
3 تشبیہ کی وجہ — مقصدِ حیات سے بے خبری — جانور اپنے خالق اور انجام سے بے خبر ہے؛ جو انسان آخرت اور اپنے مقصد سے غافل ہو، وہ اسی کے مشابہ ہے۔
4 تشبیہ کی وجہ — «بَلْ هُمْ اَضَلُّ» کا نکتہ — قرآن نے انہیں چوپایوں سے بھی زیادہ گم راہ کہا، کیوں کہ جانور کو عقل اور اختیار دیا ہی نہیں گیا، جبکہ انسان کو دونوں دے کر بھی وہ حق سے منہ موڑتا ہے۔
5 تشبیہ کی وجہ — جانور اپنے نفع نقصان کو پہچانتا ہے — چوپایہ بھی اپنی خوراک اور خطرے کو پہچان لیتا ہے، مگر یہ لوگ اپنے سب سے بڑے نفع (ایمان) اور سب سے بڑے نقصان (جہنم) کو نہیں پہچانتے۔
6 اسی سورت کی ایک اور تشبیہ — آیت 176 میں اس شخص کو، جسے اللہ نے اپنی آیات عطا کیں مگر وہ ان سے نکل گیا، کتے کے ساتھ تشبیہ دی گئی: اس پر حملہ کرو تو ہانپتا ہے اور چھوڑ دو تو بھی ہانپتا ہے۔ یعنی خواہشِ نفس کی پیروی کرنے والا ہر حال میں لالچ اور بے چینی میں مبتلا رہتا ہے۔
7 مذاکرے کے لیے نکات — انسان کا اصل شرف اس کے علم و عمل میں ہے، محض شکل و صورت میں نہیں
8 مذاکرے کے لیے نکات — اللہ کی دی ہوئی ہر صلاحیت کے بارے میں ہم سے سوال ہو گا
9 مذاکرے کے لیے نکات — غفلت ایک تدریجی بیماری ہے، جو آخرکار انسان کو اس درجے پر لے آتی ہے
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ وَذَرُواْ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ أَسۡمَـٰٓئِهِۦۚ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 180)

اسماء الحسنیٰ کی اہمیت و فضیلت تلاش کریں اور کوئی سے دس اسماء الحسنیٰ ترجمے کے ساتھ زبانی یاد کریں۔

ترجمہ

اور اللہ ہی کے لیے سب اچھے نام ہیں، لہٰذا اسے انہی (ناموں) کے ساتھ پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں۔ عنقریب انہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

اہمیت و فضیلت اور دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ

1 اہمیت و فضیلت — قرآنی حکم — اللہ تعالیٰ نے خود حکم دیا کہ اسے انہی اسمائے حسنیٰ کے ساتھ پکارا جائے۔
2 اہمیت و فضیلت — جنت کی بشارت — حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جو انہیں یاد کر لے وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (صحیح بخاری)
3 اہمیت و فضیلت — قبولیتِ دعا کا ذریعہ — اللہ کے ناموں کے وسیلے سے مانگی گئی دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔
4 اہمیت و فضیلت — معرفتِ الٰہی — ان ناموں کے ذریعے بندہ اپنے رب کی صفات کو پہچانتا ہے اور اس کا تعلق مضبوط ہوتا ہے۔
5 اہمیت و فضیلت — اخلاق کی تربیت — رحمٰن، رحیم، غفور، کریم جیسے ناموں کا مطالعہ بندے کے اپنے اخلاق کو سنوارتا ہے۔
6 اہمیت و فضیلت — کجی سے ممانعت — اللہ کے ناموں میں تحریف یا کمی بیشی کرنے سے سختی سے منع کیا گیا۔
7 دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ — اَللهُ — ذاتِ باری تعالیٰ کا اسمِ اعظم
8 دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ — اَلرَّحْمٰنُ — بہت مہربان
9 دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ — اَلرَّحِیْمُ — نہایت رحم فرمانے والا
10 دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ — اَلْمَلِكُ — بادشاہ
11 دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ — اَلْقُدُّوْسُ — ہر عیب سے پاک
12 دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ — اَلسَّلَامُ — سلامتی دینے والا
13 دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ — اَلْخَالِقُ — پیدا فرمانے والا
14 دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ — اَلرَّزَّاقُ — رزق دینے والا
15 دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ — اَلْغَفُوْرُ — بہت بخشنے والا
16 دس اسمائے حسنیٰ ترجمے کے ساتھ — اَلسَّمِیْعُ — سب کچھ سننے والا
17 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَسۡـَٔلۡهُمۡ عَنِ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِي كَانَتۡ حَاضِرَةَ ٱلۡبَحۡرِ إِذۡ يَعۡدُونَ فِي ٱلسَّبۡتِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 163)

سورۃ الأعراف کی روشنی میں کسی ایک قصے کے اہم نکات جمع کر کے مذاکرہ کریں۔

یہاں «اصحابِ سبت» (ہفتے والوں) کے قصے کے اہم نکات پیش کیے جا رہے ہیں (آیات 163 تا 166):

مذاکرے کے لیے اسباق

1 بستی کا تعارف — یہ سمندر کے کنارے آباد ایک بستی تھی جس کے رہنے والے بنی اسرائیل میں سے تھے۔
2 حکمِ الٰہی — انہیں ہفتے کے دن کی تعظیم کا حکم تھا اور اس دن شکار کرنے سے روکا گیا تھا۔
3 آزمائش کی صورت — ہفتے کے دن مچھلیاں پانی کی سطح پر نمایاں ہو کر آتیں، اور باقی دنوں میں نہ آتیں۔
4 حیلہ سازی — انہوں نے حکم کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے چالاکی کے راستے نکالے اور حکم عدولی کی۔
5 تین گروہ — ایک گروہ نافرمان، دوسرا نصیحت کرنے والا، اور تیسرا وہ جو نصیحت کو بے فائدہ سمجھ کر خاموش تھا۔
6 نصیحت کرنے والوں کا مؤقف — انہوں نے کہا کہ ہم اپنے رب کے حضور معذرت کے لیے کہتے ہیں، اور شاید یہ لوگ پرہیزگار بن جائیں۔
7 انجام — اللہ نے نصیحت کرنے والوں کو نجات دی اور ظلم کرنے والوں کو سخت عذاب میں پکڑ لیا۔
8 آخری سزا — جب انہوں نے سرکشی میں حد کر دی تو انہیں ذلیل بندر بنا دیا گیا۔
9 حکمِ الٰہی سے بچنے کے لیے حیلے تلاش کرنا خود ایک بڑا جرم ہے
10 برائی پر خاموش رہنے والے بھی محفوظ نہیں رہتے
11 نصیحت کا فریضہ نتیجے سے مشروط نہیں
12 آزمائش اکثر انہی چیزوں سے آتی ہے جن کی انسان کو سب سے زیادہ رغبت ہو

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِيَّ ٱلۡأُمِّيَّ ٱلَّذِي يَجِدُونَهُۥ مَكۡتُوبًا عِندَهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ يَأۡمُرُهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَىٰهُمۡ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡخَبَـٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ إِصۡرَهُمۡ وَٱلۡأَغۡلَٰلَ ٱلَّتِي كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُواْ ٱلنُّورَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 157)

سورۃ الأعراف کی آیت 157 میں نبی کریم ﷺ کی صفات اور بنیادی اختیارات بیان کیے گئے ہیں، وہ تحریر کریں۔

ترجمہ

وہ لوگ جو اس رسول، نبیِ اُمّی کی پیروی کرتے ہیں، جنہیں وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ (نبی) انہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام کرتے ہیں، اور ان سے ان کے بوجھ اتارتے ہیں اور وہ طوق (بھی) جو ان پر پڑے ہوئے تھے۔ پس جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم کی اور ان کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو ان کے ساتھ اتارا گیا، یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

1 نبی کریم ﷺ کی صفات — اَلرَّسُوْل — اللہ کے بھیجے ہوئے پیغام رساں اور صاحبِ شریعت رسول۔
2 نبی کریم ﷺ کی صفات — اَلنَّبِیّ — اللہ کی طرف سے خبر دینے والے نبی۔
3 نبی کریم ﷺ کی صفات — اَلْاُمِّیّ — وہ جنہوں نے کسی انسان سے پڑھا لکھا نہیں، اور یہی آپ ﷺ کے علم کے براہِ راست وحیِ الٰہی سے ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
4 نبی کریم ﷺ کی صفات — پہلی کتابوں میں مذکور — آپ ﷺ کا ذکر اور صفات تورات اور انجیل میں لکھی ہوئی موجود تھیں۔
5 آپ ﷺ کے بنیادی اختیارات و مناصب — یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ — نیکی اور بھلائی کا حکم دینے کا اختیار۔
6 آپ ﷺ کے بنیادی اختیارات و مناصب — یَنْهٰهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ — برائی اور منکر سے روکنے کا اختیار۔
7 آپ ﷺ کے بنیادی اختیارات و مناصب — یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ — پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دینے کا اختیار۔
8 آپ ﷺ کے بنیادی اختیارات و مناصب — یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ — ناپاک اور خبیث چیزوں کو حرام قرار دینے کا اختیار۔
9 آپ ﷺ کے بنیادی اختیارات و مناصب — یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ — پچھلی امتوں پر عائد بھاری بوجھ اور طوق اتارنے کا اختیار، یعنی شریعت میں آسانی پیدا کرنا۔
10 ہم پر لازم امور — ایمان — آپ ﷺ کی رسالت پر دل سے ایمان لانا۔
11 ہم پر لازم امور — تعظیم و ادب — آپ ﷺ کا عزت و احترام بجا لانا۔
12 ہم پر لازم امور — نصرت — آپ ﷺ کے دین کی اشاعت اور مدد کرنا۔
13 ہم پر لازم امور — اتباعِ قرآن — اس نور یعنی قرآنِ حکیم کے احکام پر عمل کرنا۔
جواب انہی چار بنیادوں پر آپ ﷺ کے ساتھ ہمارا تعلق قائم ہوتا ہے، اور انہی کو اپنانے والوں کو قرآن نے کامیاب قرار دیا ہے۔
19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَقَطَّعۡنَٰهُمُ ٱثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ أَسۡبَاطًا أُمَمٗاۚ وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسۡتَسۡقَىٰهُ قَوۡمُهُۥٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡحَجَرَۖ فَٱنۢبَجَسَتۡ مِنۡهُ ٱثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنٗاۖ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٖ مَّشۡرَبَهُمۡۚ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلۡغَمَٰمَ وَأَنزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰۖ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 160)

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ کہانی کی صورت میں بیان کریں۔

سورۃ الأعراف میں بیان کردہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ کہانی کی صورت میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

1 1۔ فرعون کے دربار میں — مصر میں فرعون کی حکومت تھی، جو خود کو خدا کہلواتا تھا اور بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نشانیوں کے ساتھ اس کی طرف بھیجا۔ انہوں نے دربار میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں، میرے لیے یہی لازم ہے کہ اللہ کے بارے میں سچ کے سوا کچھ نہ کہوں؛ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔ فرعون نے نشانی طلب کی تو انہوں نے عصا ڈالا جو کھلا اژدہا بن گیا، اور ہاتھ نکالا تو وہ چمکتا ہوا سفید تھا۔
2 2۔ جادوگروں کا مقابلہ — فرعون کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ انہیں مہلت دی جائے اور شہروں سے جادوگر بلا لیے جائیں۔ مقررہ دن جادوگروں نے رسیاں اور لاٹھیاں ڈال کر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا۔ پھر اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا ڈالا، جو ان کے سارے فریب کو نگل گیا۔ حق ثابت ہو گیا اور ان کا کیا دھرا باطل ہو گیا۔ جادوگر بے ساختہ سجدے میں گر پڑے اور بول اٹھے: ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے انہیں ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی، مگر انہوں نے صبر اور اسلام پر موت کی دعا مانگی۔
3 3۔ عذاب اور نجات — فرعون کی قوم پر یکے بعد دیگرے طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی الگ الگ نشانیاں بھیجی گئیں۔ ہر بار وہ عذاب ہٹانے کی درخواست کرتے اور ایمان کا وعدہ کرتے، مگر عذاب ٹلتے ہی عہد توڑ دیتے۔ آخرکار انہیں سمندر میں غرق کر دیا گیا، اور جن کمزوروں کو وہ حقیر سمجھتے تھے، اللہ نے انہی کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔
4 4۔ کوہِ طور اور تورات — اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تیس راتوں کا وعدہ فرمایا، جو دس مزید راتوں سے چالیس ہو گیا۔ جاتے ہوئے انہوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو جانشین مقرر کیا۔ طور پر ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا۔ انہوں نے دیدار کی درخواست کی تو ارشاد ہوا کہ پہاڑ کی طرف دیکھو؛ تجلی پڑتے ہی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ ہوش آنے پر تسبیح اور توبہ کی۔ پھر انہیں تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل عطا کی گئی۔
5 5۔ بچھڑے کا فتنہ — ادھر قوم نے اپنے زیورات سے ایک بچھڑا بنا لیا، جس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی، اور اسے معبود بنا لیا۔ واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام غم و غصے سے بھر گئے، تختیاں رکھ دیں اور بھائی کا سر پکڑ لیا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا کہ قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر دیتی۔ تب انہوں نے دعا کی: اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما۔
6 6۔ بنی اسرائیل پر انعامات — اللہ تعالیٰ نے انہیں بارہ خاندانوں میں تقسیم فرمایا۔ جب قوم نے پانی مانگا تو حکم ہوا کہ پتھر پر عصا مارو؛ اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ پہچان لیا۔ ان پر بادلوں کا سایہ کیا گیا اور من و سلویٰ اتارا گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ناشکری کی، اور قرآن نے فرمایا کہ انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا، بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔
7 کہانی کے اہم اسباق — حق ہمیشہ غالب آتا ہے — عصا کے سامنے فرعون کا سارا جادو باطل ہو گیا۔
8 کہانی کے اہم اسباق — ایمان ایک لمحے میں انسان کو بدل دیتا ہے — جادوگر صبح فرعون کے ملازم تھے اور شام ہوتے ہوتے شہادت کے لیے تیار۔
9 کہانی کے اہم اسباق — صبر اور استعانت نجات کا راستہ ہیں — موسیٰ علیہ السلام نے قوم کو یہی نصیحت فرمائی۔
10 کہانی کے اہم اسباق — نعمتوں کی ناشکری خود اپنا نقصان ہے — بنی اسرائیل کی سب سے بڑی کمزوری یہی رہی۔
11 کہانی کے اہم اسباق — قیادت کی امانت — سفر پر جانے سے پہلے قوم کے لیے باقاعدہ نظم قائم کرنا سنتِ انبیا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.