قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 111)
«اَرْجِهْ» کے معنی ہیں:
الف) مہلت دو • ب) اختیار دو • ج) قوت دو • د) راحت دو
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 111)
«اَرْجِهْ» کے معنی ہیں:
الف) مہلت دو • ب) اختیار دو • ج) قوت دو • د) راحت دو
سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 116)
«سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ» ۔ انھوں نے جادو کیا:
الف) لوگوں کے دلوں پر • ب) لوگوں کی آنکھوں پر • ج) لوگوں کے ذہنوں پر • د) لوگوں کے کانوں پر
إِنَّ ٱلۡأَرۡضَ لِلَّهِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 128)
«اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ» میں «الْاَرْضَ» عربی قواعد کی رو سے ہے:
الف) فعل • ب) اسم اشارہ • ج) اسم • د) حرف
إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ مُتَبَّرٞ مَّا هُمۡ فِيهِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 139)
«مُتَبَّرٌ» کے معنی ہیں:
الف) برباد ہونے والا • ب) ناکام ہونے والا • ج) کمزور ہونے والا • د) دور ہونے والا
سَأُوْرِيكُمۡ دَارَ ٱلۡفَٰسِقِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 145)
«سَاُوْرِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ» ۔ میں عنقریب تمھیں دکھاؤں گا:
الف) نافرمانوں کا ٹھکانا • ب) نافرمانوں کا انجام • ج) نافرمانوں کا گھر • د) نافرمانوں کا راستہ
حَقِيقٌ عَلَىٰٓ أَن لَّآ أَقُولَ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ قَدۡ جِئۡتُكُم بِبَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ فَأَرۡسِلۡ مَعِيَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 105)
آیتِ کریمہ میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کس بات کا اظہار فرمایا؟
مجھ پر لازم ہے کہ اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔ یقیناً میں تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح نشانی لایا ہوں، لہٰذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔
اظہار کیے گئے امور
وَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیات 120 اور 121)
اللہ تعالیٰ کے معجزے کے سامنے جادوگروں نے کیا طرزِ عمل اختیار کیا؟
اور جادوگر سجدے میں گرا دیے گئے۔ انہوں نے کہا: ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے۔
جادوگروں نے معجزہ دیکھتے ہی حق کو پہچان لیا، بے ساختہ سجدے میں گر پڑے اور کھلم کھلا رب العالمین پر ایمان لے آئے۔
اہم نکات
لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 124)
آیتِ کریمہ کی رو سے ایمان لانے والوں کو فرعون نے کیا دھمکی دی؟
میں ضرور تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا، پھر تم سب کو ضرور سولی پر لٹکا دوں گا۔
فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو دو سخت سزاؤں کی دھمکی دی۔
دھمکی کی تفصیل
۞وَوَٰعَدۡنَا مُوسَىٰ ثَلَٰثِينَ لَيۡلَةٗ وَأَتۡمَمۡنَٰهَا بِعَشۡرٖ فَتَمَّ مِيقَٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرۡبَعِينَ لَيۡلَةٗۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخۡلُفۡنِي فِي قَوۡمِي وَأَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 142)
آیتِ کریمہ میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی سیدنا ہارون علیہ السلام کو کیا نصیحت فرمائی؟
اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ فرمایا اور ہم نے اسے دس (مزید) سے پورا کیا، تو ان کے رب کی مقرر کردہ مدت چالیس راتوں کی پوری ہو گئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے فرمایا: میری قوم میں میرے جانشین رہنا، اور اصلاح کرنا، اور فساد کرنے والوں کے راستے کی پیروی نہ کرنا۔
نصیحت کے تین حصے
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلۡأٓخِرَةِ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡۚ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 147)
آیتِ کریمہ میں جھٹلانے والوں کو کیسا بدلہ دیے جانے کا ذکر ہے؟
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا، ان کے اعمال برباد ہو گئے۔ انہیں اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
انہیں ٹھیک ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے ان کے اپنے اعمال تھے — یعنی کوئی زیادتی نہیں، خالص انصاف۔
اہم نکات
وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنۡ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَاۚ رَبَّنَآ أَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرٗا وَتَوَفَّنَا مُسۡلِمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 126)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اور تو ہم سے صرف اسی بات کا بدلہ لے رہا ہے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے جب وہ ہمارے پاس آ گئیں۔ اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں موت عطا فرما۔
مفہوم اور اہم نکات
قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِ ٱسۡتَعِينُواْ بِٱللَّهِ وَٱصۡبِرُوٓاْۖ إِنَّ ٱلۡأَرۡضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 128)
آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو کیا نصیحت فرمائی؟
موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ بے شک زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور اچھا انجام پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے۔
یہ نصیحت اس وقت فرمائی گئی جب فرعون نے بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی اور قوم پر مظالم بڑھ گئے۔
نصیحت کے اہم نکات
قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَلِأَخِي وَأَدۡخِلۡنَا فِي رَحۡمَتِكَۖ وَأَنتَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 151)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
مفہوم اور اہم نکات
قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِ ٱسۡتَعِينُواْ بِٱللَّهِ وَٱصۡبِرُوٓاْۖ إِنَّ ٱلۡأَرۡضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِينَ
«حالتِ جر» کی تعریف اور اس کی دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔
حالتِ جری وہ حالت ہے جس میں اسم پر کوئی عامل داخل ہو کر اسے مجرور کر دیتا ہے، یعنی اس پر کسرہ (زیر) یا اس کی علامت آتی ہے۔
کتاب کی مثال اور سبق میں سے مثالیں
ا؟ حَقِيقٌ عَلَىٰٓ أَن لَّآ أَقُولَ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ قَدۡ جِئۡتُكُم بِبَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ فَأَرۡسِلۡ مَعِيَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
سورۃ الأعراف کے اس حصے میں آنے والی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعا تلاش کر کے ترجمے کے ساتھ یاد کریں۔
اس حصے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دو دعائیں آئی ہیں:
پہلی دعا — کوہِ طور پر (آیت 143) اور دوسری دعا — قوم کی واپسی کے بعد (آیت 151)
وَإِذۡ أَنجَيۡنَٰكُم مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَسُومُونَكُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ يُقَتِّلُونَ أَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُونَ نِسَآءَكُمۡۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَآءٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَظِيمٞ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 141)
آلِ فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا کرتے تھے؟ آپس میں مذاکرہ کریں۔
اور (یاد کرو) جب ہم نے تمھیں آلِ فرعون سے نجات دی، وہ تمھیں بدترین عذاب دیتے تھے: تمھارے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔
سلوک کی تفصیل اور مذاکرے کے لیے نکات
وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِيٓ أَنظُرۡ إِلَيۡكَۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِي وَلَٰكِنِ ٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡجَبَلِ فَإِنِ ٱسۡتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوۡفَ تَرَىٰنِيۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكّٗا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقٗاۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبۡحَٰنَكَ تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 143)
سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے کلام فرمانے کا واقعہ کہانی کی صورت میں بیان کریں۔
اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تجھے دیکھ لوں۔ ارشاد ہوا: تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے، لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ پر برقرار رہا تو عنقریب تم مجھے دیکھ لو گے۔ پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا: تو پاک ہے، میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔
بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات مل چکی تھی۔ اب انہیں ایک ایسی کتاب اور شریعت کی ضرورت تھی جو ان کی زندگی کا دستور بنے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تیس راتوں کا وعدہ فرمایا، پھر اسے دس مزید راتوں سے پورا کیا، یوں رب کی مقرر کردہ مدت چالیس راتوں کی ہو گئی۔
واقعہ کہانی کی صورت میں اور واقعے کے اہم اسباق
۞وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۖ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 117)
معجزے اور جادو کا فرق بیان کریں۔
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال دو۔ پھر یکایک وہ ان چیزوں کو نگلنے لگا جو انہوں نے جھوٹ گھڑ رکھی تھیں۔
سورۃ الأعراف کا یہی واقعہ معجزے اور جادو کا فرق سب سے واضح انداز میں سامنے لاتا ہے۔ نمایاں فرق درج ذیل ہیں:
بنیادی فرق اور اس واقعے سے فرق کی وضاحت
لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ
حالتِ جر کی تعریف اور حروفِ جارہ کو مثالوں سے واضح کریں۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔