چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 5: سبق 5: سورۃ الأعراف (آیات: 100 تا 151) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 19 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 111)

«اَرْجِهْ» کے معنی ہیں:

الف) مہلت دو • ب) اختیار دو • ج) قوت دو • د) راحت دو

جواب الف) مہلت دو — فرعون کے درباریوں نے مشورہ دیا کہ موسیٰ اور ان کے بھائی کو کچھ مہلت دے دیجیے اور شہروں میں جادوگروں کو جمع کرنے والے بھیج دیجیے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 116)

«سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ» ۔ انھوں نے جادو کیا:

الف) لوگوں کے دلوں پر • ب) لوگوں کی آنکھوں پر • ج) لوگوں کے ذہنوں پر • د) لوگوں کے کانوں پر

جواب ب) لوگوں کی آنکھوں پر — «اَعْیُن» آنکھوں کو کہتے ہیں۔ جادوگروں نے لوگوں کی نظر بندی کر دی، یعنی حقیقت میں کچھ نہ تھا مگر دیکھنے والوں کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ دکھائی دینے لگیں۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّ ٱلۡأَرۡضَ لِلَّهِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 128)

«اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ» میں «الْاَرْضَ» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) فعل • ب) اسم اشارہ • ج) اسم • د) حرف

جواب ج) اسم — «الْاَرْض» ایک جگہ کا نام ہے اور اس کے شروع میں «ال» بھی آیا ہے، جو اسم ہونے کی علامت ہے۔ یہاں «اِنَّ» کے داخل ہونے کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ مُتَبَّرٞ مَّا هُمۡ فِيهِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 139)

«مُتَبَّرٌ» کے معنی ہیں:

الف) برباد ہونے والا • ب) ناکام ہونے والا • ج) کمزور ہونے والا • د) دور ہونے والا

جواب الف) برباد ہونے والا — یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ جواب ہے جو انہوں نے بت پرستی کی فرمائش کرنے والوں کو دیا کہ یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں وہ برباد ہونے والا ہے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

سَأُوْرِيكُمۡ دَارَ ٱلۡفَٰسِقِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 145)

«سَاُوْرِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ» ۔ میں عنقریب تمھیں دکھاؤں گا:

الف) نافرمانوں کا ٹھکانا • ب) نافرمانوں کا انجام • ج) نافرمانوں کا گھر • د) نافرمانوں کا راستہ

جواب ج) نافرمانوں کا گھر — «دَار» کے معنی گھر کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ نافرمان قوموں کے اجڑے ہوئے گھر اور ان کا عبرت ناک انجام تمھیں دکھایا جائے گا تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

حَقِيقٌ عَلَىٰٓ أَن لَّآ أَقُولَ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ قَدۡ جِئۡتُكُم بِبَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ فَأَرۡسِلۡ مَعِيَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 105)

آیتِ کریمہ میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کس بات کا اظہار فرمایا؟

ترجمہ

مجھ پر لازم ہے کہ اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔ یقیناً میں تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح نشانی لایا ہوں، لہٰذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔

اظہار کیے گئے امور

1 سچائی کا التزام — انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے بارے میں حق بات کے سوا کچھ کہنا میرے لیے جائز ہی نہیں۔
2 منصبِ رسالت کا اعلان — وہ اللہ کی طرف سے رب العالمین کے رسول بن کر آئے ہیں۔
3 معجزے کی پیشکش — وہ اپنے رب کی طرف سے کھلی نشانی (بیّنہ) لے کر آئے ہیں۔
4 بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ — فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کر کے ان کے ساتھ بھیج دے۔
7 مختصر جوابات

وَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیات 120 اور 121)

اللہ تعالیٰ کے معجزے کے سامنے جادوگروں نے کیا طرزِ عمل اختیار کیا؟

ترجمہ

اور جادوگر سجدے میں گرا دیے گئے۔ انہوں نے کہا: ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے۔

جادوگروں نے معجزہ دیکھتے ہی حق کو پہچان لیا، بے ساختہ سجدے میں گر پڑے اور کھلم کھلا رب العالمین پر ایمان لے آئے۔

اہم نکات

1 حق کی فوری پہچان — وہ فن کے ماہر تھے، اس لیے فوراً جان گئے کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ کی نشانی ہے۔
2 بے ساختہ سجدہ — قرآن نے «اُلْقِیَ» کا لفظ استعمال کیا، یعنی وہ ایسے گرے جیسے انہیں گرا دیا گیا ہو۔
3 اعلانِ ایمان — انہوں نے فرعون کے دربار میں، اس کے سامنے، ایمان کا اعلان کیا۔
4 استقامت — فرعون کی سخت دھمکیوں کے باوجود وہ اپنے ایمان پر ڈٹے رہے اور صبر اور اسلام پر موت کی دعا مانگی۔
8 مختصر جوابات

لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 124)

آیتِ کریمہ کی رو سے ایمان لانے والوں کو فرعون نے کیا دھمکی دی؟

ترجمہ

میں ضرور تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا، پھر تم سب کو ضرور سولی پر لٹکا دوں گا۔

فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو دو سخت سزاؤں کی دھمکی دی۔

دھمکی کی تفصیل

1 اعضا کاٹنے کی دھمکی — ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دینے کی، یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں۔
2 سولی پر لٹکانے کی دھمکی — تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا سامان بنے۔
3 پس منظر — اس سے پہلے اس نے یہ الزام لگایا کہ یہ سب شہر میں سازش کے تحت طے شدہ منصوبہ ہے۔
4 جادوگروں کا جواب — انہوں نے کہا کہ ہم تو اپنے رب ہی کی طرف پلٹنے والے ہیں، اور دعا کی: اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں موت دے۔
9 مختصر جوابات

۞وَوَٰعَدۡنَا مُوسَىٰ ثَلَٰثِينَ لَيۡلَةٗ وَأَتۡمَمۡنَٰهَا بِعَشۡرٖ فَتَمَّ مِيقَٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرۡبَعِينَ لَيۡلَةٗۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخۡلُفۡنِي فِي قَوۡمِي وَأَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 142)

آیتِ کریمہ میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی سیدنا ہارون علیہ السلام کو کیا نصیحت فرمائی؟

ترجمہ

اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ فرمایا اور ہم نے اسے دس (مزید) سے پورا کیا، تو ان کے رب کی مقرر کردہ مدت چالیس راتوں کی پوری ہو گئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے فرمایا: میری قوم میں میرے جانشین رہنا، اور اصلاح کرنا، اور فساد کرنے والوں کے راستے کی پیروی نہ کرنا۔

نصیحت کے تین حصے

1 جانشینی — «اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ» — میری غیر موجودگی میں قوم کی نگرانی اور قیادت سنبھالنا۔
2 اصلاح — «وَاَصْلِحْ» — قوم کے معاملات درست رکھنا اور ان کی اصلاح کرتے رہنا۔
3 فساد سے اجتناب — «وَلَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ» — فساد پھیلانے والوں کے راستے پر ہرگز نہ چلنا اور نہ ان کی بات ماننا۔
10 مختصر جوابات

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلۡأٓخِرَةِ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡۚ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 147)

آیتِ کریمہ میں جھٹلانے والوں کو کیسا بدلہ دیے جانے کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا، ان کے اعمال برباد ہو گئے۔ انہیں اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

انہیں ٹھیک ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے ان کے اپنے اعمال تھے — یعنی کوئی زیادتی نہیں، خالص انصاف۔

اہم نکات

1 حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ — ان کے سارے اعمال ضائع اور اکارت ہو گئے، کیوں کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں۔
2 جرم کیا تھا؟ — اللہ کی آیات کی تکذیب اور آخرت کی ملاقات کا انکار۔
3 عین انصاف — «هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ» — بدلہ ان کے اپنے کیے کے مطابق ہی ہو گا۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنۡ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَاۚ رَبَّنَآ أَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرٗا وَتَوَفَّنَا مُسۡلِمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 126)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور تو ہم سے صرف اسی بات کا بدلہ لے رہا ہے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے جب وہ ہمارے پاس آ گئیں۔ اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں موت عطا فرما۔

مفہوم اور اہم نکات

1 کہنے والے کون؟ — یہ فرعون کے وہ جادوگر ہیں جو معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئے تھے۔
2 جرم صرف ایمان — انہوں نے فرعون کو جتا دیا کہ ہمارا «قصور» صرف یہ ہے کہ ہم حق دیکھ کر ایمان لے آئے۔
3 صبر کی دعا — «اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا» یعنی صبر ہم پر انڈیل دے — گویا صبر کی مقدار اتنی ہو کہ آزمائش کے مقابلے میں کم نہ پڑے۔
4 خاتمہ بالخیر کی دعا — انہوں نے زندگی کی نہیں بلکہ اسلام پر موت کی دعا مانگی۔
5 سبق — ایمان کی پختگی یہ ہے کہ سزا اور دھمکی کے سامنے بھی حق پر ڈٹا رہا جائے۔
12 تفصیلی جوابات

قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِ ٱسۡتَعِينُواْ بِٱللَّهِ وَٱصۡبِرُوٓاْۖ إِنَّ ٱلۡأَرۡضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 128)

آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو کیا نصیحت فرمائی؟

ترجمہ

موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ بے شک زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور اچھا انجام پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے۔

یہ نصیحت اس وقت فرمائی گئی جب فرعون نے بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی اور قوم پر مظالم بڑھ گئے۔

نصیحت کے اہم نکات

1 اِسْتَعِیْنُوْا بِاللهِ — ہر مشکل میں سہارا اور مدد صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو، کسی مخلوق سے نہیں۔
2 وَاصْبِرُوْا — ظلم اور آزمائش پر صبر و ثبات اختیار کرو اور جلد بازی نہ کرو۔
3 زمین اللہ کی ہے — حکومت اور اقتدار کسی فرعون کی ملکیت نہیں؛ زمین کا اصل مالک اللہ ہے۔
4 وراثتِ زمین — وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے، لہٰذا موجودہ حالات ہمیشہ نہیں رہیں گے۔
5 اچھا انجام متقین کا ہے — آخری کامیابی اور بہترین انجام پرہیزگاروں ہی کے حصے میں آتا ہے۔
13 تفصیلی جوابات

قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَلِأَخِي وَأَدۡخِلۡنَا فِي رَحۡمَتِكَۖ وَأَنتَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 151)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔

مفہوم اور اہم نکات

1 پس منظر — کوہِ طور سے واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قوم کو بچھڑے کی پوجا میں مبتلا پایا، غصے میں تختیاں رکھ دیں اور بھائی کا سر پکڑ لیا۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی صفائی سننے کے بعد یہ دعا فرمائی۔
2 اپنے لیے مغفرت — انبیا کا مقام یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے ہونے والی معمولی شدت پر بھی فوراً استغفار کرتے ہیں۔
3 بھائی کے لیے دعا — اپنے ساتھ حضرت ہارون علیہ السلام کے لیے بھی مغفرت مانگی، جو باہمی محبت اور انصاف کی علامت ہے۔
4 رحمت کا سوال — محض معافی نہیں بلکہ اللہ کی رحمت میں داخلے کی درخواست کی۔
5 اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْن — دعا کا اختتام اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی صفتِ رحمت کے وسیلے سے کیا۔
14 تفصیلی جوابات

قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِ ٱسۡتَعِينُواْ بِٱللَّهِ وَٱصۡبِرُوٓاْۖ إِنَّ ٱلۡأَرۡضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِينَ

«حالتِ جر» کی تعریف اور اس کی دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔

حالتِ جری وہ حالت ہے جس میں اسم پر کوئی عامل داخل ہو کر اسے مجرور کر دیتا ہے، یعنی اس پر کسرہ (زیر) یا اس کی علامت آتی ہے۔

کتاب کی مثال اور سبق میں سے مثالیں

1 کتاب کی مثال — «فِی الْاَرْضِ» میں «الْاَرْضِ» مجرور ہے، کیوں کہ اس پر حرفِ جارہ «فِیْ» داخل ہوا۔
2 سبق میں سے مثالیں — پہلی مثال — «الْمَدَآئِنِ» — آیت 111 میں «وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ» — حرفِ جارہ «فِیْ» کے داخل ہونے سے یہ مجرور ہوا۔
3 سبق میں سے مثالیں — دوسری مثال — «رَحْمَتِكَ» — آیت 151 میں «وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ» — یہاں بھی «فِیْ» کی وجہ سے مجرور ہے۔
4 سبق میں سے مثالیں — مزید مثالیں — «مِنْ خِلَافٍ» (آیت 124)، «بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ» (آیت 105) اور «لِلْمُتَّقِیْنَ» (آیت 128)۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

ا؟ حَقِيقٌ عَلَىٰٓ أَن لَّآ أَقُولَ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ قَدۡ جِئۡتُكُم بِبَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ فَأَرۡسِلۡ مَعِيَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ

سورۃ الأعراف کے اس حصے میں آنے والی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعا تلاش کر کے ترجمے کے ساتھ یاد کریں۔

اس حصے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دو دعائیں آئی ہیں:

پہلی دعا — کوہِ طور پر (آیت 143) اور دوسری دعا — قوم کی واپسی کے بعد (آیت 151)

1 پہلی دعا — کوہِ طور پر (آیت 143) — سُبۡحَٰنَكَ تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 143)
2 پہلی دعا — کوہِ طور پر (آیت 143) — ترجمہ۔ تو پاک ہے، میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔
3 دوسری دعا — قوم کی واپسی کے بعد (آیت 151) — رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَلِأَخِي وَأَدۡخِلۡنَا فِي رَحۡمَتِكَۖ وَأَنتَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 151)
4 دوسری دعا — قوم کی واپسی کے بعد (آیت 151) — ترجمہ۔ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
جواب اسی حصے کی ایک اور اہم دعا — ایمان لانے والے جادوگروں کی دعا بھی اسی حصے میں ہے (آیت 126): «رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ» — اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں موت عطا فرما۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَإِذۡ أَنجَيۡنَٰكُم مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَسُومُونَكُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ يُقَتِّلُونَ أَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُونَ نِسَآءَكُمۡۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَآءٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَظِيمٞ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 141)

آلِ فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا کرتے تھے؟ آپس میں مذاکرہ کریں۔

ترجمہ

اور (یاد کرو) جب ہم نے تمھیں آلِ فرعون سے نجات دی، وہ تمھیں بدترین عذاب دیتے تھے: تمھارے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔

سلوک کی تفصیل اور مذاکرے کے لیے نکات

1 سلوک کی تفصیل — بیٹوں کے ساتھ — نومولود لڑکوں کو قتل کر دیا جاتا تھا، تاکہ بنی اسرائیل میں کوئی مردانہ قوت اور مستقبل کا قائد پیدا نہ ہو سکے۔
2 سلوک کی تفصیل — بیٹیوں کے ساتھ — لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا جاتا تھا، مگر خدمت گاری اور غلامی کے لیے، نہ کہ کسی رحم دلی کی بنا پر۔
3 سلوک کی تفصیل — مقصد — قوم کو کمزور، بے بس اور ہمیشہ محکوم رکھنا۔
4 سلوک کی تفصیل — یہ سلسلہ دوبارہ — آیت 127 کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے بعد فرعون نے پھر یہی دھمکی دی: «سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ»۔
5 سلوک کی تفصیل — اللہ کا فیصلہ — قرآن نے اسے «بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ» یعنی بہت بڑی آزمائش قرار دیا۔
6 سلوک کی تفصیل — انجام — آخرکار اللہ نے کمزور سمجھی جانے والی اسی قوم کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا اور فرعون اور اس کی قوم کے کارخانے تباہ کر دیے۔
7 مذاکرے کے لیے نکات — ظلم کبھی دائمی نہیں ہوتا
8 مذاکرے کے لیے نکات — اللہ کی مدد صبر اور استعانت کے بعد آتی ہے
9 مذاکرے کے لیے نکات — کمزوروں کے حقوق کا تحفظ ہر معاشرے کی ذمہ داری ہے
10 مذاکرے کے لیے نکات — اچھا انجام ہمیشہ متقین کے لیے ہے

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

17 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِيٓ أَنظُرۡ إِلَيۡكَۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِي وَلَٰكِنِ ٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡجَبَلِ فَإِنِ ٱسۡتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوۡفَ تَرَىٰنِيۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكّٗا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقٗاۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبۡحَٰنَكَ تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 143)

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے کلام فرمانے کا واقعہ کہانی کی صورت میں بیان کریں۔

ترجمہ

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تجھے دیکھ لوں۔ ارشاد ہوا: تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے، لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ پر برقرار رہا تو عنقریب تم مجھے دیکھ لو گے۔ پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا: تو پاک ہے، میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔

بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات مل چکی تھی۔ اب انہیں ایک ایسی کتاب اور شریعت کی ضرورت تھی جو ان کی زندگی کا دستور بنے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تیس راتوں کا وعدہ فرمایا، پھر اسے دس مزید راتوں سے پورا کیا، یوں رب کی مقرر کردہ مدت چالیس راتوں کی ہو گئی۔

واقعہ کہانی کی صورت میں اور واقعے کے اہم اسباق

1 واقعہ کہانی کی صورت میں — روانگی سے پہلے انہوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر کیا اور تاکید فرمائی: میری قوم میں میری جگہ سنبھالنا، اصلاح کرتے رہنا، اور فساد کرنے والوں کے راستے پر ہرگز نہ چلنا۔
2 واقعہ کہانی کی صورت میں — پھر وہ کوہِ طور پر مقررہ وقت پر حاضر ہوئے۔ وہاں ایک ایسا اعزاز عطا ہوا جو انسانی تاریخ میں کم ہی کسی کو ملا — ان کے رب نے براہِ راست ان سے کلام فرمایا۔ اسی نسبت سے انہیں «کلیم اللہ» کہا جاتا ہے۔
3 واقعہ کہانی کی صورت میں — کلام کی لذت نے دل میں دیدار کا اشتیاق پیدا کر دیا۔ انہوں نے بے تابی سے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا کہ میں تجھے دیکھ لوں۔ ارشاد ہوا: تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ لیکن سامنے پہاڑ کی طرف دیکھو؛ اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ گیا تو تم بھی مجھے دیکھ لو گے۔
4 واقعہ کہانی کی صورت میں — پھر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر اپنی تجلی فرمائی۔ وہ عظیم پہاڑ اس ایک جھلک کی تاب نہ لا سکا اور ریزہ ریزہ ہو کر بیٹھ گیا۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے۔
5 واقعہ کہانی کی صورت میں — جب ہوش آیا تو زبان پر سب سے پہلے یہی کلمات آئے: «سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ» — تو پاک ہے، میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔
6 واقعہ کہانی کی صورت میں — اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ! میں نے تمھیں اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ذریعے لوگوں پر چن لیا ہے، سو جو کچھ میں نے عطا کیا ہے اسے لے لو اور شکر گزاروں میں سے ہو جاؤ۔ پھر انہیں تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور ہر معاملے کی تفصیل لکھ کر دی گئی، اس حکم کے ساتھ کہ اسے مضبوطی سے تھامنا اور قوم کو حکم دینا کہ وہ اس کی بہترین باتوں کو اختیار کریں۔
7 واقعے کے اہم اسباق — اللہ کا کلام سب سے بڑا اعزاز — حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ شرف عطا ہوا، جو ان کی امتیازی شان ہے۔
8 واقعے کے اہم اسباق — دنیا میں دیدار ممکن نہیں — انسانی آنکھ اس دنیا میں اللہ کے جلال کی تاب نہیں لا سکتی؛ جب پہاڑ نہ سہہ سکا تو انسان کیا سہے گا۔
9 واقعے کے اہم اسباق — انبیا کا فوری رجوع — ہوش آتے ہی سب سے پہلا کام تسبیح اور توبہ تھا۔
10 واقعے کے اہم اسباق — ذمہ داری کی منتقلی — سفر پر جانے سے پہلے قوم کے لیے باقاعدہ نظم قائم کیا گیا۔
11 واقعے کے اہم اسباق — شریعت کا نزول — یہی وہ موقع تھا جب تورات کی تختیاں عطا کی گئیں۔
18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

۞وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۖ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 117)

معجزے اور جادو کا فرق بیان کریں۔

ترجمہ

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال دو۔ پھر یکایک وہ ان چیزوں کو نگلنے لگا جو انہوں نے جھوٹ گھڑ رکھی تھیں۔

سورۃ الأعراف کا یہی واقعہ معجزے اور جادو کا فرق سب سے واضح انداز میں سامنے لاتا ہے۔ نمایاں فرق درج ذیل ہیں:

بنیادی فرق اور اس واقعے سے فرق کی وضاحت

1 بنیادی فرق — حقیقت کے اعتبار سے — معجزہ ایک حقیقی واقعہ ہوتا ہے جو واقعتاً رونما ہوتا ہے، جبکہ جادو اکثر نظر بندی اور دھوکا ہوتا ہے۔ قرآن نے جادوگروں کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے «لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا»۔
2 بنیادی فرق — ماخذ کے اعتبار سے — معجزہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ظاہر ہوتا ہے، جبکہ جادو شیطانی عملیات اور مشق سے حاصل کیا جاتا ہے۔
3 بنیادی فرق — کرنے والے کے اعتبار سے — معجزہ صرف انبیائے کرام علیہم السلام سے ظاہر ہوتا ہے، جبکہ جادو کوئی بھی فاسق و فاجر شخص سیکھ سکتا ہے۔
4 بنیادی فرق — سیکھنے کے اعتبار سے — معجزہ سیکھا یا سکھایا نہیں جا سکتا، جبکہ جادو باقاعدہ سیکھا اور سکھایا جاتا ہے۔
5 بنیادی فرق — حکم کے اعتبار سے — معجزے پر ایمان لانا واجب ہے، جبکہ جادو سیکھنا اور کرنا شریعت میں حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
6 بنیادی فرق — مقصد کے اعتبار سے — معجزہ نبوت کی سچائی کی دلیل اور لوگوں کی ہدایت کے لیے ہوتا ہے، جبکہ جادو کا مقصد عموماً نقصان پہنچانا، دھوکا دینا یا شہرت اور مال کمانا ہوتا ہے۔
7 بنیادی فرق — نتیجے کے اعتبار سے — معجزہ کبھی مغلوب نہیں ہوتا، جبکہ جادو کا اثر ٹوٹ جاتا ہے اور وہ باطل ثابت ہو جاتا ہے۔
8 اس واقعے سے فرق کی وضاحت — جادوگروں کا عمل — انہوں نے رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں؛ دیکھنے والوں کو وہ دوڑتے ہوئے سانپ محسوس ہوئیں، حالانکہ ان کی حقیقت نہ بدلی تھی۔
9 اس واقعے سے فرق کی وضاحت — موسیٰ علیہ السلام کا عصا — وہ حقیقت میں اژدہا بن گیا اور ان کے سارے فریب کو نگل گیا۔
10 اس واقعے سے فرق کی وضاحت — قرآنی فیصلہ — «فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ» — حق ثابت ہو گیا اور ان کا سارا کیا دھرا باطل ہو گیا (آیت 118)۔
11 اس واقعے سے فرق کی وضاحت — سب سے بڑی گواہی — جادو کے ماہرین نے خود پہچان لیا کہ یہ جادو نہیں، اسی لیے وہ سجدے میں گر پڑے اور ایمان لے آئے۔
19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ

حالتِ جر کی تعریف اور حروفِ جارہ کو مثالوں سے واضح کریں۔

1 1۔ حالتِ جری — تعریف — وہ حالت ہے جس میں اسم پر کوئی عامل داخل ہو کر اسے مجرور کر دیتا ہے، یعنی اس پر کسرہ (زیر) یا اس کی علامت آتی ہے۔
2 1۔ حالتِ جری — مثال — «فِی الْاَرْضِ» میں «الْاَرْضِ» مجرور ہے۔
3 2۔ حروفِ جارہ — وہ حروف جو اسم پر داخل ہو کر اسے جر دیتے ہیں، حروفِ جارہ کہلاتے ہیں، اور ان کے بعد آنے والا اسم مجرور ہوتا ہے۔ ان کی تعداد سترہ ہے: بَا، تَا، کَاف، لَام، وَاو، مُنْذُ، مُذْ، خَلَا، رُبَّ، حَاشَا، مِنْ، عَدَا، فِیْ، عَنْ، عَلٰی، حَتّٰی، اِلٰی۔
4 حروفِ جارہ ایک شعر میں — بَا وَ تَا كَاف وَ لَام وَ وَاو مُنْذُ وَ مُذْ خَلَا رُبَّ حَاشَا مِنْ عَدَا فِیْ عَنْ عَلٰی حَتّٰی اِلٰی
5 3۔ مثالوں سے وضاحت — بِ (سے، ساتھ، کو، کے بدلے، بسبب) — بِسْمِ اللهِ (اللہ کے نام سے)، اَعُوْذُ بِاللهِ (میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں)، اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ (آزاد کے بدلے آزاد)
6 3۔ مثالوں سے وضاحت — تَ (قسم) — تَاللهِ لَاَكِیْدَنَّ (اللہ کی قسم! میں ضرور تدبیر کروں گا)
7 3۔ مثالوں سے وضاحت — كَ (جیسے، کی طرح) — كَاَنْعَامِ (چوپایوں کی طرح)
8 3۔ مثالوں سے وضاحت — لِ / لَ (کے لیے) — لِلّٰهِ (اللہ کے لیے)۔ ضمائر کے ساتھ لام پر زیر کے بجائے زبر آ جاتی ہے، جیسے لَهٗ (اس کے لیے)، لَكَ (تیرے لیے) — انہیں محلاً مجرور کہتے ہیں۔
9 3۔ مثالوں سے وضاحت — وَ (قسم) — وَاللهِ (اللہ کی قسم) — یہ عموماً جملے کے شروع میں آتا ہے۔
10 3۔ مثالوں سے وضاحت — مِنْ (سے، میں سے بعض، کی وجہ) — مِنَ السَّمَآءِ (آسمان سے)، وَمِنَ النَّاسِ (اور لوگوں میں سے بعض)، مِنْ خِلَافٍ (مخالف سمت سے)
11 3۔ مثالوں سے وضاحت — فِیْ (میں) — فِی الْاَرْضِ (زمین میں)، فِی الْمَدَآئِنِ (شہروں میں)
12 3۔ مثالوں سے وضاحت — عَنْ (کے متعلق، سے) — عَنِ النَّعِیْمِ (نعمتوں کے متعلق)
13 3۔ مثالوں سے وضاحت — عَلٰی (پر، اوپر) — عَلٰی قَوْمِهٖ (اس کی قوم پر)، عَلٰی بَنِیْۤ اِسْرَآئِیْلَ (بنی اسرائیل پر)، عَلٰی قُلُوْبِهِمْ (ان کے دلوں پر)
14 3۔ مثالوں سے وضاحت — حَتّٰی (تک، جب تک) — حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ (صبح طلوع ہونے تک)
15 3۔ مثالوں سے وضاحت — اِلٰی (طرف، تک) — اِلَی الَّیْلِ (رات تک)، اِلَی الْاَرْضِ (زمین کی طرف)
16 اہم معلومات — مُنْذُ، مُذْ، خَلَا، رُبَّ، حَاشَا اور عَدَا — یہ چھے حروفِ جارہ قرآنِ مجید میں استعمال نہیں ہوئے، البتہ عربی ادب اور بول چال میں استعمال ہوتے ہیں۔
جواب سبق میں سے مجرور اسماء — «الْمَدَآئِنِ» (آیت 111)، «خِلَافٍ» (آیت 124)، «رَبِّنَا» (آیت 126)، «لِلْمُتَّقِیْنَ» (آیت 128) اور «رَحْمَتِكَ» (آیت 151)۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.