چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 4: سبق 4: سورۃ الأعراف (آیات: 54 تا 99) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 20 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتۡ سَحَابٗا ثِقَالٗا (سورۃ الأعراف ۔ آیت 57)

«سَحَابًا ثِقَالًا» کے معنی ہیں:

الف) اونچے بادل • ب) ہلکے بادل • ج) بھاری بادل • د) گہرے بادل

جواب ج) بھاری بادل — «سَحَاب» بادل کو کہتے ہیں اور «ثِقَال» بھاری کو، یعنی وہ بادل جو پانی سے لدے ہوئے ہوں۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمًا عَمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 64)

«اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِيْنَ» ۔ بے شک وہ قوم تھی:

الف) گونگی • ب) بہری • ج) لنگڑی • د) اندھی

جواب د) اندھی — یہاں اندھے پن سے مراد ظاہری اندھا پن نہیں بلکہ دل و بصیرت کا اندھا پن ہے، یعنی حق دیکھ کر بھی نہ ماننا۔ یہ قومِ نوح علیہ السلام کا ذکر ہے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 73)

«هٰذِهٖ نَاقَةُ اللهِ لَكُمْ اٰیَةً» میں «هٰذِهٖ» ہے:

الف) اسم اشارہ • ب) اسم فاعل • ج) اسم موصول • د) اسم مفعول

جواب الف) اسم اشارہ — «هٰذِهٖ» قریب کی مؤنث چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آتا ہے، اس لیے یہ اسمِ اشارہ ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَلَا تَقۡعُدُواْ بِكُلِّ صِرَٰطٖ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 86)

«وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ» ۔ تم مت بیٹھا کرو:

الف) ہر سڑک پر • ب) ہر راستے پر • ج) ہر سواری پر • د) ہر نشست پر

جواب ب) ہر راستے پر — «صِرَاط» کے معنی راستہ ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو منع فرمایا کہ وہ راستوں پر بیٹھ کر لوگوں کو ڈرائیں اور اللہ کی راہ سے روکیں۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

بَيَٰتٗا وَهُمۡ نَآئِمُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 97)

«نَآئِمُوْنَ» کا معنی ہے:

الف) سوئے ہوئے • ب) جاگے ہوئے • ج) کھاتے ہوئے • د) چلتے ہوئے

جواب الف) سوئے ہوئے — آیت میں بستیوں والوں کی بے خوفی پر تنبیہ ہے کہ کہیں رات کے وقت ان کے سوتے میں ہی عذاب نہ آ پہنچے۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَ يَطۡلُبُهُۥ حَثِيثٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتِۭ بِأَمۡرِهِۦٓۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 54)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کن صفات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

بے شک تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا، پھر وہ عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ وہ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے (اور) وہ اس کے پیچھے تیزی سے آتا ہے، اور سورج، چاند اور ستارے (پیدا فرمائے) جو اس کے حکم کے تابع ہیں۔ خبردار! پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا کام ہے۔ اللہ برکت والا ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

مذکور صفات

1 خالقیت — اسی نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔
2 استواء علی العرش — وہ اپنی شان کے لائق عرش پر جلوہ فرما ہے۔
3 تدبیر و انتظام — رات اور دن کا مسلسل ادل بدل اسی کے حکم سے ہوتا ہے۔
4 تسخیرِ کائنات — سورج، چاند اور ستارے سب اس کے حکم کے پابند ہیں۔
5 اَلْخَلْقُ وَالْاَمْرُ — پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور حکم چلانا بھی؛ کوئی اس کا شریک نہیں۔
6 برکت اور ربوبیت — «تَبَارَكَ اللهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ» — وہ بہت برکت والا اور تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔
7 مختصر جوابات

ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 55)

آیتِ کریمہ میں دعا کے حوالے سے کیا تعلیمات دی گئی ہیں؟

ترجمہ

اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔ بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

دعا کی تعلیمات

1 تضرع (گڑگڑانا) — دعا عاجزی، انکساری اور اپنی محتاجی کے احساس کے ساتھ مانگی جائے۔
2 خفیہ (چپکے چپکے) — دعا آہستہ اور پوشیدہ طور پر کی جائے، کیوں کہ اس میں اخلاص زیادہ اور ریا کاری کا اندیشہ کم ہوتا ہے۔
3 اعتدال — دعا میں حد سے تجاوز نہ کیا جائے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
4 خوف اور امید کے ساتھ — اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ اسے خوف اور امید دونوں کیفیتوں کے ساتھ پکارو۔
8 مختصر جوابات

قَالَ يَٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِي ضَلَٰلَةٞ وَلَٰكِنِّي رَسُولٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 61)

آیتِ کریمہ کی رو سے سیدنا نوح علیہ السلام نے قوم کی باتوں کا کیا جواب دیا؟

ترجمہ

انہوں نے فرمایا: اے میری قوم! مجھ میں کوئی گم راہی نہیں ہے، بلکہ میں تو تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔

قوم کے سرداروں نے کہا تھا کہ ہم آپ کو کھلی گم راہی میں دیکھ رہے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت نوح علیہ السلام نے نہایت نرمی اور وقار کے ساتھ اپنی صفائی پیش کی۔

جواب کے اہم پہلو

1 الزام کی نفی — انہوں نے واضح فرمایا کہ مجھ میں کسی قسم کی گم راہی نہیں ہے۔
2 منصبِ رسالت کا اعلان — میں تو تمام جہانوں کے رب کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔
3 نرم لہجہ — قوم کی سخت بات کے جواب میں بھی انہوں نے «یٰقَوْمِ» (اے میری قوم) کہہ کر خیر خواہی اور اپنائیت کا اظہار کیا۔
4 تبلیغ کا تسلسل — اگلی آیات میں فرمایا کہ میں تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، تمھاری خیر خواہی کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
9 مختصر جوابات

فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 78)

آیتِ کریمہ میں قومِ ثمود پر آنے والے کس عذاب کا ذکر ہے؟

ترجمہ

پھر انہیں زلزلے نے آ پکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔

آیت میں قومِ ثمود پر آنے والے «اَلرَّجْفَة» یعنی شدید زلزلے کے عذاب کا ذکر ہے۔

اہم نکات

1 عذاب کی نوعیت — «اَلرَّجْفَة» سے مراد وہ ہولناک زلزلہ اور جھٹکا ہے جس نے پوری بستی کو ہلا کر رکھ دیا۔
2 انجام — وہ اپنے ہی گھروں میں اوندھے منہ گر کر ہلاک ہو گئے (جٰثِمِیْن)۔
3 سبب — انہوں نے اللہ کی نشانی (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی، اور حضرت صالح علیہ السلام سے عذاب کا مطالبہ کیا۔
10 مختصر جوابات

وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ فَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَاۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 85)

آیتِ کریمہ کی رو سے حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم کو کیا تلقین فرمائی؟

ترجمہ

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)۔ انہوں نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یقیناً تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیل آ چکی ہے، لہٰذا ناپ اور تول پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو، اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ کرو۔ یہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔

تلقین کیے گئے امور

1 توحید — صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
2 ناپ تول پورا کرنا — لین دین میں ماپ اور وزن پورا پورا دیا جائے۔
3 حق تلفی سے بچنا — لوگوں کی چیزیں کم کر کے نہ دی جائیں۔
4 فساد سے اجتناب — زمین میں اصلاح کے بعد بگاڑ نہ پھیلایا جائے۔
5 ایمان کا تقاضا — یہی طرزِ عمل تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم واقعی مومن ہو۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَا وَٱدۡعُوهُ خَوۡفٗا وَطَمَعًاۚ إِنَّ رَحۡمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٞ مِّنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 56)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، اور اسے خوف اور امید کے ساتھ پکارو۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔

مفہوم اور اہم نکات

1 فساد کی ممانعت — زمین میں امن و اصلاح قائم ہو جانے کے بعد بگاڑ پیدا کرنا سخت منع ہے۔
2 خوف اور طمع — دعا کے وقت دل میں اللہ کے عذاب کا خوف بھی ہو اور اس کی رحمت کی امید بھی؛ یہی بندگی کا اصل توازن ہے۔
3 رحمت کا قرب — اللہ کی رحمت نیکو کاروں (محسنین) کے بہت قریب ہے۔
4 محسن کون؟ — وہ جو اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کرے اور مخلوق کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے۔
12 تفصیلی جوابات

وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 73)

آیتِ کریمہ کی رو سے حضرت صالح علیہ السلام نے قوم کو اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کے حوالے سے کیا ہدایات فرمائیں؟

ترجمہ

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا)۔ انہوں نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یقیناً تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیل آ چکی ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے ایک نشانی ہے، سو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے، اور اسے برائی کے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمھیں دردناک عذاب آ پکڑے گا۔

اونٹنی کے حوالے سے ہدایات

1 یہ اللہ کی نشانی ہے — اونٹنی کوئی عام جانور نہ تھی بلکہ قوم کے مطالبے پر دی گئی ایک کھلی نشانی (معجزہ) تھی۔
2 اسے آزاد چھوڑ دو — اسے اللہ کی زمین میں چرنے اور پھرنے دیا جائے، اس پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے۔
3 اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ — برے ارادے سے اسے ہاتھ تک نہ لگایا جائے۔
4 خلاف ورزی کا انجام — ایسا کرنے کی صورت میں دردناک عذاب کی صریح تنبیہ کر دی گئی۔
5 قوم کا رویہ — انہوں نے حکم عدولی کرتے ہوئے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، جس کے بعد انہیں زلزلے کے عذاب نے آ پکڑا۔
13 تفصیلی جوابات

أَفَأَمِنُواْ مَكۡرَ ٱللَّهِۚ فَلَا يَأۡمَنُ مَكۡرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 99)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہو گئے؟ سو اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں۔

مفہوم اور اہم نکات

1 مکرِ الٰہی سے مراد — یہاں «مَكْر» سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ خفیہ تدبیر ہے جس سے وہ نافرمانوں کو مہلت دیتے دیتے اچانک گرفت میں لے لیتا ہے۔
2 بے خوفی خطرناک ہے — مہلت اور آسائش کو اللہ کی رضامندی سمجھ لینا سب سے بڑی غفلت ہے۔
3 خسارہ پانے والے — اللہ کی گرفت سے بے فکر وہی ہوتا ہے جو حقیقت میں نقصان اٹھانے والا ہے۔
4 مطلوب کیفیت — مومن کو ہمیشہ خوف اور امید کے درمیان رہنا چاہیے — نہ مایوسی، نہ بے خوفی۔
14 تفصیلی جوابات

وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ

نصب کی تعریف اور اس کی دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔

نصب وہ حالت ہے جس میں اسم پر کوئی عامل (حرفِ ناصب) داخل ہو کر اسے منصوب کر دیتا ہے، یعنی اس پر زبر یا اس کی علامت آتی ہے۔

کتاب کی مثال اور سبق میں سے مثالیں

1 کتاب کی مثال — «اِنَّ اللهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ» میں لفظ «اللهَ» منصوب ہے، کیوں کہ اس پر «اِنَّ» داخل ہوا۔
2 سبق میں سے مثالیں — پہلی مثال — «رَحْمَتَ» — آیت 56 میں «اِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِیْبٌ» — «اِنَّ» کے داخل ہونے سے «رَحْمَتَ» منصوب ہوا، اور «قَرِیْبٌ» خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع رہا۔
3 سبق میں سے مثالیں — دوسری مثال — «سَحَابًا ثِقَالًا» — آیت 57 میں «اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا» — دونوں کلمات کے آخر میں دو زبر ہیں، اس لیے یہ منصوب ہیں۔
4 سبق میں سے مثالیں — مزید مثالیں — «قَوْمًا عَمِیْنَ» (آیت 64)، «تَضَرُّعًا وَّخُفْیَةً» (آیت 55) اور «خَوْفًا وَّطَمَعًا» (آیت 56)۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 55)

«اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کے آداب» معلوم کریں اور دعا مانگتے وقت ان آداب کا خیال رکھیں۔

قرآن و سنت کی روشنی میں دعا کے چند اہم آداب درج ذیل ہیں:

1 دعا سے پہلے — طہارت اور قبلہ رخ ہونا — باوضو ہو کر اور قبلہ کی طرف رخ کر کے دعا مانگنا افضل ہے۔
2 دعا سے پہلے — حمد و ثنا سے آغاز — دعا کا آغاز اللہ تعالیٰ کی تعریف اور نبی کریم ﷺ پر درود سے کیا جائے۔
3 دعا سے پہلے — حلال کمائی — کھانا، پینا اور لباس حلال ہونا دعا کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔
4 دعا کے دوران — تضرع و عاجزی — گڑگڑا کر، انکساری اور اپنی محتاجی کے احساس کے ساتھ مانگا جائے۔
5 دعا کے دوران — خفیہ اور دھیمی آواز — دعا چپکے چپکے کی جائے، کیوں کہ اس میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے۔
6 دعا کے دوران — خوف اور امید — دل میں اللہ کے عذاب کا خوف بھی ہو اور اس کی رحمت کی امید بھی۔
7 دعا کے دوران — یقین کے ساتھ مانگنا — اس یقین کے ساتھ دعا کی جائے کہ اللہ ضرور سنتا اور قبول فرماتا ہے۔
8 دعا کے دوران — حد سے تجاوز نہ کرنا — ناجائز یا گناہ کی بات، یا قطع رحمی کی دعا نہ مانگی جائے۔
9 دعا کے دوران — ہاتھ اٹھانا اور اسمائے حسنیٰ سے مانگنا — دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کے پیارے ناموں کے وسیلے سے دعا کی جائے۔
10 دعا کے دوران — اپنے ساتھ دوسروں کو شامل کرنا — والدین، اساتذہ اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے بھی دعا کی جائے۔
11 دعا کے بعد — جلد بازی نہ کرنا — یہ نہ کہا جائے کہ میں نے دعا کی مگر قبول نہ ہوئی؛ قبولیت کا وقت اللہ کے علم میں ہے۔
12 دعا کے بعد — آمین کہنا اور چہرے پر ہاتھ پھیرنا — دعا کے اختتام پر آمین کہنا مسنون ہے۔
13 دعا کے بعد — قبولیت کے اوقات — سجدے کی حالت، اذان اور اقامت کے درمیان، رمضان، جمعہ کی ساعت اور رات کے آخری پہر میں دعا کا خاص اہتمام کیا جائے۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ

سورۃ الأعراف کی روشنی میں قصۂ سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا صالح علیہ السلام کے اہم نکات جمع کر کے مذاکرہ کریں۔

دونوں قصوں کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1 قصۂ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 59 تا 64) — دعوتِ توحید — انہوں نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔
2 قصۂ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 59 تا 64) — عذاب سے خبردار کرنا — انہوں نے فرمایا کہ مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔
3 قصۂ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 59 تا 64) — سرداروں کا الزام — قوم کے سرداروں نے کہا کہ ہم تمھیں کھلی گم راہی میں دیکھ رہے ہیں۔
4 قصۂ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 59 تا 64) — پُر وقار جواب — انہوں نے فرمایا کہ مجھ میں کوئی گم راہی نہیں، میں تو رب العالمین کا رسول ہوں۔
5 قصۂ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 59 تا 64) — تبلیغ کا خلاصہ — میں تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، تمھاری خیر خواہی کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
6 قصۂ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 59 تا 64) — انکار اور انجام — قوم نے جھٹلایا، تو اللہ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو کشتی میں نجات دی اور جھٹلانے والوں کو غرق کر دیا۔
7 قصۂ سیدنا نوح علیہ السلام (آیات 59 تا 64) — سبب — قرآن نے ان کی ہلاکت کی وجہ یہ بتائی کہ وہ (بصیرت کے اعتبار سے) اندھی قوم تھے۔
8 قصۂ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 73 تا 79) — دعوتِ توحید — قومِ ثمود کو بھی وہی پیغام دیا: اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
9 قصۂ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 73 تا 79) — نعمتوں کی یاد دہانی — انہیں یاد دلایا کہ اللہ نے قومِ عاد کے بعد تمھیں جانشین بنایا، میدانوں میں محل اور پہاڑوں کو تراش کر گھر عطا کیے۔
10 قصۂ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 73 تا 79) — اونٹنی کی نشانی — اللہ کی اونٹنی ایک کھلی نشانی کے طور پر دی گئی۔
11 قصۂ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 73 تا 79) — واضح ہدایت — اسے اللہ کی زمین میں چرنے دو اور برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ دردناک عذاب آ پکڑے گا۔
12 قصۂ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 73 تا 79) — سرداروں کا تکبر — متکبر سرداروں نے کمزور مومنوں کا مذاق اڑایا اور رسالت کا انکار کیا۔
13 قصۂ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 73 تا 79) — کونچیں کاٹنا — انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور سرکشی کرتے ہوئے عذاب کا مطالبہ کیا۔
14 قصۂ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 73 تا 79) — زلزلے کا عذاب — انہیں «الرَّجْفَة» نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔
15 قصۂ سیدنا صالح علیہ السلام (آیات 73 تا 79) — آخری خطاب — حضرت صالح علیہ السلام نے منہ پھیر کر فرمایا کہ میں نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور تمھاری خیر خواہی کی، مگر تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔
16 مشترکہ اسباق — ہر نبی کی دعوت کا آغاز توحید سے ہوا
17 مشترکہ اسباق — انبیا نے سختی کے جواب میں بھی نرمی اور خیر خواہی کا رویہ رکھا
18 مشترکہ اسباق — انکار کی جڑ ہمیشہ تکبر اور سرداروں کی ضد رہی
19 مشترکہ اسباق — اللہ نے ماننے والوں کو نجات دی اور جھٹلانے والوں کو ہلاک کیا

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

17 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَهُوَ ٱلَّذِي يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتۡ سَحَابٗا ثِقَالٗا سُقۡنَٰهُ لِبَلَدٖ مَّيِّتٖ فَأَنزَلۡنَا بِهِ ٱلۡمَآءَ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِۚ كَذَٰلِكَ نُخۡرِجُ ٱلۡمَوۡتَىٰ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 57)

ہواؤں، بادلوں اور بارشوں کا نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں۔ اس موضوع پر پیراگراف تحریر کریں۔

ترجمہ

اور وہی ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل اٹھا لیتی ہیں تو ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس سے پانی اتارتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

ہواؤں، بادلوں اور بارش کا نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ان عظیم نشانیوں میں سے ہے جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے دہرائی جاتی ہیں، مگر عادت کی وجہ سے ہم ان پر غور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے، اور یہ ہوائیں بارش کی خوش خبری لے کر آتی ہیں۔ پھر یہی ہوائیں سمندروں سے اٹھنے والے بخارات کو جمع کر کے پانی سے لدے ہوئے بھاری بادل اٹھا لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو ہانک کر اُس خطے کی طرف لے جاتا ہے جو خشک اور مردہ پڑا ہوتا ہے، اور وہاں بارش برساتا ہے۔

پیراگراف

1 یہ پانی جیسے ہی مردہ زمین پر پڑتا ہے، وہ زندہ ہو اٹھتی ہے۔ بیج پھٹتے ہیں، کونپلیں نکلتی ہیں، اور ایک ہی پانی سے طرح طرح کے پھل، اناج اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں، جن کے رنگ، ذائقے اور خوشبوئیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اسی ایک نظام میں ہوا، حرارت، بخارات، کشش، درجۂ حرارت اور بارش کا ایسا باریک توازن رکھا گیا ہے کہ اس میں ذرا سی تبدیلی پوری زمین کی زندگی کو درہم برہم کر سکتی ہے۔ یہ سب کچھ اتفاقاً نہیں ہو رہا، بلکہ ایک حکیم و قدیر ذات کے مقرر کردہ نظام کے تحت ہو رہا ہے۔
جواب قرآنِ مجید نے اس نظام کو صرف ایک قدرتی مشاہدہ بنا کر نہیں چھوڑا، بلکہ اس سے آخرت پر استدلال کیا ہے: «کَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰی» — یعنی جو ذات مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے، وہ مُردوں کو دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔ اسی سبق کے علم و عمل کی باتوں میں یہ نکتہ بھی بیان ہوا کہ جس طرح زرخیز زمین اچھی پیداوار دیتی ہے اور بنجر زمین بے کار رہتی ہے، اسی طرح پاکیزہ دل رکھنے والا مومن نصیحت قبول کر کے نفع اٹھاتا ہے، جبکہ ناپاک دل بنجر زمین کی طرح کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ بارش کے ہر قطرے کو اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت کی نشانی سمجھیں، اس پر اس کا شکر ادا کریں اور پانی جیسی عظیم نعمت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔
18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَلَوۡ أَنَّ أَهۡلَ ٱلۡقُرَىٰٓ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَرَكَٰتٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِن كَذَّبُواْ فَأَخَذۡنَٰهُم بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 96)

سورۃ الأعراف کی آیت نمبر 96 کو سامنے رکھتے ہوئے ایمان و تقویٰ کے نتائج تحریر کریں۔

ترجمہ

اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑ لیا۔

ایمان و تقویٰ کے نتائج اور اس کے برعکس — تکذیب کے نتائج

1 ایمان و تقویٰ کے نتائج — آسمانی برکات — بروقت بارشیں، موسموں کا اعتدال اور فضا میں خیر و رحمت کا نزول۔
2 ایمان و تقویٰ کے نتائج — زمینی برکات — زمین کی زرخیزی، پیداوار میں اضافہ، رزق کی فراوانی اور معاشی خوشحالی۔
3 ایمان و تقویٰ کے نتائج — امن و سکون — معاشرے میں امن، باہمی اعتماد اور دلوں کا اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
4 ایمان و تقویٰ کے نتائج — مشکلات سے نکلنے کا راستہ — تقویٰ اختیار کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ راستہ نکال دیتا ہے اور بے گمان جگہ سے رزق دیتا ہے۔
5 ایمان و تقویٰ کے نتائج — عذاب سے حفاظت — ایمان اور تقویٰ اجتماعی عذاب سے بچاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
6 ایمان و تقویٰ کے نتائج — اخروی کامیابی — دنیا کی برکتوں کے ساتھ آخرت کی نجات اور اجرِ عظیم بھی ملتا ہے۔
7 اس کے برعکس — تکذیب کے نتائج — برکتوں کا رک جانا — جھٹلانے کی وجہ سے وہی رحمتیں روک لی جاتی ہیں۔
8 اس کے برعکس — تکذیب کے نتائج — اعمال کی گرفت — قوموں کو ان کے اپنے کیے کی پاداش میں پکڑ لیا جاتا ہے۔
9 اس کے برعکس — تکذیب کے نتائج — اچانک عذاب — اگلی آیات میں تنبیہ ہے کہ عذاب رات کو سوتے میں یا دن کو کھیل کود کے دوران اچانک آ سکتا ہے۔
10 اس کے برعکس — تکذیب کے نتائج — اصل خسارہ — اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہو جانا ہی سب سے بڑا خسارہ ہے۔
جواب ہمارے لیے سبق — یہ آیت بتاتی ہے کہ قوموں کی ترقی اور زوال کا تعلق صرف مادی اسباب سے نہیں بلکہ ایمان اور تقویٰ سے بھی ہے۔ اس لیے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ہمیں ایمان کی پختگی اور تقویٰ کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔
19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ا؟ قَالَ يَٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِي ضَلَٰلَةٞ وَلَٰكِنِّي رَسُولٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

سبق نمبر 4 میں مذکور انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات مختصراً بیان کریں۔

اس سبق (آیات 54 تا 99) میں پانچ انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات بیان ہوئے ہیں:

1 1۔ حضرت نوح علیہ السلام (آیات 59 تا 64) — انہیں اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا۔ انہوں نے توحید کی دعوت دی اور ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرایا۔ قوم کے سرداروں نے انہیں کھلی گم راہی میں قرار دیا، جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ میں تو رب العالمین کا رسول ہوں۔ قوم نے جھٹلایا، تو انہیں اور ان کے ساتھیوں کو کشتی میں نجات ملی اور جھٹلانے والے غرق کر دیے گئے۔
2 2۔ حضرت ہود علیہ السلام (آیات 65 تا 72) — انہیں قومِ عاد کی طرف بھیجا گیا۔ انہوں نے بھی توحید کی دعوت دی۔ سرداروں نے انہیں بے وقوفی اور جھوٹ کا طعنہ دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں امانت دار رسول ہوں اور انہیں یاد دلایا کہ اللہ نے قومِ نوح کے بعد تمھیں جانشین بنایا اور جسمانی طاقت میں اضافہ عطا فرمایا۔ قوم نے آبا و اجداد کے معبودوں پر اصرار کیا اور عذاب کا مطالبہ کیا، چنانچہ انہیں ہلاک کر دیا گیا اور اہلِ ایمان کو نجات ملی۔
3 3۔ حضرت صالح علیہ السلام (آیات 73 تا 79) — انہیں قومِ ثمود کی طرف بھیجا گیا۔ انہوں نے توحید کی دعوت دی اور اللہ کی اونٹنی کو کھلی نشانی کے طور پر پیش کیا، اور ہدایت فرمائی کہ اسے آزاد چرنے دو اور تکلیف نہ پہنچاؤ۔ متکبر سرداروں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور سرکشی کی، تو انہیں زلزلے نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔
4 4۔ حضرت لوط علیہ السلام (آیات 80 تا 84) — انہوں نے اپنی قوم کو اس بے حیائی سے روکا جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ قوم نے جواب میں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو بستی سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اللہ نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو نجات دی، سوائے ان کی بیوی کے، اور قوم پر پتھروں کی بارش برسا دی۔
5 5۔ حضرت شعیب علیہ السلام (آیات 85 تا 93) — انہیں اہلِ مدین کی طرف بھیجا گیا۔ انہوں نے توحید کے ساتھ ساتھ ناپ تول پورا کرنے، لوگوں کا حق نہ مارنے، زمین میں فساد نہ پھیلانے اور راستوں پر بیٹھ کر لوگوں کو اللہ کی راہ سے نہ روکنے کی تلقین فرمائی۔ سرداروں نے انہیں اور اہلِ ایمان کو بستی سے نکالنے یا اپنے دین میں لوٹ آنے کی دھمکی دی۔ انہوں نے اللہ پر توکل کیا اور فیصلہ اسی کے سپرد کیا۔ آخر کار قوم کو زلزلے نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔
جواب مشترک اصول — ان تمام واقعات میں ایک ہی ترتیب نظر آتی ہے: دعوتِ توحید، سرداروں کا تکبر اور انکار، نبی کی خیر خواہی اور صبر، پھر مومنوں کی نجات اور جھٹلانے والوں کی ہلاکت۔
20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ

نصب کی تعریف، حروفِ ناصبہ، حروفِ جازمہ، جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کی تعریف مع امثال تحریر کریں۔

1 1۔ نصب — تعریف — وہ حالت ہے جس میں اسم پر کوئی عامل (حرفِ ناصب) داخل ہو کر اسے منصوب کر دیتا ہے، یعنی اس پر زبر یا اس کی علامت آتی ہے۔
2 1۔ نصب — مثال — «اِنَّ اللهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ» میں «اللهَ» منصوب ہے۔
3 2۔ حروفِ ناصبہ — تعریف — یہ حروف فعلِ مضارع سے پہلے آ کر اسے منصوب کر دیتے ہیں۔
4 2۔ حروفِ ناصبہ — حروف — اَنْ، لَنْ، کَیْ، اِذَنْ
5 2۔ حروفِ ناصبہ — مثالیں — اَنْ یَّأْتِیَهُمْ، لَنْ تُؤْمِنَ لَكَ، كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا
6 3۔ حروفِ مشبہ بالفعل — تعریف — یہ جملہ اسمیہ میں مبتدا کو نصب دیتے ہیں اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔
7 3۔ حروفِ مشبہ بالفعل — حروف — اِنَّ، اَنَّ، کَاَنَّ، لٰکِنَّ، لَیْتَ، لَعَلَّ
8 3۔ حروفِ مشبہ بالفعل — مثالیں — اِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِیْبٌ، لَیْتَ الْحَاکِمَ عَادِلٌ، لٰکِنَّ الشَّیْطٰنَ عَدُوٌّ
9 4۔ افعالِ ناقصہ — تعریف — وہ افعال جو مبتدا اور خبر پر داخل ہو کر مبتدا کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں۔ مبتدا کو ان کا اسم اور خبر کو ان کی خبر کہتے ہیں۔ ناقصہ اس لیے کہ یہ اپنا معنی مکمل کرنے کے لیے خبر کے محتاج رہتے ہیں۔
10 4۔ افعالِ ناقصہ — مشہور افعال — کَانَ، صَارَ، اَصْبَحَ، اَمْسٰی، اَضْحٰی، ظَلَّ، بَاتَ، مَازَالَ، مَابَرِحَ، مَافَتِئَ، مَاانْفَكَّ، مَادَامَ، لَیْسَ
11 4۔ افعالِ ناقصہ — مثالیں — «کَانَ اللهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا»، «ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا»
12 5۔ جزم اور حروفِ جازمہ — جزم کی تعریف — وہ حالت ہے جس میں فعلِ مضارع پر کوئی حرفِ جازم داخل ہو کر اسے مجزوم کر دیتا ہے، یعنی اس کے آخر میں سکون یا علامتِ جزم آتی ہے۔
13 5۔ جزم اور حروفِ جازمہ — حروفِ جازمہ (پانچ) — لَمْ، لَمَّا، لِ (لامِ امر)، لَا (لائے نہی)، اِنْ (شرطیہ)
14 5۔ جزم اور حروفِ جازمہ — مثالیں — لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ، لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ، لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ، اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ
15 6۔ جملہ اسمیہ — تعریف — وہ جملہ جس کی ابتدا اسم سے ہو۔ اس کا پہلا حصہ «مبتدا» اور دوسرا حصہ «خبر» کہلاتا ہے۔
16 6۔ جملہ اسمیہ — مثال — «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» — اَلْحَمْدُ مبتدا اور لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ خبر ہے۔
17 7۔ جملہ فعلیہ — تعریف — وہ جملہ جس کی ابتدا فعل سے ہو۔ اس میں فعل، فاعل، مفعول اور متعلقات ہوتے ہیں۔
18 7۔ جملہ فعلیہ — مثالیں — اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، رَاَیْتُ النَّاسَ، خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ، یُرْسِلُ الرِّیَاحَ، قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.