حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتۡ سَحَابٗا ثِقَالٗا (سورۃ الأعراف ۔ آیت 57)
«سَحَابًا ثِقَالًا» کے معنی ہیں:
الف) اونچے بادل • ب) ہلکے بادل • ج) بھاری بادل • د) گہرے بادل
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتۡ سَحَابٗا ثِقَالٗا (سورۃ الأعراف ۔ آیت 57)
«سَحَابًا ثِقَالًا» کے معنی ہیں:
الف) اونچے بادل • ب) ہلکے بادل • ج) بھاری بادل • د) گہرے بادل
إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمًا عَمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 64)
«اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِيْنَ» ۔ بے شک وہ قوم تھی:
الف) گونگی • ب) بہری • ج) لنگڑی • د) اندھی
هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 73)
«هٰذِهٖ نَاقَةُ اللهِ لَكُمْ اٰیَةً» میں «هٰذِهٖ» ہے:
الف) اسم اشارہ • ب) اسم فاعل • ج) اسم موصول • د) اسم مفعول
وَلَا تَقۡعُدُواْ بِكُلِّ صِرَٰطٖ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 86)
«وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ» ۔ تم مت بیٹھا کرو:
الف) ہر سڑک پر • ب) ہر راستے پر • ج) ہر سواری پر • د) ہر نشست پر
بَيَٰتٗا وَهُمۡ نَآئِمُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 97)
«نَآئِمُوْنَ» کا معنی ہے:
الف) سوئے ہوئے • ب) جاگے ہوئے • ج) کھاتے ہوئے • د) چلتے ہوئے
إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَ يَطۡلُبُهُۥ حَثِيثٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتِۭ بِأَمۡرِهِۦٓۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 54)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کن صفات کا ذکر ہے؟
بے شک تمھارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا، پھر وہ عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ وہ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے (اور) وہ اس کے پیچھے تیزی سے آتا ہے، اور سورج، چاند اور ستارے (پیدا فرمائے) جو اس کے حکم کے تابع ہیں۔ خبردار! پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا کام ہے۔ اللہ برکت والا ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
مذکور صفات
ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 55)
آیتِ کریمہ میں دعا کے حوالے سے کیا تعلیمات دی گئی ہیں؟
اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔ بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
دعا کی تعلیمات
قَالَ يَٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِي ضَلَٰلَةٞ وَلَٰكِنِّي رَسُولٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 61)
آیتِ کریمہ کی رو سے سیدنا نوح علیہ السلام نے قوم کی باتوں کا کیا جواب دیا؟
انہوں نے فرمایا: اے میری قوم! مجھ میں کوئی گم راہی نہیں ہے، بلکہ میں تو تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔
قوم کے سرداروں نے کہا تھا کہ ہم آپ کو کھلی گم راہی میں دیکھ رہے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت نوح علیہ السلام نے نہایت نرمی اور وقار کے ساتھ اپنی صفائی پیش کی۔
جواب کے اہم پہلو
فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 78)
آیتِ کریمہ میں قومِ ثمود پر آنے والے کس عذاب کا ذکر ہے؟
پھر انہیں زلزلے نے آ پکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔
آیت میں قومِ ثمود پر آنے والے «اَلرَّجْفَة» یعنی شدید زلزلے کے عذاب کا ذکر ہے۔
اہم نکات
وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ فَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَاۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 85)
آیتِ کریمہ کی رو سے حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم کو کیا تلقین فرمائی؟
اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)۔ انہوں نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یقیناً تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیل آ چکی ہے، لہٰذا ناپ اور تول پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو، اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ کرو۔ یہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔
تلقین کیے گئے امور
وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَا وَٱدۡعُوهُ خَوۡفٗا وَطَمَعًاۚ إِنَّ رَحۡمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٞ مِّنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 56)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، اور اسے خوف اور امید کے ساتھ پکارو۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔
مفہوم اور اہم نکات
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 73)
آیتِ کریمہ کی رو سے حضرت صالح علیہ السلام نے قوم کو اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کے حوالے سے کیا ہدایات فرمائیں؟
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا)۔ انہوں نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یقیناً تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیل آ چکی ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے ایک نشانی ہے، سو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے، اور اسے برائی کے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمھیں دردناک عذاب آ پکڑے گا۔
اونٹنی کے حوالے سے ہدایات
أَفَأَمِنُواْ مَكۡرَ ٱللَّهِۚ فَلَا يَأۡمَنُ مَكۡرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 99)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہو گئے؟ سو اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں۔
مفہوم اور اہم نکات
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
نصب کی تعریف اور اس کی دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔
نصب وہ حالت ہے جس میں اسم پر کوئی عامل (حرفِ ناصب) داخل ہو کر اسے منصوب کر دیتا ہے، یعنی اس پر زبر یا اس کی علامت آتی ہے۔
کتاب کی مثال اور سبق میں سے مثالیں
ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 55)
«اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کے آداب» معلوم کریں اور دعا مانگتے وقت ان آداب کا خیال رکھیں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں دعا کے چند اہم آداب درج ذیل ہیں:
ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ
سورۃ الأعراف کی روشنی میں قصۂ سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا صالح علیہ السلام کے اہم نکات جمع کر کے مذاکرہ کریں۔
دونوں قصوں کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
وَهُوَ ٱلَّذِي يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتۡ سَحَابٗا ثِقَالٗا سُقۡنَٰهُ لِبَلَدٖ مَّيِّتٖ فَأَنزَلۡنَا بِهِ ٱلۡمَآءَ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِۚ كَذَٰلِكَ نُخۡرِجُ ٱلۡمَوۡتَىٰ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 57)
ہواؤں، بادلوں اور بارشوں کا نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں۔ اس موضوع پر پیراگراف تحریر کریں۔
اور وہی ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل اٹھا لیتی ہیں تو ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس سے پانی اتارتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
ہواؤں، بادلوں اور بارش کا نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ان عظیم نشانیوں میں سے ہے جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے دہرائی جاتی ہیں، مگر عادت کی وجہ سے ہم ان پر غور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے، اور یہ ہوائیں بارش کی خوش خبری لے کر آتی ہیں۔ پھر یہی ہوائیں سمندروں سے اٹھنے والے بخارات کو جمع کر کے پانی سے لدے ہوئے بھاری بادل اٹھا لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو ہانک کر اُس خطے کی طرف لے جاتا ہے جو خشک اور مردہ پڑا ہوتا ہے، اور وہاں بارش برساتا ہے۔
پیراگراف
وَلَوۡ أَنَّ أَهۡلَ ٱلۡقُرَىٰٓ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَرَكَٰتٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِن كَذَّبُواْ فَأَخَذۡنَٰهُم بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 96)
سورۃ الأعراف کی آیت نمبر 96 کو سامنے رکھتے ہوئے ایمان و تقویٰ کے نتائج تحریر کریں۔
اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑ لیا۔
ایمان و تقویٰ کے نتائج اور اس کے برعکس — تکذیب کے نتائج
ا؟ قَالَ يَٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِي ضَلَٰلَةٞ وَلَٰكِنِّي رَسُولٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
سبق نمبر 4 میں مذکور انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات مختصراً بیان کریں۔
اس سبق (آیات 54 تا 99) میں پانچ انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات بیان ہوئے ہیں:
فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ
نصب کی تعریف، حروفِ ناصبہ، حروفِ جازمہ، جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کی تعریف مع امثال تحریر کریں۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔