وَلَا تُسۡرِفُوٓاْ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 31)
«وَلَا تُسْرِفُوْا» کے معنی ہیں:
الف) نقل نہ کرو • ب) بے جا خرچ نہ کرو • ج) نظر انداز نہ کرو • د) غم نہ کرو
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
وَلَا تُسۡرِفُوٓاْ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 31)
«وَلَا تُسْرِفُوْا» کے معنی ہیں:
الف) نقل نہ کرو • ب) بے جا خرچ نہ کرو • ج) نظر انداز نہ کرو • د) غم نہ کرو
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٞ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 34)
«وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ» میں «أُمَّةٌ» اور «أَجَلٌ» عربی قواعد کے لحاظ سے ہیں:
الف) اسم • ب) حرف • ج) فعل • د) ضمیر
کلمات کے لحاظ سے سب سے بڑی سورت ہے:
الف) سورۃ الأنعام • ب) سورۃ بنی اسرآئیل • ج) سورۃ النحل • د) سورۃ الأعراف
حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلۡجَمَلُ فِي سَمِّ ٱلۡخِيَاطِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 40)
«الجَمَل» کے معنی ہیں:
الف) اونٹ • ب) گھوڑا • ج) کھجور • د) بیل
وَبَيۡنَهُمَا حِجَابٞ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 46)
«وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ» کے مطابق جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ہو گا:
الف) پہاڑ • ب) پردہ • ج) دریا • د) قلعہ
وَٱلۡوَزۡنُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّۚ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 8)
آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن کون لوگ کامیاب ہوں گے؟
اور اُس دن (اعمال کا) تولنا برحق ہے۔ پس جن کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
قیامت کے دن وہی لوگ کامیاب ہوں گے جن کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہو گا۔
اہم نکات
وَلَقَدۡ مَكَّنَّـٰكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَۗ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 10)
آیتِ کریمہ میں انسانوں کو دی جانے والی کون سی نعمتیں بیان ہوئی ہیں؟
اور بے شک ہم نے ہی تمھیں زمین میں آباد کیا اور اس میں ہم نے تمھارے لیے سامانِ زندگی فراہم کیا۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔
آیت میں دو بڑی نعمتوں کا ذکر ہے: زمین میں بسنے اور اختیار پانے کی نعمت، اور اس زمین میں سامانِ زندگی مہیا کیے جانے کی نعمت۔
بیان کردہ نعمتیں
وَإِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةٗ قَالُواْ وَجَدۡنَا عَلَيۡهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَاۗ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 28)
آیتِ کریمہ کی رو سے جب مشرکینِ عرب بے حیائی کا ارتکاب کرتے تو وہ کس بہانے کا سہارا لیتے تھے؟
اور جب وہ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے ہوئے پایا اور اللہ نے (بھی) ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ آپ فرما دیجیے: بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر وہ باتیں کہتے ہو جو تم نہیں جانتے؟
مشرکینِ عرب بے حیائی کے کاموں پر دو بہانوں کا سہارا لیتے تھے: ایک باپ دادا کی اندھی تقلید، اور دوسرا اس فعل کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف منسوب کرنا۔
دونوں بہانوں کی وضاحت
قُلۡ أَمَرَ رَبِّي بِٱلۡقِسۡطِۖ وَأَقِيمُواْ وُجُوهَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٖ وَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۚ كَمَا بَدَأَكُمۡ تَعُودُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 29)
آیتِ کریمہ میں کن امور کی تلقین فرمائی گئی ہے؟
آپ فرما دیجیے: میرے رب نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے، اور (یہ کہ) ہر نماز کے وقت اپنے رخ (قبلہ کی طرف) سیدھے کر لیا کرو اور دین کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اُسے پکارو۔ جس طرح اُس نے تمھیں پہلے پیدا کیا، (اسی طرح) تم لوٹو گے۔
تلقین کیے گئے امور
۞يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٖ وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 31)
آیتِ کریمہ میں کیا تعلیمات بیان کی گئی ہیں؟
اے اولادِ آدم! ہر نماز کے وقت اپنی زینت (لباس) اختیار کر لیا کرو، اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو۔ بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
بیان کردہ تعلیمات
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 23)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
ان دونوں نے (دعا کرتے ہوئے) عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
مفہوم اور اہم نکات
سورۃ الأعراف کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سورۃ الأعراف مکی سورت ہے اور اس کا نام اس مقام کی مناسبت سے رکھا گیا ہے جو جنت اور جہنم کے درمیان واقع ہے۔
وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات
سورۃ الأعراف کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الأعراف کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
مرفوع کی تعریف اور اس کی دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔
جس اسم کے آخر میں ایک پیش، دو پیش، «ان» یا «ـُوْنَ» ہو، وہ حالتِ رفعی میں ہوتا ہے، اور حالتِ رفعی میں آنے والے اسم کو مرفوع کہتے ہیں۔
علاماتِ رفع اور سبق میں سے مثالیں
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسۡتَكۡبَرُواْ عَنۡهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمۡ أَبۡوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلۡجَمَلُ فِي سَمِّ ٱلۡخِيَاطِۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُجۡرِمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 40)
جھٹلانے والوں اور تکبر کرنے والوں کے لیے دی گئی مثال «سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزر جانا» کی وضاحت کریں۔
بے شک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان (کے ماننے) سے تکبر کیا، ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے۔ اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
مثال کی وضاحت
وَلَقَدۡ مَكَّنَّـٰكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَۗ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ
سورۃ الأعراف کی روشنی میں قصۂ سیدنا آدم علیہ السلام کے اہم نکات کی فہرست تیار کریں۔
سورۃ الأعراف کی آیات 11 تا 25 میں بیان کردہ قصۂ آدم علیہ السلام کے اہم نکات یہ ہیں:
وَإِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةٗ قَالُواْ وَجَدۡنَا عَلَيۡهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَاۗ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
ایسے خاص اسماء جن پر تنوین، «ال» اور کسرہ نہیں آتا — چند مزید مثالیں تلاش کر کے ان کی تعریف تحریر کریں۔
ایسے اسماء کو «غیر منصرف» کہا جاتا ہے۔
وَٱلۡوَزۡنُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّۚ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
کھانے پینے، پہننے اور خرچ کرنے میں اسراف سے بچنے کے حوالے سے چند عملی اقدامات تحریر کریں۔
اسراف سے بچنے کے لیے درج ذیل عملی اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں:
يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ قَدۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسٗا يُوَٰرِي سَوۡءَٰتِكُمۡ وَرِيشٗاۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٰلِكَ خَيۡرٞۚ ذَٰلِكَ مِنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 26)
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لباس کی اہمیت اور خصوصیات تحریر کریں۔
اے اولادِ آدم! بے شک ہم نے تم پر (ایسا) لباس اتارا جو تمھارے شرم کے مقامات چھپاتا ہے اور زینت کا ذریعہ ہے۔ اور پرہیزگاری کا لباس، یہ سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
لباس کی اہمیت اور اسلامی لباس کی خصوصیات
وَإِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةٗ قَالُواْ وَجَدۡنَا عَلَيۡهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَاۗ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
سبق نمبر 3 میں مذکور انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کہانی کی صورت میں بیان کریں۔
اس سبق (آیات 1 تا 53) میں تفصیل کے ساتھ جو واقعہ بیان ہوا ہے، وہ حضرت آدم علیہ السلام کا ہے۔ اسے کہانی کی صورت میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس اور کہانی کا سبق
قُلۡ أَمَرَ رَبِّي بِٱلۡقِسۡطِۖ وَأَقِيمُواْ وُجُوهَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٖ وَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۚ كَمَا بَدَأَكُمۡ تَعُودُونَ
رفع، نصب اور جر کی تعریف اور حالتیں مثالوں کے ذریعے بیان کریں۔
اسم کی تین حالتیں ہوتی ہیں: حالتِ رفعی، حالتِ نصبی اور حالتِ جری۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔