چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 3: سبق 3: سورۃ الأعراف (آیات: 1 تا 53) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 21 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

وَلَا تُسۡرِفُوٓاْ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 31)

«وَلَا تُسْرِفُوْا» کے معنی ہیں:

الف) نقل نہ کرو • ب) بے جا خرچ نہ کرو • ج) نظر انداز نہ کرو • د) غم نہ کرو

جواب ب) بے جا خرچ نہ کرو — اسراف کا مطلب ہے کسی چیز میں مقررہ حد سے تجاوز کر جانا۔ آیت میں کھانے پینے اور خرچ کرنے میں حد سے بڑھنے اور فضول خرچی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٞ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 34)

«وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ» میں «أُمَّةٌ» اور «أَجَلٌ» عربی قواعد کے لحاظ سے ہیں:

الف) اسم • ب) حرف • ج) فعل • د) ضمیر

جواب الف) اسم — یہ دونوں کلمے کسی چیز یا مفہوم کے نام ہیں اور ان میں زمانے کا مفہوم نہیں پایا جاتا، اس لیے یہ اسم ہیں۔ ان کے آخر میں تنوین (دو زیر اور دو پیش) کا آنا بھی اسم ہونے کی واضح علامت ہے، کیونکہ تنوین صرف اسم پر آتی ہے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

کلمات کے لحاظ سے سب سے بڑی سورت ہے:

الف) سورۃ الأنعام • ب) سورۃ بنی اسرآئیل • ج) سورۃ النحل • د) سورۃ الأعراف

جواب د) سورۃ الأعراف — آیات کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑی سورت سورۃ البقرہ ہے، لیکن کلمات (الفاظ) کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑی سورت سورۃ الأعراف ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلۡجَمَلُ فِي سَمِّ ٱلۡخِيَاطِ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 40)

«الجَمَل» کے معنی ہیں:

الف) اونٹ • ب) گھوڑا • ج) کھجور • د) بیل

جواب الف) اونٹ — آیت میں «سَمِّ ٱلۡخِيَاطِ» (سوئی کا ناکہ) کے ساتھ اسی جانور کا ذکر ہے، یعنی اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَبَيۡنَهُمَا حِجَابٞ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 46)

«وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ» کے مطابق جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ہو گا:

الف) پہاڑ • ب) پردہ • ج) دریا • د) قلعہ

جواب ب) پردہ — «حِجَاب» کے معنی پردہ یا آڑ کے ہیں۔ یہی وہ اوٹ ہے جس کی بلندیوں کو «اعراف» کہا گیا اور اسی مناسبت سے سورت کا نام سورۃ الأعراف رکھا گیا۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

وَٱلۡوَزۡنُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّۚ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 8)

آیتِ کریمہ کی رو سے قیامت کے دن کون لوگ کامیاب ہوں گے؟

ترجمہ

اور اُس دن (اعمال کا) تولنا برحق ہے۔ پس جن کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

قیامت کے دن وہی لوگ کامیاب ہوں گے جن کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہو گا۔

اہم نکات

1 میزان کا قائم ہونا — قیامت کے دن اعمال کو تولا جانا ایک اٹل حقیقت ہے، اور یہ وزن سراسر حق اور انصاف پر مبنی ہو گا۔
2 کامیابی کا معیار — کامیابی کا دار و مدار مال، جاہ یا نسب پر نہیں بلکہ نیک اعمال کے وزن پر ہے۔
3 فلاح پانے والے — جن کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے، قرآن نے انہی کو «اَلْمُفْلِحُوْن» یعنی حقیقی کامیاب قرار دیا ہے۔
4 اس کے برعکس — اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے، انہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈال لیا۔
7 مختصر جوابات

وَلَقَدۡ مَكَّنَّـٰكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَۗ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 10)

آیتِ کریمہ میں انسانوں کو دی جانے والی کون سی نعمتیں بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

اور بے شک ہم نے ہی تمھیں زمین میں آباد کیا اور اس میں ہم نے تمھارے لیے سامانِ زندگی فراہم کیا۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

آیت میں دو بڑی نعمتوں کا ذکر ہے: زمین میں بسنے اور اختیار پانے کی نعمت، اور اس زمین میں سامانِ زندگی مہیا کیے جانے کی نعمت۔

بیان کردہ نعمتیں

1 زمین میں تمکن اور آباد کاری — اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر رہنے، بسنے، تصرف کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا اختیار عطا فرمایا۔
2 معایش (سامانِ زندگی) — زندگی گزارنے کے تمام وسائل عطا فرمائے، جیسے خوراک، پانی، ہوا، لباس، معدنیات اور ذرائعِ روزگار۔
3 نعمتوں کا تقاضا — ان نعمتوں کا تقاضا شکر گزاری ہے، مگر آیت کے آخر میں شکایت کی گئی کہ انسان بہت کم شکر ادا کرتا ہے۔
8 مختصر جوابات

وَإِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةٗ قَالُواْ وَجَدۡنَا عَلَيۡهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَاۗ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 28)

آیتِ کریمہ کی رو سے جب مشرکینِ عرب بے حیائی کا ارتکاب کرتے تو وہ کس بہانے کا سہارا لیتے تھے؟

ترجمہ

اور جب وہ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے ہوئے پایا اور اللہ نے (بھی) ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ آپ فرما دیجیے: بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر وہ باتیں کہتے ہو جو تم نہیں جانتے؟

مشرکینِ عرب بے حیائی کے کاموں پر دو بہانوں کا سہارا لیتے تھے: ایک باپ دادا کی اندھی تقلید، اور دوسرا اس فعل کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف منسوب کرنا۔

دونوں بہانوں کی وضاحت

1 آبا و اجداد کی تقلید — ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو یہی کرتے ہوئے پایا ہے، اس لیے ہم بھی وہی کر رہے ہیں۔
2 اللہ کی طرف جھوٹی نسبت — وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے، حالانکہ یہ اللہ پر کھلا بہتان تھا۔
3 پس منظر — زمانۂ جاہلیت میں مشرکین برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور اسے عبادت سمجھتے تھے۔
4 قرآن کا جواب — اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک فرمایا کہ وہ کبھی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا، اور بغیر علم کے اللہ پر بات کہنا سخت جرم ہے۔
9 مختصر جوابات

قُلۡ أَمَرَ رَبِّي بِٱلۡقِسۡطِۖ وَأَقِيمُواْ وُجُوهَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٖ وَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۚ كَمَا بَدَأَكُمۡ تَعُودُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 29)

آیتِ کریمہ میں کن امور کی تلقین فرمائی گئی ہے؟

ترجمہ

آپ فرما دیجیے: میرے رب نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے، اور (یہ کہ) ہر نماز کے وقت اپنے رخ (قبلہ کی طرف) سیدھے کر لیا کرو اور دین کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اُسے پکارو۔ جس طرح اُس نے تمھیں پہلے پیدا کیا، (اسی طرح) تم لوٹو گے۔

تلقین کیے گئے امور

1 عدل و انصاف (قسط) — زندگی کے ہر معاملے میں توازن، انصاف اور راستی اختیار کرنا۔
2 نماز میں یکسوئی — ہر نماز کے وقت پورے ادب کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔
3 اخلاصِ دین — عبادت اور دعا کو ہر قسم کے شرک اور ریا سے پاک رکھتے ہوئے صرف اللہ ہی کو پکارنا۔
4 یادِ آخرت — یہ یقین رکھنا کہ جس طرح اللہ نے پہلی بار پیدا فرمایا، اسی طرح دوبارہ زندہ کر کے اپنی طرف لوٹائے گا۔
10 مختصر جوابات

۞يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٖ وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 31)

آیتِ کریمہ میں کیا تعلیمات بیان کی گئی ہیں؟

ترجمہ

اے اولادِ آدم! ہر نماز کے وقت اپنی زینت (لباس) اختیار کر لیا کرو، اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو۔ بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

بیان کردہ تعلیمات

1 نماز کے لیے زینت — مسجد اور نماز کے وقت صاف ستھرا اور باوقار لباس پہننا، تاکہ ستر بھی ڈھکا رہے اور ہیئت بھی مناسب ہو۔
2 کھانے پینے کی اباحت — اللہ کی حلال اور پاکیزہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانا جائز بلکہ مطلوب ہے؛ رہبانیت اور بلا وجہ کی سختی دین نہیں۔
3 اسراف کی ممانعت — کھانے، پینے، پہننے اور خرچ کرنے میں حد سے بڑھنا اور فضول خرچی کرنا منع ہے۔
4 اعتدال کی تعلیم — اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا، اس لیے ہر معاملے میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 23)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

ان دونوں نے (دعا کرتے ہوئے) عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

مفہوم اور اہم نکات

1 پس منظر — یہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء علیہا السلام کی وہ دعا ہے جو انہوں نے شیطان کے بہکاوے میں آ کر ممنوعہ درخت کا پھل چکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کی۔
2 اعترافِ خطا — انہوں نے نہ کوئی بہانہ بنایا اور نہ الزام کسی اور پر ڈالا، بلکہ کھلے دل سے اپنی کوتاہی کا اقرار کیا۔
3 مغفرت اور رحمت کا سوال — انہوں نے اپنے عمل کے بجائے صرف اللہ کی بخشش اور رحمت کو اپنی نجات کا سہارا بنایا۔
4 توبہ کا نمونہ — یہ دعا اہلِ ایمان کے لیے توبہ کا بہترین اسلوب ہے، جس کے مقابلے میں ابلیس نے اپنی غلطی پر اصرار اور تکبر کیا۔
5 خسارے کا خوف — حقیقی نقصان مال یا مرتبے کا نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے محرومی کا ہے۔
12 تفصیلی جوابات

سورۃ الأعراف کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ الأعراف مکی سورت ہے اور اس کا نام اس مقام کی مناسبت سے رکھا گیا ہے جو جنت اور جہنم کے درمیان واقع ہے۔

وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات

1 وجہِ تسمیہ — «الأعراف» سے مراد — وہ مقام جو جنت اور جہنم کے درمیان واقع ہے۔
2 وجہِ تسمیہ — اصحابِ اعراف — یہاں پر ان لوگوں کو عارضی طور پر روکا جائے گا جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے۔ وہ یہاں سے جنت اور دوزخ میں داخل ہونے والوں کو دیکھیں گے۔
3 وجہِ تسمیہ — انجام — بعد ازاں اللہ تعالیٰ ان پر اپنا فضل فرماتے ہوئے انہیں جنت میں داخل فرمائے گا۔
4 وجہِ تسمیہ — نام کی مناسبت — اس سورت کی آیات 46 اور 47 میں اعراف اور اصحابِ اعراف کا ذکر آیا ہے، اسی مناسبت سے اسے سورۃ الأعراف کا نام دیا گیا۔
5 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید میں یہ ساتویں سورت ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 39ویں نمبر پر ہے۔
6 تعارفی معلومات — نوعیت — یہ مکی سورت ہے۔
7 تعارفی معلومات — آیات و رکوع — اس کی آیات کی تعداد 206 اور رکوع 24 ہیں۔
8 تعارفی معلومات — امتیازی خصوصیت — کلمات کے لحاظ سے یہ قرآنِ مجید کی سب سے بڑی سورت ہے۔
جواب مرکزی مضمون — عقیدۂ توحید و رسالت، تبلیغِ دین اور مشرکین کا عناد و فساد۔
13 تفصیلی جوابات

سورۃ الأعراف کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الأعراف کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 تاریخِ انسانی کا بیان
2 تخلیقِ آدم علیہ السلام اور اہلِ جنت و اہلِ جہنم کا بیان
3 پچھلے انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا ذکر
4 اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام کرنے کا اختیار کسی کو نہیں
5 رسولِ کریم ﷺ کی توراۃ اور انجیل میں مذکور صفات کا ذکر
6 آپ ﷺ پر ایمان اور آپ ﷺ کا کامل اتباع ہی فلاح و نجات کا ذریعہ ہے
7 میثاقِ ازل کا بیان، جس میں اللہ تعالیٰ نے تمام اولادِ آدم سے اپنی ربوبیت کا اقرار کرایا
8 قرآنِ حکیم کی تلاوت کے آداب و برکات اور ذکرِ الٰہی میں میانہ روی اختیار کرنے کا ذکر
جواب سورت میں مذکور انبیائے کرام علیہم السلام — تیسرے مضمون کے تحت جن انبیائے کرام کے واقعات بیان ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام۔
14 تفصیلی جوابات

مرفوع کی تعریف اور اس کی دو مثالیں سبق سے تلاش کر کے تحریر کریں۔

جس اسم کے آخر میں ایک پیش، دو پیش، «ان» یا «ـُوْنَ» ہو، وہ حالتِ رفعی میں ہوتا ہے، اور حالتِ رفعی میں آنے والے اسم کو مرفوع کہتے ہیں۔

علاماتِ رفع اور سبق میں سے مثالیں

1 علاماتِ رفع — ایک پیش — جیسے اَلْقَلَمُ، اَلْعِلْمُ
2 علاماتِ رفع — دو پیش (تنوینِ رفع) — جیسے کِتَابٌ، مُسْلِمٌ
3 علاماتِ رفع — «ان» (تثنیہ میں) — جیسے مُفْلِحَانِ
4 علاماتِ رفع — «ـُوْنَ» (جمع مذکر سالم میں) — جیسے مُفْلِحُوْنَ
5 سبق میں سے مثالیں — پہلی مثال — «ٱلۡمُفۡلِحُونَ» — آیت 8 میں «فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ» — اس کے آخر میں «ـُوْنَ» ہے، اس لیے یہ مرفوع ہے۔
6 سبق میں سے مثالیں — دوسری مثال — «ٱلۡجَمَلُ» — آیت 40 میں «حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلۡجَمَلُ» — اس کے آخر میں ایک پیش ہے، اس لیے یہ مرفوع ہے۔
7 سبق میں سے مثالیں — مزید مثالیں — «حِجَابٞ» (آیت 46) اور «أَجَلٞ» (آیت 34) — ان دونوں کے آخر میں دو پیش (تنوینِ رفع) ہے، اس لیے یہ بھی مرفوع ہیں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسۡتَكۡبَرُواْ عَنۡهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمۡ أَبۡوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلۡجَمَلُ فِي سَمِّ ٱلۡخِيَاطِۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُجۡرِمِينَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 40)

جھٹلانے والوں اور تکبر کرنے والوں کے لیے دی گئی مثال «سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزر جانا» کی وضاحت کریں۔

ترجمہ

بے شک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان (کے ماننے) سے تکبر کیا، ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے۔ اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

مثال کی وضاحت

1 دو انتہائیں — اونٹ عربوں کے ہاں سب سے بڑے اور بھاری بھرکم جانوروں میں سے ہے، جبکہ سوئی کا ناکہ سب سے چھوٹا سوراخ ہے۔ ان دونوں کو ایک ساتھ رکھ کر ناممکن کی انتہا بیان کی گئی ہے۔
2 مقصود مفہوم — جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا محال ہے، اسی طرح آیات کو جھٹلانے اور تکبر کرنے والوں کا جنت میں داخل ہونا محال ہے۔
3 اسلوبِ بیان — یہ عربی زبان کا معروف اسلوب ہے جس میں کسی بات کے قطعی ناممکن ہونے کو ایک محسوس اور آسان مثال سے سمجھایا جاتا ہے۔
4 سبب کیا ہے؟ — محرومی کی وجہ محض گناہ نہیں بلکہ تکذیب (اللہ کی آیات کو جھٹلانا) اور استکبار (حق کے سامنے جھکنے سے انکار) ہے، اور یہی ابلیس کا جرم بھی تھا۔
5 سبق — انسان کو چاہیے کہ حق بات سامنے آنے پر تکبر کے بجائے عاجزی کے ساتھ اسے قبول کرے، ورنہ توبہ کے دروازے بند ہونے کے بعد کوئی راہِ نجات باقی نہیں رہتی۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَلَقَدۡ مَكَّنَّـٰكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَۗ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ

سورۃ الأعراف کی روشنی میں قصۂ سیدنا آدم علیہ السلام کے اہم نکات کی فہرست تیار کریں۔

سورۃ الأعراف کی آیات 11 تا 25 میں بیان کردہ قصۂ آدم علیہ السلام کے اہم نکات یہ ہیں:

1 تخلیق اور تصویر گری — اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور پھر انہیں بہترین صورت عطا فرمائی۔
2 فرشتوں کو سجدے کا حکم — اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدۂ تعظیمی کا حکم دیا، اور سب نے حکم بجا لایا۔
3 ابلیس کا انکار اور تکبر — صرف ابلیس نے سجدہ نہ کیا اور دلیل یہ دی کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم مٹی سے، اس لیے میں بہتر ہوں۔
4 دھتکارا جانا — اس تکبر کی وجہ سے ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا اور وہ ذلیل و رسوا قرار پایا۔
5 مہلت کا سوال — ابلیس نے قیامت تک مہلت مانگی، جو اسے ایک مقررہ وقت تک دے دی گئی۔
6 گمراہ کرنے کا اعلان — اس نے قسم کھائی کہ وہ اولادِ آدم کو سیدھے راستے پر بیٹھ کر آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں — ہر طرف سے گمراہ کرے گا اور اکثر لوگوں کو ناشکرا بنا دے گا۔
7 جنت میں رہائش اور ایک ممانعت — حضرت آدم اور حضرت حواء علیہما السلام کو جنت میں رہنے اور جہاں سے چاہیں کھانے کی اجازت دی گئی، صرف ایک درخت کے قریب جانے سے روکا گیا۔
8 شیطانی وسوسہ — شیطان نے وسوسہ ڈالا اور جھوٹی قسم کھا کر یہ لالچ دیا کہ اس درخت سے تم فرشتے بن جاؤ گے یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔
9 لغزش اور اس کا نتیجہ — درخت کا پھل چکھتے ہی ان کے ستر کے مقامات ظاہر ہو گئے اور وہ جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر اپنے اوپر رکھنے لگے۔
10 توبہ اور قبولیت — انہوں نے «رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا» کہہ کر توبہ کی، جبکہ ابلیس اپنے تکبر پر اڑا رہا۔
11 زمین پر اتارا جانا — سب کو زمین پر اتار دیا گیا، جہاں ایک مقررہ وقت تک ٹھکانا اور سامانِ زیست رکھا گیا۔
12 دائمی سبق — اولادِ آدم کو خبردار کیا گیا کہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے، وہ تمھیں اسی طرح فتنے میں نہ ڈال دے جس طرح اس نے تمھارے والدین کو جنت سے نکلوایا۔
17 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَإِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةٗ قَالُواْ وَجَدۡنَا عَلَيۡهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَاۗ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ

ایسے خاص اسماء جن پر تنوین، «ال» اور کسرہ نہیں آتا — چند مزید مثالیں تلاش کر کے ان کی تعریف تحریر کریں۔

ایسے اسماء کو «غیر منصرف» کہا جاتا ہے۔

1 تعریف — اگرچہ اسم کے آخر میں تنوین آ سکتی ہے اور شروع میں «ال» آ سکتا ہے، لیکن کچھ خاص اسماء ایسے ہیں جن کے ساتھ نہ «ال» لکھا اور پڑھا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے آخر پر زیر (کسرہ) یا تنوین آتی ہے۔ ایسے اسم کو غیر منصرف کہا جاتا ہے۔
2 کتاب میں مذکور مثالیں — اٰدَمُ، اِبْرَاهِيْمُ، نُوْحُ، اَحْمَدُ، رَمَضَانُ، عُثْمَانُ، سَلْوٰی، اَبَابِيْلَ۔
3 چند مزید مثالیں — انبیائے کرام کے اسمائے گرامی — اِسْحَاقُ، يَعْقُوْبُ، يُوْسُفُ، اِسْمَاعِيْلُ، سُلَيْمَانُ، هَارُوْنُ، مُوْسٰی، عِيْسٰی، يُوْنُسُ
4 چند مزید مثالیں — صحابہ و شخصیات کے نام — عُمَرُ، زَيْنَبُ، فَاطِمَةُ، مَرْيَمُ، فِرْعَوْنُ، اِبْلِيْسُ
5 چند مزید مثالیں — مقامات کے نام — مَكَّةُ، مَدِيْنَةُ (بطورِ عَلَم)، بَدْرُ، خَيْبَرُ، اُحُدُ
6 چند مزید مثالیں — دیگر اسماء — مَسَاجِدُ، مَفَاتِيْحُ، اَحْمَرُ، اَكْبَرُ، اُخَرُ
جواب نوٹ: غیر منصرف اسم کی حالتِ جری میں زیر کے بجائے زبر آتی ہے، جیسے: «مَرَرْتُ بِاِبْرَاهِيْمَ»۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَٱلۡوَزۡنُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّۚ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ

کھانے پینے، پہننے اور خرچ کرنے میں اسراف سے بچنے کے حوالے سے چند عملی اقدامات تحریر کریں۔

اسراف سے بچنے کے لیے درج ذیل عملی اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں:

1 کھانے پینے میں — ضرورت کے مطابق پکانا — اتنا ہی کھانا تیار کیا جائے جتنا کھایا جا سکے، تاکہ بچا ہوا کھانا ضائع نہ ہو۔
2 کھانے پینے میں — پلیٹ میں کم لینا — پہلے تھوڑا لیں، ضرورت ہو تو دوبارہ لے لیں؛ چھوڑا ہوا کھانا ضائع کرنا اسراف ہے۔
3 کھانے پینے میں — سنتِ نبوی ﷺ پر عمل — پیٹ کے تین حصے کیے جائیں: ایک کھانے، ایک پانی اور ایک سانس کے لیے۔
4 کھانے پینے میں — بچا ہوا کھانا محفوظ کرنا — اسے پھینکنے کے بجائے سنبھال لیا جائے یا کسی ضرورت مند تک پہنچا دیا جائے۔
5 لباس اور پہننے میں — ضرورت کے مطابق خریداری — صرف فیشن یا نمود و نمائش کے لیے کپڑے جمع نہ کیے جائیں۔
6 لباس اور پہننے میں — سادگی اور صفائی — مہنگے اور دکھاوے کے لباس کے بجائے صاف ستھرا اور باوقار لباس کافی ہے۔
7 لباس اور پہننے میں — مرمت اور دوبارہ استعمال — معمولی خرابی پر کپڑے پھینکنے کے بجائے انہیں درست کرا لیا جائے۔
8 لباس اور پہننے میں — اضافی کپڑے صدقہ کرنا — جو لباس زیرِ استعمال نہ ہو، وہ ضرورت مندوں کو دے دیا جائے۔
9 خرچ کرنے میں — بجٹ بنانا — آمدنی اور اخراجات کا حساب رکھا جائے اور فہرست بنا کر خریداری کی جائے۔
10 خرچ کرنے میں — غیر ضروری خریداری سے بچنا — اشتہارات اور دوستوں کی دیکھا دیکھی میں فضول چیزیں نہ خریدی جائیں۔
11 خرچ کرنے میں — تقریبات میں سادگی — شادی بیاہ اور دیگر تقاریب میں رسم و رواج کے نام پر بے جا خرچ سے گریز کیا جائے۔
12 خرچ کرنے میں — بچت اور صدقہ — بچی ہوئی رقم کو بچت میں رکھا جائے یا نیک کاموں میں خرچ کیا جائے۔
13 خرچ کرنے میں — وسائل کا تحفظ — پانی، بجلی، گیس اور کاغذ جیسی نعمتوں کو ضائع ہونے سے بچایا جائے، کیونکہ ان کا ضیاع بھی اسراف میں شامل ہے۔
19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ قَدۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسٗا يُوَٰرِي سَوۡءَٰتِكُمۡ وَرِيشٗاۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٰلِكَ خَيۡرٞۚ ذَٰلِكَ مِنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ (سورۃ الأعراف ۔ آیت 26)

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لباس کی اہمیت اور خصوصیات تحریر کریں۔

ترجمہ

اے اولادِ آدم! بے شک ہم نے تم پر (ایسا) لباس اتارا جو تمھارے شرم کے مقامات چھپاتا ہے اور زینت کا ذریعہ ہے۔ اور پرہیزگاری کا لباس، یہ سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

لباس کی اہمیت اور اسلامی لباس کی خصوصیات

1 لباس کی اہمیت — اللہ کی نشانی — قرآن نے لباس کو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور انعامات میں شمار کیا ہے۔
2 لباس کی اہمیت — ستر کی حفاظت — لباس کا پہلا اور بنیادی مقصد شرم کے مقامات کو چھپانا ہے، جو انسان اور حیوان کے درمیان امتیاز کی علامت ہے۔
3 لباس کی اہمیت — زینت اور وقار — «رِيْشًا» کا مطلب ہے زینت؛ یعنی لباس انسان کے حسن، وقار اور شخصیت کو نکھارتا ہے۔
4 لباس کی اہمیت — موسمی حفاظت — لباس گرمی، سردی اور دیگر تکالیف سے بچاؤ کا ذریعہ بھی ہے۔
5 لباس کی اہمیت — لباسِ تقویٰ — سب سے بہتر لباس پرہیزگاری کا ہے؛ ظاہری لباس جسم کو ڈھانپتا ہے اور تقویٰ روح کی حفاظت کرتا ہے۔
6 لباس کی اہمیت — عبادت کا ادب — ہر نماز اور مسجد کے وقت زینت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
7 اسلامی لباس کی خصوصیات — ستر پوش ہونا — ایسا ہو کہ جسم کے قابلِ ستر حصے پوری طرح چھپ جائیں؛ باریک یا چست لباس اس مقصد کو پورا نہیں کرتا۔
8 اسلامی لباس کی خصوصیات — پاکیزہ اور صاف ہونا — لباس نجاست اور میل کچیل سے پاک ہو۔
9 اسلامی لباس کی خصوصیات — حلال کمائی سے حاصل ہونا — لباس کے لیے خرچ کی جانے والی رقم جائز ذرائع سے ہو۔
10 اسلامی لباس کی خصوصیات — تکبر اور نمود سے پاک ہونا — شہرت، فخر اور دکھاوے کے لیے لباس پہننا ممنوع ہے۔
11 اسلامی لباس کی خصوصیات — اسراف سے خالی ہونا — قیمت اور مقدار دونوں میں اعتدال ہو۔
12 اسلامی لباس کی خصوصیات — مخالفِ شریعت مشابہت سے بچنا — مردوں کا عورتوں جیسا اور عورتوں کا مردوں جیسا لباس اختیار کرنا منع ہے، اسی طرح مردوں کے لیے ریشم اور سونا حرام ہے۔
13 اسلامی لباس کی خصوصیات — سادگی اور اعتدال — لباس نہ اتنا بھڑکیلا ہو کہ توجہ کا مرکز بنے، اور نہ اتنا بوسیدہ کہ اللہ کی نعمت کی ناقدری معلوم ہو۔
20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَإِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةٗ قَالُواْ وَجَدۡنَا عَلَيۡهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَاۗ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ

سبق نمبر 3 میں مذکور انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کہانی کی صورت میں بیان کریں۔

اس سبق (آیات 1 تا 53) میں تفصیل کے ساتھ جو واقعہ بیان ہوا ہے، وہ حضرت آدم علیہ السلام کا ہے۔ اسے کہانی کی صورت میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس اور کہانی کا سبق

1 حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس — بہت پہلے، جب زمین پر ابھی کوئی انسان نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے مٹی سے ایک عظیم مخلوق بنائی اور اسے بہترین صورت عطا فرمائی۔ یہ حضرت آدم علیہ السلام تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے سجدہ کریں۔ تمام فرشتے فوراً جھک گئے، مگر ابلیس کھڑا رہا۔
2 حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس — اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا؟ اس نے تکبر سے کہا کہ میں آدم سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے۔ اسی تکبر کی وجہ سے اسے وہاں سے نکال دیا گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے ذلیل ٹھہرا۔
3 حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس — نکلتے وقت اس نے قیامت تک کی مہلت مانگی، جو اسے ایک مقررہ وقت تک دے دی گئی۔ پھر اس نے اعلان کیا کہ وہ انسانوں کو سیدھے راستے پر بیٹھ کر آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں — ہر طرف سے گمراہ کرے گا اور ان میں سے اکثر کو ناشکرا بنا دے گا۔
4 حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس — ادھر حضرت آدم اور حضرت حواء علیہما السلام کو جنت میں رہنے اور جہاں سے چاہیں کھانے کی اجازت ملی، صرف ایک درخت کے قریب جانے سے روک دیا گیا۔ شیطان نے وسوسہ ڈالا اور جھوٹی قسم کھا کر کہا کہ یہ درخت تمھیں فرشتہ بنا دے گا یا تمھیں ہمیشہ کی زندگی دے دے گا۔ دھوکے میں آ کر انہوں نے اس درخت سے کھا لیا۔
5 حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس — اسی لمحے ان کے ستر کے مقامات ظاہر ہو گئے اور وہ جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر اپنے اوپر رکھنے لگے۔ ان کے رب نے پکارا کہ کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور نہیں بتایا تھا کہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے؟
6 حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس — یہاں دونوں کا راستہ ابلیس سے جدا ہو گیا۔ ابلیس نے اپنی غلطی پر اصرار کیا تھا، جبکہ انہوں نے سر جھکا کر عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو نے ہمیں نہ بخشا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
7 حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس — پھر سب کو زمین پر اتار دیا گیا، جہاں ایک مقررہ وقت تک ٹھکانا اور سامانِ زیست رکھا گیا۔ ساتھ ہی اولادِ آدم کو خبردار کر دیا گیا کہ شیطان تمھیں اسی طرح فتنے میں نہ ڈال دے جس طرح اس نے تمھارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا۔
8 کہانی کا سبق — تکبر ہلاکت ہے — ابلیس کا سارا زوال ایک ہی خامی سے شروع ہوا — اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھنا۔
9 کہانی کا سبق — توبہ نجات ہے — لغزش دونوں سے ہوئی، مگر اعتراف اور توبہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سرفراز کیا۔
10 کہانی کا سبق — شیطان کھلا دشمن ہے — وہ خیر خواہ بن کر آتا ہے اور قسمیں کھا کر دھوکا دیتا ہے۔
11 کہانی کا سبق — حدود کا احترام — اللہ کی مقرر کردہ ایک حد کی خلاف ورزی نے جنت سے نکلوا دیا؛ حدودِ الٰہی معمولی نہیں ہوتیں۔
جواب وضاحتی نوٹ — حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے واقعات اسی سورت میں آگے (آیت 59 کے بعد) بیان ہوئے ہیں، اس لیے وہ اس سبق کی حدود (آیات 1 تا 53) سے باہر ہیں۔ ان کا ذکر بنیادی مضامین کے تحت آ چکا ہے۔
21 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

قُلۡ أَمَرَ رَبِّي بِٱلۡقِسۡطِۖ وَأَقِيمُواْ وُجُوهَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٖ وَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۚ كَمَا بَدَأَكُمۡ تَعُودُونَ

رفع، نصب اور جر کی تعریف اور حالتیں مثالوں کے ذریعے بیان کریں۔

اسم کی تین حالتیں ہوتی ہیں: حالتِ رفعی، حالتِ نصبی اور حالتِ جری۔

1 1۔ حالتِ رفعی — علامت — اسم کے آخر میں ایک پیش، دو پیش، «ان» یا «ـُوْنَ» ہو۔
2 1۔ حالتِ رفعی — نام — ایسے اسم کو مرفوع کہتے ہیں۔
3 1۔ حالتِ رفعی — مثالیں — کِتَابٌ، اَلْقَلَمُ، اَلْعِلْمُ، مُفْلِحَانِ، مُفْلِحُوْنَ
4 2۔ حالتِ نصبی — علامت — اسم کے آخر میں ایک زبر، دو زبر، «ـَيْنِ» یا «ـِيْنَ» ہو۔
5 2۔ حالتِ نصبی — نام — ایسے اسم کو منصوب کہتے ہیں۔
6 2۔ حالتِ نصبی — مثالیں — کِتَابًا، اَلْقَلَمَ، اَلْعِلْمَ، مُفْلِحَيْنِ، مُفْلِحِيْنَ
7 3۔ حالتِ جری — علامت — اسم کے آخر میں ایک زیر، دو زیر، «ـَيْنِ» یا «ـِيْنَ» ہو۔
8 3۔ حالتِ جری — نام — ایسے اسم کو مجرور کہتے ہیں۔
9 3۔ حالتِ جری — مثالیں — کِتَابٍ، اَلْقَلَمِ، اَلْعِلْمِ، مُفْلِحَيْنِ، مُفْلِحِيْنَ
10 حالت کے لحاظ سے اسم کی گردان — مُسْلِمٌ — رفعی: مُسْلِمٌ • نصبی: مُسْلِمًا • جری: مُسْلِمٍ
11 حالت کے لحاظ سے اسم کی گردان — مُفْلِحٌ — رفعی: مُفْلِحٌ • نصبی: مُفْلِحًا • جری: مُفْلِحٍ
12 سبق میں سے مثالیں — مرفوع — «ٱلۡمُفۡلِحُونَ» (آیت 8)، «ٱلۡجَمَلُ» (آیت 40)، «حِجَابٞ» (آیت 46)
13 سبق میں سے مثالیں — منصوب — «لِبَاسٗا» (آیت 26)، «سَاعَةٗ» (آیت 34)
14 سبق میں سے مثالیں — مجرور — «ٱلۡأَرۡضِ» (آیت 10)، «كُلِّ مَسۡجِدٖ» (آیت 29)، «ٱلۡخِيَاطِ» (آیت 40)

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.