چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 2: سبق 2: سورۃ الفاتحۃ (آیات: 1 تا 7) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃ کی آیات ہیں:

الف) پانچ • ب) چھے • ج) سات • د) آٹھ

جواب ج) سات — اسی سبب سے اس سورت کو «اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ» یعنی بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں بھی کہا جاتا ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 4)

«یَوْمُ الدِّیْنِ» سے مراد ہے:

الف) عید کا دن • ب) عاشورہ کا دن • ج) بدلہ کا دن • د) جمعہ کا دن

جواب ج) بدلہ کا دن — «الدِّیْن» کے معنی بدلہ کے ہیں، اس لیے «یَوْمُ الدِّیْنِ» سے مراد قیامت کا دن ہے، جس دن ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 6)

«اَلصِّرَاط» کے معنی ہیں:

الف) راستہ • ب) منزل • ج) مکان • د) پل

جواب الف) راستہ — «اَلصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ» کا مطلب ہے سیدھا راستہ، یعنی وہ راستہ جو بغیر کسی کجی کے منزل تک پہنچا دے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَلَا ٱلضَّآلِّينَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 7)

«اَلضَّآلِّیْنَ» کے معنی ہیں:

الف) بجھنے • ب) مکار • ج) بخیل • د) گم راہ

جواب د) گم راہ — «ضَلَال» کے معنی راہ بھٹک جانے کے ہیں، اس لیے «الضَّآلِّیْنَ» سے مراد وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ چھوڑ کر گم راہ ہو گئے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃ کے آخر میں پڑھنا مسنون ہے:

الف) جزاک اللہ • ب) آمین • ج) ماشاء اللہ • د) سبحان اللہ

جواب ب) آمین — «آمین» کا مطلب ہے: اے اللہ! قبول فرما۔ چوں کہ سورۃ الفاتحۃ کا اختتام دعا پر ہوتا ہے، اس لیے اس کے بعد آمین کہنا مسنون ہے۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

سورۃ الفاتحۃ کے کوئی سے تین نام تحریر کریں۔

سورۃ الفاتحۃ کے تین نام یہ ہیں: اُمُّ الْقُرْآن، اُمُّ الْکِتَاب اور سُوْرَۃُ الشِّفَاء۔

ناموں کی وجہ

1 اُمُّ الْقُرْآن اور اُمُّ الْکِتَاب — یعنی قرآن اور کتاب کی اصل و بنیاد، کیوں کہ پورے قرآن کا خلاصہ اس میں آ گیا ہے۔
2 سُوْرَۃُ الشِّفَاء — یعنی شفا والی سورت، کیوں کہ اس میں روحانی اور جسمانی شفا رکھی گئی ہے۔
7 مختصر جوابات

ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 2)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی صفت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ ربوبیت بیان ہوئی ہے، یعنی وہ تمام جہانوں کا رب، پالنے والا اور پرورش کرنے والا ہے۔

وضاحت

1 رب کا مفہوم — رب وہ ہے جو پیدا کرے، پالے، ضرورتیں پوری کرے اور درجہ بہ درجہ کمال تک پہنچائے۔
2 عمومیت — «رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» یعنی وہ کسی ایک قوم یا مخلوق کا نہیں بلکہ تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔
3 حمد کا سبب — اسی ربوبیت کی وجہ سے تمام تعریفوں کا حق دار صرف وہی ہے۔
8 مختصر جوابات

إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 5)

آیتِ کریمہ میں ہم اللہ تعالیٰ سے کس بات کا عہد کرتے ہیں؟

ترجمہ

(اے اللہ!) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔

اس آیت میں ہم اللہ تعالیٰ سے دو باتوں کا عہد کرتے ہیں: عبادت صرف اسی کی کریں گے، اور مدد بھی صرف اسی سے مانگیں گے۔

عہد کے دو حصے

1 اخلاصِ عبادت — ہم کسی غیر کو عبادت میں شریک نہیں کریں گے، یہ توحید کا اقرار ہے۔
2 استعانت — ہر مشکل اور حاجت میں حقیقی سہارا اور مددگار صرف اللہ تعالیٰ کو مانیں گے۔
3 جمع کا صیغہ — «نَعْبُدُ» اور «نَسْتَعِیْنُ» جمع کے الفاظ ہیں، جو بتاتے ہیں کہ بندہ اپنے ساتھ پوری امت کو شامل کر کے یہ عہد کرتا ہے۔
9 مختصر جوابات

ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 6)

آیتِ کریمہ میں ہم اللہ تعالیٰ سے کیا مانگتے ہیں؟

ترجمہ

(اے اللہ!) ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما۔

اس آیت میں ہم اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے کی ہدایت اور اس پر استقامت مانگتے ہیں۔

اہم نکات

1 صراطِ مستقیم سے مراد — وہ دینِ حق اور راستہ جو قرآن و سنت نے متعین کیا ہے، اور جو بغیر کسی کجی کے اللہ کی رضا تک پہنچاتا ہے۔
2 طلبِ ہدایت — ہم اللہ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں یہ راستہ دکھائے، اس پر چلنے کی توفیق دے اور آخر تک اس پر قائم رکھے۔
3 روزانہ کی تکرار — یہ دعا ہر نماز کی ہر رکعت میں مانگی جاتی ہے، جو ہدایت کی مسلسل ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔
10 مختصر جوابات

صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ غَيۡرِ ٱلۡمَغۡضُوبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 7)

ہم کن لوگوں کے راستے پر چل کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں؟

ترجمہ

ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، نہ کہ ان کا جن پر غضب کیا گیا اور نہ ہی گم راہوں کا۔

ہم انعام یافتہ بندوں کے راستے پر چل کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟ اور جن کے راستے سے بچنا ہے

1 انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟ — انبیائے کرام علیہم السلام
2 انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟ — صدیقین
3 انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟ — شہداء
4 انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟ — صالحین
5 جن کے راستے سے بچنا ہے — اَلْمَغْضُوْب عَلَیْهِمْ — وہ لوگ جنہوں نے حق کو جان لینے کے بعد بھی اس پر عمل نہ کیا اور اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہرے۔
6 جن کے راستے سے بچنا ہے — اَلضَّآلِّیْنَ — وہ لوگ جو علم نہ ہونے یا حق سے بے رخی کی وجہ سے راستہ بھٹک گئے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ غَيۡرِ ٱلۡمَغۡضُوبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیات 1 تا 7)

سورۃ الفاتحۃ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

1 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ — اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
2 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ — تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
3 اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ — جو بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
4 مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ — جو بدلے کے دن کا مالک ہے۔
5 اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَاِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ — (اے اللہ!) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔
6 اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ — ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما۔
7 صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ — ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، نہ کہ ان کا جن پر غضب کیا گیا اور نہ ہی گم راہوں کا۔
12 تفصیلی جوابات

سورۃ الفاتحۃ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ الفاتحۃ قرآنِ مجید کی افتتاحی سورت ہے اور مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔

1 وجہِ تسمیہ — «اَلْفَاتِحَۃ» کا معنی ہے کھولنے، افتتاح اور آغاز کرنے والی۔ چوں کہ یہ قرآنِ مجید کی افتتاحی سورت ہے، اس لیے اس کا نام سورۃ الفاتحۃ رکھا گیا۔
2 اس سورت کے دیگر نام — اُمُّ الْقُرْآن، اُمُّ الْکِتَاب — کیوں کہ پورے قرآن کا خلاصہ اسی میں آ گیا ہے۔
3 اس سورت کے دیگر نام — سُوْرَۃُ الشِّفَاء — کیوں کہ اس میں شفا رکھی گئی ہے۔
4 اس سورت کے دیگر نام — سُوْرَۃُ الصَّلٰوۃ — کیوں کہ اس کی تلاوت ہر نماز میں کی جاتی ہے۔
5 اس سورت کے دیگر نام — سُوْرَۃُ الْمُنَاجَات — کیوں کہ اس سورت میں دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔
6 اس سورت کے دیگر نام — سُوْرَۃُ الْحَمْد — کیوں کہ یہ سورت اللہ تعالیٰ کی حمد سے شروع کی گئی ہے۔
7 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید کی پہلی سورت۔
8 تعارفی معلومات — نوعیت — مکی سورت — مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
9 تعارفی معلومات — آیات — سات آیات، ایک رکوع۔
10 تعارفی معلومات — امتیاز — یہی «اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ» ہے، یعنی نماز میں بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں۔
11 فضیلت — نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس جیسی کوئی سورت نہ توراۃ میں نازل ہوئی، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ ہی (باقی) قرآنِ مجید میں۔ (جامع ترمذی: 2875)
12 فضیلت — ایک موقع پر آپ ﷺ نے ایک صحابی سے فرمایا کہ کیا میں تمھیں قرآن کی سب سے عظیم سورت نہ سکھاؤں؟ پھر فرمایا کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» ہی «اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ» اور «الْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ» ہے جو مجھے عطا کیا گیا۔ (صحیح بخاری: 4474)
جواب مرکزی مضمون — توحیدِ باری تعالیٰ کا بیان۔
13 تفصیلی جوابات

سورۃ الفاتحۃ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔

سورۃ الفاتحۃ کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

1 اللہ تعالیٰ کی تعریف و شکر کا بیان
2 انسان کی بندگی کا اظہار
3 اللہ تعالیٰ سے ہدایت پر استقامت کی دعا مانگنے کا بیان
4 سورۃ الفاتحۃ میں اپنے ساتھ پوری امتِ مسلمہ کے لیے دعا مانگنے کا ذکر
5 آخر میں انعام یافتہ بندوں کے راستے پر چلنے کی دعا کا ذکر
14 تفصیلی جوابات

اسم، فعل اور حرف کی تعریف اور ہر ایک کی دو دو مثالیں تحریر کریں۔

اکیلے با معنی لفظ کو کلمہ کہا جاتا ہے، جیسے کِتَابٌ، کُرْسِیَّةٌ، قَلَمٌ۔ کلمہ کی تین اقسام ہیں: اسم، فعل اور حرف۔

1 1۔ اسم — تعریف — کسی شخص، چیز یا جگہ کے نام کو «اسم» کہا جاتا ہے۔ اس کے آخر میں تنوین آ سکتی ہے یا شروع میں «ال» آ سکتا ہے۔
2 1۔ اسم — مثالیں — زَیْدٌ، کِتَابٌ (نیز اَلْجَنَّةُ)
3 2۔ فعل — تعریف — وہ کلمہ جس سے کسی کام کا ہونا یا کرنا بیان کیا جا رہا ہو، اور اس میں تینوں زمانوں (ماضی، حال، مستقبل) میں سے کوئی ایک زمانہ بھی پایا جائے۔
4 2۔ فعل — مثالیں — کَتَبَ (اس نے لکھا)، یَعْلَمُ (وہ جانتا ہے یا جانے گا) — نیز ذَهَبَ، دَخَلَ، یَسْمَعُ
5 3۔ حرف — تعریف — وہ کلمہ جو اکیلا اپنا معنی مکمل نہیں کرتا۔ یہ الفاظ کے درمیان باہمی رابطے کا کام کرتا ہے۔
6 3۔ حرف — مثالیں — اِلٰی (کی طرف)، مِنْ (سے) — نیز بِ، عَلٰی، فِی، حَتّٰی
7 مثال سے وضاحت — ذَهَبَ زَیْدٌ اِلَی الْمَسْجِدِ — (زید مسجد کی طرف گیا) — اس جملے میں ذَهَبَ فعل ہے، زَیْدٌ اور الْمَسْجِدِ اسم ہیں، اور اِلٰی حرف ہے جس نے دونوں اسموں کو آپس میں ملا دیا۔
8 مثال سے وضاحت — اٰمَنْتُ بِاللهِ — (میں اللہ پر ایمان لایا) — اس جملے میں اٰمَنْتُ فعل ہے، بِ حرف ہے اور اللهُ اسم ہے۔
جواب اہم معلومات — جملہ — دو یا دو سے زیادہ کلمات کے اس مجموعے کو جملہ کہتے ہیں جس کے ساتھ مخاطب کو کسی بات سے آگاہ کیا گیا ہو۔ جملے کی دو قسمیں ہیں: جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ۔ جملہ اسمیہ میں پہلا حصہ «مبتدا» کہلاتا ہے اور دوسرا حصہ «خبر»۔ جیسے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» میں اَلْحَمْدُ مبتدا ہے اور لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ خبر ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

«علم و عمل کی باتوں» کی مدد سے اللہ تعالیٰ کی صفات تحریر کیجیے۔

سورۃ الفاتحۃ اور «علم و عمل کی باتوں» کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی درج ذیل صفات سامنے آتی ہیں:

1 محمود (تمام تعریفوں کا مالک) — تمام تعریفوں کا حقیقی حق دار صرف وہی ہے، کیوں کہ وہی سب کا خالق، مالک اور محسنِ حقیقی ہے۔
2 رب (رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) — وہ تمام جہانوں کا پالنے والا ہے؛ ہر مخلوق کی پرورش اور ضروریات کا انتظام اسی کے ہاتھ میں ہے۔
3 رحمٰن (بڑا مہربان) — اس کی رحمتِ عامہ تمام مخلوق پر بلا امتیاز محیط ہے۔
4 رحیم (نہایت رحم فرمانے والا) — اہلِ ایمان پر اس کی خاص رحمت ہے، خصوصاً آخرت میں۔
5 مالکِ یومِ الدین — قیامت کے دن کا وہ اکیلا مالک اور فرمانروا ہے؛ اس دن کسی کو کوئی اختیار نہ ہو گا اور ہر انسان اپنے اعمال کا حساب دے گا۔
6 معبودِ برحق — عبادت کے لائق صرف اسی کی ذات ہے، اس لیے ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔
7 مستعان (مدد فرمانے والا) — ہر حاجت اور مشکل میں حقیقی مددگار صرف وہی ہے۔
8 ہادی (ہدایت دینے والا) — سیدھے راستے کی ہدایت اور اس پر استقامت اسی کے دینے سے ملتی ہے، اس لیے ہمیں مانگتے رہنا چاہیے۔
9 مُنْعِم (انعام فرمانے والا) — اس نے انبیائے کرام، صدیقین، شہداء اور صالحین پر اپنا انعام فرمایا اور ہمیں انہی کی روش اختیار کرنے کی تعلیم دی۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

سورۃ الفاتحۃ، تعوذ اور تسمیہ کی فضیلت پر مذاکرہ کریں۔

مذاکرے کے لیے تینوں موضوعات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1 سورۃ الفاتحۃ کی فضیلت — بے مثال سورت — نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس جیسی کوئی سورت نہ توراۃ میں نازل ہوئی، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ ہی (باقی) قرآنِ مجید میں۔ (جامع ترمذی: 2875)
2 سورۃ الفاتحۃ کی فضیلت — عظیم ترین سورت — آپ ﷺ نے اسے قرآن کی سب سے عظیم سورت قرار دیا اور فرمایا کہ یہی «اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ» اور «الْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ» ہے۔ (صحیح بخاری: 4474)
3 سورۃ الفاتحۃ کی فضیلت — خصوصی نور — آپ ﷺ کو دو ایسے نور عطا کیے گئے جو آپ سے پہلے کسی کو نہیں دیے گئے: سورۃ الفاتحۃ اور سورۃ البقرۃ کی آخری آیات۔ (صحیح مسلم: 806)
4 سورۃ الفاتحۃ کی فضیلت — نماز کا رکن — اس کی تلاوت ہر نماز کی ہر رکعت میں کی جاتی ہے۔
5 تَعَوُّذ کی فضیلت — شیطان کی چال — شیطان کی سب سے بڑی چال یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام اس کے بندوں تک نہ پہنچے۔
6 تَعَوُّذ کی فضیلت — پناہ اور حفاظت — تعوذ پڑھ لینے سے انسان شیطانِ مردود کے شر سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی پناہ اور حفاظت میں آ جاتا ہے اور شیطانی وسوسوں سے دور ہو جاتا ہے۔
7 تَعَوُّذ کی فضیلت — حکمِ الٰہی — اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطانِ مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں۔ (سورۃ النحل: 98)
8 تَعَوُّذ کی فضیلت — یاد رہے — تعوذ قرآنِ مجید کا حصہ نہیں ہے۔
9 تسمیہ کی فضیلت — مفہوم — کسی بھی جائز عمل سے پہلے تسمیہ پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے نام سے اور اسی کی رضا کے لیے شروع کیا جا رہا ہے۔
10 تسمیہ کی فضیلت — برکت — جو کام اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کیا جاتا ہے، اس میں اللہ کی برکت اور مدد شامل ہو جاتی ہے۔
11 تسمیہ کی فضیلت — پہلی وحی کی تعلیم — سب سے پہلی وحی میں بھی اپنے رب کے نام سے پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ (سورۃ العلق: 1)

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

17 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

سورۃ الفاتحۃ کے تعارف میں دیے گئے ناموں کے علاوہ چار مزید نام تحریر کریں۔

تعارف میں اُمُّ الْقُرْآن، اُمُّ الْکِتَاب، سُوْرَۃُ الشِّفَاء، سُوْرَۃُ الصَّلٰوۃ، سُوْرَۃُ الْمُنَاجَات اور سُوْرَۃُ الْحَمْد کے نام آ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ چار مزید نام یہ ہیں:

1 اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ — یعنی بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں، کیوں کہ یہ ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہیں۔
2 اَلْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ — حدیثِ مبارکہ میں اسی نام سے اس کی عظمت بیان ہوئی۔
3 فَاتِحَةُ الْکِتَاب — یعنی کتاب (قرآنِ مجید) کی افتتاحی سورت۔
4 اَلرُّقْیَۃ (سُوْرَۃُ الرُّقْیَۃ) — یعنی دم کرنے والی سورت، کیوں کہ صحابۂ کرام نے اس سے دم کیا اور مریض کو شفا ہوئی۔
جواب اسی طرح اسے اَلْکَنْز، اَلْاَسَاس، اَلْوَافِیَۃ اور اَلْکَافِیَۃ بھی کہا گیا ہے۔
18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

کامیابی کے راستے پر چلنے کے لیے کیا ضروری ہے؟

کامیابی کا راستہ وہی «صراطِ مستقیم» ہے جس کی دعا ہم سورۃ الفاتحۃ میں مانگتے ہیں۔ اس پر چلنے کے لیے درج ذیل باتیں ضروری ہیں:

1 اللہ سے ہدایت مانگنا — ہدایت اللہ کی توفیق سے ملتی ہے، اس لیے ہر نماز میں «اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ» کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔
2 خالص عبادت — عبادت صرف اللہ کی کی جائے اور اس میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
3 اللہ ہی سے مدد مانگنا — ہر مشکل میں حقیقی سہارا اللہ تعالیٰ کو سمجھا جائے۔
4 انعام یافتہ بندوں کی پیروی — انبیائے کرام علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین کی روش اختیار کی جائے۔
5 دو بگڑے راستوں سے بچنا — مغضوب علیہم (جو حق جان کر بھی عمل نہ کریں) اور ضالین (جو بے علمی میں بھٹک جائیں) کے راستے سے بچا جائے۔
6 قرآن و سنت سے وابستگی — زندگی کے ہر معاملے میں قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ کو رہنما بنایا جائے۔
7 استقامت — محض راستہ پا لینا کافی نہیں، آخری سانس تک اس پر جمے رہنا ضروری ہے۔
8 یادِ آخرت — یہ یقین رکھا جائے کہ «مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ» کے سامنے ہر عمل کا حساب دینا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.