سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃ کی آیات ہیں:
الف) پانچ • ب) چھے • ج) سات • د) آٹھ
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃ کی آیات ہیں:
الف) پانچ • ب) چھے • ج) سات • د) آٹھ
مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 4)
«یَوْمُ الدِّیْنِ» سے مراد ہے:
الف) عید کا دن • ب) عاشورہ کا دن • ج) بدلہ کا دن • د) جمعہ کا دن
ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 6)
«اَلصِّرَاط» کے معنی ہیں:
الف) راستہ • ب) منزل • ج) مکان • د) پل
وَلَا ٱلضَّآلِّينَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 7)
«اَلضَّآلِّیْنَ» کے معنی ہیں:
الف) بجھنے • ب) مکار • ج) بخیل • د) گم راہ
سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃ کے آخر میں پڑھنا مسنون ہے:
الف) جزاک اللہ • ب) آمین • ج) ماشاء اللہ • د) سبحان اللہ
سورۃ الفاتحۃ کے کوئی سے تین نام تحریر کریں۔
سورۃ الفاتحۃ کے تین نام یہ ہیں: اُمُّ الْقُرْآن، اُمُّ الْکِتَاب اور سُوْرَۃُ الشِّفَاء۔
ناموں کی وجہ
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 2)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی صفت بیان ہوئی ہے؟
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ ربوبیت بیان ہوئی ہے، یعنی وہ تمام جہانوں کا رب، پالنے والا اور پرورش کرنے والا ہے۔
وضاحت
إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 5)
آیتِ کریمہ میں ہم اللہ تعالیٰ سے کس بات کا عہد کرتے ہیں؟
(اے اللہ!) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔
اس آیت میں ہم اللہ تعالیٰ سے دو باتوں کا عہد کرتے ہیں: عبادت صرف اسی کی کریں گے، اور مدد بھی صرف اسی سے مانگیں گے۔
عہد کے دو حصے
ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 6)
آیتِ کریمہ میں ہم اللہ تعالیٰ سے کیا مانگتے ہیں؟
(اے اللہ!) ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما۔
اس آیت میں ہم اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے کی ہدایت اور اس پر استقامت مانگتے ہیں۔
اہم نکات
صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ غَيۡرِ ٱلۡمَغۡضُوبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیت 7)
ہم کن لوگوں کے راستے پر چل کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں؟
ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، نہ کہ ان کا جن پر غضب کیا گیا اور نہ ہی گم راہوں کا۔
ہم انعام یافتہ بندوں کے راستے پر چل کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟ اور جن کے راستے سے بچنا ہے
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ غَيۡرِ ٱلۡمَغۡضُوبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ (سورۃ الفاتحۃ ۔ آیات 1 تا 7)
سورۃ الفاتحۃ کا ترجمہ تحریر کریں۔
ترجمہ
سورۃ الفاتحۃ کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سورۃ الفاتحۃ قرآنِ مجید کی افتتاحی سورت ہے اور مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
سورۃ الفاتحۃ کے چند بنیادی مضامین تحریر کریں۔
سورۃ الفاتحۃ کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
اسم، فعل اور حرف کی تعریف اور ہر ایک کی دو دو مثالیں تحریر کریں۔
اکیلے با معنی لفظ کو کلمہ کہا جاتا ہے، جیسے کِتَابٌ، کُرْسِیَّةٌ، قَلَمٌ۔ کلمہ کی تین اقسام ہیں: اسم، فعل اور حرف۔
«علم و عمل کی باتوں» کی مدد سے اللہ تعالیٰ کی صفات تحریر کیجیے۔
سورۃ الفاتحۃ اور «علم و عمل کی باتوں» کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی درج ذیل صفات سامنے آتی ہیں:
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
سورۃ الفاتحۃ، تعوذ اور تسمیہ کی فضیلت پر مذاکرہ کریں۔
مذاکرے کے لیے تینوں موضوعات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
سورۃ الفاتحۃ کے تعارف میں دیے گئے ناموں کے علاوہ چار مزید نام تحریر کریں۔
تعارف میں اُمُّ الْقُرْآن، اُمُّ الْکِتَاب، سُوْرَۃُ الشِّفَاء، سُوْرَۃُ الصَّلٰوۃ، سُوْرَۃُ الْمُنَاجَات اور سُوْرَۃُ الْحَمْد کے نام آ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ چار مزید نام یہ ہیں:
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
کامیابی کے راستے پر چلنے کے لیے کیا ضروری ہے؟
کامیابی کا راستہ وہی «صراطِ مستقیم» ہے جس کی دعا ہم سورۃ الفاتحۃ میں مانگتے ہیں۔ اس پر چلنے کے لیے درج ذیل باتیں ضروری ہیں:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔