قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 1)
«اَللهُ اَحَدٌ» میں ذکر ہے اللہ تعالیٰ کے:
الف) ایک ہونے کا • ب) بے نیاز ہونے کا • ج) قادر ہونے کا • د) خالق ہونے کا
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 1)
«اَللهُ اَحَدٌ» میں ذکر ہے اللہ تعالیٰ کے:
الف) ایک ہونے کا • ب) بے نیاز ہونے کا • ج) قادر ہونے کا • د) خالق ہونے کا
قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 1)
«اَحَدٌ» قواعد کی رو سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر
ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 2)
«اَلصَّمَد» کے معنی ہیں:
الف) طاقت والا • ب) ہمیشہ رہنے والا • ج) علم والا • د) بے نیاز
قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ (سورۃ الاخلاص ۔ آیات 1 تا 4)
سورۃ الاخلاص میں بیان ہوا ہے:
الف) توحید کا • ب) رسالت کا • ج) آخرت کا • د) برزخ کا
نبی کریم ﷺ نے سورۃ الاخلاص کو برابر قرار دیا:
الف) نصف قرآنِ مجید کے • ب) پورے قرآنِ مجید کے • ج) دو تہائی قرآنِ مجید کے • د) ایک تہائی قرآنِ مجید کے
قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 1)
آیتِ کریمہ میں کس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے؟
آپ (ﷺ) فرما دیجیے کہ وہ اللہ ایک (ہی) ہے۔
اس آیت میں توحید کی حقیقت بیان کی گئی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور یکتا ہے۔
اہم نکات
لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 3)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے کون سے اوصاف بیان ہوئے ہیں؟
نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔
اس آیت میں دو اوصاف بیان ہوئے: نہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے، اور نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے۔
دونوں اوصاف کی وضاحت
وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 4)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی صفت بیان ہوئی ہے؟
اور کوئی اس کے برابر نہیں ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی یہ صفت بیان ہوئی کہ کوئی اس کا ہم سر اور برابر نہیں۔
اہم نکات
قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ
سورۃ الاخلاص کا شانِ نزول بیان کریں۔
کفارِ مکہ نے رسالت مآب ﷺ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق سوال کیا، جس کے جواب میں یہ سورتِ مبارکہ نازل ہوئی۔
اہم نکات
ا؟ قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ
نبی کریم ﷺ کا سورۃ الاخلاص کی تلاوت کا کیا معمول تھا؟
آپ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ اسے درج ذیل مواقع پر تلاوت فرماتے تھے:
تلاوت کے مواقع
قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ (سورۃ الاخلاص ۔ آیات 1 تا 4)
سورۃ الاخلاص کا ترجمہ تحریر کریں۔
آپ (ﷺ) فرما دیجیے کہ وہ اللہ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور کوئی اس کے برابر نہیں ہے۔
لفظی وضاحت اور اہم نکات
قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ
سورۃ الاخلاص کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سورۃ الاخلاص مکی سورت ہے۔ اس کا نام «الاخلاص» اس لیے ہے کہ یہ خالص توحید کے بیان پر مشتمل ہے۔ اسے «سورۃ التوحید» بھی کہتے ہیں۔
ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ
سورۃ الاخلاص کا شانِ نزول اور بنیادی مضامین تحریر کریں۔
کفارِ مکہ نے رسالت مآب ﷺ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق سوال کیا، جس کے جواب میں یہ سورتِ مبارکہ نازل ہوئی۔
بنیادی مضامین
قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ
حروفِ جازمہ کی تعریف کریں اور سورۃ الاخلاص سے اس کی کوئی دو مثالیں دیں۔
حروفِ جازمہ وہ حروف ہیں جو فعلِ مضارع پر داخل ہو کر اسے مجزوم کر دیتے ہیں، یعنی اس کے آخر کی حرکت (پیش) کو ختم کر کے سکون دے دیتے ہیں۔
ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 2)
«صمد» (بے نیاز) کی وضاحت اور اس سورت کو ایک تہائی قرآن قرار دیے جانے کی وجہ اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔
دونوں باتوں کا خلاصہ درج ذیل ہے؛ مزید تفصیل کے لیے اپنے اساتذہ کرام سے رہنمائی لیں۔
«اَلصَّمَد» کی وضاحت اور ایک تہائی قرآن قرار دیے جانے کی وجہ
لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ
لفظ «قُلْ» سے شروع ہونے والی سورتوں کے نام تلاش کریں۔
قرآنِ مجید میں پانچ سورتیں ایسی ہیں جن کا آغاز لفظ «قُلْ» سے ہوتا ہے:
پانچ سورتیں
وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ
سورۃ الاخلاص کے دو مزید نام معلوم کریں۔
اس سورت کے کئی نام بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے مشہور دو نام یہ ہیں:
دو مشہور نام
قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ
توحید کی اقسام اور اس کے تقاضے تحریر کریں۔
توحید کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اور اس کی ذات، صفات اور عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ اہلِ علم نے اسے تین اقسام میں بیان کیا ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔