چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 19: سبق 19: سورۃ الاخلاص (آیات: 1 تا 4) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 1)

«اَللهُ اَحَدٌ» میں ذکر ہے اللہ تعالیٰ کے:

الف) ایک ہونے کا • ب) بے نیاز ہونے کا • ج) قادر ہونے کا • د) خالق ہونے کا

جواب الف) ایک ہونے کا — «اَحَد» کا معنی ایک یا اکیلا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے ایک اور یکتا ہونے کا بیان ہے۔ بے نیاز ہونے کا ذکر اگلی آیت «اَللهُ الصَّمَدُ» میں ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 1)

«اَحَدٌ» قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر

جواب الف) اسم — «اَحَدٌ» اسم ہے اور اس پر تنوین (ـٌ) موجود ہے، جو اسم کی نمایاں پہچان ہے۔ یہاں یہ «هُوَ اللهُ اَحَدٌ» میں خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 2)

«اَلصَّمَد» کے معنی ہیں:

الف) طاقت والا • ب) ہمیشہ رہنے والا • ج) علم والا • د) بے نیاز

جواب د) بے نیاز — سبق کی ذخیرۃ الفاظ میں «اَلصَّمَد» کا معنی «بے نیاز» دیا گیا ہے، یعنی وہ ذات جو کسی کی محتاج نہیں اور ساری مخلوق اپنی ہر حاجت میں اسی کی طرف رجوع کرتی ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ (سورۃ الاخلاص ۔ آیات 1 تا 4)

سورۃ الاخلاص میں بیان ہوا ہے:

الف) توحید کا • ب) رسالت کا • ج) آخرت کا • د) برزخ کا

جواب الف) توحید کا — اس سورت کا مرکزی مضمون توحیدِ باری تعالیٰ ہے۔ چوں کہ یہ خالص توحید کے بیان پر مشتمل ہے، اسی لیے اسے «سورۃ التوحید» بھی کہا جاتا ہے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

نبی کریم ﷺ نے سورۃ الاخلاص کو برابر قرار دیا:

الف) نصف قرآنِ مجید کے • ب) پورے قرآنِ مجید کے • ج) دو تہائی قرآنِ مجید کے • د) ایک تہائی قرآنِ مجید کے

جواب د) ایک تہائی قرآنِ مجید کے — نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سورۃ الاخلاص ایک تہائی قرآن ہے۔ (صحیح بخاری: 5013)

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 1)

آیتِ کریمہ میں کس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے؟

ترجمہ

آپ (ﷺ) فرما دیجیے کہ وہ اللہ ایک (ہی) ہے۔

اس آیت میں توحید کی حقیقت بیان کی گئی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور یکتا ہے۔

اہم نکات

1 قُلْ — یہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے کہ آپ صاف صاف اعلان کر دیجیے۔
2 اَحَد کا مفہوم — ایسا ایک جس کی کوئی دوسری مثال نہ ہو؛ یہ «واحد» سے بھی زیادہ مکمل معنی رکھتا ہے۔
3 ذات میں یکتائی — اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور افعال میں یکتا ہے۔
4 شرک کی نفی — اس کا کوئی شریک اور ہم سر نہیں۔
5 بنیادی عقیدہ — عقیدۂ توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔
7 مختصر جوابات

لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے کون سے اوصاف بیان ہوئے ہیں؟

ترجمہ

نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔

اس آیت میں دو اوصاف بیان ہوئے: نہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے، اور نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے۔

دونوں اوصاف کی وضاحت

1 لَمْ یَلِدْ — اس کی کوئی اولاد نہیں — نہ بیٹا، نہ بیٹی۔
2 وَلَمْ یُوْلَدْ — وہ خود کسی سے پیدا نہیں ہوا — یعنی اس کا کوئی باپ یا اصل نہیں۔
3 باطل عقائد کی تردید — اس سے ان تمام عقیدوں کی نفی ہو گئی جن میں اللہ کی طرف اولاد منسوب کی جاتی تھی۔
4 ازلی و ابدی — جو کسی سے پیدا نہ ہوا ہو، وہی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
5 مخلوق سے فرق — پیدا ہونا اور اولاد رکھنا مخلوق کی صفت ہے، خالق کی نہیں۔
8 مختصر جوابات

وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 4)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی صفت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

اور کوئی اس کے برابر نہیں ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی یہ صفت بیان ہوئی کہ کوئی اس کا ہم سر اور برابر نہیں۔

اہم نکات

1 كُفُوًا — برابر، ہم سر اور ہم پلہ۔
2 ہر پہلو سے نفی — نہ ذات میں کوئی برابر ہے، نہ صفات میں، نہ افعال میں۔
3 پچھلی آیات سے ربط — پہلے یکتائی، پھر بے نیازی، پھر اولاد کی نفی، اور آخر میں ہر قسم کی مماثلت کی نفی۔
4 برتری — وہ تمام مخلوقات سے اعلیٰ اور برتر ہے۔
5 سبق — کوئی ذات یا صفات میں اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں۔
9 مختصر جوابات

قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ

سورۃ الاخلاص کا شانِ نزول بیان کریں۔

کفارِ مکہ نے رسالت مآب ﷺ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق سوال کیا، جس کے جواب میں یہ سورتِ مبارکہ نازل ہوئی۔

اہم نکات

1 سوال کی نوعیت — وہ پوچھتے تھے کہ آپ کا رب کیسا ہے، کس چیز سے ہے اور اس کا نسب کیا ہے۔
2 جواب کا انداز — اللہ تعالیٰ نے چار مختصر آیتوں میں اپنا مکمل تعارف عطا فرمایا۔
3 چار پہلو — یکتائی، بے نیازی، اولاد سے پاکی، اور ہر مماثلت سے بلندی۔
4 نتیجہ — اس سے توحید کا مکمل عقیدہ واضح ہو گیا اور شرک کی ہر صورت کی نفی ہو گئی۔
10 مختصر جوابات

ا؟ قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ

نبی کریم ﷺ کا سورۃ الاخلاص کی تلاوت کا کیا معمول تھا؟

آپ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ اسے درج ذیل مواقع پر تلاوت فرماتے تھے:

تلاوت کے مواقع

1 فجر کی سنتیں — فجر کی سنتوں میں (دوسری رکعت میں)۔
2 مغرب کی سنتیں — مغرب کی سنتوں میں (دوسری رکعت میں)۔
3 طواف کے بعد — طواف کے بعد کی دو رکعتوں میں سے دوسری رکعت میں۔
4 وتر — وتر کی تیسری رکعت میں۔
5 سونے سے پہلے — رات کو سونے سے قبل۔
جواب یاد رہے — ان میں سے اکثر مواقع پر پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری میں سورۃ الاخلاص پڑھی جاتی تھی — ایک شرک سے برأت کا اعلان، اور دوسری توحید کا اثبات۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ (سورۃ الاخلاص ۔ آیات 1 تا 4)

سورۃ الاخلاص کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

آپ (ﷺ) فرما دیجیے کہ وہ اللہ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور کوئی اس کے برابر نہیں ہے۔

لفظی وضاحت اور اہم نکات

1 لفظی وضاحت — قُلْ — فرما دیجیے۔
2 لفظی وضاحت — هُوَ — وہ — ضمیرِ منفصل مذکر غائب واحد۔
3 لفظی وضاحت — اَحَدٌ — ایک، اکیلا۔
4 لفظی وضاحت — اَلصَّمَد — بے نیاز — وہ جو کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں۔
5 لفظی وضاحت — لَمْ یَلِدْ — اس نے کسی کو نہیں جنا۔
6 لفظی وضاحت — وَلَمْ یُوْلَدْ — اور نہ وہ جنا گیا۔
7 لفظی وضاحت — كُفُوًا — برابر، ہم سر۔
8 اہم نکات — پہلی آیت — اللہ تعالیٰ کی یکتائی (اَحَدِیَّت) کا اعلان۔
9 اہم نکات — دوسری آیت — اس کی بے نیازی اور سب کا اسی کے محتاج ہونا۔
10 اہم نکات — تیسری آیت — اولاد اور والدیت — دونوں کی نفی۔
11 اہم نکات — چوتھی آیت — ہر قسم کی مماثلت اور ہم سری کی نفی۔
12 اہم نکات — مجموعی پیغام — چار مختصر آیتوں میں توحید کا مکمل عقیدہ سمٹ آیا — یہی وجہ ہے کہ اسے ایک تہائی قرآن قرار دیا گیا۔
12 تفصیلی جوابات

قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ

سورۃ الاخلاص کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ الاخلاص مکی سورت ہے۔ اس کا نام «الاخلاص» اس لیے ہے کہ یہ خالص توحید کے بیان پر مشتمل ہے۔ اسے «سورۃ التوحید» بھی کہتے ہیں۔

1 وجہِ تسمیہ — یہ سورت خالص توحید کے بیان پر مشتمل ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام «الاخلاص» رکھا گیا۔
2 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید میں یہ 112ویں سورت ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 22ویں نمبر پر ہے۔
3 تعارفی معلومات — نوعیت — یہ مکی سورت ہے۔
4 تعارفی معلومات — آیات و رکوع — اس کی آیات کی تعداد 4 اور رکوع 1 ہے۔
5 تعارفی معلومات — امتیازی خصوصیت — اس میں اللہ تعالیٰ کا اپنا تعارف بیان ہوا ہے، اور کسی مخلوق کا ذکر نہیں۔
6 مرکزی مضمون — توحیدِ باری تعالیٰ۔
جواب فضیلت — نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سورۃ الاخلاص ایک تہائی قرآن ہے۔ (صحیح بخاری: 5013)
13 تفصیلی جوابات

ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ

سورۃ الاخلاص کا شانِ نزول اور بنیادی مضامین تحریر کریں۔

کفارِ مکہ نے رسالت مآب ﷺ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق سوال کیا، جس کے جواب میں یہ سورتِ مبارکہ نازل ہوئی۔

بنیادی مضامین

1 پہلا مضمون — توحیدِ خالص کا بیان۔
2 دوسرا مضمون — اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یکتا ہے۔
3 تیسرا مضمون — اس کا کوئی شریک اور ہم سر نہیں۔
جواب ترتیب کا نکتہ — پہلے اثبات (وہ ایک ہے، وہ بے نیاز ہے)، پھر نفی (نہ اولاد، نہ والد، نہ کوئی ہم سر) — یعنی توحید کا اثبات بھی اور شرک کی ہر صورت کی تردید بھی۔
14 تفصیلی جوابات

قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ

حروفِ جازمہ کی تعریف کریں اور سورۃ الاخلاص سے اس کی کوئی دو مثالیں دیں۔

حروفِ جازمہ وہ حروف ہیں جو فعلِ مضارع پر داخل ہو کر اسے مجزوم کر دیتے ہیں، یعنی اس کے آخر کی حرکت (پیش) کو ختم کر کے سکون دے دیتے ہیں۔

1 مشہور حروفِ جازمہ — لَمْ — نفی کے ساتھ فعل کو ماضی کے معنی میں بدل دیتا ہے — «نہیں کیا»۔
2 مشہور حروفِ جازمہ — لَمَّا — ابھی تک نہیں — «اب تک نہیں کیا»۔
3 مشہور حروفِ جازمہ — لَامِ امر (لِـ) — حکم دینے کے لیے — جیسے «فَلْیَعْبُدُوْا» (پس چاہیے کہ وہ عبادت کریں)۔
4 مشہور حروفِ جازمہ — لَاءِ نہی — منع کرنے کے لیے — جیسے «لَا تَحْزَنْ» (غم نہ کرو)۔
5 سورۃ الاخلاص سے دو مثالیں — 1۔ لَمْ یَلِدْ (آیت 3) — «لَمْ» کے داخل ہونے سے فعلِ مضارع «یَلِدُ» مجزوم ہو کر «یَلِدْ» ہو گیا۔ ترجمہ: اس نے کسی کو نہیں جنا۔
6 سورۃ الاخلاص سے دو مثالیں — 2۔ وَلَمْ یُوْلَدْ (آیت 3) — اسی طرح «یُوْلَدُ» پر «لَمْ» داخل ہوا تو وہ «یُوْلَدْ» ہو گیا۔ ترجمہ: اور نہ وہ جنا گیا۔
7 ایک تیسری مثال — آیت 4 میں «وَلَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ» بھی اسی قاعدے پر ہے — «یَكُوْنُ» پر «لَمْ» داخل ہوا تو وہ «یَكُنْ» ہو گیا۔
8 یاد رہے — پہچان — مجزوم فعل کے آخر میں سکون ہوتا ہے۔
9 یاد رہے — لَمْ اور لَا کا فرق — «لَمْ» ماضی کی نفی کرتا ہے، جبکہ «لَا» حال یا مستقبل کی۔
10 یاد رہے — اس سورت میں — تین مقامات پر «لَمْ» آیا ہے، اور تینوں جگہ فعل مجزوم ہے۔
11 یاد رہے — پچھلے اسباق سے فرق — حروفِ جارہ اسم کو جر دیتے ہیں (سبق 11)، حروفِ ناصبہ نصب دیتے ہیں، اور حروفِ جازمہ فعلِ مضارع کو جزم دیتے ہیں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 2)

«صمد» (بے نیاز) کی وضاحت اور اس سورت کو ایک تہائی قرآن قرار دیے جانے کی وجہ اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

دونوں باتوں کا خلاصہ درج ذیل ہے؛ مزید تفصیل کے لیے اپنے اساتذہ کرام سے رہنمائی لیں۔

«اَلصَّمَد» کی وضاحت اور ایک تہائی قرآن قرار دیے جانے کی وجہ

1 «اَلصَّمَد» کی وضاحت — لغوی معنی — وہ ذات جس کی طرف ہر ضرورت مند رجوع کرے، اور جو خود کسی کا محتاج نہ ہو۔
2 «اَلصَّمَد» کی وضاحت — بے نیازی — اللہ تعالیٰ ہر قسم کی حاجات سے پاک ہے — نہ کھانے کا محتاج، نہ مددگار کا، نہ اولاد کا۔
3 «اَلصَّمَد» کی وضاحت — سب کا محتاج ہونا — ساری مخلوق اپنی ہر حاجت میں اسی کی طرف رجوع کرتی ہے۔
4 «اَلصَّمَد» کی وضاحت — کمالِ صفات — اس میں ہر صفت کامل ترین درجے میں پائی جاتی ہے۔
5 «اَلصَّمَد» کی وضاحت — «اَحَد» سے ربط — پہلے بتایا کہ وہ ایک ہے، پھر بتایا کہ وہی سب کا سہارا ہے — یعنی ایک ہونے کے ساتھ ساتھ کافی بھی ہے۔
6 ایک تہائی قرآن قرار دیے جانے کی وجہ — قرآن کے تین بڑے موضوعات — علما بیان کرتے ہیں کہ قرآنِ مجید کے مضامین بنیادی طور پر تین ہیں: توحید، احکام، اور قصص و اخبار (وعد و وعید)۔
7 ایک تہائی قرآن قرار دیے جانے کی وجہ — یہ سورت اور توحید — یہ پوری سورت انہی تین میں سے ایک موضوع — توحید — پر مشتمل ہے، اس لیے اسے ایک تہائی کے برابر قرار دیا گیا۔
8 ایک تہائی قرآن قرار دیے جانے کی وجہ — ثواب کے اعتبار سے — بعض اہلِ علم کے نزدیک مراد یہ ہے کہ اس کے پڑھنے کا ثواب ایک تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔
9 ایک تہائی قرآن قرار دیے جانے کی وجہ — ایک اہم وضاحت — اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تین بار پڑھ لینے سے پورا قرآن پڑھنے کا حق ادا ہو جاتا ہے، یا تلاوتِ قرآن کی ضرورت نہیں رہتی۔
جواب فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سورۃ الاخلاص ایک تہائی قرآن ہے۔ (صحیح بخاری: 5013)
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ

لفظ «قُلْ» سے شروع ہونے والی سورتوں کے نام تلاش کریں۔

قرآنِ مجید میں پانچ سورتیں ایسی ہیں جن کا آغاز لفظ «قُلْ» سے ہوتا ہے:

پانچ سورتیں

1 1۔ سورۃ الجن (72) — «قُلۡ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ» — آپ فرما دیجیے: میری طرف وحی کی گئی ہے …
2 2۔ سورۃ الکافرون (109) — «قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ» — آپ فرما دیجیے: اے کافرو!
3 3۔ سورۃ الاخلاص (112) — «قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ» — آپ فرما دیجیے: وہ اللہ ایک ہی ہے۔
4 4۔ سورۃ الفلق (113) — «قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ» — آپ فرما دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔
5 5۔ سورۃ الناس (114) — «قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ» — آپ فرما دیجیے: میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔
17 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ

سورۃ الاخلاص کے دو مزید نام معلوم کریں۔

اس سورت کے کئی نام بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے مشہور دو نام یہ ہیں:

دو مشہور نام

1 1۔ سورۃ التوحید — کیوں کہ اس کا پورا مضمون اللہ تعالیٰ کی توحید ہے۔ کتاب میں بھی یہی نام ذکر کیا گیا ہے۔
2 2۔ سورۃ الصمد — کیوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ «اَلصَّمَد» بیان ہوئی ہے، جو قرآنِ مجید میں صرف اسی جگہ آئی ہے۔
جواب نوٹ — ناموں کی یہ تعداد مختلف کتابوں میں کم و بیش ہو سکتی ہے۔ امتحان میں «سورۃ التوحید» اور «سورۃ الصمد» لکھنا کافی ہے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ

توحید کی اقسام اور اس کے تقاضے تحریر کریں۔

توحید کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اور اس کی ذات، صفات اور عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ اہلِ علم نے اسے تین اقسام میں بیان کیا ہے۔

1 توحید کی تین اقسام — 1۔ توحیدِ ربوبیت — یہ ماننا کہ پیدا کرنے والا، رزق دینے والا، زندگی و موت دینے والا اور پورے نظام کو چلانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی کا اظہار «اَللهُ الصَّمَدُ» میں ہے۔
2 توحید کی تین اقسام — 2۔ توحیدِ الوہیت — یہ ماننا کہ عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے — نماز، دعا، قربانی، نذر اور سجدہ سب اسی کے لیے ہیں۔
3 توحید کی تین اقسام — 3۔ توحیدِ اسماء و صفات — یہ ماننا کہ اللہ تعالیٰ کے نام اور صفات اسی کے لائق ہیں، ان میں کوئی مخلوق اس کے برابر نہیں۔ اسی کا بیان «وَلَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ» میں ہے۔
4 سورۃ الاخلاص اور تینوں اقسام — اَحَدٌ — ذات میں یکتائی — کوئی اس جیسا نہیں۔
5 سورۃ الاخلاص اور تینوں اقسام — اَلصَّمَد — ربوبیت اور بے نیازی — سب اس کے محتاج، وہ کسی کا محتاج نہیں۔
6 سورۃ الاخلاص اور تینوں اقسام — لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ — اولاد اور والدیت کی نفی — یعنی وہ مخلوق جیسا نہیں۔
7 سورۃ الاخلاص اور تینوں اقسام — كُفُوًا اَحَدٌ — اسماء و صفات میں کسی کے برابر ہونے کی نفی۔
8 توحید کے تقاضے — عبادت صرف اللہ کی — ہر قسم کی عبادت خالص اللہ ہی کے لیے ہو۔
9 توحید کے تقاضے — اخلاص — ہر عمل میں صرف اللہ کی رضا مقصود ہو، دکھاوا نہ ہو۔
10 توحید کے تقاضے — توکل — بھروسا اور اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر ہو۔
11 توحید کے تقاضے — اطاعت — حکم صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مانا جائے۔
12 توحید کے تقاضے — دعا — حاجت صرف اسی سے مانگی جائے، کیوں کہ وہی «صمد» ہے۔
13 توحید کے تقاضے — محبت اور خوف — سب سے بڑھ کر محبت اور خوف اسی کی ذات سے ہو۔
14 توحید کے تقاضے — شرک سے اجتناب — شرک کی ہر چھوٹی بڑی صورت سے بچا جائے۔
جواب خلاصہ — توحید صرف زبان سے ایک ماننے کا نام نہیں، بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ عقیدہ، عبادت اور پورا طرزِ زندگی اسی ایک ذات کے تابع ہو۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.