چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 18: سبق 18: سورۃ اللھب (آیات: 1 تا 5) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 19 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

سَيَصۡلَىٰ نَارٗا ذَاتَ لَهَبٖ (سورۃ اللھب ۔ آیت 3)

«لَهَب» کے معنی ہیں:

الف) شعلہ • ب) روشنی • ج) دھواں • د) انگارا

جواب الف) شعلہ — «لَهَب» کا معنی شعلہ ہے۔ «نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ» یعنی شعلوں والی آگ۔ اسی لفظ کی مناسبت سے سورت کا نام «سورۃ اللھب» ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

فِي جِيدِهَا حَبۡلٞ مِّن مَّسَدِۭ (سورۃ اللھب ۔ آیت 5)

«حَبْل» کے معنی ہیں:

الف) تار • ب) رسی • ج) زنجیر • د) دھاگا

جواب ب) رسی — سبق کی ذخیرۃ الفاظ میں «حَبْلٌ» کا معنی «رسی» دیا گیا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی گردن میں کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی ہو گی۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

فِي جِيدِهَا حَبۡلٞ مِّن مَّسَدِۭ (سورۃ اللھب ۔ آیت 5)

«مَسَد» کے معنی ہیں:

الف) دھاگا • ب) زنجیر • ج) رسی • د) کھجور کی چھال

جواب د) کھجور کی چھال — «مَسَد» کھجور کی چھال کو کہتے ہیں، جس سے رسی بٹی جاتی ہے۔ اسی آیت میں «حَبْل» رسی کے لیے اور «مَسَد» اس مادے کے لیے آیا ہے جس سے وہ رسی بنی ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَٱمۡرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلۡحَطَبِ (سورۃ اللھب ۔ آیت 4)

سورۃ اللھب میں مذمت کی گئی ہے ابولہب اور اس کی:

الف) ماں کی • ب) بیٹی کی • ج) بہن کی • د) بیوی کی

جواب د) بیوی کی — اس سورت میں ابولہب اور اس کی بیوی اُمِّ جمیل کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ آیت 4 میں «وَامْرَاَتُهٗ» یعنی «اور اس کی بیوی» کے الفاظ آئے ہیں۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

فِي جِيدِهَا حَبۡلٞ مِّن مَّسَدِۭ (سورۃ اللھب ۔ آیت 5)

قواعد کی رو سے اسم ہے:

الف) تَبَّ • ب) كَسَبَ • ج) مِنْ • د) مَسَد

جواب د) مَسَد — «مَسَد» اسم ہے۔ «تَبَّ» اور «كَسَبَ» فعلِ ماضی ہیں، جبکہ «مِنْ» حرفِ جارہ ہے۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

تَبَّتۡ يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ (سورۃ اللھب ۔ آیت 1)

آیتِ کریمہ میں ابولہب کے بارے میں کیا بیان ہوا؟

ترجمہ

ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہو جائے۔

اس آیت میں ابولہب کی ہلاکت اور بربادی کا اعلان کیا گیا ہے۔

اہم نکات

1 تَبَّتْ — ٹوٹ جائیں، برباد ہو جائیں۔
2 یَدَا — دونوں ہاتھ — ہاتھ سے مراد اس کی طاقت، کوشش اور سازشیں ہیں۔
3 وَّتَبَّ — اور وہ خود بھی ہلاک ہو جائے — یعنی صرف کوششیں نہیں، وہ خود بھی برباد ہوا۔
4 اصل نام — اس کا نام عبد العزیٰ تھا؛ سرخ و سفید رنگت کی وجہ سے اسے ابولہب کہا جاتا تھا۔
5 رشتہ — وہ نبی کریم ﷺ کا چچا تھا، مگر دعوتِ اسلام کے بعد آپ ﷺ کا سخت دشمن بن گیا۔
جواب شانِ نزول — صفا پہاڑی پر اعلانیہ دعوت کے موقعے پر ابولہب نے نبی کریم ﷺ سے گستاخی کی، جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (صحیح بخاری: 4801)
7 مختصر جوابات

مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ (سورۃ اللھب ۔ آیت 2)

آیتِ کریمہ کی رو سے ابولہب کے کیا چیز کام نہ آئی؟

ترجمہ

نہ اس کا مال اس کے کچھ کام آیا اور نہ (وہ) جو اس نے کمایا۔

ابولہب کا مال اور اس کی کمائی — دونوں اس کے کچھ کام نہ آئے۔

اہم نکات

1 مَالُهٗ — اس کا جمع کیا ہوا مال و دولت۔
2 وَمَا كَسَبَ — اور جو کچھ اس نے کمایا — اس میں اولاد، جاہ اور اثر و رسوخ سب شامل ہیں۔
3 عذاب نہ ٹل سکا — مال اور خاندانی وجاہت کے باوجود وہ اللہ کی پکڑ سے نہ بچ سکا۔
4 مؤمن سے فرق — ایمان والوں کے نیک اعمال اور اللہ کی راہ میں دیا ہوا مال آخرت میں کام آئے گا۔
5 سبق — مال اسی وقت نفع دیتا ہے جب ایمان کے ساتھ اور اللہ کی راہ میں خرچ ہو۔
8 مختصر جوابات

سَيَصۡلَىٰ نَارٗا ذَاتَ لَهَبٖ (سورۃ اللھب ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ میں ابولہب کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

عنقریب وہ شعلوں والی آگ میں جلے گا۔

اس آیت میں ابولہب کا انجام یہ بیان ہوا کہ وہ شعلوں والی آگ یعنی جہنم میں داخل ہو گا۔

اہم نکات

1 سَیَصْلٰى — عنقریب وہ داخل ہو گا اور جلے گا۔
2 نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ — شعلوں والی آگ — یعنی بھڑکتی ہوئی جہنم کی آگ۔
3 نام سے مناسبت — جس کا نام «ابولہب» (شعلے والا) تھا، اسی کا ٹھکانا شعلوں والی آگ ٹھہرا۔
4 قطعی خبر — یہ اس کے کافر ہی مرنے کی صریح پیش گوئی تھی، جو حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
5 سبق — نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔
9 مختصر جوابات

وَٱمۡرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلۡحَطَبِ (سورۃ اللھب ۔ آیت 4)

آیتِ کریمہ میں گستاخ عورت کی کیا حالت بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

اور اس کی بیوی (بھی) لکڑیاں اٹھائے پھرتی رہنے والی (ہو گی)۔

ابولہب کی بیوی اُمِّ جمیل کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ لکڑیاں (ایندھن) اٹھائے پھرتی رہنے والی ہو گی۔

اہم نکات

1 حَمَّالَة — اٹھائے پھرتی رہنے والی — یہ مبالغے کا صیغہ ہے۔
2 اَلْحَطَب — لکڑیاں یعنی ایندھن۔
3 دنیا میں اس کا عمل — وہ نبی کریم ﷺ کے راستے میں کانٹے دار جھاڑیاں ڈالتی تھی تاکہ آپ ﷺ کو تکلیف پہنچے۔
4 چغل خوری — وہ لوگوں کو آپ ﷺ کے خلاف بہکاتی اور ادھر اُدھر کی باتیں پہنچاتی تھی۔
5 آخرت میں سزا — جو دنیا میں تکلیف پہنچانے کے لیے لکڑیاں اٹھاتی تھی، وہ جہنم میں اپنے ہی عذاب کا ایندھن اٹھائے گی۔
10 مختصر جوابات

فِي جِيدِهَا حَبۡلٞ مِّن مَّسَدِۭ (سورۃ اللھب ۔ آیت 5)

آیتِ کریمہ میں کس کی طرف اشارہ ہے؟

ترجمہ

اس کی گردن میں کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی ہو گی۔

اس آیت میں ابولہب کی بیوی اُمِّ جمیل کی طرف اشارہ ہے، یعنی اس کی گردن میں کھجور کی چھال کی رسی ہو گی۔

اہم نکات

1 جِیْدِهَا — اس کی گردن — ضمیر «هَا» مؤنث کی ہے، اس لیے اشارہ ابولہب کی بیوی کی طرف ہے۔
2 حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ — کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی۔
3 عملِ دنیا سے مناسبت — وہ گردن جس پر وہ ایندھن کی گٹھڑی لاد کر لاتی تھی، اسی میں رسی ڈالی جائے گی۔
4 زیور کے برعکس — دنیا میں وہ اپنے قیمتی ہار پر فخر کرتی تھی؛ آخرت میں اس کے گلے میں یہ رسی ہو گی۔
5 سبق — آخرت میں انسان کا انجام اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق ہو گا۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

تَبَّتۡ يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ سَيَصۡلَىٰ نَارٗا ذَاتَ لَهَبٖ (سورۃ اللھب ۔ آیات 1 تا 5)

سورۃ اللھب کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہو جائے۔ نہ اس کا مال اس کے کچھ کام آیا اور نہ (وہ) جو اس نے کمایا۔ عنقریب وہ شعلوں والی آگ میں جلے گا۔

وَٱمۡرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلۡحَطَبِ فِي جِيدِهَا حَبۡلٞ مِّن مَّسَدِۭ سورۃ اللھب ۔ آیات 4 اور 5 اور اس کی بیوی (بھی) لکڑیاں اٹھائے پھرتی رہنے والی (ہو گی)۔ اس کی گردن میں کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی ہو گی۔

لفظی وضاحت اور اہم نکات

1 لفظی وضاحت — تَبَّتْ — ٹوٹ جائیں، برباد ہو جائیں۔
2 لفظی وضاحت — یَدَا — دونوں ہاتھ۔
3 لفظی وضاحت — مَاۤ اَغْنٰى — کام نہ آیا، کچھ فائدہ نہ دیا۔
4 لفظی وضاحت — ذَاتَ لَهَبٍ — شعلوں والی۔
5 لفظی وضاحت — حَمَّالَةَ — اٹھائے پھرتی رہنے والی۔
6 لفظی وضاحت — اَلْحَطَب — لکڑیاں (ایندھن)۔
7 لفظی وضاحت — حَبْلٌ — رسی۔
8 لفظی وضاحت — جِیْدِهَا — اس کی گردن۔
9 لفظی وضاحت — مَسَد — کھجور کی چھال۔
10 اہم نکات — پہلی آیت — ابولہب کی ہلاکت کا اعلان۔
11 اہم نکات — دوسری آیت — مال اور کمائی کے بے فائدہ ہونے کا بیان۔
12 اہم نکات — تیسری آیت — جہنم کی شعلوں والی آگ کی خبر۔
13 اہم نکات — چوتھی اور پانچویں آیت — اس کی بیوی اُمِّ جمیل کے جرم اور سزا کا ذکر۔
14 اہم نکات — اسلوب — دنیا کے عمل اور آخرت کی سزا میں مناسبت رکھی گئی ہے — لکڑیاں اٹھانے والی کے گلے میں رسی۔
12 تفصیلی جوابات

سَيَصۡلَىٰ نَارٗا ذَاتَ لَهَبٖ

سورۃ اللھب کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ اللھب مکی سورت ہے۔ اس سورت میں «لَهَب» کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی شعلے کے ہیں، اور اسی مناسبت سے اس کا نام «اللھب» ہے۔

وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات

1 وجہِ تسمیہ — اس سورت میں ابولہب اور اس کی بیوی کا ذکر ہے، اور «لَهَب» (شعلہ) کا لفظ اس میں آیا ہے۔ اس کا ایک نام «تَبَّتْ» اور «اَلْمَسَد» بھی ہے، کیوں کہ یہ تینوں الفاظ اسی سورت میں آئے ہیں۔
2 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید میں یہ 111ویں سورت ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے چھٹے نمبر پر ہے۔
3 تعارفی معلومات — نوعیت — یہ مکی سورت ہے۔
4 تعارفی معلومات — آیات و رکوع — اس کی آیات کی تعداد 5 اور رکوع 1 ہے۔
5 تعارفی معلومات — امتیازی خصوصیت — یہ واحد سورت ہے جس میں نبی کریم ﷺ کے کسی مخالف کا نام لے کر اس کے انجام کی خبر دی گئی۔
جواب مرکزی مضمون — دشمنانِ دین کا برا انجام۔
13 تفصیلی جوابات

تَبَّتۡ يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ

سورۃ اللھب کا شانِ نزول اور بنیادی مضامین تحریر کریں۔

ابولہب نبی کریم ﷺ کا چچا تھا، جو دعوتِ اسلام کے بعد آپ ﷺ کا دشمن ہو گیا تھا اور طرح طرح سے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچاتا تھا۔ ابولہب کی طرف سے رسول کریم ﷺ کی گستاخی کرنے پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔

1 واقعۂ صفا — جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اعلانیہ اسلام کی دعوت دینے کا حکم فرمایا تو آپ ﷺ پہلی بار اپنے خاندان کو دعوت دینے کے لیے صفا کی پہاڑی پر تشریف لے گئے اور اُس زمانے کے طریقے کے مطابق قریش کے قبائل کو پکار کر جمع فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمھاری کیا رائے ہے، اگر میں تمھیں بتاؤں کہ دشمن صبح یا شام تم پر حملہ کرنے والا ہے، تو کیا تم میری بات کی تصدیق نہیں کرو گے؟ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کی تصدیق کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں شدید عذاب آنے سے پہلے تمھیں ڈرانے والا ہوں۔ اس پر ابولہب نے گستاخانہ جملہ کہا (معاذ اللہ)، اور اللہ تعالیٰ نے آیت «تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّتَبَّ» نازل فرمائی۔ (صحیح بخاری: 4801)
2 بنیادی مضامین — پہلا مضمون — ابولہب اور اس کی بیوی اُمِّ جمیل کی سخت مذمت۔
3 بنیادی مضامین — دوسرا مضمون — اُمِّ جمیل کا لوگوں کو آپ ﷺ کے خلاف بہکانا اور آپ ﷺ کو تکالیف پہنچانے کا بیان۔
4 بنیادی مضامین — تیسرا مضمون — ابولہب اور اس کی بیوی کو دنیا و آخرت میں شدید عذاب کی عبرت ناک خبر کا بیان۔
5 بنیادی مضامین — چوتھا مضمون — رسول ﷺ کے دشمنوں کے انجام کا بیان۔
6 علم و عمل کی باتیں — اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کے گستاخوں کو عبرت ناک سزا کی خبر دیتا ہے؛ ایسے لوگ دنیا و آخرت میں تباہ اور برباد ہونے والے ہیں۔
7 علم و عمل کی باتیں — ایمان والوں کے نیک اعمال اور ان کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا ہوا مال آخرت میں کام آئے گا۔
8 علم و عمل کی باتیں — انبیائے کرام علیہم السلام اور بالخصوص نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔
9 علم و عمل کی باتیں — اسلام قبول نہ کرنے والوں اور اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے لیے بہت ہی برا انجام ہے۔
10 علم و عمل کی باتیں — آخرت میں انسان کا انجام اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق ہو گا۔
14 تفصیلی جوابات

سَيَصۡلَىٰ نَارٗا ذَاتَ لَهَبٖ

اسمِ موصول کی تعریف کریں اور اس کی تین مثالیں تلاش کریں۔

عربی زبان میں اسمِ موصول وہ لفظ ہوتا ہے جو جملے میں کسی اسم کی وضاحت یا تفصیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

1 تین مثالیں — 1۔ اَلَّذِيْ (واحد مذکر) — «اَلَّذِيْ یُوَسْوِسُ» — جو وسوسہ ڈالتا ہے۔
2 تین مثالیں — 2۔ اَلَّتِيْ (واحد مؤنث) — «اَلَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا» — جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔
3 تین مثالیں — 3۔ اَلَّذِیْنَ (جمع مذکر) — «اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا» — جو ایمان لائے۔
4 اسماءِ موصولہ کا مکمل نقشہ — واحد مذکر — اَلَّذِيْ — «اَلَّذِيْ یُوَسْوِسُ» — جو وسوسہ ڈالتا ہے۔
5 اسماءِ موصولہ کا مکمل نقشہ — واحد مؤنث — اَلَّتِيْ — «اَلَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا» — جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔
6 اسماءِ موصولہ کا مکمل نقشہ — جمع مذکر — اَلَّذِیْنَ — «اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا» — جو ایمان لائے۔
7 اسماءِ موصولہ کا مکمل نقشہ — جمع مؤنث — الّٰتِيْ — «وَرَبَآئِبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ» — اور تمھارے زیرِ تربیت لڑکیاں جو تمھاری پرورش میں ہیں۔
8 اسماءِ موصولہ کا مکمل نقشہ — غیر عاقل و مفعول — مَا — «فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ» — تمھیں جو کچھ بھی عطا فرمایا گیا ہے۔
9 اسماءِ موصولہ کا مکمل نقشہ — انسان — مَنْ — «مَنْ یُّطِعِ اللهَ وَالرَّسُوْلَ» — جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے۔
10 اسماءِ موصولہ کا مکمل نقشہ — انتخاب — اَيُّ — «اَيُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ» — کون سا گروہ امن کا زیادہ حق دار ہے؟
11 یاد رہے — صلہ ضروری ہے — اسمِ موصول اکیلا مکمل معنی نہیں دیتا؛ اس کے بعد آنے والا جملہ «صلہ» کہلاتا ہے، اور دونوں مل کر ایک جز بنتے ہیں۔
12 یاد رہے — معرفہ ہونا — اسمِ موصول ہمیشہ معرفہ ہوتا ہے؛ یہ اسم معرفہ کی چوتھی قسم ہے۔
13 یاد رہے — عاقل و غیر عاقل — «مَنْ» عموماً انسان کے لیے اور «مَا» غیر عاقل چیزوں کے لیے آتا ہے۔
14 یاد رہے — اس سبق میں — سورۃ اللھب میں کوئی اسمِ موصول نہیں آیا؛ اوپر کی تمام مثالیں دوسری سورتوں سے ہیں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

وا؟ تَبَّتۡ يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ

نجات کا ذریعہ بننے والے اعمال کی فہرست بنا کر اپنا جائزہ لیں۔

سورۃ اللھب بتاتی ہے کہ ابولہب کا مال اور کمائی اس کے کام نہ آئی۔ اس کے برعکس وہ اعمال جو آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتے ہیں، درج ذیل ہیں:

1 بنیاد — عقیدہ — ایمان اور توحید — خالص ایمان ہی وہ اصل سرمایہ ہے جس کے بغیر کوئی عمل نفع نہیں دیتا۔
2 بنیاد — عقیدہ — نبی کریم ﷺ سے محبت و ادب — آپ ﷺ کی اطاعت اور آپ کے ادب و احترام کا اہتمام۔
3 بنیاد — عقیدہ — اخلاص — ہر عمل صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، دکھاوے کے لیے نہیں۔
4 عبادات — نماز — پانچوں نمازیں وقت پر اور آداب کے ساتھ۔
5 عبادات — روزہ، زکوٰۃ اور حج — فرائض کی پابندی۔
6 عبادات — تلاوت و ذکر — قرآنِ مجید کی تلاوت، تسبیح، تحمید اور استغفار۔
7 عبادات — توبہ — گناہ ہو جائے تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا۔
8 حقوق العباد اور اخلاق — والدین کی خدمت — ان کی اطاعت، خدمت اور ان کے لیے دعا۔
9 حقوق العباد اور اخلاق — صدقہ و خیرات — اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا — یہی مال آخرت میں کام آئے گا۔
10 حقوق العباد اور اخلاق — یتیم و مسکین کی مدد — کمزوروں کے ساتھ ہمدردی اور تعاون۔
11 حقوق العباد اور اخلاق — حسنِ اخلاق — سچ بولنا، وعدہ نبھانا، امانت داری اور نرم گفتاری۔
12 حقوق العباد اور اخلاق — زبان کی حفاظت — چغلی، غیبت اور طعنہ زنی سے بچنا — یہی اُمِّ جمیل کا جرم تھا۔
13 حقوق العباد اور اخلاق — صدقۂ جاریہ — علم پھیلانا، نیک اولاد اور وہ کام جن کا نفع مرنے کے بعد بھی جاری رہے۔
جواب اپنا جائزہ کیسے لیں — ایک کاپی میں ان اعمال کی فہرست بنائیں اور ہر رات سونے سے پہلے دیکھیں کہ آج کون سے اعمال ادا ہوئے اور کن میں کوتاہی رہی۔ جہاں کمی نظر آئے، وہاں کل کے لیے ارادہ مضبوط کریں اور استغفار کریں۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ

سورۃ اللھب سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

اس سورت سے کئی اہم اسباق ملتے ہیں؛ مزید وضاحت کے لیے اپنے اساتذہ کرام سے رہنمائی لیں۔

1 عقیدے کے اسباق — رشتہ داری کافی نہیں — ابولہب نبی کریم ﷺ کا سگا چچا تھا، مگر ایمان کے بغیر یہ قرابت اس کے کام نہ آئی۔
2 عقیدے کے اسباق — نجات کی بنیاد ایمان ہے — مال، خاندان اور جاہ — کوئی چیز ایمان کا بدل نہیں بن سکتی۔
3 عقیدے کے اسباق — قرآن کی سچائی — یہ سورت اس کے مرنے سے برسوں پہلے نازل ہوئی اور اس کے کافر مرنے کی خبر دی، جو حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
4 کردار کے اسباق — گستاخی کا انجام — نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔
5 کردار کے اسباق — زبان کی حفاظت — اُمِّ جمیل کا بڑا جرم چغلی اور لوگوں کو بہکانا تھا۔
6 کردار کے اسباق — ایذا رسانی سے بچنا — کسی کے راستے میں تکلیف دہ چیز ڈالنا سخت گناہ ہے۔
7 کردار کے اسباق — مال کا صحیح مصرف — مال اسی وقت نفع دیتا ہے جب اللہ کی راہ میں خرچ ہو۔
8 اہلِ ایمان کے لیے تسلی — اللہ کا دفاع — اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی ﷺ کی عزت کا دفاع فرماتا ہے۔
9 اہلِ ایمان کے لیے تسلی — حق کا غلبہ — مخالفت کتنی ہی شدید ہو، انجام حق ہی کے حق میں ہوتا ہے۔
10 اہلِ ایمان کے لیے تسلی — صبر — دعوتِ دین میں تکلیفیں آتی ہیں، ان پر صبر کرنا چاہیے۔
جواب خلاصہ — آخرت میں انسان کا انجام اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق ہو گا، نہ کہ اس کے نسب یا مال کے مطابق۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

17 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وا؟ تَبَّتۡ يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ

ابولہب کی بیوی کے لکڑیاں اٹھانے والی ہونے اور اس کی گردن میں رسی ہونے کی وضاحت کریں۔

ترجمہ

اور اس کی بیوی (بھی) لکڑیاں اٹھائے پھرتی رہنے والی (ہو گی)۔ اس کی گردن میں کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی ہو گی۔

ابولہب کی بیوی کا نام اُمِّ جمیل تھا۔ ان دونوں آیتوں میں اس کے جرم اور اس کی سزا کو ایک ہی تصویر میں جوڑ دیا گیا ہے۔

حَمَّالَةَ الْحَطَبِ کی وضاحت اور حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ کی وضاحت

1 حَمَّالَةَ الْحَطَبِ کی وضاحت — لفظی معنی — «حَمَّالَة» یعنی بہت زیادہ اٹھانے والی، اور «اَلْحَطَب» یعنی لکڑیاں یا ایندھن۔
2 حَمَّالَةَ الْحَطَبِ کی وضاحت — پہلا مفہوم — ایذا رسانی — وہ کانٹے دار جھاڑیاں اور لکڑیاں اٹھا کر نبی کریم ﷺ کے راستے میں ڈال دیتی تھی تاکہ آپ ﷺ کو تکلیف پہنچے۔
3 حَمَّالَةَ الْحَطَبِ کی وضاحت — دوسرا مفہوم — چغل خوری — عربی میں چغلی کرنے والے کو بھی «لکڑیاں اٹھانے والا» کہا جاتا ہے، کیوں کہ وہ ادھر کی بات ادھر لگا کر فتنے کی آگ بھڑکاتا ہے۔ وہ لوگوں کو آپ ﷺ کے خلاف بہکاتی تھی۔
4 حَمَّالَةَ الْحَطَبِ کی وضاحت — تیسرا مفہوم — آخرت کی سزا — جو دنیا میں تکلیف پہنچانے کے لیے ایندھن اٹھاتی تھی، وہ جہنم میں اپنے ہی عذاب کا ایندھن اٹھائے گی۔
5 حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ کی وضاحت — لفظی معنی — «حَبْل» رسی اور «مَسَد» کھجور کی چھال، جس سے موٹی رسی بٹی جاتی ہے۔
6 حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ کی وضاحت — گردن کا ذکر کیوں — یہی وہ گردن ہے جس پر وہ ایندھن کی گٹھڑی لاد کر لاتی تھی۔
7 حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ کی وضاحت — زیور کے مقابل — روایات میں ہے کہ وہ اپنے قیمتی ہار پر فخر کرتی تھی؛ آخرت میں اس کے گلے میں یہ کھردری رسی ہو گی۔
8 حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ کی وضاحت — سزا کی مناسبت — قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ سزا کو جرم کے مشابہ بنا کر بیان کیا جاتا ہے۔
جواب حاصل — اس سے معلوم ہوا کہ دوسروں کو تکلیف پہنچانا اور چغلی کر کے فتنہ بھڑکانا اتنا بڑا جرم ہے کہ قرآن نے اسے ہمیشہ کے لیے عبرت بنا دیا۔ ہمیں اپنے ہاتھ اور زبان دونوں سے دوسروں کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ

رسول اللہ ﷺ کے تین دشمنوں کے نام اور ان کا انجام بیان کریں۔

قرآنِ مجید اور سیرت کی کتابوں میں ایسے کئی مخالفین کا ذکر ہے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کو ایذا پہنچائی اور عبرت ناک انجام کو پہنچے۔ تین نمایاں نام درج ذیل ہیں:

تین نام اور ان کا انجام اور مشترکہ نتائج

1 تین نام اور ان کا انجام — 1۔ ابولہب — آپ ﷺ کا چچا، جو دعوتِ اسلام کے بعد سخت ترین دشمن بن گیا۔ اسی سورت میں اس کی ہلاکت اور جہنم کی خبر دی گئی۔ غزوۂ بدر میں قریش کی شکست کی خبر سننے کے چند دن بعد وہ ایک بیماری میں مبتلا ہو کر ذلت کے ساتھ مر گیا۔
2 تین نام اور ان کا انجام — 2۔ ابوجہل — قریش کا سردار، جس نے آپ ﷺ اور صحابہ کرام پر بے شمار مظالم ڈھائے اور آپ ﷺ کو حالتِ سجدہ میں اذیت دینے کی کوشش کی۔ غزوۂ بدر میں دو کم سن انصاری لڑکوں کے ہاتھوں مارا گیا۔
3 تین نام اور ان کا انجام — 3۔ عاص بن وائل — اسی نے آپ ﷺ کے صاحب زادوں کے انتقال پر آپ کو «ابتر» ہونے کا طعنہ دیا تھا، جس کے جواب میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی اور اعلان ہوا کہ بے نام و نشان وہی رہے گا۔
4 مشترکہ نتائج — وعدۂ الٰہی کا پورا ہونا — قرآن نے جو خبریں دیں، وہ حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔
5 مشترکہ نتائج — نام مٹ گئے — ان کے نام آج صرف عبرت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں، جبکہ آپ ﷺ کا ذکر ہر اذان میں بلند ہوتا ہے۔
6 مشترکہ نتائج — اہلِ ایمان کے لیے تسلی — حق پر ہونے والوں کو مخالفت سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
7 مشترکہ نتائج — ہمارے لیے سبق — اپنی زبان اور قلم کو گستاخی سے محفوظ رکھنا اور آپ ﷺ کا ادب ملحوظ رکھنا۔
19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

سَيَصۡلَىٰ نَارٗا ذَاتَ لَهَبٖ

اسماءِ موصولہ کو قرآنی مثالوں سے واضح کریں۔

اسمِ موصول وہ لفظ ہے جو جملے میں کسی اسم کی وضاحت یا تفصیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ذیل میں ہر اسمِ موصول کی قرآنی مثال حوالے کے ساتھ دی جا رہی ہے۔

1 قرآنی مثالیں — اَلَّذِيْ (واحد مذکر) — «ٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ» — جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (سورۃ الناس ۔ آیت 5)
2 قرآنی مثالیں — اَلَّتِيْ (واحد مؤنث) — «وَٱلَّتِيٓ أَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا» — اور وہ (خاتون) جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی۔ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 91)
3 قرآنی مثالیں — اَلَّذِیْنَ (جمع مذکر) — «ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ» — جو ایمان لائے۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 257)
4 قرآنی مثالیں — الّٰتِيْ (جمع مؤنث) — «وَرَبَـٰٓئِبُكُمُ ٱلَّـٰتِي فِي حُجُورِكُم» — اور تمھاری وہ زیرِ تربیت لڑکیاں جو تمھاری پرورش میں ہیں۔ (سورۃ النساء ۔ آیت 23)
5 قرآنی مثالیں — مَا (غیر عاقل، مفعول) — «فَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَيۡءٖ» — تمھیں جو کچھ بھی عطا کیا گیا ہے۔ (سورۃ الشوریٰ ۔ آیت 36)
6 قرآنی مثالیں — مَنْ (انسان) — «وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ» — اور جو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرے۔ (سورۃ النساء ۔ آیت 69)
7 قرآنی مثالیں — اَيُّ (انتخاب) — «فَأَيُّ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ أَحَقُّ بِٱلۡأَمۡنِ» — تو دونوں گروہوں میں سے کون امن کا زیادہ حق دار ہے؟ (سورۃ الانعام ۔ آیت 81)
8 صلہ کیا ہے — اسمِ موصول کے بعد آنے والا جملہ «صلہ» کہلاتا ہے۔ مثلاً «اَلَّذِيْ یُوَسْوِسُ» میں «اَلَّذِيْ» موصول ہے اور «یُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِ» اس کا صلہ ہے۔ موصول اور صلہ مل کر ہی مکمل معنی دیتے ہیں۔
9 یاد رکھنے کی باتیں — عاقل و غیر عاقل — «مَنْ» عموماً انسانوں کے لیے اور «مَا» غیر عاقل چیزوں کے لیے آتا ہے۔
10 یاد رکھنے کی باتیں — اَيُّ کی خصوصیت — یہ انتخاب یعنی دو یا زیادہ میں سے کسی ایک کو چھانٹنے کے لیے آتا ہے۔
11 یاد رکھنے کی باتیں — معرفہ ہونا — اسمِ موصول ہمیشہ معرفہ ہوتا ہے اور اسم معرفہ کی چوتھی قسم ہے۔
12 یاد رکھنے کی باتیں — پچھلے اسباق سے ربط — اسمِ علم (سبق 13)، اسمِ اشارہ قریب (سبق 16) اور اسمِ اشارہ بعید (سبق 17) کے بعد یہ اسم معرفہ کی ایک اور قسم ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.