چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 20: سبق 20: سورۃ الفلق اور سورۃ الناس (آیات: 1 تا 5 اور 1 تا 6) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 19 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ (سورۃ الفلق ۔ آیت 1)

«اَلْفَلَق» کے معنی ہیں:

الف) صبح • ب) شام • ج) دن • د) رات

جواب الف) صبح — سبق کی ذخیرۃ الفاظ میں «اَلْفَلَق» کا معنی «صبح» دیا گیا ہے۔ یہ لفظ سورۃ الفلق کی پہلی آیت میں آیا ہے، اسی مناسبت سے سورت کا نام «سورۃ الفلق» ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (سورۃ الفلق ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ میں کس شر سے پناہ مانگی گئی ہے؟

الف) حسد کرنے والوں کے • ب) اندھیری رات کے • ج) شیطان کے • د) پھونکیں مارنے والوں کے

جواب ب) اندھیری رات کے — «غَاسِق» چھا جانے والے اندھیرے کو کہتے ہیں اور «وَقَبَ» یعنی وہ چھا گیا۔ آیت کا مفہوم ہے: اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (سورۃ الفلق ۔ آیت 3)

«وَقَبَ» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) فعل • ب) اسم • ج) حرف • د) ضمیر

جواب الف) فعل — «وَقَبَ» فعلِ ماضی صیغۂ واحد مذکر غائب ہے، یعنی «وہ چھا گیا»۔ فعل کسی کام کے ہونے پر دلالت کرتا ہے اور اس کے ساتھ زمانہ بھی پایا جاتا ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (سورۃ الفلق ۔ آیت 3)

«وَقَبَ» کے معنی ہیں:

الف) روشنی دینا • ب) چھا جانا • ج) سکڑنا • د) جھکنا

جواب ب) چھا جانا — سبق کی ذخیرۃ الفاظ میں «وَقَبَ» کا معنی «وہ چھا گیا» دیا گیا ہے، یعنی اندھیرا پھیل جانا اور ہر طرف چھا جانا۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَٰتِ فِي ٱلۡعُقَدِ (سورۃ الفلق ۔ آیت 4)

آیتِ کریمہ میں پناہ مانگی گئی ہے:

الف) حسد کرنے والوں سے • ب) اندھیری رات کے شر سے • ج) شیطان کے شر سے • د) پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے

جواب د) پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے — «اَلنَّفّٰثٰت» پھونکیں مارنے والیوں کو کہتے ہیں اور «اَلْعُقَد» گرہوں کو۔ مراد وہ لوگ ہیں جو جادو کے لیے گرہوں پر پھونکیں مارتے ہیں۔ حسد کرنے والوں کا ذکر اگلی آیت (5) میں ہے۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ

نظر اور جادو ٹونے سے بچنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے کون سی دو سورتیں سکھائی ہیں؟

رسول اللہ ﷺ نے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس سکھائی ہیں، جنہیں مل کر «معوذتین» یعنی دو پناہ دینے والی سورتیں کہا جاتا ہے۔

اہم نکات

1 مشترکہ نام — قرآنِ مجید کی ان دو آخری سورتوں کا مشترکہ نام «مُعَوِّذَتَیْن» (دو پناہ دینے والی) ہے۔
2 ہر فرض نماز کے بعد — احادیثِ مبارکہ میں ان دونوں سورتوں کو ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے کی تلقین آئی ہے۔
3 سونے سے پہلے — رات کو سونے سے پہلے بھی ان کے پڑھنے کا حکم ہے۔ (جامع ترمذی: 2903)
4 بیماری میں دم — آپ ﷺ طبیعت کی ناسازی کے موقع پر بھی ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر دم فرمایا کرتے تھے۔
5 مسنون طریقہ — نظر اور جادو دونوں سے بچنے کے لیے ہمیں آپ ﷺ کے اسی مسنون طریقے کو اختیار کرنا چاہیے۔
جواب فرمانِ نبوی ﷺ — اُمُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں پر «قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ» اور معوذتین پڑھ کر پھونکتے، پھر ان کو اپنے چہرے اور جسم پر جہاں تک ہاتھ پہنچ جاتا پھیر لیتے۔ (صحیح بخاری: 5017)
7 مختصر جوابات

وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (سورۃ الفلق ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ میں کس چیز کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے؟

ترجمہ

اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔

اس آیت میں چھا جانے والے اندھیرے یعنی اندھیری رات کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔

اہم نکات

1 غَاسِق — چھا جانے والا اندھیرا۔
2 وَقَبَ — وہ چھا گیا، یعنی اندھیرا ہر طرف پھیل گیا۔
3 رات کیوں؟ — رات کے اندھیرے میں موذی جانور نکلتے ہیں، چور اور شریر لوگ سرگرم ہوتے ہیں اور انسان زیادہ بے بس ہوتا ہے۔
4 باہر کی برائیاں — سورۃ الفلق میں باہر کی برائیوں سے پناہ مانگی گئی ہے، جیسے اندھیری رات، جادو اور حسد۔
5 اصل پناہ — ہر شر سے بچنے کی اصل صورت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی جائے۔
8 مختصر جوابات

قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ مَلِكِ ٱلنَّاسِ إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ (سورۃ الناس ۔ آیات 1 تا 3)

آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی صفات بیان ہوئی ہیں؟

ترجمہ

آپ (ﷺ) فرما دیجیے کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ لوگوں کے بادشاہ کی۔ لوگوں کے معبود کی۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان ہوئی ہیں: رَبُّ النَّاس، مَلِكُ النَّاس اور اِلٰهُ النَّاس۔

تین صفات

1 رَبِّ النَّاسِ — لوگوں کا رب — پالنے والا، پرورش کرنے والا اور ہر ضرورت پوری کرنے والا۔
2 مَلِكِ النَّاسِ — لوگوں کا بادشاہ — جس کا حکم چلتا ہے اور جو سب پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔
3 اِلٰهِ النَّاسِ — لوگوں کا معبود — جو عبادت کے لائق ہے۔
4 ترتیب کی حکمت — پہلے پرورش، پھر بادشاہت، پھر معبودیت — یعنی جو پالتا ہے، وہی حکم چلاتا ہے، اور وہی عبادت کے لائق ہے۔
5 پناہ کی مضبوطی — شیطان جیسے چھپے دشمن سے بچنے کے لیے ایسی ہی زبردست ذات کی پناہ درکار ہے۔
9 مختصر جوابات

مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ (سورۃ الناس ۔ آیت 4)

آیتِ کریمہ میں کس کے شر کا ذکر ہے؟

ترجمہ

وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے۔

اس آیت میں شیطان کے شر کا ذکر ہے، جو وسوسہ ڈالتا ہے اور پھر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

اہم نکات

1 اَلْوَسْوَاس — وسوسہ ڈالنے والا — یعنی دل میں چپکے سے برا خیال ڈالنے والا۔
2 اَلْخَنَّاس — پیچھے ہٹ جانے والا — جب بندہ اللہ کا ذکر کرے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور غفلت ہو تو پھر آ جاتا ہے۔
3 اندر کی برائیاں — سورۃ الناس میں ہمارے اندر کی برائیوں یعنی شیطان اور اس کے وسوسے سے پناہ مانگی گئی ہے۔
4 سب سے بڑا دشمن — شیطان ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے، جو لوگوں کے دلوں میں برائی کا خیال ڈالتا رہتا ہے۔
5 بچاؤ کا طریقہ — ذکرِ الٰہی اور «اَعُوْذُ بِاللهِ» کہنا — اسی سے وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
10 مختصر جوابات

ٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ (سورۃ الناس ۔ آیات 5 تا 6)

آیتِ کریمہ کی رو سے شیطان کہاں وسوسہ ڈالتا ہے؟

ترجمہ

جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (چاہے وہ) جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

شیطان لوگوں کے سینوں یعنی دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

اہم نکات

1 صُدُوْرِ النَّاسِ — لوگوں کے سینے، یعنی دل — جہاں سے ارادہ اور نیت جنم لیتی ہے۔
2 حملے کی جگہ — شیطان باہر سے نہیں، بلکہ خیالات کے راستے اندر سے حملہ کرتا ہے۔
3 دو قسم کے شیطان — آخری آیت بتاتی ہے کہ وسوسہ ڈالنے والے جنات میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی۔
4 انسانی شیطان — برے انسان اور برے جنات شیطان کے دوست بن جاتے ہیں، اور بری باتیں سکھا کر گمراہ کرتے ہیں۔
5 احتیاط — اسی لیے اچھی صحبت اختیار کرنا اور بری صحبت سے بچنا ضروری ہے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ مَلِكِ ٱلنَّاسِ إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ (سورۃ الناس ۔ آیات 1 تا 6)

سورۃ الناس کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

آپ (ﷺ) فرما دیجیے کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ لوگوں کے بادشاہ کی۔ لوگوں کے معبود کی۔

مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ ٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ سورۃ الناس ۔ آیات 4 تا 6 وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (چاہے وہ) جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

لفظی وضاحت اور اہم نکات

1 لفظی وضاحت — اَعُوْذُ — میں پناہ میں آتا ہوں۔
2 لفظی وضاحت — رَبِّ النَّاسِ — لوگوں کا رب۔
3 لفظی وضاحت — مَلِكِ النَّاسِ — لوگوں کا بادشاہ۔
4 لفظی وضاحت — اِلٰهِ النَّاسِ — لوگوں کا معبود۔
5 لفظی وضاحت — اَلْوَسْوَاس — وسوسہ ڈالنے والا۔
6 لفظی وضاحت — اَلْخَنَّاس — پیچھے ہٹ جانے والا (شیطان)۔
7 لفظی وضاحت — صُدُوْر — سینے۔
8 لفظی وضاحت — اَلْجِنَّة — جنات۔
9 اہم نکات — پہلی تین آیات — جس ذات کی پناہ مانگی جا رہی ہے، اس کی تین صفات کا بیان۔
10 اہم نکات — چوتھی آیت — جس چیز سے پناہ مانگی جا رہی ہے، یعنی شیطان کا وسوسہ۔
11 اہم نکات — پانچویں آیت — وسوسے کی جگہ — لوگوں کے سینے۔
12 اہم نکات — چھٹی آیت — وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسمیں — جنات اور انسان۔
13 اہم نکات — «النَّاس» کی تکرار — یہ لفظ سورت میں پانچ بار آیا ہے، جو انسان کی کمزوری اور پناہ کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔
12 تفصیلی جوابات

قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ

معوذتین کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

قرآنِ مجید کی آخری دو سورتوں — سورۃ الفلق اور سورۃ الناس — کا مشترکہ نام «مُعَوِّذَتَیْن» یعنی دو پناہ دینے والی ہے۔ یہ دونوں سورتیں نبی کریم ﷺ پر مکی دور میں نازل ہوئیں۔

1 وجہِ تسمیہ — سورۃ الفلق — لفظ «اَلْفَلَق» اس کی پہلی آیت میں آیا ہے، جس کے معنی صبح کے ہیں؛ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الفلق ہے۔
2 وجہِ تسمیہ — سورۃ الناس — لفظ «اَلنَّاس» اس کی پہلی آیت میں ذکر ہوا ہے، جس کا معنی انسان ہے؛ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الناس ہے۔
3 وجہِ تسمیہ — معوذتین — دونوں کا مشترکہ نام، یعنی دو پناہ دینے والی سورتیں۔
4 تعارفی معلومات — سورۃ الفلق — قرآنِ مجید میں 113ویں سورت، ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 20ویں نمبر پر؛ آیات 5، رکوع 1۔
5 تعارفی معلومات — سورۃ الناس — قرآنِ مجید میں 114ویں سورت، ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 21ویں نمبر پر؛ آیات 6، رکوع 1۔
6 تعارفی معلومات — نوعیت — دونوں مکی سورتیں ہیں۔
7 تعارفی معلومات — اختتامِ قرآن — یہی دونوں قرآنِ مجید کی آخری سورتیں ہیں۔
8 مرکزی مضمون — دنیوی و اخروی شرور سے پناہ۔
جواب کیا آپ جانتے ہیں؟ — قرآنِ مجید کا آغاز بھی دعا یعنی سورۃ الفاتحہ سے ہوا ہے اور اختتام پر بھی ان دونوں سورتوں میں دعائیں سکھائی گئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کے حصول اور ہر شر سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مستقل دعا مانگنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
13 تفصیلی جوابات

مِن شَرِّ مَا خَلَقَ

معوذتین کے بنیادی مضامین تحریر کریں۔

معوذتین کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

دونوں سورتوں کا فرق اور علم و عمل کی باتیں

1 پہلا مضمون — یہ سورتیں جادو، شیطان، جنات اور ہر قسم کے شر سے بچنے کے لیے بہت اہم ہیں۔
2 دوسرا مضمون — ان سورتوں کے ذریعے ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرتے ہیں۔
3 تیسرا مضمون — سورۃ الفلق میں باہر کی برائیوں جیسے اندھیری رات، جادو اور حسد وغیرہ کی برائی اور نقصان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کی دعاؤں کا بیان ہے۔
4 چوتھا مضمون — سورۃ الناس میں ہمارے اندر کی برائیوں جیسے شیطان اور اس کے وسوسے کی برائی اور نقصان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کی دعاؤں کا بیان ہے۔
5 دونوں سورتوں کا فرق — سورۃ الفلق — باہر کے ظاہری شرور سے پناہ — مخلوق کا شر، اندھیری رات، جادو اور حسد۔
6 دونوں سورتوں کا فرق — سورۃ الناس — اندر کے پوشیدہ شر سے پناہ — شیطان کا وسوسہ، جو دل میں ڈالا جاتا ہے۔
7 علم و عمل کی باتیں — ہمیں ہر چیز کے شر سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
8 علم و عمل کی باتیں — جادو حرام ہے؛ جادو کرنا یا کروانا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
9 علم و عمل کی باتیں — ہمیں حسد کرنے والوں کے شر سے بچنے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔
10 علم و عمل کی باتیں — شیطان ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے؛ وہ لوگوں کے دلوں میں برائی کا خیال ڈالتا رہتا ہے۔
11 علم و عمل کی باتیں — برے انسان اور برے جنات شیطان کے دوست بن جاتے ہیں۔
جواب فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حسد سے بچو، کیوں کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ (سنن ابی داؤد: 4903)
14 تفصیلی جوابات

قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ

معوذتین میں فعلِ ماضی کی کوئی ایک مثال تلاش کریں اور اس کی گردان کریں۔

فعلِ ماضی وہ فعل ہے جو گزرے ہوئے زمانے میں کسی کام کے ہونے پر دلالت کرے۔ معوذتین میں اس کی تین مثالیں موجود ہیں: «خَلَقَ» (الفلق 2)، «وَقَبَ» (الفلق 3) اور «حَسَدَ» (الفلق 5)۔

1 منتخب مثال — خَلَقَ — «مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» یعنی ہر اس چیز کے شر سے جو اس (اللہ) نے پیدا فرمائی۔ «خَلَقَ» فعلِ ماضی، صیغۂ واحد مذکر غائب ہے۔
2 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — واحد مذکر غائب — خَلَقَ — اس (ایک مرد) نے پیدا کیا
3 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — تثنیہ مذکر غائب — خَلَقَا — ان (دو مردوں) نے پیدا کیا
4 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — جمع مذکر غائب — خَلَقُوْا — ان (سب مردوں) نے پیدا کیا
5 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — واحد مؤنث غائب — خَلَقَتْ — اس (ایک عورت) نے پیدا کیا
6 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — تثنیہ مؤنث غائب — خَلَقَتَا — ان (دو عورتوں) نے پیدا کیا
7 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — جمع مؤنث غائب — خَلَقْنَ — ان (سب عورتوں) نے پیدا کیا
8 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — واحد مذکر حاضر — خَلَقْتَ — تو (ایک مرد) نے پیدا کیا
9 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — تثنیہ مذکر حاضر — خَلَقْتُمَا — تم (دو مردوں) نے پیدا کیا
10 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — جمع مذکر حاضر — خَلَقْتُمْ — تم (سب مردوں) نے پیدا کیا
11 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — واحد مؤنث حاضر — خَلَقْتِ — تو (ایک عورت) نے پیدا کیا
12 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — تثنیہ مؤنث حاضر — خَلَقْتُمَا — تم (دو عورتوں) نے پیدا کیا
13 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — جمع مؤنث حاضر — خَلَقْتُنَّ — تم (سب عورتوں) نے پیدا کیا
14 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — واحد متکلم — خَلَقْتُ — میں نے پیدا کیا
15 گردانِ فعلِ ماضی — خَلَقَ — جمع متکلم — خَلَقْنَا — ہم نے پیدا کیا
16 یاد رہے — چودہ صیغے — فعلِ ماضی کی گردان میں کل چودہ صیغے ہوتے ہیں۔
17 یاد رہے — علامت — غائب کے صیغوں میں فعل کے آخر پر حرکت رہتی ہے، جبکہ حاضر اور متکلم میں «تَ، تُمَا، تُمْ، تِ، تُنَّ، تُ، نَا» جیسی ضمائر جڑ جاتی ہیں۔
18 یاد رہے — آیت میں معنی — یہاں فاعل اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے ترجمہ «اس (اللہ) نے پیدا فرمایا» کیا جاتا ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ

دیے گئے مواد میں سے اُن الفاظ کو الگ کر کے تحریر کریں جن کا تعلق سورۃ الفلق سے ہے۔

دیا گیا مواد: نمازوں کا حکم، رب کی پناہ، اندھیروں سے نکالنے والا، قیدیوں کے ساتھ سلوک، روشنی میں لانے والا، رب، فتح کی خبر، جادو کی مذمت، حسد کرنے والوں کی برائی سے پناہ مانگنا۔

سورۃ الفلق سے تعلق رکھنے والے الفاظ اور وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں

1 سورۃ الفلق سے تعلق رکھنے والے الفاظ — رب کی پناہ — آیت 1 — «قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ»۔
2 سورۃ الفلق سے تعلق رکھنے والے الفاظ — رب — اسی آیت میں «رَبِّ الْفَلَقِ» یعنی صبح کا رب۔
3 سورۃ الفلق سے تعلق رکھنے والے الفاظ — جادو کی مذمت — آیت 4 — «وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ» یعنی گرہوں میں پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے۔
4 سورۃ الفلق سے تعلق رکھنے والے الفاظ — حسد کرنے والوں کی برائی سے پناہ مانگنا — آیت 5 — «وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ»۔
5 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — نمازوں کا حکم — اس سورت میں نماز کا ذکر نہیں۔
6 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — اندھیروں سے نکالنے والا — یہ مضمون دوسری آیات کا ہے؛ سورۃ الفلق میں اندھیری رات کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے، اندھیروں سے نکالنے کا ذکر نہیں۔
7 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — روشنی میں لانے والا — اسی طرح یہ بھی اس سورت کا مضمون نہیں۔
8 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — قیدیوں کے ساتھ سلوک — اس سورت میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔
9 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — فتح کی خبر — یہ سورۃ النصر کا مضمون ہے۔
جواب نوٹ — «اَلْفَلَق» کا معنی صبح ہے، اس لیے روشنی کا تصور اس میں موجود ضرور ہے؛ مگر سورت کا مضمون روشنی میں لانا نہیں بلکہ شر سے پناہ مانگنا ہے۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ

دیے گئے مواد میں سے اُن الفاظ کو الگ کر کے تحریر کریں جن کا تعلق سورۃ الناس سے ہے۔

دیا گیا مواد: قربانی کا حکم، لوگوں کا معبود اور بادشاہ، شیطان کی وسوسہ اندازی، آخرت کی خبر، شیطان کو جھٹلانے والا، شیطان بار بار پلٹ کر آنے والا، رب کی پناہ، اندھیروں سے پناہ، انسانوں اور جنات میں سے شیطان کے دوست۔

سورۃ الناس سے تعلق رکھنے والے الفاظ اور وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں

1 سورۃ الناس سے تعلق رکھنے والے الفاظ — رب کی پناہ — آیت 1 — «قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ»۔
2 سورۃ الناس سے تعلق رکھنے والے الفاظ — لوگوں کا معبود اور بادشاہ — آیات 2 اور 3 — «مَلِكِ النَّاسِ» اور «اِلٰهِ النَّاسِ»۔
3 سورۃ الناس سے تعلق رکھنے والے الفاظ — شیطان بار بار پلٹ کر آنے والا — آیت 4 — «اَلْخَنَّاس» یعنی پیچھے ہٹ جانے والا، جو غفلت پر پھر لوٹ آتا ہے۔
4 سورۃ الناس سے تعلق رکھنے والے الفاظ — شیطان کی وسوسہ اندازی — آیات 4 اور 5 — «اَلْوَسْوَاس» اور «یُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِ»۔
5 سورۃ الناس سے تعلق رکھنے والے الفاظ — انسانوں اور جنات میں سے شیطان کے دوست — آیت 6 — «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ»۔
6 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — قربانی کا حکم — یہ سورۃ الکوثر کا مضمون ہے۔
7 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — آخرت کی خبر — اس سورت میں آخرت کا ذکر نہیں۔
8 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — شیطان کو جھٹلانے والا — سورت میں شیطان کو جھٹلانے کا نہیں، بلکہ اس کے شر سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔
9 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — اندھیروں سے پناہ — یہ سورۃ الفلق کا مضمون ہے (غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ)، سورۃ الناس کا نہیں۔
17 سرگرمیاں برائے طلبہ

قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ مَلِكِ ٱلنَّاسِ إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ

سورۃ الفیل تا سورۃ الناس میں آنے والے اسماء کی فہرست بنائیں۔

آخری دس سورتوں (سورۃ الفیل تا سورۃ الناس) میں آنے والے نمایاں اسماء درج ذیل ہیں۔ یاد رہے کہ ضمائر، اسمائے اشارہ اور اسمائے موصولہ بھی اسم ہی کی اقسام ہیں۔

1 سورۃ الفیل (105) — اَصْحٰب، الْفِیْل، رَبّ، كَیْد، تَضْلِیْل، طَیْر، اَبَابِیْل، حِجَارَة، سِجِّیْل، عَصْف، مَاْكُوْل۔
2 سورۃ قریش (106) — اِیْلَاف، قُرَیْش، رِحْلَة، الشِّتَآء، الصَّیْف، رَبّ، الْبَیْت، جُوْع، خَوْف۔
3 سورۃ الماعون (107) — اَلَّذِيْ (اسمِ موصول)، الدِّیْن، الْیَتِیْم، طَعَام، الْمِسْكِیْن، وَیْل، الْمُصَلِّیْن، صَلَاة، سَاهُوْن، الْمَاعُوْن۔
4 سورۃ الکوثر (108) — اَلْكَوْثَر، رَبّ، شَانِئ، اَلْاَبْتَر، هُوَ (ضمیر)۔
5 سورۃ الکافرون (109) — اَلْكٰفِرُوْن، مَا (اسمِ موصول)، اَنْتُمْ اور اَنَا (ضمائر)، عٰبِدُوْن، عَابِد، دِیْن۔
6 سورۃ النصر (110) — نَصْر، اَللهُ، الْفَتْح، النَّاس، دِیْن، اَفْوَاج، حَمْد، رَبّ، تَوَّاب۔
7 سورۃ اللھب (111) — یَدَا، اَبُوْ لَهَب، مَال، نَار، لَهَب، امْرَاَة، حَمَّالَة، الْحَطَب، جِیْد، حَبْل، مَسَد۔
8 سورۃ الاخلاص (112) — اَللهُ، هُوَ (ضمیر)، اَحَد، الصَّمَد، كُفُو۔
9 سورۃ الفلق (113) — رَبّ، الْفَلَق، شَرّ، مَا (اسمِ موصول)، غَاسِق، النَّفّٰثٰت، الْعُقَد، حَاسِد۔
10 سورۃ الناس (114) — رَبّ، النَّاس، مَلِك، اِلٰه، شَرّ، الْوَسْوَاس، الْخَنَّاس، اَلَّذِيْ (اسمِ موصول)، صُدُوْر، الْجِنَّة۔
11 کام کرنے کا طریقہ — پہلے نشان زد کریں — ہر سورت کے الفاظ پر نظر ڈال کر پہچانیں کہ کون سا لفظ اسم ہے، کون سا فعل اور کون سا حرف۔
12 کام کرنے کا طریقہ — اسم کی پہچان — تنوین، «ال»، اضافت یا حرفِ جارہ کا آنا اسم کی علامتیں ہیں۔
13 کام کرنے کا طریقہ — اقسام بھی لکھیں — ہر اسم کے سامنے لکھیں کہ وہ اسمِ علم ہے، معرف باللام، ضمیر، اسمِ اشارہ یا اسمِ موصول۔
14 کام کرنے کا طریقہ — اساتذہ سے تصدیق — فہرست مکمل کر کے اپنے اساتذہ کرام سے جانچ کروائیں۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ

معوذتین میں جن جن چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہے، ان کا بیان کریں۔

معوذتین میں کل پانچ چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہے — چار سورۃ الفلق میں اور ایک سورۃ الناس میں۔

1 سورۃ الفلق میں (باہر کے شرور) — 1۔ ہر مخلوق کا شر — «مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» — ہر اس چیز کے شر سے جو اللہ نے پیدا فرمائی۔ یہ ایک جامع دعا ہے جس میں ہر معلوم اور نامعلوم شر آ جاتا ہے۔
2 سورۃ الفلق میں (باہر کے شرور) — 2۔ اندھیری رات کا شر — «وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ» — رات کے اندھیرے میں موذی جانور نکلتے ہیں اور شریر لوگ سرگرم ہوتے ہیں۔
3 سورۃ الفلق میں (باہر کے شرور) — 3۔ جادوگروں کا شر — «وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ» — گرہوں پر پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے۔ جادو حرام ہے اور اسے کرنا یا کروانا دونوں ناپسندیدہ ہیں۔
4 سورۃ الفلق میں (باہر کے شرور) — 4۔ حاسد کا شر — «وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ» — حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
5 سورۃ الناس میں (اندر کا شر) — 5۔ شیطان کے وسوسے کا شر — «مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» — وسوسہ ڈالنے والے اور پیچھے ہٹ جانے والے شیطان کے شر سے، جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، خواہ وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
6 ترتیب کی حکمت — عام سے خاص — پہلے ہر مخلوق کا شر (عام)، پھر تین خاص شرور۔
7 ترتیب کی حکمت — ظاہری اور باطنی — سورۃ الفلق ظاہری اور بیرونی خطرات سے، اور سورۃ الناس باطنی اور پوشیدہ خطرے سے پناہ سکھاتی ہے۔
8 ترتیب کی حکمت — سب سے بڑا خطرہ آخر میں — وسوسہ سب سے خطرناک ہے، کیوں کہ یہ دین کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ باقی شرور عموماً دنیا کو۔
9 ترتیب کی حکمت — پناہ دینے والا — سورۃ الفلق میں ایک صفت (رَبِّ الْفَلَقِ) اور سورۃ الناس میں تین صفات (رَبّ، مَلِك، اِلٰه) کا ذکر ہے — یعنی جتنا بڑا خطرہ، اتنی زیادہ تاکید۔
جواب حاصل — ہمیں ہر چیز کے شر سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ مانگنی چاہیے، اور یہ دونوں سورتیں اسی کا مکمل نصاب ہیں۔
19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ

فعلِ ماضی کی گردان چند مثالوں سے واضح کریں۔

فعلِ ماضی وہ فعل ہے جو گزرے ہوئے زمانے میں کام کے ہونے پر دلالت کرے۔ اس کی گردان میں چودہ صیغے ہوتے ہیں۔ ذیل میں معوذتین کے دو افعال کی گردان دی جا رہی ہے۔

1 پہلی مثال — وَقَبَ (وہ چھا گیا) — غائب مذکر — وَقَبَ | وَقَبَا | وَقَبُوْا
2 پہلی مثال — وَقَبَ (وہ چھا گیا) — غائب مؤنث — وَقَبَتْ | وَقَبَتَا | وَقَبْنَ
3 پہلی مثال — وَقَبَ (وہ چھا گیا) — حاضر مذکر — وَقَبْتَ | وَقَبْتُمَا | وَقَبْتُمْ
4 پہلی مثال — وَقَبَ (وہ چھا گیا) — حاضر مؤنث — وَقَبْتِ | وَقَبْتُمَا | وَقَبْتُنَّ
5 پہلی مثال — وَقَبَ (وہ چھا گیا) — متکلم — وَقَبْتُ (میں) | وَقَبْنَا (ہم)
6 دوسری مثال — حَسَدَ (اس نے حسد کیا) — غائب مذکر — حَسَدَ | حَسَدَا | حَسَدُوْا
7 دوسری مثال — حَسَدَ (اس نے حسد کیا) — غائب مؤنث — حَسَدَتْ | حَسَدَتَا | حَسَدْنَ
8 دوسری مثال — حَسَدَ (اس نے حسد کیا) — حاضر مذکر — حَسَدْتَ | حَسَدْتُمَا | حَسَدْتُمْ
9 دوسری مثال — حَسَدَ (اس نے حسد کیا) — حاضر مؤنث — حَسَدْتِ | حَسَدْتُمَا | حَسَدْتُنَّ
10 دوسری مثال — حَسَدَ (اس نے حسد کیا) — متکلم — حَسَدْتُ (میں نے حسد کیا) | حَسَدْنَا (ہم نے حسد کیا)
11 گردان کا قاعدہ — اصل مادہ — تینوں حروف اصلی رہتے ہیں اور آخر میں علامتیں بدلتی رہتی ہیں۔
12 گردان کا قاعدہ — غائب کے صیغے — آخر میں کوئی ضمیر نہیں جڑتی، صرف حرکت یا «ا، وْا، تْ، تَا، نَ» کا اضافہ ہوتا ہے۔
13 گردان کا قاعدہ — حاضر اور متکلم — ان میں «تَ، تُمَا، تُمْ، تِ، تُنَّ، تُ، نَا» جڑتی ہیں اور فعل کا آخری حرف ساکن ہو جاتا ہے۔
14 گردان کا قاعدہ — چودہ صیغے — غائب کے چھے، حاضر کے چھے اور متکلم کے دو — کل چودہ۔
15 گردان کا قاعدہ — عملی فائدہ — گردان یاد ہو تو ترجمہ کرتے وقت فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ کام کس نے کیا۔
جواب معوذتین میں افعالِ ماضی — ان دونوں سورتوں میں تین افعالِ ماضی ہیں: «خَلَقَ» (الفلق 2)، «وَقَبَ» (الفلق 3) اور «حَسَدَ» (الفلق 5)۔ سورۃ الناس میں کوئی فعلِ ماضی نہیں؛ اس میں «یُوَسْوِسُ» فعلِ مضارع ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.