قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ (سورۃ الفلق ۔ آیت 1)
«اَلْفَلَق» کے معنی ہیں:
الف) صبح • ب) شام • ج) دن • د) رات
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ (سورۃ الفلق ۔ آیت 1)
«اَلْفَلَق» کے معنی ہیں:
الف) صبح • ب) شام • ج) دن • د) رات
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (سورۃ الفلق ۔ آیت 3)
آیتِ کریمہ میں کس شر سے پناہ مانگی گئی ہے؟
الف) حسد کرنے والوں کے • ب) اندھیری رات کے • ج) شیطان کے • د) پھونکیں مارنے والوں کے
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (سورۃ الفلق ۔ آیت 3)
«وَقَبَ» عربی قواعد کی رو سے ہے:
الف) فعل • ب) اسم • ج) حرف • د) ضمیر
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (سورۃ الفلق ۔ آیت 3)
«وَقَبَ» کے معنی ہیں:
الف) روشنی دینا • ب) چھا جانا • ج) سکڑنا • د) جھکنا
وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَٰتِ فِي ٱلۡعُقَدِ (سورۃ الفلق ۔ آیت 4)
آیتِ کریمہ میں پناہ مانگی گئی ہے:
الف) حسد کرنے والوں سے • ب) اندھیری رات کے شر سے • ج) شیطان کے شر سے • د) پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے
قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ
نظر اور جادو ٹونے سے بچنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے کون سی دو سورتیں سکھائی ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس سکھائی ہیں، جنہیں مل کر «معوذتین» یعنی دو پناہ دینے والی سورتیں کہا جاتا ہے۔
اہم نکات
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (سورۃ الفلق ۔ آیت 3)
آیتِ کریمہ میں کس چیز کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے؟
اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔
اس آیت میں چھا جانے والے اندھیرے یعنی اندھیری رات کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔
اہم نکات
قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ مَلِكِ ٱلنَّاسِ إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ (سورۃ الناس ۔ آیات 1 تا 3)
آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی صفات بیان ہوئی ہیں؟
آپ (ﷺ) فرما دیجیے کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ لوگوں کے بادشاہ کی۔ لوگوں کے معبود کی۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان ہوئی ہیں: رَبُّ النَّاس، مَلِكُ النَّاس اور اِلٰهُ النَّاس۔
تین صفات
مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ (سورۃ الناس ۔ آیت 4)
آیتِ کریمہ میں کس کے شر کا ذکر ہے؟
وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے۔
اس آیت میں شیطان کے شر کا ذکر ہے، جو وسوسہ ڈالتا ہے اور پھر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
اہم نکات
ٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ (سورۃ الناس ۔ آیات 5 تا 6)
آیتِ کریمہ کی رو سے شیطان کہاں وسوسہ ڈالتا ہے؟
جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (چاہے وہ) جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
شیطان لوگوں کے سینوں یعنی دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔
اہم نکات
قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ مَلِكِ ٱلنَّاسِ إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ (سورۃ الناس ۔ آیات 1 تا 6)
سورۃ الناس کا ترجمہ تحریر کریں۔
آپ (ﷺ) فرما دیجیے کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ لوگوں کے بادشاہ کی۔ لوگوں کے معبود کی۔
مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ ٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ سورۃ الناس ۔ آیات 4 تا 6 وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (چاہے وہ) جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
لفظی وضاحت اور اہم نکات
قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ
معوذتین کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
قرآنِ مجید کی آخری دو سورتوں — سورۃ الفلق اور سورۃ الناس — کا مشترکہ نام «مُعَوِّذَتَیْن» یعنی دو پناہ دینے والی ہے۔ یہ دونوں سورتیں نبی کریم ﷺ پر مکی دور میں نازل ہوئیں۔
مِن شَرِّ مَا خَلَقَ
معوذتین کے بنیادی مضامین تحریر کریں۔
معوذتین کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
دونوں سورتوں کا فرق اور علم و عمل کی باتیں
قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ
معوذتین میں فعلِ ماضی کی کوئی ایک مثال تلاش کریں اور اس کی گردان کریں۔
فعلِ ماضی وہ فعل ہے جو گزرے ہوئے زمانے میں کسی کام کے ہونے پر دلالت کرے۔ معوذتین میں اس کی تین مثالیں موجود ہیں: «خَلَقَ» (الفلق 2)، «وَقَبَ» (الفلق 3) اور «حَسَدَ» (الفلق 5)۔
قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ
دیے گئے مواد میں سے اُن الفاظ کو الگ کر کے تحریر کریں جن کا تعلق سورۃ الفلق سے ہے۔
دیا گیا مواد: نمازوں کا حکم، رب کی پناہ، اندھیروں سے نکالنے والا، قیدیوں کے ساتھ سلوک، روشنی میں لانے والا، رب، فتح کی خبر، جادو کی مذمت، حسد کرنے والوں کی برائی سے پناہ مانگنا۔
سورۃ الفلق سے تعلق رکھنے والے الفاظ اور وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ
دیے گئے مواد میں سے اُن الفاظ کو الگ کر کے تحریر کریں جن کا تعلق سورۃ الناس سے ہے۔
دیا گیا مواد: قربانی کا حکم، لوگوں کا معبود اور بادشاہ، شیطان کی وسوسہ اندازی، آخرت کی خبر، شیطان کو جھٹلانے والا، شیطان بار بار پلٹ کر آنے والا، رب کی پناہ، اندھیروں سے پناہ، انسانوں اور جنات میں سے شیطان کے دوست۔
سورۃ الناس سے تعلق رکھنے والے الفاظ اور وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں
قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ مَلِكِ ٱلنَّاسِ إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ
سورۃ الفیل تا سورۃ الناس میں آنے والے اسماء کی فہرست بنائیں۔
آخری دس سورتوں (سورۃ الفیل تا سورۃ الناس) میں آنے والے نمایاں اسماء درج ذیل ہیں۔ یاد رہے کہ ضمائر، اسمائے اشارہ اور اسمائے موصولہ بھی اسم ہی کی اقسام ہیں۔
قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ
معوذتین میں جن جن چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہے، ان کا بیان کریں۔
معوذتین میں کل پانچ چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہے — چار سورۃ الفلق میں اور ایک سورۃ الناس میں۔
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ
فعلِ ماضی کی گردان چند مثالوں سے واضح کریں۔
فعلِ ماضی وہ فعل ہے جو گزرے ہوئے زمانے میں کام کے ہونے پر دلالت کرے۔ اس کی گردان میں چودہ صیغے ہوتے ہیں۔ ذیل میں معوذتین کے دو افعال کی گردان دی جا رہی ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔