إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ (سورۃ النصر ۔ آیت 1)
«نَصْر» کے معنی ہیں:
الف) رحم • ب) فتح • ج) معافی • د) مدد
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ (سورۃ النصر ۔ آیت 1)
«نَصْر» کے معنی ہیں:
الف) رحم • ب) فتح • ج) معافی • د) مدد
وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا (سورۃ النصر ۔ آیت 2)
«اَلنَّاس» کا معنی ہے:
الف) جنات • ب) انسان • ج) فرشتے • د) شیاطین
وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا (سورۃ النصر ۔ آیت 2)
«اَفْوَاجًا» قواعد کی رو سے ہے:
الف) ضمیر • ب) اسم • ج) فعل • د) حرف
فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا (سورۃ النصر ۔ آیت 3)
«وَاسْتَغْفِرْهُ» میں طلب کرنے کا ذکر ہے:
الف) مدد • ب) مہلت • ج) رحمت • د) مغفرت
فتحِ مکہ کی پیش گوئی ہے:
الف) سورۃ العصر میں • ب) سورۃ الکوثر میں • ج) سورۃ النصر میں • د) سورۃ الناس میں
إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ (سورۃ النصر ۔ آیت 1)
آیتِ کریمہ میں کس چیز کی بشارت دی گئی ہے؟
جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتحِ مکہ کی بشارت دی گئی ہے۔
اہم نکات
وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا (سورۃ النصر ۔ آیت 2)
آیتِ کریمہ میں لوگوں کی کس کیفیت کا بیان ہے؟
اور آپ (ﷺ) لوگوں کو دیکھیں کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔
اس آیت میں لوگوں کے جوق در جوق اور فوج در فوج اسلام قبول کرنے کی کیفیت کا بیان ہے۔
اہم نکات
فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا (سورۃ النصر ۔ آیت 3)
آیتِ کریمہ میں کن دو باتوں کا حکم دیا گیا ہے؟
تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔
اس آیت میں دو باتوں کا حکم دیا گیا ہے: اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرنا، اور اس سے استغفار کرنا۔
دونوں حکموں کی وضاحت اور فرمانِ نبوی ﷺ
إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا (سورۃ النصر ۔ آیت 3)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی صفت کا ذکر ہے؟
بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ «تَوَّاب» یعنی بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والے ہونے کا ذکر ہے۔
اہم نکات
وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا (سورۃ النصر ۔ آیات 1 تا 3)
سورۃ النصر میں نبی کریم ﷺ کے کس عظیم مشن کے غالب ہونے کا ذکر ہے؟
اس سورت میں نبی کریم ﷺ کے دینِ اسلام کی دعوت و اشاعت کے عظیم مشن کے غالب ہونے کا ذکر ہے۔
اہم نکات
إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا (سورۃ النصر ۔ آیات 1 تا 3)
سورۃ النصر کا ترجمہ تحریر کریں۔
جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ اور آپ (ﷺ) لوگوں کو دیکھیں کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔ بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
لفظی وضاحت اور اہم نکات
إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ
سورۃ النصر کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سورۃ النصر مدنی سورت ہے۔ اس کی پہلی آیت میں «نَصْرُ اللهِ» (اللہ تعالیٰ کی مدد) کے آنے کا ذکر ہوا ہے، جس کی مناسبت سے اس کا نام «النصر» ہے۔
وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا
سورۃ النصر کا شانِ نزول اور بنیادی مضامین تحریر کریں۔
اس سورت میں آپ ﷺ کو فتحِ مکہ کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ فتحِ مکہ کا واقعہ رمضان المبارک سن 8 ہجری (بمطابق جنوری 630ء) کو ہوا، جس میں مسلمانوں کو بغیر کسی بڑی جنگ کے عظیم فتح حاصل ہوئی۔
بنیادی مضامین اور فتحِ مکہ کے چند پہلو
إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ
اسمِ اشارہ بعید کی تعریف لکھیں اور تین مثالیں درج کریں۔
وہ کلمہ جو دور کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہو، اسمِ اشارہ بعید کہلاتا ہے۔
إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ
دین، حمد، تسبیح، استغفار اور توبہ کی وضاحت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔
پانچوں اصطلاحات کا خلاصہ درج ذیل ہے؛ مزید تفصیل کے لیے اپنے اساتذہ کرام سے رہنمائی لیں۔
پانچ اصطلاحات اور آپس کا ربط
وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا
فتحِ مکہ مکرمہ کا واقعہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کی کسی کتاب سے پڑھ کر اپنے دوستوں کو سنائیں۔
سنانے میں آسانی کے لیے واقعے کا خاکہ درج ذیل ہے۔ تفصیل اپنی درسی یا سیرت کی کتاب سے پڑھ کر مکمل کریں۔
واقعے کے مراحل اور سناتے وقت ان باتوں پر زور دیں
إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ
اسماءِ اشارہ بعید کو قرآنی مثالوں سے بیان کریں۔
اسمِ اشارہ بعید وہ کلمہ ہے جو دور کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہو۔ ذیل میں ہر صیغے کی قرآنی مثال حوالے کے ساتھ دی جا رہی ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔