چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 17: سبق 17: سورۃ النصر (آیات: 1 تا 3) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ (سورۃ النصر ۔ آیت 1)

«نَصْر» کے معنی ہیں:

الف) رحم • ب) فتح • ج) معافی • د) مدد

جواب د) مدد — سبق کی ذخیرۃ الفاظ میں «نَصْرُ» کا معنی «مدد کرنا» دیا گیا ہے۔ آیت میں «نَصْرُ اللهِ» اور «اَلْفَتْح» الگ الگ ذکر ہوئے ہیں، یعنی اللہ کی مدد اور فتح — اس لیے «فتح» اس لفظ کا معنی نہیں۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا (سورۃ النصر ۔ آیت 2)

«اَلنَّاس» کا معنی ہے:

الف) جنات • ب) انسان • ج) فرشتے • د) شیاطین

جواب ب) انسان — «اَلنَّاس» کا معنی لوگ یا انسان ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کو فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوتے دیکھیں گے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا (سورۃ النصر ۔ آیت 2)

«اَفْوَاجًا» قواعد کی رو سے ہے:

الف) ضمیر • ب) اسم • ج) فعل • د) حرف

جواب ب) اسم — «فَوْج» کی جمع «اَفْوَاج» ہے، یعنی فوج در فوج یا گروہ در گروہ۔ یہ اسم ہے اور اس پر تنوین (ـًا) موجود ہے، جو اسم کی ایک نمایاں پہچان ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا (سورۃ النصر ۔ آیت 3)

«وَاسْتَغْفِرْهُ» میں طلب کرنے کا ذکر ہے:

الف) مدد • ب) مہلت • ج) رحمت • د) مغفرت

جواب د) مغفرت — «اِسْتِغْفَار» کا معنی ہے مغفرت اور بخشش طلب کرنا۔ «وَاسْتَغْفِرْهُ» یعنی اور اس سے مغفرت طلب کریں۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

فتحِ مکہ کی پیش گوئی ہے:

الف) سورۃ العصر میں • ب) سورۃ الکوثر میں • ج) سورۃ النصر میں • د) سورۃ الناس میں

جواب ج) سورۃ النصر میں — اسی سورت میں نبی کریم ﷺ کو فتحِ مکہ کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ فتحِ مکہ کا واقعہ رمضان المبارک سن 8 ہجری (بمطابق جنوری 630ء) میں پیش آیا، جس میں مسلمانوں کو بغیر کسی بڑی جنگ کے عظیم فتح حاصل ہوئی۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ (سورۃ النصر ۔ آیت 1)

آیتِ کریمہ میں کس چیز کی بشارت دی گئی ہے؟

ترجمہ

جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتحِ مکہ کی بشارت دی گئی ہے۔

اہم نکات

1 نَصْرُ اللهِ — اللہ کی مدد — یعنی فتح اپنی طاقت سے نہیں، اللہ کی نصرت سے ملی۔
2 اَلْفَتْح — اس سے مراد فتحِ مکہ ہے، جسے «اَلْفَتْح» یعنی فتحِ عظیم کہا گیا۔
3 پیش گوئی — یہ سورت فتح سے پہلے نازل ہوئی، اس لیے یہ ایک واضح پیش گوئی ہے۔
4 تاریخ — فتحِ مکہ رمضان المبارک سن 8 ہجری (بمطابق جنوری 630ء) میں ہوئی۔
5 امتیاز — یہ فتح بغیر کسی بڑی جنگ کے حاصل ہوئی۔
7 مختصر جوابات

وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا (سورۃ النصر ۔ آیت 2)

آیتِ کریمہ میں لوگوں کی کس کیفیت کا بیان ہے؟

ترجمہ

اور آپ (ﷺ) لوگوں کو دیکھیں کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔

اس آیت میں لوگوں کے جوق در جوق اور فوج در فوج اسلام قبول کرنے کی کیفیت کا بیان ہے۔

اہم نکات

1 اَفْوَاجًا — فوج در فوج — یعنی ایک ایک کر کے نہیں، بلکہ پورے پورے قبیلے۔
2 پہلے اور بعد کا فرق — مکی دور میں لوگ ایک ایک کر کے ایمان لاتے تھے؛ فتحِ مکہ کے بعد پورے قبائل داخل ہونے لگے۔
3 سببِ حقیقی — دین کا غلبہ لوگوں کے لیے دین قبول کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
4 وفود کا زمانہ — اسی زمانے میں عرب کے وفود جوق در جوق مدینہ منورہ حاضر ہونے لگے۔
5 دِیْنِ اللهِ — اللہ ہی کا دین، یعنی اسلام، جو غالب آ کر رہا۔
8 مختصر جوابات

فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا (سورۃ النصر ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ میں کن دو باتوں کا حکم دیا گیا ہے؟

ترجمہ

تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔

اس آیت میں دو باتوں کا حکم دیا گیا ہے: اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرنا، اور اس سے استغفار کرنا۔

دونوں حکموں کی وضاحت اور فرمانِ نبوی ﷺ

1 دونوں حکموں کی وضاحت — پہلا حکم — تسبیح و تحمید — «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ» — اللہ کی پاکی اور تعریف بیان کرنا، یعنی «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهٖ» کہنا۔
2 دونوں حکموں کی وضاحت — دوسرا حکم — استغفار — «وَاسْتَغْفِرْهُ» — اس سے مغفرت طلب کرنا۔
3 دونوں حکموں کی وضاحت — کامیابی کے وقت کا ادب — فتح ملنے پر فخر اور غرور نہیں، بلکہ تسبیح اور استغفار کا حکم دیا گیا۔
4 دونوں حکموں کی وضاحت — نسبتِ نصرت — اس سے معلوم ہوا کہ فتح اللہ کی طرف سے ہے، اس لیے شکر بھی اسی کا ادا ہو۔
5 دونوں حکموں کی وضاحت — سبق — ہمیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح، تحمید اور استغفار کا کثرت سے اہتمام کرنا چاہیے۔
6 فرمانِ نبوی ﷺ — اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے رکوع اور سجدوں میں کثرت سے یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
7 فرمانِ نبوی ﷺ — سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ (صحیح بخاری: 817)
جواب اے ہمارے رب! تیری ذات پاک ہے اور تیری حمد کے ساتھ (ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں)، اے اللہ! مجھے بخش دے۔
9 مختصر جوابات

إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا (سورۃ النصر ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی کون سی صفت کا ذکر ہے؟

ترجمہ

بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والا ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ «تَوَّاب» یعنی بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والے ہونے کا ذکر ہے۔

اہم نکات

1 تَوَّاب کا مفہوم — یہ مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بار بار اور کثرت سے توبہ قبول فرمانے والا۔
2 امید کا پہلو — کوئی گناہ گار اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔
3 استغفار سے ربط — پہلے استغفار کا حکم دیا، پھر بتایا کہ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے — یعنی مانگو گے تو ضرور ملے گا۔
4 فتح کے بعد کا معاملہ — فتحِ مکہ کے دن آپ ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمایا، جو اسی صفت کا عملی مظہر تھا۔
5 سبق — اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور ان کی توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
10 مختصر جوابات

وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا (سورۃ النصر ۔ آیات 1 تا 3)

سورۃ النصر میں نبی کریم ﷺ کے کس عظیم مشن کے غالب ہونے کا ذکر ہے؟

اس سورت میں نبی کریم ﷺ کے دینِ اسلام کی دعوت و اشاعت کے عظیم مشن کے غالب ہونے کا ذکر ہے۔

اہم نکات

1 مشن کیا تھا — توحید کی دعوت، شرک کا خاتمہ، اور اللہ کے دین کو غالب کرنا۔
2 غلبے کی علامت — فتحِ مکہ، جس سے شرک کا مرکز توحید کا مرکز بن گیا۔
3 نتیجہ — لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے۔
4 مرکزی مضمون — دینِ اسلام کے غلبہ کا بیان۔
5 محنت کا صلہ — اللہ تعالیٰ دین کے لیے محنت کرنے والوں کو دنیا میں بھی فتح عطا فرماتا ہے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا (سورۃ النصر ۔ آیات 1 تا 3)

سورۃ النصر کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ اور آپ (ﷺ) لوگوں کو دیکھیں کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔ بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والا ہے۔

لفظی وضاحت اور اہم نکات

1 لفظی وضاحت — اِذَا جَآءَ — جب آ جائے۔
2 لفظی وضاحت — نَصْرُ اللهِ — اللہ کی مدد۔
3 لفظی وضاحت — اَلْفَتْح — فتح — یعنی فتحِ مکہ۔
4 لفظی وضاحت — اَفْوَاجًا — فوج در فوج۔
5 لفظی وضاحت — فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ — تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں۔
6 لفظی وضاحت — وَاسْتَغْفِرْهُ — اور اس سے مغفرت طلب کریں۔
7 لفظی وضاحت — تَوَّابًا — توبہ قبول فرمانے والا۔
8 اہم نکات — پہلی آیت — اللہ کی مدد اور فتح کی بشارت۔
9 اہم نکات — دوسری آیت — لوگوں کے جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے کا منظر۔
10 اہم نکات — تیسری آیت — اس نعمت پر تسبیح، تحمید اور استغفار کا حکم، اور اللہ تعالیٰ کی صفتِ «تَوَّاب» کا ذکر۔
11 اہم نکات — ترتیب کا نکتہ — پہلے نعمت، پھر اس کا اثر، اور آخر میں اس کا تقاضا۔
12 اہم نکات — اسلوب — پوری سورت شرط («اِذَا») اور جوابِ شرط («فَسَبِّحْ») پر مبنی ہے۔
12 تفصیلی جوابات

إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ

سورۃ النصر کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ النصر مدنی سورت ہے۔ اس کی پہلی آیت میں «نَصْرُ اللهِ» (اللہ تعالیٰ کی مدد) کے آنے کا ذکر ہوا ہے، جس کی مناسبت سے اس کا نام «النصر» ہے۔

1 وجہِ تسمیہ — پہلی آیت «اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ» میں لفظِ «نَصْر» موجود ہے، اسی مناسبت سے سورت کا نام سورۃ النصر رکھا گیا۔
2 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید میں یہ 110ویں سورت ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 114ویں نمبر پر ہے۔
3 تعارفی معلومات — نوعیت — یہ مدنی سورت ہے۔
4 تعارفی معلومات — زمانۂ نزول — یہ سورت آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے آخری دور میں نازل ہوئی۔
5 تعارفی معلومات — آیات و رکوع — اس کی آیات کی تعداد 3 اور رکوع 1 ہے۔
6 مرکزی مضمون — دینِ اسلام کے غلبہ کا بیان۔
جواب ایک قابلِ غور بات — ترتیبِ نزول کے اعتبار سے یہ آخری سورتوں میں سے ہے، اور یہ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے آخری دور میں نازل ہوئی۔
13 تفصیلی جوابات

وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا

سورۃ النصر کا شانِ نزول اور بنیادی مضامین تحریر کریں۔

اس سورت میں آپ ﷺ کو فتحِ مکہ کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ فتحِ مکہ کا واقعہ رمضان المبارک سن 8 ہجری (بمطابق جنوری 630ء) کو ہوا، جس میں مسلمانوں کو بغیر کسی بڑی جنگ کے عظیم فتح حاصل ہوئی۔

بنیادی مضامین اور فتحِ مکہ کے چند پہلو

1 بنیادی مضامین — پہلا مضمون — اہلِ ایمان کے لیے عظیم فتح کی خوش خبری۔
2 بنیادی مضامین — دوسرا مضمون — دینِ اسلام کے غالب ہونے اور بڑی تعداد میں لوگوں کے دینِ اسلام میں داخل ہونے کا بیان۔
3 بنیادی مضامین — تیسرا مضمون — آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرنے اور استغفار کرنے کی تلقین۔
4 فتحِ مکہ کے چند پہلو — بغیر جنگ کے فتح — مسلمان بڑی تعداد میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور کوئی بڑی جنگ پیش نہ آئی۔
5 فتحِ مکہ کے چند پہلو — عام معافی — آپ ﷺ نے برسوں کے مخالفین کو بھی معاف فرما دیا۔
6 فتحِ مکہ کے چند پہلو — بیت اللہ کی پاکی — کعبۃ اللہ کو بتوں سے پاک کر دیا گیا۔
7 فتحِ مکہ کے چند پہلو — اثر — اس کے بعد پورے عرب سے وفود جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے۔
14 تفصیلی جوابات

إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ

اسمِ اشارہ بعید کی تعریف لکھیں اور تین مثالیں درج کریں۔

وہ کلمہ جو دور کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہو، اسمِ اشارہ بعید کہلاتا ہے۔

1 تین مثالیں — 1۔ ذٰلِكَ (واحد مذکر) — «ذٰلِكَ الْكِتَابُ» — وہ کتاب ہے۔
2 تین مثالیں — 2۔ تِلْكَ (واحد مؤنث) — «تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ» — وہ ان کی آرزوئیں ہیں۔
3 تین مثالیں — 3۔ اُولٰٓئِكَ (جمع) — «اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ» — وہ جنت والے ہیں۔
4 اسمِ اشارہ بعید کا مکمل نقشہ — واحد مذکر — ذٰلِكَ — «ذٰلِكَ الْكِتَابُ» — وہ کتاب ہے۔
5 اسمِ اشارہ بعید کا مکمل نقشہ — تثنیہ مذکر — ذَانِكَ — «فَذَانِكَ بُرْهَانَانِ» — وہ دو (مضبوط) دلیلیں ہیں۔
6 اسمِ اشارہ بعید کا مکمل نقشہ — جمع مذکر — اُولٰٓئِكَ — «اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ» — وہ جنت والے ہیں۔
7 اسمِ اشارہ بعید کا مکمل نقشہ — واحد مؤنث — تِلْكَ — «تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ» — وہ ان کی آرزوئیں ہیں۔
8 اسمِ اشارہ بعید کا مکمل نقشہ — تثنیہ مؤنث — تَانِكَ — «تَانِكَ مُسْلِمَتَانِ» — وہ دو مسلمان عورتیں (ہیں)۔
9 اسمِ اشارہ بعید کا مکمل نقشہ — جمع مؤنث — اُولٰٓئِكَ — «اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ» — وہ لوگ ہی ہدایت یافتہ ہیں۔
10 یاد رہے — جمع کا صیغہ مشترک — جمع مذکر اور جمع مؤنث دونوں کے لیے «اُولٰٓئِكَ» ہی آتا ہے۔
11 یاد رہے — قریب سے موازنہ — قریب کے لیے هٰذَا، هٰذِهٖ اور هٰۤؤُلَآءِ آتے ہیں، جبکہ بعید کے لیے ذٰلِكَ، تِلْكَ اور اُولٰٓئِكَ۔
12 یاد رہے — کافِ خطاب — بعید کے صیغوں کے آخر میں «كَ» لگتی ہے، جو دوری کو ظاہر کرتی ہے۔
13 یاد رہے — معرفہ ہونا — اسمِ اشارہ ہمیشہ معرفہ ہوتا ہے؛ یہ اسم معرفہ کی تیسری قسم ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ

دین، حمد، تسبیح، استغفار اور توبہ کی وضاحت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

پانچوں اصطلاحات کا خلاصہ درج ذیل ہے؛ مزید تفصیل کے لیے اپنے اساتذہ کرام سے رہنمائی لیں۔

پانچ اصطلاحات اور آپس کا ربط

1 پانچ اصطلاحات — دین — لغوی اعتبار سے قانون اور طریقہ؛ اصطلاحی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا مخلوق کے لیے عطا کردہ قانون اور طریقۂ زندگی۔ اس سورت میں «دِیْنِ اللهِ» سے مراد اسلام ہے۔
2 پانچ اصطلاحات — حمد — اللہ تعالیٰ کی تعریف اور ثنا بیان کرنا۔ اس کا کلمہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ہے، جس میں تعریف کے ساتھ محبت اور عظمت کا اظہار بھی شامل ہے۔
3 پانچ اصطلاحات — تسبیح — اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا، یعنی اسے ہر عیب اور نقص سے پاک ماننا۔ اس کا کلمہ «سُبْحَانَ اللهِ» ہے۔
4 پانچ اصطلاحات — استغفار — اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی مغفرت اور بخشش طلب کرنا۔ اس کا کلمہ «اَسْتَغْفِرُ اللهَ» ہے۔
5 پانچ اصطلاحات — توبہ — گناہ سے باز آ کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آنا۔ اس میں گناہ چھوڑنا، ندامت کرنا اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا شامل ہے۔
6 آپس کا ربط — استغفار اور توبہ — استغفار زبان سے معافی مانگنا ہے، جبکہ توبہ دل اور عمل سے رجوع کرنا ہے؛ دونوں مل کر مکمل ہوتے ہیں۔
7 آپس کا ربط — تسبیح اور تحمید — «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهٖ» میں دونوں جمع ہو جاتے ہیں — یہی اس سورت کا حکم ہے۔
8 آپس کا ربط — اس سورت کی ترتیب — فتح ملی تو تسبیح، تحمید اور استغفار کا حکم ہوا، اور آخر میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ «تَوَّاب» بیان کی گئی۔
جواب فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے پاس جو کچھ ہے وہ صدقہ ہے۔ ہر تسبیح (سُبْحَانَ اللهِ کہنا) صدقہ ہے، ہر تحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہنا) صدقہ ہے، ہر تہلیل (لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ کہنا) صدقہ ہے، اور ہر تکبیر (اَللهُ اَكْبَرُ کہنا) صدقہ ہے۔ (صحیح مسلم: 1006)
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا

فتحِ مکہ مکرمہ کا واقعہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کی کسی کتاب سے پڑھ کر اپنے دوستوں کو سنائیں۔

سنانے میں آسانی کے لیے واقعے کا خاکہ درج ذیل ہے۔ تفصیل اپنی درسی یا سیرت کی کتاب سے پڑھ کر مکمل کریں۔

واقعے کے مراحل اور سناتے وقت ان باتوں پر زور دیں

1 واقعے کے مراحل — 1۔ صلحِ حدیبیہ — سن 6 ہجری میں دس سال کے لیے صلح ہوئی، جس کی رو سے قبائل کسی بھی فریق کے ساتھ شامل ہو سکتے تھے۔
2 واقعے کے مراحل — 2۔ معاہدے کی خلاف ورزی — قریش کے حلیف قبیلے نے مسلمانوں کے حلیف قبیلے پر حملہ کر دیا، جس سے معاہدہ ٹوٹ گیا۔
3 واقعے کے مراحل — 3۔ تیاری — نبی کریم ﷺ نے خاموشی سے تیاری فرمائی اور دس ہزار صحابہ کرام کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔
4 واقعے کے مراحل — 4۔ پڑاؤ — مقامِ مَرُّالظَّہران پر پڑاؤ ڈالا گیا اور بڑی تعداد میں الاؤ روشن کیے گئے۔
5 واقعے کے مراحل — 5۔ داخلہ — رمضان المبارک سن 8 ہجری میں لشکر مختلف حصوں میں تقسیم ہو کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوا، اور کوئی بڑی جنگ پیش نہ آئی۔
6 واقعے کے مراحل — 6۔ عام معافی — آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔
7 واقعے کے مراحل — 7۔ تطہیرِ کعبہ — بیت اللہ کو بتوں سے پاک کیا گیا اور «جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ» کی صدا بلند ہوئی۔
8 واقعے کے مراحل — 8۔ نتیجہ — اس کے بعد لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے — یہی اس سورت کی پیش گوئی تھی۔
9 سناتے وقت ان باتوں پر زور دیں — عفو و درگزر — اختیار ملنے کے باوجود انتقام نہ لینا نبی کریم ﷺ کی سب سے نمایاں خوبی تھی۔
10 سناتے وقت ان باتوں پر زور دیں — امن پسندی — یہ فتح خون خرابے کے بغیر حاصل ہوئی۔
11 سناتے وقت ان باتوں پر زور دیں — توحید کا غلبہ — شرک کا مرکز توحید کا مرکز بن گیا۔
12 سناتے وقت ان باتوں پر زور دیں — اللہ کی مدد — کامیابی کو اپنی تدبیر نہیں، بلکہ اللہ کی نصرت قرار دینا۔
جواب نوٹ — واقعے کی تفصیل معتبر سیرت کی کتاب سے پڑھیں اور اپنے اساتذہ کرام کی رہنمائی میں دوستوں کو سنائیں۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

17 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ

اسماءِ اشارہ بعید کو قرآنی مثالوں سے بیان کریں۔

اسمِ اشارہ بعید وہ کلمہ ہے جو دور کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہو۔ ذیل میں ہر صیغے کی قرآنی مثال حوالے کے ساتھ دی جا رہی ہے۔

1 قرآنی مثالیں — ذٰلِكَ (واحد مذکر) — «ذَٰلِكَ ٱلۡكِتَٰبُ» — وہ کتاب (ہے)۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 2)
2 قرآنی مثالیں — ذَانِكَ (تثنیہ مذکر) — «فَذَٰنِكَ بُرۡهَٰنَانِ مِن رَّبِّكَ» — سو یہ دونوں آپ کے رب کی طرف سے دو دلیلیں ہیں۔ (سورۃ القصص ۔ آیت 32)
3 قرآنی مثالیں — اُولٰٓئِكَ (جمع مذکر) — «أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِ» — وہ جنت والے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 82)
4 قرآنی مثالیں — تِلْكَ (واحد مؤنث) — «تِلۡكَ أَمَانِيُّهُمۡ» — وہ ان کی (جھوٹی) آرزوئیں ہیں۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 111)
5 قرآنی مثالیں — اُولٰٓئِكَ (جمع مؤنث) — «وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُهۡتَدُونَ» — اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 157)
6 ایک وضاحت — تثنیہ مؤنث «تَانِكَ» کی مثال کتاب میں «تَانِكَ مُسْلِمَتَانِ» دی گئی ہے، جو قواعد سمجھانے کے لیے بنایا گیا جملہ ہے، کوئی قرآنی آیت نہیں۔ اسی طرح پچھلے سبق میں «هٰۤؤُلَآءِ مُسْلِمُوْنَ» اور «هَاتَانِ مُسْلِمَتَانِ» بھی مثالی جملے ہیں۔
7 قریب اور بعید کا فرق — واحد مذکر — قریب: هٰذَا | بعید: ذٰلِكَ
8 قریب اور بعید کا فرق — تثنیہ مذکر — قریب: هٰذَانِ / هٰذَیْنِ | بعید: ذَانِكَ
9 قریب اور بعید کا فرق — جمع مذکر — قریب: هٰۤؤُلَآءِ | بعید: اُولٰٓئِكَ
10 قریب اور بعید کا فرق — واحد مؤنث — قریب: هٰذِهٖ | بعید: تِلْكَ
11 قریب اور بعید کا فرق — تثنیہ مؤنث — قریب: هَاتَانِ / هَاتَیْنِ | بعید: تَانِكَ
12 قریب اور بعید کا فرق — جمع مؤنث — قریب: هٰۤؤُلَآءِ | بعید: اُولٰٓئِكَ
جواب یاد رکھنے کا آسان اصول — قریب کے صیغے «ها» سے شروع ہوتے ہیں، اور بعید کے صیغوں کے آخر میں کافِ خطاب «كَ» آتی ہے۔ جمع دونوں صورتوں میں مذکر و مؤنث کے لیے ایک ہی رہتی ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.