قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 1)
«قُلْ» کے معنی ہیں:
الف) دعا کیجیے • ب) کھا لیجیے • ج) فرما دیجیے • د) لکھ لیجیے
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 1)
«قُلْ» کے معنی ہیں:
الف) دعا کیجیے • ب) کھا لیجیے • ج) فرما دیجیے • د) لکھ لیجیے
قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 1)
مندرجہ ذیل میں سے اسم ہے:
الف) قُلْ • ب) اَلْكٰفِرُوْنَ • ج) اَعْبُدُ • د) تَعْبُدُوْنَ
لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 2)
«لَاۤ اَعْبُدُ» کے معنی ہیں:
الف) میں عبادت نہیں کرتا • ب) وہ عبادت نہیں کرتے • ج) تم عبادت نہیں کرتے • د) ہم عبادت نہیں کرتے
وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 3)
«اَنْتُمْ» قواعد کی رو سے ہے:
الف) فعل • ب) حرف • ج) اسم • د) ضمیر
رسول اللہ ﷺ سورۃ الکافرون سنتوں میں پڑھتے تھے:
الف) فجر کی • ب) ظہر کی • ج) عشاء کی • د) جمعہ کی
وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 3 اور 5)
سورۃ الکافرون میں دہرائی گئی آیتِ مبارکہ کا ترجمہ لکھیں۔
اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس (اللہ) کی میں عبادت کرتا ہوں۔
یہ آیت سورت میں دو بار آئی ہے — آیت 3 اور آیت 5 میں، اور دونوں جگہ الفاظ بالکل ایک جیسے ہیں۔
تکرار کی حکمت
قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)
سورۃ الکافرون کفارِ مکہ کے کس مطالبے کے جواب میں نازل ہوئی؟
کفارِ مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ایک سال ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال آپ ﷺ ہمارے بتوں کی عبادت کریں (معاذ اللہ)۔ اسی کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔
پس منظر
لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 2)
آیتِ کریمہ کی رو سے آپ ﷺ نے کس کی عبادت کا انکار کیا؟
میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
آپ ﷺ نے ان معبودوں کی عبادت کا انکار فرمایا جن کی کفارِ مکہ عبادت کرتے تھے، یعنی بتوں کی عبادت کا صاف انکار۔
اہم نکات
لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 6)
آیتِ کریمہ میں کس بات کا اعلان ہے؟
تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔
اس آیت میں دین کے معاملے میں مکمل علیحدگی اور بےزاری کا اعلان ہے — یعنی توحید اور شرک کے راستے بالکل الگ ہیں۔
اہم نکات
لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)
آپ ﷺ نے جب سورۃ الکافرون کفار کو سنائی تو کفار کس بات سے مایوس ہو گئے؟
کفار اس بات سے مایوس ہو گئے کہ نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ دین کے معاملے میں کوئی سمجھوتا کریں گے یا ان کے بتوں کی عبادت کریں گے۔
مایوسی کے اسباب
قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)
سورۃ الکافرون کا ترجمہ تحریر کریں۔
آپ (ﷺ) فرما دیجیے کہ اے کافرو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس (اللہ) کی میں عبادت کرتا ہوں۔
وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٞ مَّا عَبَدتُّمۡ وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ سورۃ الکافرون ۔ آیات 4 تا 6 اور (میں پھر کہتا ہوں کہ) میں عبادت کرنے والا نہیں ان کی جن کی تم نے عبادت کی۔ اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس (اللہ) کی میں عبادت کرتا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔
لفظی وضاحت اور اہم نکات
قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 1)
سورۃ الکافرون کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سورۃ الکافرون مکی دور میں نازل ہوئی۔ پہلی آیت میں «اَلْكٰفِرُوْن» (کفار) کا لفظ آیا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام «الکافرون» ہے۔
لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)
سورۃ الکافرون کا شانِ نزول اور بنیادی مضامین تحریر کریں۔
کفارِ مکہ جب نبی کریم ﷺ کو اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود توحید کی دعوت سے نہ روک سکے، تو انہوں نے یہ پیشکش کی کہ ایک سال ہم خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور ایک سال آپ ہمارے بتوں کی عبادت کریں (معاذ اللہ)۔ اس بات کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔
قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ
اسمِ اشارہ قریب کی تعریف کریں اور مثالیں تحریر کریں۔
عربی زبان میں جن الفاظ سے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، وہ «اسماءِ اشارہ» کہلاتے ہیں۔ ان کی دو قسمیں ہیں: اسمِ اشارہ قریب اور اسمِ اشارہ بعید۔
قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)
اس سورت کو ترجمے کے ساتھ یاد کریں۔
یاد کرنے میں آسانی کے لیے سورت کو تین جوڑوں میں تقسیم کر لیجیے۔
لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 2)
کوئی سی آٹھ عبادات کے نام تحریر کریں اور مباحثہ کریں۔
عبادت سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، اس کے حکم کے مطابق کیا جائے۔ آٹھ عبادات درج ذیل ہیں:
آٹھ عبادات اور مباحثے کے لیے نکات
لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)
سورۃ الکافرون میں دیے گئے اسماء تلاش کریں۔
اس سورت میں آنے والے اسماء درج ذیل ہیں:
اسماء کی فہرست اور موازنے کے لیے — سورت کے افعال
لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)
سورۃ الکافرون میں بیان ہونے والی تعلیمات اور اسباق تحریر کریں۔
یہ مختصر سورت عقیدے، دعوت اور کردار — تینوں کے بارے میں واضح تعلیمات دیتی ہے۔
لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 6)
عبادت اور دین کا مفہوم بیان کریں۔
تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔
عبادت کا مفہوم اور دین کا مفہوم
قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 1)
اسماءِ اشارہ کو قرآنی مثالوں سے واضح کریں۔
اسماءِ اشارہ وہ الفاظ ہیں جن سے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ ان کی دو قسمیں ہیں: قریب کے لیے اور بعید کے لیے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔