چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 16: سبق 16: سورۃ الکافرون (آیات: 1 تا 6) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 20 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 1)

«قُلْ» کے معنی ہیں:

الف) دعا کیجیے • ب) کھا لیجیے • ج) فرما دیجیے • د) لکھ لیجیے

جواب ج) فرما دیجیے — «قُلْ» فعلِ امر ہے، جس کا معنی ہے: کہہ دیجیے یا فرما دیجیے۔ یہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے کہ آپ کفار سے یہ بات صاف صاف کہہ دیں۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 1)

مندرجہ ذیل میں سے اسم ہے:

الف) قُلْ • ب) اَلْكٰفِرُوْنَ • ج) اَعْبُدُ • د) تَعْبُدُوْنَ

جواب ب) اَلْكٰفِرُوْنَ — «اَلْكٰفِرُوْنَ» اسم ہے، اور اس کے شروع میں «ال» بھی موجود ہے جو اسم کی پہچان ہے۔ باقی تینوں افعال ہیں: «قُلْ» فعلِ امر، جبکہ «اَعْبُدُ» اور «تَعْبُدُوْنَ» فعلِ مضارع ہیں۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 2)

«لَاۤ اَعْبُدُ» کے معنی ہیں:

الف) میں عبادت نہیں کرتا • ب) وہ عبادت نہیں کرتے • ج) تم عبادت نہیں کرتے • د) ہم عبادت نہیں کرتے

جواب الف) میں عبادت نہیں کرتا — «اَعْبُدُ» فعلِ مضارع صیغۂ متکلم واحد ہے، یعنی «میں عبادت کرتا ہوں»، اور اس پر «لَا» نافیہ داخل ہونے سے معنی ہوا: میں عبادت نہیں کرتا۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 3)

«اَنْتُمْ» قواعد کی رو سے ہے:

الف) فعل • ب) حرف • ج) اسم • د) ضمیر

جواب د) ضمیر — «اَنْتُمْ» ضمیرِ منفصل (مذکر حاضر جمع) ہے، یعنی «تم سب»۔ یاد رہے کہ ضمیر خود بھی اسم ہی کی ایک قسم ہے (اسم معرفہ کی دوسری قسم)، مگر یہاں چوں کہ «ضمیر» کا الگ اور زیادہ متعین آپشن موجود ہے، اس لیے درست جواب «ضمیر» ہے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

رسول اللہ ﷺ سورۃ الکافرون سنتوں میں پڑھتے تھے:

الف) فجر کی • ب) ظہر کی • ج) عشاء کی • د) جمعہ کی

جواب الف) فجر کی — رسول کریم ﷺ کا معمول تھا کہ آپ فجر کی سنتوں، مغرب کی سنتوں اور طواف کے بعد کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں، نیز وتر کی دوسری رکعت اور رات کو سونے سے قبل سورۃ الکافرون کی تلاوت فرماتے تھے۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 3 اور 5)

سورۃ الکافرون میں دہرائی گئی آیتِ مبارکہ کا ترجمہ لکھیں۔

ترجمہ

اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس (اللہ) کی میں عبادت کرتا ہوں۔

یہ آیت سورت میں دو بار آئی ہے — آیت 3 اور آیت 5 میں، اور دونوں جگہ الفاظ بالکل ایک جیسے ہیں۔

تکرار کی حکمت

1 تاکید — بات کو دہرانا اس کی اہمیت اور قطعیت ظاہر کرتا ہے۔
2 ہر امکان کا خاتمہ — کفار کی پیشکش میں «ایک سال ہم، ایک سال آپ» کی بات تھی، اس لیے حال اور مستقبل دونوں کے لیے انکار دہرایا گیا۔
3 مایوسی — اس تکرار سے کفار کو یقین ہو گیا کہ اب کوئی سمجھوتا ممکن نہیں۔
4 اصول — دین کے معاملے میں مفاہمت ممکن نہیں ہے۔
7 مختصر جوابات

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)

سورۃ الکافرون کفارِ مکہ کے کس مطالبے کے جواب میں نازل ہوئی؟

کفارِ مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ایک سال ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال آپ ﷺ ہمارے بتوں کی عبادت کریں (معاذ اللہ)۔ اسی کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔

پس منظر

1 ناکام کوششیں — کفارِ مکہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود نبی کریم ﷺ کو توحید کی دعوت سے نہ روک سکے۔
2 سمجھوتے کی پیشکش — انہوں نے باری باری عبادت کی تجویز پیش کی۔
3 اصل مقصد — وہ چاہتے تھے کہ توحید اور شرک کو ملا دیا جائے۔
4 قرآن کا جواب — یہ سورت نازل ہوئی جس میں دو ٹوک انکار کیا گیا۔
5 مرکزی اصول — ایمان میں کفر کی ملاوٹ ممکن نہیں۔
8 مختصر جوابات

لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 2)

آیتِ کریمہ کی رو سے آپ ﷺ نے کس کی عبادت کا انکار کیا؟

ترجمہ

میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔

آپ ﷺ نے ان معبودوں کی عبادت کا انکار فرمایا جن کی کفارِ مکہ عبادت کرتے تھے، یعنی بتوں کی عبادت کا صاف انکار۔

اہم نکات

1 مَا تَعْبُدُوْنَ — جن کی تم عبادت کرتے ہو — یعنی بت اور جھوٹے معبود۔
2 دو ٹوک انداز — کوئی نرمی یا گنجائش نہیں رکھی گئی۔
3 بت پرستی کا انکار — یہی اس سورت کا دوسرا بنیادی مضمون ہے۔
4 توحید کی دعوت — انکار کے ساتھ ساتھ کفارِ مکہ کو توحید کی دعوت بھی دی گئی۔
5 سبق — اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہیں کیا جا سکتا۔
9 مختصر جوابات

لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 6)

آیتِ کریمہ میں کس بات کا اعلان ہے؟

ترجمہ

تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔

اس آیت میں دین کے معاملے میں مکمل علیحدگی اور بےزاری کا اعلان ہے — یعنی توحید اور شرک کے راستے بالکل الگ ہیں۔

اہم نکات

1 دو ٹوک فیصلہ — نہ ہم تمھارے دین پر آئیں گے، نہ تم ہمارے دین میں شامل ہو۔
2 مفاہمت کا خاتمہ — دین کے معاملے میں کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں۔
3 دین کا لغوی معنی — قانون اور طریقہ۔
4 دین کا اصطلاحی مفہوم — اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لیے عطا کردہ قانون اور طریقۂ زندگی۔
5 دعوت کا اسلوب — دین کی دعوت بالکل واضح انداز میں پیش کرنی چاہیے۔
10 مختصر جوابات

لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)

آپ ﷺ نے جب سورۃ الکافرون کفار کو سنائی تو کفار کس بات سے مایوس ہو گئے؟

کفار اس بات سے مایوس ہو گئے کہ نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ دین کے معاملے میں کوئی سمجھوتا کریں گے یا ان کے بتوں کی عبادت کریں گے۔

مایوسی کے اسباب

1 پیشکش کا رد — باری باری عبادت کی تجویز مکمل طور پر مسترد کر دی گئی۔
2 تکرار کی قطعیت — انکار ایک بار نہیں، بار بار دہرایا گیا۔
3 حال اور مستقبل دونوں — نہ اب، نہ آئندہ — ہر زمانے کے لیے انکار۔
4 دو ٹوک اعلان — «لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَلِيَ دِیْنِ» سے راستے بالکل جدا ہو گئے۔
5 برأت — حدیث میں اسی لیے فرمایا گیا کہ یہ سورت شرک سے برأت ہے۔
جواب فضیلت — نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ» پڑھو، یعنی پوری سورت، اور پھر اسے مکمل کر کے سو جاؤ، کیوں کہ یہ سورت شرک سے برأت ہے۔ (سنن ابی داؤد: 5055)

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)

سورۃ الکافرون کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

آپ (ﷺ) فرما دیجیے کہ اے کافرو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس (اللہ) کی میں عبادت کرتا ہوں۔

وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٞ مَّا عَبَدتُّمۡ وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ سورۃ الکافرون ۔ آیات 4 تا 6 اور (میں پھر کہتا ہوں کہ) میں عبادت کرنے والا نہیں ان کی جن کی تم نے عبادت کی۔ اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس (اللہ) کی میں عبادت کرتا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔

لفظی وضاحت اور اہم نکات

1 لفظی وضاحت — قُلْ — فرما دیجیے۔
2 لفظی وضاحت — یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ — اے کافرو! — «یا» حرفِ ندا ہے۔
3 لفظی وضاحت — لَاۤ اَعْبُدُ — میں عبادت نہیں کرتا۔
4 لفظی وضاحت — مَا تَعْبُدُوْنَ — جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
5 لفظی وضاحت — عٰبِدُوْنَ — عبادت کرنے والے۔
6 لفظی وضاحت — دِیْنُكُمْ — تمھارا دین۔
7 اہم نکات — پہلی دو آیات — حال کے اعتبار سے انکار — نہ میں تمھارے معبودوں کو پوجتا ہوں، نہ تم میرے معبود کو۔
8 اہم نکات — اگلی دو آیات — مستقبل کے اعتبار سے انکار — نہ آئندہ ایسا ہو گا۔
9 اہم نکات — آخری آیت — حتمی فیصلہ — دونوں کے راستے الگ الگ ہیں۔
10 اہم نکات — تکرار — یہ تکرار تاکید کے لیے ہے، بےمقصد نہیں۔
11 اہم نکات — مجموعی پیغام — ایمان میں کفر کی ملاوٹ ممکن نہیں۔
12 تفصیلی جوابات

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 1)

سورۃ الکافرون کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ الکافرون مکی دور میں نازل ہوئی۔ پہلی آیت میں «اَلْكٰفِرُوْن» (کفار) کا لفظ آیا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام «الکافرون» ہے۔

1 وجہِ تسمیہ — پہلی آیت «قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ» میں لفظِ «الکافرون» موجود ہے، اسی مناسبت سے سورت کا نام سورۃ الکافرون رکھا گیا۔ «کافر» کا اصطلاحی معنیٰ ہے: حق کا انکار کرنے والا۔
2 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید میں یہ 109ویں سورت ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 18ویں نمبر پر ہے۔
3 تعارفی معلومات — نوعیت — یہ مکی سورت ہے۔
4 تعارفی معلومات — آیات و رکوع — اس کی آیات کی تعداد 6 اور رکوع 1 ہے۔
5 تعارفی معلومات — امتیازی خصوصیت — اسے «سورۃ البراءۃ من الشرک» بھی کہا جاتا ہے، یعنی شرک سے بےزاری کی سورت۔
6 مرکزی مضمون — ایمان میں کفر کی ملاوٹ ممکن نہیں۔
7 فضیلت — شرک سے برأت — نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ سورت پڑھ کر سو جاؤ، کیوں کہ یہ شرک سے برأت ہے۔ (سنن ابی داؤد: 5055)
8 فضیلت — معمولِ نبوی ﷺ — آپ ﷺ فجر کی سنتوں، مغرب کی سنتوں، طواف کے بعد کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت، وتر کی دوسری رکعت اور رات کو سونے سے قبل اس سورت کی تلاوت فرماتے تھے۔
13 تفصیلی جوابات

لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)

سورۃ الکافرون کا شانِ نزول اور بنیادی مضامین تحریر کریں۔

کفارِ مکہ جب نبی کریم ﷺ کو اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود توحید کی دعوت سے نہ روک سکے، تو انہوں نے یہ پیشکش کی کہ ایک سال ہم خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور ایک سال آپ ہمارے بتوں کی عبادت کریں (معاذ اللہ)۔ اس بات کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔

1 بنیادی مضامین — پہلا مضمون — رسول ﷺ کے ذریعے کفارِ مکہ کو توحید کی دعوت۔
2 بنیادی مضامین — دوسرا مضمون — بت پرستی اور شرک کا صاف انکار۔
3 شانِ نزول کے پہلو — کفار کی حکمتِ عملی — جب دھمکی اور لالچ کام نہ آئے تو سمجھوتے کی راہ نکالنے کی کوشش کی۔
4 شانِ نزول کے پہلو — پیشکش کی حقیقت — ظاہر میں یہ مصالحت تھی، مگر درحقیقت توحید کو شرک کے ساتھ ملانے کی سازش تھی۔
5 شانِ نزول کے پہلو — جواب کا انداز — اللہ تعالیٰ نے نرمی کے بجائے دو ٹوک انکار کا حکم دیا۔
6 شانِ نزول کے پہلو — نتیجہ — کفار اس بات سے ہمیشہ کے لیے مایوس ہو گئے۔
7 علم و عمل کی باتیں — ہمیں دین کی دعوت بالکل واضح انداز میں پیش کرنی چاہیے۔
8 علم و عمل کی باتیں — اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انکار کرنا کفر ہے۔
9 علم و عمل کی باتیں — اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہیں کیا جا سکتا۔
10 علم و عمل کی باتیں — دین کے معاملے میں مفاہمت ممکن نہیں ہے۔
14 تفصیلی جوابات

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ

اسمِ اشارہ قریب کی تعریف کریں اور مثالیں تحریر کریں۔

عربی زبان میں جن الفاظ سے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، وہ «اسماءِ اشارہ» کہلاتے ہیں۔ ان کی دو قسمیں ہیں: اسمِ اشارہ قریب اور اسمِ اشارہ بعید۔

1 اسمِ اشارہ قریب کی تعریف — وہ لفظ جو نزدیک کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہو، اسمِ اشارہ قریب کہلاتا ہے۔
2 اسمِ اشارہ قریب کی مثالیں — واحد مذکر — هٰذَا — «هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ» — یہ سیدھا راستہ ہے۔
3 اسمِ اشارہ قریب کی مثالیں — تثنیہ مذکر — هٰذَانِ / هٰذَیْنِ — «هٰذَانِ لَسَاحِرٰنِ» — یہ دو جادوگر ہیں۔
4 اسمِ اشارہ قریب کی مثالیں — جمع مذکر — هٰۤؤُلَآءِ — «هٰۤؤُلَآءِ مُسْلِمُوْنَ» — یہ سب مسلمان ہیں۔
5 اسمِ اشارہ قریب کی مثالیں — واحد مؤنث — هٰذِهٖ — «هٰذِهِ الشَّجَرَةُ» — یہ ایک درخت (ہے)۔
6 اسمِ اشارہ قریب کی مثالیں — تثنیہ مؤنث — هَاتَانِ / هَاتَیْنِ — «هَاتَانِ مُسْلِمَتَانِ» — یہ دو مسلمان عورتیں ہیں۔
7 اسمِ اشارہ قریب کی مثالیں — جمع مؤنث — هٰۤؤُلَآءِ — «هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيْ» — یہ سب میری بیٹیاں ہیں۔
8 یاد رہے — جمع کا صیغہ مشترک — جمع مذکر اور جمع مؤنث دونوں کے لیے «هٰۤؤُلَآءِ» ہی آتا ہے۔
9 یاد رہے — تثنیہ کی دو صورتیں — حالتِ رفع میں «هٰذَانِ» اور «هَاتَانِ»، جبکہ حالتِ نصب و جر میں «هٰذَیْنِ» اور «هَاتَیْنِ»۔
10 یاد رہے — اشارہ اور معرفہ — اسمِ اشارہ، اسم معرفہ کی سات قسموں میں سے تیسری قسم ہے۔
11 یاد رہے — اسمِ اشارہ بعید — دور کی چیزوں کے لیے «ذٰلِكَ»، «تِلْكَ» اور «اُولٰٓئِكَ» جیسے الفاظ آتے ہیں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)

اس سورت کو ترجمے کے ساتھ یاد کریں۔

یاد کرنے میں آسانی کے لیے سورت کو تین جوڑوں میں تقسیم کر لیجیے۔

1 پہلا حصہ — آیات 1 اور 2 — قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ
2 پہلا حصہ — آیات 1 اور 2 — سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 اور 2
3 پہلا حصہ — آیات 1 اور 2 — آپ (ﷺ) فرما دیجیے کہ اے کافرو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
4 دوسرا حصہ — آیات 3 اور 4 — وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٞ مَّا عَبَدتُّمۡ
5 دوسرا حصہ — آیات 3 اور 4 — سورۃ الکافرون ۔ آیات 3 اور 4
6 دوسرا حصہ — آیات 3 اور 4 — اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس (اللہ) کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں ان کی جن کی تم نے عبادت کی۔
7 تیسرا حصہ — آیات 5 اور 6 — وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ
8 تیسرا حصہ — آیات 5 اور 6 — سورۃ الکافرون ۔ آیات 5 اور 6
9 تیسرا حصہ — آیات 5 اور 6 — اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس (اللہ) کی میں عبادت کرتا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔
10 یاد کرنے کے لیے مشورے — ترتیب کا خیال — آیت 3 اور آیت 5 بالکل ایک جیسی ہیں؛ ان کی جگہ ذہن میں واضح رکھیں تاکہ تلاوت میں التباس نہ ہو۔
11 یاد کرنے کے لیے مشورے — روزانہ تلاوت — سونے سے پہلے اسے پڑھنا سنت ہے، اسی سے یاد بھی ہو جائے گی۔
12 یاد کرنے کے لیے مشورے — نماز میں پڑھنا — فجر اور مغرب کی سنتوں میں پڑھنے سے تکرار ہوتی رہے گی۔
13 یاد کرنے کے لیے مشورے — ترجمہ ساتھ ساتھ — ہر آیت کا ترجمہ اسی وقت دہرائیں جب آیت یاد کریں۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 2)

کوئی سی آٹھ عبادات کے نام تحریر کریں اور مباحثہ کریں۔

عبادت سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، اس کے حکم کے مطابق کیا جائے۔ آٹھ عبادات درج ذیل ہیں:

آٹھ عبادات اور مباحثے کے لیے نکات

1 آٹھ عبادات — 1۔ ایمان — اللہ، اس کے رسولوں، فرشتوں، کتابوں، آخرت اور تقدیر پر یقین — یہ سب عبادات کی بنیاد ہے۔
2 آٹھ عبادات — 2۔ نماز — دن رات میں پانچ فرض نمازیں، جو دین کا ستون ہیں۔
3 آٹھ عبادات — 3۔ روزہ — رمضان المبارک کے فرض روزے۔
4 آٹھ عبادات — 4۔ زکوٰۃ — مقررہ مال میں سے غریبوں کا حق ادا کرنا۔
5 آٹھ عبادات — 5۔ حج — استطاعت رکھنے والوں پر زندگی میں ایک بار فرض۔
6 آٹھ عبادات — 6۔ قربانی — ایامِ نحر میں اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا۔
7 آٹھ عبادات — 7۔ تلاوتِ قرآن اور ذکر — قرآنِ مجید پڑھنا، دعا اور تسبیح کرنا۔
8 آٹھ عبادات — 8۔ خدمتِ خلق — والدین کی خدمت، صدقہ، یتیم اور مسکین کی مدد اور حسنِ سلوک۔
9 مباحثے کے لیے نکات — عبادت کی وسعت — عبادت صرف نماز روزہ نہیں؛ نیک نیتی سے کیا گیا ہر جائز کام عبادت بن سکتا ہے۔
10 مباحثے کے لیے نکات — حقوق اللہ اور حقوق العباد — کچھ عبادات کا تعلق اللہ سے ہے اور کچھ کا بندوں سے؛ دونوں ضروری ہیں۔
11 مباحثے کے لیے نکات — بدنی، مالی اور مشترک — نماز اور روزہ بدنی، زکوٰۃ اور قربانی مالی، جبکہ حج دونوں کا مجموعہ ہے۔
12 مباحثے کے لیے نکات — اخلاص شرط ہے — ہر عبادت صرف اللہ کے لیے ہو؛ اسی سورت کا مضمون بھی یہی ہے۔
13 مباحثے کے لیے نکات — شرک کا خطرہ — عبادت کا کوئی حصہ غیر اللہ کی طرف پھیرنا شرک ہے۔
17 سرگرمیاں برائے طلبہ

لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)

سورۃ الکافرون میں دیے گئے اسماء تلاش کریں۔

اس سورت میں آنے والے اسماء درج ذیل ہیں:

اسماء کی فہرست اور موازنے کے لیے — سورت کے افعال

1 اسماء کی فہرست — اَلْكٰفِرُوْنَ (آیت 1) — معرف باللام اسم — کفار، یعنی حق کا انکار کرنے والے۔
2 اسماء کی فہرست — مَا (آیات 2، 3، 4 اور 5) — اسمِ موصول — جس کی/جن کی۔
3 اسماء کی فہرست — اَنْتُمْ (آیات 3 اور 5) — ضمیرِ منفصل (مذکر حاضر جمع) — تم سب۔
4 اسماء کی فہرست — عٰبِدُوْنَ (آیات 3 اور 5) — اسمِ فاعل کی جمع — عبادت کرنے والے۔
5 اسماء کی فہرست — اَنَا (آیت 4) — ضمیرِ منفصل (متکلم واحد) — میں۔
6 اسماء کی فہرست — عَابِدٌ (آیت 4) — اسمِ فاعل واحد — عبادت کرنے والا۔
7 اسماء کی فہرست — دِیْنُكُمْ (آیت 6) — مضاف الی الضمیر — تمھارا دین۔
8 اسماء کی فہرست — دِیْنِ (آیت 6) — مضاف الی الضمیر — میرا دین (یاءِ متکلم محذوف ہے)۔
9 موازنے کے لیے — سورت کے افعال — اس سورت کے افعال یہ ہیں: «قُلْ» (فعلِ امر)، «اَعْبُدُ» اور «تَعْبُدُوْنَ» (فعلِ مضارع)، اور «عَبَدْتُّمْ» (فعلِ ماضی)۔
جواب حروف — اس سورت کے حروف یہ ہیں: «یا» (حرفِ ندا)، «لَا» (حرفِ نفی)، «وَ» (حرفِ عطف) اور «لِ» (حرفِ جارہ، جیسے «لَكُمْ» اور «لِيَ» میں)۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ (سورۃ الکافرون ۔ آیات 1 تا 6)

سورۃ الکافرون میں بیان ہونے والی تعلیمات اور اسباق تحریر کریں۔

یہ مختصر سورت عقیدے، دعوت اور کردار — تینوں کے بارے میں واضح تعلیمات دیتی ہے۔

1 عقیدے کی تعلیمات — خالص توحید — عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس میں کسی کو شریک نہیں کیا جا سکتا۔
2 عقیدے کی تعلیمات — شرک سے برأت — اس سورت کو «شرک سے برأت» قرار دیا گیا ہے۔
3 عقیدے کی تعلیمات — ملاوٹ ناممکن — ایمان میں کفر کی ملاوٹ ممکن نہیں۔
4 عقیدے کی تعلیمات — حق و باطل کا فرق — دونوں کے راستے بالکل جدا ہیں۔
5 دعوت کی تعلیمات — وضاحت — دین کی دعوت بالکل واضح اور دو ٹوک انداز میں پیش کرنی چاہیے۔
6 دعوت کی تعلیمات — مفاہمت نہیں — دین کے بنیادی معاملات میں کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔
7 دعوت کی تعلیمات — استقامت — دباؤ، لالچ اور پیشکشوں کے باوجود موقف پر قائم رہنا۔
8 دعوت کی تعلیمات — اخلاقی حد — انکار کے باوجود گالی گلوچ یا زیادتی نہیں، بلکہ صرف موقف کا اعلان۔
9 کردار اور عمل کی تعلیمات — اخلاص — ہر عبادت صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو۔
10 کردار اور عمل کی تعلیمات — بردباری — مخالفت کے وقت جذبات میں آنے کے بجائے حکمت سے کام لینا۔
11 کردار اور عمل کی تعلیمات — پہچان — اپنے دین اور اپنی پہچان پر مطمئن رہنا۔
12 کردار اور عمل کی تعلیمات — معمولِ نبوی ﷺ سے تعلق — اس سورت کو نماز اور سونے سے پہلے پڑھنے کا اہتمام کرنا۔
جواب خلاصہ — تعلقات میں نرمی ہو سکتی ہے، مگر عقیدے میں سمجھوتا نہیں — یہی اس سورت کا سب سے بڑا سبق ہے۔
19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 6)

عبادت اور دین کا مفہوم بیان کریں۔

ترجمہ

تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔

عبادت کا مفہوم اور دین کا مفہوم

1 عبادت کا مفہوم — لغوی معنی — «عبادت» کے معنی ہیں: انتہائی عاجزی اور فرماں برداری کے ساتھ کسی کے سامنے جھک جانا۔
2 عبادت کا مفہوم — اصطلاحی مفہوم — اللہ تعالیٰ کے احکام کو اس کی رضا کے لیے، اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق بجا لانا۔
3 عبادت کا مفہوم — وسعت — اس میں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے ساتھ ساتھ ہر وہ جائز کام بھی شامل ہے جو نیک نیتی سے کیا جائے۔
4 عبادت کا مفہوم — شرط — اخلاص (صرف اللہ کے لیے ہونا) اور اتباعِ سنت (طریقۂ رسول ﷺ کے مطابق ہونا)۔
5 عبادت کا مفہوم — اس سورت سے تعلق — پوری سورت اسی بات پر ہے کہ عبادت کا رخ صرف اللہ کی طرف ہو۔
6 دین کا مفہوم — لغوی اعتبار سے — دین کا معنی ہے «قانون اور طریقہ»۔
7 دین کا مفہوم — اصطلاحی اعتبار سے — دین کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مخلوق کے لیے عطا کردہ قانون اور طریقۂ زندگی۔
8 دین کا مفہوم — جامعیت — دین صرف چند عبادات کا نام نہیں، بلکہ عقیدہ، عبادت، اخلاق اور معاملات سب اس میں شامل ہیں۔
9 دین کا مفہوم — ایک اور معنی — قرآن میں «دِیْن» بدلے اور جزا و سزا کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے سورۃ الماعون کی پہلی آیت «یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِ» میں۔
10 دین کا مفہوم — اس آیت میں — «لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَلِيَ دِیْنِ» میں دین سے مراد طریقۂ زندگی اور عقیدہ ہے۔
جواب دونوں کا باہمی ربط — دین وہ مکمل نظام ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا، اور عبادت اس نظام کا سب سے اہم حصہ ہے۔ جس کا دین درست ہو گا، اسی کی عبادت قبول ہو گی۔
20 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 1)

اسماءِ اشارہ کو قرآنی مثالوں سے واضح کریں۔

اسماءِ اشارہ وہ الفاظ ہیں جن سے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ ان کی دو قسمیں ہیں: قریب کے لیے اور بعید کے لیے۔

1 اسمِ اشارہ قریب — قرآنی مثالیں — هٰذَا (واحد مذکر) — «هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ» — یہ سیدھا راستہ ہے۔ (سورۃ آل عمران ۔ آیت 51)
2 اسمِ اشارہ قریب — قرآنی مثالیں — هٰذَانِ (تثنیہ مذکر) — «إِنۡ هَٰذَٰنِ لَسَٰحِرَٰنِ» — بے شک یہ دونوں جادوگر ہیں۔ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 63)
3 اسمِ اشارہ قریب — قرآنی مثالیں — هٰذِهٖ (واحد مؤنث) — «تَقۡرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ» — اس درخت کے قریب نہ جانا۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 35)
4 اسمِ اشارہ قریب — قرآنی مثالیں — هٰۤؤُلَآءِ (جمع) — «قَالَ هَـٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِيٓ» — انہوں نے کہا: یہ میری بیٹیاں ہیں۔ (سورۃ الحجر ۔ آیت 71)
5 اسمِ اشارہ بعید — قرآنی مثالیں — ذٰلِكَ (واحد مذکر) — «ذَٰلِكَ ٱلۡكِتَٰبُ لَا رَيۡبَۛ فِيهِ» — یہ (وہ) کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 2)
6 اسمِ اشارہ بعید — قرآنی مثالیں — تِلْكَ (واحد مؤنث) — «تِلۡكَ ٱلرُّسُلُ» — یہ رسول ہیں۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 253)
7 اسمِ اشارہ بعید — قرآنی مثالیں — اُولٰٓئِكَ (جمع) — «أُوْلَـٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدٗى مِّن رَّبِّهِمۡ» — یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 5)
8 یاد رہے — اس سبق کا دائرہ — کتاب میں اس سبق کے تحت صرف «اسمِ اشارہ قریب» کا نقشہ دیا گیا ہے؛ بعید کی مثالیں یہاں سمجھنے کے لیے شامل کی گئی ہیں۔
9 یاد رہے — جمع کا صیغہ — قریب کے لیے «هٰۤؤُلَآءِ» اور بعید کے لیے «اُولٰٓئِكَ» — دونوں مذکر و مؤنث کے لیے مشترک ہیں۔
10 یاد رہے — معرفہ ہونا — اسمِ اشارہ ہمیشہ معرفہ ہوتا ہے، اسی لیے یہ اسم معرفہ کی سات قسموں میں شمار ہوتا ہے۔
11 یاد رہے — اس سورت میں — سورۃ الکافرون میں کوئی اسمِ اشارہ نہیں آیا؛ اس کے بجائے یہاں اسمِ موصول «مَا» اور ضمائر «اَنَا» و «اَنْتُمْ» استعمال ہوئے ہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.