متن کے لحاظ سے قرآنِ حکیم کی سب سے چھوٹی سورت ہے:
الف) اَلْعَصْر • ب) اَلْكَوْثَر • ج) اَلنَّصْر • د) اَلْاِخْلَاص
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
متن کے لحاظ سے قرآنِ حکیم کی سب سے چھوٹی سورت ہے:
الف) اَلْعَصْر • ب) اَلْكَوْثَر • ج) اَلنَّصْر • د) اَلْاِخْلَاص
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)
رسول اللہ ﷺ کو بے نام و نشان ہونے کا طعنہ دیا تھا:
الف) عاص بن وائل نے • ب) ابوجہل نے • ج) ابولہب نے • د) عتبہ بن ربیعہ نے
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 2)
«فَصَلِّ لِرَبِّكَ» آیتِ کریمہ میں حکم دیا گیا ہے:
الف) زکوٰۃ کا • ب) نماز کا • ج) حج کا • د) قربانی کا
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 2)
«وَانْحَرْ» کے معنی ہیں:
الف) اور نماز پڑھیں • ب) اور زکوٰۃ ادا کریں • ج) اور حج ادا کریں • د) اور قربانی کریں
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)
«شَانِئَكَ» کے معنی ہیں:
الف) ہمارا دشمن • ب) اس کا دشمن • ج) میرا دشمن • د) آپ کا دشمن
إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 1)
نہرِ کوثر سے کیا مراد ہے؟
بے شک ہم نے آپ (ﷺ) کو کوثر عطا فرمائی۔
نہرِ کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے، جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائی ہے۔
کوثر کے دو مفہوم
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 2)
آیتِ کریمہ میں کیا حکم دیا گیا ہے؟
تو آپ (ﷺ) اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔
اس آیت میں دو حکم دیے گئے ہیں: نماز پڑھنے کا اور قربانی کرنے کا — اور دونوں صرف اللہ تعالیٰ کے لیے۔
اہم نکات
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے دشمنوں کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟
بے شک آپ (ﷺ) کا دشمن ہی بے نسل (اور بے نام و نشان) رہے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا دشمن ہی بے نام و نشان رہے گا، نہ کہ آپ ﷺ۔
اہم نکات
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 2)
حدیثِ شریف کے مطابق قربانی کرنے کی کیا فضیلت ہے؟
حدیثِ شریف کے مطابق قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ کوئی عمل نہیں۔
فرمانِ نبوی ﷺ اور فضیلت کے پہلو
إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ (سورۃ الکوثر ۔ آیات 1 تا 3)
سورۃ الکوثر میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟
اس سورت میں ہمارے لیے کئی اہم اسباق ہیں:
علم و عمل کی باتیں اور مزید سبق
إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیات 1 تا 3)
سورۃ الکوثر کا ترجمہ تحریر کریں۔
بے شک ہم نے آپ (ﷺ) کو کوثر عطا فرمائی۔ تو آپ (ﷺ) اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ بے شک آپ (ﷺ) کا دشمن ہی بے نسل (اور بے نام و نشان) رہے گا۔
لفظی وضاحت اور اہم نکات
إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 1)
سورۃ الکوثر کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سورۃ الکوثر مکی سورت ہے۔ اس سورت کی پہلی آیت میں «اَلْكَوْثَر» (خیرِ کثیر) کے عطا کیے جانے کی خوش خبری دی گئی ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام «الکوثر» ہے۔
وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیات 1 تا 3)
سورۃ الکوثر کے بنیادی مضامین تحریر کریں۔
اس سورت کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
شانِ نزول
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)
ضمیرِ منفصل کی تعریف کریں اور سورۃ الکوثر سے ضمیرِ منفصل کی مثال تلاش کر کے لکھیں۔
ضمیرِ منفصل ایسی ضمیر ہے جو اسم یا فعل سے الگ ہوتی ہے، یعنی مستقل لفظ کے طور پر آتی ہے اور اپنے پچھلے اور اگلے لفظ سے بالکل جدا ہوتی ہے۔
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 2)
اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی چند نعمتوں پر شکر ادا کرنے کے کوئی سے پانچ طریقوں کی فہرست بنائیں۔
شکر کے تین درجے ہیں: دل سے نعمت کو اللہ کی طرف سے ماننا، زبان سے اس کا اعتراف کرنا، اور اعضا سے اس نعمت کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا۔ پانچ عملی طریقے یہ ہیں:
پانچ طریقے اور مزید طریقے
إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ (سورۃ الکوثر ۔ آیات 1 تا 2)
کوثر، قربانی کی حقیقت اور نماز کی اہمیت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔
تینوں موضوعات کا خلاصہ درج ذیل ہے؛ مزید تفصیل کے لیے اپنے اساتذہ کرام سے رہنمائی لیں۔
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیات 1 تا 3)
سورۃ الکوثر سے حاصل ہونے والے اسباق پر مذاکرہ کریں۔
مذاکرے کے لیے درج ذیل نکات سامنے رکھے جا سکتے ہیں:
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)
گستاخانِ رسول ﷺ کے انجام کے حوالے سے چند واقعات بیان کریں۔
بے شک آپ (ﷺ) کا دشمن ہی بے نسل (اور بے نام و نشان) رہے گا۔
قرآنِ مجید نے یہ اصول بیان فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے دشمن ہی بے نام و نشان رہیں گے۔ سیرت کی کتابوں میں اس کے کئی واقعات محفوظ ہیں:
چند واقعات اور ان واقعات کا سبق
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)
ضمائرِ منفصلہ کو ترجمے اور مثالوں کے ساتھ بیان کریں۔
ضمیرِ منفصل وہ ضمیر ہے جو اسم یا فعل سے الگ، مستقل لفظ کے طور پر آتی ہے۔ عربی میں مذکر، مؤنث، واحد، تثنیہ اور جمع کے لیے مختلف ضمائرِ منفصلہ استعمال ہوتی ہیں۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔