چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 15: سبق 15: سورۃ الکوثر (آیات: 1 تا 3) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 19 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

متن کے لحاظ سے قرآنِ حکیم کی سب سے چھوٹی سورت ہے:

الف) اَلْعَصْر • ب) اَلْكَوْثَر • ج) اَلنَّصْر • د) اَلْاِخْلَاص

جواب ب) اَلْكَوْثَر — سورۃ الکوثر کلمات کے لحاظ سے قرآنِ مجید کی سب سے چھوٹی سورت ہے۔ اس کی آیات کی تعداد صرف تین ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)

رسول اللہ ﷺ کو بے نام و نشان ہونے کا طعنہ دیا تھا:

الف) عاص بن وائل نے • ب) ابوجہل نے • ج) ابولہب نے • د) عتبہ بن ربیعہ نے

جواب الف) عاص بن وائل نے — نبی کریم ﷺ کے بیٹوں حضرت قاسم اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما کے انتقال پر کفار نے خوشیاں منائیں، اور عاص بن وائل نے آپ ﷺ کو (معاذ اللہ) بے نام و نشان ہونے کا طعنہ دیا۔ اسی کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 2)

«فَصَلِّ لِرَبِّكَ» آیتِ کریمہ میں حکم دیا گیا ہے:

الف) زکوٰۃ کا • ب) نماز کا • ج) حج کا • د) قربانی کا

جواب ب) نماز کا — «فَصَلِّ» فعلِ امر ہے جس کا معنی ہے: پس نماز پڑھیے۔ «لِرَبِّكَ» یعنی اپنے رب کے لیے۔ قربانی کا حکم اسی آیت کے دوسرے حصے «وَانْحَرْ» میں ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 2)

«وَانْحَرْ» کے معنی ہیں:

الف) اور نماز پڑھیں • ب) اور زکوٰۃ ادا کریں • ج) اور حج ادا کریں • د) اور قربانی کریں

جواب د) اور قربانی کریں — «نَحْر» اونٹ وغیرہ کو ذبح کرنے کو کہتے ہیں۔ سبق کی ذخیرۃ الفاظ میں «وَانْحَرْ» کا معنی «اور تو قربانی کر» دیا گیا ہے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)

«شَانِئَكَ» کے معنی ہیں:

الف) ہمارا دشمن • ب) اس کا دشمن • ج) میرا دشمن • د) آپ کا دشمن

جواب د) آپ کا دشمن — «شَانِئ» کا معنی دشمن اور بغض رکھنے والا ہے، اور آخر میں «كَ» ضمیرِ متصل (مذکر حاضر واحد) ہے، اس لیے ترجمہ «آپ کا دشمن» ہو گا۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 1)

نہرِ کوثر سے کیا مراد ہے؟

ترجمہ

بے شک ہم نے آپ (ﷺ) کو کوثر عطا فرمائی۔

نہرِ کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے، جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائی ہے۔

کوثر کے دو مفہوم

1 نہرِ کوثر — جنت میں ایک خاص نہر، جو آپ ﷺ کو عطا کی گئی۔
2 خیرِ کثیر — بہت زیادہ بھلائی اور نعمتوں کی کثرت — یعنی نبوت، قرآن، شفاعت، ذکرِ خیر اور امت کی کثرت جیسی بے شمار نعمتیں۔
جواب فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کوثر جنت میں ایک نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کے پانی کا گزر موتیوں اور یاقوت پر ہوتا ہے، اس کی مٹی مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے، اس کا پانی شہد سے بھی زیادہ میٹھا اور برف سے بھی زیادہ سفید ہے۔ (جامع ترمذی: 3361)
7 مختصر جوابات

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 2)

آیتِ کریمہ میں کیا حکم دیا گیا ہے؟

ترجمہ

تو آپ (ﷺ) اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔

اس آیت میں دو حکم دیے گئے ہیں: نماز پڑھنے کا اور قربانی کرنے کا — اور دونوں صرف اللہ تعالیٰ کے لیے۔

اہم نکات

1 شکر کا تقاضا — حرفِ «فا» بتاتا ہے کہ یہ حکم پہلی آیت کی نعمت (کوثر) کا شکر ہے۔
2 لِرَبِّكَ — اپنے رب کے لیے — یعنی عبادت میں اخلاص شرط ہے، دکھاوا نہیں۔
3 دو بڑی عبادتیں — نماز بدنی عبادت ہے اور قربانی مالی عبادت؛ دونوں کا ایک ساتھ ذکر جامعیت کی دلیل ہے۔
4 غیر اللہ کی نفی — نماز اور قربانی صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں؛ کسی غیر کے نام پر قربانی کرنا شرک ہے۔
5 مشرکین سے فرق — وہ بتوں کے نام پر قربانی کرتے تھے، اور یہاں حکم ہوا کہ صرف اپنے رب کے لیے کیجیے۔
8 مختصر جوابات

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے دشمنوں کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟

ترجمہ

بے شک آپ (ﷺ) کا دشمن ہی بے نسل (اور بے نام و نشان) رہے گا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا دشمن ہی بے نام و نشان رہے گا، نہ کہ آپ ﷺ۔

اہم نکات

1 اَلْاَبْتَر — جس کی جڑ کٹ جائے، یعنی بے نسل اور بے نام و نشان۔
2 طعنے کا جواب — کفار نے آپ ﷺ کو یہ طعنہ دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے وہی لفظ انہی پر لوٹا دیا۔
3 ضمیرِ فصل — «هُوَ» لا کر بات کو مؤکد کیا گیا — یعنی بے نام و نشان وہی ہو گا، اور یقیناً وہی ہو گا۔
4 پیشین گوئی کا پورا ہونا — دشمنوں کے نام مٹ گئے، جبکہ آپ ﷺ کا ذکر دنیا بھر میں دن رات بلند ہوتا ہے۔
5 سبق — رسول کریم ﷺ کے دشمن اور گستاخ دنیا و آخرت دونوں میں بے نام و نشان رہیں گے۔
9 مختصر جوابات

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 2)

حدیثِ شریف کے مطابق قربانی کرنے کی کیا فضیلت ہے؟

حدیثِ شریف کے مطابق قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ کوئی عمل نہیں۔

فرمانِ نبوی ﷺ اور فضیلت کے پہلو

1 فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قربانی والے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدمی کا کوئی عمل قربانی (کے جانور) کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں۔ (سنن ترمذی: 1493)
2 فضیلت کے پہلو — سب سے محبوب عمل — دس ذوالحجہ کے دن اس سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ کو پسند نہیں۔
3 فضیلت کے پہلو — سنتِ ابراہیمی — یہ سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام کی عظیم قربانی کی یادگار ہے۔
4 فضیلت کے پہلو — شکر گزاری — قربانی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا ذریعہ ہے۔
5 فضیلت کے پہلو — اصل مقصود تقویٰ — اللہ تک گوشت اور خون نہیں پہنچتے، بلکہ دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔
6 فضیلت کے پہلو — صرف اللہ کے لیے — قربانی خالص اللہ ہی کے نام پر ہونی چاہیے۔
10 مختصر جوابات

إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ (سورۃ الکوثر ۔ آیات 1 تا 3)

سورۃ الکوثر میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟

اس سورت میں ہمارے لیے کئی اہم اسباق ہیں:

علم و عمل کی باتیں اور مزید سبق

1 علم و عمل کی باتیں — اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو کوثر (خیرِ کثیر) عطا فرمائی۔
2 علم و عمل کی باتیں — ہمیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
3 علم و عمل کی باتیں — نماز اور قربانی اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کا ذریعہ ہیں، اور یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہیں۔
4 علم و عمل کی باتیں — رسول کریم ﷺ کے دشمن اور گستاخ دنیا و آخرت دونوں میں بے نام و نشان رہیں گے۔
5 مزید سبق — صبر کا صلہ — آپ ﷺ نے طعنوں پر صبر فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے خود آپ کا دفاع کیا۔
6 مزید سبق — نعمت کا شکر عمل سے — شکر صرف زبان سے نہیں، بلکہ عبادت اور خرچ کرنے سے ادا ہوتا ہے۔
7 مزید سبق — اخلاص — «لِرَبِّكَ» کی قید بتاتی ہے کہ ہر عبادت صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیات 1 تا 3)

سورۃ الکوثر کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

بے شک ہم نے آپ (ﷺ) کو کوثر عطا فرمائی۔ تو آپ (ﷺ) اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ بے شک آپ (ﷺ) کا دشمن ہی بے نسل (اور بے نام و نشان) رہے گا۔

لفظی وضاحت اور اہم نکات

1 لفظی وضاحت — اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ — بے شک ہم نے آپ کو عطا فرمایا — «نَا» متکلم کی ضمیر ہے اور «كَ» مخاطب کی۔
2 لفظی وضاحت — اَلْكَوْثَر — خیرِ کثیر؛ جنت کی ایک نہر کا نام بھی ہے۔
3 لفظی وضاحت — فَصَلِّ لِرَبِّكَ — پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں۔
4 لفظی وضاحت — وَانْحَرْ — اور تو قربانی کر۔
5 لفظی وضاحت — شَانِئَكَ — آپ کا دشمن۔
6 لفظی وضاحت — اَلْاَبْتَر — بے نام و نشان، جس کی نسل اور نام باقی نہ رہے۔
7 اہم نکات — پہلی آیت — عطا کا اعلان — اللہ تعالیٰ نے خود اپنی طرف نسبت کر کے نعمت کا ذکر فرمایا۔
8 اہم نکات — دوسری آیت — نعمت کا تقاضا — نماز اور قربانی، دونوں خالص اللہ کے لیے۔
9 اہم نکات — تیسری آیت — دشمن کا انجام — طعنہ دینے والوں ہی کا نام مٹ جائے گا۔
10 اہم نکات — مختصر مگر جامع — یہ کلمات کے لحاظ سے سب سے چھوٹی سورت ہے، مگر عطا، عبادت اور بشارت — تینوں مضامین سمیٹے ہوئے ہے۔
12 تفصیلی جوابات

إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 1)

سورۃ الکوثر کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ الکوثر مکی سورت ہے۔ اس سورت کی پہلی آیت میں «اَلْكَوْثَر» (خیرِ کثیر) کے عطا کیے جانے کی خوش خبری دی گئی ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام «الکوثر» ہے۔

وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات

1 وجہِ تسمیہ — پہلی آیت «اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ» میں لفظِ «الکوثر» موجود ہے، اسی مناسبت سے سورت کا نام سورۃ الکوثر رکھا گیا۔
2 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید میں یہ 108ویں سورت ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 15ویں نمبر پر ہے۔
3 تعارفی معلومات — نوعیت — یہ مکی سورت ہے۔
4 تعارفی معلومات — آیات و رکوع — اس کی آیات کی تعداد 3 اور رکوع 1 ہے۔
5 تعارفی معلومات — امتیازی خصوصیت — یہ کلمات کے لحاظ سے قرآنِ مجید کی سب سے چھوٹی سورت ہے۔
جواب مرکزی مضمون — نبی کریم ﷺ کی شانِ مبارک کا ذکر۔
13 تفصیلی جوابات

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیات 1 تا 3)

سورۃ الکوثر کے بنیادی مضامین تحریر کریں۔

اس سورت کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

شانِ نزول

1 پہلا مضمون — آپ ﷺ کو کوثر یعنی «نہرِ کوثر» اور «خیرِ کثیر» یعنی نعمتوں کی کثرت عطا فرمائے جانے کا ذکر۔
2 دوسرا مضمون — آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے نماز پڑھنے اور قربانی کرنے کی تلقین۔
3 تیسرا مضمون — آپ ﷺ کے دشمنوں کے بے نام و نشان ہونے کی خبر۔
4 سیدنا حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ کے بیٹوں حضرت قاسم اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما کے انتقال پر کفار نے خوشیاں منائیں، اور عاص بن وائل نے آپ ﷺ کو (معاذ اللہ) بے نام و نشان ہونے کا طعنہ دیا۔ اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔
جواب مضامین کی ترتیب کا نکتہ — پہلے عطا کا ذکر، پھر اس کے شکر کا حکم، اور آخر میں مخالفین کے انجام کی خبر — یعنی تسلی، تعلیم اور بشارت تینوں ایک ساتھ۔
14 تفصیلی جوابات

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)

ضمیرِ منفصل کی تعریف کریں اور سورۃ الکوثر سے ضمیرِ منفصل کی مثال تلاش کر کے لکھیں۔

ضمیرِ منفصل ایسی ضمیر ہے جو اسم یا فعل سے الگ ہوتی ہے، یعنی مستقل لفظ کے طور پر آتی ہے اور اپنے پچھلے اور اگلے لفظ سے بالکل جدا ہوتی ہے۔

1 مثالیں (سبق سے) — وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ — اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے — یہاں «هُوَ» ضمیرِ منفصل ہے۔
2 مثالیں (سبق سے) — وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ — اور نہ ہمیں عذاب ہو گا — یہاں «نَحْنُ» ضمیرِ منفصل ہے۔
3 سورۃ الکوثر سے مثال — هُوَ (آیت 3) — «إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ» — «اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ» میں «هُوَ» الگ اور مستقل لفظ کے طور پر آیا ہے، اس لیے یہ ضمیرِ منفصل ہے۔
4 اسی سورت میں فرق سمجھیں — ضمیرِ منفصل — آیت 3 کا «هُوَ» — الگ لفظ ہے۔
5 اسی سورت میں فرق سمجھیں — ضمیرِ متصل — آیت 1 کا «اَعْطَیْنٰكَ» (نَا اور كَ)، آیت 2 کا «لِرَبِّكَ» (كَ) اور آیت 3 کا «شَانِئَكَ» (كَ) — یہ سب لفظ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔
6 اسی سورت میں فرق سمجھیں — پہچان کا اصول — اگر ضمیر الگ لکھی جائے تو منفصل، اور اگر کسی لفظ کے ساتھ ملی ہوئی ہو تو متصل۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 2)

اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی چند نعمتوں پر شکر ادا کرنے کے کوئی سے پانچ طریقوں کی فہرست بنائیں۔

شکر کے تین درجے ہیں: دل سے نعمت کو اللہ کی طرف سے ماننا، زبان سے اس کا اعتراف کرنا، اور اعضا سے اس نعمت کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا۔ پانچ عملی طریقے یہ ہیں:

پانچ طریقے اور مزید طریقے

1 پانچ طریقے — 1۔ نماز کی پابندی — پانچوں نمازیں وقت پر ادا کرنا — یہی «فَصَلِّ لِرَبِّكَ» کا تقاضا ہے۔
2 پانچ طریقے — 2۔ زبان سے حمد — «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا، کھانے پینے پر دعا پڑھنا اور اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ کرنا۔
3 پانچ طریقے — 3۔ مال خرچ کرنا — زکوٰۃ، صدقہ اور قربانی کے ذریعے دوسروں کو اپنی نعمت میں شریک کرنا۔
4 پانچ طریقے — 4۔ نعمت کا درست استعمال — صحت، وقت، علم اور مال کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ کرنا۔
5 پانچ طریقے — 5۔ مخلوق کا شکریہ — والدین، اساتذہ اور مدد کرنے والوں کا شکریہ ادا کرنا؛ جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔
6 مزید طریقے — اپنے سے کم تر کو دیکھنا — تاکہ دل میں قناعت اور شکر پیدا ہو۔
7 مزید طریقے — نعمت کا اظہار — تکبر کے بغیر اللہ کی نعمت کا تذکرہ کرنا بھی شکر ہے۔
8 مزید طریقے — سجدۂ شکر — کوئی خوش خبری ملنے پر شکرانے کا سجدہ کرنا۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ (سورۃ الکوثر ۔ آیات 1 تا 2)

کوثر، قربانی کی حقیقت اور نماز کی اہمیت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

تینوں موضوعات کا خلاصہ درج ذیل ہے؛ مزید تفصیل کے لیے اپنے اساتذہ کرام سے رہنمائی لیں۔

1 کوثر کی حقیقت — لغوی معنی — «کوثر» کثرت سے بنا ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی (خیرِ کثیر)۔
2 کوثر کی حقیقت — نہرِ کوثر — جنت میں ایک نہر، جس کے کنارے سونے کے ہیں، پانی شہد سے میٹھا اور برف سے سفید ہے۔
3 کوثر کی حقیقت — حوضِ کوثر — قیامت کے دن آپ ﷺ اپنی امت کو اس سے سیراب فرمائیں گے۔
4 کوثر کی حقیقت — وسیع مفہوم — نبوت، قرآن، مقامِ محمود، شفاعت، ذکرِ خیر اور امت کی کثرت — سب اس میں شامل ہیں۔
5 قربانی کی حقیقت — سنتِ ابراہیمی — سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام کی اطاعت کی یادگار۔
6 قربانی کی حقیقت — اصل روح — گوشت اور خون اللہ تک نہیں پہنچتے، بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے۔
7 قربانی کی حقیقت — اخلاص کی شرط — قربانی صرف اللہ کے نام پر ہو؛ غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا حرام ہے۔
8 قربانی کی حقیقت — فضیلت — قربانی کے دن اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ کوئی عمل نہیں۔
9 قربانی کی حقیقت — سماجی پہلو — گوشت میں غریبوں، رشتہ داروں اور ہمسایوں کا حصہ رکھنا۔
10 نماز کی اہمیت — کفر و ایمان کی حد — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بندے کے اور کفر و شرک کے درمیان فرق صرف نماز کا چھوڑنا ہے۔ (صحیح مسلم: 82)
11 نماز کی اہمیت — پہلا سوال — قیامت کے دن سب سے پہلے نماز ہی کا حساب لیا جائے گا۔
12 نماز کی اہمیت — برائی سے روکنا — نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
13 نماز کی اہمیت — شکر کا ذریعہ — اسی لیے کوثر کی نعمت کے بعد سب سے پہلے نماز کا حکم دیا گیا۔
14 نماز کی اہمیت — اخلاص کے ساتھ — «لِرَبِّكَ» — نماز صرف اپنے رب کے لیے ہو، دکھاوے کے لیے نہیں۔
17 سرگرمیاں برائے طلبہ

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیات 1 تا 3)

سورۃ الکوثر سے حاصل ہونے والے اسباق پر مذاکرہ کریں۔

مذاکرے کے لیے درج ذیل نکات سامنے رکھے جا سکتے ہیں:

1 عقیدے اور شان کے اسباق — شانِ رسالت — اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی ﷺ کی عزت کا دفاع فرماتا ہے۔
2 عقیدے اور شان کے اسباق — عطائے الٰہی — ہر خیر اور بھلائی اللہ ہی کی عطا ہے، کسی کے طعنے سے کم نہیں ہوتی۔
3 عقیدے اور شان کے اسباق — دشمنوں کا انجام — گستاخ اور دشمن دنیا و آخرت دونوں میں بے نام و نشان رہتے ہیں۔
4 عبادت کے اسباق — شکر بذریعۂ عبادت — نعمت ملنے پر سب سے پہلا تقاضا عبادت ہے۔
5 عبادت کے اسباق — اخلاص — نماز اور قربانی صرف اللہ کے لیے خاص ہیں۔
6 عبادت کے اسباق — بدنی و مالی عبادت — دین میں دونوں کا توازن مطلوب ہے۔
7 کردار کے اسباق — صبر — طعنوں اور تکلیفوں پر صبر کرنا اور اللہ پر بھروسا رکھنا۔
8 کردار کے اسباق — مایوسی سے بچنا — مخالفت کے وقت بھی اللہ کی مدد کا یقین رکھنا۔
9 کردار کے اسباق — زبان کی حفاظت — کسی کو طعنہ دینا اور عیب لگانا بہت بری عادت ہے۔
10 کردار کے اسباق — امید — اللہ جسے نوازنا چاہے، کوئی اس کا نام نہیں مٹا سکتا۔
جواب مذاکرے کا خلاصہ — تین آیتوں کی یہ مختصر سورت بتاتی ہے کہ عطا اللہ کی طرف سے ہے، شکر بندے کے ذمے ہے، اور فیصلہ بھی اللہ ہی کا چلتا ہے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)

گستاخانِ رسول ﷺ کے انجام کے حوالے سے چند واقعات بیان کریں۔

ترجمہ

بے شک آپ (ﷺ) کا دشمن ہی بے نسل (اور بے نام و نشان) رہے گا۔

قرآنِ مجید نے یہ اصول بیان فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے دشمن ہی بے نام و نشان رہیں گے۔ سیرت کی کتابوں میں اس کے کئی واقعات محفوظ ہیں:

چند واقعات اور ان واقعات کا سبق

1 چند واقعات — عاص بن وائل — اسی نے آپ ﷺ کو «ابتر» کہنے کا طعنہ دیا تھا، جس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ آج اس کا اپنا نام صرف اسی طعنے کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، جبکہ آپ ﷺ کا ذکر ہر اذان اور ہر نماز میں بلند ہوتا ہے۔
2 چند واقعات — ابولہب — آپ ﷺ کا سگا چچا ہونے کے باوجود سخت ترین مخالف رہا۔ اس کے بارے میں پوری ایک سورت (سورۃ اللھب) نازل ہوئی، اور وہ ذلت کے ساتھ ایک بیماری میں مبتلا ہو کر مرا۔
3 چند واقعات — ابوجہل — قریش کا سردار اور آپ ﷺ کا شدید ترین دشمن تھا۔ غزوۂ بدر میں دو کم سن انصاری لڑکوں کے ہاتھوں مارا گیا اور بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا۔
4 چند واقعات — عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف — یہ بھی سردارانِ قریش میں سے تھے اور غزوۂ بدر ہی میں اپنے انجام کو پہنچے۔
5 چند واقعات — عقبہ بن ابی معیط — اس نے حالتِ سجدہ میں آپ ﷺ کو اذیت دی تھی؛ بدر کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔
6 ان واقعات کا سبق — وعدۂ الٰہی — اللہ تعالیٰ نے جو خبر دی تھی، وہ لفظ بہ لفظ پوری ہوئی۔
7 ان واقعات کا سبق — نام کا مٹ جانا — ان کی نسلیں یا نام باقی نہ رہے، یا صرف عبرت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
8 ان واقعات کا سبق — ذکرِ رسول ﷺ کی بلندی — قرآن نے فرمایا: «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» — ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔
9 ان واقعات کا سبق — اہلِ ایمان کے لیے تسلی — حق پر ہونے والوں کو مخالفت سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
10 ان واقعات کا سبق — ادب کا تقاضا — ہمیں اپنی زبان اور قلم کو گستاخی سے محفوظ رکھنا اور آپ ﷺ کا ادب و احترام ملحوظ رکھنا چاہیے۔
جواب نوٹ — یہ سیرت اور تاریخ کے واقعات ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی نشان دہی کے لیے بیان کیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد عبرت اور نبی کریم ﷺ سے محبت میں اضافہ ہے۔
19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ (سورۃ الکوثر ۔ آیت 3)

ضمائرِ منفصلہ کو ترجمے اور مثالوں کے ساتھ بیان کریں۔

ضمیرِ منفصل وہ ضمیر ہے جو اسم یا فعل سے الگ، مستقل لفظ کے طور پر آتی ہے۔ عربی میں مذکر، مؤنث، واحد، تثنیہ اور جمع کے لیے مختلف ضمائرِ منفصلہ استعمال ہوتی ہیں۔

1 ضمائرِ منفصلہ کا نقشہ — مذکر غائب — واحد: هُوَ (وہ ایک مرد) | تثنیہ: هُمَا (وہ دو مرد) | جمع: هُمْ (وہ سب مرد)
2 ضمائرِ منفصلہ کا نقشہ — مؤنث غائب — واحد: هِيَ (وہ ایک عورت) | تثنیہ: هُمَا (وہ دو عورتیں) | جمع: هُنَّ (وہ سب عورتیں)
3 ضمائرِ منفصلہ کا نقشہ — مذکر حاضر — واحد: اَنْتَ (تو ایک مرد) | تثنیہ: اَنْتُمَا (تم دو مرد) | جمع: اَنْتُمْ (تم سب مرد)
4 ضمائرِ منفصلہ کا نقشہ — مؤنث حاضر — واحد: اَنْتِ (تو ایک عورت) | تثنیہ: اَنْتُمَا (تم دو عورتیں) | جمع: اَنْتُنَّ (تم سب عورتیں)
5 ضمائرِ منفصلہ کا نقشہ — متکلم (مذکر و مؤنث) — واحد: اَنَا (میں) | جمع: نَحْنُ (ہم)
6 قرآنی مثالیں — هُوَ — «قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ» — کہہ دیجیے کہ وہ اللہ ایک ہے۔ (سورۃ الاخلاص ۔ آیت 1)
7 قرآنی مثالیں — هُمْ — «ٱلَّذِينَ هُمۡ يُرَآءُونَ» — وہ جو دکھاوا کرتے ہیں۔ (سورۃ الماعون ۔ آیت 6)
8 قرآنی مثالیں — هِيَ — «قَالَ هِيَ عَصَايَ» — انہوں نے کہا: یہ میری لاٹھی ہے۔ (سورۃ طٰہٰ ۔ آیت 18)
9 قرآنی مثالیں — اَنْتَ — «إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ» — بے شک تو ہی خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 32)
10 قرآنی مثالیں — اَنْتُمْ — «وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ» — اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو۔ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 3)
11 قرآنی مثالیں — اَنَا — «وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٞ» — اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں۔ (سورۃ الکافرون ۔ آیت 4)
12 قرآنی مثالیں — نَحْنُ — «وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ» — اور نہ ہمیں عذاب دیا جائے گا۔ (سورۃ الشعراء ۔ آیت 138)
13 اہم معلومات — متصل اور منفصل کا فرق — ضمیرِ منفصل الگ لکھی جاتی ہے، جبکہ ضمیرِ متصل کسی لفظ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔
14 اہم معلومات — اسم کے ساتھ متصل — ترجمہ «اس کا، اس کی، ان کا» کیا جاتا ہے۔
15 اہم معلومات — فعل کے ساتھ متصل — ترجمہ «اسے، اس کو، انھیں، سب کو» کیا جاتا ہے۔
16 اہم معلومات — حرف کے ساتھ متصل — ترجمہ «اس وغیرہ» کیا جاتا ہے۔
17 اہم معلومات — اس سبق سے — آیت 3 کا «هُوَ» منفصل ہے، جبکہ «شَانِئَكَ» کا «كَ» متصل ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.