چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 14: سبق 14: سورۃ الماعون (آیات: 1 تا 7) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 19 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 2)

«یَدُعُّ الْیَتِیْمَ» کے معنی ہیں، وہ یتیم کو:

الف) دھکے دیتا ہے • ب) ڈانٹتا ہے • ج) ملنے دیتا ہے • د) نقصان دیتا ہے

جواب الف) دھکے دیتا ہے — «یَدُعُّ» کا معنی ہے: وہ دھکے دیتا ہے۔ سبق کی ذخیرۃ الفاظ میں بھی یہی معنی دیا گیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ آخرت کا منکر یتیم کو حق دینے کے بجائے سختی سے دھتکار دیتا ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 4)

«وَیْلٌ» کے معنی ہیں:

الف) غم • ب) بیماری • ج) مصیبت • د) ہلاکت

جواب د) ہلاکت — «وَیْل» کے معنی تباہی، بربادی اور ہلاکت کے ہیں۔ «ویل» جہنم کی ایک ہول ناک اور گہری وادی کا نام بھی ہے جس سے جہنم خود بھی پناہ مانگتی ہے، اور اس میں طرح طرح کے عذاب ہوں گے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 5)

«سَاهُوْنَ» کے معنی ہیں:

الف) کھیلتے رہتے ہیں • ب) سوتے رہتے ہیں • ج) غافل رہتے ہیں • د) بیمار رہتے ہیں

جواب ج) غافل رہتے ہیں — «سَاهُوْنَ» کا معنی ہے: غافل۔ یعنی وہ لوگ جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں — نہ وقت کا خیال رکھتے ہیں، نہ آداب کا۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیات 4 اور 5)

آیاتِ کریمہ کی رو سے ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو:

الف) دکھاوا کرتے ہیں • ب) نماز میں تاخیر کرتے ہیں • ج) نماز میں سستی کرتے ہیں • د) نماز سے غافل رہتے ہیں

جواب د) نماز سے غافل رہتے ہیں — آیت کے الفاظ «عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ» ہیں، یعنی جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ فرمایا «عَنْ صَلَاتِهِمْ» (نماز سے) نہ کہ «فِیْ صَلَاتِهِمْ» (نماز میں) — یعنی وہ لوگ مراد ہیں جو نماز کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 7)

«اَلْمَاعُوْن» کے معنی ہیں:

الف) فروخت کی چیزیں • ب) بچت کی چیزیں • ج) استعمال کی چیزیں • د) قیمتی چیزیں

جواب ج) استعمال کی چیزیں — «اَلْمَاعُوْن» سے مراد عام استعمال کی معمولی چیزیں ہیں، جیسے برتن، کدال، رسی وغیرہ — جو لوگ ایک دوسرے سے عاریتاً مانگ لیتے ہیں۔ اسی لفظ کی مناسبت سے سورت کا نام «سورۃ الماعون» ہے۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ (سورۃ الماعون ۔ آیت 1)

آیتِ کریمہ میں کس چیز کو جھٹلانے کا ذکر ہے؟

ترجمہ

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو بدلے (کے دن) کو جھٹلاتا ہے؟

اس آیت میں «اَلدِّیْن» یعنی جزا و سزا کے دن (روزِ آخرت) کو جھٹلانے کا ذکر ہے۔

اہم نکات

1 اَلدِّیْن کا مفہوم — یہاں «دِیْن» سے مراد بدلہ اور جزا و سزا ہے، یعنی قیامت کا دن جس میں اعمال کا بدلہ ملے گا۔
2 انداز — «اَرَءَیْتَ» (کیا آپ نے دیکھا؟) کہہ کر سننے والے کو متوجہ کیا گیا ہے کہ ایسے شخص کے کردار پر غور کرو۔
3 عقیدے اور عمل کا ربط — آگے کی آیات بتاتی ہیں کہ آخرت کا انکار محض ایک عقیدے کی خرابی نہیں، بلکہ اس سے کردار بھی بگڑ جاتا ہے۔
4 پہچان — ایسے شخص کی پہچان یہ ہے کہ وہ یتیم کو دھتکارتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔
5 سبق — آخرت پر ایمان جتنا کمزور ہو گا، انسان اتنا ہی نیکیوں سے دور ہو گا۔
7 مختصر جوابات

فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 2)

آیتِ کریمہ کی رو سے منکرِ آخرت کا یتیم کے ساتھ کیا رویہ ہوتا ہے؟

ترجمہ

پھر (یہ) وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔

منکرِ آخرت یتیم کو دھکے دیتا اور اسے سختی سے دھتکار دیتا ہے، یعنی اس پر ظلم کرتا ہے۔

اہم نکات

1 یَدُعُّ کا مفہوم — زور سے دھکا دینا اور بے رحمی سے ہٹا دینا۔
2 ظلم کی صورتیں — اس کا حق نہ دینا، اس کا مال دبا لینا، اسے جھڑکنا اور اس کی دل شکنی کرنا۔
3 اصل سبب — چوں کہ اسے جزا و سزا کا یقین نہیں، اس لیے وہ کمزور پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے نہیں ڈرتا۔
4 اسلام کی تعلیم — یتیم کے ساتھ نرمی، شفقت اور اس کے مال کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
5 سبق — ہمیں غریبوں اور کمزوروں سے ہمدردی اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔
8 مختصر جوابات

وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ (سورۃ الماعون ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ کی رو سے آخرت کو جھٹلانے والے کا مسکین سے کیا رویہ ہوتا ہے؟

ترجمہ

اور مسکین کو کھانا کھلانے کی (دوسروں کو) ترغیب نہیں دیتا۔

وہ خود بھی مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا اور نہ ہی دوسروں کو اس کی ترغیب دیتا ہے۔

اہم نکات

1 یَحُضُّ کا مفہوم — ترغیب دینا اور ابھارنا۔
2 دوہری کوتاہی — ایک تو خود نہ کھلانا، دوسرا دوسروں کو بھی اس نیکی کی طرف نہ بلانا۔
3 خود غرضی — یہ آخرت کے منکر کی نمایاں صفت ہے کہ وہ اپنی ذات سے آگے نہیں سوچتا۔
4 معاشرتی نقصان — جب ترغیب دینے والا کوئی نہ رہے تو پورے معاشرے میں بھوکوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں رہتا۔
5 سبق — ہمیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہیے۔
جواب فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا جو خود تو خوب پیٹ بھر کر کھائے، لیکن اس کے ساتھ رہنے والا پڑوسی بھوکا رہے۔ (طبرانی: 12741)
9 مختصر جوابات

فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیات 4 اور 5)

آیاتِ کریمہ کی رو سے کن نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے؟

ترجمہ

تو (ان) نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے، وہ جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔

ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔

غفلت کی صورتیں

1 وقت کی غفلت — نماز کو وقت پر نہ پڑھنا اور بلا عذر تاخیر کرتے رہنا۔
2 اہمیت کی غفلت — نماز کو ضروری ہی نہ سمجھنا اور کبھی پڑھ لینا کبھی چھوڑ دینا۔
3 آداب کی غفلت — ارکان کو جلدی جلدی ادا کرنا اور خشوع و خضوع کا خیال نہ رکھنا۔
4 نیت کی خرابی — اگلی آیت میں فرمایا: «اَلَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَ» — وہ جو دکھاوا کرتے ہیں۔
5 لفظی نکتہ — فرمایا «عَنْ صَلَاتِهِمْ» (نماز سے غافل) — یعنی نماز کے بارے میں ہی لاپروا؛ نماز کے اندر بھول چوک ہو جانا اس وعید میں شامل نہیں۔
جواب سبق — ہمیں نماز کے حوالے سے غفلت اور ریاکاری سے بچنا چاہیے، اور تمام نمازیں پورے آداب کے ساتھ وقت پر ادا کرنی چاہئیں۔
10 مختصر جوابات

وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 7)

آیتِ کریمہ میں آخرت کا منکر کس سے منع کرتا ہے؟

ترجمہ

اور استعمال کی معمولی چیزیں (مانگنے پر بھی) نہیں دیتے۔

وہ عام استعمال کی معمولی چیزیں (الْمَاعُوْن) بھی لوگوں کو مانگنے پر نہیں دیتا، یعنی ان سے روک لیتا ہے۔

اہم نکات

1 اَلْمَاعُوْن — عام استعمال کی معمولی چیزیں، جیسے برتن، اوزار، رسی وغیرہ۔
2 انتہائی درجے کی خود غرضی — جو چیز واپس مل جانی ہے اور جس کے دینے میں کوئی نقصان نہیں، وہ بھی نہ دینا۔
3 عادت کا بگاڑ — یہ کوئی وقتی کوتاہی نہیں بلکہ مستقل مزاج بن چکا ہوتا ہے۔
4 عبادت اور معاملات — سورت بتاتی ہے کہ صرف نماز کافی نہیں، بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے ہوں گے۔
5 سبق — ایک دوسرے کو معمولی چیزیں مانگنے پر استعمال کے لیے دیتے رہنا چاہیے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ (سورۃ الماعون ۔ آیات 1 تا 7)

سورۃ الماعون کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو بدلے (کے دن) کو جھٹلاتا ہے؟ پھر (یہ) وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اور مسکین کو کھانا کھلانے کی (دوسروں کو) ترغیب نہیں دیتا۔ تو (ان) نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے۔

ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ ٱلَّذِينَ هُمۡ يُرَآءُونَ وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ سورۃ الماعون ۔ آیات 5 تا 7 وہ جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔ وہ جو دکھاوا کرتے ہیں۔ اور استعمال کی معمولی چیزیں (مانگنے پر بھی) نہیں دیتے۔

لفظی وضاحت

1 اَرَءَیْتَ — کیا آپ نے دیکھا؟
2 یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِ — بدلے کے دن کو جھٹلاتا ہے۔
3 یَدُعُّ — وہ دھکے دیتا ہے۔
4 یَحُضُّ — وہ ترغیب دیتا ہے۔
5 وَیْلٌ — ہلاکت۔
6 سَاهُوْنَ — غافل۔
7 یُرَآءُوْنَ — وہ دکھاوا کرتے ہیں۔
8 اَلْمَاعُوْن — استعمال کی معمولی چیزیں۔
جواب مجموعی مفہوم — پہلی تین آیات میں آخرت کے منکر کا معاشرتی کردار بیان ہوا ہے، اور آخری چار آیات میں اس کی عبادت اور خود غرضی کی حقیقت کھولی گئی ہے۔
12 تفصیلی جوابات

وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 7)

سورۃ الماعون کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ الماعون مکی سورت ہے۔ اس سورت کی آخری آیت میں «اَلْمَاعُوْن» (عام استعمال کی معمولی چیزیں) کا لفظ آیا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام «الماعون» ہے۔

وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات

1 وجہِ تسمیہ — آخری آیت «وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ» میں لفظِ «الماعون» موجود ہے، اسی مناسبت سے سورت کا نام سورۃ الماعون رکھا گیا۔
2 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید میں یہ 107ویں سورت ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 17ویں نمبر پر ہے۔
3 تعارفی معلومات — نوعیت — یہ مکی سورت ہے۔
4 تعارفی معلومات — آیات و رکوع — اس کی آیات کی تعداد 7 اور رکوع 1 ہے۔
5 تعارفی معلومات — موضوع — آخرت کے منکر کا عقیدہ، کردار اور عبادت — تینوں کا پول کھولنا۔
جواب مرکزی مضمون — جزا و سزا کو جھٹلانے والے پست کردار کا بیان۔
13 تفصیلی جوابات

أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ (سورۃ الماعون ۔ آیات 1 تا 7)

سورۃ الماعون کے بنیادی مضامین تحریر کریں۔

اس سورت کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:

مضامین کی ترتیب کا نکتہ اور علم و عمل کی باتیں

1 پہلا مضمون — آخرت کے انکار کی وجہ سے کردار کی خرابیوں کا بیان۔
2 دوسرا مضمون — منکرینِ آخرت کا یتیموں پر ظلم کرنا۔
3 تیسرا مضمون — منکرینِ آخرت کا غریبوں کو خود بھی کھانا نہ کھلانا اور مدد نہ کرنا، اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب نہ دینا۔
4 چوتھا مضمون — منکرینِ آخرت کا اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل رہنا۔
5 پانچواں مضمون — منکرینِ آخرت کی عبادت کا ریاکاری پر مبنی ہونا۔
6 چھٹا مضمون — منکرینِ آخرت کا خود غرض ہونا — عام استعمال کی معمولی چیزیں بھی لوگوں کے مانگنے پر نہ دینا۔
7 مضامین کی ترتیب کا نکتہ — سورت پہلے عقیدے کی خرابی (انکارِ آخرت) بیان کرتی ہے، پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حقوق العباد کی خرابیاں، اور آخر میں حقوق اللہ کی خرابی (بے توجہی اور ریاکاری) — یعنی خراب عقیدہ پورے کردار کو بگاڑ دیتا ہے۔
8 علم و عمل کی باتیں — آخرت پر ایمان جتنا کمزور ہو گا، اتنا ہی انسان نیکیوں سے دور ہو گا۔
9 علم و عمل کی باتیں — ہمیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہیے۔
10 علم و عمل کی باتیں — ہمیں غریبوں اور کمزوروں سے ہمدردی اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔
11 علم و عمل کی باتیں — ہمیں نماز کے حوالے سے غفلت اور ریاکاری سے بچنا چاہیے اور تمام نمازیں پورے آداب کے ساتھ وقت پر ادا کرنی چاہئیں۔
14 تفصیلی جوابات

ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 5)

ضمیرِ متصل کی تعریف بیان کر کے سورۃ الماعون سے مثال تلاش کریں۔

ضمیرِ متصل ایسی ضمیر ہے جو اسم، فعل یا حرف کے ساتھ متصل یعنی جڑی ہوئی ہو۔

1 پہلے یہ سمجھ لیں — ضمیر کیا ہے — وہ الفاظ جو اسم کی جگہ استعمال ہوتے ہیں انہیں ضمیر کہتے ہیں؛ اس کی جمع «ضمائر» ہے۔
2 پہلے یہ سمجھ لیں — دو قسمیں — ضمیر کی دو قسمیں ہیں: ضمیرِ متصل اور ضمیرِ منفصل۔
3 پہلے یہ سمجھ لیں — ضمیرِ منفصل — وہ جو الگ اور مستقل لفظ کے طور پر آئے، جیسے: هُوَ، اَنْتَ، هُمْ، اَنَا، نَحْنُ۔
4 پہلے یہ سمجھ لیں — ضمیرِ متصل — وہ جو کسی لفظ کے ساتھ ملی ہوئی ہو، جیسے: رَبِّیْ (میرا رب)، رَسُوْلُهٗ (اس کا رسول)، خَلَقَكُمْ (اس نے تم سب کو پیدا کیا)۔
5 سورۃ الماعون سے مثال — صَلَاتِهِمْ (آیت 5) — «اَلَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ» — یہاں «صَلَاة» اسم ہے اور اس کے ساتھ «هِمْ» ضمیرِ متصل جڑی ہوئی ہے، جس کا ترجمہ «ان کی نماز» ہے۔
6 اسی سورت سے موازنہ — ضمیرِ منفصل — آیت 5 اور 6 میں «هُمْ» الگ لفظ کے طور پر آیا ہے، یہ ضمیرِ منفصل ہے۔
7 اسی سورت سے موازنہ — ضمیرِ متصل — اسی آیت میں «صَلَاتِهِمْ» کا «هِمْ» لفظ کے ساتھ جڑا ہوا ہے، یہ ضمیرِ متصل ہے۔
8 اسی سورت سے موازنہ — ترجمے کا فرق — اسم کے ساتھ متصل ہو تو ترجمہ «اس کا، اس کی، ان کا» کیا جاتا ہے، اور فعل کے ساتھ متصل ہو تو «اسے، اس کو، انھیں، سب کو» کیا جاتا ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ

دیے گئے مواد میں سے اُن الفاظ کو الگ کر کے تحریر کریں جن کا تعلق سورۃ الماعون سے ہے۔

دیا گیا مواد: آخرت کا انکار، یتیموں سے محبت، دکھاوا، بری صفات، مسکین کو کھانا کھلانا، معمولی چیزیں نہ دینا، خود غرض، عبادت سے غافل، یتیموں پر ظلم، باجماعت نماز پڑھنا، کردار میں خرابیاں۔

سورۃ الماعون سے تعلق رکھنے والے الفاظ اور وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں

1 سورۃ الماعون سے تعلق رکھنے والے الفاظ — آخرت کا انکار — آیت 1 — «یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِ»۔
2 سورۃ الماعون سے تعلق رکھنے والے الفاظ — یتیموں پر ظلم — آیت 2 — «یَدُعُّ الْیَتِیْمَ»۔
3 سورۃ الماعون سے تعلق رکھنے والے الفاظ — معمولی چیزیں نہ دینا — آیت 7 — «وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ»۔
4 سورۃ الماعون سے تعلق رکھنے والے الفاظ — خود غرض — آیات 3 اور 7 سے یہی صفت ظاہر ہوتی ہے۔
5 سورۃ الماعون سے تعلق رکھنے والے الفاظ — عبادت سے غافل — آیت 5 — «عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ»۔
6 سورۃ الماعون سے تعلق رکھنے والے الفاظ — دکھاوا — آیت 6 — «اَلَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَ»۔
7 سورۃ الماعون سے تعلق رکھنے والے الفاظ — کردار میں خرابیاں — پوری سورت کا مرکزی مضمون یہی ہے۔
8 سورۃ الماعون سے تعلق رکھنے والے الفاظ — بری صفات — سورت میں منکرِ آخرت کی چھے بری صفات گنوائی گئی ہیں۔
9 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — یتیموں سے محبت — سورت میں یتیم کے ساتھ محبت نہیں بلکہ دھتکارنے (ظلم) کا ذکر ہے۔
10 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — مسکین کو کھانا کھلانا — سورت میں کھلانے کا نہیں بلکہ نہ کھلانے اور ترغیب نہ دینے کا ذکر ہے۔
11 وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں — باجماعت نماز پڑھنا — سورت میں جماعت کا نہیں بلکہ نماز سے غفلت اور ریاکاری کا ذکر ہے۔
جواب نوٹ — یہ تینوں باتیں بذاتِ خود نیکی اور اسلام کی تعلیم ہیں، مگر سورۃ الماعون میں ان کے برعکس رویوں کا بیان ہے۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 7)

عام استعمال کی چند چیزوں کی فہرست بنائیں جو ہمیں ایک دوسرے کو مانگنے پر استعمال کے لیے دیتے رہنا چاہیے۔

الماعون سے مراد وہ معمولی چیزیں ہیں جو مانگنے پر دی جاتی ہیں اور استعمال کے بعد واپس مل جاتی ہیں۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:

1 گھریلو استعمال کی چیزیں — برتن — دیگ، پتیلی، تھال، جگ اور گلاس — خاص طور پر تقریبات کے موقعے پر۔
2 گھریلو استعمال کی چیزیں — چارپائی اور بستر — مہمانوں کی آمد پر عارضی ضرورت کے لیے۔
3 گھریلو استعمال کی چیزیں — نمک، ماچس اور چائے کی پتی — ہمسایوں کی فوری ضرورت کی چھوٹی چیزیں۔
4 اوزار اور آلات — زرعی اوزار — کدال، بیلچہ، درانتی اور کلہاڑی۔
5 اوزار اور آلات — مرمت کے اوزار — ہتھوڑا، پیچ کس، آری اور سیڑھی۔
6 اوزار اور آلات — رسی اور ڈول — پانی بھرنے اور باندھنے کے کام کی چیزیں۔
7 تعلیمی اور روزمرہ چیزیں — کتابیں اور نوٹس — ساتھی طلبہ کو پڑھنے کے لیے دینا۔
8 تعلیمی اور روزمرہ چیزیں — قلم، پنسل اور جیومیٹری باکس — جماعت میں ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرنا۔
9 تعلیمی اور روزمرہ چیزیں — چھتری اور ٹارچ — بارش یا اندھیرے میں ہمسائے کی مدد۔
10 تعلیمی اور روزمرہ چیزیں — سواری — ضرورت کے وقت سائیکل یا دیگر سواری استعمال کے لیے دینا۔
جواب یاد رہے — مانگی ہوئی چیز امانت ہوتی ہے، اس لیے اسے سنبھال کر استعمال کرنا اور بروقت واپس کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا دینا۔
17 سرگرمیاں برائے طلبہ

ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 5)

ضمائرِ متصلہ کو اچھی طرح یاد کریں اور آخری دس سورتوں میں ان ضمائر کو تلاش کر کے مذاکرہ کریں۔

ضمائرِ متصلہ کا نقشہ (جنس، واحد، تثنیہ اور جمع کے اعتبار سے) درج ذیل ہے:

1 ضمائرِ متصلہ کا نقشہ — مذکر غائب — واحد: هٗ | تثنیہ: هُمَا | جمع: هُمْ
2 ضمائرِ متصلہ کا نقشہ — مؤنث غائب — واحد: هَا | تثنیہ: هُمَا | جمع: هُنَّ
3 ضمائرِ متصلہ کا نقشہ — مذکر حاضر — واحد: كَ | تثنیہ: كُمَا | جمع: كُمْ
4 ضمائرِ متصلہ کا نقشہ — مؤنث حاضر — واحد: كِ | تثنیہ: كُمَا | جمع: كُنَّ
5 ضمائرِ متصلہ کا نقشہ — متکلم (مذکر و مؤنث) — واحد: يْ / نِيْ | جمع: نَا
6 آخری دس سورتوں سے مثالیں — سورۃ الفیل (آیت 1) — «رَبُّكَ» — «كَ» مذکر حاضر واحد، ترجمہ: آپ کا رب۔
7 آخری دس سورتوں سے مثالیں — سورۃ الفیل (آیت 2) — «كَيۡدَهُمۡ» — «هُمْ» مذکر غائب جمع، ترجمہ: ان کی چال۔
8 آخری دس سورتوں سے مثالیں — سورۃ قریش (آیت 2) — «إِۦلَٰفِهِمۡ» — «هِمْ» مذکر غائب جمع، ترجمہ: انہیں مانوس کرنا۔
9 آخری دس سورتوں سے مثالیں — سورۃ قریش (آیت 4) — «أَطۡعَمَهُم» — فعل کے ساتھ متصل، ترجمہ: اس نے انہیں کھلایا۔
10 آخری دس سورتوں سے مثالیں — سورۃ الماعون (آیت 5) — «صَلَاتِهِمۡ» — «هِمْ» اسم کے ساتھ متصل، ترجمہ: ان کی نماز۔
11 آخری دس سورتوں سے مثالیں — سورۃ الکوثر (آیت 1) — «أَعۡطَيۡنَٰكَ» — «نَا» متکلم جمع (فاعل) اور «كَ» مذکر حاضر (مفعول)، ترجمہ: ہم نے آپ کو عطا کیا۔
12 آخری دس سورتوں سے مثالیں — سورۃ الکافرون (آیت 6) — «دِينُكُمۡ» — «كُمْ» مذکر حاضر جمع، ترجمہ: تمھارا دین۔
13 آخری دس سورتوں سے مثالیں — سورۃ النصر (آیت 3) — «رَبِّكَ» — «كَ» مذکر حاضر واحد، ترجمہ: آپ کا رب۔
14 آخری دس سورتوں سے مثالیں — سورۃ اللھب (آیت 2) — «مَالُهُۥ» — «هٗ» مذکر غائب واحد، ترجمہ: اس کا مال۔
15 آخری دس سورتوں سے مثالیں — سورۃ اللھب (آیت 5) — «جِيدِهَا» — «هَا» مؤنث غائب واحد، ترجمہ: اس کی گردن۔
16 آخری دس سورتوں سے مثالیں — سورۃ الاخلاص (آیت 4) — «لَّهُۥ» — «هٗ» مذکر غائب واحد، ترجمہ: اس کا۔
17 مذاکرے کے لیے نکات — اہم معلومات — «هَا» کبھی «هِـا» بھی ہو جاتا ہے اور «هٗ» کبھی «هِ» بھی؛ اسی طرح «هُمْ» کبھی «هِمْ» بھی ہو جاتا ہے۔ اس سے معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
18 مذاکرے کے لیے نکات — ترجمے کا قاعدہ — اسم کے ساتھ متصل ہو تو ترجمہ «اس کا، اس کی، ان کی» کیا جاتا ہے، اور فعل کے ساتھ متصل ہو تو «اسے، اس کو، انھیں، سب کو» کیا جاتا ہے۔
19 مذاکرے کے لیے نکات — گفت گو کے تین امکانات — غائب (جس کے متعلق بات ہو اور وہ موجود نہ ہو)، حاضر (جو موجود اور مخاطب ہو) اور متکلم (بات کرنے والا)۔
20 مذاکرے کے لیے نکات — عملی مشق — ہر طالبِ علم آخری دس سورتوں میں سے ایک سورت لے، اس کی تمام ضمائرِ متصلہ نشان زد کرے اور جماعت کے سامنے ان کی جنس، عدد اور ترجمہ بیان کرے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ (سورۃ الماعون ۔ آیات 2 اور 3)

یتیم کو دھکے دینے، مسکین کو کھانا نہ کھلانے اور نماز سے غافل رہنے کے نقصانات تحریر کریں۔

یہ تینوں کوتاہیاں سورۃ الماعون میں بیان ہوئی ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کے انفرادی، معاشرتی اور اخروی نقصانات ہیں۔

1 یتیم کو دھکے دینے کے نقصانات — اللہ کی ناراضی — یتیم کی دل شکنی اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتی ہے۔
2 یتیم کو دھکے دینے کے نقصانات — ایمان کی کمزوری — قرآن نے اسے آخرت کو جھٹلانے کی علامت قرار دیا ہے۔
3 یتیم کو دھکے دینے کے نقصانات — یتیم کا نقصان — وہ تعلیم، تربیت اور اپنے حق سے محروم رہ جاتا ہے۔
4 یتیم کو دھکے دینے کے نقصانات — معاشرتی بگاڑ — محروم بچہ آگے چل کر معاشرے کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔
5 یتیم کو دھکے دینے کے نقصانات — برکت کا خاتمہ — یتیم کا مال دبانے سے مال میں برکت ختم ہو جاتی ہے۔
6 مسکین کو کھانا نہ کھلانے کے نقصانات — ایمان کی نفی — حدیث میں ہے کہ وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔
7 مسکین کو کھانا نہ کھلانے کے نقصانات — نعمت کی ناشکری — اللہ کی دی ہوئی نعمت میں دوسروں کو شریک نہ کرنا ناشکری ہے۔
8 مسکین کو کھانا نہ کھلانے کے نقصانات — نیکی کا سلسلہ ٹوٹنا — ترغیب نہ دینے سے پورے معاشرے میں یہ نیکی کمزور پڑ جاتی ہے۔
9 مسکین کو کھانا نہ کھلانے کے نقصانات — طبقاتی فاصلہ — امیر اور غریب کے درمیان نفرت اور دوری بڑھتی ہے۔
10 مسکین کو کھانا نہ کھلانے کے نقصانات — اخروی پکڑ — قیامت کے دن حقوق العباد میں اس کی باز پرس ہو گی۔
11 نماز سے غافل رہنے کے نقصانات — وَیْل کی وعید — ایسے نمازیوں کے لیے صریح لفظوں میں ہلاکت کا اعلان کیا گیا ہے۔
12 نماز سے غافل رہنے کے نقصانات — ثواب سے محرومی — نماز پڑھنے کے باوجود اس کا اجر ضائع ہو جاتا ہے۔
13 نماز سے غافل رہنے کے نقصانات — ریاکاری کا دروازہ — غفلت آگے چل کر دکھاوے تک لے جاتی ہے، جو شرکِ خفی ہے۔
14 نماز سے غافل رہنے کے نقصانات — برائیوں سے نہ رکنا — نماز برائی سے روکتی ہے؛ غفلت کی نماز یہ اثر پیدا نہیں کرتی۔
15 نماز سے غافل رہنے کے نقصانات — اللہ سے تعلق کی کمزوری — وقت پر نماز نہ پڑھنا بندے اور رب کے تعلق کو کمزور کر دیتا ہے۔
جواب مشترکہ سبق — ان تینوں کی جڑ ایک ہی ہے — آخرت پر یقین کی کمزوری۔ جہاں جواب دہی کا احساس ختم ہو جائے، وہاں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں ضائع ہونے لگتے ہیں۔
19 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ (سورۃ الماعون ۔ آیت 1)

آخرت پر یقین نہ ہونے سے انسان کے کردار پر جو برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان کی فہرست تیار کریں۔

سورۃ الماعون کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ عقیدے کی خرابی کردار کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے نمایاں اثرات درج ذیل ہیں:

1 کمزوروں کے ساتھ رویہ — یتیم پر سختی — وہ یتیم کو دھتکارتا اور اس کا حق مارتا ہے۔
2 کمزوروں کے ساتھ رویہ — مسکین سے بے اعتنائی — نہ خود کھلاتا ہے، نہ دوسروں کو ترغیب دیتا ہے۔
3 کمزوروں کے ساتھ رویہ — رحم دلی کا خاتمہ — دل سے نرمی اور ہمدردی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔
4 عبادت کا حال — نماز سے غفلت — عبادت میں بے توجہی اور بے وقتی پیدا ہو جاتی ہے۔
5 عبادت کا حال — ریاکاری — جو عبادت کرتا بھی ہے تو دکھاوے کے لیے، اللہ کی رضا کے لیے نہیں۔
6 عبادت کا حال — اخلاص کا فقدان — ہر عمل میں دنیاوی فائدہ اور نام و نمود مقصود ہوتا ہے۔
7 معاشرتی رویہ — خود غرضی — وہ صرف اپنے فائدے کا سوچتا ہے۔
8 معاشرتی رویہ — بخل — معمولی چیزیں بھی مانگنے پر نہیں دیتا، حالانکہ وہ واپس ہی مل جانی ہیں۔
9 معاشرتی رویہ — حقوق العباد سے بے پروائی — دوسروں کے حقوق اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔
10 معاشرتی رویہ — نیکی سے روکنا — خود نیکی نہ کرنا اور دوسروں کو بھی اس کی طرف نہ بلانا۔
جواب خلاصہ — آخرت پر ایمان جتنا کمزور ہو گا، انسان اتنا ہی نیکیوں سے دور اور خود غرضی کے قریب ہو گا۔ اسی لیے سورت کا آغاز جزا و سزا کے دن کو جھٹلانے سے ہوا اور پھر اس کے چھے عملی نتائج گنوائے گئے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.