فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 2)
«یَدُعُّ الْیَتِیْمَ» کے معنی ہیں، وہ یتیم کو:
الف) دھکے دیتا ہے • ب) ڈانٹتا ہے • ج) ملنے دیتا ہے • د) نقصان دیتا ہے
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 2)
«یَدُعُّ الْیَتِیْمَ» کے معنی ہیں، وہ یتیم کو:
الف) دھکے دیتا ہے • ب) ڈانٹتا ہے • ج) ملنے دیتا ہے • د) نقصان دیتا ہے
فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 4)
«وَیْلٌ» کے معنی ہیں:
الف) غم • ب) بیماری • ج) مصیبت • د) ہلاکت
ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 5)
«سَاهُوْنَ» کے معنی ہیں:
الف) کھیلتے رہتے ہیں • ب) سوتے رہتے ہیں • ج) غافل رہتے ہیں • د) بیمار رہتے ہیں
فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیات 4 اور 5)
آیاتِ کریمہ کی رو سے ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو:
الف) دکھاوا کرتے ہیں • ب) نماز میں تاخیر کرتے ہیں • ج) نماز میں سستی کرتے ہیں • د) نماز سے غافل رہتے ہیں
وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 7)
«اَلْمَاعُوْن» کے معنی ہیں:
الف) فروخت کی چیزیں • ب) بچت کی چیزیں • ج) استعمال کی چیزیں • د) قیمتی چیزیں
أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ (سورۃ الماعون ۔ آیت 1)
آیتِ کریمہ میں کس چیز کو جھٹلانے کا ذکر ہے؟
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو بدلے (کے دن) کو جھٹلاتا ہے؟
اس آیت میں «اَلدِّیْن» یعنی جزا و سزا کے دن (روزِ آخرت) کو جھٹلانے کا ذکر ہے۔
اہم نکات
فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 2)
آیتِ کریمہ کی رو سے منکرِ آخرت کا یتیم کے ساتھ کیا رویہ ہوتا ہے؟
پھر (یہ) وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔
منکرِ آخرت یتیم کو دھکے دیتا اور اسے سختی سے دھتکار دیتا ہے، یعنی اس پر ظلم کرتا ہے۔
اہم نکات
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ (سورۃ الماعون ۔ آیت 3)
آیتِ کریمہ کی رو سے آخرت کو جھٹلانے والے کا مسکین سے کیا رویہ ہوتا ہے؟
اور مسکین کو کھانا کھلانے کی (دوسروں کو) ترغیب نہیں دیتا۔
وہ خود بھی مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا اور نہ ہی دوسروں کو اس کی ترغیب دیتا ہے۔
اہم نکات
فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیات 4 اور 5)
آیاتِ کریمہ کی رو سے کن نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے؟
تو (ان) نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے، وہ جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔
ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔
غفلت کی صورتیں
وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 7)
آیتِ کریمہ میں آخرت کا منکر کس سے منع کرتا ہے؟
اور استعمال کی معمولی چیزیں (مانگنے پر بھی) نہیں دیتے۔
وہ عام استعمال کی معمولی چیزیں (الْمَاعُوْن) بھی لوگوں کو مانگنے پر نہیں دیتا، یعنی ان سے روک لیتا ہے۔
اہم نکات
أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ (سورۃ الماعون ۔ آیات 1 تا 7)
سورۃ الماعون کا ترجمہ تحریر کریں۔
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو بدلے (کے دن) کو جھٹلاتا ہے؟ پھر (یہ) وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اور مسکین کو کھانا کھلانے کی (دوسروں کو) ترغیب نہیں دیتا۔ تو (ان) نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے۔
ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ ٱلَّذِينَ هُمۡ يُرَآءُونَ وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ سورۃ الماعون ۔ آیات 5 تا 7 وہ جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔ وہ جو دکھاوا کرتے ہیں۔ اور استعمال کی معمولی چیزیں (مانگنے پر بھی) نہیں دیتے۔
لفظی وضاحت
وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 7)
سورۃ الماعون کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سورۃ الماعون مکی سورت ہے۔ اس سورت کی آخری آیت میں «اَلْمَاعُوْن» (عام استعمال کی معمولی چیزیں) کا لفظ آیا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام «الماعون» ہے۔
وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات
أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ (سورۃ الماعون ۔ آیات 1 تا 7)
سورۃ الماعون کے بنیادی مضامین تحریر کریں۔
اس سورت کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
مضامین کی ترتیب کا نکتہ اور علم و عمل کی باتیں
ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 5)
ضمیرِ متصل کی تعریف بیان کر کے سورۃ الماعون سے مثال تلاش کریں۔
ضمیرِ متصل ایسی ضمیر ہے جو اسم، فعل یا حرف کے ساتھ متصل یعنی جڑی ہوئی ہو۔
أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ
دیے گئے مواد میں سے اُن الفاظ کو الگ کر کے تحریر کریں جن کا تعلق سورۃ الماعون سے ہے۔
دیا گیا مواد: آخرت کا انکار، یتیموں سے محبت، دکھاوا، بری صفات، مسکین کو کھانا کھلانا، معمولی چیزیں نہ دینا، خود غرض، عبادت سے غافل، یتیموں پر ظلم، باجماعت نماز پڑھنا، کردار میں خرابیاں۔
سورۃ الماعون سے تعلق رکھنے والے الفاظ اور وہ الفاظ جن کا تعلق اس سورت سے نہیں
وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 7)
عام استعمال کی چند چیزوں کی فہرست بنائیں جو ہمیں ایک دوسرے کو مانگنے پر استعمال کے لیے دیتے رہنا چاہیے۔
الماعون سے مراد وہ معمولی چیزیں ہیں جو مانگنے پر دی جاتی ہیں اور استعمال کے بعد واپس مل جاتی ہیں۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:
ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ (سورۃ الماعون ۔ آیت 5)
ضمائرِ متصلہ کو اچھی طرح یاد کریں اور آخری دس سورتوں میں ان ضمائر کو تلاش کر کے مذاکرہ کریں۔
ضمائرِ متصلہ کا نقشہ (جنس، واحد، تثنیہ اور جمع کے اعتبار سے) درج ذیل ہے:
فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ (سورۃ الماعون ۔ آیات 2 اور 3)
یتیم کو دھکے دینے، مسکین کو کھانا نہ کھلانے اور نماز سے غافل رہنے کے نقصانات تحریر کریں۔
یہ تینوں کوتاہیاں سورۃ الماعون میں بیان ہوئی ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کے انفرادی، معاشرتی اور اخروی نقصانات ہیں۔
أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ (سورۃ الماعون ۔ آیت 1)
آخرت پر یقین نہ ہونے سے انسان کے کردار پر جو برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان کی فہرست تیار کریں۔
سورۃ الماعون کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ عقیدے کی خرابی کردار کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے نمایاں اثرات درج ذیل ہیں:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔