چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 13: سبق 13: سورۃ قریش (آیات: 1 تا 4) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

إِۦلَٰفِهِمۡ رِحۡلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيۡفِ (سورۃ قریش ۔ آیت 2)

«اَلشِّتَآءِ» کے معنی ہیں:

الف) سردی • ب) گرمی • ج) بہار • د) خزاں

جواب الف) سردی — «اَلشِّتَآء» سردی کے موسم کو کہتے ہیں اور «اَلصَّیْف» گرمی کے موسم کو۔ آیت میں قریش کے دونوں موسموں کے تجارتی سفروں کا ذکر ہے۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ (سورۃ قریش ۔ آیت 3)

«فَلْیَعْبُدُوْا» کے معنی ہیں، پس چاہیے کہ وہ:

الف) دعا کریں • ب) عبادت کریں • ج) ذکر کریں • د) شکر ادا کریں

جواب ب) عبادت کریں — یہ «عِبَادَة» سے فعلِ امر (لامِ امر کے ساتھ) ہے، یعنی پس چاہیے کہ وہ عبادت کریں۔ سبق کی ذخیرۃ الفاظ میں بھی یہی معنی دیا گیا ہے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ (سورۃ قریش ۔ آیت 3)

«فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِ» میں «اَلْبَیْت» سے مراد ہے:

الف) مسجد نبوی • ب) مسجد اقصیٰ • ج) مسجد حرام • د) مسجد قبا

جواب ج) مسجد حرام — «هٰذَا الْبَیْت» یعنی یہ گھر — اس سے مراد بیت اللہ (کعبۃ اللہ) ہے، جو مسجد حرام میں واقع ہے۔ اشارے کا لفظ «هٰذَا» اس بات کی دلیل ہے کہ یہ خطاب اہلِ مکہ سے ہے، جن کے سامنے یہ گھر موجود تھا۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ (سورۃ قریش ۔ آیت 4)

«جُوْعٍ» کے معنی ہیں:

الف) پیاس • ب) تھکاوٹ • ج) بھوک • د) نیند

جواب ج) بھوک — «جُوْع» بھوک کو کہتے ہیں۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا، یعنی بے آب و گیاہ وادی میں رہنے کے باوجود ان کے رزق کا انتظام فرمایا۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

قریش اولاد تھے:

الف) سیدنا اسحاق علیہ السلام کی • ب) سیدنا یعقوب علیہ السلام کی • ج) سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی • د) سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی

جواب د) سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی — قریش سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اسی نسبی تعلق اور بیت اللہ کے انتظامات سنبھالنے کی وجہ سے انہیں پورے عرب میں عزت اور امن حاصل تھا۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ إِۦلَٰفِهِمۡ رِحۡلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيۡفِ (سورۃ قریش ۔ آیات 1 اور 2)

آیاتِ کریمہ کی رو سے قریش کن موسموں میں تجارتی سفر کرتے تھے؟

ترجمہ

قریش کو مانوس کرنے کی وجہ سے، (یعنی) انہیں سردی اور گرمی کے (تجارتی) سفر سے مانوس کرنے کی وجہ سے۔

قریش سردی اور گرمی، دونوں موسموں میں تجارتی سفر کرتے تھے۔

دونوں سفروں کی تفصیل

1 سردی کا سفر — سردی کے موسم میں وہ یمن کی طرف جاتے تھے، جو ایک گرم علاقہ تھا۔
2 گرمی کا سفر — گرمی کے موسم میں وہ شام کی طرف جاتے تھے، جو ایک ٹھنڈا علاقہ تھا۔
3 اِیْلَاف کا مفہوم — الفت اور مانوس کر دینا؛ اللہ تعالیٰ نے ان سفروں کو ان کے لیے آسان اور مانوس بنا دیا تھا۔
4 تجارتی وسعت — اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑے علاقے کی تجارتی سرگرمیاں ان کے ہاتھ میں دے رکھی تھیں۔
5 امن — بیت اللہ کے خادم ہونے کی وجہ سے ان کے تجارتی قافلے لوٹ مار سے محفوظ رہتے تھے۔
7 مختصر جوابات

فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ (سورۃ قریش ۔ آیت 3)

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو کس بات کا حکم دیا ہے؟

ترجمہ

پس انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں اس گھر (بیت اللہ) کے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔

اہم نکات

1 حکم کی بنیاد — حرفِ «فا» بتاتا ہے کہ یہ حکم پچھلی نعمتوں کا نتیجہ ہے — یعنی ان احسانات کا تقاضا یہی ہے۔
2 رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِ — اس گھر کا رب، یعنی کعبۃ اللہ کا مالک؛ بتوں کی نہیں، اسی کی عبادت ہونی چاہیے۔
3 شکر کا تقاضا — نعمتوں پر شکر ادا کرنا خود ایک عبادت ہے۔
4 شرک سے ممانعت — انہیں شرک سے بچنے اور صرف اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا۔
5 لطیف اشارہ — جس گھر کی وجہ سے تمھیں عزت ملی، اسی گھر کے رب کو چھوڑ کر بتوں کو پوجنا سراسر ناشکری ہے۔
8 مختصر جوابات

ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ (سورۃ قریش ۔ آیت 4)

آیتِ کریمہ میں قریش پر اللہ تعالیٰ کے کن دو انعامات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور انہیں خوف سے امن دیا۔

اس آیت میں قریش پر دو بڑے انعامات کا ذکر ہے: رزق اور امن۔

دو انعامات

1 پہلا انعام — رزق — «اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ» — بھوک میں کھانا کھلایا؛ مکہ ایک بے آب و گیاہ وادی تھی، مگر تجارت کے ذریعے ان کے رزق کا انتظام ہوا۔
2 دوسرا انعام — امن — «اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ» — خوف سے امن دیا؛ پورے عرب میں لوٹ مار عام تھی، مگر حرم اور اہلِ حرم محفوظ رہے۔
3 امن کی ایک بڑی مثال — اصحابِ الفیل کے حملے سے اللہ تعالیٰ نے خود بیت اللہ اور اہلِ مکہ کی حفاظت فرمائی۔
4 دونوں کا ربط — رزق اور امن ہی وہ دو بنیادی نعمتیں ہیں جن پر انسانی زندگی کا دار و مدار ہے۔
5 تقاضا — انہی دو نعمتوں کے شکر میں انہیں عبادت کا حکم دیا گیا۔
9 مختصر جوابات

عرب قریش کی عزت کیوں کرتے تھے؟

دو بنیادی وجوہات کی بنا پر: سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے نسبی تعلق، اور بیت اللہ کے انتظامات سنبھالنا۔

وجوہات

1 نسبی شرف — قریش سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد تھے۔
2 خدمتِ بیت اللہ — وہ بیت اللہ کے انتظامات سنبھالتے تھے، اور حاجیوں کی خدمت کا اعزاز انہی کو حاصل تھا۔
3 حرم کی نسبت — حرم کے خادم ہونے کی وجہ سے پورے عرب میں انہیں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
4 عملی فائدہ — اسی عزت کی بدولت ان کے تجارتی قافلے لوٹ مار سے محفوظ رہتے تھے۔
5 معزز ترین قبیلہ — قریش عرب کا سب سے معزز قبیلہ تھا، اور اس کی ایک معزز شاخ بنی ہاشم تھی جس کے سردار جناب عبدالمطلب تھے۔
جواب فرمانِ نبوی ﷺ — نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام اولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے کنانہ کو، اور کنانہ میں سے قریش کو، اور قریش میں سے بنی ہاشم کو، اور بنی ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم: 2276)
10 مختصر جوابات

لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ (سورۃ قریش ۔ آیت 1)

اسمِ علم کی تعریف ذکر کر کے سورۃ قریش سے مثالیں دیں۔

اسمِ علم وہ اسم ہے جو کسی خاص شخص، جگہ یا چیز کا نام ہو۔ جیسے: یُوْسُفُ، مَكَّةُ، زَیْدٌ، دِهْلِيْ، زَمْزَمُ، اَلزَّیْتُوْنُ، اَلْفِیْلُ وغیرہ۔

سورۃ قریش سے مثالیں

1 قُرَیْشٍ (آیت 1) — ایک خاص قبیلے کا نام ہے، اس لیے اسمِ علم ہے۔
2 اَلْبَیْتِ (آیت 3) — یہاں «هٰذَا الْبَیْت» سے بیت اللہ مراد ہے، جو ایک خاص اور متعین گھر کا نام ہے۔
جواب یاد رہے — اسمِ علم، اسم معرفہ کی سات قسموں میں سے پہلی قسم ہے۔ باقی چھے قسمیں یہ ہیں: ضمیر، اسمِ اشارہ، اسمِ موصول، معرف باللام، مضاف الی المعرفہ اور معرفہ بہ ندا۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ إِۦلَٰفِهِمۡ رِحۡلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيۡفِ فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ (سورۃ قریش ۔ آیات 1 تا 4)

سورۃ قریش کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

قریش کو مانوس کرنے کی وجہ سے، (یعنی) انہیں سردی اور گرمی کے (تجارتی) سفر سے مانوس کرنے کی وجہ سے۔ پس انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں، جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور انہیں خوف سے امن دیا۔

لفظی وضاحت اور اہم نکات

1 لفظی وضاحت — اِیْلَاف — الفت دلانا، مانوس کر دینا؛ یعنی کسی چیز کو عادت اور انس بنا دینا۔
2 لفظی وضاحت — رِحْلَة — سفر۔
3 لفظی وضاحت — اَلشِّتَآء — سردی کا موسم۔
4 لفظی وضاحت — اَلصَّیْف — گرمی کا موسم۔
5 لفظی وضاحت — فَلْیَعْبُدُوْا — پس چاہیے کہ وہ عبادت کریں۔
6 لفظی وضاحت — جُوْع — بھوک۔
7 اہم نکات — پہلی دو آیات — ان میں اللہ تعالیٰ کے احسان کا ذکر ہے کہ اس نے قریش کو دونوں موسموں کے تجارتی سفروں سے مانوس کر دیا۔
8 اہم نکات — تیسری آیت — اس میں ان احسانات کا تقاضا بیان ہوا — یعنی صرف اسی گھر کے رب کی عبادت کرو۔
9 اہم نکات — چوتھی آیت — اس میں دو بڑی نعمتوں کی صراحت ہے: رزق اور امن۔
10 اہم نکات — پچھلی سورت سے ربط — سورۃ الفیل میں بیت اللہ کی حفاظت کا ذکر تھا، اور یہاں اسی حفاظت کے ثمرات (عزت، امن اور رزق) کا بیان ہے۔
11 اہم نکات — مجموعی پیغام — نعمت دینے والے ہی کی عبادت کرنی چاہیے۔
12 تفصیلی جوابات

سورۃ قریش کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ قریش مکی سورت ہے۔ اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ «قُرَیْش» آیا ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام «سورۃ قریش» ہے۔

وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات

1 وجہِ تسمیہ — پہلی ہی آیت «لِاِیْلَافِ قُرَیْشٍ» میں لفظِ قریش موجود ہے، اسی مناسبت سے سورت کا نام سورۃ قریش رکھا گیا۔
2 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید میں یہ 106ویں سورت ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 29ویں نمبر پر ہے۔
3 تعارفی معلومات — نوعیت — یہ مکی سورت ہے، یعنی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
4 تعارفی معلومات — آیات و رکوع — اس کی آیات کی تعداد 4 اور رکوع 1 ہے۔
5 تعارفی معلومات — موضوع — قریش پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور ان کا تقاضا۔
جواب مرکزی مضمون — اللہ تعالیٰ کے احسانات اور عبادت کا ذکر۔
13 تفصیلی جوابات

لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ (سورۃ قریش ۔ آیات 1 تا 4)

سورۃ قریش کا شانِ نزول اور بنیادی مضامین تحریر کریں۔

یہ سورت قریشِ مکہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کے بارے میں نازل ہوئی۔ «قریش» نبی کریم محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ کے قبیلے کا نام ہے۔

شانِ نزول اور بنیادی مضامین

1 شانِ نزول — قریش کون ہیں — قریش سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ہیں، اور یہی نبی کریم ﷺ کا قبیلہ ہے۔
2 شانِ نزول — عزت کا سبب — اس نسبی تعلق اور بیت اللہ کے انتظامات سنبھالنے کی وجہ سے انہیں پورے عرب میں عزت اور امن حاصل تھا۔
3 شانِ نزول — قافلوں کی حفاظت — ان کے تجارتی قافلے لوٹ مار سے محفوظ رہتے تھے۔
4 بنیادی مضامین — پہلا مضمون — اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑے علاقے کی تجارتی سرگرمیاں ان کے ہاتھ میں دے رکھی تھیں۔
5 بنیادی مضامین — دوسرا مضمون — یہ سردی کے موسم میں یمن کی طرف جاتے تھے جو ایک گرم علاقہ تھا، اور گرمی کے موسم میں شام جاتے تھے جو ایک ٹھنڈا علاقہ تھا۔
6 بنیادی مضامین — تیسرا مضمون — ان عظیم نعمتوں پر اللہ تعالیٰ نے انہیں شکر کرنے، شرک سے بچنے اور اپنی عبادت کا حکم دیا۔
جواب کیا آپ جانتے ہیں؟ — قریش عرب کا سب سے معزز قبیلہ تھا۔ قریش کی ایک معزز شاخ بنی ہاشم تھی، جس کے سردار حضرت عبدالمطلب تھے۔ جناب عبدالمطلب کے بیٹے حضرت عبداللہ کے گھر اللہ کے آخری رسول سیدنا محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ پیدا ہوئے۔ آپ ﷺ کے خاندان کو بیت اللہ کے انتظام اور حاجیوں کی خدمت کا اعزاز حاصل تھا۔
14 تفصیلی جوابات

ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ (سورۃ قریش ۔ آیت 4)

سورۃ قریش سے حاصل ہونے والا سبق تحریر کریں۔

اس سورت کا بنیادی سبق یہ ہے کہ نعمتیں دینے والے ہی کی عبادت کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے۔

علم و عمل کی باتیں اور مزید اسباق

1 علم و عمل کی باتیں — اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا عبادت ہے۔
2 علم و عمل کی باتیں — اللہ تعالیٰ ہی ہمارا رب ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے۔
3 علم و عمل کی باتیں — اللہ تعالیٰ ہی ہمارا رازق اور محافظ ہے۔
4 مزید اسباق — نعمت اور ذمہ داری — ہر نعمت اپنے ساتھ ایک ذمہ داری لاتی ہے؛ قریش کو ملنے والی عزت کا تقاضا توحید تھا۔
5 مزید اسباق — رزق کا یقین — بے آب و گیاہ وادی میں رزق دینے والا ہر جگہ رزق دے سکتا ہے، اس لیے رزق کے معاملے میں اللہ پر بھروسا رکھنا چاہیے۔
6 مزید اسباق — امن کی قدر — امن ایک بہت بڑی نعمت ہے، جس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
7 مزید اسباق — حرم کا احترام — بیت اللہ کی عظمت اور اس کے رب کی توحید ہی اصل سرمایہ ہے۔
8 مزید اسباق — ناشکری سے بچنا — نعمت دینے والے کو چھوڑ کر کسی اور کے سامنے جھکنا سب سے بڑی ناشکری ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ (سورۃ قریش ۔ آیات 1 تا 4)

قریش کو سفر سے الفت دلانے، کھانا کھلانے اور امن دیے جانے کا خصوصی ذکر کرنے کی وضاحت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

ان تینوں باتوں کا خصوصی ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہی وہ نعمتیں ہیں جن پر قریش کی پوری معیشت اور عزت کھڑی تھی، اور انہی کا تقاضا توحید تھا۔

تینوں کا الگ الگ پہلو اور خصوصی ذکر کی حکمت

1 تینوں کا الگ الگ پہلو — 1۔ سفر سے الفت (اِیْلَاف) — مکہ کھیتی باڑی کے قابل نہیں تھا، اس لیے تجارت ہی ذریعۂ معاش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دور دراز کے مشکل سفروں کو ان کے لیے مانوس اور آسان بنا دیا، اور دونوں موسموں کے لیے موزوں راستے عطا کیے۔
2 تینوں کا الگ الگ پہلو — 2۔ کھانا کھلانا (اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ) — ایک بنجر وادی میں رہنے کے باوجود ان کے رزق کا انتظام ہوا؛ یہ اس دعا کا ثمر تھا جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس شہر اور اس کے رہنے والوں کے لیے کی تھی۔
3 تینوں کا الگ الگ پہلو — 3۔ امن دینا (اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ) — اس زمانے میں لوٹ مار عام تھی، مگر حرم کے خادم ہونے کی وجہ سے ان کے قافلے محفوظ رہتے تھے؛ اصحابِ الفیل سے حفاظت اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔
4 خصوصی ذکر کی حکمت — محسوس نعمتیں — یہ وہ نعمتیں تھیں جن کا مشاہدہ قریش خود روز کرتے تھے، اس لیے ان سے استدلال کرنا زیادہ مؤثر تھا۔
5 خصوصی ذکر کی حکمت — بنیادی ضرورتیں — انسان کی دو بنیادی ضرورتیں رزق اور امن ہیں؛ دونوں انہیں بن مانگے ملیں۔
6 خصوصی ذکر کی حکمت — احسان کا تقاضا — جس نے یہ سب دیا، عبادت کا حق بھی اسی کا ہے — یہی آیت 3 کا مضمون ہے۔
7 خصوصی ذکر کی حکمت — بت پرستی کی تردید — یہ نعمتیں بتوں نے نہیں دیں، بلکہ «رَبِّ هٰذَا الْبَیْتِ» نے عطا کیں۔
8 خصوصی ذکر کی حکمت — سورۃ الفیل سے ربط — پچھلی سورت میں حفاظت کا ذکر تھا، یہاں اسی حفاظت کے ثمرات گنوائے گئے ہیں۔
جواب نوٹ — مزید وضاحت اور اپنے علاقے کی مثالوں کے لیے اپنے اساتذہ کرام سے رہنمائی حاصل کریں۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ

اسم معرفہ کی تمام اقسام اور اس کی چند قرآنی مثالیں تلاش کر کے مذاکرہ کریں۔

اسم معرفہ وہ اسم ہے جو کسی خاص اور متعین شخص، جگہ یا چیز کے لیے بولا جائے۔ اس کی سات قسمیں ہیں۔

سات اقسام اور قرآنی مثالیں اور مذاکرے کے لیے نکات

1 سات اقسام اور قرآنی مثالیں — 1۔ اسمِ علم — کسی خاص شخص، جگہ یا چیز کا نام۔ جیسے: یُوْسُفُ، مَكَّةُ، زَیْدٌ، زَمْزَمُ، اَلزَّیْتُوْنُ، اَلْفِیْلُ، قُرَیْشٌ۔
2 سات اقسام اور قرآنی مثالیں — 2۔ اسمِ ضمیر — کسی نام کی جگہ بولا جانے والا لفظ۔ جیسے: هُوَ، هُمْ، اَنْتَ، اَنْتُمْ، اَنَا، نَحْنُ۔
3 سات اقسام اور قرآنی مثالیں — 3۔ اسمِ اشارہ — جس سے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جائے۔ جیسے: هٰذَا، ذٰلِكَ، اُولٰٓئِكَ — سورۃ قریش میں «هٰذَا الْبَیْتِ»۔
4 سات اقسام اور قرآنی مثالیں — 4۔ اسمِ موصول — جو صلہ کے ساتھ مل کر جملے کا جز بنے۔ جیسے: اَلَّذِیْ، اَلَّتِیْ — سورۃ قریش میں «اَلَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ»۔
5 سات اقسام اور قرآنی مثالیں — 5۔ معرف باللام — نکرہ پر الف لام داخل کر کے معرفہ بنایا گیا ہو۔ جیسے: اَلرَّجُلُ، اَلْكِتَابُ، اَلْعٰلَمِیْنَ — سورۃ قریش میں «اَلشِّتَآءِ»، «اَلصَّیْفِ» اور «اَلْبَیْتِ»۔
6 سات اقسام اور قرآنی مثالیں — 6۔ مضاف الی المعرفہ — جو کسی معرفہ کی طرف مضاف ہو۔ جیسے: مَقَامُ اِبْرَاهِیْمَ، بَیْتُ النَّبِيِّ — سورۃ قریش میں «رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِ» اور «اِیْلَافِهِمْ»۔
7 سات اقسام اور قرآنی مثالیں — 7۔ معرفہ بہ ندا — پکارنے کی وجہ سے معرفہ بننے والا اسم۔ جیسے: یَا عِبَادِيْ، یَا قَوْمِ، یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ۔
8 مذاکرے کے لیے نکات — پہچان کے قرینے — «ال»، اضافت، ندا، اشارہ اور موصول — یہ سب معرفہ ہونے کی علامتیں ہیں، جبکہ تنوین عموماً نکرہ کی علامت ہے۔
9 مذاکرے کے لیے نکات — ایک سورت، کئی قسمیں — سورۃ قریش جیسی مختصر سورت میں بھی اسمِ علم، اسمِ اشارہ، اسمِ موصول، معرف باللام اور مضاف الی المعرفہ سب موجود ہیں۔
10 مذاکرے کے لیے نکات — حرفِ ندا کا حذف — کبھی کبھی حرفِ ندا حذف بھی ہو جاتا ہے، جیسے: رَبِّ، رَبَّنَا۔
11 مذاکرے کے لیے نکات — عملی مشق — ہر طالبِ علم ایک مختصر سورت لے کر اس میں سے ہر قسم کی ایک مثال تلاش کرے اور جماعت کے سامنے پیش کرے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

17 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ إِۦلَٰفِهِمۡ رِحۡلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيۡفِ

اسمِ علم کی چند قرآنی مثالیں تحریر کریں۔

اسمِ علم وہ اسم ہے جو کسی خاص شخص، جگہ یا چیز کا نام ہو۔ سبق میں دی گئی قرآنی مثالیں درج ذیل ہیں:

1 اَللهُ — ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ
2 اَللهُ — سورۃ البقرۃ ۔ آیت 255
3 اَللهُ — اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
4 مُوْسٰى — وَكَلَّمَ ٱللَّهُ مُوسَىٰ تَكۡلِيمٗا
5 مُوْسٰى — سورۃ النساء ۔ آیت 164
6 مُوْسٰى — اور اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا۔
7 اِبْرَاهِیْم — وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبۡرَٰهِيمَ خَلِيلٗا
8 اِبْرَاهِیْم — سورۃ النساء ۔ آیت 125
9 اِبْرَاهِیْم — اور اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دوست بنایا۔
10 بَابِل، هَارُوْت، مَارُوْت — وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلۡمَلَكَيۡنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَ
11 بَابِل، هَارُوْت، مَارُوْت — سورۃ البقرۃ ۔ آیت 102
12 بَابِل، هَارُوْت، مَارُوْت — اور (وہ پیروی کرنے لگے) اس چیز کی جو بابل میں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں پر نازل کی گئی تھی۔
13 مزید مثالیں — اشخاص کے نام — یُوْسُفُ، زَیْدٌ، نُوْحٌ، عِیْسٰى، مَرْیَمُ۔
14 مزید مثالیں — مقامات کے نام — مَكَّةُ، بَابِلُ، مِصْرُ، زَمْزَمُ۔
15 مزید مثالیں — اشیاء کے نام — اَلتِّیْنُ، اَلزَّیْتُوْنُ، اَلْفِیْلُ۔
16 مزید مثالیں — اس سبق سے — قُرَیْشٌ — ایک خاص قبیلے کا نام ہونے کی وجہ سے اسمِ علم ہے۔
جواب یاد رہے — اسمِ علم پر عموماً «ال» نہیں آتا، البتہ بعض ناموں میں «ال» ان کے ساتھ ہی مستعمل ہے، جیسے: اَلْفِیْل اور اَلزَّیْتُوْن۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.