إِۦلَٰفِهِمۡ رِحۡلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيۡفِ (سورۃ قریش ۔ آیت 2)
«اَلشِّتَآءِ» کے معنی ہیں:
الف) سردی • ب) گرمی • ج) بہار • د) خزاں
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
إِۦلَٰفِهِمۡ رِحۡلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيۡفِ (سورۃ قریش ۔ آیت 2)
«اَلشِّتَآءِ» کے معنی ہیں:
الف) سردی • ب) گرمی • ج) بہار • د) خزاں
فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ (سورۃ قریش ۔ آیت 3)
«فَلْیَعْبُدُوْا» کے معنی ہیں، پس چاہیے کہ وہ:
الف) دعا کریں • ب) عبادت کریں • ج) ذکر کریں • د) شکر ادا کریں
فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ (سورۃ قریش ۔ آیت 3)
«فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِ» میں «اَلْبَیْت» سے مراد ہے:
الف) مسجد نبوی • ب) مسجد اقصیٰ • ج) مسجد حرام • د) مسجد قبا
ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ (سورۃ قریش ۔ آیت 4)
«جُوْعٍ» کے معنی ہیں:
الف) پیاس • ب) تھکاوٹ • ج) بھوک • د) نیند
قریش اولاد تھے:
الف) سیدنا اسحاق علیہ السلام کی • ب) سیدنا یعقوب علیہ السلام کی • ج) سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی • د) سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی
لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ إِۦلَٰفِهِمۡ رِحۡلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيۡفِ (سورۃ قریش ۔ آیات 1 اور 2)
آیاتِ کریمہ کی رو سے قریش کن موسموں میں تجارتی سفر کرتے تھے؟
قریش کو مانوس کرنے کی وجہ سے، (یعنی) انہیں سردی اور گرمی کے (تجارتی) سفر سے مانوس کرنے کی وجہ سے۔
قریش سردی اور گرمی، دونوں موسموں میں تجارتی سفر کرتے تھے۔
دونوں سفروں کی تفصیل
فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ (سورۃ قریش ۔ آیت 3)
آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو کس بات کا حکم دیا ہے؟
پس انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں اس گھر (بیت اللہ) کے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔
اہم نکات
ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ (سورۃ قریش ۔ آیت 4)
آیتِ کریمہ میں قریش پر اللہ تعالیٰ کے کن دو انعامات کا ذکر ہے؟
جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور انہیں خوف سے امن دیا۔
اس آیت میں قریش پر دو بڑے انعامات کا ذکر ہے: رزق اور امن۔
دو انعامات
عرب قریش کی عزت کیوں کرتے تھے؟
دو بنیادی وجوہات کی بنا پر: سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے نسبی تعلق، اور بیت اللہ کے انتظامات سنبھالنا۔
وجوہات
لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ (سورۃ قریش ۔ آیت 1)
اسمِ علم کی تعریف ذکر کر کے سورۃ قریش سے مثالیں دیں۔
اسمِ علم وہ اسم ہے جو کسی خاص شخص، جگہ یا چیز کا نام ہو۔ جیسے: یُوْسُفُ، مَكَّةُ، زَیْدٌ، دِهْلِيْ، زَمْزَمُ، اَلزَّیْتُوْنُ، اَلْفِیْلُ وغیرہ۔
سورۃ قریش سے مثالیں
لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ إِۦلَٰفِهِمۡ رِحۡلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيۡفِ فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ (سورۃ قریش ۔ آیات 1 تا 4)
سورۃ قریش کا ترجمہ تحریر کریں۔
قریش کو مانوس کرنے کی وجہ سے، (یعنی) انہیں سردی اور گرمی کے (تجارتی) سفر سے مانوس کرنے کی وجہ سے۔ پس انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں، جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور انہیں خوف سے امن دیا۔
لفظی وضاحت اور اہم نکات
سورۃ قریش کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سورۃ قریش مکی سورت ہے۔ اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ «قُرَیْش» آیا ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام «سورۃ قریش» ہے۔
وجہِ تسمیہ اور تعارفی معلومات
لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ (سورۃ قریش ۔ آیات 1 تا 4)
سورۃ قریش کا شانِ نزول اور بنیادی مضامین تحریر کریں۔
یہ سورت قریشِ مکہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کے بارے میں نازل ہوئی۔ «قریش» نبی کریم محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ کے قبیلے کا نام ہے۔
شانِ نزول اور بنیادی مضامین
ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ (سورۃ قریش ۔ آیت 4)
سورۃ قریش سے حاصل ہونے والا سبق تحریر کریں۔
اس سورت کا بنیادی سبق یہ ہے کہ نعمتیں دینے والے ہی کی عبادت کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے۔
علم و عمل کی باتیں اور مزید اسباق
ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ (سورۃ قریش ۔ آیات 1 تا 4)
قریش کو سفر سے الفت دلانے، کھانا کھلانے اور امن دیے جانے کا خصوصی ذکر کرنے کی وضاحت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔
ان تینوں باتوں کا خصوصی ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہی وہ نعمتیں ہیں جن پر قریش کی پوری معیشت اور عزت کھڑی تھی، اور انہی کا تقاضا توحید تھا۔
تینوں کا الگ الگ پہلو اور خصوصی ذکر کی حکمت
فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ
اسم معرفہ کی تمام اقسام اور اس کی چند قرآنی مثالیں تلاش کر کے مذاکرہ کریں۔
اسم معرفہ وہ اسم ہے جو کسی خاص اور متعین شخص، جگہ یا چیز کے لیے بولا جائے۔ اس کی سات قسمیں ہیں۔
سات اقسام اور قرآنی مثالیں اور مذاکرے کے لیے نکات
لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ إِۦلَٰفِهِمۡ رِحۡلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيۡفِ
اسمِ علم کی چند قرآنی مثالیں تحریر کریں۔
اسمِ علم وہ اسم ہے جو کسی خاص شخص، جگہ یا چیز کا نام ہو۔ سبق میں دی گئی قرآنی مثالیں درج ذیل ہیں:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔