چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 12: سبق 12: سورۃ الفیل (آیات: 1 تا 5) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصۡحَٰبِ ٱلۡفِيلِ (سورۃ الفیل ۔ آیت 1)

«اَلْفِیْلِ» کے معنی ہیں:

الف) گھوڑا • ب) اونٹ • ج) ہاتھی • د) خچر

جواب ج) ہاتھی — «فِیْل» ہاتھی کو کہتے ہیں اور اسی مناسبت سے اس سورت کا نام «سورۃ الفیل» ہے۔ «اَصْحٰبُ الْفِیْلِ» یعنی ہاتھی والے، وہ لشکر جو ہاتھیوں کے ساتھ کعبۃ اللہ پر حملے کے لیے آیا تھا۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

تَرۡمِيهِم بِحِجَارَةٖ مِّن سِجِّيلٖ (سورۃ الفیل ۔ آیت 4)

«حِجَارَةٌ» کے معنی ہیں:

الف) ریت • ب) مٹی • ج) پتھر • د) ڈھیلا

جواب ج) پتھر — «حَجَر» کی جمع «حِجَارَة» ہے، یعنی پتھر۔ سبق کی ذخیرۃ الفاظ میں بھی اس کا معنی «پتھر» دیا گیا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ پرندے ان پر کھنگر (سِجِّیْل) کے پتھر پھینک رہے تھے۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

کعبۃ اللہ پر حملے کے لیے آیا:

الف) ابرہہ • ب) بخت نصر • ج) قیصر • د) کسریٰ

جواب الف) ابرہہ — ابرہہ یمن کا حاکم تھا۔ اس نے ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ بیت اللہ کو ڈھانے کا ارادہ کیا، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے لشکر کو ہلاک کر دیا۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

فَجَعَلَهُمۡ كَعَصۡفٖ مَّأۡكُولِۭ (سورۃ الفیل ۔ آیت 5)

اصحابِ الفیل کا انجام ہوا:

الف) قید ہوئے • ب) جلاوطن ہوئے • ج) ہلاک ہوئے • د) زمین میں دھنسے

جواب ج) ہلاک ہوئے — ابابیل پرندوں نے کھنگر کے پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ نے پورے لشکر کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا، یعنی سب ہلاک ہو گئے۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

فَجَعَلَهُمۡ كَعَصۡفٖ مَّأۡكُولِۭ (سورۃ الفیل ۔ آیت 5)

«مَاْكُوْلٍ» کے معنی ہیں:

الف) کھایا ہوا • ب) پیا ہوا • ج) روندا ہوا • د) چھوڑا ہوا

جواب الف) کھایا ہوا — «مَاْكُوْل» اسمِ مفعول ہے، یعنی کھایا ہوا۔ «كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ» کا مطلب ہے: اس بھوسے کی طرح جسے جانور چبا کر چھوڑ دیں — یعنی بالکل ریزہ ریزہ اور بے کار۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

أَلَمۡ يَجۡعَلۡ كَيۡدَهُمۡ فِي تَضۡلِيلٖ (سورۃ الفیل ۔ آیت 2)

آیتِ کریمہ میں اصحابِ الفیل کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟

ترجمہ

کیا اس نے ان کی چال کو بے کار نہیں کر دیا؟

آیتِ کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصحابِ الفیل کی تدبیر اور چال کو ناکام و برباد کر دیا۔

اہم نکات

1 كَیْد کا مفہوم — «كَیْد» خفیہ تدبیر اور چال کو کہتے ہیں؛ ان کی چال بیت اللہ کو ڈھا دینا تھی۔
2 تَضْلِیْل کا مفہوم — ناکام و برباد کر دینا، یعنی ان کی ساری منصوبہ بندی رائیگاں گئی۔
3 انداز — یہ استفہامِ تقریری ہے، یعنی سوال کے انداز میں ایک ایسی حقیقت بیان کرنا جسے سب جانتے اور مانتے ہیں۔
4 نتیجہ — وہ کعبے کو گرانا تو درکنار، اس تک پہنچ بھی نہ سکے۔
5 سبق — اللہ کے دین کے خلاف سازش کرنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔
7 مختصر جوابات

وَأَرۡسَلَ عَلَيۡهِمۡ طَيۡرًا أَبَابِيلَ تَرۡمِيهِم بِحِجَارَةٖ مِّن سِجِّيلٖ (سورۃ الفیل ۔ آیات 3 اور 4)

آیاتِ کریمہ کی رو سے اللہ تعالیٰ نے اصحابِ الفیل پر کون سا عذاب نازل کیا تھا؟

ترجمہ

اور اس نے ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے، جو ان کو کھنگر کے پتھر مار رہے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے ان پر ابابیل پرندوں کا عذاب نازل فرمایا، جو ان پر کھنگر (سِجِّیْل) کے پتھر برسا رہے تھے۔

عذاب کی تفصیل

1 طَیْرًا اَبَابِیْلَ — جھنڈ کے جھنڈ پرندے، جو پے در پے گروہوں کی صورت میں آئے۔
2 تَرْمِیْهِمْ — وہ ان پر مسلسل پتھر پھینک رہے تھے۔
3 حِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ — کھنگر یعنی سخت پکی ہوئی مٹی کے چھوٹے چھوٹے پتھر۔
4 اثر — یہ چھوٹے کنکر ہونے کے باوجود پورے لشکر کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہو گئے۔
5 حکمت — اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا کہ وہ سب سے کمزور مخلوق سے بھی بڑی طاقتوں کو خاک میں ملا سکتا ہے۔
8 مختصر جوابات

فَجَعَلَهُمۡ كَعَصۡفٖ مَّأۡكُولِۭ (سورۃ الفیل ۔ آیت 5)

آیتِ کریمہ کی رو سے ہاتھی والوں کا کیا انجام ہوا؟

ترجمہ

پھر اس نے انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔

ہاتھی والوں کا انجام یہ ہوا کہ وہ سب ہلاک ہو گئے اور ان کی حالت اس بھوسے کی سی ہو گئی جسے جانور چبا کر چھوڑ دیں۔

اہم نکات

1 عَصْف کا معنی — کھیتی کا بھوسا اور خشک پتے۔
2 مَاْكُوْل کا معنی — کھایا ہوا؛ یعنی وہ بھوسا جو چبایا جا چکا ہو۔
3 تشبیہ کا مقصد — اتنا بڑا لشکر ریزہ ریزہ اور بے وقعت ہو کر رہ گیا۔
4 عبرت — جو طاقت اللہ کے گھر کے مقابلے میں آئی، وہ خس و خاشاک بن گئی۔
5 بیت اللہ کی حفاظت — یہی اس سورت کا مرکزی مضمون ہے کہ بیت اللہ کا محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے۔
9 مختصر جوابات

ہاتھی والے مکہ مکرمہ کیوں آئے تھے؟

وہ کعبۃ اللہ کو ڈھانے اور لوگوں کو اس سے پھیرنے کے لیے آئے تھے۔

پس منظر

1 ابرہہ کا عہدہ — ابرہہ یمن کا حاکم تھا۔
2 گرجا گھر کی تعمیر — اس نے صنعاء میں ایک عالی شان عبادت گاہ بنائی تاکہ لوگ کعبے کے بجائے وہاں آئیں۔
3 ناکامی — لوگوں کا رجحان بدستور بیت اللہ ہی کی طرف رہا۔
4 حسد اور غصہ — اس پر وہ برہم ہوا اور کعبے کو گرا دینے کا ارادہ کر لیا۔
5 لشکر کشی — ہاتھیوں کا لشکر لے کر مکہ مکرمہ کی طرف بڑھا۔
6 انجام — اللہ تعالیٰ نے ابابیل پرندوں کے ذریعے اسے اور اس کے لشکر کو ہلاک کر دیا۔
10 مختصر جوابات

رسالت مآب ﷺ کی ولادتِ مبارکہ سے پچاس دن پہلے کون سا خاص واقعہ پیش آیا؟

اصحابِ الفیل کا واقعہ پیش آیا، یعنی ابرہہ کے لشکر کا بیت اللہ پر حملہ اور اس کی تباہی۔

اہم نکات

1 وقت — یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کی ولادتِ مبارکہ سے پچاس (50) دن پہلے پیش آیا۔
2 عام الفیل — اسی مناسبت سے اس سال کو «عام الفیل» یعنی ہاتھی والا سال کہا جاتا ہے۔
3 اہلِ عرب کی تاریخ — اہلِ عرب اسی واقعے سے اپنی تاریخ شمار کرنے لگے۔
4 حرمتِ کعبہ — اس واقعے سے بیت اللہ کی عظمت پورے عرب پر واضح ہو گئی۔
5 نبوت سے ربط — گویا آنے والے نبی ﷺ کی آمد سے پہلے ہی اس گھر کی حفاظت کا اعلان کر دیا گیا جس کی طرف رخ کر کے ان کی امت نماز پڑھے گی۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصۡحَٰبِ ٱلۡفِيلِ (سورۃ الفیل ۔ آیت 1)

آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

لفظی وضاحت اور مفہوم اور اہم نکات

1 لفظی وضاحت — اَلَمْ تَرَ — کیا تو نے نہیں دیکھا — یہاں «دیکھنے» سے مراد علم اور یقین ہے، کیوں کہ یہ واقعہ ولادتِ نبوی سے پہلے کا ہے۔
2 لفظی وضاحت — كَیْفَ فَعَلَ — کیسا سلوک کیا، یعنی کس طرح کی سزا دی۔
3 لفظی وضاحت — رَبُّكَ — آپ کا رب — اس میں نبی کریم ﷺ کے لیے شرف اور تسلی دونوں ہیں۔
4 لفظی وضاحت — بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ — ہاتھی والوں کے ساتھ، یعنی ابرہہ اور اس کا لشکر۔
5 مفہوم اور اہم نکات — استفہامِ تقریری — سوال کے انداز میں ایک مشہور و معروف واقعے کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔
6 مفہوم اور اہم نکات — مشہورِ زمانہ واقعہ — یہ واقعہ اہلِ مکہ میں اتنا معروف تھا کہ اسے دلیل کے طور پر پیش کیا گیا۔
7 مفہوم اور اہم نکات — نسبتِ ربوبیت — «رَبُّكَ» فرما کر بتایا گیا کہ جس نے پہلے اس گھر کی حفاظت کی، وہی آپ کا اور آپ کے دین کا محافظ ہے۔
8 مفہوم اور اہم نکات — اصل مقصود — مشرکینِ مکہ کو یاد دلانا کہ جس گھر کی حفاظت اللہ نے کی، اسی گھر کے رب کی عبادت کرو۔
9 مفہوم اور اہم نکات — اگلی سورت سے ربط — سورۃ قریش میں اسی احسان کا تذکرہ ہے کہ اسی وجہ سے قریش کو امن اور رزق ملا۔
12 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْفِیْل کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔

سورۃ الفیل مکی سورت ہے اور اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کہ اس میں «اَصْحَابُ الْفِیْلِ» (ہاتھی والوں) کا واقعہ بیان ہوا ہے۔

1 وجہِ تسمیہ — اس سورت میں ہاتھی والوں (اصحابِ الفیل) کا واقعہ بیان ہوا ہے، اسی مناسبت سے اس کا نام «سورۃ الفیل» رکھا گیا۔
2 تعارفی معلومات — ترتیب — قرآنِ مجید میں یہ 105ویں سورت ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے 19ویں نمبر پر ہے۔
3 تعارفی معلومات — نوعیت — یہ مکی سورت ہے، یعنی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
4 تعارفی معلومات — آیات و رکوع — اس کی آیات کی تعداد 5 اور رکوع 1 ہے۔
5 تعارفی معلومات — موضوع — ابرہہ کے لشکر کا بیت اللہ پر حملہ اور اس کی عبرت ناک تباہی۔
6 مرکزی مضمون — بیت اللہ کی حفاظت۔
جواب خلاصہ — اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت خود فرمائی اور اسے ڈھانے کے لیے آنے والے لشکر کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔
13 تفصیلی جوابات

أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصۡحَٰبِ ٱلۡفِيلِ (سورۃ الفیل ۔ آیات 1 تا 5)

سُوْرَةُ الْفِیْل کا شانِ نزول اور بنیادی مضامین تحریر کریں۔

یہ سورتِ مبارکہ کعبۃ اللہ پر ابرہہ کے لشکر کے حملے اور اس کی تباہی کے حوالے سے نازل ہوئی ہے۔

1 شانِ نزول کیا ہے؟ — قرآنِ مجید کی بعض سورتیں اور بعض آیات خاص وجوہات اور حالات میں نازل ہوئی ہیں۔ ان وجوہات اور حالات کو بیان کرنا اس سورت یا آیت کا «شانِ نزول» کہلاتا ہے۔
2 شانِ نزول — بیت اللہ پر حملہ کرنے کا واقعہ نبی کریم ﷺ کی ولادت سے پچاس (50) دن پہلے پیش آیا تھا۔
3 واقعے کی تفصیل — 1۔ ابرہہ کون تھا — وہ یمن کا حاکم تھا۔
4 واقعے کی تفصیل — 2۔ عبادت گاہ کی تعمیر — اس نے صنعاء میں ایک عالی شان عبادت گاہ تعمیر کی تاکہ لوگ کعبے کے بجائے اس کی طرف رخ کریں۔
5 واقعے کی تفصیل — 3۔ ناکامی اور حسد — لوگ بدستور بیت اللہ ہی کا رخ کرتے رہے، جس پر وہ سخت برہم ہوا۔
6 واقعے کی تفصیل — 4۔ لشکر کشی — اس نے ہاتھیوں کا لشکر لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔
7 واقعے کی تفصیل — 5۔ اہلِ مکہ کی بے بسی — اہلِ مکہ اس عظیم لشکر کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، چنانچہ وہ پہاڑوں کی طرف نکل گئے۔
8 واقعے کی تفصیل — 6۔ اللہ کا فیصلہ — اللہ تعالیٰ نے ابابیل پرندے بھیجے جنہوں نے کھنگر کے پتھر برسا کر پورے لشکر کو ہلاک کر دیا۔
9 واقعے کی تفصیل — 7۔ نتیجہ — ان کی حالت کھائے ہوئے بھوسے کی سی ہو گئی اور بیت اللہ محفوظ رہا۔
10 بنیادی مضامین — پہلا مضمون — اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ابرہہ اور اس کے لشکر کو ہلاک کر کے کعبۃ اللہ کی حفاظت فرمائی۔
11 بنیادی مضامین — دوسرا مضمون — اللہ تعالیٰ نے ابرہہ اور اس کے لشکر پر چھوٹے چھوٹے پرندوں (ابابیل) کے جھنڈ بھیجے، جنہوں نے کنکریاں پھینک کر پورے لشکر کو ہلاک کر دیا۔
12 علم و عمل کی باتیں — اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازشیں کرنے والوں کا برا انجام ہوتا ہے۔
13 علم و عمل کی باتیں — اللہ تعالیٰ طاقت پر گھمنڈ کرنے والوں کو ظاہری کمزور مخلوق سے تباہ کر کے ان کا غرور خاک میں ملا دیتا ہے۔
14 علم و عمل کی باتیں — ہمیں دین کے دشمنوں کی طاقت سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیے۔
15 علم و عمل کی باتیں — ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے لشکروں کو ذاتِ باری تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، وہ جس سے کام لے لے۔
16 علم و عمل کی باتیں — ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اپنے خالق و مالک کے سامنے عاجزی اور فرماں برداری سے جھکے رہیں۔
14 تفصیلی جوابات

سُوْرَةُ الْفِیْل میں سے کوئی سا ایک اسم معرفہ اور تین اسم نکرہ تلاش کر کے لکھیں۔

اسم معرفہ وہ اسم ہے جو کسی خاص اور متعین چیز کے لیے بولا جائے، جبکہ اسم نکرہ وہ ہے جو کسی عام اور غیر متعین چیز کے لیے آئے۔

1 اسم معرفہ (ایک مثال) — اَلْفِیْلِ (آیت 1) — «اَصْحٰبِ الْفِیْلِ» میں «اَلْفِیْل» معرف باللام ہے، کیوں کہ اس کے شروع میں «ال» داخل ہے۔
2 اسم نکرہ (تین مثالیں) — 1۔ طَیْرًا (آیت 3) — پرندے — عام اور غیر متعین ہے، اور اس پر تنوین بھی ہے۔
3 اسم نکرہ (تین مثالیں) — 2۔ حِجَارَةٍ (آیت 4) — پتھر — نکرہ ہے، اس پر تنوین موجود ہے۔
4 اسم نکرہ (تین مثالیں) — 3۔ سِجِّیْلٍ (آیت 4) — کھنگر — یہ بھی نکرہ ہے اور اس پر تنوین ہے۔
5 مزید مثالیں — دیگر اسمائے معرفہ — «رَبُّكَ» اور «كَیْدَهُمْ» — یہ مضاف الی المعرفہ ہیں، کیوں کہ ان کا مضاف الیہ ضمیر (معرفہ) ہے۔
6 مزید مثالیں — دیگر اسمائے نکرہ — «تَضْلِیْلٍ»، «اَبَابِیْلَ» اور «عَصْفٍ» بھی نکرہ ہیں۔
7 مزید مثالیں — پہچان کا اصول — عام طور پر تنوین نکرہ کی اور «ال» یا اضافت معرفہ کی علامت ہوتی ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

أَلَمۡ يَجۡعَلۡ كَيۡدَهُمۡ فِي تَضۡلِيلٖ

اساتذہ کی راہ نمائی سے خانہ کعبہ کے مختلف حصوں کے ناموں کی درست نمبر کے ذریعے نشان دہی کریں۔

کتاب میں دیے گئے نقشے کے ساتھ ملانے کے لیے بارہ حصوں کا تعارف درج ذیل ہے۔ ہر حصے کی جگہ سمجھ لینے کے بعد نقشے میں دیا گیا نمبر خانے میں لکھ دیں۔

خانہ کعبہ کے بارہ حصے

1 غلافِ کعبہ — وہ سیاہ ریشمی چادر جو خانہ کعبہ پر چڑھائی جاتی ہے اور جس پر سنہری حروف میں آیات کندہ ہوتی ہیں؛ اسے «کِسوہ» بھی کہتے ہیں۔
2 خانہ کعبہ کا دروازہ — مشرقی دیوار میں سونے کا بنا ہوا دروازہ، جو زمین سے تقریباً دو میٹر بلندی پر ہے۔
3 حجرِ اسود — جنت سے آنے والا سیاہ پتھر، جو مشرقی گوشے میں چاندی کے حلقے میں نصب ہے؛ طواف کا آغاز اور اختتام یہیں سے ہوتا ہے۔
4 رکنِ حجرِ اسود — خانہ کعبہ کا وہ گوشہ جس میں حجرِ اسود نصب ہے (مشرقی گوشہ)۔
5 رکنِ یمانی — جنوبی گوشہ، جو یمن کی سمت ہے؛ طواف میں اسے چھونا مسنون ہے۔
6 رکنِ عراقی — شمالی گوشہ، جو عراق کی سمت ہے۔
7 رکنِ شامی — مغربی گوشہ، جو شام کی سمت ہے۔
8 میزابِ رحمت — چھت پر لگا ہوا سنہری پرنالہ، جو حطیم کی جانب گرتا ہے اور جس سے بارش کا پانی بہتا ہے۔
9 حجرِ اسماعیل علیہ السلام (حطیم) — نصف دائرے کی شکل میں بنی ہوئی چھوٹی دیوار، جو کعبے کے شمالی جانب ہے؛ یہ حصہ بھی کعبے ہی کا شمار ہوتا ہے، اس لیے طواف اس کے باہر سے کیا جاتا ہے۔
10 مقامِ ابراہیم علیہ السلام — وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کعبے کی تعمیر فرمائی؛ اب یہ کعبے کے سامنے ایک سنہری قبے میں محفوظ ہے۔
11 ملتزم — دروازے اور حجرِ اسود کے درمیان کی دیوار، جہاں لپٹ کر دعا کرنا مستحب ہے۔
12 شاذَروان (خانہ کعبہ کی بنیادیں) — دیوار کے نیچے نکلا ہوا ترچھا حصہ، جو کعبے کی اصل بنیادوں کی نشان دہی کرتا ہے۔
جواب نوٹ — نمبروں کی ترتیب آپ کی کتاب کے نقشے کے مطابق ہے، اس لیے درست نمبر اپنی کتاب کے نقشے کو دیکھ کر لکھیں اور اساتذہ کرام سے تصدیق کروا لیں۔ اس فہرست میں صرف ہر حصے کی پہچان اور جگہ بتائی گئی ہے۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

16 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

أَلَمۡ يَجۡعَلۡ كَيۡدَهُمۡ فِي تَضۡلِيلٖ

اسم معرفہ کی تعریف اور اقسام مثالوں کے ساتھ بیان کریں۔

اسم معرفہ وہ اسم ہے جو کسی خاص اور متعین شخص، جگہ یا چیز کے لیے بولا جائے۔ اس کی سات قسمیں ہیں۔

اسم معرفہ کی سات قسمیں اور معرفہ بہ ندا کی مزید وضاحت

1 اسم معرفہ کی سات قسمیں — 1۔ اسمِ علم — وہ جو کسی خاص شخص، جگہ یا چیز کا نام ہو۔ جیسے: یُوْسُفُ، مَكَّةُ، زَیْدٌ، دِهْلِيْ، زَمْزَمُ، زَیْتُوْنُ، اَلْفِیْلُ وغیرہ۔
2 اسم معرفہ کی سات قسمیں — 2۔ اسمِ ضمیر — وہ جو کسی نام کی جگہ بولا جائے۔ جیسے: هُوَ، هُمْ، اَنْتَ، اَنْتُمْ، اَنَا، نَحْنُ۔
3 اسم معرفہ کی سات قسمیں — 3۔ اسمِ اشارہ — وہ اسم جس سے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جائے۔ جیسے: هٰذَا، ذٰلِكَ، اُولٰٓئِكَ۔
4 اسم معرفہ کی سات قسمیں — 4۔ اسمِ موصول — وہ اسم جو صلہ کے ساتھ مل کر جملہ کا جز بن سکے۔ جیسے: اَلَّذِیْ، اَلَّتِیْ۔
5 اسم معرفہ کی سات قسمیں — 5۔ معرف باللام — وہ اسم جو نکرہ ہو اور الف لام داخل کر کے معرفہ بنایا گیا ہو۔ جیسے: اَلرَّجُلُ، اَلْكِتَابُ، اَلْعَالَمِیْنَ۔
6 اسم معرفہ کی سات قسمیں — 6۔ مضاف الی المعرفہ — ایسا اسم جو کسی معرفہ کی طرف مضاف ہو۔ جیسے: مَقَامُ اِبْرَاهِیْمَ (مقامِ ابراہیم)، مَالُهٗ (اس کا مال)، مِثْلُ هٰذَا الْغُرَابِ (اس کوے جیسا)، مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ (جیسے ان پر ہیں)، بَیْتُ النَّبِيِّ (نبی کا گھر)۔
7 اسم معرفہ کی سات قسمیں — 7۔ معرفہ بہ ندا — وہ اسم جو پکارنے کی وجہ سے معرفہ بن جائے۔ جیسے: یَا عِبَادِيْ، یَا قَوْمِ، یَا یَحْیٰى، اُدْعُ۔
8 معرفہ بہ ندا کی مزید وضاحت — حرفِ ندا — جس حرف کے ساتھ پکارا جاتا ہے اسے حرفِ ندا کہتے ہیں، اور جسے پکارا جائے اسے «منادیٰ» کہتے ہیں۔
9 معرفہ بہ ندا کی مزید وضاحت — قرآنی اسلوب — قرآنِ حکیم میں عموماً پکارنے کے لیے «یا»، «اَیُّهَا» اور «اَیَّتُهَا» کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں، اور یہ الفاظ کبھی ایک ساتھ بھی آتے ہیں۔
10 معرفہ بہ ندا کی مزید وضاحت — مثال — «یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ» — اس میں «یا» حرفِ ندا ہے اور «اَلْمُزَّمِّل» منادیٰ ہے۔
11 معرفہ بہ ندا کی مزید وضاحت — مزید مثالیں — یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ، یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ، اَیَّتُهَا الْعِیْرُ۔
جواب اہم معلومات — کبھی کبھی حرفِ ندا محذوف (حذف) بھی ہو جاتا ہے، جیسے: رَبِّ، رَبَّنَا — یعنی اصل میں «یَا رَبِّ» اور «یَا رَبَّنَا» ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.