أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصۡحَٰبِ ٱلۡفِيلِ (سورۃ الفیل ۔ آیت 1)
«اَلْفِیْلِ» کے معنی ہیں:
الف) گھوڑا • ب) اونٹ • ج) ہاتھی • د) خچر
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصۡحَٰبِ ٱلۡفِيلِ (سورۃ الفیل ۔ آیت 1)
«اَلْفِیْلِ» کے معنی ہیں:
الف) گھوڑا • ب) اونٹ • ج) ہاتھی • د) خچر
تَرۡمِيهِم بِحِجَارَةٖ مِّن سِجِّيلٖ (سورۃ الفیل ۔ آیت 4)
«حِجَارَةٌ» کے معنی ہیں:
الف) ریت • ب) مٹی • ج) پتھر • د) ڈھیلا
کعبۃ اللہ پر حملے کے لیے آیا:
الف) ابرہہ • ب) بخت نصر • ج) قیصر • د) کسریٰ
فَجَعَلَهُمۡ كَعَصۡفٖ مَّأۡكُولِۭ (سورۃ الفیل ۔ آیت 5)
اصحابِ الفیل کا انجام ہوا:
الف) قید ہوئے • ب) جلاوطن ہوئے • ج) ہلاک ہوئے • د) زمین میں دھنسے
فَجَعَلَهُمۡ كَعَصۡفٖ مَّأۡكُولِۭ (سورۃ الفیل ۔ آیت 5)
«مَاْكُوْلٍ» کے معنی ہیں:
الف) کھایا ہوا • ب) پیا ہوا • ج) روندا ہوا • د) چھوڑا ہوا
أَلَمۡ يَجۡعَلۡ كَيۡدَهُمۡ فِي تَضۡلِيلٖ (سورۃ الفیل ۔ آیت 2)
آیتِ کریمہ میں اصحابِ الفیل کے حوالے سے کیا بتایا گیا ہے؟
کیا اس نے ان کی چال کو بے کار نہیں کر دیا؟
آیتِ کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصحابِ الفیل کی تدبیر اور چال کو ناکام و برباد کر دیا۔
اہم نکات
وَأَرۡسَلَ عَلَيۡهِمۡ طَيۡرًا أَبَابِيلَ تَرۡمِيهِم بِحِجَارَةٖ مِّن سِجِّيلٖ (سورۃ الفیل ۔ آیات 3 اور 4)
آیاتِ کریمہ کی رو سے اللہ تعالیٰ نے اصحابِ الفیل پر کون سا عذاب نازل کیا تھا؟
اور اس نے ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے، جو ان کو کھنگر کے پتھر مار رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان پر ابابیل پرندوں کا عذاب نازل فرمایا، جو ان پر کھنگر (سِجِّیْل) کے پتھر برسا رہے تھے۔
عذاب کی تفصیل
فَجَعَلَهُمۡ كَعَصۡفٖ مَّأۡكُولِۭ (سورۃ الفیل ۔ آیت 5)
آیتِ کریمہ کی رو سے ہاتھی والوں کا کیا انجام ہوا؟
پھر اس نے انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔
ہاتھی والوں کا انجام یہ ہوا کہ وہ سب ہلاک ہو گئے اور ان کی حالت اس بھوسے کی سی ہو گئی جسے جانور چبا کر چھوڑ دیں۔
اہم نکات
ہاتھی والے مکہ مکرمہ کیوں آئے تھے؟
وہ کعبۃ اللہ کو ڈھانے اور لوگوں کو اس سے پھیرنے کے لیے آئے تھے۔
پس منظر
رسالت مآب ﷺ کی ولادتِ مبارکہ سے پچاس دن پہلے کون سا خاص واقعہ پیش آیا؟
اصحابِ الفیل کا واقعہ پیش آیا، یعنی ابرہہ کے لشکر کا بیت اللہ پر حملہ اور اس کی تباہی۔
اہم نکات
أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصۡحَٰبِ ٱلۡفِيلِ (سورۃ الفیل ۔ آیت 1)
آیتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
لفظی وضاحت اور مفہوم اور اہم نکات
سُوْرَةُ الْفِیْل کا تعارف اور مرکزی مضمون تحریر کریں۔
سورۃ الفیل مکی سورت ہے اور اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کہ اس میں «اَصْحَابُ الْفِیْلِ» (ہاتھی والوں) کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصۡحَٰبِ ٱلۡفِيلِ (سورۃ الفیل ۔ آیات 1 تا 5)
سُوْرَةُ الْفِیْل کا شانِ نزول اور بنیادی مضامین تحریر کریں۔
یہ سورتِ مبارکہ کعبۃ اللہ پر ابرہہ کے لشکر کے حملے اور اس کی تباہی کے حوالے سے نازل ہوئی ہے۔
سُوْرَةُ الْفِیْل میں سے کوئی سا ایک اسم معرفہ اور تین اسم نکرہ تلاش کر کے لکھیں۔
اسم معرفہ وہ اسم ہے جو کسی خاص اور متعین چیز کے لیے بولا جائے، جبکہ اسم نکرہ وہ ہے جو کسی عام اور غیر متعین چیز کے لیے آئے۔
أَلَمۡ يَجۡعَلۡ كَيۡدَهُمۡ فِي تَضۡلِيلٖ
اساتذہ کی راہ نمائی سے خانہ کعبہ کے مختلف حصوں کے ناموں کی درست نمبر کے ذریعے نشان دہی کریں۔
کتاب میں دیے گئے نقشے کے ساتھ ملانے کے لیے بارہ حصوں کا تعارف درج ذیل ہے۔ ہر حصے کی جگہ سمجھ لینے کے بعد نقشے میں دیا گیا نمبر خانے میں لکھ دیں۔
خانہ کعبہ کے بارہ حصے
أَلَمۡ يَجۡعَلۡ كَيۡدَهُمۡ فِي تَضۡلِيلٖ
اسم معرفہ کی تعریف اور اقسام مثالوں کے ساتھ بیان کریں۔
اسم معرفہ وہ اسم ہے جو کسی خاص اور متعین شخص، جگہ یا چیز کے لیے بولا جائے۔ اس کی سات قسمیں ہیں۔
اسم معرفہ کی سات قسمیں اور معرفہ بہ ندا کی مزید وضاحت
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔