فَنَظَرَ نَظۡرَةٗ فِي ٱلنُّجُومِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 88)
«اَلنُّجُوْمِ» کا معنی ہے:
الف) سورج • ب) ستارے • ج) انگارے • د) شعلے
چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
فَنَظَرَ نَظۡرَةٗ فِي ٱلنُّجُومِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 88)
«اَلنُّجُوْمِ» کا معنی ہے:
الف) سورج • ب) ستارے • ج) انگارے • د) شعلے
قَدۡ صَدَّقۡتَ ٱلرُّءۡيَآۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 105)
«قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا» میں «الرُّءْیَا» عربی قواعد کی رو سے ہے:
الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر
كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 110)
«كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِیْنَ» ۔ ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں:
الف) نیک لوگوں کو • ب) کامیاب لوگوں کو • ج) حسین لوگوں کو • د) امیر لوگوں کو
وَأَنۢبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةٗ مِّن يَقۡطِينٖ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 146)
«وَاَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ» ۔ اور ہم نے ان پر اگا دیا:
الف) ایک پھل دار درخت • ب) ایک بیل دار درخت • ج) ایک سایہ دار درخت • د) ایک تناور درخت
وَأَرۡسَلۡنَٰهُ إِلَىٰ مِاْئَةِ أَلۡفٍ أَوۡ يَزِيدُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 147)
«وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ» کی رو سے ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا گیا:
الف) سیدنا نوح علیہ السلام کو • ب) سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو • ج) سیدنا یوسف علیہ السلام کو • د) سیدنا یونس علیہ السلام کو
قَالُواْ ٱبۡنُواْ لَهُۥ بُنۡيَٰنٗا فَأَلۡقُوهُ فِي ٱلۡجَحِيمِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 97)
آیتِ کریمہ کی رو سے قوم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لیے کیا تجویز کیا؟
انہوں نے کہا: اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے دہکتی آگ میں ڈال دو۔
قوم نے یہ تجویز کیا کہ ایک عمارت (بھٹی) بنا کر اس میں آگ بھڑکائی جائے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اسی دہکتی آگ میں ڈال دیا جائے۔
پس منظر اور انجام
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعۡيَ قَالَ يَٰبُنَيَّ إِنِّيٓ أَرَىٰ فِي ٱلۡمَنَامِ أَنِّيٓ أَذۡبَحُكَ فَٱنظُرۡ مَاذَا تَرَىٰۚ قَالَ يَـٰٓأَبَتِ ٱفۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُۖ سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰبِرِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 102)
آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والدِ گرامی کے سوال پر کیا جواب عرض کیا؟
انہوں نے کہا: اے میرے ابا جان! جو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے وہ کر ڈالیے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔
آپ علیہ السلام نے فوراً حکمِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا اور صبر کا وعدہ فرمایا۔
جواب کے اہم پہلو
أَتَدۡعُونَ بَعۡلٗا وَتَذَرُونَ أَحۡسَنَ ٱلۡخَٰلِقِينَ ٱللَّهَ رَبَّكُمۡ وَرَبَّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 125 اور 126)
آیاتِ کریمہ میں بَعل بت کے پجاریوں کو اللہ تعالیٰ کا کیا تعارف کرایا گیا ہے؟
کیا تم بَعل (نامی بت) کو پکارتے ہو اور سب سے بہترین پیدا فرمانے والے کو چھوڑ دیتے ہو؟ اللہ، جو تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا (بھی) رب ہے۔
یہ سیدنا الیاس علیہ السلام کی دعوت ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا تین حوالوں سے تعارف کرایا۔
تین تعارفی پہلو
فَٱسۡتَفۡتِهِمۡ أَلِرَبِّكَ ٱلۡبَنَاتُ وَلَهُمُ ٱلۡبَنُونَ أَمۡ خَلَقۡنَا ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ إِنَٰثٗا وَهُمۡ شَٰهِدُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 149 اور 150)
آیاتِ کریمہ میں فرشتوں کو عورتیں سمجھنے والوں سے کیا پوچھنے کا کہا گیا؟
پس آپ ان سے پوچھیے: کیا آپ کے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟ یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟
ان سے دو سوال پوچھنے کا حکم دیا گیا، جو دراصل ان کے باطل عقیدے پر دو زبردست اعتراض ہیں۔
دو سوال اور اس کے بعد کی آیات میں
وَجَعَلُواْ بَيۡنَهُۥ وَبَيۡنَ ٱلۡجِنَّةِ نَسَبٗاۚ وَلَقَدۡ عَلِمَتِ ٱلۡجِنَّةُ إِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 158)
آیتِ کریمہ میں جنات کی حقیقت کو کس طرح واضح کیا گیا ہے؟
اور انہوں نے اللہ کے اور جنات کے درمیان رشتہ قائم کر لیا، حالانکہ جنات کو معلوم ہے کہ وہ ضرور (اللہ کے سامنے) حاضر کیے جائیں گے۔
آیت میں مشرکین کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ جنات اللہ تعالیٰ کے رشتہ دار ہیں۔ خود جنات جانتے ہیں کہ وہ مخلوق اور جواب دہ ہیں۔
جنات کی حقیقت
رَبِّ هَبۡ لِي مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ فَبَشَّرۡنَٰهُ بِغُلَٰمٍ حَلِيمٖ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 100 اور 101)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
اے میرے رب! مجھے (ایک بیٹا) عطا فرما جو نیکوں میں سے ہو۔ تو ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوش خبری دی۔
لفظی وضاحت اور مفہوم اور اہم نکات
وَمَا مِنَّآ إِلَّا لَهُۥ مَقَامٞ مَّعۡلُومٞ وَإِنَّا لَنَحۡنُ ٱلصَّآفُّونَ وَإِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡمُسَبِّحُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 164 تا 166)
آیاتِ کریمہ میں فرشتوں کے حوالے سے کیا خبر دی گئی ہے؟
اور ہم (فرشتوں) میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے۔ اور بے شک ہم ضرور صف باندھے کھڑے رہنے والے ہیں۔ اور بے شک ہم ہی (اللہ کی) تسبیح بیان کرنے والے ہیں۔
یہ خود فرشتوں کا قول ہے، جو مشرکین کے اس عقیدے کی تردید کے لیے نقل کیا گیا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ ان تین آیات میں فرشتوں کے بارے میں تین باتیں بتائی گئی ہیں۔
تین خبریں اور ان آیات کا مقصد
سُبۡحَٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلۡعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَٰمٌ عَلَى ٱلۡمُرۡسَلِينَ وَٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 180 تا 182)
آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔
پاک ہے آپ کا رب، عزت کا رب، ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ اور (تمام) رسولوں پر سلام ہو۔ اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
لفظی وضاحت اور اہم نکات
وَمَا مِنَّآ إِلَّا لَهُۥ مَقَامٞ مَّعۡلُومٞ وَإِنَّا لَنَحۡنُ ٱلصَّآفُّونَ وَإِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡمُسَبِّحُونَ
سبق سے کوئی سے پانچ حروفِ جارہ تلاش کر کے مثالوں کے ساتھ تحریر کریں۔
حروفِ جارہ وہ حروف ہیں جو اسم پر داخل ہو کر اسے جر (زیر) دیتے ہیں۔ مشہور حروفِ جارہ یہ ہیں: مِنْ، اِلٰى، عَنْ، عَلٰى، فِيْ، بِ، لِ، كَ، حَتّٰى، رُبَّ اور تَ و وَ (قسم کے لیے)۔
اس سبق میں سے پانچ مثالیں اور مزید مثالیں
وَفَدَيۡنَٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيمٖ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 107)
سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ نیز قربانی کی دعا تلاش کر کے ترجمے کے ساتھ یاد کریں۔
اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو اس کا فدیہ بنا دیا۔
یہ واقعہ آیات 100 تا 111 میں بیان ہوا ہے اور اس سے کئی اہم اسباق ملتے ہیں۔
وَٱللَّهُ خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 96)
«وَاللهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ» کی وضاحت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔
حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اس چیز کو بھی جو تم بناتے ہو۔
یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب ہے، جب انہوں نے فرمایا: کیا تم ان چیزوں کو پوجتے ہو جنہیں تم خود تراشتے ہو؟
وضاحت کے پہلو
لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقۡوَىٰ مِنكُمۡۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمۡ لِتُكَبِّرُواْ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُحۡسِنِينَ (سورۃ الحج ۔ آیت 37)
قربانی کے اجر و ثواب کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟
اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، لیکن اسے تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح اس نے انہیں تمھارے تابع کر دیا تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس ہدایت پر جو اس نے تمھیں دی۔ اور نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔
قربانی کی اصل روح تقویٰ اور اخلاص ہے۔ اجر محفوظ رکھنے کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 139)
سیدنا یونس علیہ السلام کا واقعہ تحریر کریں۔
اور بے شک یونس (علیہ السلام) ضرور رسولوں میں سے تھے۔
یہ واقعہ سورۃ الصّٰفّٰت کی آیات 139 تا 148 میں بیان ہوا ہے۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔