چھٹی جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 11: سبق 11: سورۃ الصّٰفّٰت (آیات: 83 تا 182) — مشقی سوالات

تیارکثیر الانتخابی سوالات، مختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں برائے طلبہ اور اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ) · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

کثیر الانتخابی سوالات

1 کثیر الانتخابی سوالات

فَنَظَرَ نَظۡرَةٗ فِي ٱلنُّجُومِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 88)

«اَلنُّجُوْمِ» کا معنی ہے:

الف) سورج • ب) ستارے • ج) انگارے • د) شعلے

جواب ب) ستارے — «نَجْم» کی جمع «نُجُوْم» ہے، یعنی ستارے۔ سبق کی ذخیرۃ الفاظ میں بھی اس کا معنی «ستارے» دیا گیا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ایک نظر ستاروں کی طرف اٹھائی، پھر فرمایا کہ میں بیمار ہوں۔
2 کثیر الانتخابی سوالات

قَدۡ صَدَّقۡتَ ٱلرُّءۡيَآۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 105)

«قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا» میں «الرُّءْیَا» عربی قواعد کی رو سے ہے:

الف) اسم • ب) فعل • ج) حرف • د) ضمیر

جواب الف) اسم — «اَلرُّءْیَا» کا معنی خواب ہے اور یہ اسم ہے؛ اس کے شروع میں «ال» بھی آیا ہے، جو اسم کی پہچان ہے۔ یہاں یہ فعل «صَدَّقْتَ» کا مفعول بہ ہے، البتہ اسمِ مقصور ہونے کی وجہ سے اس پر نصب کی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔
3 کثیر الانتخابی سوالات

كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 110)

«كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِیْنَ» ۔ ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں:

الف) نیک لوگوں کو • ب) کامیاب لوگوں کو • ج) حسین لوگوں کو • د) امیر لوگوں کو

جواب الف) نیک لوگوں کو — «مُحْسِن» وہ ہے جو احسان یعنی نیکی اور خوبی کے ساتھ کام کرے۔ یہ جملہ اس سورت میں کئی بار آیا ہے (آیات 80، 105، 110، 121 اور 131) اور ہر بار کسی نبی کے امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد آیا ہے۔
4 کثیر الانتخابی سوالات

وَأَنۢبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةٗ مِّن يَقۡطِينٖ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 146)

«وَاَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ» ۔ اور ہم نے ان پر اگا دیا:

الف) ایک پھل دار درخت • ب) ایک بیل دار درخت • ج) ایک سایہ دار درخت • د) ایک تناور درخت

جواب ب) ایک بیل دار درخت — «یَقْطِیْن» اس بیل دار پودے کو کہتے ہیں جس کا تنا نہ ہو، جیسے کدو کی بیل۔ سبق کی ذخیرۃ الفاظ میں بھی اس کا معنی «بیل دار درخت» دیا گیا ہے۔ سیدنا یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد چٹیل میدان میں سایہ اور غذا مہیا کرنے کے لیے یہ بیل اگائی گئی۔
5 کثیر الانتخابی سوالات

وَأَرۡسَلۡنَٰهُ إِلَىٰ مِاْئَةِ أَلۡفٍ أَوۡ يَزِيدُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 147)

«وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ» کی رو سے ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا گیا:

الف) سیدنا نوح علیہ السلام کو • ب) سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو • ج) سیدنا یوسف علیہ السلام کو • د) سیدنا یونس علیہ السلام کو

جواب د) سیدنا یونس علیہ السلام کو — یہ آیت سیدنا یونس علیہ السلام کے واقعے کے آخر میں ہے۔ انہیں اہلِ نینوا کی طرف بھیجا گیا جو ایک لاکھ یا اس سے زیادہ تھے، اور وہ سب ایمان لے آئے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔

مختصر جوابات

6 مختصر جوابات

قَالُواْ ٱبۡنُواْ لَهُۥ بُنۡيَٰنٗا فَأَلۡقُوهُ فِي ٱلۡجَحِيمِ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 97)

آیتِ کریمہ کی رو سے قوم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لیے کیا تجویز کیا؟

ترجمہ

انہوں نے کہا: اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے دہکتی آگ میں ڈال دو۔

قوم نے یہ تجویز کیا کہ ایک عمارت (بھٹی) بنا کر اس میں آگ بھڑکائی جائے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اسی دہکتی آگ میں ڈال دیا جائے۔

پس منظر اور انجام

1 دعوتِ توحید — آپ علیہ السلام نے قوم سے پوچھا تھا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟ کیا تم اللہ کے سوا گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟
2 بتوں کا توڑنا — پھر آپ نے ان کے معبودوں پر دائیں ہاتھ سے ضرب لگا کر انہیں توڑ دیا۔
3 قوم کا رد عمل — قوم دوڑتی ہوئی آئی اور یہی سزا تجویز کی۔
4 اللہ کا فیصلہ — فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ — انہوں نے آپ کے ساتھ ایک چال چلنے کا ارادہ کیا تو ہم نے انہی کو سب سے نیچا کر دیا۔
5 نتیجہ — آگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دی گئی، اور آپ نے فرمایا: میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہی مجھے راہ دکھائے گا۔
7 مختصر جوابات

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعۡيَ قَالَ يَٰبُنَيَّ إِنِّيٓ أَرَىٰ فِي ٱلۡمَنَامِ أَنِّيٓ أَذۡبَحُكَ فَٱنظُرۡ مَاذَا تَرَىٰۚ قَالَ يَـٰٓأَبَتِ ٱفۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُۖ سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰبِرِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 102)

آیتِ کریمہ کے مطابق سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والدِ گرامی کے سوال پر کیا جواب عرض کیا؟

ترجمہ

انہوں نے کہا: اے میرے ابا جان! جو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے وہ کر ڈالیے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

آپ علیہ السلام نے فوراً حکمِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا اور صبر کا وعدہ فرمایا۔

جواب کے اہم پہلو

1 ادب — «یٰۤاَبَتِ» (اے میرے ابا جان) کہہ کر بات شروع کی — انتہائی محبت اور ادب کے ساتھ۔
2 فوری اطاعت — کوئی عذر یا تاخیر نہیں، بلکہ «افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ» یعنی جو حکم ہوا ہے وہ کر گزریے۔
3 حکم کی نسبت — اسے والد کی خواہش نہیں بلکہ اللہ کا حکم قرار دیا۔
4 صبر کا وعدہ — اپنے آپ کو صابرین میں شمار کرایا۔
5 اِنْ شَآءَ اللهُ — اپنی طاقت پر بھروسا نہیں کیا بلکہ اللہ کی مشیت پر معاملہ رکھا — یہی کمالِ توکل ہے۔
8 مختصر جوابات

أَتَدۡعُونَ بَعۡلٗا وَتَذَرُونَ أَحۡسَنَ ٱلۡخَٰلِقِينَ ٱللَّهَ رَبَّكُمۡ وَرَبَّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 125 اور 126)

آیاتِ کریمہ میں بَعل بت کے پجاریوں کو اللہ تعالیٰ کا کیا تعارف کرایا گیا ہے؟

ترجمہ

کیا تم بَعل (نامی بت) کو پکارتے ہو اور سب سے بہترین پیدا فرمانے والے کو چھوڑ دیتے ہو؟ اللہ، جو تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا (بھی) رب ہے۔

یہ سیدنا الیاس علیہ السلام کی دعوت ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا تین حوالوں سے تعارف کرایا۔

تین تعارفی پہلو

1 اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ — وہ سب سے بہترین پیدا فرمانے والا ہے — جبکہ بَعل خود ایک تراشا ہوا بت ہے جو کچھ پیدا نہیں کر سکتا۔
2 رَبَّكُمْ — وہی تمھارا پالنے والا اور تمھاری تمام ضروریات پوری کرنے والا ہے۔
3 رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ — وہی تمھارے پہلے باپ دادا کا بھی رب تھا — یعنی یہ کوئی نیا معبود نہیں، بلکہ ازل سے وہی حقیقی معبود ہے۔
جواب دعوت کا آغاز اور انجام — آپ علیہ السلام نے دعوت کا آغاز «اَلَا تَتَّقُوْنَ» (کیا تم ڈرتے نہیں؟) سے کیا۔ قوم نے جھٹلایا تو فرمایا گیا کہ وہ سب عذاب کے لیے حاضر کیے جائیں گے، سوائے اللہ کے خاص بندوں کے، اور سیدنا الیاس علیہ السلام کا ذکرِ خیر بعد میں آنے والوں میں باقی رکھا گیا۔
9 مختصر جوابات

فَٱسۡتَفۡتِهِمۡ أَلِرَبِّكَ ٱلۡبَنَاتُ وَلَهُمُ ٱلۡبَنُونَ أَمۡ خَلَقۡنَا ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ إِنَٰثٗا وَهُمۡ شَٰهِدُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 149 اور 150)

آیاتِ کریمہ میں فرشتوں کو عورتیں سمجھنے والوں سے کیا پوچھنے کا کہا گیا؟

ترجمہ

پس آپ ان سے پوچھیے: کیا آپ کے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟ یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟

ان سے دو سوال پوچھنے کا حکم دیا گیا، جو دراصل ان کے باطل عقیدے پر دو زبردست اعتراض ہیں۔

دو سوال اور اس کے بعد کی آیات میں

1 دو سوال — انصاف کا سوال — تم اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہو — یہ کیسا فیصلہ ہے؟
2 دو سوال — گواہی کا سوال — کیا فرشتوں کی تخلیق کے وقت تم موجود تھے کہ تمھیں معلوم ہو گیا کہ وہ عورتیں ہیں؟
3 اس کے بعد کی آیات میں — جھوٹ کا الزام — یہ لوگ اپنی گھڑی ہوئی بات کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، اور بے شک یہ جھوٹے ہیں۔
4 اس کے بعد کی آیات میں — نصیحت — اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ — کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
5 اس کے بعد کی آیات میں — دلیل کا مطالبہ — اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌ — کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟ اگر ہے تو اپنی کتاب پیش کرو۔
10 مختصر جوابات

وَجَعَلُواْ بَيۡنَهُۥ وَبَيۡنَ ٱلۡجِنَّةِ نَسَبٗاۚ وَلَقَدۡ عَلِمَتِ ٱلۡجِنَّةُ إِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 158)

آیتِ کریمہ میں جنات کی حقیقت کو کس طرح واضح کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور انہوں نے اللہ کے اور جنات کے درمیان رشتہ قائم کر لیا، حالانکہ جنات کو معلوم ہے کہ وہ ضرور (اللہ کے سامنے) حاضر کیے جائیں گے۔

آیت میں مشرکین کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ جنات اللہ تعالیٰ کے رشتہ دار ہیں۔ خود جنات جانتے ہیں کہ وہ مخلوق اور جواب دہ ہیں۔

جنات کی حقیقت

1 مخلوق ہیں — وہ اللہ کی ایک مخلوق ہیں، اس کے شریک یا رشتہ دار نہیں۔
2 جواب دہ ہیں — «لَمُحْضَرُوْنَ» — انہیں بھی حساب کے لیے حاضر کیا جائے گا۔
3 خود گواہ ہیں — اس حقیقت کا علم خود جنات کو ہے، اس لیے یہ عقیدہ خود ان کے نزدیک بھی باطل ہے۔
4 تنزیہِ باری — اس کے بعد فرمایا: سُبْحٰنَ اللهِ عَمَّا یَصِفُوْنَ — اللہ ان تمام باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں۔
5 استثنا — سوائے اللہ کے خالص کیے ہوئے بندوں کے، جو ایسی باتیں نہیں کرتے۔

تفصیلی جوابات

11 تفصیلی جوابات

رَبِّ هَبۡ لِي مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ فَبَشَّرۡنَٰهُ بِغُلَٰمٍ حَلِيمٖ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 100 اور 101)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اے میرے رب! مجھے (ایک بیٹا) عطا فرما جو نیکوں میں سے ہو۔ تو ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوش خبری دی۔

لفظی وضاحت اور مفہوم اور اہم نکات

1 لفظی وضاحت — رَبِّ — اے میرے رب — «رَبِّيْ» سے یاء محذوف ہے، یہ نہایت عاجزی کے ساتھ پکارنے کا انداز ہے۔
2 لفظی وضاحت — هَبْ لِيْ — مجھے عطا فرما — مانگنے میں کسی صلے کا ذکر نہیں، خالص ہبہ کا سوال ہے۔
3 لفظی وضاحت — مِنَ الصّٰلِحِیْنَ — نیک لوگوں میں سے — یعنی صرف اولاد نہیں بلکہ نیک اولاد مانگی۔
4 لفظی وضاحت — غُلٰمٍ حَلِیْمٍ — بردبار لڑکا — «حَلِیْم» وہ ہے جو غصے پر قابو رکھے اور برداشت کرے۔
5 مفہوم اور اہم نکات — ہجرت کے بعد کی دعا — آگ سے نجات پانے اور «اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ» کہہ کر ہجرت کرنے کے بعد آپ علیہ السلام نے یہ دعا مانگی۔
6 مفہوم اور اہم نکات — نیک اولاد کی طلب — انبیائے کرام مال یا جاہ نہیں، بلکہ صالح اولاد مانگتے ہیں۔
7 مفہوم اور اہم نکات — قبولیت — دعا فوراً قبول ہوئی اور خوش خبری سنائی گئی۔
8 مفہوم اور اہم نکات — حِلم کی بشارت — بشارت میں بیٹے کی جس صفت کا ذکر ہوا وہ «حِلم» ہے — اور یہی صفت آگے قربانی کے موقع پر ظاہر ہوئی۔
9 مفہوم اور اہم نکات — سبق — دعا میں اولاد کی صلاحیت اور نیکی کو مقدم رکھنا چاہیے۔
12 تفصیلی جوابات

وَمَا مِنَّآ إِلَّا لَهُۥ مَقَامٞ مَّعۡلُومٞ وَإِنَّا لَنَحۡنُ ٱلصَّآفُّونَ وَإِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡمُسَبِّحُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 164 تا 166)

آیاتِ کریمہ میں فرشتوں کے حوالے سے کیا خبر دی گئی ہے؟

ترجمہ

اور ہم (فرشتوں) میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے۔ اور بے شک ہم ضرور صف باندھے کھڑے رہنے والے ہیں۔ اور بے شک ہم ہی (اللہ کی) تسبیح بیان کرنے والے ہیں۔

یہ خود فرشتوں کا قول ہے، جو مشرکین کے اس عقیدے کی تردید کے لیے نقل کیا گیا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ ان تین آیات میں فرشتوں کے بارے میں تین باتیں بتائی گئی ہیں۔

تین خبریں اور ان آیات کا مقصد

1 تین خبریں — مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ — ہر فرشتے کا ایک مقرر مقام اور متعین ذمہ داری ہے؛ نہ وہ اس سے آگے بڑھ سکتا ہے نہ اپنی مرضی چلا سکتا ہے۔
2 تین خبریں — اَلصَّآفُّوْنَ — وہ عبادت کے لیے صف بستہ کھڑے رہتے ہیں — اسی سے سورت کا نام «الصّٰفّٰت» ہے۔
3 تین خبریں — اَلْمُسَبِّحُوْنَ — وہ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و پاکی بیان کرتے رہتے ہیں۔
4 ان آیات کا مقصد — عبدیت کا اثبات — فرشتے اللہ کے فرماں بردار بندے ہیں، اولاد نہیں۔
5 ان آیات کا مقصد — عقیدۂ باطل کی تردید — جو خود صف باندھ کر تسبیح کرتا ہو، وہ معبود یا معبود کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے؟
6 ان آیات کا مقصد — بے اختیاری — «مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ» سے معلوم ہوا کہ وہ کسی کو نفع نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتے۔
7 ان آیات کا مقصد — عبادت کا نمونہ — صف بندی اور تسبیح — یہی دو کام مسلمانوں کی نماز کا بھی حاصل ہیں۔
8 ان آیات کا مقصد — پچھلی آیات سے ربط — آیت 159 اور 160 میں فرمایا: اللہ ان کے بیان سے پاک ہے، سوائے اس کے خالص بندوں کے (جو ایسی باتیں نہیں کرتے)۔
13 تفصیلی جوابات

سُبۡحَٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلۡعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَٰمٌ عَلَى ٱلۡمُرۡسَلِينَ وَٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیات 180 تا 182)

آیاتِ کریمہ کا ترجمہ تحریر کریں۔

ترجمہ

پاک ہے آپ کا رب، عزت کا رب، ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ اور (تمام) رسولوں پر سلام ہو۔ اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

لفظی وضاحت اور اہم نکات

1 لفظی وضاحت — سُبْحٰنَ — پاکی بیان کرنا — یعنی اللہ تعالیٰ ہر عیب، نقص اور شرک سے پاک ہے۔
2 لفظی وضاحت — رَبِّ الْعِزَّةِ — عزت و غلبہ کا مالک؛ ہر عزت اسی کی طرف سے ہے۔
3 لفظی وضاحت — عَمَّا یَصِفُوْنَ — «عَنْ + مَا» — ان تمام باتوں سے (پاک ہے) جو مشرکین بیان کرتے ہیں، مثلاً اولاد اور شرکاء ٹھہرانا۔
4 لفظی وضاحت — اَلْمُرْسَلِیْنَ — بھیجے گئے، یعنی تمام رسول علیہم السلام۔
5 اہم نکات — اختتامی آیات — یہ سورۃ الصّٰفّٰت کی آخری تین آیات ہیں، جن پر پوری سورت کا خلاصہ ہے۔
6 اہم نکات — تنزیہ — پہلے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی گئی — یہ عقیدۂ توحید کا خلاصہ ہے۔
7 اہم نکات — سلام — پھر رسولوں پر سلام بھیجا گیا — یہ عقیدۂ رسالت کا اقرار ہے، اور اسی سورت میں ہر نبی کے قصے کے آخر میں سلام آیا ہے۔
8 اہم نکات — حمد — آخر میں رب العالمین کی حمد — یہ شکر اور اعترافِ ربوبیت ہے۔
9 اہم نکات — سنتِ دعا — حدیث میں ہے کہ ان کلمات کے ساتھ دعا کا اختتام کرنا باعثِ برکت ہے؛ اسی لیے مجلس اور دعا کے آخر میں یہ آیات پڑھی جاتی ہیں۔
14 تفصیلی جوابات

وَمَا مِنَّآ إِلَّا لَهُۥ مَقَامٞ مَّعۡلُومٞ وَإِنَّا لَنَحۡنُ ٱلصَّآفُّونَ وَإِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡمُسَبِّحُونَ

سبق سے کوئی سے پانچ حروفِ جارہ تلاش کر کے مثالوں کے ساتھ تحریر کریں۔

حروفِ جارہ وہ حروف ہیں جو اسم پر داخل ہو کر اسے جر (زیر) دیتے ہیں۔ مشہور حروفِ جارہ یہ ہیں: مِنْ، اِلٰى، عَنْ، عَلٰى، فِيْ، بِ، لِ، كَ، حَتّٰى، رُبَّ اور تَ و وَ (قسم کے لیے)۔

اس سبق میں سے پانچ مثالیں اور مزید مثالیں

1 اس سبق میں سے پانچ مثالیں — 1۔ فِيْ (آیت 88) — «فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُوْمِ» — «فِيْ» کی وجہ سے «النُّجُوْمِ» مجرور ہے (علامتِ جر: زیر)۔
2 اس سبق میں سے پانچ مثالیں — 2۔ مِنْ (آیت 100) — «رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ» — «مِنْ» کے بعد «الصّٰلِحِیْنَ» مجرور ہے (جمع مذکر سالم ہونے کی وجہ سے علامتِ جر «یْنَ» ہے)۔
3 اس سبق میں سے پانچ مثالیں — 3۔ بِ (آیت 145) — «فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ» — «بِ» کی وجہ سے «الْعَرَآءِ» مجرور ہے۔
4 اس سبق میں سے پانچ مثالیں — 4۔ اِلٰى (آیت 147) — «وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ» — «اِلٰى» کی وجہ سے «مِائَةِ» مجرور ہے۔
5 اس سبق میں سے پانچ مثالیں — 5۔ لِ (آیت 182) — «وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ» — لامِ جارہ کی وجہ سے لفظِ «اللهِ» مجرور ہے۔
6 مزید مثالیں — عَنْ (آیت 180) — «عَمَّا یَصِفُوْنَ» — اصل میں «عَنْ + مَا» ہے۔
7 مزید مثالیں — عَلٰى (آیت 181) — «وَسَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ» — «عَلٰى» کی وجہ سے «الْمُرْسَلِیْنَ» مجرور ہے۔
8 مزید مثالیں — فِيْ (آیت 97) — «فَاَلْقُوْهُ فِي الْجَحِیْمِ» — «الْجَحِیْمِ» مجرور ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ

15 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَفَدَيۡنَٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيمٖ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 107)

سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ نیز قربانی کی دعا تلاش کر کے ترجمے کے ساتھ یاد کریں۔

ترجمہ

اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو اس کا فدیہ بنا دیا۔

یہ واقعہ آیات 100 تا 111 میں بیان ہوا ہے اور اس سے کئی اہم اسباق ملتے ہیں۔

1 حاصل ہونے والے اسباق — اطاعتِ الٰہی کی برتری — اللہ کے حکم کے سامنے سب سے عزیز چیز بھی قربان کر دینی چاہیے۔
2 حاصل ہونے والے اسباق — باپ بیٹے کا تسلیم — «فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا» — دونوں نے سرِ تسلیم خم کر دیا؛ اطاعت میں مشورہ اور رضامندی دونوں شامل تھیں۔
3 حاصل ہونے والے اسباق — والدین کا احترام — بیٹے نے «یٰۤاَبَتِ» کہہ کر ادب کے ساتھ جواب دیا اور کوئی اعتراض نہیں کیا۔
4 حاصل ہونے والے اسباق — صبر و توکل — «سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ» — اپنی طاقت پر نہیں، اللہ کی توفیق پر بھروسا کیا۔
5 حاصل ہونے والے اسباق — آزمائش کا مقصد — «اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ» — یہ ایک کھلی آزمائش تھی، اور آزمائش میں کامیابی ہی درجہ بلند کرتی ہے۔
6 حاصل ہونے والے اسباق — اجرِ الٰہی — قربانی کے بدلے فدیہ عطا ہوا، ذکرِ خیر باقی رکھا گیا، سلام بھیجا گیا اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کی بشارت بھی ملی۔
7 حاصل ہونے والے اسباق — سنتِ ابراہیمی — عیدالاضحیٰ کی قربانی اسی واقعے کی یادگار ہے۔
8 قربانی کے وقت کی دعا — إِنِّي وَجَّهۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ حَنِيفٗاۖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ۝ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ۝ لَا شَرِيكَ لَهُۥۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرۡتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ (سورۃ الانعام ۔ آیات 79، 162 اور 163)
9 قربانی کے وقت کی دعا — بے شک میں نے یک سو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے فرماں برداری کرنے والا ہوں۔
10 ذبح کرتے وقت — بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱللَّهُ أَكۡبَرُ ۝ ٱللَّهُمَّ مِنكَ وَلَكَ
11 ذبح کرتے وقت — اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ! یہ تیری ہی (عطا) میں سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے۔
جواب نوٹ — دعا کے الفاظ روایات میں معمولی فرق کے ساتھ منقول ہیں؛ اپنے اساتذہ کرام کی رہنمائی میں یاد کریں۔
16 سرگرمیاں برائے طلبہ

وَٱللَّهُ خَلَقَكُمۡ وَمَا تَعۡمَلُونَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 96)

«وَاللهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ» کی وضاحت اپنے اساتذہ کرام سے معلوم کریں۔

ترجمہ

حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اس چیز کو بھی جو تم بناتے ہو۔

یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب ہے، جب انہوں نے فرمایا: کیا تم ان چیزوں کو پوجتے ہو جنہیں تم خود تراشتے ہو؟

وضاحت کے پہلو

1 سیاق و سباق — قوم بتوں کو اپنے ہاتھوں سے تراشتی اور پھر انہی کی عبادت کرتی تھی؛ آیت اسی تضاد پر تنبیہ کرتی ہے۔
2 عقلی دلیل — جو چیز خود انسان کے ہاتھ کی بنائی ہوئی ہو، وہ معبود کیسے ہو سکتی ہے؟
3 «مَا» کا پہلا مفہوم — اگر «مَا» موصولہ ہو تو معنی ہو گا: اللہ نے تمھیں اور تمھارے تراشے ہوئے بتوں (کے مادے) کو پیدا کیا۔
4 «مَا» کا دوسرا مفہوم — اگر «مَا» مصدریہ ہو تو معنی ہو گا: اللہ نے تمھیں اور تمھارے عمل (بنانے کی صلاحیت) کو پیدا کیا۔
5 نتیجہ — دونوں صورتوں میں خالق صرف اللہ ہے، اس لیے عبادت کا مستحق بھی وہی ہے۔
جواب یاد رہے — یہ آیت اس مسئلے میں بھی بیان کی جاتی ہے کہ بندے کے افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، جبکہ کسب اور اختیار بندے کا ہے — اسی بنا پر جزا و سزا ہوتی ہے۔ اس تفصیل کے لیے اپنے اساتذہ کرام سے رہنمائی لیں۔

اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

17 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقۡوَىٰ مِنكُمۡۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمۡ لِتُكَبِّرُواْ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُحۡسِنِينَ (سورۃ الحج ۔ آیت 37)

قربانی کے اجر و ثواب کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

ترجمہ

اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، لیکن اسے تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح اس نے انہیں تمھارے تابع کر دیا تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس ہدایت پر جو اس نے تمھیں دی۔ اور نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔

قربانی کی اصل روح تقویٰ اور اخلاص ہے۔ اجر محفوظ رکھنے کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:

1 نیت اور اخلاص — صرف رضائے الٰہی — قربانی محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہو۔
2 نیت اور اخلاص — ریا سے بچنا — دکھاوا، نمود و نمائش اور لوگوں کی تعریف کی طلب اجر ضائع کر دیتی ہے۔
3 نیت اور اخلاص — فخر و مقابلہ نہیں — جانور کی قیمت اور بڑائی پر فخر کرنا یا دوسروں سے مقابلہ کرنا مقصد کے خلاف ہے۔
4 نیت اور اخلاص — تشہیر سے احتیاط — قربانی کو نمائش کا ذریعہ بنانے سے تقویٰ کی روح ختم ہو جاتی ہے۔
5 مال اور جانور — حلال کمائی — قربانی حلال مال سے کی جائے؛ حرام مال کی قربانی قبول نہیں۔
6 مال اور جانور — شرعی معیار — جانور عمر اور صحت کے اعتبار سے شرعی شرائط پر پورا اترتا ہو، عیب دار نہ ہو۔
7 مال اور جانور — مقررہ وقت — قربانی ایامِ نحر (10 تا 12 ذوالحجہ) میں نمازِ عید کے بعد کی جائے۔
8 طریقہ اور اخلاق — سنت کے مطابق ذبح — بِسْمِ اللهِ اللهُ اَكْبَر کہہ کر ذبح کیا جائے۔
9 طریقہ اور اخلاق — جانور پر رحم — تیز چھری استعمال کی جائے، جانور کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے اور نہ ایک جانور کے سامنے دوسرے کو ذبح کیا جائے۔
10 طریقہ اور اخلاق — صفائی — آلائشیں راستوں اور گلیوں میں نہ پھینکی جائیں؛ دوسروں کو تکلیف دینا نیکی ضائع کر دیتا ہے۔
11 طریقہ اور اخلاق — گوشت کی تقسیم — غریبوں، رشتہ داروں اور ہمسایوں کا حق ادا کیا جائے۔
12 طریقہ اور اخلاق — ادب و وقار — قربانی کے دنوں میں لڑائی جھگڑے اور فضول خرچی سے بچا جائے۔
جواب خلاصہ — گوشت اور خون اللہ تک نہیں پہنچتے، بلکہ دل کا تقویٰ پہنچتا ہے — اسی لیے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی اصل قیمت جانور نہیں، بلکہ اطاعت اور اخلاص تھا۔
18 اضافی سوالات (ہدایاتِ اساتذہ)

وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ (سورۃ الصّٰفّٰت ۔ آیت 139)

سیدنا یونس علیہ السلام کا واقعہ تحریر کریں۔

ترجمہ

اور بے شک یونس (علیہ السلام) ضرور رسولوں میں سے تھے۔

یہ واقعہ سورۃ الصّٰفّٰت کی آیات 139 تا 148 میں بیان ہوا ہے۔

1 واقعے کے مراحل — 1۔ رسالت — سیدنا یونس علیہ السلام کو اہلِ نینوا کی طرف مبعوث کیا گیا، جو ایک لاکھ یا اس سے زائد تھے۔
2 واقعے کے مراحل — 2۔ روانگی — «اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ» — وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف نکل گئے۔
3 واقعے کے مراحل — 3۔ قرعہ اندازی — کشتی پر بوجھ زیادہ ہوا تو قرعہ ڈالا گیا اور وہ مغلوب ہونے والوں میں سے ہو گئے۔
4 واقعے کے مراحل — 4۔ مچھلی — انہیں مچھلی نے نگل لیا، اور وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے۔
5 واقعے کے مراحل — 5۔ تسبیح — اندھیروں میں انہوں نے پکارا — قرآن نے فرمایا کہ اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں رہتے۔
6 واقعے کے مراحل — 6۔ نجات — انہیں چٹیل میدان میں ڈال دیا گیا اور وہ بیمار تھے۔
7 واقعے کے مراحل — 7۔ سایہ اور غذا — ان پر ایک بیل دار درخت (یَقْطِیْن) اگا دیا گیا۔
8 واقعے کے مراحل — 8۔ قوم کا ایمان — پھر انہیں ان کی قوم کی طرف بھیجا گیا، وہ ایمان لے آئے تو انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا گیا۔
9 دعائے یونس — لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ (سورۃ الانبیاء ۔ آیت 87)
10 دعائے یونس — تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصور وار تھا۔
11 حاصل ہونے والے اسباق — صبر و استقامت — داعی کو تکلیفوں پر صبر کرنا چاہیے۔
12 حاصل ہونے والے اسباق — تسبیح کی برکت — اللہ کی تسبیح اور ذکر مشکلات کے حل کا ذریعہ ہے۔
13 حاصل ہونے والے اسباق — رجوع الی اللہ — ہر مشکل میں فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
14 حاصل ہونے والے اسباق — اعترافِ خطا — «اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ» — اپنی کوتاہی کا اعتراف نجات کا راستہ ہے۔
15 حاصل ہونے والے اسباق — رحمتِ الٰہی — اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا، ان کی مدد ضرور فرماتا ہے۔
16 حاصل ہونے والے اسباق — توبہ کا اثر — قوم نے توبہ کی تو ان سے عذاب ٹال دیا گیا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.