بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 9: سبق 9: سورہ النور — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

سُورَةٌ أَنزَلۡنَٰهَا وَفَرَضۡنَٰهَا وَأَنزَلۡنَا فِيهَآ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖ لَّعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ

آیت میں سورہ نور کے متعلق کیا بتایا گیا؟

ترجمہ

”(یہ) ایک عظیم سورت ہے جسے ہم نے اتارا ہے اور ہم نے اس کے احکام کو فرض کر دیا ہے اور ہم نے اس میں واضح آیتیں نازل فرمائی ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“

آیت میں سورہ نور کے متعلق کیا بتایا گیا؟

1 خدا کی نازل کردہ — اس کا آغاز اس بات سے کیا گیا کہ یہ عام کلام نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی سورت ہے۔
2 احکام کی فرضیت — اس کے اندر بیان کردہ احکام اور قوانین ہلکے یا اختیاری نہیں ہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے فرض کردہ قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔
3 روشن اور واضح آیات — اس میں زندگی کے معاملات، اخلاقیات اور پاکیزگی کے لیے بالکل صاف اور واضح احکام (جیسے عفت، حیا اور معاشرتی آداب) موجود ہیں۔
4 نصیحت اور یاددہانی — ان واضح ہدایات کا مقصد یہ ہے کہ انسان غفلت چھوڑ کر نصیحت پکڑے اور اللہ کے احکام پر دھیان دے۔
2 مختصر جوابات

اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَاۤىِٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ

آیت 2: زنا کی کیا حد اور حد جاری کرتے وقت کس بات کی تنبیہ کی گئی ہے؟۔

ترجمہ

زانیہ اور زانی (اگر کنوارے ہوں) تو ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور اللہ کے دین کے معاملے میں تمہیں ان پر ترس نہیں آنا چاہیے، اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ اور ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت کو موجود ہونا چاہیے۔

مقرر کردہ حد اور تنبیہ

1 مقرر کردہ حد — غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے 100 کوڑے سزا مقرر کی گئی ہے۔
2 تنبیہ — حد جاری کرتے وقت دو باتوں کی تنبیہ کی گئی ہے:
3 تنبیہ — اللہ کے قانون پر عمل کرتے ہوئے مجرموں پر ناجائز ترس یا نرمی نہ کھائی جائے۔
4 تنبیہ — سزا کے وقت مومنوں کا ایک گروہ حاضر رہے تاکہ عبرت ہو اور بدنامی کے خوف سے لوگ گناہ سے بچیں۔
3 مختصر جوابات

وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَۤاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا ۚ وَاُولٰۤىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ

آیت 4: پاک دامن عورتوں پر بہتان (قذف) لگانے والوں کی کیا سزا بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر (زنا کی) تہمت لگائیں، پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں، تو انہیں اسی کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ فاسق ہیں۔

پاک دامن عورتوں پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانے والوں کے لیے تین سخت احکام دیے گئے ہیں:

بہتان لگانے والوں کے لیے حکم

1 انہیں 80 کوڑے مارے جائیں۔
2 آئندہ زندگی میں کبھی ان کی گواہی قبول نہ کی جائے۔
3 قانونِ الٰہی میں انہیں فاسق (نافرمان) قرار دیا گیا ہے۔
4 مختصر جوابات

اِنَّ الَّذِيْنَ جَاۤءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ ۗ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ ۗ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۗ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ ۚ وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ

آیت 11: بہتان لگانے والوں (واقعہ افک کے محرکین) کا کیا انجام بیان ہوا؟

ترجمہ

یقیناً جو لوگ یہ بڑا بہتان گھڑ لائے ہیں، وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہے۔ تم اس کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے ت۔ ان میں سے جس شخص نے جتنا گناہ کمایا، اس کے لیے اتنا ہی حصہ ہے، اور ان میں سے جس نے اس (بہتان) کے بڑے حصے کا ذمہ لیا، اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔

بیان کردہ انجام

جواب بہتان بازوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ انہوں نے جتنا گناہ کمایا اس کا وبال ان پر آئے گا۔ خصوصاً جس شخص نے اس فتنے کی پشت پناہی کی اور اس کا بڑا حصہ اپنے سر لیا (یعنی عبداللہ بن ابی مغلظ)، اس کے لیے عذابِ عظیم (بہت بڑا عذاب) تیار ہے۔
5 مختصر جوابات

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۗ وَمَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ فَاِنَّهٗ يَاْمُرُ بِالْفَحْشَاۤءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ

آیت 21: شیطان کے پیروکاروں کو کیا حکم دیا گیا؟

ترجمہ

اے ایمان والو! شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ اور جو کوئی شیطان کے نقشِ قدم پر چلے گا تو وہ (شیطان) تو بے حیائی اور برائی ہی کا حکم دیتا ہے۔

6 مختصر جوابات

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۗ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۗ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ

آیت 30: مومن مردوں کو کیا حکم دیا گیا؟ (غضِ بصر)

ترجمہ

آپ مومن مردوں سے فرما دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ یقیناً اللہ اس سے باخبر ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

مومن مردوں کو حکم

1 اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں (نامحرم عورتوں کو دیکھنے سے بچیں)۔
2 اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
7 مختصر جوابات

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْن مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْن فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَاۤىِٕهِنَّ...

آیت 31: مومن عورتوں کو کیا ہدایات دی گئی ہیں

ترجمہ

اور مومن عورتوں سے فرما دیجیے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔ اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں، یا اپنے باپ دادا کے...

مومن عورتوں کو ہدایات

1 اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
2 اپنی زینت اور آرائش کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس حصے کے جو خود بخود ظاہر ہو جائے (جیسے چہرہ اور ہاتھ)۔
3 اپنے دوپٹے یا اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال کر رکھیں تاکہ جسم چھپا رہے۔
4 اپنی مخفی زینت (جیسے زیورات وغیرہ) اپنے محرم رشتہ داروں (شوہر، باپ، سسر، بیٹے وغیرہ) کے علاوہ کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں۔
5 زمین پر اپنے پاؤں اس طرح مار کر نہ چلیں کہ ان کا چھپا ہوا زیور (جیسے پازیب) آواز پیدا کرے اور لوگوں کی توجہ کا باعث بنے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾

ترجمہ اور تشریح کریں — آیت نمبر 3

ترجمہ

”زانی مرد نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ عورت سے، اور زانیہ عورت سے بھی نکاح نہیں کرتا مگر زانی یا مشرک مرد، اور یہ (کام) مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔“

تشریح

جواب اس آیت میں معاشرتی پاکیزگی کا ایک بڑا اصول بیان کیا گیا ہے۔ طیب اور پاکیزہ لوگ فطرتاً پاکیزہ ساتھی ہی پسند کرتے ہیں جبکہ بدکار لوگ بدکاروں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس آیت کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ بعض غریب مسلمانوں نے مدینہ کی مالدار بدکار عورتوں سے نکاح کی اجازت چاہی تھی تاکہ معاشی سہارا مل سکے، جس پر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ ایک سچے مومن کی شان کے یہ لائق نہیں کہ وہ کسی زانیہ یا مشرکہ کو اپنی شریکِ حیات بنائے۔
9 تفصیلی جوابات

سورہ نور کا تعارف بیان کریں

جواب جواب(87)
10 تفصیلی جوابات

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾

آیت نمبر 23: کن لوگوں کے لیے دنیا اور آخرت میں لعنت اور ؑذاب کا ذکر ہے؟

ترجمہ

”بے شک جو لوگ پاک دامن، (برائی سے) بے خبر، مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔“

دنیا و آخرت میں لعنت اور عذابِ عظیم کے مستحق لوگ

جواب اس آیت کے مطابق وہ لوگ جو پاک دامن، برائی کے خیالات سے دور اور باایمان عورتوں پر زنا کی جھوٹی تہمت (قذف) لگاتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ کی رحمت سے محروم (ملعون) ہیں اور ان کے لیے آخرت میں دردناک سزا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

﴿الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾

آیت نمبر 26: ترجمہ و تشریح کریں۔

ترجمہ

”ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے، اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں۔ یہ (پاک لوگ) ان باتوں سے بالکل بری ہیں جو وہ (تہمت لگانے والے) کہہ رہے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور عزت کا رزق ہے۔“

تشریح

جواب یہ آیت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی براءت کا آخری مہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا اصول واضح فرمایا کہ خبیث روحیں خبیثوں کی طرف اور طیب روحیں طیبوں کی طرف جاتی ہیں۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کائنات کے طیب ترین انسان ہیں، اس لیے اللہ نے ان کے گھر کے لیے سیدہ عائشہؓ جیسی طیب ترین خاتون کا انتخاب فرمایا۔ تہمت لگانے والے سراسر جھوٹے ہیں۔
12 تفصیلی جوابات

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾

آیت نمبر 27: ترجمہ اور وضاحت کریں۔

ترجمہ

”اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم اجازت نہ لے لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“

تشریح

جواب اس آیت میں خاندانی نظام کے تحفظ، پردہ داری اور راز داری کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم ترین معاشرتی ضابطہ ”استئذان“ (اجازت مانگنا) سکھایا گیا ہے تاکہ کسی کے گھر کی خلوت اور پردہ خراب نہ ہو۔

سرگرمیاں

13 سرگرمیاں

دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے کے آداب (استئذان)

سورہ النور کی روشنی میں احادیثِ مبارکہ کی وضاحت کے ساتھ درج ذیل آداب بیان ہوئے ہیں:

1 اجازت لینا فرض ہے — اپنے گھر کے علاوہ کسی کے ہاں بھی جاتے وقت اجازت لینا لازمی ہے۔
2 سلام کرنا — گھر میں داخل ہونے سے پہلے یا اجازت مانگتے ہوئے ”السلام علیکم“ کہنا ضروری ہے۔
3 تین بار پکارنا — اجازت کے لیے دستک یا آواز تین مرتبہ دی جائے، اگر جواب نہ ملے تو واپس لوٹ جانا چاہیے۔
4 دروازے کے سامنے کھڑے نہ ہونا — دستک دیتے وقت دروازے کے عین سامنے کھڑا نہیں ہونا چاہیے (تاکہ دروازہ کھلنے پر اندر نظر نہ پڑے)، بلکہ دائیں یا بائیں طرف ہونا چاہیے۔
5 اپنا نام واضح کرنا — پوچھنے پر ”میں ہوں“ کہنے کے بجائے اپنا نام بتانا چاہیے۔
6 واپسی کا حکم — اگر گھر والے مصروفیت کی وجہ سے کہیں کہ ”اس وقت واپس چلے جاؤ“ تو برا منائے بغیر خوشی خوشی واپس لوٹ جانا چاہیے۔
14 سرگرمیاں

مومن خواتین کے لیے محرم رشتہ دار (جن سے پردے کی رخصت ہے)

سورہ النور کی آیت نمبر 31 میں مومن خواتین کو درج ذیل افراد کے سامنے اپنی زینت (سادگی کے ساتھ چہرہ، ہاتھ وغیرہ جو عام کام کاج میں کھل جائیں) ظاہر کرنے کی رخصت دی گئی ہے:

1 شوہر
2 والد (باپ)
3 خسر (شوہر کے والد)
4 بیٹے
5 شوہر کے بیٹے (سوطیلے بیٹے)
6 بھائی
7 بھتیجے (بھائی کے بیٹے)
8 بھانجے (بہن کے بیٹے)
9 اپنے میل جول کی (مسلمان) عورتیں
10 اپنی مملوکہ لونڈیاں/غلام
11 وہ زیرِ دست مرد جو عورتوں کی طرف کوئی رغبت یا جنسی خواہش نہیں رکھتے (مثلاً بوڑھے یا نادان ملازم)
12 وہ بچے جو ابھی عورتوں کے پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے۔
15 سرگرمیاں

واقعہ افک کا تفصیلی پس منظر، فضائلِ عائشہؓ اور اسباق

غزوہ بنی المصطلق (مریسیع) سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ نے رات کے وقت ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رفعِ حاجت کے لیے تشریف لے گئیں تو ان کا ہار کہیں گر گیا۔ وہ اسے ڈھونڈنے میں مصروف ہو گئیں اور انہیں دیر ہو گئی۔ دوسری طرف قافلہ روانہ ہونے لگا، سیدہ عائشہؓ کا ہودج (اونٹ پر بیٹھنے کا کجاوہ) ہلکا ہونے کی وجہ سے خادموں نے سمجھا کہ وہ اندر ہی موجود ہیں اور اونٹ کو روانہ کر دیا۔ جب آپؓ واپس آئیں تو قافلہ جا چکا تھا۔ آپؓ چادر اوڑھ کر وہیں بیٹھ گئیں کہ قافلہ والے یاد آنے پر واپس آئیں گے۔ لشکر کے پیچھے چھوٹی ہوئی چیزیں اٹھانے پر مامور صحابی حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جب وہاں پہنچے تو انہوں نے سیدہ عائشہؓ کو پہچان لیا (کیونکہ انہوں نے پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے انہیں دیکھا تھا)۔ انہوں نے بلند آواز سے انالله وانا الیہ راجعون پڑھا، اپنا اونٹ بٹھایا اور خود دور ہٹ گئے۔ سیدہ عائشہؓ اونٹ پر سوار ہو گئیں اور حضرت صفوان اونٹ کی مہار پکڑ کر پیدل چلتے ہوئے دوپہر کے وقت لشکر سے جا ملے۔ مدینہ کے منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی نے اس سیدھے سادھے واقعے کو سازش کے تحت اچھالا اور ام المؤمنین پر بدکاری کی جھوٹی تہمت لگا دی۔ بعض سادہ لوح مسلمان بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے۔ اس افترا پردازی کی وجہ سے نبی ﷺ اور صحابہ کرام شدید ذہنی اذیت سے گزرے، یہاں تک کہ ایک ماہ بعد سورہ النور کی 10 آیات نازل ہوئیں جنہوں نے سیدہ عائشہؓ کی براءت اور پاکدامنی قیامت تک کے لیے قرآن کا حصہ بنا دی۔

1 سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل: — آسمانی براءت — آپؓ کائنات کی وہ واحد خاتون ہیں جن کی پاکدامنی کی گواہی خود اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے قرآن میں نازل فرمائی۔
2 سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل: — محبوبہ رسول ﷺ — آپ رسول اللہ ﷺ کی سب سے چہیتی اہلیہ تھیں۔
3 سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل: — علمی مقام — آپؓ اسلام کی عظیم ترین فقیہہ اور عالمہ تھیں، جن سے جلیل القدر صحابہ مشکل مسائل پوچھتے تھے۔
4 سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل: — وحی کا نزول — رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ عائشہ کے علاوہ کسی دوسری بیوی کے بستر پر مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی تھی۔
5 واقعہ افک سے حاصل ہونے والے اسباق: — افواہوں کی تصدیق — سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے، جب تک پختہ دلیل نہ ہو۔
6 واقعہ افک سے حاصل ہونے والے اسباق: — مسلمانوں کے بارے میں حسنِ ظن — کسی مومن کے بارے میں برائی کی خبر سن کر پہلا ردعمل یہ ہونا چاہیے کہ ”یہ کھلا ہوا بہتان ہے“۔
7 واقعہ افک سے حاصل ہونے والے اسباق: — مقدس ہستیوں کی آزمائش — اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آزماتا ہے لیکن آخر میں فتح و عزت ان کا مقدر بنتی ہے۔
8 واقعہ افک سے حاصل ہونے والے اسباق: — تہمت لگانے کی سزا — اسلام میں کسی پاک دامن پر جھوٹی تہمت لگانے کی سزا 80 کوڑے (حدِ قذف) مقرر کی گئی ہے تاکہ معاشرے میں کسی کی عزت محفوظ رہ سکے۔
16 سرگرمیاں

لعان کا معنی، حکم اور پس منظر

1 معنی — لعان کا لفظ ”لعنت“ سے نکلا ہے۔ شرعی اصطلاح میں جب شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے لیکن اس کے پاس چار گواہ نہ ہوں، تو میاں بیوی کا عدالت میں مخصوص طریقے سے قسمیں کھانا لعان کہلاتا ہے۔
2 طریقہ کار — شوہر اللہ کی چار قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار کہتا ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے جواب میں عورت سزا سے بچنے کے لیے چار قسمیں کھا کر کہتی ہے کہ مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار کہتی ہے کہ اگر مرد سچا ہو تو اس (عورت) پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس کے بعد دونوں میں مستقل علیحدگی کرا دی جاتی ہے۔
3 نازل ہونے کا پس منظر — جب قرآن میں تہمت (قذف) کی سزا 80 کوڑے نازل ہوئی، تو حضرت عاصم بن عدی اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے دیکھے، تو وہ کیا کرے؟ اگر وہ گواہ ڈھونڈنے جائے گا تو معاملہ ختم ہو جائے گا، اور اگر گواہوں کے بغیر بات کرے گا تو اسے خود 80 کوڑے پڑیں گے! اس شدید پریشانی پر اللہ تعالیٰ نے سورہ النور کی آیات (6 تا 9) نازل فرما کر ”لعان“ کا قانون عطا فرمایا۔
17 سرگرمیاں

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾

فحاشی پھیلانے پر اللہ کی وعید اور حیا و پاکدامنی کے فضائل

ترجمہ

”بے شک جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں فحاشی (بے حیائی) پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔“

سورہ النور کی آیت نمبر 19 میں اللہ تعالیٰ کا سخت فرمان ہے:

فحاشی پھیلانے پر وعید: اور حیا اور پاک دامنی کے فضائل:

1 فحاشی پھیلانے پر وعید: — وعید کے پہلو: اس سے معلوم ہوا کہ خود برائی کرنا تو گناہ ہے ہی، لیکن معاشرے میں میڈیا، باتوں، تصاویر یا کسی بھی ذریعے سے بے حیائی کا فروغ اور اس کی تشہیر کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی سزا دنیا میں بھی ذلت و رسوائی کی صورت میں ملتی ہے اور آخرت میں بھی الیم عذاب تیار ہے۔
2 حیا اور پاک دامنی کے فضائل: — ایمان کا حصہ — رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”الحیاء شعبۃ من الایمان“ (حیا ایمان کی ایک اہم شاخ ہے)۔
3 حیا اور پاک دامنی کے فضائل: — سراسر خیر ہی خیر — آپ ﷺ نے فرمایا: ”حیا صرف بھلائی ہی لاتی ہے“۔
4 حیا اور پاک دامنی کے فضائل: — جنت کی ضمانت — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مجھے اپنے دو جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دو ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرمگاہ/پاکدامنی) کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں“ (صحیح بخاری)۔
5 حیا اور پاک دامنی کے فضائل: — عرش کا سایہ — قیامت کے ہولناک دن جن 7 لوگوں کو اللہ کے عرش کا سایہ ملے گا، ان میں ایک وہ جوان بھی ہوگا جسے کسی خوبصورت اور مالدار عورت نے بدکاری کی دعوت دی اور اس نے صرف اللہ کے خوف سے انکار کر دیا۔
6 حیا اور پاک دامنی کے فضائل: — معاشرتی امن — حیا اور پاکدامنی انسان کو باوقار بناتی ہے، خاندانوں کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے اور معاشرے کو جنسی انارکی اور مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.