بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی، یہ اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے۔
آیت کے مطابق جواب
جوابآیت کے مطابق بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے کی تھی۔ لعنت کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرتے تھے اور مسلسل حدودِ شرعیہ سے تجاوز (سرکشی) کرتے تھے۔
وہ ایک دوسرے کو اس برے کام سے منع نہیں کرتے تھے جو وہ کرتے تھے، یقیناً بہت ہی برا تھا جو کچھ وہ کر رہے تھے۔
آیت کے مطابق جواب
جواباس آیت میں بنی اسرائیل کی یہ سنگین سماجی اور اخلاقی برائی بیان ہوئی ہے کہ ان کے معاشرے میں جب کوئی برائی یا گناہ کا کام ہوتا تھا، تو وہ ایک دوسرے کو اس برے کام سے روکتے (منع کرتے) نہیں تھے بلکہ خاموش تماشائی بنے رہتے تھے۔
آیت 91: شیطان جوئے اور شراب کے ذریعے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟
ترجمہ
جواب۔ ترجمہ: شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آنے والے ہو؟
آیت کے مطابق شیطان کے شراب اور جوئے کے ذریعے دو بڑے مقاصد ہیں:
آیت کے مطابق جواب
1مسلمانوں کے آپس میں دشمنی، کینہ اور بغض پیدا کرنا۔
2انسانوں کو اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دینا (غافل کر دینا)۔
”تم سے پہلے ایک قوم نے اسی قسم کے سوالات کیے تھے، پھر وہ ان باتوں کے منکر ہو گئے“
اس آیت مبارکہ میں مسلمانوں کو پچھلی امتوں کے حالات سے سبق سکھاتے ہوئے درج ذیل برائیاں اور ان کے عبرتناک انجام کو واضح کیا گیا ہے:
آیت میں بیان کردہ سابقہ اقوام کی برائی کی تفصیل
1بے ضرورت اور فضول سوالات کرنا — پچھلی امتوں کی عادت تھی کہ وہ دین کو سمجھنے اور عمل کرنے کے بجائے اپنے انبیاء علیہم السلام سے ایسے سوالات پوچھتے تھے جن کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ان کا مقصد محض حجت بازی اور سرکشی ہوتا تھا۔
2احکام کا بوجھ بڑھوانا — ان کے کثرتِ سوال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکام سخت کر دیے جاتے تھے، جیسے بنی اسرائیل نے گائے ذبح کرنے کے معاملے میں اتنے سوالات کیے کہ شرائط سخت ہوتی گئیں۔
3احکام الٰہی سے مکر جانا (کفر کرنا) — جب ان کے سوالات کے جواب میں واضح احکام الٰہی نازل کر دیے جاتے، تو وہ اپنی سستی اور ضد کی وجہ سے ان پر عمل کرنے سے صاف مکر جاتے اور یوں کفر کے مرتکب ہو جاتے تھے۔
آیت 116 کے مطابق قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا سوال اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا کیا جواب ہو گا؟
ترجمہ
جواب۔ ترجمہ: اور جب اللہ فرمائے گا: ”اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لو؟“ وہ عرض کریں گے: ”تو پاک ہے! میرے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ کہا ہوتا تو تجھے ضرور معلوم ہوتا۔ تو جانتا ہے جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے۔ بے شک تو ہی تمام غیبوں کا جاننے والا ہے“۔
آیت کے مطابق جواب
1اللہ تعالیٰ کا سوال — قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھے گا کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں (مریم علیہا السلام) کو خدا (معبود) بنا لو؟
2سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا جواب — وہ انتہائی ادب کے ساتھ عرض کریں گے کہ اے اللہ! تو ہر عیب اور شریک سے پاک ہے۔ میری یہ مجال کہاں کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے حق ہی نہیں تھا۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو تیرے علم میں ہوتا، کیونکہ تو میرے دل کی بات بھی جانتا ہے جبکہ میں تیرے علم کی باتوں کو نہیں جانتا، بیشک تو ہی غیب کا جاننے والا ہے۔
”اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دو جنہیں اللہ نے تمہارے لیے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔“
مفہوم
جواباس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ دین اسلام میں اپنی مرضی سے کسی حلال اور پاکیزہ چیز (جیسے اچھا کھانا، لباس، یا نکاح وغیرہ) کو اپنے اوپر حرام کر لینا یا دنیا داری کو کلیتاً چھوڑ کر راہب بن جانا سخت ممنوع ہے۔ انسان کو اللہ کی حدود کے اندر رہ کر زندگی گزارنی چاہیے اور افراط و تفریط سے بچنا چاہیے۔
9تفصیلی جوابات
یا یھا الذین امنوا ۔۔۔۔ تفلحون
آیت 90: ۔ ترجمہ کریں اور بتائیں اہل ایمان کو کن چیزوں سے بچنے کا حکم ہے؟
ترجمہ
”اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں، سو تم ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔“
اس آیت میں اہل ایمان کو چار بڑے گناہوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے:
ممنوعہ چیزیں
1شراب — (ہر قسم کی نشہ آور اشیاء)
2جوا — (ہر وہ کھیل جس میں ہار جیت پر مال کا داؤ لگایا جائے)
3بت / آستانے — (غیر اللہ کی عبادت یا قربانی کے لیے مخصوص جگہیں)
4پانسے / فال کے تیر — (قسمت معلوم کرنے کے مشرکانہ طریقے)
10تفصیلی جوابات
قل ھل یستوی ۔۔۔۔۔ تفلحون
آیت 100: کا ترجمہ و مفہوم بیان کریں
ترجمہ
”(اے حبیب!) تم فرما دو کہ گندا (خبیث) اور پاکیزہ (طیب) برابر نہیں ہو سکتے، اگرچہ گندے کی کثرت تمہیں تعجب میں ڈالے۔ پس اے عقل والو! اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔“
مفہوم
جواباس آیت کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ معیار کا تعلق مقدار یا کثرت سے نہیں ہوتا۔ حرام، خبیث اور ناپاک چیزیں یا انسان چاہے دنیا میں کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، وہ اللہ کے ہاں کبھی بھی حلال اور پاکیزہ کے برابر نہیں ہو سکتے۔ مسلمانوں کو کثرتِ فتنہ سے مرعوب ہوئے بغیر ہمیشہ حلال اور نیکی کا راستہ چننا چاہیے۔
11تفصیلی جوابات
لا یؤاخذکم اللہ ۔۔۔۔ ثلثۃ ایام
آیت 89: ۔ آیت میں قسم کے ا حوالے سے کیا حکامات بیان ہوئے؟
ترجمہ
جواب۔ ترجمہ کا خلاصہ: اللہ تمہاری لغو (بغیر ارادے کے منہ سے نکلنے والی) قسموں پر گرفت نہیں فرماتا، لیکن جو قسمیں تم پختہ ارادے سے کھاتے ہو، ان پر تمہارا مواخذہ فرمائے گا۔
اگر کوئی شخص پختہ قسم توڑ دے، تو اس آیت کے مطابق اس پر درج ذیل میں سے کوئی ایک کفارہ ادا کرنا لازم ہے:
قسم کے حوالے سے احکامات (کفارہ)
1دس مسکینوں کو کھانا کھلانا — (اوسط درجے کا کھانا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو)۔
2یا دس مسکینوں کو لباس (کپڑے) دینا۔
3یا ایک غلام آزاد کرنا۔
4تین دن کے روزے — اگر کوئی شخص مالی طور پر اوپر بیان کردہ تینوں چیزوں کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو وہ مسلسل تین دن کے روزے رکھے گا۔
5ساتھ ہی اللہ نے حکم دیا کہ: ”اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو“ (یعنی بلا ضرورت قسمیں نہ کھاؤ اور کھا لو تو احترام کرو)۔
جواب۔ ترجمہ: ”میں نے ان سے کچھ نہیں کہا مگر وہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ تم اللہ کی بندگی (عبادت) کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ اور میں ان پر نگران (گواہ) رہا جب تک میں ان میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔“
مفہوم
جوابقیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے عیسائیوں کے شرک (عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو خدا بنانے) کے بارے میں سوال فرمائے گا، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہایت عاجزی سے عرض کریں گے کہ انہوں نے ہمیشہ صرف توحید کی دعوت دی تھی۔ ان کے دنیا سے اٹھائے جانے کے بعد ان کی امت نے جو بھی بدعات اور شرک ایجاد کیا، اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔
13تفصیلی جوابات
ان تعذبھم فانھم عبادک ۔ وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم ۔
آیت 118 کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی بارگاہ میں اپنی قوم کے لیے کیا عرض کریں گے؟
ترجمہ
”اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے (ہی) بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی بڑا غالب، حکمت والا ہے۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عرض کا مقصد
جوابحضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی سفارش یا شفاعت کے انداز میں اللہ کی بارگاہ میں یہ آخری کلمات عرض کریں گے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ یا اللہ! تو مالکِ کل ہے، اگر تو ان کے کفر و شرک پر انہیں سزا دے تو یہ تیرا انصاف ہوگا کیونکہ یہ تیرے مملوک اور بندے ہیں۔ لیکن اگر تو اپنی شانِ غفور و رحیم کے صدقے (ان کے ایمان لانے کی صورت میں یا اپنی مشیت سے) انہیں معاف فرما دے تو کوئی تجھے روک نہیں سکتا، کیونکہ تو ہی سب پر غالب اور بہترین حکمت والا ہے۔
سرگرمیاں
14سرگرمیاں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطا کردہ معجزات (سورہ المائدہ)
سورہ المائدہ (آیت 110) کے مطابق اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو درج ذیل عظیم الشان معجزات عطا فرمائے:
1پہوارے میں کلام — بچپن میں گود (پہوارے) کے اندر اور بڑی عمر میں یکساں فصاحت سے لوگوں سے کلام کرنا۔
2پرندے بنانا — مٹی سے پرندے کی شکل بنانا اور اس میں پھونک مار کر اللہ کے حکم سے زندہ پرندہ اڑا دینا۔
3مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دینا — پیدائشی نابینا اور برص (کوڑھ) کے مریضوں کو اللہ کے اذن سے بالکل تندرست کر دینا۔
4مردوں کو زندہ کرنا — قبروں سے مردوں کو اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کر کے کھڑا کر دینا۔
5غیب کی خبریں — لوگوں کو یہ بتانا کہ وہ گھر میں کیا کھا کر آئے ہیں اور کیا ذخیرہ کر کے رکھا ہے۔
6مائدہ (آسمانی دسترخوان) — حواریوں کی فرمائش پر آسمان سے کھانے کا خوان نازل کروانا (جس کی وجہ سے اس سورت کا نام المائدہ ہے)۔
15سرگرمیاں
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰؑ کا مکالمہ (آیات 116 تا 120)
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نصاریٰ (عیسائیوں) کی تردید اور حجت قائم کرنے کے لیے تمام مخلوق کے سامنے حضرت عیسیٰؑ سے سوال و جواب فرمائے گا
1اللہ تعالیٰ کا سوال — ”اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو؟“
2حضرت عیسیٰؑ کی عاجزی و تسبیح — عیسیٰؑ کہیں گے کہ ”تو پاک ہے! میرے لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ میں وہ بات کہتا جس کا مجھے کوئی حق نہیں تھا“۔
3علمِ الٰہی کا اعتراف — ”اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو تجھے ضرور معلوم ہوتا۔ تو میرے دل کی بات جانتا ہے اور میں تیرے نفس کی بات نہیں جانتا، بے شک تو ہی غیب کا جاننے والا ہے“۔
4اصل تبلیغ کا بیان — ”میں نے انہیں صرف وہی حکم دیا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا، یعنی یہ کہ ’اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے‘“۔
5حالتِ گواہی — ”جب تک میں ان میں رہا، ان کا نگران تھا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگران تھا“۔
6معاملہ اللہ کے سپرد — ”اگر تو انہیں سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو تو ہی زبردست اور حکمت والا ہے“۔
7حتمی نتیجہ — اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آج کا دن وہ ہے جس میں سچوں کو ان کا سچ فائدہ دے گا اور ان کے لیے جنتیں ہیں۔
16سرگرمیاں
بحیرہ، سائبہ، وصیلۃ اور حام کے متعلق کفار کے عقائد
زمانہ جاہلیت میں مشرکینِ مکہ نے اپنی طرف سے جانوروں کو بتوں کے نام پر وقف کرنے کی کچھ خود ساختہ رسمیں بنا رکھی تھیں، جن کا ذکر سورہ المائدہ کی آیت 103 میں ہے۔ ان کے عقائد درج ذیل تھے:
1بحیرہ ( البَحِيرَة ) — وہ اونٹنی جو پانچ بچے جنتی اور آخری بچہ نر (مرد) ہوتا۔ مشرکین اس کے کان چیر کر اسے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ اس کا دودھ نکالنا، اس پر سواری کرنا یا اس کا گوشت کھانا حرام سمجھا جاتا تھا۔
2سائبہ ( السَّائِبَة ) — وہ جانور جسے کوئی شخص کسی بڑی بیماری سے شفا پانے یا سفر سے خیریت سے واپسی کی منت مان کر بتوں کے نام پر کھلا چھوڑ دیتا۔ اسے کوئی ہانک یا روک نہیں سکتا تھا۔
3وصیلہ ( الوَصِيلَة ) — وہ بکری جو پہلی مرتبہ مادہ (مادی) بچہ جنتی اور دوسری بار بھی مادہ۔ اگر نر اور مادہ اکٹھے پیدا ہوتے تو کہتے کہ بہن اپنے بھائی سے مل گئی، چنانچہ اس نر بچے کو بھی بتوں کے نام پر ذبح کرنے سے روک دیا جاتا اور اس کا گوشت صرف مرد کھا سکتے تھے، عورتوں پر حرام تھا۔
4حام ( الحَامِي ) — وہ نر اونٹ (سانڈ) جس کی نسل سے دس بچے پیدا ہو چکے ہوتے۔ مشرکین کہتے کہ اس نے اپنی پیٹھ کو محفوظ کر لیا، لہٰذا اس پر بوجھ لادنا یا سواری کرنا حرام قرار دے دیا جاتا اور اسے چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتا۔
17سرگرمیاں
سورہ المائدہ کی آیات 90، 91 کی روشنی میں شراب کی حرمت
ترجمہ
”اے ایمان والو! یہ شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوئے کے تیر، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، پس ان سے بچو تاکہ تم فلاح پا جاؤ“۔ (آیت 90)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: آیت 91 میں اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت کی بنیادی وجوہات اور اس کے نقصانات بیان کیے ہیں:
1. روحانی و دینی نقصانات اور 2. جسمانی و معاشرتی نقصانات
11. روحانی و دینی نقصانات — شیطانی عمل — قرآن نے شراب کو ”رجس“ (ناپاکی) اور شیطانی کام قرار دیا ہے جو انسان کو تقویٰ سے دور کرتا ہے۔
21. روحانی و دینی نقصانات — ذکرِ الٰہی سے غفلت — شراب انسان کے ہوش و حواس چھین لیتی ہے، جس سے انسان اللہ کی یاد اور نماز سے غافل ہو جاتا ہے۔
31. روحانی و دینی نقصانات — ایمان کی رخصتی — نشے کی حالت میں انسان کفر و شرک یا گستاخانہ کلمات بک سکتا ہے، جس سے اس کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
42. جسمانی و معاشرتی نقصانات — باہمی دشمنی اور بغض — اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان شراب کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور کینہ ڈالنا چاہتا ہے۔ نشے میں انسان آپے سے باہر ہو کر قتل و غارت اور لڑائی جھگڑے کرتا ہے۔
52. جسمانی و معاشرتی نقصانات — عقل و شعور کی تباہی — شراب سب سے پہلے انسان کی عقل پر پردہ ڈالتی ہے، جس سے اچھے اور برے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔
62. جسمانی و معاشرتی نقصانات — صحت کی بربادی — طبی سے شراب جگر ، معدے کے السر، دل کے امراض اور اعصابی نظام کو مفلوج کرنے کا باعث بنتی ہے۔
جوابشانِ نزول: یہ آیت حطيم بن ہند (یا شریح بن ضبیعہ) نامی شخص کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ مدینہ آیا، جھوٹا ایمان ظاہر کیا، اور واپسی پر مدینہ کے مویشی ہانک کر لے گیا۔ اگلے سال مسلمانوں نے اسے یمامہ کے حاجیوں کے قافلے کے ساتھ دیکھا، جس پر قربانی کے جانور بھی تھے جنہیں شعائر اللہ مانا جاتا تھا۔ صحابہ کرام نے اس پر حملہ کر کے اس کا مال اور جانور چھیننے کا ارادہ کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو لوگ حج یا عمرہ کے لیے احترام کے ساتھ جا رہے ہوں، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں، ان کے شعائر اور قربانی کے جانوروں کی بے حرمتی نہ کی جائے اور حدیبیہ کی پرانی دشمنی کا بدلہ نہ لیا جائے۔
19شان نزول
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ...
آیت نمبر 3
جوابشانِ نزول: یہ اسلام کی تاریخی آیات میں سے ایک ہے جو 9 ذوالحجہ 10 ہجری کو حجۃ الوداع کے موقع پر، یومِ عرفہ (جمعہ ے لیے عید ہیں)۔
جوابشانِ نزول: غزوہ بنی المصطلق (یا ایک اور سفر) کے دوران مقامِ بیداء پر حضرت عائشہ صدیقہ کا ہار گم ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام اس ہار کی تلاش میں وہاں رک گئے۔ وہاں پانی موجود نہیں تھا اور صبح کی نماز کا وقت ہو گیا۔ صحابہ پریشان ہو گئے کہ بغیر پانی کے نماز کیسے پڑھیں۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، جس میں وضو کا طریقہ اور پانی نہ ملنے کی صورت میں پاک مٹی سے تیمم کرنے کی رخصت دی گئی۔ حضرت اسید بن حضیر نے خوش ہو کر کہا: ”اے آلِ لحاظ ابوبکر! یہ آپ کی کوئی پہلی برکت نہیں ہے (بلکہ آپ کی وجہ سے امت پر ہمیشہ آسانیاں نازل ہوئیں)۔“
1شانِ نزول: اس آیت کے نزول کے دو بڑے واقعات تفاسیر میں ملتے ہیں:
2عمرو بن جحاش کا واقعہ — رسول اللہ ﷺ بنو نضیر (یہودی قبیلے) کے پاس دیت کی رقم کے سلسلے میں گفتگو کرنے گئے۔ انہوں نے سازش کی کہ رسول اللہ ﷺ جب دیوار کے سائے میں بیٹھیں تو اوپر سے چکی کا پتھر گرا کر نعوذ باللہ آپ کو شہید کر دیا جائے۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو آگاہ کر دیا اور آپ وہاں سے اٹھ کر مدینہ واپس آ گئے۔
3غورث بن الحارث کا واقعہ — ایک غزوہ کے دوران رسول اللہ ﷺ اکیلے ایک درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی (غورث) نے آپ کی تلوار اٹھا لی اور کہا: ”اے محمد! آج آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟“ آپ ﷺ نے پورے توکل سے فرمایا: ”اللہ!“۔ یہ سنتے ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور اللہ نے اپنے نبی کی حفاظت فرمائی۔
جوابشانِ نزول: خیبر کے معزز یہودیوں کے ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا۔ تورات کے مطابق ان کی سزا رجم (سنگسار کرنا) تھی، لیکن وہ اپنے اشراف کو اس سزا سے بچانا چاہتے تھے۔ انہوں نے مدینہ کے منافقین کو واسطہ بنا کر رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ کروانا چاہا کہ شاید آپ کوئی ہلکی سزا (کوڑے مارنا یا منہ کالا کرنا) تجویز فرما دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے تورات منگوائی اور یہودی عالم ابن صوریا سے سچ اگلوا کر ثابت کیا کہ تورات میں رجم ہی کا حکم ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کے حکم پر انہیں سنگسار کیا گیا، جس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
جوابشانِ نزول: تفاسیر میں بیان ہوا ہے کہ ابتدائے اسلام میں جب رسول اللہ ﷺ پر کفار و مشرکین کے حملوں کا خطرہ رہتا تھا تو صحابہ کرام آپ کا پہرہ دیا کرتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ“ (اور اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے بچائے گا)، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے خیمے سے سر باہر نکال کر پہرے داروں سے فرمایا: ”اے لوگو! اب چلے جاؤ، اللہ عزوجل نے خود میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے“۔
جوابشانِ نزول: یہ آیات حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور ان کے درباریوں/علماء کے بارے میں نازل ہوئیں۔ جب مکہ میں مسلمانوں پر ظلم بڑھا تو انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ حضرت جعفر طیار نے نجاشی کے دربار میں سورہ مریم کی تلاوت کی، جسے سن کر نجاشی اور ان کے پاس موجود عیسائی علماء کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور انہوں نے اسلام کی حقانیت کا اعتراف کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جذبے اور نرم دلی کی تعریف میں یہ آیات نازل فرمائیں۔
جوابشانِ نزول: جب حج کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو ایک صحابی محصن بن ثعلبہ (یا اقرع بن حابس) نے بار بار پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے؟“ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، لیکن ان کے اصرار پر آپ نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے“۔ اسی طرح کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے امتحان کے طور پر ایسے سوالات پوچھتے تھے کہ ”میرا اونٹ کہاں ہے؟“ یا ”میرا اصلی باپ کون ہے؟“۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فضول اور غیر ضروری سوالات سے منع کرنے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔