آیت 41: آیت کے مطابق کون اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے؟
ترجمہ
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ ہی کی تسبیح کر رہا ہے، اور پرندے بھی پر پھیلائے ہوئے؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے، اور اللہ ان کے کاموں سے خوب واقف ہے۔
تسبیح میں مصروف مخلوقات:
1آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات اللہ کی تسبیح کر رہی ہیں۔
2ہوا میں پر پھیلائے اڑنے والے پرندے بھی اللہ کی پاکی بیان کرنے میں مصروف ہیں۔
آیت 43: بادلوں اور بارش کے حوالے سے کیا قدرتِ الہیٰ بیان ہوئی ہے؟۔
ترجمہ
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادل کو چلاتا ہے، پھر اسے آپس میں ملاتا ہے، پھر اسے تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے مینہ (بارش) نکل رہا ہے، اور وہ آسمان سے (بادل کے) پہاڑوں میں سے اولے برساتا ہے، پھر جس پر چاہتا ہے اسے ڈال دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اسے ہٹا لیتا ہے، اس کی بجلی کی چمک قریب ہے کہ آنکھوں کی بینائی لے جائے۔
بیان کردہ قدرت:
1اللہ بادلوں کے ٹکڑوں کو آہستہ آہستہ چلاتا اور پھر انہیں آپس میں جوڑتا ہے۔
2بادلوں کو تہہ بہ تہہ کر کے ان کے اندر سے بارش کی بوندیں برساتا ہے۔
3آسمان میں بادلوں کے پہاڑوں سے اولے نازل کرتا ہے اور اس کی بجلی کی چمک آنکھیں خیرہ کر دیتی ہے۔
آیت 59: بچوں کے حوالے سے کیا معاشرتی ادب بیان ہوا؟ عربی ۔
ترجمہ
”اور جب تمہارے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو انہیں بھی (گھر کے اندر آنے کے لیے) اسی طرح اجازت مانگنی چاہیے جیسے ان سے پہلے کے بڑے لوگ اجازت مانگتے رہے ہیں، اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان فرماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔
معاشرتی ادب:
جوابجب بچے بالغ ہو جائیں تو انہیں گھر کے نجی کمروں یا بڑوں کے پاس آنے سے پہلے ہر وقت اجازت (استیذان) لینی چاہیے۔
آیت 63: رسول ﷺ کی مخالفت کا کیا انجام بیان ہوا؟ عربی ۔
ترجمہ
”تم رسول کے بلانے کو اپنے آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھو، اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے (ایک دوسرے کی) آڑ لے کر چپکے سے سرک جاتے ہیں، پس ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آ پڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔
مخالفت کا انجام:
1رسول ﷺ کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کو دنیا میں کسی بڑی آفت، فتنے یا آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
2آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب کا انجام بیان کیا گیا ہے۔
آیت 37: اللہ کے بندوں کی کیا صفات اور ان کا اجر بیان ہوا ہے؟
ترجمہ
جواب۔ ”وہ ایسے مرد ہیں جنہیں کوئی تجارت اور خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے، نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ ادا کرنے سے؛ وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں (خوف کے مارے) دل اور آنکھیں الٹ جائیں گے
اللہ کے بندوں کی صفات:
1ذکرِ الٰہی سے غفلت نہیں — دنیاوی کاروبار یا تجارت انہیں یادِ الٰہی سے دور نہیں کرتی۔
2نماز اور زکوٰۃ کی پابندی — وہ فرض نمازوں اور مالی عبادات (زکوٰۃ) کو وقت پر ادا کرتے ہیں۔
3آخرت کا خوف — ان کے دلوں میں قیامت کے اس ہولناک دن کا خوف رہتا ہے جس میں شدید گھبراہٹ سے آنکھیں پتھرا جائیں گی۔
”تاکہ اللہ انہیں ان کے نیک اعمال کا بہترین بدلہ عطا فرمائے اور اپنے فضل سے انہیں مزید زیادہ دے، اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔“
وضاحت
جواباس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ جو لوگ دنیا کی چمک دمک کے باوجود اپنی ترجیح دین کو بناتے ہیں، اللہ تعالیٰ نہ صرف ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ دیتا ہے بلکہ اپنے فضلِ خاص سے اس میں اضافہ بھی فرماتا ہے اور انہیں آخرت میں لامحدود نعمتوں سے نوازے گا۔
”اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال چٹیل میدان میں سراب (چمکتی ریت) کی مانند ہیں جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا اور وہاں وہ اللہ کو موجود پاتا ہے، پس اللہ اس کا پورا حساب چکا دیتا ہے، اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے۔“
وضاحت
جواباللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کافروں کے اچھے کاموں (جیسے خیرات یا انسانی ہمدردی) کو ”سراب“ سے تشبیہ دی ہے۔ جیسے صحرا میں پیاسا دور سے چمکتی ریت کو پانی سمجھ کر دوڑتا ہے مگر قریب جانے پر مایوسی ہوتی ہے، اسی طرح کافر قیامت کے دن اپنے اعمال کے ثواب کی امید رکھے گا مگر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے اس کے اعمال رائیگاں جائیں گے اور وہاں وہ اپنے گناہوں کی سزا پائے گا۔
”اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت قبول کی، پھر اس کے بعد ان کا ایک گروہ (حکمِ الٰہی سے) منہ پھیر لیتا ہے، اور یہ لوگ (حقیقت میں) مومن نہیں ہیں۔“
مفہوم
جواباس آیت میں منافقین کے جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ وہ زبان سے تو ایمان اور اطاعت کا دم بھرتے ہیں لیکن جب عملی زندگی میں یا کسی معاملے کے فیصلے میں رسول اللہ ﷺ کے حکم پر چلنے کا وقت آتا ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں۔
”اے ایمان والو! تمہارے غلام و لونڈیاں اور تمہارے وہ بچے جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے، تین اوقات میں (تمہارے پاس آنے کے لیے) اجازت لیا کریں: فجر کی نماز سے پہلے، اور دوپہر کے وقت جب تم (آرام کے لیے) اپنے کپڑے اتارتے ہو، اور عشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تینوں تمہارے لیے پردے (اور خلوت) کے اوقات ہیں...“
بیان کردہ ہدایات:
1خلوت کے اوقات کا احترام — بچوں اور خادموں کو سکھایا جائے کہ وہ والدین یا بڑوں کے کمروں میں ان تین مخصوص اوقات میں بغیر دستک یا اجازت کے داخل نہ ہوں۔
2بچوں کی تربیت — بلوغت سے پہلے ہی بچوں میں حیا اور پردے کے شعور کی تربیت دی جائے۔
3گھریلو آزادی — ان تین اوقات کے علاوہ گھر کے لوگ ایک دوسرے کے پاس بلا جھجک آ جا سکتے ہیں کیونکہ وہ ضرورت کے تحت بار بار چکر لگاتے ہیں۔
”اور وہ بوڑھی خانہ نشین عورتیں جو نکاح کی امید (یا خواہش) نہیں رکھتیں، ان پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے (اضافی اوپر والے) کپڑے اتار کر رکھ دیں بشرطیکہ وہ اپنی آرائش (اور زینت) کی نمائش کرنے والی نہ ہوں، اور اگر وہ اس سے بھی بچیں (اور پورا حجاب رکھیں) تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔“
بیان کردہ رخصت:
1بڑی عمر کی (خانہ نشین) بوڑھی خواتین — جو عام طور پر نکاح کی عمر سے گزر چکی ہوں، انہیں یہ رخصت ہے کہ وہ نامحرموں کے سامنے چادر یا برقع جیسا اضافی بیرونی لباس اتار سکتی ہیں۔
2شرط — اس رخصت کے باوجود ان کے لیے بناؤ سنگھار کی نمائش کرنا ممنوع ہے۔ اگر وہ احتیاطاً چادر اوڑھے رکھیں تو یہ ان کے تقویٰ کے لیے زیادہ بہتر ہے۔
سرگرمیاں
13سرگرمیاں
سورہ النور میں مومنین اور منافقین کا طرزِ عمل (نکات کی شکل میں)
1خصوصیات — مومنین کا طرزِ عمل — منافقین کا طرزِ عمل
2اطاعت و فرمانبرداری — اللہ اور رسول کا حکم سنتے ہی ”سمعنا و اطعنا“ (ہم نے سنا اور مانا) کہتے ہیں۔ — زبان سے دعویٰ کرتے ہیں لیکن عمل کے وقت پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔
3عدالتی فیصلے — جب تنازع ہو تو خوشی سے اللہ اور رسول کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔ — اگر فیصلہ اپنے حق میں نہ ہو تو منہ موڑ لیتے ہیں اور بھاگتے ہیں۔
4دنیاوی مصروفیات — تجارت اور کاروبار انہیں نماز اور ذکرِ الٰہی سے غافل نہیں کرتا۔ — دنیاوی مفادات اور جان و مال کا خوف انہیں احکامِ الٰہی سے دور رکھتا ہے۔
5معاشرتی حیا — معاشرے میں پاکدامنی، عفت اور حیا کے احکام پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ — معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کو پسند کرتے ہیں۔
14سرگرمیاں
آیت 61: معذورین کو رشتہ داروں کے گھروں سے کھانا کھانے کی رخصت
آیت 61 میں اللہ تعالیٰ نے نابینا، لنگڑے، بیمار اور عام مسلمانوں کی جھجھک دور کرتے ہوئے درج ذیل گھروں سے بلا اجازت یا مل کر کھانا کھانے کی اجازت (رخصت) دی ہے:
1اپنے ذاتی گھروں سے۔
2اپنے والدین (باپ دادا) کے گھروں سے۔
3اپنی ماؤں (اور دادیوں) کے گھروں سے۔
4اپنے بھائیوں کے گھروں سے۔
5اپنی بہنوں کے گھروں سے۔
6اپنے چچاؤں کے گھروں سے۔
7اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے۔
8اپنے ماموؤں کے گھروں سے۔
9اپنی خالاؤں کے گھروں سے۔
10جن گھروں کی چابیاں (نگرانی) تمہارے اختیار میں ہوں۔
11اپنے قریبی اور مخلص دوستوں کے گھروں سے۔
15سرگرمیاں
اللہ کے نور کی مثال (وضاحت)
سورہ النور کی مشہور آیت نمبر 35 (آیتِ نور) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نورِ ہدایت کی مثال بیان فرمائی ہے:
1اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دیوار کا طاقچہ (مِشکوٰۃ) ہو، جس کے اندر ایک چراغ رکھا ہو۔
2وہ چراغ شیشے کی فندوس (قندیل) میں ہو، اور وہ شیشہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح روشن ہو۔
3اس چراغ میں زیتون کا ایسا مبارک تیل استعمال ہو رہا ہو جو نہ خالص مشرقی ہو نہ مغربی (یعنی اسے دن بھر بھرپور دھوپ ملتی ہو جس سے وہ نہایت شفاف ہو)۔ اس کا تیل اتنا مصفا ہو کہ آگ چھوئے بغیر ہی خود بخود جلنے کو تیار ہو۔
جوابتفسیر: یہ مثال انسان کے مومن دل اور اس میں موجود اللہ کی ہدایت (ایمان) کی ہے۔ مومن کا دل پاکیزہ طاقچے کی طرح ہے، اس کی فطرتِ سلیمہ زیتون کے صاف ستھرے تیل جیسی ہے، اور جب اس پر وحیِ الٰہی کا چراغ جلتا ہے تو وہ ”نور علیٰ نور“ (روشنی پر روشنی) بن جاتا ہے
16سرگرمیاں
کفار اور منافقین کے لیے بیان کی گئی مثالیں
سورہ النور میں کفار کے اعمال اور حالتِ گمراہی کے لیے دو بنیادی مثالیں دی گئی ہیں:
1سراب کی مثال (آیت 39) — جیسا کہ اوپر وضاحت کی گئی، کافر کے نیک اعمال صحرا کے سراب کی طرح بے حقیقت ہیں، جن کا آخرت میں کوئی وجود نہیں ہوگا۔
2گہرے سمندر کے اندھیروں کی مثال (آیت 40) — اللہ فرماتا ہے کہ کافر کی حالت ایسی ہے جیسے ایک عمیق اور گہرے سمندر میں اندھیرا ہو، جس کے اوپر ایک موج ہو، اس کے اوپر ایک اور موج ہو اور اس کے اوپر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہوں۔ یعنی اندھیروں پر اندھیرے۔ اگر کوئی اپنا ہاتھ بھی نکالے تو اسے دیکھ نہ پائے۔ تفسیر — یہ منافق اور کافر کے دل کی مثال ہے جس پر کفر، شک اور نفاق کے پے در پے اندھیرے چھائے ہوتے ہیں، اور جسے اللہ نورِ ایمان نہ دے اسے کہیں سے روشنی نہیں مل سکتی۔
17سرگرمیاں
پانی کی اہمیت اور حفاظت کے اقدامات
قرآن مجید میں پانی کو تمام جانداروں کی زندگی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا ہے (وجعلنا من الماء کل شیء حی)۔ اس کی حفاظت کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
1گھریلو سطح پر بچت — وضو کرتے وقت، نہاتے ہوئے اور برتن دھوتے وقت نلکا کھلا نہ چھوڑیں اور ضرورت کے مطابق پانی استعمال کریں۔
2بارش کے پانی کا ذخیرہ — گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر ایسا نظام بنایا جائے جس سے بارش کا پانی ضائع ہونے کے بجائے زیرِ زمین ٹینکوں میں جمع کیا جا سکے۔
3شجرکاری (درخت لگانا) — زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں تاکہ زیرِ زمین پانی کی سطح برقرار رہے اور ماحولیاتی نظام متوازن ہو۔
4آلودگی سے بچاؤ — کارخانوں کے کیمیکل زدہ پانی اور گندگی کو صاف پانی کے ذخائر (دریاؤں، نہروں) میں شامل ہونے سے روکا جائے۔
5جدید طریقۂ آبپاشی — زراعت میں روایتی طریقوں کے بجائے ڈرپ اریگیشن (قطرہ قطرہ آبپاشی) یا اسپرنکلر سسٹم اپنایا جائے تاکہ پانی کم سے کم ضائع ہو۔
شان نزول
18شان نزول
واقعہ افک اور آیاتِ براءت (آیت 11 تا 20)
جوابشان نزول: یہ آیات غزوہ بنی المصطلق (5 ہجری) کے موقع پر نازل ہوئیں جب واپسی کے سفر میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا تھا اور وہ قافلے سے پیچھے رہ گئیں۔ صفوان بن مہطل رضي اللہ عنہ نے انہیں اکیلے پا کر اپنی اونٹنی پر سوار کیا اور مدینہ لے آئے۔ اس واقعے کو بنیاد بنا کر منافقین (عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں) نے تہمت لگائی، جس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی ابتدائی آیات نازل فرما کر حضرت عائشہ کی براءت کا اعلان کیا اور بہتان تراشوں کے لیے سزا مقرر کی۔
19شان نزول
زانی اور بدکار عورت سے نکاح کا حکم (آیت 3)
جوابشان نزول: تفاسیر (جیسے تفسیر ابن کثیر) میں منقول ہے کہ مدینہ کے ایک غریب صحابی مرثد بن ابی مرثد غنوی نے ”عناق“ نامی ایک بدکار مشرک عورت سے اجازت چاہی یا نکاح کا ارادہ کیا۔ جب انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا، تو یہ آیت نازل ہوئی کہ زانی مرد اور زانی عورت کا نکاح صرف زانی یا مشرک سے ہی ہو سکتا ہے اور مومنین پر بدکار عورتوں سے نکاح حرام قرار دیا گیا۔
20شان نزول
لعان کا حکم (آیت 6 تا 9)
جوابشان نزول: اس کا سبب نزول حضرت ہلال بن امیہ کا واقعہ ہے، جنہوں نے اپنی بیوی کو ایک شخص (شريك بن سحماء) کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ جب انہوں نے نبی کریم ﷺ سے شکایت کی تو آپ ﷺ نے گواہ لانے کا فرمایا، ورنہ پیٹھ پر حد لگنے کا حکم تھا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں ”لعان“ کا طریقہ بیان کیا گیا کہ اگر شوہر کے پاس چار گواہ نہ ہوں تو وہ چار بار قسمیں کھائے اور پانچویں بار اپنے پر لعنت ڈالے۔
21شان نزول
حضرت ابو بکر اور مسطح بن اثاثہ کا واقعہ (آیت 22)
جوابشان نزول: جب واقعہ افک میں مسطح بن اثاثہ (جو حضرت ابو بکر کے رشتہ دار اور غریب مہاجر تھے) بھی شامل ہو گئے، تو حضرت ابو بکر نے قسم کھائی کہ اب وہ مسطح کو کوئی مالی مدد یا خرچ نہیں دیں گے۔ اس پر آیت نازل ہوئی: ”اور تم میں سے فضل اور وسعت والے لوگ رشتہ داروں، مساکین اور مہاجرین کو دینے سے قسم نہ کھائیں...“۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم! یہ پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کر دے اور میں نے مسطح کی امداد بحال کر دی۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔