بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 7: سبق 7: سورہ المائدہ — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ ۚ

آیت 42: یہود کی کن دو بری صفات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

جواب۔ ”(یہ لوگ) جھوٹی باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرنے والے ہیں (مزید یہ کہ) حرام مال/رشوت خوب کھانے والے ہیں“۔

یہود کی دو بری صفات:

1 جھوٹ سننا اور جاسوسی کرنا — یہ لوگ جھوٹی اور باطل باتوں کو بہت شوق اور مزے سے سنتے اور قبول کرتے ہیں۔
2 حرام خوری اور رشوت ستانی — یہ لوگ بڑے پیمانے پر حرام مال اور رشوت کھانے کے عادی ہیں۔
2 مختصر جوابات

فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَن تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ ۚ

آیت کے مطابق منافقین اہل کتاب کی طرف کیوں دوڑتے تھے؟

ترجمہ

”سو آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے کہ وہ ان (یہود و نصاریٰ) میں (شامل ہونے کے لیے) دوڑتے ہیں، کہتے ہیں: ہمیں خوف ہے کہ ہم پر کوئی (زمانے کی) گردش نہ آ جائے“۔

اہل کتاب کی طرف دوڑنے کی وجہ:

جواب منافقین (جیسے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی) کو یہ خوف اور بدظنی تھی کہ شاید مسلمان مغلوب ہو جائیں اور حالات تبدیل ہو کر یہود و نصاریٰ کے حق میں ہو جائیں۔ وہ اپنے تحفظ کی خاطر اور دنیاوی فائدے کے لیے لپک لپک کر ان سے دوستیاں اور ساز باز کرتے تھے۔
3 مختصر جوابات

وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ

آیت 58: اذان کے وقت کفار کا کیا طرز عمل ہوتا تھا؟

ترجمہ

”اور جب تم نماز کے لیے (لوگوں کو بصورتِ اذان) پکارتے ہو تو یہ (لوگ) اسے ہنسی اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (بالکل) عقل ہی نہیں رکھتے“۔

کفار کا طرز عمل:

جواب جب مؤذن نماز کے لیے اذان دیتا تھا، تو کفار اور یہودی اس مقدس پکار کا مذاق اڑاتے، ہنستے اور اسے کھیل تمسخر بنا لیتے تھے کیونکہ وہ عقل و شعور سے بالکل محروم تھے۔
4 مختصر جوابات

وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ ۚ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ

آیت 64: یہود کی گستاخی اور اس کا کیا جواب دیا گیا؟

ترجمہ

اور یہود کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (معاذ اللہ وہ بخیل ہے)، ان کے اپنے ہاتھ باندھے جائیں اور جو کانہوں نے کہا اس کے باعث ان پر لعنت کی گئی، بلکہ (حق یہ ہے کہ) اس کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ فرماتا ہے“۔

یہود کی گستاخی: اور گستاخی کا جواب:

1 یہود کی گستاخی: — یہودیوں نے نہایت گستاخی کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ”اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے“، یعنی (معاذ اللہ) اللہ بخیل ہو گیا ہے یا وہ فقیر ہے اور اس نے اپنے خزانوں کو بند کر دیا ہے۔
2 گستاخی کا جواب: — اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بدزبانی کا جواب دو ٹوک انداز میں دیا:
3 گستاخی کا جواب: — غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ — ان کے اپنے ہی ہاتھ باندھے جائیں (یعنی وہ خود دنیا میں سب سے زیادہ بخیل ہو جائیں یا جہنم میں ان کے ہاتھ جکڑے جائیں)۔
4 گستاخی کا جواب: — وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا — ان کے اس گستاخانہ قول کی وجہ سے ان پر لعنت (رحمتِ الٰہی سے دوری) بھیج دی گئی ہے۔
5 گستاخی کا جواب: — بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ — اللہ بخیل نہیں، بلکہ اس کے دونوں ہاتھ (جود و سخا کے لیے) ہر وقت کھلے ہیں اور وہ اپنی حکمت کے مطابق جس پر چاہتا ہے رزق کشادہ فرماتا ہے۔
5 مختصر جوابات

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ

آیت 67: نبی کریم ﷺ کو کیا حکم دیا گیا

ترجمہ

”اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارا لوگوں کو) پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (رب) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، اور اللہ (مخالف) لوگوں سے آپ (کی جان) کی حفاظت فرمائے گا“۔

نبی ﷺ کو دیا گیا حکم:

جواب نبی کریم ﷺ کو یہ قطعی حکم دیا گیا کہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ تمام احکام اور وحی کو بلا خوف و خطر اور بغیر کسی کمی بیشی کے لوگوں تک پہنچا دیں (تبلیغ فرمائیں)۔ ساتھ ہی تسلی دی گئی کہ آپ دشمنوں کی مخالفت یا نقصان پہنچانے کی پروا نہ کریں، کیونکہ اللہ لوگوں کے شر سے خود آپ کی حفاظت فرمائے گا۔
6 مختصر جوابات

لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا إِلَٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ

آیت میں عقیدہ تثلیث کا کس طرح رد کیا گیا؟

ترجمہ

”بیشک ایسے لوگ (بھی) کافر ہو گئے ہیں جنہوں نے کہا کہ اللہ تین (معبودوں) میں سے تیسرا ہے، حالانکہ معبودِ یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں“۔

عقیدہ تثلیث کا رد:

جواب قرآن نے واضح طور پر عیسائیوں کے تین خداؤں (باپ، بیٹا اور روح القدس/مریم) کے عقیدے کو صریح کفر قرار دیا ہے۔ اس کا رد اس محکم حقیقت سے کیا گیا کہ کائنات میں کوئی دوسرا معبود نہیں بلکہ صرف ایک ہی معبودِ یکتا (اللہ) ہے، جس کی ذات و صفات میں کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔
7 مختصر جوابات

مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ ۗ

آیت 75: حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریمؑ کی کیا حقیقت بیان ہوئی؟

ترجمہ

”مسیح ابنِ مریم (علیہما السلام) رسول کے سوا (کچھ) نہیں ہیں، یقیناً ان سے پہلے (بھی) بہت سے رسول گزر چکے ہیں، اور ان کی والدہ بڑی صاحبِ صدق (صدیقہ) تھیں، وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے“۔

اس آیت میں دونوں ہستیوں کی الوہیت (خدا ہونے) کی نفی کر کے ان کی اصل حقیقت بیان کی گئی ہے:

بیان کردہ حقیقت:

1 حضرت عیسیٰؑ کی حقیقت — وہ خدا یا خدا کے بیٹے نہیں، بلکہ اللہ کے ایک محترم رسول اور بندے ہیں، جیسے ان سے پہلے بھی کئی معجزات والے رسول گزر چکے ہیں۔
2 حضرت مریمؑ کی حقیقت — وہ کوئی دیوی یا معبود نہیں، بلکہ ایک انتہائی راست باز، سچی اور ولیہ عورت (صدیقہ) تھیں۔
3 بشریت کی سب سے بڑی دلیل — وہ دونوں ”کھانا کھایا کرتے تھے“۔ کھانا پینا انسانی ضرورت اور محتاجی کی علامت ہے، جب کہ جو ذات معبود یا خدا ہو، وہ ہر قسم کی محتاجی اور کھانے پینے سے پاک اور بالاتر ہوتی ہے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

آیت 35 (مع عربی، ترجمہ و مفہوم)

ترجمہ

جواب۔ ترجمہ: ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب (وسیلہ) تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔“

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی (فلاح) حاصل کرنے کے لیے تین اہم احکامات دیے ہیں:

مفہوم و تشریح:

1 تقویٰ — اللہ کی ناراضگی اور گناہوں سے بچنا۔
2 وسیلہ اختیار کرنا — جمہور مفسرین (جیسے ابن عباس اور قتادہ) کے مطابق وسیلے سے مراد نیک اعمال، فرائض کی پابندی اور طاعات ہیں، جن کے ذریعے بندہ اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے۔
3 جہاد فی سبیل اللہ — اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جان و مال سے کوشش کرنا۔
9 تفصیلی جوابات

وکتبنا علیھم ۔۔۔۔ الجروح قصاص ۔

آیت 45 — آیت کی رو سے تورات میں قصاص کا کیا قانون بیان ہوا

ترجمہ

”اور ہم نے تورات میں ان پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، اور آنکھ کے بدلے آنکھ، اور ناک کے بدلے ناک، اور کان کے بدلے کان، اور دانت کے بدلے دانت، اور زخموں میں بھی برابر کا بدلہ (قصاص) ہے۔ پھر جو کوئی اسے بطور صدقہ معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے، اور جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں پس وہی لوگ ظالم ہیں۔

اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو تورات میں برابری کی بنیاد پر قصاص (بدلے) کا سخت قانون دیا تھا:

تورات میں قصاص کا قانون:

1 کسی کو قتل کرنے کی صورت میں قاتل کو قتل کیا جائے گا (جان کے بدلے جان)۔
2 جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچانے کی صورت میں اسی عضو سے بدلہ لیا جائے گا (آنکھ، ناک، کان اور دانت کا برابر بدلہ)۔
3 تاہم، اگر مظلوم یا مقتول کے ورثاء اپنی مرضی سے بدلہ معاف کر دیں (تصدق کر دیں)، تو یہ معافی ان کے اپنے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی اور اللہ انہیں اجر دے گا۔
10 تفصیلی جوابات

آیت 55 (ترجمہ و مفہوم) بیان کریں

ترجمہ

”تمہارے (حقیقی) دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہیں اور وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اللہ کے آگے) جھکنے والے (عاجزی کرنے والے) ہیں۔“

مفہوم و تشریح:

جواب جب پچھلی آیات میں یہود و نصاریٰ سے گہری دوستیاں اور رازدارانہ تعلقات قائم کرنے سے منع کیا گیا، تو مسلمانوں کے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ پھر وہ کس سے دوستی رکھیں؟ اس آیت میں اللہ نے واضح کیا کہ مسلمانوں کے حقیقی سرپرست اور دوست صرف تین ہیں: اللہ، اس کے رسول ﷺ، اور وہ سچے اہل ایمان جن کی صفت یہ ہے کہ وہ نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیار کرتے ہیں۔
11 تفصیلی جوابات

آیت 69 (مع ترجمہ و تشریح) تحریر کریں

ترجمہ

”بیشک جو لوگ مسلمان ہوئے، اور جو یہودی ہوئے، اور صابی (ستارہ پرست)، اور نصرانی (عیسائی)، جو بھی اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“

تشریح:

جواب اس آیت کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ محض کسی خاص گروہ، نسل یا موروثی مذہب سے تعلق جوڑ لینا نجات کا معیار نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں کامیابی کا مدار سچے ایمان اور نیک اعمال پر ہے۔ اب چونکہ نبی کریم ﷺ کی بعثت ہو چکی ہے، اس لیے اللہ اور آخرت پر سچے ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کو تسلیم کیا جائے۔ جو بھی اسلام قبول کر کے ایمان و عملِ صالح کی راہ اختیار کرے گا، وہ آخرت کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔
12 تفصیلی جوابات

لقد کفر الذین ۔۔۔۔۔ وما للظلمین من انصار۔

آیت 72: حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریمؑ کی کیا حقیقت بیان ہوئی؟

ترجمہ

”بیشک وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے۔ حالانکہ مسیح نے خود کہا تھا: اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ بیشک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، تو یقیناً اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا۔“

نصاریٰ (عیسائیوں) کا عقیدہ: اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس باطل عقیدے کا رد:

1 نصاریٰ (عیسائیوں) کا عقیدہ: — اس آیت میں عیسائیوں کے ایک بڑے فرقے (جیسے یعقوبیہ وغیرہ) کے باطل عقیدے کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عین اللہ (خدا) یا خدا کا اوتار مانتے تھے۔ قرآن نے ان کے اس عقیدے کو صریح کفر اور شرک قرار دیا ہے۔
2 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس باطل عقیدے کا رد: — حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اپنی زبان سے عیسائیوں کے اس غلو اور باطل عقیدے کا سخت رد فرمایا تھا:
3 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس باطل عقیدے کا رد: — انہوں نے بنی اسرائیل کو حکم دیا: ”اللہ ہی کی عبادت کرو“، جس سے معلوم ہوا کہ معبود صرف ایک اللہ ہے، عیسیٰ علیہ السلام نہیں۔
4 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس باطل عقیدے کا رد: — انہوں نے فرمایا: ”اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے“۔ یعنی انہوں نے اپنے لیے کامل بندگی (عبودیت) اور اللہ کے لیے کامل ربوبیت کا اقرار کیا اور خود کو مخلوق اور اللہ کو خالق ظاہر کیا۔
5 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس باطل عقیدے کا رد: — انہوں نے شرک کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جو بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے گا، اس پر جنت ہمیشہ کے لیے حرام کر دی جائے گی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
13 تفصیلی جوابات

قل یا اھل الکتاب ۔۔۔۔۔ سوآء سبیل۔

آیت 77 — میں اہل کتاب کو کن باتوں سے منع کیا گیا؟

ترجمہ

”آپ فرما دیجیے: اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو (حد سے تجاوز) نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو پہلے ہی خود گمراہ ہو چکے اور انہوں نے بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کیا اور وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔“

اس آیت میں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کو بنیادی طور پر دو باتوں سے منع کیا گیا ہے:

اہل کتاب کو کن باتوں سے منع کیا گیا؟

1 دین میں ناحق غلو (حد سے تجاوز) کرنے سے منع کیا گیا — نصاریٰ نے غلو کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی کے مقام سے اٹھا کر خدا یا خدا کا بیٹا بنا دیا، جبکہ یہودیوں نے غلو اور دشمنی میں حد پار کر کے ان کی نبوت کا ہی انکار کر دیا اور ان پر الزامات لگائے۔ اللہ نے دونوں کو دین میں افراط و تفریط سے روکا۔
2 گمراہ لوگوں کی خواہشات اور بدعات کی پیروی سے منع کیا گیا — انہیں حکم دیا گیا کہ اپنے ان بددین، گمراہ باپ دادا اور مذہبی رہنماؤں کے پیچھے نہ چلیں جنہوں نے خود بھی حق کا راستہ چھوڑا اور مخلوقِ خدا کی ایک بڑی تعداد کو بھی سیدھی راہ سے بھٹکا دیا۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

عقیدہ تثلیث کی مکمل تفصیل

تثلیث ۔ عیسائیت کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس کے مطابق خدا ایک ہونے کے ساتھ ساتھ تین اقانیم (اشخاص) کا مجموعہ ہے

قرآنی رد:

1 اب (باپ) — یعنی اللہ تعالیٰ جو کائنات کا خالق ہے۔
2 ابن (بیٹا) — یعنی معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔
3 روح القدس — یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام یا پاک روح۔
4 سورہ المائدہ کی آیت 73 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”یقیناً وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے، حالانکہ خدا صرف ایک ہی ہے“۔ اسلام اس عقیدے کو سراسر شرک اور کفر قرار دے کر سختی سے رد کرتا ہے، کیونکہ اللہ کی ذات واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
15 سرگرمیاں

آیات 35 تا 77 میں یہود کے باطل عقائد اور جرائم

ان آیات میں یہودیوں کی بدعنوانیاں، سرکشی اور سنگین جرائم تفصیل سے بیان ہوئے ہیں:

یہود کے باطل عقائد کے رد پر نکات:

1 حق کو چھپانا اور کفر کرنا — جیسے جیسے قرآن نازل ہو رہا تھا، وہ حسد کی وجہ سے کفر اور سرکشی میں بڑھتے جا رہے تھے۔
2 حرام خوری اور رشوت ستانی — وہ کثرت سے جھوٹ سنتے تھے اور حرام مال و رشوت (اکالون للسحت) کھاتے تھے۔
3 کتاب اللہ میں تحریف — انہوں نے اللہ کے احکامات اور تورات کے الفاظ کو ان کی اصل جگہوں سے بدل دیا۔
4 انبیاء کی تکذیب اور قتل — جو حکم ان کی نفسانی خواہشات کے خلاف ہوتا، وہ اس نبی کو جھٹلا دیتے یا شہید کر دیتے۔
5 اللہ کی شان میں گستاخی — معاذ اللہ انہوں نے کہا کہ ”اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں“ (یعنی وہ بخیل ہے)۔
6 اپنے آپ کو اللہ کا چہیتا سمجھنا — ان کا دعویٰ تھا کہ ”ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں“۔
7 جزا و سزا کا آفاقی قانون — اللہ نے واضح کیا کہ اگر وہ نافرمانی کریں گے تو وہ بھی عذاب کے مستحق ہیں، کسی کو خاندانی برتری حاصل نہیں۔
8 اللہ کی بے نیازی — اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے رزق عطا فرماتا ہے، وہ بخیل نہیں بلکہ کائنات کا حقیقی مالک ہے۔
9 سخت سزا کی وعید — اللہ نے ان پر دنیا میں ذلت اور آخرت میں دردناک عذاب کی وعید سنائی۔
16 سرگرمیاں

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے حالات، واقعات اور صحیح عقیدہ

1 پیدائش — حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم اور اس کے کلمہ سے بغیر باپ کے سیدہ مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے۔
2 معجزات — اللہ نے انہیں عظیم معجزات دیے، جیسے گہوارے (بچپن) میں بولنا، مٹی کے پرندے بنا کر پھونک مارنا تو ان کا زندہ ہو جانا، اندھوں اور کوڑھیوں کو شفا دینا، اور مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کرنا۔
3 آسمان پر اٹھایا جانا — جب یہودیوں نے انہیں قتل کرنے کی سازش کی، تو اللہ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ وہ نہ قتل ہوئے اور نہ صلیب پر چڑھائے گئے۔
4 دوبارہ آمد — وہ قربِ قیامت میں دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، دجال کو قتل کریں گے، اور شریعتِ محمدی ﷺ کے مطابق عدل و انصاف کا نظام قائم کریں گے۔
5 صحیح اسلامی عقیدہ — حضرت عیسیٰ ؑ نہ تو خدا ہیں، نہ خدا کے بیٹے اور نہ ہی تین خداؤں میں سے ایک ہیں۔ وہ اللہ کے سچے بندے اور اس کے برگزیدہ رسول ہیں۔
17 سرگرمیاں

سورہ المائدہ (آیات 54 تا 56) میں اہل ایمان کی صفات

ان آیات میں سچے مومنین کی درج ذیل نمایاں صفات بیان کی گئی ہیں:

1 اللہ سے محبت — وہ اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں اور اللہ ان سے محبت کرتا ہے۔
2 مومنین کے لیے نرمی — وہ مسلمانوں اور اہل ایمان کے لیے انتہائی نرم دل، شفیق اور عاجزی اختیار کرنے والے ہوتے ہیں۔
3 کفار پر سختی — وہ دشمنانِ دین اور کافروں کے مقابلے میں غیرت مند، مضبوط اور سخت ہوتے ہیں۔
4 جہاد فی سبیل اللہ — وہ اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتے ہیں۔
5 ملامت کی پروا نہ کرنا — وہ حق بات کہنے اور دین پر چلنے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور تنقید سے نہیں ڈرتے۔
6 اللہ اور اس کے رسول سے دوستی — وہ صرف اللہ، اس کے رسول ﷺ اور نماز و زکوٰۃ قائم کرنے والے مومنین کو اپنا حقیقی دوست اور کارساز بناتے ہیں۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.