سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ ۚ
آیت 42: یہود کی کن دو بری صفات کا ذکر ہے؟
جواب۔ ”(یہ لوگ) جھوٹی باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرنے والے ہیں (مزید یہ کہ) حرام مال/رشوت خوب کھانے والے ہیں“۔
یہود کی دو بری صفات:
بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ ۚ
آیت 42: یہود کی کن دو بری صفات کا ذکر ہے؟
جواب۔ ”(یہ لوگ) جھوٹی باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرنے والے ہیں (مزید یہ کہ) حرام مال/رشوت خوب کھانے والے ہیں“۔
یہود کی دو بری صفات:
فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَن تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ ۚ
آیت کے مطابق منافقین اہل کتاب کی طرف کیوں دوڑتے تھے؟
”سو آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے کہ وہ ان (یہود و نصاریٰ) میں (شامل ہونے کے لیے) دوڑتے ہیں، کہتے ہیں: ہمیں خوف ہے کہ ہم پر کوئی (زمانے کی) گردش نہ آ جائے“۔
اہل کتاب کی طرف دوڑنے کی وجہ:
وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ
آیت 58: اذان کے وقت کفار کا کیا طرز عمل ہوتا تھا؟
”اور جب تم نماز کے لیے (لوگوں کو بصورتِ اذان) پکارتے ہو تو یہ (لوگ) اسے ہنسی اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (بالکل) عقل ہی نہیں رکھتے“۔
کفار کا طرز عمل:
وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ ۚ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ
آیت 64: یہود کی گستاخی اور اس کا کیا جواب دیا گیا؟
اور یہود کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (معاذ اللہ وہ بخیل ہے)، ان کے اپنے ہاتھ باندھے جائیں اور جو کانہوں نے کہا اس کے باعث ان پر لعنت کی گئی، بلکہ (حق یہ ہے کہ) اس کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ فرماتا ہے“۔
یہود کی گستاخی: اور گستاخی کا جواب:
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ
آیت 67: نبی کریم ﷺ کو کیا حکم دیا گیا
”اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارا لوگوں کو) پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (رب) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، اور اللہ (مخالف) لوگوں سے آپ (کی جان) کی حفاظت فرمائے گا“۔
نبی ﷺ کو دیا گیا حکم:
لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا إِلَٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ
آیت میں عقیدہ تثلیث کا کس طرح رد کیا گیا؟
”بیشک ایسے لوگ (بھی) کافر ہو گئے ہیں جنہوں نے کہا کہ اللہ تین (معبودوں) میں سے تیسرا ہے، حالانکہ معبودِ یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں“۔
عقیدہ تثلیث کا رد:
مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ ۗ
آیت 75: حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریمؑ کی کیا حقیقت بیان ہوئی؟
”مسیح ابنِ مریم (علیہما السلام) رسول کے سوا (کچھ) نہیں ہیں، یقیناً ان سے پہلے (بھی) بہت سے رسول گزر چکے ہیں، اور ان کی والدہ بڑی صاحبِ صدق (صدیقہ) تھیں، وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے“۔
اس آیت میں دونوں ہستیوں کی الوہیت (خدا ہونے) کی نفی کر کے ان کی اصل حقیقت بیان کی گئی ہے:
بیان کردہ حقیقت:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
آیت 35 (مع عربی، ترجمہ و مفہوم)
جواب۔ ترجمہ: ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب (وسیلہ) تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔“
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی (فلاح) حاصل کرنے کے لیے تین اہم احکامات دیے ہیں:
مفہوم و تشریح:
وکتبنا علیھم ۔۔۔۔ الجروح قصاص ۔
آیت 45 — آیت کی رو سے تورات میں قصاص کا کیا قانون بیان ہوا
”اور ہم نے تورات میں ان پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، اور آنکھ کے بدلے آنکھ، اور ناک کے بدلے ناک، اور کان کے بدلے کان، اور دانت کے بدلے دانت، اور زخموں میں بھی برابر کا بدلہ (قصاص) ہے۔ پھر جو کوئی اسے بطور صدقہ معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے، اور جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں پس وہی لوگ ظالم ہیں۔
اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو تورات میں برابری کی بنیاد پر قصاص (بدلے) کا سخت قانون دیا تھا:
تورات میں قصاص کا قانون:
آیت 55 (ترجمہ و مفہوم) بیان کریں
”تمہارے (حقیقی) دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہیں اور وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اللہ کے آگے) جھکنے والے (عاجزی کرنے والے) ہیں۔“
مفہوم و تشریح:
آیت 69 (مع ترجمہ و تشریح) تحریر کریں
”بیشک جو لوگ مسلمان ہوئے، اور جو یہودی ہوئے، اور صابی (ستارہ پرست)، اور نصرانی (عیسائی)، جو بھی اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“
تشریح:
لقد کفر الذین ۔۔۔۔۔ وما للظلمین من انصار۔
آیت 72: حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریمؑ کی کیا حقیقت بیان ہوئی؟
”بیشک وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے۔ حالانکہ مسیح نے خود کہا تھا: اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ بیشک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، تو یقیناً اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا۔“
نصاریٰ (عیسائیوں) کا عقیدہ: اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس باطل عقیدے کا رد:
قل یا اھل الکتاب ۔۔۔۔۔ سوآء سبیل۔
آیت 77 — میں اہل کتاب کو کن باتوں سے منع کیا گیا؟
”آپ فرما دیجیے: اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو (حد سے تجاوز) نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو پہلے ہی خود گمراہ ہو چکے اور انہوں نے بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کیا اور وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔“
اس آیت میں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کو بنیادی طور پر دو باتوں سے منع کیا گیا ہے:
اہل کتاب کو کن باتوں سے منع کیا گیا؟
عقیدہ تثلیث کی مکمل تفصیل
تثلیث ۔ عیسائیت کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس کے مطابق خدا ایک ہونے کے ساتھ ساتھ تین اقانیم (اشخاص) کا مجموعہ ہے
قرآنی رد:
آیات 35 تا 77 میں یہود کے باطل عقائد اور جرائم
ان آیات میں یہودیوں کی بدعنوانیاں، سرکشی اور سنگین جرائم تفصیل سے بیان ہوئے ہیں:
یہود کے باطل عقائد کے رد پر نکات:
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے حالات، واقعات اور صحیح عقیدہ
سورہ المائدہ (آیات 54 تا 56) میں اہل ایمان کی صفات
ان آیات میں سچے مومنین کی درج ذیل نمایاں صفات بیان کی گئی ہیں:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔