بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 6: سبق 6: سورہ المائدہ — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ؕ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّى الصَّيْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ ﴿۱﴾

آیت کریمہ میں اہل ایمان کو کیا تعلیمات دی گئی ہیں؟

ترجمہ

اے ایمان والو! اپنے عہد و پیمان پورے کرو۔ تمہارے لیے مویشی چوپائے حلال کر دیے گئے ہیں، سوائے ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں، بشرطیکہ تم احرام کی حالت میں شکار کو حلال نہ سمجھو۔ بلاشبہ اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔

اس آیت مبارکہ میں اہل ایمان کو تین اہم ترین بنیادی تعلیمات دی گئی ہیں:

آیت کریمہ میں اہل ایمان کو دی گئی تعلیمات

1 عہد و پیمان کی پاسداری — اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا اور اہم حکم یہ دیا ہے کہ تمام معاہدوں، وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کیا جائے۔ اس میں اللہ اور بندے کے درمیان کے عہد (جیسے ایمان اور عبادات) اور انسانوں کے آپسی معاملات (جیسے کاروبار، نکاح اور دیگر معاہدے) دونوں شامل ہیں۔
2 حلال و حرام کے احکامات پر عمل — مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے مویشی چوپائے (جیسے گائے، بھیڑ، بکری، اونٹ وغیرہ) حلال کیے ہیں۔ تاہم، جن چیزوں کی ممانعت آگے بتائی جا رہی ہے (مثلاً مردار، خنزیر وغیرہ) ان سے بچنا لازمی ہے۔
3 حالتِ احرام کی پابندی — حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھنے کی صورت میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، تاکہ اس دوران امن اور عبادت کا ماحول برقرار رہے۔
2 مختصر جوابات

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

سورہ المائدہ، آیت 3

ترجمہ

”تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، اور گلا گھٹ کر مرا ہوا، اور چوٹ سے مرا ہوا، اور اوپر سے گر کر مرا ہوا، اور سینگ مارنے سے مرا ہوا، اور جسے درندے نے کھایا ہو سوائے اس کے جسے تم نے (مرنے سے پہلے) ذبح کر لیا، اور جو بتوں کے آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تم تیروں کے ذریعے قسمت معلوم کرو، یہ سب گناہ کے کام ہیں۔ آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو چکے، پس تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔ پھر جو کوئی بھوک کی شدت میں مجبور ہو جائے بشرطیکہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو، تو یقیناً اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے“۔

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتِ مسلمہ کے لیے یہ عظیم الشان اعلان فرمایا گیا ہے:

اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہم ترین اعلان

1 دینِ اسلام کی تکمیل کر دی گئی ہے اور اب اس میں کسی اضافے یا تبدیلی کی ضرورت نہیں۔
2 مسلمانوں پر اللہ نے اپنی نعمت (ہدایت و شریعت) مکمل فرما دی ہے۔
3 اللہ تعالیٰ نے ابد تک کے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند فرما لیا ہے۔
4 کفار اب مسلمانوں کے دین کو مٹانے سے مایوس ہو چکے ہیں۔
3 مختصر جوابات

...فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ۔

سورہ المائدہ، آیت 4 (مطلوبہ حصہ) — شکاری جانوروں کے حوالے سے کیا احکامات دیے گئے؟

ترجمہ

”پس تم اس (شکار) میں سے کھاؤ جو وہ (شکاری جانور) تمہارے لیے پکڑ رکھیں اور اس پر اللہ کا نام لو، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے“۔

اس آیت میں سکھائے ہوئے شکاری جانوروں (جیسے کتے، چیتے یا باز وغیرہ) کے ذریعے کیے گئے شکار کے بارے میں درج ذیل احکامات دیے گئے ہیں:

شکاری جانوروں کے حوالے سے احکامات

1 حلال شکار — اگر سکھایا ہوا شکاری جانور شکار کو اپنے مالک کے لیے پکڑ کر رکھے (خود نہ کھائے)، تو وہ شکار حلال ہے۔
2 تسمیہ (اللہ کا نام لینا) — شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت اللہ کا نام (بسم اللہ) پڑھنا لازمی ہے۔
4 مختصر جوابات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ.

سورہ المائدہ، آیت 6 — وضو کے کیا فرائض بیان ہوئے ہیں؟

ترجمہ

”اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہرے دھوؤ اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت دھوؤ، اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت دھوؤ...“۔

اس آیت کی رو سے وضو کے 4 فرائض بیان ہوئے ہیں:

وضو کے فرائض

1 پورے چہرے کا دھونا۔
2 دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت دھونا۔
3 چوتھائی سر کا مسح کرنا۔
4 دونوں پاؤں کا ٹخنوں سمیت دھونا۔
5 مختصر جوابات

وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ

سورہ المائدہ، آیت 18 — یہود و نصاریٰ کا کیا باطل عقیدہ بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

”اور یہود و نصاریٰ نے کہا: ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ آپ فرما دیجیے: پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے؟ بلکہ تم بھی اس کی مخلوقات میں سے ایک انسان ہو، وہ جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے، اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“۔

یہود و نصاریٰ کا باطل عقیدہ

جواب اس آیت میں یہود و نصاریٰ کا یہ باطل و من گھڑت عقیدہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ خود کو اللہ کے بیٹے (روحانی اولاد) اور اس کے محبوب و چہیتے قرار دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان کا تعلق کسی بھی ملوکیت سے ہو، وہ عذابِ الٰہی سے محفوظ رہیں گے، جس کی اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی۔
6 مختصر جوابات

قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا ۖ فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ ۔

سورہ المائدہ، آیت 24 — بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰؑ کو جہاد کے مطالبے پر کیا جواب دیا؟

ترجمہ

”انہوں نے کہا: اے موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں ہم کبھی وہاں داخل نہیں ہوں گے، پس آپ اور آپ کا رب دونوں جائیے اور لڑئیے، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں“۔

بنی اسرائیل کا جواب

جواب جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو ارضِ مقدسہ (شام/فلسطین) میں داخلے اور جہاد کا حکم دیا، تو انہوں نے انتہائی گستاخانہ جواب دیا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر جنگ لڑیں، ہم یہاں سے ٹس سے مس نہیں ہوں گے۔
7 مختصر جوابات

قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةً ۛ يَتِيهُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ

سورہ المائدہ، آیت 26 — آیت کریمہ کی رو سے بنی اسرائیل کو کیا سزا دی گئ؟

ترجمہ

”(اللہ نے) فرمایا: پس وہ (سرزمین) ان پر چالیس سال تک حرام کر دی گئی ہے، یہ زمین میں بھٹکتے پھریں گے، پس آپ ان نافرمان لوگوں پر افسوس نہ کریں“۔

جہاد سے انکار اور نافرمانی پر بنی اسرائیل کو یہ سزا دی گئی کہ:

بنی اسرائیل کی سزا

1 وہ ارضِ مقدسہ سے محروم کر دیے گئے اور وہ مبارک سرزمین ان پر 40 سال کے لیے حرام کر دی گئی۔
2 وہ ”تیہ“ کے میدان (صحرا) میں چالیس سال تک بھٹکتے رہے اور وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ پا سکے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ

سورہ المائدہ: آیت 11 (عربی، ترجمہ و مفہوم بیان کریں۔)

ترجمہ

اے ایمان والو! اللہ کا وہ احسان یاد کرو جو اس نے (حال ہی میں) تم پر کیا ہے، جب ایک قوم نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں (تمہیں نقصان پہنچائیں) تو اللہ نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیے، اور اللہ سے ڈرو، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

مفہوم و پس منظر

جواب اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیبی نصرت اور حفاظت کا ایک خاص واقعہ یاد دلا رہا ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب بنو نضیر (یہود) یا بعض مشرکین نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام پر اچانک حملہ کرنے یا آپ ﷺ کو شہید کرنے کی ناپاک سازش کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اپنے نبی ﷺ کو مطلع فرما دیا اور دشمنوں کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھنا چاہیے، تقویٰ اختیار کرنا چاہیے اور کسی بھی مادی طاقت سے ڈرنے کی بجائے صرف اللہ کی ذات پر کامل توکل کرنا چاہیے کیونکہ حقیقی محافظ وہی ہے۔
9 تفصیلی جوابات

سورہ المائدہ کا تعارف

جواب جواب کتاب ص53
10 تفصیلی جوابات

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ

سورہ المائدہ: آیت 20 (عربی، ترجمہ و مفہوم بیان کریں۔)

ترجمہ

”اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی، جب اس نے تم میں انبیاء پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ (خودمختار) بنایا اور تمہیں وہ کچھ عطا فرمایا جو دنیا جہان میں سے کسی کو عطا نہیں کیا تھا۔“

مفہوم و پس منظر

جواب اس آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم (بنی اسرائیل) کو فرعون کی غلامی سے نجات پانے کے بعد اللہ کے عظیم احسانات یاد دلا رہے ہیں۔ تین بڑے احسانات کا ذکر ہے: اول یہ کہ ان میں کثرت سے انبیاء مبعوث کیے، دوم انہیں غلامی سے نکال کر سلطنت و آزادی (ملوکیت) بخشی، اور سوم من و سلویٰ اور معجزات جیسی نعمتیں دیں جو اس دور کی دوسری اقوام کو میسر نہ تھیں۔ اس کا مفہوم امتِ محمدیہ کے لیے یہ ہے کہ نعمتوں کی قدر دانی اطاعتِ الہیٰ کے ذریعے ہونی چاہیے، نہ کہ نافرمانی اور سرکشی سے۔
11 تفصیلی جوابات

سورہ المائدہ کے چند مضامین تحریر کریں۔

جواب جواب کتاب سے ص53
12 تفصیلی جوابات

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ

سورہ المائدہ: آیت 27 (عربی، ترجمہ و تشریح ‑ قصہ ہابیل و قابیل بیان کریں)

ترجمہ

”اور آپ انہیں آدم کے دو بیٹوں (ہابیل و قابیل) کا سچا واقعہ پڑھ کر سنائیے، جب دونوں نے (اللہ کے حضور) ایک ایک قربانی پیش کی، پس ان میں سے ایک (ہابیل) کی قربانی قبول کر لی گئی اور دوسرے (قابیل) کی قبول نہ کی گئی۔ (اس پر قابیل نے) کہا: میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا۔ (ہابیل نے) کہا: اللہ تو صرف تقویٰ والوں ہی سے (قربانی) قبول فرماتا ہے۔“

یہ زمین کی تاریخ میں ہوس، حسد اور ناحق قتل کا پہلا واقعہ ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام کے ان دو بیٹوں نے اللہ کی رضا یا کسی شرعی فیصلے کے لیے قربانیاں پیش کیں۔ ہابیل نے اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ اپنے مال میں سے بہترین دنبہ قربان کیا، جب کہ قابیل نے بے دلی سے کچھ خراب غلہ پیش کیا۔ اس دور کے طریقے کے مطابق آسمان سے آگ آئی اور ہابیل کی قربانی کو کھا گئی، جو اس کے قبول ہونے کی نشانی تھی، جبکہ قابیل کی قربانی رد کر دی گئی۔ قابیل کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرتا، اس نے الٹا اپنے بے گناہ بھائی ہابیل کو قتل کی دھمکی دے دی۔ ہابیل نے نہایت صابرانہ اور حکیمانہ جواب دیا کہ قربانی کی قبولیت کا دارومدار ’تقویٰ‘ (دل کے اخلاص) پر ہے۔ آگے کی آیات میں آتا ہے کہ قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا اور دنیا کا پہلا قاتل بنا۔

قصہ ہابیل و قابیل اور تفصیلی تشریح:

جواب اہم سبق: اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ حسد انسان کو اندھا کر دیتا ہے اور اللہ کے ہاں عمل کی ظاہری شکل نہیں بلکہ نیت اور تقویٰ دیکھا جاتا ہے۔
13 تفصیلی جوابات

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيم

سورہ المائدہ: آیت 33 (عربی، ترجمہ و زمین میں فساد کی کیا سزا بیان ہوئی۔)

ترجمہ

”ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (حدِ سرقہ و قزاقی کے تحت) یہی ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا انہیں سولی پر لٹکا دیا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں یا انہیں ملک بدر (یا قید) کر دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔“

اسلامی شریعت میں اس جرم کو ”حدِ حرابہ“ (ڈاکو زنی، امن عامہ کو تباہ کرنا، اور دہشت گردی) کہا جاتا ہے۔ آیت کی رو سے قاضی/حکومت جرم کی نوعیت کے حساب سے درج ذیل 4 سخت سزائیں دے سکتی ہے:

زمین میں فساد کرنے والوں (ڈاکوؤں، دہشت گردوں) کی سزائیں:

1 قتل کرنا — اگر مجرموں نے صرف کسی کا قتل کیا ہو۔
2 سولی پر لٹکانا (عبرت ناک موت) — اگر انہوں نے قتل بھی کیا ہو اور مال بھی لوٹا ہو۔
3 مخالف سمت سے ہاتھ پاؤں کاٹنا — (مثلاً دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں) اگر انہوں نے قتل نہ کیا ہو بلکہ صرف اسلحے کے زور پر مال لوٹا ہو اور خوف پھیلایا ہو۔
4 جلاوطنی یا قید (نفی) — اگر انہوں نے ابھی صرف منصوبہ بندی کی ہو یا زمین پر امن خراب کرنے نکلے ہوں مگر قتل اور ڈکیتی نہ کر پائے ہوں، تو انہیں قید یا جلاوطن کر دیا جائے۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

سورہ المائدہ میں حلال و حرام غذاؤں کے احکام

سورہ المائدہ کے آغاز (آیت 1 اور 3) میں خوراک کے حوالے سے تفصیلی قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ اسلام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور گندی و نقصان دہ چیزیں حرام ہیں۔

حرام اشیاء کی تفصیلی فہرست (آیت 3 کی روشنی میں):

1 قرآن پاک نے اس سورت میں واضح طور پر درج ذیل اشیاء کو حرام قرار دیا ہے:
2 مردار ( المَيْتَةُ ) — وہ جانور جو بغیر شرعی ذبح کے اپنی موت مر گیا ہو۔
3 بہتا ہوا خون ( الدَّمُ ) — ذبح کرتے وقت یا ایسے بہنے والا خون۔
4 خنزیر (سور) کا گوشت ( لَحْمُ الْخِنزِيرِ ) — اس کا پورا وجود اور گوشت ناپاک و حرام ہے۔
5 غیر اللہ کے نام کا جانور ( مَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ) — وہ جانور جس کو ذبح کرتے وقت اللہ کے علاوہ کسی بت، ولی یا انسان کا نام پکارا گیا ہو۔
6 گلا گھٹ کر مرنے والا ( الْمُنْخَنِقَةُ ) — جو رسی یا کسی اور چیز سے دم گھٹنے کے باعث مر جائے۔
7 چوٹ لگ کر مرنے والا ( الْمَوْقُوذَةُ ) — جسے لاٹھی، پتھر یا کسی بھاری چیز سے مارا گیا ہو اور وہ ذبح سے پہلے مر جائے۔
8 بلندی سے گر کر مرنے والا ( الْمُتَرَدِّيَةُ ) — جو پہاڑ، چھت یا کنویں میں گر کر مر جائے۔
9 سینگ مارنے سے مرنے والا ( النَّطِيحَةُ ) — جو دو جانوروں کی آپسی لڑائی میں سینگ لگنے سے مر گیا ہو۔
10 درندوں کا کھایا ہوا ( مَا أَكَلَ السَّبُعُ ) — جسے کسی شیر، بھیڑیے یا کتے نے پھاڑ کر کھایا ہو اور وہ مر گیا ہو (الّا یہ کہ مرنے سے پہلے اسے زندہ پا کر ذبح کر لیا جائے)۔
11 آستانوں پر ذبح کیا گیا ( مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ ) — وہ جانور جو بتوں کے تھانوں، آستانوں یا شرک کے اڈوں پر قربان کیا گیا ہو۔
جواب استثناء (مجبوری کی حالت): اگر کوئی شخص شدید بھوک (فحاشی یا گناہ کی نیت کے بغیر) سے مر رہا ہو اور حلال چیز دستیاب نہ ہو، تو جان بچانے کی حد تک وہ حرام چیز کھا سکتا ہے، اللہ غفور و رحیم ہے۔
15 سرگرمیاں

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ

سورہ المائدہ کی آیت 2 — نیکی و تقویٰ میں تعاون کی عملی صورتیں

ترجمہ

”اور نیکی اور تقویٰ (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“

معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے یہ آیت ایک سنہری اصول فراہم کرتی ہے۔ اس کی عملی صورتیں درج ذیل ہیں:

الف) نیکی اور تقویٰ میں تعاون کی عملی صورتیں: اور ب) گناہ اور زیادتی سے اجتناب کی عملی صورتیں:

1 الف) نیکی اور تقویٰ میں تعاون کی عملی صورتیں: — رفاہی کاموں میں حصہ لینا — غریبوں کے لیے ہسپتال، سکول، کنویں بنوانا اور یتیموں کی کفالت میں مالی و بدنی تعاون کرنا۔
2 الف) نیکی اور تقویٰ میں تعاون کی عملی صورتیں: — تعلیم و شعور کا پھیلاؤ — دین کا علم سکھانا، اچھے اخلاق کی تلقین کرنا اور معاشرتی برائیوں کے خلاف شعور بیدار کرنا۔
3 الف) نیکی اور تقویٰ میں تعاون کی عملی صورتیں: — مظلوم کی داد رسی — کسی کمزور پر ظلم ہو رہا ہو تو اس کا ساتھ دینا اور اسے انصاف دلوانا۔
4 الف) نیکی اور تقویٰ میں تعاون کی عملی صورتیں: — اجتماعی خیر کے کام — محلے کی صفائی، شجرکاری، سیلاب یا زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرنا۔
5 ب) گناہ اور زیادتی سے اجتناب کی عملی صورتیں: — منشیات اور جرائم کا بائیکاٹ — کسی بھی قسم کے غیر قانونی، غیر شرعی کام (جیسے رشوت، چوری، سود) میں کسی کا معاون یا گواہ نہ بننا۔
6 ب) گناہ اور زیادتی سے اجتناب کی عملی صورتیں: — ظالم کا ساتھ نہ دینا — اگر کوئی دوست یا رشتہ دار کسی پر ظلم کر رہا ہو، تو دوستی نبھانے کی بجائے اسے ظلم سے روکنا۔
7 ب) گناہ اور زیادتی سے اجتناب کی عملی صورتیں: — سوشل میڈیا کا مثبت استعمال — نیٹ پر جھوٹی خبریں، فحاشی، نفرت انگیز مواد اور غیبت کو آگے شیئر (Share) کرنے سے مکمل پرہیز کرنا۔
8 ب) گناہ اور زیادتی سے اجتناب کی عملی صورتیں: — لڑائی جھگڑوں سے دوری — فریقین کے درمیان آگ بھڑکانے کے بجائے صلح صفائی کی کوشش کرنا اور تعصبات (لسانی، صوبائی یا فرقہ وارانہ) کا حصہ نہ بننا۔
16 سرگرمیاں

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ (سورۃ البقرہ: 222) فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ (سورۃ التوبہ: 108) الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ (صحیح مسلم) لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ (صحیح مسلم)

حصہ اول: طہارت (پاکیزگی) کی اہمیت

اسلام میں طہارت اور پاکیزگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ صرف جسمانی صفائی کا نام نہیں بلکہ روح کی پاکیزگی کا ذریعہ بھی ہے۔

1 قرآنِ مجید کی روشنی میں — اللہ کی محبت کا ذریعہ — قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: ترجمہ: ”بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“
2 قرآنِ مجید کی روشنی میں — مسجدِ قبا کے لوگوں کی تعریف — اللہ تعالیٰ نے مسجدِ قبا کے سچے مومنین کی تعریف ان کی طہارت پسندی کی وجہ سے کی: ترجمہ: ”اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“
3 احادیثِ نبویﷺ کی روشنی میں — ایمان کا حصہ — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: ”پاکیزگی ایمان کا نصف (آدھا) حصہ ہے۔“
4 احادیثِ نبویﷺ کی روشنی میں — نماز کی قبولیت کی شرط — آپ ﷺ کا فرمان ہے: ترجمہ: ”طہارت (پاکیزگی) کے بغیر کوئی نماز قبول نہیں ہوتی۔“
5 حصہ دوم: تیمم کے فرائض اور حالات — تیمم اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتِ محمدیہ کے لیے ایک خاص رعایت اور آسانی ہے، تاکہ پانی نہ ہونے یا استعمال نہ کر سکنے کی صورت میں عبادت کا تسلسل نہ ٹوٹے۔
6 تیمم کے فرائض — تیمم میں کل 3 فرائض ہیں:
7 تیمم کے فرائض — نیت کرنا — دل میں پاکی حاصل کرنے کی نیت کرنا۔
8 تیمم کے فرائض — چہرے پر ہاتھ پھیرنا — پاک مٹی پر دونوں ہاتھ مار کر پورے چہرے پر ملنا۔
9 تیمم کے فرائض — ہاتھوں پر پھیرنا — دوبارہ مٹی پر ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرنا۔
10 کن حالات میں تیمم کیا جا سکتا ہے؟ — مندرجہ ذیل مجبوریوں میں وضو یا غسل کی جگہ تیمم کی اجازت ہے:
11 کن حالات میں تیمم کیا جا سکتا ہے؟ — پانی کا نہ ہونا — انسان ایسی جگہ ہو جہاں ایک میل کے دائرے میں پانی دستیاب نہ ہو۔
12 کن حالات میں تیمم کیا جا سکتا ہے؟ — بیماری کا خوف — پانی استعمال کرنے سے بیماری بڑھنے، دیر سے ٹھیک ہونے یا جان جانے کا حقیقی خطرہ ہو۔
13 کن حالات میں تیمم کیا جا سکتا ہے؟ — شدید سردی — سردی اتنی سخت ہو کہ پانی استعمال کرنے سے جان جانے یا بیمار ہونے کا یقین ہو اور پانی گرم کرنے کا کوئی سامان نہ ہو۔
14 کن حالات میں تیمم کیا جا سکتا ہے؟ — دشمن یا جانور کا خوف — پانی کے پاس کسی ظالم دشمن، درندے یا سانپ وغیرہ کا خطرہ ہو۔
15 کن حالات میں تیمم کیا جا سکتا ہے؟ — پیاس کا خطرہ — پانی تو موجود ہو لیکن وہ صرف پینے کے لیے ہو، اگر وضو کیا تو خود یا ساتھی (یا پالتو جانور) پیاسے مر سکتے ہیں۔
17 سرگرمیاں

إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ (سنن ابی داؤد) لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالْحَسَدُ (سنن نسائی)

حسد کی مذمت، نقصانات، صورتیں اور علاج

حسد ایک باطنی اور روحانی بیماری ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے کی نعمت کو دیکھ کر جلنا اور یہ تمنا کرنا کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے۔

1 احادیث کی روشنی میں حسد کی مذمت — نیکیوں کی بربادی — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: ”حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔“
2 احادیث کی روشنی میں حسد کی مذمت — ایمان اور حسد کا تضاد — آپ ﷺ کا فرمان ہے: ترجمہ: ”کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔“
3 حسد کے نقصانات — دینی نقصانات — اللہ کی تقسیم پر اعتراض (نعوذ باللہ) ہوتا ہے، نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں اور دعا کی قبولیت رک جاتی ہے۔
4 حسد کے نقصانات — دنیاوی و نفسیاتی نقصانات — حاسد ہر وقت ذہنی تناؤ، جلن اور کڑھن کا شکار رہتا ہے۔ اس کا بلڈ پریشر اور دلی سکون برباد ہو جاتا ہے۔
5 حسد کے نقصانات — معاشرتی نقصانات — آپسی تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں، دشمنیاں جنم لیتی ہیں اور معاشرے کا امن و امان تباہ ہو جاتا ہے۔
6 حسد کی مختلف صورتیں — بدترین صورت (حسدِ مذموم) — یہ تمنا کرنا کہ دوسرے کی نعمت (مال، عزت، علم) ختم ہو جائے، چاہے وہ مجھے ملے یا نہ ملے۔
7 حسد کی مختلف صورتیں — دوسری صورت — یہ چاہنا کہ دوسرے کی نعمت ختم ہو کر مجھے مل جائے۔
8 حسد کی مختلف صورتیں — رشک (غبطہ ‑ جو جائز ہے) — دوسرے کی نعمت دیکھ کر جلنے کے بجائے یہ خواہش کرنا کہ ”یا اللہ! یہ نعمت اسے بھی مبارک ہو اور مجھے بھی ایسی نعمت عطا فرما۔“ (یہ گناہ نہیں ہے)۔
9 حسد سے بچنے کے طریقے (علاج) — اللہ کی رضا پر راضی رہنا — یہ سوچنا کہ دنیا میں جسے جو ملا ہے، اللہ کی حکمت اور تقسیم سے ملا ہے۔
10 حسد سے بچنے کے طریقے (علاج) — محسود (جس سے حسد ہو) کے حق میں دعا کرنا — جب بھی کسی پر رشک یا حسد آنے لگے، اس کے لیے مزید برکت کی دعا کریں۔
11 حسد سے بچنے کے طریقے (علاج) — نعمتوں کا اعتراف — اپنی توجہ دوسروں کی نعمتوں سے ہٹا کر اللہ کی ان نعمتوں پر لگائیں جو اس نے آپ کو دی ہیں۔
12 حسد سے بچنے کے طریقے (علاج) — محسود کے ساتھ اچھا سلوک — جس شخص سے حسد ہو رہا ہو، اسے سلام کریں، تحفہ دیں اور اس کی تعریف کریں۔ اس سے دل کا میل صاف ہو جاتا ہے۔
18 سرگرمیاں

مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا (آیت: 32) وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۤؤُهٗ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا (آیت: 93) لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ (سنن ترمذی) أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ (صحیح بخاری) سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ (صحیح بخاری)

حصہ چہارم: دورِ حاضر میں فساد فی الارض کی صورتیں

قرآنِ پاک نے زمین پر فساد پھیلانے کی سخت ممانعت کی ہے: ”وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا“ (اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ)۔ آج کے دور میں اس کی چند بڑی صورتیں درج ذیل ہیں:

1 دہشت گردی اور قتل و غارت — بے گناہ انسانوں، عورتوں اور بچوں کا خون بہانا اور بم دھماکے کرنا۔
2 ظلم اور معاشی استحصال — سود خوری، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، مہنگائی اور غریبوں کا حق مارنا۔
3 اخلاقی و فحاشی کا فساد — میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے بے حیائی، زنا اور بدکاری کو عام کرنا۔
4 سیاسی و نظریاتی فساد — جھوٹے پروپیگنڈے، فرقہ واریت، نفرت انگیز تقاریر اور لسانی بنیادوں پر قوم کو لڑانا۔
5 رشوت اور کرپشن — میرٹ کی پامالی اور عدل و انصاف کے نظام کو پیسے کے بلبوتے پر تباہ کرنا۔
6 حصہ پنجم: قتل کی مذمت اور قرآنی و نبوی وعیدیں — اسلام میں انسانی جان کی حرمت سب سے مقدم ہے۔ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔
7 قرآنِ مجید کی روشنی میں مذمت اور وعیدیں — پوری انسانیت کا قتل — سورۃ المائدہ میں ارشاد ہے: ترجمہ: ”جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا (ناحق) قتل کیا، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔“
8 قرآنِ مجید کی روشنی میں مذمت اور وعیدیں — جہنم کی ابدی سزا — سورۃ النساء میں قاتل کی سزا یوں بیان کی گئی: ترجمہ: ”اور جو کوئی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ (اس آیت میں ایک قتل پر 5 سخت ترین وعیدیں ہیں: جہنم، ہمیشہ رہنا، اللہ کا غضب، اللہ کی لعنت، اور عذابِ عظیم)۔
9 احادیثِ نبویﷺ کی روشنی میں وعیدیں — دنیا کی تباہی سے بڑا گناہ — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: ”اللہ کے نزدیک پوری دنیا کا تباہ ہو جانا، ایک مسلمان کے ناحق قتل کیے جانے سے زیادہ ہلکا ہے۔“
10 احادیثِ نبویﷺ کی روشنی میں وعیدیں — سب سے پہلا فیصلہ — قیامت کے دن بندوں کے درمیان سب سے پہلے حقوق العباد میں قتل کا فیصلہ ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: ”قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون (ناحق قتل) کے مقدمات کا فیصلہ کیا جائے گا۔“
11 احادیثِ نبویﷺ کی روشنی میں وعیدیں — کفر کے برابر عمل — آپ ﷺ کا فرمان ہے: ترجمہ: ”مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس سے لڑائی/قتل کرنا کفر ہے۔“

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.