بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 5: سبق 5: سورہ النساء — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 22 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

یا یھا الذین امنوا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآءَ لِلہِ وَ لَوْ عَلٰۤی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ ۚ اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللہُ اَوْلٰی بِہِمَا ۪ فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰۤی اَنْ تَعْدِلُوْا ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فِانَّ اللہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا

آیت میں اہل ایمان کو کیا ہدایت کی گئی؟

ترجمہ

”اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، خواہ وہ خود تمہارے اپنے یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اگر کوئی امیر ہو یا غریب، اللہ دونوں کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ پس تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ انصاف سے ہٹ جاؤ، اور اگر تم زبان مروڑو گے یا (حق سے) پہلو تہی کرو گے تو یقیناً اللہ تمہارے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔“

اہلِ ایمان کو ہدایت:

1 ہمیشہ انصاف پر مضبوطی سے قائم رہیں۔
2 صرف اللہ کی رضا کے لیے سچی گواہی دیں۔
3 گواہی میں اپنا، والدین یا رشتہ داروں کا نقصان بھی ہو، تب بھی سچ بولیں۔
4 کسی کے امیر یا غریب ہونے کا لحاظ کر کے فیصلہ نہ بدلیں۔
5 خواہشِ نفس کی پیروی — سے بچیں تاکہ انصاف کا دامن نہ چھوٹے۔
2 مختصر جوابات

یاَیُّہَا الَّذِیْنَ امنوا ۔۔۔۔۔ من قبل

آیت میں کن چیزوں پر ایمان لانے کا حکم ہے؟

جواب۔ کن چیزوں پر ایمان لانے کا حکم ہے؟

1 اللہ تعالیٰ — پر۔
2 اللہ کے رسول (حضرت محمد ﷺ پر۔
3 قرآن مجید — پر (جو رسول ﷺ پر نازل ہوا)۔
4 پچھلی تمام الہامی کتابوں — پر (جو پہلے نازل کی گئیں)۔
3 مختصر جوابات

وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِاللہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢ بعیدا

آیت کی رو سے کون دور کی گمراہی میں جا پڑا؟۔

ترجمہ

اور جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخرت کے دن کا انکار کرے، تو وہ یقیناً بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔

جو شخص درج ذیل پانچ چیزوں کا انکار (کفر) کرے، وہ دور کی گمراہی میں بھٹک جاتا ہے:

کون دور کی گمراہی میں جا پڑتا ہے؟

1 اللہ تعالیٰ — کا انکار۔
2 اللہ کے فرشتوں کا انکار۔
3 اللہ کی کتابوں کا انکار۔
4 اللہ کے رسولوں کا انکار۔
5 آخرت کے دن — کا انکار۔
4 مختصر جوابات

اِنَّ اللہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْکٰفِرِیْنَ فِیْ جَہَنَّمَ جَمِیْعًا

سورہ النساء آیت 140 ۔ آیت کی رو سے جہنم میں جمع ہونے والے لوگ کون ہیں

ترجمہ

بیشک اللہ منافقوں اور کافروں، ان سب کو جہنم میں جمع کرنے والا

اللہ کن کو جہنم میں جمع کرے گا؟

1 تمام منافقوں کو۔ وہ لوگ جو بظاہر ایمان کے آتے ہیں لیکن دل سے اسلام کو قبول نہیں کرتے ۔ دو رخ والے، مسلمانوں کے سامنے مسلمان اور کافروں کے سامنے ان کے ساتھی۔
2 تمام کافروں کو۔ کافر کا معنی ہے انکار کرنے والا ۔ اللہ کی وحدانیت، رسولوں کی رسالت، آخرت کے وجود، اللہ کی کتابوں کے منکر ۔
5 مختصر جوابات

مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ ۚ وَكَانُ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا ۔

آیت کے مطابق عذاب سے بچانے والی کن بنیادی خوبیوں ذکر ہے؟

ترجمہ

اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزاری اختیار کرو اور ایمان لے آؤ، اور اللہ تو بڑا قدر دان (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

آیت کے مطابق عذاب سے بچانے والی بنیادی خوبیاں اور اہم نکتہ

1 آیت کے مطابق عذاب سے بچانے والی بنیادی خوبیاں — شکر گزاری ( الشُّكْر ) — اس سے مراد صرف زبان سے شکر ادا کرنا ہی نہیں بلکہ عملی شکر ہے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا اعتراف کرنا اور انہیں اس کی نافرمانی کے بجائے اس کی اطاعت میں استعمال کرنا۔
2 آیت کے مطابق عذاب سے بچانے والی بنیادی خوبیاں — گناہوں اور برائیوں سے دور رہ کر اعمالِ صالحہ (نیک کاموں) کا اہتمام کرنا۔
3 آیت کے مطابق عذاب سے بچانے والی بنیادی خوبیاں — ایمان ( الإِيمَان ) — اللہ تعالیٰ کی توحید اور ربوبیت پر سچے دل سے یقین رکھنا۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت اور آپ کی لائی ہوئی ہدایات کی تصدیق کرنا۔
4 آیت کے مطابق عذاب سے بچانے والی بنیادی خوبیاں — نفاق (منافقت) اور شرک سے پاک خالص عقیدہ اپنانا۔
5 اہم نکتہ — اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بلاوجہ یا اپنے کسی ذاتی فائدے کے لیے عذاب نہیں دیتا۔ عذاب بندے کے اپنے اعمال (کفرانِ نعمت اور کفر و نفاق) کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اگر بندہ مومن اور شاکر بن جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کی بھرپور قدر فرماتا ہے۔
6 مختصر جوابات

یَسْـَٔلُکَ اَہْلُ الْکِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤی اَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللہَ جَہْرَۃً

اہلِ کتاب کی فرمائش کیا تھی؟

ترجمہ

اہلِ کتاب آپ سے فرمائش کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے لکھی لکھائی کتاب اتار لائیں۔ پس انہوں نے تو موسیٰ سے اس سے بھی بڑی فرمائش کی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اللہ کو آمنے سامنے (علانیہ) دکھاؤ۔

اہلِ کتاب کی فرمائش:

جواب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرمائش کی کہ آپ آسمان سے ایک لکھی ہوئی کتاب براہِ راست ان پر نازل کروائیں۔ (آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے اسلاف نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی بڑی فرمائش کی تھی کہ ہمیں اللہ کو علانیہ دکھاؤ)۔
7 مختصر جوابات

وَ کَلَّمَ اللہُ مُوْسٰی تکلیما

کے مطابق موسیٰ کو کس خاص شرف سے نوازا گیا؟

ترجمہ

”اور اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے خاص طور پر کلام کیا۔“

جواب۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خاص شرف

جواب اس آیت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ”کلیم اللہ“ (اللہ سے بلاواسطہ گفتگو کرنے والے) کے خاص شرف سے نوازا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے کسی واسطے یا فرشتے کے بغیر ان سے براہِ راست کلام فرمایا۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

ان الذین امنوا ۔۔۔۔۔ سبیلا

آیت 137 — ترجمہ و مفہوم

ترجمہ

بے شک جو لوگ ایمان لائے، پھر کافر ہو گئے، پھر کفر میں اور بڑھ گئے، اللہ ہرگز انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں سیدھا راستہ دکھائے گا۔“

مفہوم

جواب اس آیت میں منافقین کی قلبی حالت اور ان کے تذبذب کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زبان سے ایمان لاتے ہیں لیکن دل سے کافر رہتے ہیں، یا دنیاوی فائدے کے لیے بار بار اپنا پینترا بدلتے ہیں۔ جو شخص مسلسل حق و باطل کے درمیان کھلواڑ کرتا رہے اور کفر پر ہی قائم رہ کر اس میں پختہ ہو جائے، تو اس کی توبہ کی توفیق چھن جاتی ہے اور وہ مغفرت و ہدایت کے راستے سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
9 تفصیلی جوابات

اَلَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ قَالُوْۤا اَلَمْ نسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠

اس آیت میں منافقین کا کیا طرزِ عمل بیان ہوا؟

ترجمہ

”وہ جو تمہارے معاملے میں انتظار کرتے ہیں، پھر اگر اللہ کی طرف سے تمہیں فتح ملے تو کہتے ہیں: کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کا کوئی حصہ نکل آئے تو (ان سے) کہتے ہیں: کیا ہم تم پر غالب نہ آ چکے تھے اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے نہ بچایا تھا؟ پس اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا، اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کا کوئی راستہ ہرگز نہ دے گا۔“

آیت کے مطابق منافقین کا رویہ خالص مفاد پرستی پر مبنی ہوتا ہے:

فتح اور شکست کے مواقع پر منافقین کا طرزِ عمل

1 مسلمانوں کی فتح پر — وہ مسلمانوں کے پاس آ کر جتاتے ہیں کہ ہم بھی تمہارے ساتھ (کلمہ گو) تھے، تاکہ مالِ غنیمت اور فتح کے فوائد میں حصہ دار بن سکیں۔
2 کافروں کی کامیابی پر — وہ پسِ پردہ کافروں کے پاس جا کر احسان جتاتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کی جاسوسی کر کے یا ان کا ساتھ نہ دے کر تمہیں شکست سے بچایا، تاکہ وہاں سے بھی اپنا مفاد حاصل کر سکیں۔
10 تفصیلی جوابات

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنً۔

سورہ النساء — آیت 144 ترجمہ و تشریح کریں

ترجمہ

”اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست (اور رازدار) نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے خلاف اللہ کی صریح حجت قائم کر لو؟“

تشریح

جواب اس آیت میں مسلمانوں کو سختی سے منع کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دینی بھائیوں کو چھوڑ کر ایسے کافروں اور منافقوں سے گہری دوستیاں، اتحاد اور رازدارانہ تعلقات قائم نہ کریں جو اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوں۔ کافروں کو دوست بنانا منافقت کی نشانی ہے۔ اگر مسلمان ایسا کریں گے تو یہ اللہ کے حضور ان کے خلاف ایک واضح ثبوت (حجت) بن جائے گا کہ ان کی وفاداریاں اسلام کے ساتھ نہیں ہیں، جس پر وہ اللہ کے عذاب کے مستحق ٹھہریں گے
11 تفصیلی جوابات

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا

سورہ النساء — آیت 146 ۔ میں کن لوگوں کو اہلِ ایمان کے ساتھی قرار دیا گیا؟

ترجمہ

”سوائے ان کے جنہوں نے توبہ کی اور (اپنے عمل کی) اصلاح کر لی اور اللہ (کے دین) کو مضبوطی سے تھام لیا اور اپنے دین کو خالص اللہ کے لیے کر لیا، تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں، اور اللہ عنقریب مومنوں کو بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔“

پچھلی آیت میں منافقین کا ٹھکانہ جہنم کا سب سے نچلا طبقہ بتایا گیا، لیکن اس آیت میں ان چار صفات کے حامل افراد کو استثنیٰ دے کر اہلِ ایمان کا سچا ساتھی قرار دیا گیا ہے:

آیت کے مطابق کن لوگوں کو اہل ایمان کا ساتھی قرار دیا گیا؟

1 توبہ کرنے والے — جو اپنی منافقت اور گناہوں سے سچے دل سے باز آ جائیں۔
2 اصلاح کرنے والے — جو اپنے ظاہر و باطن اور اعمال کو درست کر لیں۔
3 اللہ کو مضبوطی سے تھامنے والے — جو دنیاوی سہاروں کو چھوڑ کر صرف اللہ کی ذات اور کتاب پر بھروسہ کریں۔
4 دین کو خالص کرنے والے — جو دکھاوے اور منافقت کو چھوڑ کر اپنی عبادت اور وفاداری صرف اللہ کے لیے مخصوص کر لیں
12 تفصیلی جوابات

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا

سورہ النساء — آیت 149 ۔ آیت میں کیا تعلیم دی گئی؟

ترجمہ

”اگر تم کوئی بھلائی ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ یا کسی برائی سے درگزر کرو، تو بے شک اللہ بڑا معاف کرنے والا، بڑی قدرت والا ہے۔“

اس آیت میں لوگوں کو مخاطب کر کے اخلاقِ حسنہ کی عظیم تعلیم دی گئی ہے:

مفہوم اور دی گئی تعلیم

1 تعلیمِ عفو و درگزر — اگرچہ مظلوم کو بدلہ لینے کا حق حاصل ہے، لیکن اللہ تعالیٰ ابھار رہا ہے کہ اگر تم کسی کی پہنچائی ہوئی تکلیف یا برائی کو معاف کر دو گے تو یہ سب سے اعلیٰ صفت ہے۔
2 اللہ کی صفت سے مطابقت — انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کا سب سے طاقتور حکمران ہونے کے باوجود انسانوں کی خطاؤں کو معاف فرماتا ہے۔ لہٰذا، جب تم صاحبِ قدرت ہو کر دوسروں کو معاف کرو گے، تو اللہ تمہیں بھی معاف فرمائے گا۔
3 خیر کا پھیلاؤ — نیکی چاہے ظاہر کر کے کی جائے (تاکہ دوسرے ترغیب حاصل کریں) یا چھپا کر (اخلاص کے لیے)، دونوں صورتیں پسندیدہ ہیں، لیکن برائی کا جواب درگزر سے دینا اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔
13 تفصیلی جوابات

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمُ ٱلرَّسُولُ بِالۡحَقِّ مِن رَّبِّكُمۡ فَـَٔامِنُواْ خَيۡرٗا لَّكُمۡۚ وَإِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا

سورہ النساء آیت 170: عربی متن، تعلیم

ترجمہ

”اے لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ رسول تشریف لائے ہیں، پس تم (ان پر) اپنی بہتری کے لیے ایمان لے آؤ اور اگر تم کفر کرو گے تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔“

عربی متن: — آیت میں دی گئی تعلیم:

1 عام دعوتِ ایمان — اس آیت میں پوری انسانیت ( ”یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ“ ) کو مخاطب کر کے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔
2 رسالت کا برحق ہونا — یہ واضح کیا گیا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور جو دین وہ لائے ہیں وہ سراسر حق ہے۔
3 ایمان کا فائدہ انسان کے لیے — ایمان لانے میں خود انسان کا اپنا ہی فائدہ اور بھلائی ہے۔
4 اللہ کی بے نیازی — اگر کوئی کفر اختیار کرتا ہے تو اس سے اللہ کی بادشاہت یا خدائی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

سورہ النساء میں مذکور اولو العزم پیغمبر، نام اور القاب

سورہ النساء کی آیت 163 میں اہم اولو العزم انبیاء کرام کا تذکرہ ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ ان عظیم پیغمبروں کے نام اور القاب درج ذیل ہیں:

1 حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ — لقب: خاتم الانبیاء / حبیب اللہ
2 حضرت ابراہیم علیہ السلام — لقب: خلیل اللہ (سورہ النساء، آیت 125 میں خاص طور پر ذکر ہے کہ اللہ نے ابراہیم کو اپنا گہرا دوست بنایا)۔
3 حضرت موسیٰ علیہ السلام — لقب: کلیم اللہ (سورہ النساء، آیت 164 میں صراحت ہے کہ اللہ نے موسیٰ سے براہِ راست کلام فرمایا)۔
4 حضرت عیسیٰ علیہ السلام — لقب: مسیح / روح اللہ / کلمۃ اللہ۔
5 حضرت نوح علیہ السلام — لقب: شیخ الانبیاء / نجی اللہ (آیت 163 میں وحی کے سلسلے کا آغاز انہی کے نام سے کیا گیا ہے)۔
15 سرگرمیاں

سچی گواہی کی اہمیت (قرآن و حدیث کی روشنی میں)

اسلام میں سچی گواہی دینا اور حق کو نہ چھپانا معاشرتی انصاف کے لیے انتہائی ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم کی روشنی میں: اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:

1 قرآنِ کریم کی روشنی میں: — سورہ النساء میں ہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بن جاؤ، خواہ وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف...“ (سورہ النساء: 135)
2 قرآنِ کریم کی روشنی میں: — دوسری جگہ ارشاد ہوا: ”اور گواہی کو نہ چھپاؤ، اور جو اسے چھپاتا ہے، تو یقیناً اس کا دل گناہ گار ہے“ (سورہ البقرہ: 283)۔
3 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں: — رسول اللہ ﷺ نے جھوٹی گواہی کو اکبر الکبائر (سب سے بڑے گناہوں) میں شمار کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں؟ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا۔“ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر سیدھے بیٹھ گئے اور بار بار فرمانے لگے: ”سنو! اور جھوٹی بات کہنا اور جھوٹی گواہی دینا۔“ (صحیح بخاری)۔
4 احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں: — ایک اور حدیث کے مطابق، سچی گواہی دینے والا قیامت کے دن سرخرو ہوگا، جبکہ جھوٹی گواہی دینے والے پر جنت حرام کر دی گئی ہے۔
16 سرگرمیاں

عیسائیوں کے ”کلمۃ اللہ“ اور ”روح اللہ“ سے غلط استدلال کی وضاحت اور تردید

عیسائی حضرات قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ ”کلمۃ اللہ“ (اللہ کا کلمہ) اور ”روح اللہ“ (اللہ کی روح) سے یہ غلط استدلال قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی ذات کا حصہ یا خدا ہیں، جس سے وہ اپنے عقیدہِ تثلیث (خدا، بیٹا اور روح القدس) کو درست ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

قرآنی تردید اور حقیقی وضاحت:

1 سورہ النساء کی آیت 171 میں ہی اس مغالطے کا ببانگِ دہل رد کیا گیا ہے:
2 کلمۃ اللہ کی حقیقت — حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ”کلمہ“ اس لیے کہا گیا کیونکہ وہ عام انسانی طریقہِ تولید (باپ کے نطفے) کے بغیر، اللہ کے محض ایک حکم یعنی لفظ ”کُن“ (ہو جا) سے پیدا ہوئے تھے۔ وہ اللہ کا حکم یا کلام مجسم تھے، نہ کہ اللہ کی ذات کا کوئی الٰہی حصہ۔
3 روح اللہ کی حقیقت — ”روحٌ مِّنْہُ“ (اس کی طرف سے ایک روح) میں ”مِن“ (سے) تبعیضیہ نہیں بلکہ بیانیہ یا ابتدائیہ ہے۔ یعنی وہ ایک ایسی روح ہیں جسے اللہ نے خود تخلیق کر کے مریم علیہا السلام میں پھونکا تھا۔ یہ نسبتِ تشریفی ہے (جیسے کعبہ کو ’بیت اللہ‘ یعنی اللہ کا گھر کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ خدا اس میں رہتا ہے)۔
4 صریح تردید — اسی آیت میں آگے صاف فرما دیا گیا: ”مسیح عیسیٰ بن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کے رسول ہیں... پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور یہ نہ کہو کہ (خدا) تین ہیں، اس سے باز آ جاؤ تمہارے لیے بہتر ہوگا، اللہ تو معبودِ واحد ہی ہے“۔ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، خدا یا خدا کے بیٹے نہیں۔
17 سرگرمیاں

کلالہ کی تعریف اور وراثتی حصوں کی تفصیلات

شرعی اصطلاح میں کلالہ اس مرنے والے شخص کو کہتے ہیں جس کی نہ تو کوئی اولاد (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی وغیرہ) ہو اور نہ ہی اس کے والدین (باپ، دادا وغیرہ) زندہ ہوں۔ یعنی ایسا شخص جو اوپر اور نیچے دونوں رشتوں سے محروم ہو۔ سورہ النساء کی آخری آیت (آیت 176) اور ابتدائی آیت (آیت 12) میں کلالہ کی وراثت کا قانون تفصیلاً بیان ہوا ہے۔ کلالہ کے بھائی بہنوں کی دو اقسام ہیں جن کے حصے الگ الگ ہیں:

1 1. مادری بھائی بہن (ماں شریک بھائی اور بہن) — [سورہ النساء: آیت 12] — اگر مرنے والے کلالہ کے صرف ماں شریک (اخیافی) بھائی بہن ہوں، تو ان کے حصے یہ ہوں گے:
2 1. مادری بھائی بہن (ماں شریک بھائی اور بہن) — [سورہ النساء: آیت 12] — ایک بھائی یا ایک بہن — اگر صرف ایک بھائی یا ایک بہن ہو، تو اسے ترکے کا 1/6 (چھٹا حصہ) ملے گا۔
3 1. مادری بھائی بہن (ماں شریک بھائی اور بہن) — [سورہ النساء: آیت 12] — ایک سے زیادہ ہونے کی صورت میں — اگر وہ دو یا دو سے زیادہ ہوں، تو وہ سب 1/3 (تہائی حصے) میں برابر کے شریک ہوں گے (اس میں مرد اور عورت کا حصہ برابر ہوتا ہے)۔
4 2. حقیقی یا علاتی بھائی بہن (سگے یا باپ شریک) — [سورہ النساء: آیت 176] — اگر کلالہ کے سگے (عینی) یا باپ شریک (علاتی) بھائی بہن ہوں، تو تقسیم اس طرح ہوگی:
5 2. حقیقی یا علاتی بھائی بہن (سگے یا باپ شریک) — [سورہ النساء: آیت 176] — صرف ایک بہن ہو — اگر مرنے والے کی ایک ہی بہن ہو، تو اسے کل مال کا 1/2 (نصف/آدھا حصہ) ملے گا۔
6 2. حقیقی یا علاتی بھائی بہن (سگے یا باپ شریک) — [سورہ النساء: آیت 176] — صرف ایک بھائی ہو — اگر مرنے والی عورت کلالہ ہو اور اس کا صرف ایک بھائی ہو، تو وہ پورے ترکے کا وارث (عصبہ) بنے گا۔
7 2. حقیقی یا علاتی بھائی بہن (سگے یا باپ شریک) — [سورہ النساء: آیت 176] — دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں — اگر دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں، تو انہیں ترکے کا 2/3 (دو تہائی حصہ) ملے گا جو ان میں برابر تقسیم ہوگا۔
8 2. حقیقی یا علاتی بھائی بہن (سگے یا باپ شریک) — [سورہ النساء: آیت 176] — بھائی اور بہنیں مخلوط ہوں — اگر بھائی اور بہنیں دونوں موجود ہوں، تو ترکہ ”لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ“ (مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر) کے قانون کے تحت تقسیم ہوگا، یعنی بھائی کو بہن سے دگنا حصہ ملے گا۔
18 سرگرمیاں

غلو کا معنی و مفہوم

1 لغوی معنی — عربی زبان میں الغلو کا مطلب کسی چیز کا اپنی حد سے گزر جانا ہے۔
2 اصطلاحی مفہوم — مذہب یا زندگی کے کسی بھی معاملے میں مطلوبہ اصولوں اور اعتدال کو چھوڑ کر شدت پسندی کی طرف جانا غلو کہلاتا ہے
3 مذہب اور عقائد میں غلو: — حد سے بڑھنا — کسی بزرگ یا ہستی کی تعریف اور ان کے مقام میں جائز حدود سے اتنا آگے نکل جانا کہ انہیں عام انسان کی بجائے خدا یا مافوق الفطرت مان لینا۔
4 مذہب اور عقائد میں غلو: — افراط و تفریط — غلو ہمیشہ سیدھے راستے (اعتدال) سے ہٹ کر ہوتا ہے۔ یہ دو طرح کا ہوتا ہے: حد سے زیادہ محبت میں اندھا ہو جانا۔
5 مذہب اور عقائد میں غلو: — حد سے زیادہ نفرت میں اتر آنا۔
6 آسان مثالیں: — پانی کا ابلنا — اگر ایک برتن میں پانی گرم کریں تو وہ ایک معتدل درجہ حرارت پر ٹھیک رہتا ہے۔ لیکن اگر آپ نیچے آگ بہت زیادہ بڑھا دیں کہ پانی ابل کر باہر گر جائے، تو یہ حد سے بڑھنا (غلو) ہے۔
7 آسان مثالیں: — تعریف — کسی استاد کی عزت کرنا اچھی بات ہے، لیکن انہیں غلطی سے پاک اور فرشتے کا درجہ دے دینا غلو کی مثال ہے
8 مذہبی تعلیمات میں ممانعت: — تمام مذاہب خصوصاً اسلام میں غلو کی سخت ممانعت کی گئی ہے کیونکہ یہ معاشرے میں بگاڑ اور تباہی کا باعث بنتا ہے۔ اس سے بچنے کا بہترین طریقہ میانہ روی (اعتدال) کو اپنانا ہے۔

شان نزول

19 شان نزول

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ... وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ... الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ...

آیات 2 تا 34

1 آیت نمبر 2: وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ... (اور یتیموں کو ان کے مال دے دو) — شانِ نزول: یہ آیت قبیلہ غطفان کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کے پاس اس کے ایک یتیم بھتیجے کا بہت زیادہ مال تھا۔ جب وہ بھتیجا بالغ ہوا تو اس نے اپنے چچا سے اپنا مال مانگا، لیکن چچا نے دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جسے سن کر چچا خوف خدا سے تائب ہوا اور کہنے لگا: ”میں نے بڑے گناہ سے اللہ کی پناہ مانگی“ اور اپنے بھتیجے کا پورا مال اس کے حوالے کر دیا۔
2 آیت نمبر 3: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ... (اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کر سکو گے...) — شانِ نزول: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص کسی یتیم بچی کا سرپرست (ولی) بن جاتا، اور وہ لڑکی مالدار اور خوبصورت ہوتی تو وہ ولی مہرِ مثل سے کم مہر دے کر اس سے خود نکاح کر لیتا۔ پھر نہ تو اس کے حقوق صحیح سے ادا کرتا اور نہ ہی اسے کسی دوسرے سے نکاح کرنے دیتا۔ اس ظلم کو روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف کرنے سے ڈرتے ہو، تو انکے علاوہ دوسری خواتین سے اپنی پسند کے مطابق دو، تین یا چار نکاح کر لو، بشرطیکہ تم ان میں عدل قائم رکھ سکو۔
3 آیت نمبر 4: وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً... (اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو) — شانِ نزول: جاہلیت کے دور میں جب کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح کرتا، تو اس کا مہر خود رکھ لیتا اور عورت کو کچھ نہیں دیتا تھا۔ بعض اوقات مہر کے بدلے مہر کا تبادلہ (نکاحِ شغار یا وٹہ سٹہ) کر لیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے واضح فرمایا کہ مہر عورت کا خالص حق ہے اور شوہر پر واجب ہے کہ وہ خوش دلی سے اسے ادا کرے
4 آیت نمبر 7: لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ... (مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں...) — شانِ نزول: انصار کے ایک صحابی حضرت اوس بن ثابت رضی اللہ عنہ انتقال کر گئے۔ انہوں نے سوگواران میں ایک بیوی اور تین چھوٹی بیٹیاں چھوڑیں۔ جاہلیت کے رواج کے مطابق ان کے چچا زاد بھائیوں (خالد اور ارفطہ) نے پورے مال پر قبضہ کر لیا اور کہا کہ ”وراثت صرف ان کا حق ہے جو تلوار چلاتے ہیں اور دشمن سے لڑتے ہیں، عورتیں اور بچے وارث نہیں ہو سکتے“۔ اوس بن ثابت کی الہِیہ (بیوی) رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور فریاد کی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے اس ظالمانہ قانون کو ختم کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی اور عورتوں و بچوں کا حصہ مقرر کیا۔
5 آیت نمبر 11 اور 12: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ... (اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے...) — شانِ نزول — یہ آیاتِ میراث کہلاتی ہیں۔ ان کا بنیادی سببِ نزول حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے، جو جنگِ احد میں شہید ہو گئے تھے۔ ان کے بھائی نے ان کے پورے مال پر قبضہ کر لیا اور ان کی دو بیٹیوں اور بیوہ کو کچھ نہ دیا۔ سعد بن ربیع کی بیوہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: ”یا رسول اللہ! یہ سعد کی بیٹیاں ہیں، ان کے چچا نے سارا مال لے لیا ہے اور مال کے بغیر ان کا نکاح بھی نہیں ہو سکے گا“۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس کا فیصلہ فرمائے گا“۔ چنانچہ یہ مفصل آیات نازل ہوئیں، جس کے بعد آپ ﷺ نے چچا کو بلا کر حکم دیا کہ سعد کے ترکے میں سے دو تہائی (2/3) بیٹیوں کو، اٹھواں حصہ (1/8) بیوہ کو دو، اور جو باقی بچے وہ تمھارا ہے۔
6 آیت نمبر 11 اور 12: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ... (اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے...) — دوسری روایت۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ حضرت جابر نے پوچھا کہ وہ اپنا مال اپنی بہنوں میں کیسے تقسیم کریں؟ اس پر بھی یہ آیات نازل ہوئیں
7 آیت نمبر 19: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا... (اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو...) — شانِ نزول: جاہلیت میں دستور تھا کہ جب کوئی شخص فوت ہو جاتا، تو اس کے قریبی رشتہ دار (جیسے بیٹے یا بھائی) متوفی کی بیوہ کے وارث بن جاتے تھے۔ وہ چاہتے تو بغیر نئے مہر کے خود اس سے نکاح کر لیتے، یا کسی دوسرے سے نکاح کروا کر مہر خود ہڑپ کر جاتے، یا اسے معطل چھوڑ دیتے تاکہ وہ تنگ آ کر اپنے مہر کا مال واپس کر دے۔ جب مدینہ کے ایک صحابی ابو قیس بن الاسلت فوت ہوئے، تو ان کے بیٹے نے اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ یہی سلوک کرنا چاہا۔ اس خاتون نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی، جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر عورتوں کو اس قید اور زبردستی کی وراثت سے نجات دلائی۔
8 آیت نمبر 22: وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ... (اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں، ان سے نکاح نہ کرو...) — شانِ نزول: عرب جاہلیت میں باپ کے انتقال کے بعد بیٹا اپنی سوتیلی ماؤں سے نکاح کر لیا کرتا تھا، جسے ”نکاحِ مقت“ (ناپسندیدہ نکاح) کہا جاتا تھا۔ جب مدینہ میں بعض لوگوں نے اسلام لانے کے بعد بھی اس قبیح رسم پر عمل کرنا چاہا، تو یہ آیت نازل ہوئی اور باپ دادا کی منکوحہ خواتین کو بیٹوں پر ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔
9 آیت نمبر 24: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ... (اور شوہروں والی عورتیں بھی تم پر حرام ہیں، سوائے ان کے جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں...) — شانِ نزول: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت غزوہ حنین کے موقع پر نازل ہوئی۔ مسلمانوں کو مالِ غنیمت میں کچھ ایسی جنگی قیدی عورتیں ملیں جو شادی شدہ تھیں اور ان کے کافر شوہر دار الحرب (مکہ/کفار کے علاقے) میں موجود تھے۔ صحابہ کرامؓ ان خواتین سے ازدواجی تعلق قائم کرنے میں ہچکچا رہے تھے کیونکہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھیں۔ صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا، تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں واضح کیا گیا کہ جنگ کے نتیجے میں قیدی بن کر آنے والی کافر خواتین کا پچھلا نکاح خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اور استبرائے رحم (ایک حیض گزرنے) کے بعد وہ مسلمانوں کے لیے حلال ہو جاتی ہیں
10 آیت 29 (اموالِ باطل اور رضامندی کی تجارت) — (اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ...)
11 آیت 29 (اموالِ باطل اور رضامندی کی تجارت) — شانِ نزول: جب قرآن مجید میں سود، جوا اور دیگر حرام طریقوں سے مال کمانے کی سخت ممانعت آئی، تو صحابہ کرامؓ سخت پریشان ہو گئے۔ وہ ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھانے یا تجارت میں معمولی فائدے کو بھی ”باطل“ (ناحق) سمجھنے لگے اور احتیاط کے مارے تنگی میں آ گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں واضح کیا گیا کہ باہمی رضامندی سے کی جانے والی جائز تجارت اور کاروبار اس ممنوعہ حد سے باہر ہے اور حلال ہے۔
12 آیت 32 (فضیلت کی تمنا کی ممانعت) — (اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے...)
13 آیت 32 (فضیلت کی تمنا کی ممانعت) — شانِ نزول: روایات کے مطابق حضرت ام سلمہؓ (اور بعض دیگر خواتین) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ”یا رسول اللہ! مرد جہاد میں حصہ لیتے ہیں اور ہم نہیں لے پاتیں، اور وراثت میں بھی ہمیں مردوں سے آدھا حصہ ملتا ہے“۔ ان کے دل میں یہ خواہش ابھری کہ کاش وہ بھی مرد ہوتیں تاکہ جہاد اور وراثت میں برابر کا حصہ پاتیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس میں مردوں اور عورتوں کو اپنے اپنے دائرہ کار اور حقوق پر راضی رہنے اور ایک دوسرے کے مخصوص فضائل پر حسد یا تمنا نہ کرنے کا حکم دیا گیا۔
14 آیت 34 (مردوں کی قوامیت اور ایک واقعہ) — (مرد عورتوں پر حاکم/نگران ہیں...)
جواب شانِ نزول: انصاری صحابی حضرت سعد بن ربیعؓ کی اپنی زوجہ حبیبہ بنت زیدؓ سے کسی بات پر ناچاقی ہوئی۔ غصے میں سعدؓ نے انہیں ایک تھپڑ مار دیا۔ حبیبہؓ کے والد انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شکایت کی۔ آپ ﷺ نے ابتداً قصاص (بدلے) کا فیصلہ سنانا چاہا، لیکن اسی وقت یہ آیت نازل ہو گئی جس میں مردوں کو گھر کا نگران (قوام) مقرر کیا گیا اور خاندان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ان کے مرتبے کو واضح کیا گیا۔ آپ ﷺ نے اپنا فیصلہ روک دیا اور فرمایا: ”ہم نے ایک چیز کا ارادہ کیا تھا، لیکن اللہ نے کچھ اور ارادہ فرمایا، اور اللہ کا ارادہ ہی بہتر ہے“۔
20 شان نزول

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ... وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ...

آیات 59 تا 69

(اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے حکومت والے ہیں...)

1 آیت 59 (اللہ، رسول اور اولوالامر کی اطاعت) — شانِ نزول: حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیسؓ کے بارے میں نازل ہوئی، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک مہم (سرية) کا امیر بنا کر بھیجا تھا۔ سفر کے دوران ان کا اپنے لشکریوں سے کسی بات پر اختلاف ہوا، جس پر انہوں نے غصے میں آ کر لشکریوں کو آگ جلانے اور اس میں کودنے کا حکم دیا۔ صحابہؓ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور امیر کی اطاعت کے فرق کو محسوس کیا اور آگ میں نہیں کودے۔ واپسی پر آپ ﷺ نے صحابہ کے اس عمل کی تائید کی اور واضح کیا کہ امیر کی اطاعت صرف معروف (جائز کاموں) میں ہے۔ اسی پس منظر میں یہ آیت نازل ہوئی جس میں اطاعت کا اصول طے کیا گیا۔
2 آیات 60 تا 65 (اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جانے کی ممانعت) — آیات کا خلاصہ: ان آیات میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اپنے فیصلے اللہ اور اس کے رسول کے بجائے غیر اللہ (طاغوت) کے پاس لے جانا چاہتے ہیں۔
3 آیات 60 تا 65 (اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جانے کی ممانعت) — شانِ نزول
4 آیات 60 تا 65 (اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جانے کی ممانعت) — یہودی اور منافق کا واقعہ — ایک منافق (بشر نامی) اور ایک یہودی کے درمیان زمین یا کسی مال کا جھگڑا تھا۔ یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلہ لے جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آپ ﷺ حق اور انصاف پر مبنی فیصلہ کرتے ہیں اور رشوت نہیں لیتے۔ اس کے برعکس، منافق چاہتا تھا کہ فیصلہ کعب بن اشرف (یہودیوں کے سردار) کے پاس جائے، کیونکہ وہاں رشوت دے کر فیصلہ اپنے حق میں کرایا جا سکتا تھا۔ آخر کار وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ منافق اس پر راضی نہ ہوا اور زبردستی یہودی کو حضرت عمر فاروقؓ کے پاس لے گیا۔ جب حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے بعد یہ منافق اسے تسلیم نہیں کر رہا، تو انہوں نے تلوار نکال کر اس منافق کا سر قلم کر دیا کہ ”جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی نہ ہو، اس کا فیصلہ میری تلوار کرتی ہے“۔
5 آیات 60 تا 65 (اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جانے کی ممانعت) — زبیرؓ اور انصاری کا واقعہ (آیت 65) — حضرت زبیر بن عوامؓ اور ایک انصاری صحابی کے درمیان مدینہ کی پتھریلی زمین (حَرّہ) کے پانی کے بہاؤ پر جھگڑا ہوا جو دونوں کے باغوں کو سیراب کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! تم پہلے اپنے باغ کو سیراب کر لو، پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو“۔ اس پر انصاری نے (غصے یا نادانی میں) کہہ دیا: ”یا رسول اللہ! آپ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں؟“۔ اس بات پر رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور آپ ﷺ نے قانون کے مطابق زبیرؓ کو ان کا پورا حق لینے کا حکم دیا۔ اس پر آیت 65 نازل ہوئی: ”فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ...“ (پس تمہارے رب کی قسم! یہ تب تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ مان لیں...)۔
6 آیت 69 (انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت) — (اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے، تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی انبیاء...)
جواب شانِ نزول: رسول اللہ ﷺ کے ایک غلام (یا صحابی جن کا نام ثوبانؓ یا زبیرؓ بتایا جاتا ہے) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کا رنگ بدلا ہوا تھا اور چہرے پر غم کے آثار تھے۔ آپ ﷺ نے سبب پوچھا تو انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! دنیا میں تو ہم آپ کی زیارت کر کے دل کو تسلی دے لیتے ہیں، لیکن مجھے فکر یہ ہے کہ آخرت میں آپ تو انبیاء کے اعلیٰ مقامات پر ہوں گے اور اگر ہم جنت میں چلے بھی گئے تو اپنے نیچی درجے کی وجہ سے آپ کی زیارت سے محروم رہیں گے، اور اگر خدانخواستہ دوزخ میں گئے تو پھر تو کبھی دیکھ ہی نہ سکیں گے“۔ آپ ﷺ خاموش رہے اور ان کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو اللہ اور رسول کی کامل اطاعت کرے گا، وہ آخرت میں انبیاء اور صالحین کی رفاقت ہی میں رہے گا۔
21 شان نزول

آیات 71 تا 100

1 آیت 71 تا 74 (جہاد کی تیاری کا حکم) — شانِ نزول: یہ آیات غزوہ احد کی شکست کے بعد نازل ہوئیں۔ احد کے بعد مدینہ کے اطراف کے کافر قبائل مسلمانوں پر حملے کی تیاریاں کر رہے تھے اور منافقین مسلمانوں کو مایوس کر رہے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہر وقت چوکنا رہنے اور جنگی حکمتِ عملی اپنانے کا حکم دیا
2 آیت 88 (منافقین کے بارے میں صحابہ کا اختلاف) — روایتِ احد — حضرت زید بن ثابتؓ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ احد کے لیے نکلے تو کچھ منافقین راستے سے واپس لوٹ گئے۔ مدینہ پہنچ کر صحابہ کے دو گروہ بن گئے؛ ایک کا کہنا تھا کہ انہیں قتل کر دینا چاہیے، جب کہ دوسرے کا کہنا تھا کہ وہ کلمہ گو ہیں، اس لیے انہیں قتل نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیت اتری۔
3 آیت 88 (منافقین کے بارے میں صحابہ کا اختلاف) — روایتِ مکہ — حضرت ابن عباسؓ کے مطابق یہ مکہ کے ان لوگوں کے بارے میں اتری جو بظاہر مسلمان ہوئے مگر مکہ میں کافروں کی مدد کرتے تھے۔ وہ کسی کام سے مکہ سے باہر نکلے تو مسلمانوں میں ان کے بارے میں اختلاف ہوا، جس پر اللہ نے ان کا نفاق واضح فرما دیا۔
4 آیت 92 (قتلِ خطا کا قانون) — شانِ نزول: یہ آیت عیاش بن ابی ربیعہؓ کے واقعے پر نازل ہوئی۔ انہوں نے اسلام لانے سے قبل حارث بن زید عامری کو (جو مسلمانوں کو مکہ میں تکلیفیں دیتا تھا) قتل کرنے کی قسم کھائی تھی۔ بعد میں حارث مسلمان ہو کر ہجرت کر گئے لیکن عیاشؓ کو ان کے اسلام کا علم نہ تھا۔ فتح مکہ کے دن عیاشؓ نے حارث کو دیکھا اور کافر سمجھ کر قتل کر دیا۔ جب معلوم ہوا کہ وہ مسلمان تھے تو عیاشؓ سخت پریشان ہوئے، جس پر قتلِ خطا کا یہ کفارہ نازل ہوا
5 آیت 94 (سلام کرنے والے کو کافر نہ سمجھو) — شانِ نزول: حضرت اسامہ بن زیدؓ یا ایک صحابی کے گشتی دستے کا سامنا مِرداس بن نہیکہ (یا بنو سلیم کے ایک چرواہے) سے ہوا۔ اس چرواہے نے مسلمانوں کو دیکھ کر ”السلام علیکم“ کہا اور کلمہ پڑھا۔ صحابہ نے سوچا کہ یہ صرف جان اور اپنی بکریاں بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے، چنانچہ اسے قتل کر کے بکریاں مالِ غنیمت کے طور پر لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپؐ شدید ناراض ہوئے اور یہ آیت نازل ہوئی کہ جو ظاہر میں اسلام کا اظہار کرے اسے کافر مت کہو۔
6 آیت 95 (جہاد سے پیچھے رہنے والوں اور مجاہدین کا فرق) — شانِ نزول: جب یہ آیت نازل ہو رہی تھی کہ گھر بیٹھنے والے اور مجاہدین برابر نہیں، تو نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور روتے ہوئے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو میں ضرور جہاد کرتا، مگر میں اندھا ہوں“۔ اسی وقت رسول اللہ ﷺ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی اور آیت میں ”غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ“ (بغیر کسی عذر یا معذوری کے) کے الفاظ کا اضافہ نازل ہوا، جس سے معذورین کو استثنا مل گیا۔
7 آیت 97 تا 100 (ہجرت نہ کرنے والوں کی وعید اور مجبوری کا استثنا) — آیت 97 (وعید) — یہ مکہ کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام تو قبول کیا مگر مدینہ ہجرت نہیں کی۔ جب غزوہ بدر ہوا تو قریش نے انہیں زبردستی اپنی فوج کے ساتھ شامل کر لیا اور وہ مسلمانوں کے تیروں کا نشانہ بن کر کافروں کے ساتھ ہی مارے گئے۔
8 آیت 97 تا 100 (ہجرت نہ کرنے والوں کی وعید اور مجبوری کا استثنا) — آیت 98 (استثنا) — یہ آیت ان ضعیف مردوں، عورتوں اور بچوں کے حق میں نازل ہوئی جو مکہ میں کافروں کے ظلم کا شکار تھے لیکن ضعیفی یا راستے سے ناواقفیت کی وجہ سے واقعی ہجرت کرنے سے مجبور تھے، اللہ نے انہیں معاف فرما دیا۔
عام غلطی

نوٹ۔ سورہ النساء کی آیات 71 سے 100 کے درمیان حربی احکام، منافقین کے ساتھ معاملہ، قتلِ خطا کے قوانین اور شان نزول

22 شان نزول

متفرق واقعات (آیات 101 تا 176)

1 صلوٰۃ الخوف کا پس منظر (آیت 101-102) — واقعہ — عسفان کے مقام پر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی۔
2 صلوٰۃ الخوف کا پس منظر (آیت 101-102) — مشرکین کا منصوبہ — مشرکینِ مکہ (خالد بن ولید کی قیادت میں) نے دیکھا اور کہا کہ نماز کے وقت یہ غافل ہوتے ہیں، عصر میں ان پر یکبارگی حملہ کر دیں گے۔
3 صلوٰۃ الخوف کا پس منظر (آیت 101-102) — نزول — اللہ تعالیٰ نے عصر سے پہلے یہ آیات نازل فرمائیں اور جنگ کے دوران نمازِ خوف کا طریقہ سکھا کر دشمن کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔
4 طعمہ بن ابیرق اور چوری کا واقعہ (آیت 105-115) — واقعہ — بنو ظفر کے ایک منافق ”طعمہ بن ابیرق“ نے ایک زرہ چوری کی اور اسے ایک یہودی کے گھر چھپا دیا۔
5 طعمہ بن ابیرق اور چوری کا واقعہ (آیت 105-115) — جھوٹی گواہی — جب تلاشی کا وقت آیا تو طعمہ کے قبیلے والوں نے قسمیں کھا کر یہودی کو پھنسانے کی کوشش کی اور حضور ﷺ کو بھی یقین دلانے لگے کہ طعمہ بے قصور ہے۔
6 طعمہ بن ابیرق اور چوری کا واقعہ (آیت 105-115) — نزول — اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حقیقتِ حال سے آگاہ کیا، یہودی کی برائت فرمائی اور منافقین کی خیانت کو بے نقاب کیا۔
7 ہجرت اور راستے میں وفات (آیت 100 اور متعلقہ آیات) — واقعہ — مکہ کے ایک بوڑھے اور بیمار صحابی حضرت ضمرہ بن جندب (یا جندع بن ضمرہ) نے مکہ سے مدینہ ہجرت کا پکا ارادہ کیا۔
8 ہجرت اور راستے میں وفات (آیت 100 اور متعلقہ آیات) — وفات — وہ شدید بیمار تھے، راستے میں ”تنعیم“ کے مقام پر پہنچے تو ان کا انتقال ہو گیا۔
9 ہجرت اور راستے میں وفات (آیت 100 اور متعلقہ آیات) — نزول — ان کے اخلاص پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے اور راستے میں موت آ جائے، اس کا اجر اللہ کے ذمے پکا ہو گیا۔
10 صلح اور میاں بیوی کے حقوق (آیت 128) — واقعہ — یہ آیت حضرت سودہ بنت زمعہؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ شاید بڑھاپے کی وجہ سے انہیں طلاق دے دیں، تو انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہؓ کو تحفے میں دے دی۔
11 صلح اور میاں بیوی کے حقوق (آیت 128) — آیت نازل ہوئی کہ اگر میاں بیوی آپس میں کسی بات پر صلح (سمجھوتہ) کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور صلح سب سے بہتر ہے۔
12 5۔ کلالہ اور وراثت کا آخری حکم (آیت 176) — واقعہ — حضرت جابر بن عبداللہؓ شدید بیمار ہوئے اور ان کی صرف بہنیں تھیں، کوئی بیٹا یا باپ (کلالہ) نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔
13 5۔ کلالہ اور وراثت کا آخری حکم (آیت 176) — نزول — حضرت جابرؓ کے پوچھنے پر سورہ النساء کی یہ آخری آیت نازل ہوئی، جس میں کلالہ (وہ متیوفی جس کی اولاد اور ماں باپ نہ ہوں) کی وراثت کے احکام تفصیل سے بیان کیے گئے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.