1
آیت نمبر 2: وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ... (اور یتیموں کو ان کے مال دے دو) — شانِ نزول: یہ آیت قبیلہ غطفان کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کے پاس اس کے ایک یتیم بھتیجے کا بہت زیادہ مال تھا۔ جب وہ بھتیجا بالغ ہوا تو اس نے اپنے چچا سے اپنا مال مانگا، لیکن چچا نے دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جسے سن کر چچا خوف خدا سے تائب ہوا اور کہنے لگا: ”میں نے بڑے گناہ سے اللہ کی پناہ مانگی“ اور اپنے بھتیجے کا پورا مال اس کے حوالے کر دیا۔
2
آیت نمبر 3: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ... (اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کر سکو گے...) — شانِ نزول: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص کسی یتیم بچی کا سرپرست (ولی) بن جاتا، اور وہ لڑکی مالدار اور خوبصورت ہوتی تو وہ ولی مہرِ مثل سے کم مہر دے کر اس سے خود نکاح کر لیتا۔ پھر نہ تو اس کے حقوق صحیح سے ادا کرتا اور نہ ہی اسے کسی دوسرے سے نکاح کرنے دیتا۔ اس ظلم کو روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف کرنے سے ڈرتے ہو، تو انکے علاوہ دوسری خواتین سے اپنی پسند کے مطابق دو، تین یا چار نکاح کر لو، بشرطیکہ تم ان میں عدل قائم رکھ سکو۔
3
آیت نمبر 4: وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً... (اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرو) — شانِ نزول: جاہلیت کے دور میں جب کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح کرتا، تو اس کا مہر خود رکھ لیتا اور عورت کو کچھ نہیں دیتا تھا۔ بعض اوقات مہر کے بدلے مہر کا تبادلہ (نکاحِ شغار یا وٹہ سٹہ) کر لیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے واضح فرمایا کہ مہر عورت کا خالص حق ہے اور شوہر پر واجب ہے کہ وہ خوش دلی سے اسے ادا کرے
4
آیت نمبر 7: لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ... (مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں...) — شانِ نزول: انصار کے ایک صحابی حضرت اوس بن ثابت رضی اللہ عنہ انتقال کر گئے۔ انہوں نے سوگواران میں ایک بیوی اور تین چھوٹی بیٹیاں چھوڑیں۔ جاہلیت کے رواج کے مطابق ان کے چچا زاد بھائیوں (خالد اور ارفطہ) نے پورے مال پر قبضہ کر لیا اور کہا کہ ”وراثت صرف ان کا حق ہے جو تلوار چلاتے ہیں اور دشمن سے لڑتے ہیں، عورتیں اور بچے وارث نہیں ہو سکتے“۔ اوس بن ثابت کی الہِیہ (بیوی) رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور فریاد کی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے اس ظالمانہ قانون کو ختم کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی اور عورتوں و بچوں کا حصہ مقرر کیا۔
5
آیت نمبر 11 اور 12: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ... (اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے...) — شانِ نزول — یہ آیاتِ میراث کہلاتی ہیں۔ ان کا بنیادی سببِ نزول حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے، جو جنگِ احد میں شہید ہو گئے تھے۔ ان کے بھائی نے ان کے پورے مال پر قبضہ کر لیا اور ان کی دو بیٹیوں اور بیوہ کو کچھ نہ دیا۔ سعد بن ربیع کی بیوہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: ”یا رسول اللہ! یہ سعد کی بیٹیاں ہیں، ان کے چچا نے سارا مال لے لیا ہے اور مال کے بغیر ان کا نکاح بھی نہیں ہو سکے گا“۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس کا فیصلہ فرمائے گا“۔ چنانچہ یہ مفصل آیات نازل ہوئیں، جس کے بعد آپ ﷺ نے چچا کو بلا کر حکم دیا کہ سعد کے ترکے میں سے دو تہائی (2/3) بیٹیوں کو، اٹھواں حصہ (1/8) بیوہ کو دو، اور جو باقی بچے وہ تمھارا ہے۔
6
آیت نمبر 11 اور 12: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ... (اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے...) — دوسری روایت۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ حضرت جابر نے پوچھا کہ وہ اپنا مال اپنی بہنوں میں کیسے تقسیم کریں؟ اس پر بھی یہ آیات نازل ہوئیں
7
آیت نمبر 19: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا... (اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو...) — شانِ نزول: جاہلیت میں دستور تھا کہ جب کوئی شخص فوت ہو جاتا، تو اس کے قریبی رشتہ دار (جیسے بیٹے یا بھائی) متوفی کی بیوہ کے وارث بن جاتے تھے۔ وہ چاہتے تو بغیر نئے مہر کے خود اس سے نکاح کر لیتے، یا کسی دوسرے سے نکاح کروا کر مہر خود ہڑپ کر جاتے، یا اسے معطل چھوڑ دیتے تاکہ وہ تنگ آ کر اپنے مہر کا مال واپس کر دے۔ جب مدینہ کے ایک صحابی ابو قیس بن الاسلت فوت ہوئے، تو ان کے بیٹے نے اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ یہی سلوک کرنا چاہا۔ اس خاتون نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی، جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر عورتوں کو اس قید اور زبردستی کی وراثت سے نجات دلائی۔
8
آیت نمبر 22: وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ... (اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں، ان سے نکاح نہ کرو...) — شانِ نزول: عرب جاہلیت میں باپ کے انتقال کے بعد بیٹا اپنی سوتیلی ماؤں سے نکاح کر لیا کرتا تھا، جسے ”نکاحِ مقت“ (ناپسندیدہ نکاح) کہا جاتا تھا۔ جب مدینہ میں بعض لوگوں نے اسلام لانے کے بعد بھی اس قبیح رسم پر عمل کرنا چاہا، تو یہ آیت نازل ہوئی اور باپ دادا کی منکوحہ خواتین کو بیٹوں پر ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔
9
آیت نمبر 24: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ... (اور شوہروں والی عورتیں بھی تم پر حرام ہیں، سوائے ان کے جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں...) — شانِ نزول: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت غزوہ حنین کے موقع پر نازل ہوئی۔ مسلمانوں کو مالِ غنیمت میں کچھ ایسی جنگی قیدی عورتیں ملیں جو شادی شدہ تھیں اور ان کے کافر شوہر دار الحرب (مکہ/کفار کے علاقے) میں موجود تھے۔ صحابہ کرامؓ ان خواتین سے ازدواجی تعلق قائم کرنے میں ہچکچا رہے تھے کیونکہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھیں۔ صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا، تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں واضح کیا گیا کہ جنگ کے نتیجے میں قیدی بن کر آنے والی کافر خواتین کا پچھلا نکاح خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اور استبرائے رحم (ایک حیض گزرنے) کے بعد وہ مسلمانوں کے لیے حلال ہو جاتی ہیں
10
آیت 29 (اموالِ باطل اور رضامندی کی تجارت) — (اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ...)
11
آیت 29 (اموالِ باطل اور رضامندی کی تجارت) — شانِ نزول: جب قرآن مجید میں سود، جوا اور دیگر حرام طریقوں سے مال کمانے کی سخت ممانعت آئی، تو صحابہ کرامؓ سخت پریشان ہو گئے۔ وہ ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھانے یا تجارت میں معمولی فائدے کو بھی ”باطل“ (ناحق) سمجھنے لگے اور احتیاط کے مارے تنگی میں آ گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں واضح کیا گیا کہ باہمی رضامندی سے کی جانے والی جائز تجارت اور کاروبار اس ممنوعہ حد سے باہر ہے اور حلال ہے۔
12
آیت 32 (فضیلت کی تمنا کی ممانعت) — (اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے...)
13
آیت 32 (فضیلت کی تمنا کی ممانعت) — شانِ نزول: روایات کے مطابق حضرت ام سلمہؓ (اور بعض دیگر خواتین) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ”یا رسول اللہ! مرد جہاد میں حصہ لیتے ہیں اور ہم نہیں لے پاتیں، اور وراثت میں بھی ہمیں مردوں سے آدھا حصہ ملتا ہے“۔ ان کے دل میں یہ خواہش ابھری کہ کاش وہ بھی مرد ہوتیں تاکہ جہاد اور وراثت میں برابر کا حصہ پاتیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس میں مردوں اور عورتوں کو اپنے اپنے دائرہ کار اور حقوق پر راضی رہنے اور ایک دوسرے کے مخصوص فضائل پر حسد یا تمنا نہ کرنے کا حکم دیا گیا۔
14
آیت 34 (مردوں کی قوامیت اور ایک واقعہ) — (مرد عورتوں پر حاکم/نگران ہیں...)