بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 4: سبق 4: سورہ النساء — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 18 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا اطْمَأْنَنْتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۚ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا۔

آیت میں نماز کی ادائی کے بعد کی تلقین کی گئ؟

ترجمہ

پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہر حال میں) یاد کرتے رہو، پھر جب تم (حالتِ خوف سے نکل کر) اطمینان پالو تو نماز کو (حسبِ دستور) قائم کرو۔ بیشک نماز مومنوں پر مقررہ وقت کے حساب سے فرض ہے“۔

آیت میں دی گئی اہم تلقینات

1 سورہ النساء کی آیت 103: میں نماز کی ادائیگی کے بعد ہر حال (کھڑے، بیٹھے اور لیٹے) میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرتے رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ خوف کی حالت ختم ہونے اور اطمینان ملنے پر نماز کو اس کے اصل مروجہ طریقے کے مطابق قائم کیا جائے
2 اللہ کا کثرت سے ذکر — نماز کی تکمیل کے بعد خواہ انسان کھڑا ہو، بیٹھا ہو یا کروٹ پر لیٹا ہو، اسے ہر وقت اللہ کی یاد سے دل کو آباد رکھنا چاہیے۔
3 اطمینان میں نماز کا قیام — جنگ یا خوف کی حالت میں دی گئی رعایت (صلوٰۃ الخوف) عارضی ہے، لہذا امن و سکون ملتے ہی ارکان و شرائط کے ساتھ پوری نماز قائم کرنی چاہیے۔
4 وقت کی پابندی — یہ واضح کیا گیا ہے کہ نماز اپنے مقررہ وقتوں پر ہی مومنین پر فرض کی گئی ہے، اس لیے اسے بلا شرعی عذر قضا یا تاخیر نہیں کرنا چاہیے۔
2 مختصر جوابات

وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ ۖ إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ ۖ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمً۔

آیت میں دشمنوں کت تواقب کے حوالے سے کیا ہدایت دی گئی؟

ترجمہ

اور (کافر) قوم کا پیچھا کرنے میں سستی نہ کرو۔ اگر تم دکھ اٹھاتے ہو تو جیسے تم دکھ اٹھاتے ہو ویسے ہی وہ بھی دکھ اٹھاتے ہیں، اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

ہدایت

جواب اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ دشمن کا پیچھا کرنے اور ان کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی کمزوری یا سستی نہ دکھائیں۔ انہیں حوصلہ دیا گیا ہے کہ جنگ کی تکلیفیں دونوں طرف برابر ہیں، لیکن مسلمانوں کے پاس اللہ سے اجر، ثواب اور فتح کی وہ امید ہے جو کافروں کے پاس نہیں۔
3 مختصر جوابات

وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا

اس آیت میں نبی ﷺ کو کس سے بحث نہ کرنے کا حکم دیا گیا؟

ترجمہ

اور آپ ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑیں جو اپنی ہی جانوں سے دغا بازی کر رہے ہیں۔ بے شک اللہ کسی دغا باز گناہ گار کو پسند نہیں کرتا ۔

حکم

جواب نبی کریم ﷺ کو خائن، بددیانت اور اپنے ہی نفس کو دھوکہ دینے والے گناہ گار لوگوں کی حمایت میں بحث یا وکالت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
4 مختصر جوابات

وَلَوْلاا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْزَلَ اللَّهِ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا

آیت 113 (نبی ﷺ پر اللہ کے کس عظیم فضل کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت آپ پر نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے آپ کو بہکانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا، اور وہ اپنے سوا کسی کو نہیں بہکا رہے اور آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ کچھ سکھا دیا جو آپ نہیں جانتے تھے، اور آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔

عظیم فضل کا ذکر

جواب اس آیت میں اللہ کے جس عظیم فضل کا ذکر ہے، وہ نبی کریم ﷺ کو دشمنوں کے مکر و فریب سے محفوظ رکھنا، آپ پر قرآن (کتاب) اور حکمت (نبوت/دانش) نازل کرنا اور آپ کو وہ علوم سکھانا ہے جو انسانی رسائی سے باہر تھے غیب کی باتیں تھیں۔
5 مختصر جوابات

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۤءُ ؕ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًاۢ

آیت 116 میں شرک کے حوالے سے کیا حقیقت بیان ہوئی ہے؟

ترجمہ

بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس کے علاوہ (جو گناہ بھی ہو) جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے۔ اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے، وہ یقیناً دور کی گمراہی میں بھٹک گیا۔

حقیقت

جواب شرک کے بارے میں یہ حتمی حقیقت بیان ہوئی ہے کہ شرک ناقابلِ معافی گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ ہر گناہ جس کے لیے چاہے گا معاف کر دے گا، لیکن بغیر توبہ مشرک کی مغفرت کبھی نہیں ہوگی۔
6 مختصر جوابات

ان یدعون من دونہ الا انٰثا ۔ وان یدعون الا شیطانا مریدا

آیت 117 ۔ میں کفار کے برے برے اعمال، عقائد کا ذکر ہے؟

ترجمہ

یہ (مشرکین) اللہ کو چھوڑ کر صرف زنانی چیزوں (دیویوں اور بتوں) ہی کو پکارتے ہیں، اور یہ صرف سرکش شیطان ہی کو پکارتے ہیں (اس کی پوجا کرتے ہیں)۔

برے اعمال کا بیان

جواب اس آیت میں کفار کے دو بڑے قبیح اعمال کا ذکر ہے: پہلی بات یہ کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر فرضی دیویوں اور بتوں کی عبادت کرتے ہیں، اور دوسری بات یہ کہ وہ دراصل سرکش شیطان کی اطاعت اور پوجا کرتے ہیں۔
7 مختصر جوابات

وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِیما۔

آیت 127 ۔ نیک اعمال کے حوالے سے کیا حقیقت بیان کی گئی ہے

ترجمہ

اور تم جو بھی بھلائی (نیک کام) کرو گے، تو یقیناً اللہ اسے خوب جاننے والا ہے

حقیقت

جواب نیک اعمال کے حوالے سے یہ عالمگیر حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان کا کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا نیک عمل یا اچھائی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ہر بھلائی سے پوری طرح باخبر ہے اور وہ اپنے بندوں کو ان کے ہر نیک عمل کا پورا پورا اجر عطا فرمائے گا۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِى الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ ۖ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۖ اِنَّ الْكٰفِرِيْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مبینا۔

سورہ النساء آیت 101 — ترجمہ کریں اور بتائیں یہاں کیا ہدایت دی گئی ہے؟

ترجمہ

اور جب تم زمین میں سفر کرو، تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کر لو (یعنی اسے چھوٹا کر دو)، اگر تمہیں خوف ہو کہ کافر تمہیں فتنہ (تکلیف) میں ڈالیں گے۔ بے شک کافر تمھارے کھلے دشمن ہیں۔

ہدایات:

1 نمازِ قصر کی رخصت — سفر کے دوران چار رکعت والی فرض نماز (ظہر، عصر، عشاء) کو دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
2 آسانی کا اصول — اسلام میں انسانی مشقت اور خطرے کے وقت احکامات میں نرمی اور آسانی پیدا کی گئی ہے۔
9 تفصیلی جوابات

لَّا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّن نَّجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا۔

ان آیات میں کس قسم کی سرگوشی کو اجر عظیم کا باعث قرار دیا گیا ہے؟

ترجمہ

”ان کی اکثر سرگوشیوں (خفیہ مشوروں) میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی، سوائے اس کے جو صدقے کا حکم دے، یا کسی نیک کام کا، یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا۔ اور جو شخص اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا، ہم اسے عنقریب بہت بڑا اجر دیں گے“

آیت میں تین قسم کی پوشیدہ گفتگو یا سرگوشیوں کو خیر اور اجرِ عظیم کا باعث قرار دیا گیا ہے:

اجرِ عظیم والی سرگوشیاں:

1 صدقہ و خیرات — کسی کو خفیہ طور پر مالی امداد یا خیرات کی ترغیب دینا۔
2 نیک کام کی تلقین — معروف اور بھلائی کے کاموں کے لیے خفیہ منصوبہ بندی کرنا۔
3 اصلاحِ احوال — لڑتے ہوئے دو افراد، خاندانوں یا گروہوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے خفیہ کوششیں کرنا۔
10 تفصیلی جوابات

ہٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَاءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ؔ فَمَنْ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ يَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا ﴿۱۰۹﴾

ترجمہ اور وضاحت کریں

ترجمہ

ہاں! تم لوگ وہ ہو جنہوں نے دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑا کر لیا (ان کی وکالت کر لی)، تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان کی طرف سے کون جھگڑا کرے گا؟ یا کون ان کا کارساز (وکیل) بنے گا؟

وضاحت:

1 پس منظر — یہ آیت ایک چوری کے واقعے کے تناظر میں نازل ہوئی جہاں کچھ لوگوں نے اپنے گناہگار رشتہ دار کو بچانے کے لیے جھوٹی وکالت کی۔
2 اصل مفہوم — دنیا میں جھوٹی سفارش، وکالت یا اثر و رسوخ سے گناہگار عارضی طور پر تو بچ سکتا ہے۔ لیکن قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں کوئی بھی ظالم یا خائن کا وکیل یا مددگار نہیں بن سکے گا۔ اس لیے کسی گناہگار یا خائن کی طرفداری نہیں کرنی چاہیے۔
11 تفصیلی جوابات

وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مصیرا۔

آیت میں ذکر کردہ وعید کا مستحق کس شحص کو قرار دیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے، اس کے بعد کہ اس پر ہدایت واضح ہو چکی ہو، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ خود پھرا، اور اسے جہنم میں جھونک دیں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔

اس آیت کی رو سے سخت عذاب کا مستحق وہ شخص ہے جس میں یہ دو باتیں ہوں:

وعید (عذاب) کا مستحق شخص:

1 رسولؐ کی مخالفت — حق اور ہدایت واضح ہو جانے کے باوجود جان بوجھ کر رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی نافرمانی کرنا۔
2 اجماعِ امت سے انحراف — مسلمانوں (اہلِ ایمان) کے اجتماعی اور سیدھے راستے کو چھوڑ کر گمراہی کا راستہ اپنانا۔
12 تفصیلی جوابات

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَنِيًّا حمیدا۔

ترجمہ اور مفہوم بیان کریں

ترجمہ

”اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اللہ ہی کا ہے۔ اور بلاشبہ ہم نے ان لوگوں کو بھی تاکید کی تھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمہیں بھی، کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اگر تم کفر کرو گے تو یقیناً جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اللہ ہی کا ہے، اور اللہ بے نیاز، تعریف والا ہے“

مفہوم:

1 تقویٰ کی عالمگیر وصیت — اللہ تعالیٰ نے تمام اگلوں اور پچھلوں (امتِ مسلمہ اور سابقہ اہلِ کتاب) کو ایک ہی بنیادی وصیت فرمائی ہے، اور وہ ہے ”تقوٰٰی“ (اللہ کا خوف اور پرہیزگاری)۔
2 اللہ کی بے نیازی — کائنات کی ہر چیز کا مالک صرف اللہ ہے۔ انسان کی اطاعت سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور انسان کے کفر سے اللہ کی سلطنت میں کوئی کمی نہیں آتی، وہ بالکل بے نیاز ہے
13 تفصیلی جوابات

ومن احسن دینا ممن اسلم وجھہ للہ وھو حسن واتبع ملۃ ابراھیم حنیفا واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا۔

آیت میں دین کے لحاظ سے سب سے بہتر شحص کس کو قرار دیا گیا؟

ترجمہ

اور دین کے لحاظ سے اس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے جس نے اپنا چہرہ (اپنے آپ کو) اللہ کے آگے جھکا دیا اور وہ نیکوکار بھی ہو، اور اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کی پیروی کی جو بالکل یکسو تھے، اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا گہرا دوست (خلیل) بنا لیا تھا۔

آیت کی رو سے بہترین شخص وہ ہے جس میں یہ صفات موجود ہوں:

دین کے لحاظ سے سب سے بہتر شخص:

1 اخلاصِ کامل — جو اپنے آپ کو کامل طور پر اللہ کے سپرد کر دے (اپنا رخ اللہ کی طرف کر لے)۔
2 محسن (نیکوکار) — جو اپنے اعمال کو سنت کے مطابق اور خوبصورت بنائے۔
3 ملتِ ابراہیمی کی پیروی — جو شرک سے پاک ہو کر، بالکل یکسو (حنیف) ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے توحید والے راستے پر چلے۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

نمازِ خوف کا طریقہ (جنگ یا شدید خطرے کی حالت)

قرآن مجید (سورہ النساء: 102) اور احادیث میں اس کے مختلف طریقے بتائے گئے ہیں۔ سب سے مشہور طریقہ یہ ہے:

1 دو گروہ بنانا — امام لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کرے گا۔ ایک حصہ دشمن کے سامنے کھڑا ہوگا اور دوسرا نماز پڑھے گا۔
2 پہلی رکعت — امام پہلے گروہ کو ایک رکعت پڑھائے گا۔ جب امام دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہوگا، تو یہ گروہ نیت توڑے بغیر دشمن کے سامنے چلا جائے گا۔
3 دوسری رکعت — دوسرا گروہ آکر امام کے ساتھ شامل ہوگا۔ امام انہیں دوسری رکعت پڑھا کر سلام پھیر دے گا۔
4 نماز مکمل کرنا — امام کے سلام کے بعد، دوسرا گروہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑا ہوگا اور پہلا گروہ واپس آکر اپنی باقی ماندہ ایک رکعت (بغیر قراءت کے) اکیلے پوری کرے گا۔ پھر دوسرا گروہ بھی آکر اپنی بقیہ رکعت پوری کرے گا۔
5 شدید خوف کی حالت — اگر دشمن بالکل سر پر ہو اور صفیں بنانا ممکن نہ ہو، تو پیدل یا سواری کی حالت میں، جس طرف بھی رخ ہو، اشارے سے نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔
15 سرگرمیاں

للَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ وَمِنْكَ السَّلامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ

نماز کے بعد کے مسنون اذکار

فرض نماز کے سلام کے بعد درج ذیل اذکار پڑھنا سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے:

تسبیحاتِ فاطمی

1 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمد لله، اور 34 مرتبہ اللہ اکبر
2 یا 33 مرتبہ اللہ اکبر اور 100 کا عدد پورا کرنے کے لیے چوتھا کلمہ پڑھنا۔
3 آیت الکرسی — ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے والے اور جنت کے درمیان صرف موت کا فاصلہ ہوتا ہے۔
4 مسبحات — سورہ الاخلاص، سورہ الفلق، اور سورہ الناس ایک ایک بار پڑھنا (مغرب اور فجر کے بعد تین تین بار)۔
16 سرگرمیاں

نمازِ قصر کا طریقہ اور احکام

مسافر کے لیے اللہ تعالیٰ نے نماز میں تخفیف (کمی) فرمائی ہے۔

1 مسافت کی حد — جب کوئی شخص اپنے شہر کی حدود سے تقریباً 48 میل (تقریباً 78 کلومیٹر) یا اس سے زیادہ سفر کی نیت سے نکلے۔
2 کون سی نمازیں قصر ہوں گی؟ — صرف 4 رکعت والے فرائض (ظہر، عصر ۔، عشاء) کو دو رکعت پڑھا جائے گا۔ فجر، مغرب اور وتر میں کوئی قصر نہیں ہے۔
3 مدت — اگر مسافر 15 دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے تو قصر جاری رہے گا۔ اگر 15 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت ہو تو وہ مقیم بن جائے گا اور پوری نماز پڑھے گا۔
4 جماعت کا حکم — اگر مسافر کسی مقامی (مقیم) امام کے پیچھے نماز پڑھے، تو وہ امام کے ساتھ پوری 4 رکعت ہی پڑھے گا۔
17 سرگرمیاں

”فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ“

شیطان کا ہدف (اللہ کی تخلیق بدلنا)

قرآن کریم میں شیطان کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ وہ انسانوں کو ابھارے گا کہ وہ ”اللہ کی بنائی ہوئی ساخت/تخلیق کو بدلیں“۔ اس کی مختلف صورتیں درج ذیل ہیں:

1 ظاہری و جسمانی تبدیلیاں (طبی ضرورت کے بغیر) — خوبصورتی کے لیے جسم پر ٹیٹو (Tattoos) بنوانا۔
2 ابرو (بھنویں) کے بال اکھڑوانا یا انہیں بہت باریک کرنا۔
3 دانتوں کو خوبصورتی کے لیے رگڑ کر باریک یا ان کے درمیان مصنوعی فاصلہ پیدا کرنا۔
4 بغیر کسی طبی عیب یا حادثے کے، محض حسن بڑھانے کے لیے پلاسٹک سرجری کروانا۔
5 عورتوں کا مردوں کی اور مردوں کا عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا۔
6 معنوی اور فطری تبدیلیاں — اللہ کے دین اور انسانی فطرت (مثلاً مرد اور عورت کے فطری کردار) کو بدلنے کی کوشش کرنا۔
7 ہم جنس پرستی یا جنس کی تبدیلی (Gender Change) جیسے غیر فطری کاموں میں مبتلا ہونا۔
18 سرگرمیاں

آپس میں صلح کرانے کی فضیلت

اسلام میں دو افراد یا گروہوں کے درمیان دشمنی ختم کروا کر صلح کروانے کی بے پناہ فضیلت ہے۔

1 نفل نماز اور روزے سے افضل — نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا یا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو درجے میں روزے، نماز اور صدقے سے بھی بڑھ کر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: ضرور بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آپس میں صلح کرانا، کیونکہ آپس کے تعلقات کا خراب ہونا دین کو مونڈ دینے (ختم کر دینے) والا ہے“ (ترمذی)۔
2 جھوٹ بولنے کی اجازت — اسلام میں جھوٹ سخت گناہ ہے، لیکن دو انسانوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے ایسی بات کہنے کی اجازت ہے جس سے لڑائی ختم ہو جائے (مثلاً ایک سے کہنا کہ وہ تو تمہاری تعریف کر رہا تھا)۔ فرمان الہی ہے۔
3 مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو“

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.