اے ایمان والو! اپنی حفاظت کا سامان (اور ہتھیار) لے لیا کرو، پھر (جہاد کے لیے) متفرق جماعتیں بن کر نکلو یا سب اکٹھے ہو کر کوچ کرو۔
وضاحت و حکم
جواباس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو دشمن کے خلاف ہر وقت چوکنا رہنے، دفاعی تدابیر اختیار کرنے اور حربی اسباب و ہتھیار تیار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ مزید یہ کہ جنگی حکمت عملی کے تحت ضرورت کے مطابق چھوٹی ٹولیوں میں یا پھر پوری فوج کی شکل میں متحد ہو کر نکلنے کی ہدایت فرمائی گئی
آیت 74 کے مطابق اللہ کن لوگوں کو اجرِ عظیم عطا فرمائے گا؟
ترجمہ
پس ان (مومنوں) کو اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے جو آخرت کے عوض دنیوی زندگی کو بیچ دیتے ہیں، اور جو کوئی اللہ کی راہ میں جنگ کرے، خواہ وہ (خود) قتل ہو جائے یا غالب آجائے تو ہم عنقریب اسے عظیم اجر عطا فرمائیں گے۔
وضاحت
جواباللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اجرِ عظیم عطا فرمائے گا جو دنیا کی عارضی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ چکے ہیں اور خالص اللہ کی رضا کے لیے جہاد کرتے ہیں۔ خواہ وہ میدانِ جنگ میں شہید ہو جائیں یا غازی بن کر غالب آ جائیں، دونوں صورتوں میں ان کا اجر پکا ہے۔
تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پا لے گی، خواہ تم بڑے مضبوط قلعوں کے اندر ہی کیوں نہ ہو
وضاحت و حقیقت
جوابموت کے بارے میں یہ حتمی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور اس کا وقت مقرر ہے۔ انسان موت کے ڈر سے گھر بیٹھ رہے یا جہاد سے جی چرائے، وہ موت سے نہیں بچ سکتا۔ اگر کوئی لوہے کے مضبوط اور فلک بوس قلعوں یا محلوں میں بھی چھپ جائے، تب بھی موت اسے اپنے وقت پر ڈھونڈ نکالے گی۔
(اے انسان!) تجھے جو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جو کوئی برائی (یا مصیبت) پہنچتی ہے تو وہ تیرے اپنے نفس کی وجہ سے (یعنی تیرے اپنے اعمال کا نتیجہ) ہے۔
وضاحت و اسباب
جوابآیت میں واضح کیا گیا ہے کہ انسان کو ملنے والی ہر خوشی، نعمت اور بھلائی خالص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ اس کے برعکس، انسان پر آنے والی ہر مصیبت، دکھ اور برائی اس کے اپنے گناہوں، نافرمانیوں اور نفس کی خرابی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگرچہ کائنات کا پورا نظام اور تقدیر اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے (جیسا کہ پچھلی آیت 78 میں فرمایا گیا ”قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ“ یعنی سب اللہ کی طرف سے ہے) لیکن برائی کا مادی سبب انسان کے اپنے برے اعمال بنتے ہیں۔
آیت 84: اللہ کا فضل نہ ہونے کی صورت میں کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
ترجمہ
(”اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقیناً تم سب چند ایک کے سوا شیطان کی پیروی کرنے لگتے“)۔
جوابسوال میں آیت 83 کے حوالے سے اللہ کا فضل نہ ہونے کے نتیجے کا پوچھا گیا ہے، قرآن مجید میں فضل نہ ہونے کی صورت میں شیطان کی پیروی کا تذکرہ آیت 83 کے آخر میں موجود ہے: یعنی اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت انسان کے شامل حل نہ ہو، تو انسان ہر قسم کی افواہوں اور فتنوں کا شکار ہو کر چند لوگوں کے علاوہ سیدھا شیطان کی پیروی کرنے لگ جاتا۔ اس سے معاشرے میں خوف اور بے چینی اور گمراہی پھیلتی ۔
1ترجمہ۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تمہیں قیامت کے دن ضرور اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، اور اللہ سے بڑھ کر بات میں سچا کون ہو سکتا ہے“
2اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین بنیادی صفات کا ذکر ہے
3توحید وحدانیت — وہ اکیلا ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
4قادرِ مطلق اور جامع — وہ تمام کائنات کو ختم کر کے قیامت کے دن دوبارہ زندہ کر کے جمع کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
5صداقت وسچائی — اللہ تعالیٰ کی گفتگو اور اس کا وعدہ کائنات میں سب سے زیادہ سچا ہے، اس کی بات میں جھوٹ کا کوئی امکان نہیں۔
اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو خوب تحقیق کر لیا کرو، اور جو کوئی تمہیں سلام کہے (یا اسلام کا اظہار کرے) اس سے یہ نہ کہو کہ ’تو مومن نہیں ہے‘ تاکہ تم دنیوی زندگی کا مال و متاع تلاش کرو۔
نصیحت و ہدایت
جواباس آیت میں مسلمانوں کو سخت تاکید کی گئی ہے کہ میدانِ جنگ یا عام حالات میں جلد بازی سے کام نہ لیں بلکہ پوری تحقیق (فتبینوا) کر لیا کریں۔ اگر کوئی شخص سلام کر کے یا کلمہ پڑھ کر خود کو مسلمان ظاہر کرے، تو محض مالِ غنیمت یا دنیاوی فائدے کے لالچ میں اسے کافر قرار دے کر قتل نہ کیا جائے۔ اسلام ظاہری اقرار کو قبول کرنے اور شک کی بنیاد پر تکفیر سے بچنے کی ہدایت کرتا ہے۔
اور یقیناً تم میں کوئی ایسا بھی ہے جو (جہاد سے) پس و پیش کرتا ہے، پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا۔
وضاحت
جوابیہ آیت منافقین کے مکارانہ رویے کو بے نقاب کرتی ہے۔ جب مسلمانوں کو کسی غزوے میں جانی یا مالی نقصان (مصیبت) پہنچتا، تو منافقین خوش ہوتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ معرکے میں نہ جا کر انہوں نے عقلمندی کی اور خود کو محفوظ رکھا۔
اس آیت میں اہلِ ایمان اور کفار کے کس کا تقابل کا ذکر ہے؟
ترجمہ
جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنھوں نے کفر کیا وہ طاغوت (سرکش شیطان) کی راہ میں لڑتے ہیں۔ پس تم شیطان کے ساتھیوں سے لڑو، یقیناً شیطان کی چال بالکل کمزور ہوتی ہے۔
اس آیت میں دونوں گروہوں کے مقصدِ جنگ اور پشت پناہ کا واضح تقابل کیا گیا ہے
اہلِ ایمان اور کفار کا تقابل
1اہلِ ایمان — اللہ کی رضا، حق کی سربلندی اور انصاف کے لیے لڑتے ہیں۔ ان کا مولیٰ اللہ ہے۔
2کفار — طاغوت (سرکشی، بتوں، اور ظالم قوتوں) کی راہ میں لڑتے ہیں۔ ان کے پشت پناہ شیاطین ہیں جن کی چالیں انتہائی کمزور ہوتی ہیں۔
اور اگر تمہیں اللہ کی طرف سے کوئی فضل (فتح و غنیمت) حاصل ہو جائے، تو وہ اس طرح کہ جیسے تمہارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی تھی ہی نہیں، کہتا ہے: ہائے کاش! میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو میں بھی بڑی کامیابی (مالِ غنیمت) حاصل کرتا۔
مفہوم
جواباس آیت کا مفہوم منافقین کی مادہ پرستی اور دنیا پرستی کو ظاہر کرنا ہے۔ ان کا ایمان یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر مسلمانوں کو فتح اور مالِ غنیمت ملے، تو وہ افسوس کرتے ہیں کہ وہ وہاں کیوں نہیں تھے تاکہ مال سمیٹ سکتے۔ وہ مسلمانوں کو اپنا بھائی نہیں بلکہ صرف فائدے کا شراکت دار سمجھتے ہیں۔
11تفصیلی جوابات
فقاتل فی سبیل اللہ۔۔۔۔۔۔ اشد تنقیلا۔ آیت میں رسول ﷺ کو کیا تلقین کی گئ؟ آیت 84
ترجمہ
پس (اے نبی!) آپ اللہ کی راہ میں لڑئیے، آپ کو صرف آپ کی اپنی ذات کے لیے مکلف کیا گیا ہے اور مومنوں کو (جہاد پر) ابھارئیے۔ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کی جنگی قوت کو روک دے، اور اللہ گرفت کرنے میں سب سے سخت اور سزا دینے میں سب سے شدید ہے۔
اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو دو اہم باتوں کی تلقین فرمائی گئی ہے:
رسول اللہ ﷺ کو تلقین
1انفرادی ذمہ داری — اگر کوئی بھی آپ کا ساتھ نہ دے، تب بھی آپ اکیلے ہی باطل کے خلاف ڈٹ جائیں۔ آپ صرف اپنے عمل کے جوابدہ ہیں۔
2ترغیبِ جہاد — مسلمانوں کو بزدلی چھوڑنے اور اللہ کی راہ میں قتال کرنے کے لیے تیار کریں اور ان کی ہمت بندھائیں۔
پھر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ بن رہے ہو؟ حالانکہ اللہ نے انہیں ان کے کرتوتوں کے باعث اوندھا کر دیا ہے۔ کیا تم اسے ہدایت دینا چاہتے ہو جسے اللہ نے گمراہ کر دیا؟ اور جسے اللہ گمراہ کر دے آپ اس کے لیے کبھی کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔
وضاحت
جوابیہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جو بظاہر اسلام کا دم بھرتے تھے مگر عملاً کفار کے مددگار تھے۔ مسلمانوں میں ان کے ساتھ نرمی یا سختی برتنے کے معاملے پر دو رائیں بن گئی تھیں۔ اہل ایمان میں بعض کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ نرمی ہونی چاہیے ،آخر یہ ایمان تو لائے تھے نا،اب ہجرت نہیں کر سکے۔ جبکہ کچھ لوگ اللہ کے حکم کے معاملے میں ان سے سخت رویہ اختیار کرنے کے حق میں تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جھنجھوڑا کہ ان کی بدعملیوں کی وجہ سے اللہ نے انہیں کفر کی طرف لوٹا دیا ہے، اس لیے ان کے بارے میں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔
آیت میں جان بوجھ کر قتل کرنے کی کیا وعید سنائی گئی ہے؟
ترجمہ
اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے، اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
کسی مسلمان کو عمداً (جان بوجھ کر) قتل کرنے پر اس آیت میں پانچ انتہائی سخت سزائیں اور وعیدیں سنائی گئی ہیں
جان بوجھ کر قتل کرنے کی وعیدیں
1جہنم میں ہمیشہ رہنے کا عذاب (طویل ترین مدت)
2اللہ تعالیٰ کا شدید غضب اور ناراضگی
3اللہ تعالیٰ کی لعنت (رحمت سے دوری)
4آخرت میں عذابِ عظیم کا تیار ہونا
جواباسلام میں انسانی جان کی حرمت اتنی زیادہ ہے کہ ایمان والے کے قتل کو کفر کے برابر ہولناک گناہ قرار دیا گیا ہے
سرگرمیاں
14سرگرمیاں
سلام کے فضائل اور آداب بیان کریں
اسلام میں سلام کرنے کو ایک عظیم الشان عبادت، محبت بڑھانے کا ذریعہ اور شعارِ اسلام قرار دیا گیا ہے۔
سلام کے فضائل: اور سلام کے آداب:
1سلام کے فضائل: — محبت کا فروغ — آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا جب تک تم آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس پر عمل کرنے سے محبت پیدا ہو؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔“
2سلام کے فضائل: — ثواب کا حصول — سلام کے الفاظ کے مطابق نیکیاں ملتی ہیں۔ ”السلام علیکم“ پر 10، ”ورحمۃ اللہ“ ملانے پر 20، اور ”وبرکاتہ“ ملانے پر 30 نیکیاں ملتی ہیں۔
3سلام کے فضائل: — سلامتی کی دعا — سلام حقیقت میں ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے لیے دنیا و آخرت کی سلامتی اور رحمت کی دعا ہے۔
4سلام کے آداب: — پہل کرنا — سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرنی چاہیے، کیونکہ پہل کرنے والا تکبر سے پاک ہوتا ہے۔
5سلام کے آداب: — چھوٹا بڑے کو کرے — سواری پر چلنے والا پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے۔
6سلام کے آداب: — واضح آواز — سلام ہمیشہ واضح اور درست الفاظ میں کرنا چاہیے تاکہ اگلا بندہ آسانی سے سن سکے۔
7سلام کے آداب: — بہتر جواب دینا — قرآن پاک کے مطابق، جب تمہیں سلام کیا جائے تو اس سے بہتر الفاظ میں جواب دو یا کم از کم ویسے ہی الفاظ لوٹا دو۔
15سرگرمیاں
سورہ النساء میں منافقین کی چار اقسام
سورہ النساء کی آیات 88 تا 91 میں منافقین کی چار مختلف اقسام اور ان کے انفرادی احکامات کا تفصیلی تذکرہ ملتا ہے:
1نمبر — منافقین کی قسم — شرعی حکم و تفصیل
21 — مکہ کے وہ منافقین جنہوں نے ہجرت نہیں کی — یہ وہ لوگ تھے جو زبانی کلامی اسلام کا دعویٰ کرتے تھے مگر کفر کے ماحول سے نکل کر مدینہ ہجرت کرنے کو تیار نہ تھے۔ قرآن نے حکم دیا کہ اگر یہ سچے ہیں تو ہجرت کریں، ورنہ ان سے دوستی نہ کی جائے اور دورانِ جنگ یہ جہاں ملیں ان سے قتال کیا جائے۔
32 — مسلمانوں کے حلیف قبیلوں میں پناہ لینے والے — یہ وہ منافقین تھے جو کسی ایسے قبیلے یا قوم سے جا ملے تھے جن کا مسلمانوں کے ساتھ امن اور صلح کا معاہدہ (معاہدہِ دوستی) تھا۔ ان کے بارے میں حکم دیا گیا کہ ان سے تعرض نہ کیا جائے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔
43 — جنگ سے بیزار منافقین (تنگ دل) — یہ وہ منافقین تھے جن کے دل مسلمانوں یا اپنی ہی قوم سے لڑنے سے تنگ آ چکے تھے، وہ غیر جانبدار رہنا چاہتے تھے۔ قرآن نے ان کے بارے میں فرمایا کہ چونکہ اللہ نے ان کو تم پر مسلط نہیں کیا اور انہوں نے صلح کی پیشکش کی ہے، لہٰذا ان سے بھی جنگ نہ کی جائے۔
54 — دہرے مفاد پرست منافقین — یہ وہ خطرناک قسم تھی جو مسلمانوں کے پاس آ کر امن چاہتے تھے تاکہ مسلمانوں سے محفوظ رہیں اور اپنی کافر قوم کے پاس جا کر کفر کا اظہار کرتے تھے تاکہ وہاں بھی محفوظ رہیں۔ جب بھی انہیں فتنے کا موقع ملتا، یہ کود پڑتے۔ ان کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئیں تو ان کو قید کیا جائے اور قتل کیا جائے۔
16سرگرمیاں
سورہ النساء کی روشنی میں قتلِ خطا اور قتلِ عمد کا فرق اور احکام
سورہ النساء کی آیت نمبر 92 اور 93 میں قتل کی ان دونوں اقسام کا فرق اور سخت احکامات بیان ہوئے ہیں:
الف) قتلِ خطا (نہ چاہنے کے باوجود دھوکے یا غلطی سے قتل ہونا) اور ب) قتلِ عمد (جان بوجھ کر، ارادتاً قتل کرنا)
1الف) قتلِ خطا (نہ چاہنے کے باوجود دھوکے یا غلطی سے قتل ہونا) — اگر کسی مسلمان سے غلطی، نشانہ چوکنے یا کسی حادثے کی وجہ سے کسی دوسرے مسلمان کا قتل ہو جائے تو اسے قتلِ خطا کہتے ہیں۔
2الف) قتلِ خطا (نہ چاہنے کے باوجود دھوکے یا غلطی سے قتل ہونا) — دینوی حکم (کفارہ اور دیت) — قاتل پر لازم ہے کہ وہ ایک مومن غلام آزاد کرے (موجودہ دور میں اس کے بدلے مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا ہیں)۔ اس کے ساتھ مقتول کے ورثاء کو ”دیت“ (خون بہا/مالی معاوضہ) ادا کی جائے، سوائے اس کے کہ ورثاء اپنی خوشی سے دیت معاف کر دیں۔
3الف) قتلِ خطا (نہ چاہنے کے باوجود دھوکے یا غلطی سے قتل ہونا) — مقتول اگر دار الحرب میں ہو — اگر مقتول مسلمان ہو لیکن وہ مسلمانوں کی دشمن قوم (کافروں) کے درمیان رہتا ہو، تو قاتل پر صرف غلام آزاد کرنا (یا روزے رکھنا) لازم ہے، دیت ادا نہیں کی جائے گی۔
4ب) قتلِ عمد (جان بوجھ کر، ارادتاً قتل کرنا) — جب کوئی شخص کسی مسلمان کو جانتے بوجھتے ہوئے، دشمنی یا کسی بھی وجہ سے ارادتاً قتل کر دے تو اسے قتلِ عمد کہتے ہیں۔
5ب) قتلِ عمد (جان بوجھ کر، ارادتاً قتل کرنا) — اخروی اور شرعی احکام — قرآن مجید نے اس کی سزا انتہائی سخت بیان کی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے عظیم عذاب تیار کر رکھا ہے۔
6ب) قتلِ عمد (جان بوجھ کر، ارادتاً قتل کرنا) — دنیاوی سزا — دنیا میں اسلامی عدالت کے ذریعے قاتل سے ”قصاص“ (جان کے بدلے جان) لیا جائے گا، الا یہ کہ مقتول کے اولیاء دیت لے کر یا فی سبیل اللہ معاف کر دیں۔
17سرگرمیاں
”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ“
کی روشنی میں اطاعتِ رسول اور احادیث کی اہمیت
سورہ النساء کی آیت نمبر 80 کا یہ ٹکڑا: ”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ“ (جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ ہی کی اطاعت کی) اسلامی عقیدے کا ایک بنیادی ستون ہے۔
1اطاعتِ خداوندی کا واحد راستہ — اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا کوئی بھی دعویٰ اس وقت تک قابلِ قبول نہیں جب تک محمد ﷺ کی مکمل اطاعت نہ کی جائے۔ رسول کی فرمانبرداری ہی اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے ”جس نے اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہی میں دوب گیا“
2احادیثِ نبویہ کی حجیت اور اہمیت — قرآن مجید اصول اور کلیات بیان کرتا ہے، جبکہ احادیثِ نبویہ ان اصولوں کی عملی تشریح اور تفسیر ہیں۔ مثلاً قرآن نے ”نماز قائم کرو“ کا حکم دیا، لیکن نماز کا طریقہ، اوقات اور رکعات کی تعداد ہمیں احادیث اور سنتِ رسول ﷺ سے ہی معلوم ہوتی ہے۔
3دین کی تکمیل سنت کے بغیر ناممکن — احادیث اور سنتِ نبوی کو دین سے خارج سمجھنا یا ان کی اہمیت کو کم تر جاننا صریح گمراہی ہے۔ آپ ﷺ کا ہر قول، فعل اور تقریر (خاموشی) امت کے لیے شرعی قانون کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ آپ ﷺ اپنی خواہشِ نفس سے کچھ نہیں کہتے، بلکہ وہ وحیِ الٰہی کے تابع ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے۔
4نبی ﷺ تو اپنی خوہش سے کچھ نہیں بولتے وہ تو صرف وہی کہتے ہیں جو ان کی طرف وحی کی جاتی ہے “ اسی طرح زندگی کے ہر معاملے میں نبی ﷺ کی زندگی سے راہ نمائی لینے کی تاکید فر مائی گئی ہے۔ اللہ تعالی ٰ کا فرمان ہے ”اگر تم کسی معاملے میں تنازع میں پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔
5اللہ تعلی مہیں نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین۔
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔