بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 3: سبق 3: سورہ النساء — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 17 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا ۟ ﴿۷۱﴾

آیت 71 میں اہل ایمان کو کیا حکم دیا گیا ہے؟

ترجمہ

اے ایمان والو! اپنی حفاظت کا سامان (اور ہتھیار) لے لیا کرو، پھر (جہاد کے لیے) متفرق جماعتیں بن کر نکلو یا سب اکٹھے ہو کر کوچ کرو۔

وضاحت و حکم

جواب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو دشمن کے خلاف ہر وقت چوکنا رہنے، دفاعی تدابیر اختیار کرنے اور حربی اسباب و ہتھیار تیار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ مزید یہ کہ جنگی حکمت عملی کے تحت ضرورت کے مطابق چھوٹی ٹولیوں میں یا پھر پوری فوج کی شکل میں متحد ہو کر نکلنے کی ہدایت فرمائی گئی
2 مختصر جوابات

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَۃِ ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا ﴿۷۴﴾

آیت 74 کے مطابق اللہ کن لوگوں کو اجرِ عظیم عطا فرمائے گا؟

ترجمہ

پس ان (مومنوں) کو اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے جو آخرت کے عوض دنیوی زندگی کو بیچ دیتے ہیں، اور جو کوئی اللہ کی راہ میں جنگ کرے، خواہ وہ (خود) قتل ہو جائے یا غالب آجائے تو ہم عنقریب اسے عظیم اجر عطا فرمائیں گے۔

وضاحت

جواب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اجرِ عظیم عطا فرمائے گا جو دنیا کی عارضی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ چکے ہیں اور خالص اللہ کی رضا کے لیے جہاد کرتے ہیں۔ خواہ وہ میدانِ جنگ میں شہید ہو جائیں یا غازی بن کر غالب آ جائیں، دونوں صورتوں میں ان کا اجر پکا ہے۔
3 مختصر جوابات

اَیْنَمَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ ؕ ... ﴿۷۸﴾

آیت 78: موت کے بارے میں کیا حقیقت بیان کی گئ؟

ترجمہ

تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پا لے گی، خواہ تم بڑے مضبوط قلعوں کے اندر ہی کیوں نہ ہو

وضاحت و حقیقت

جواب موت کے بارے میں یہ حتمی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور اس کا وقت مقرر ہے۔ انسان موت کے ڈر سے گھر بیٹھ رہے یا جہاد سے جی چرائے، وہ موت سے نہیں بچ سکتا۔ اگر کوئی لوہے کے مضبوط اور فلک بوس قلعوں یا محلوں میں بھی چھپ جائے، تب بھی موت اسے اپنے وقت پر ڈھونڈ نکالے گی۔
4 مختصر جوابات

ماآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۪ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ ؕ ... ﴿۷۹﴾

آیت 79 میں دکھ سکھ پہنچنے کے اسباب بیان ہوئے ہیں؟

ترجمہ

(اے انسان!) تجھے جو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جو کوئی برائی (یا مصیبت) پہنچتی ہے تو وہ تیرے اپنے نفس کی وجہ سے (یعنی تیرے اپنے اعمال کا نتیجہ) ہے۔

وضاحت و اسباب

جواب آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ انسان کو ملنے والی ہر خوشی، نعمت اور بھلائی خالص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ اس کے برعکس، انسان پر آنے والی ہر مصیبت، دکھ اور برائی اس کے اپنے گناہوں، نافرمانیوں اور نفس کی خرابی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگرچہ کائنات کا پورا نظام اور تقدیر اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے (جیسا کہ پچھلی آیت 78 میں فرمایا گیا ”قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ“ یعنی سب اللہ کی طرف سے ہے) لیکن برائی کا مادی سبب انسان کے اپنے برے اعمال بنتے ہیں۔
5 مختصر جوابات

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا

آیت 84: اللہ کا فضل نہ ہونے کی صورت میں کیا نتیجہ نکلتا ہے؟

ترجمہ

(”اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقیناً تم سب چند ایک کے سوا شیطان کی پیروی کرنے لگتے“)۔

جواب سوال میں آیت 83 کے حوالے سے اللہ کا فضل نہ ہونے کے نتیجے کا پوچھا گیا ہے، قرآن مجید میں فضل نہ ہونے کی صورت میں شیطان کی پیروی کا تذکرہ آیت 83 کے آخر میں موجود ہے: یعنی اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت انسان کے شامل حل نہ ہو، تو انسان ہر قسم کی افواہوں اور فتنوں کا شکار ہو کر چند لوگوں کے علاوہ سیدھا شیطان کی پیروی کرنے لگ جاتا۔ اس سے معاشرے میں خوف اور بے چینی اور گمراہی پھیلتی ۔
6 مختصر جوابات

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا ﴿۸۷﴾

آیت 87 میں اللہ تعالیٰ کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟

بیان کردہ صفات

1 ترجمہ۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تمہیں قیامت کے دن ضرور اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، اور اللہ سے بڑھ کر بات میں سچا کون ہو سکتا ہے“
2 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین بنیادی صفات کا ذکر ہے
3 توحید وحدانیت — وہ اکیلا ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
4 قادرِ مطلق اور جامع — وہ تمام کائنات کو ختم کر کے قیامت کے دن دوبارہ زندہ کر کے جمع کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
5 صداقت وسچائی — اللہ تعالیٰ کی گفتگو اور اس کا وعدہ کائنات میں سب سے زیادہ سچا ہے، اس کی بات میں جھوٹ کا کوئی امکان نہیں۔
7 مختصر جوابات

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤی اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ... ﴿۹۴﴾

آیت 94 میں اہل ایمان کو کیا نصیحت کی گئی؟

ترجمہ

اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو خوب تحقیق کر لیا کرو، اور جو کوئی تمہیں سلام کہے (یا اسلام کا اظہار کرے) اس سے یہ نہ کہو کہ ’تو مومن نہیں ہے‘ تاکہ تم دنیوی زندگی کا مال و متاع تلاش کرو۔

نصیحت و ہدایت

جواب اس آیت میں مسلمانوں کو سخت تاکید کی گئی ہے کہ میدانِ جنگ یا عام حالات میں جلد بازی سے کام نہ لیں بلکہ پوری تحقیق (فتبینوا) کر لیا کریں۔ اگر کوئی شخص سلام کر کے یا کلمہ پڑھ کر خود کو مسلمان ظاہر کرے، تو محض مالِ غنیمت یا دنیاوی فائدے کے لالچ میں اسے کافر قرار دے کر قتل نہ کیا جائے۔ اسلام ظاہری اقرار کو قبول کرنے اور شک کی بنیاد پر تکفیر سے بچنے کی ہدایت کرتا ہے۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

وَإِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَيُبَطِّئَنَّ فَإِنْ أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَالَ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ إِذْ لَمْ أَكُنْ مَعَهُمْ شَهِيدًا

آیت نمبر 72 ترجمہ اور وضاحت کریں۔

ترجمہ

اور یقیناً تم میں کوئی ایسا بھی ہے جو (جہاد سے) پس و پیش کرتا ہے، پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا۔

وضاحت

جواب یہ آیت منافقین کے مکارانہ رویے کو بے نقاب کرتی ہے۔ جب مسلمانوں کو کسی غزوے میں جانی یا مالی نقصان (مصیبت) پہنچتا، تو منافقین خوش ہوتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ معرکے میں نہ جا کر انہوں نے عقلمندی کی اور خود کو محفوظ رکھا۔
9 تفصیلی جوابات

الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا

اس آیت میں اہلِ ایمان اور کفار کے کس کا تقابل کا ذکر ہے؟

ترجمہ

جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنھوں نے کفر کیا وہ طاغوت (سرکش شیطان) کی راہ میں لڑتے ہیں۔ پس تم شیطان کے ساتھیوں سے لڑو، یقیناً شیطان کی چال بالکل کمزور ہوتی ہے۔

اس آیت میں دونوں گروہوں کے مقصدِ جنگ اور پشت پناہ کا واضح تقابل کیا گیا ہے

اہلِ ایمان اور کفار کا تقابل

1 اہلِ ایمان — اللہ کی رضا، حق کی سربلندی اور انصاف کے لیے لڑتے ہیں۔ ان کا مولیٰ اللہ ہے۔
2 کفار — طاغوت (سرکشی، بتوں، اور ظالم قوتوں) کی راہ میں لڑتے ہیں۔ ان کے پشت پناہ شیاطین ہیں جن کی چالیں انتہائی کمزور ہوتی ہیں۔
10 تفصیلی جوابات

وَلَئِنْ أَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِنَ اللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَنْ لَمْ تَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ مَوَدَّةٌ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا

ترجمہ اور مفہوم کریں

ترجمہ

اور اگر تمہیں اللہ کی طرف سے کوئی فضل (فتح و غنیمت) حاصل ہو جائے، تو وہ اس طرح کہ جیسے تمہارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی تھی ہی نہیں، کہتا ہے: ہائے کاش! میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو میں بھی بڑی کامیابی (مالِ غنیمت) حاصل کرتا۔

مفہوم

جواب اس آیت کا مفہوم منافقین کی مادہ پرستی اور دنیا پرستی کو ظاہر کرنا ہے۔ ان کا ایمان یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر مسلمانوں کو فتح اور مالِ غنیمت ملے، تو وہ افسوس کرتے ہیں کہ وہ وہاں کیوں نہیں تھے تاکہ مال سمیٹ سکتے۔ وہ مسلمانوں کو اپنا بھائی نہیں بلکہ صرف فائدے کا شراکت دار سمجھتے ہیں۔
11 تفصیلی جوابات

فقاتل فی سبیل اللہ۔۔۔۔۔۔ اشد تنقیلا۔ آیت میں رسول ﷺ کو کیا تلقین کی گئ؟ آیت 84

ترجمہ

پس (اے نبی!) آپ اللہ کی راہ میں لڑئیے، آپ کو صرف آپ کی اپنی ذات کے لیے مکلف کیا گیا ہے اور مومنوں کو (جہاد پر) ابھارئیے۔ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کی جنگی قوت کو روک دے، اور اللہ گرفت کرنے میں سب سے سخت اور سزا دینے میں سب سے شدید ہے۔

اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو دو اہم باتوں کی تلقین فرمائی گئی ہے:

رسول اللہ ﷺ کو تلقین

1 انفرادی ذمہ داری — اگر کوئی بھی آپ کا ساتھ نہ دے، تب بھی آپ اکیلے ہی باطل کے خلاف ڈٹ جائیں۔ آپ صرف اپنے عمل کے جوابدہ ہیں۔
2 ترغیبِ جہاد — مسلمانوں کو بزدلی چھوڑنے اور اللہ کی راہ میں قتال کرنے کے لیے تیار کریں اور ان کی ہمت بندھائیں۔
12 تفصیلی جوابات

فمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا ۚ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلا

ترجمہ اور وضاحت کریں

ترجمہ

پھر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ بن رہے ہو؟ حالانکہ اللہ نے انہیں ان کے کرتوتوں کے باعث اوندھا کر دیا ہے۔ کیا تم اسے ہدایت دینا چاہتے ہو جسے اللہ نے گمراہ کر دیا؟ اور جسے اللہ گمراہ کر دے آپ اس کے لیے کبھی کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔

وضاحت

جواب یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جو بظاہر اسلام کا دم بھرتے تھے مگر عملاً کفار کے مددگار تھے۔ مسلمانوں میں ان کے ساتھ نرمی یا سختی برتنے کے معاملے پر دو رائیں بن گئی تھیں۔ اہل ایمان میں بعض کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ نرمی ہونی چاہیے ،آخر یہ ایمان تو لائے تھے نا،اب ہجرت نہیں کر سکے۔ جبکہ کچھ لوگ اللہ کے حکم کے معاملے میں ان سے سخت رویہ اختیار کرنے کے حق میں تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جھنجھوڑا کہ ان کی بدعملیوں کی وجہ سے اللہ نے انہیں کفر کی طرف لوٹا دیا ہے، اس لیے ان کے بارے میں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔
13 تفصیلی جوابات

وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا

آیت میں جان بوجھ کر قتل کرنے کی کیا وعید سنائی گئی ہے؟

ترجمہ

اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے، اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

کسی مسلمان کو عمداً (جان بوجھ کر) قتل کرنے پر اس آیت میں پانچ انتہائی سخت سزائیں اور وعیدیں سنائی گئی ہیں

جان بوجھ کر قتل کرنے کی وعیدیں

1 جہنم میں ہمیشہ رہنے کا عذاب (طویل ترین مدت)
2 اللہ تعالیٰ کا شدید غضب اور ناراضگی
3 اللہ تعالیٰ کی لعنت (رحمت سے دوری)
4 آخرت میں عذابِ عظیم کا تیار ہونا
جواب اسلام میں انسانی جان کی حرمت اتنی زیادہ ہے کہ ایمان والے کے قتل کو کفر کے برابر ہولناک گناہ قرار دیا گیا ہے

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

سلام کے فضائل اور آداب بیان کریں

اسلام میں سلام کرنے کو ایک عظیم الشان عبادت، محبت بڑھانے کا ذریعہ اور شعارِ اسلام قرار دیا گیا ہے۔

سلام کے فضائل: اور سلام کے آداب:

1 سلام کے فضائل: — محبت کا فروغ — آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا جب تک تم آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس پر عمل کرنے سے محبت پیدا ہو؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔“
2 سلام کے فضائل: — ثواب کا حصول — سلام کے الفاظ کے مطابق نیکیاں ملتی ہیں۔ ”السلام علیکم“ پر 10، ”ورحمۃ اللہ“ ملانے پر 20، اور ”وبرکاتہ“ ملانے پر 30 نیکیاں ملتی ہیں۔
3 سلام کے فضائل: — سلامتی کی دعا — سلام حقیقت میں ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے لیے دنیا و آخرت کی سلامتی اور رحمت کی دعا ہے۔
4 سلام کے آداب: — پہل کرنا — سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کرنی چاہیے، کیونکہ پہل کرنے والا تکبر سے پاک ہوتا ہے۔
5 سلام کے آداب: — چھوٹا بڑے کو کرے — سواری پر چلنے والا پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے۔
6 سلام کے آداب: — واضح آواز — سلام ہمیشہ واضح اور درست الفاظ میں کرنا چاہیے تاکہ اگلا بندہ آسانی سے سن سکے۔
7 سلام کے آداب: — بہتر جواب دینا — قرآن پاک کے مطابق، جب تمہیں سلام کیا جائے تو اس سے بہتر الفاظ میں جواب دو یا کم از کم ویسے ہی الفاظ لوٹا دو۔
15 سرگرمیاں

سورہ النساء میں منافقین کی چار اقسام

سورہ النساء کی آیات 88 تا 91 میں منافقین کی چار مختلف اقسام اور ان کے انفرادی احکامات کا تفصیلی تذکرہ ملتا ہے:

1 نمبر — منافقین کی قسم — شرعی حکم و تفصیل
2 1 — مکہ کے وہ منافقین جنہوں نے ہجرت نہیں کی — یہ وہ لوگ تھے جو زبانی کلامی اسلام کا دعویٰ کرتے تھے مگر کفر کے ماحول سے نکل کر مدینہ ہجرت کرنے کو تیار نہ تھے۔ قرآن نے حکم دیا کہ اگر یہ سچے ہیں تو ہجرت کریں، ورنہ ان سے دوستی نہ کی جائے اور دورانِ جنگ یہ جہاں ملیں ان سے قتال کیا جائے۔
3 2 — مسلمانوں کے حلیف قبیلوں میں پناہ لینے والے — یہ وہ منافقین تھے جو کسی ایسے قبیلے یا قوم سے جا ملے تھے جن کا مسلمانوں کے ساتھ امن اور صلح کا معاہدہ (معاہدہِ دوستی) تھا۔ ان کے بارے میں حکم دیا گیا کہ ان سے تعرض نہ کیا جائے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔
4 3 — جنگ سے بیزار منافقین (تنگ دل) — یہ وہ منافقین تھے جن کے دل مسلمانوں یا اپنی ہی قوم سے لڑنے سے تنگ آ چکے تھے، وہ غیر جانبدار رہنا چاہتے تھے۔ قرآن نے ان کے بارے میں فرمایا کہ چونکہ اللہ نے ان کو تم پر مسلط نہیں کیا اور انہوں نے صلح کی پیشکش کی ہے، لہٰذا ان سے بھی جنگ نہ کی جائے۔
5 4 — دہرے مفاد پرست منافقین — یہ وہ خطرناک قسم تھی جو مسلمانوں کے پاس آ کر امن چاہتے تھے تاکہ مسلمانوں سے محفوظ رہیں اور اپنی کافر قوم کے پاس جا کر کفر کا اظہار کرتے تھے تاکہ وہاں بھی محفوظ رہیں۔ جب بھی انہیں فتنے کا موقع ملتا، یہ کود پڑتے۔ ان کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئیں تو ان کو قید کیا جائے اور قتل کیا جائے۔
16 سرگرمیاں

سورہ النساء کی روشنی میں قتلِ خطا اور قتلِ عمد کا فرق اور احکام

سورہ النساء کی آیت نمبر 92 اور 93 میں قتل کی ان دونوں اقسام کا فرق اور سخت احکامات بیان ہوئے ہیں:

الف) قتلِ خطا (نہ چاہنے کے باوجود دھوکے یا غلطی سے قتل ہونا) اور ب) قتلِ عمد (جان بوجھ کر، ارادتاً قتل کرنا)

1 الف) قتلِ خطا (نہ چاہنے کے باوجود دھوکے یا غلطی سے قتل ہونا) — اگر کسی مسلمان سے غلطی، نشانہ چوکنے یا کسی حادثے کی وجہ سے کسی دوسرے مسلمان کا قتل ہو جائے تو اسے قتلِ خطا کہتے ہیں۔
2 الف) قتلِ خطا (نہ چاہنے کے باوجود دھوکے یا غلطی سے قتل ہونا) — دینوی حکم (کفارہ اور دیت) — قاتل پر لازم ہے کہ وہ ایک مومن غلام آزاد کرے (موجودہ دور میں اس کے بدلے مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا ہیں)۔ اس کے ساتھ مقتول کے ورثاء کو ”دیت“ (خون بہا/مالی معاوضہ) ادا کی جائے، سوائے اس کے کہ ورثاء اپنی خوشی سے دیت معاف کر دیں۔
3 الف) قتلِ خطا (نہ چاہنے کے باوجود دھوکے یا غلطی سے قتل ہونا) — مقتول اگر دار الحرب میں ہو — اگر مقتول مسلمان ہو لیکن وہ مسلمانوں کی دشمن قوم (کافروں) کے درمیان رہتا ہو، تو قاتل پر صرف غلام آزاد کرنا (یا روزے رکھنا) لازم ہے، دیت ادا نہیں کی جائے گی۔
4 ب) قتلِ عمد (جان بوجھ کر، ارادتاً قتل کرنا) — جب کوئی شخص کسی مسلمان کو جانتے بوجھتے ہوئے، دشمنی یا کسی بھی وجہ سے ارادتاً قتل کر دے تو اسے قتلِ عمد کہتے ہیں۔
5 ب) قتلِ عمد (جان بوجھ کر، ارادتاً قتل کرنا) — اخروی اور شرعی احکام — قرآن مجید نے اس کی سزا انتہائی سخت بیان کی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے عظیم عذاب تیار کر رکھا ہے۔
6 ب) قتلِ عمد (جان بوجھ کر، ارادتاً قتل کرنا) — دنیاوی سزا — دنیا میں اسلامی عدالت کے ذریعے قاتل سے ”قصاص“ (جان کے بدلے جان) لیا جائے گا، الا یہ کہ مقتول کے اولیاء دیت لے کر یا فی سبیل اللہ معاف کر دیں۔
17 سرگرمیاں

”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ“

کی روشنی میں اطاعتِ رسول اور احادیث کی اہمیت

سورہ النساء کی آیت نمبر 80 کا یہ ٹکڑا: ”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ“ (جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ ہی کی اطاعت کی) اسلامی عقیدے کا ایک بنیادی ستون ہے۔

1 اطاعتِ خداوندی کا واحد راستہ — اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا کوئی بھی دعویٰ اس وقت تک قابلِ قبول نہیں جب تک محمد ﷺ کی مکمل اطاعت نہ کی جائے۔ رسول کی فرمانبرداری ہی اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے ”جس نے اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہی میں دوب گیا“
2 احادیثِ نبویہ کی حجیت اور اہمیت — قرآن مجید اصول اور کلیات بیان کرتا ہے، جبکہ احادیثِ نبویہ ان اصولوں کی عملی تشریح اور تفسیر ہیں۔ مثلاً قرآن نے ”نماز قائم کرو“ کا حکم دیا، لیکن نماز کا طریقہ، اوقات اور رکعات کی تعداد ہمیں احادیث اور سنتِ رسول ﷺ سے ہی معلوم ہوتی ہے۔
3 دین کی تکمیل سنت کے بغیر ناممکن — احادیث اور سنتِ نبوی کو دین سے خارج سمجھنا یا ان کی اہمیت کو کم تر جاننا صریح گمراہی ہے۔ آپ ﷺ کا ہر قول، فعل اور تقریر (خاموشی) امت کے لیے شرعی قانون کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ آپ ﷺ اپنی خواہشِ نفس سے کچھ نہیں کہتے، بلکہ وہ وحیِ الٰہی کے تابع ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے۔
4 نبی ﷺ تو اپنی خوہش سے کچھ نہیں بولتے وہ تو صرف وہی کہتے ہیں جو ان کی طرف وحی کی جاتی ہے “ اسی طرح زندگی کے ہر معاملے میں نبی ﷺ کی زندگی سے راہ نمائی لینے کی تاکید فر مائی گئی ہے۔ اللہ تعالی ٰ کا فرمان ہے ”اگر تم کسی معاملے میں تنازع میں پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔
5 اللہ تعلی مہیں نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.