بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 2: سبق 2: سورہ النساء — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ﴾

آیت 34: نیک بیویوں کی صفات تحریر کریں

ترجمہ

جواب ۔ مرد عورتوں پر حاکم (نگران) ہیں اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔ پس نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، مردوں کی غیر موجودگی میں اللہ کی حفاظت میں (ان کے مال اور آبرو کی) حفاظت کرتی ہیں۔

نیک بیویوں کی صفات

1 وہ شوہر اور اللہ کی فرمانبردار ہوتی ہیں۔
2 شوہر کی عدم موجودگی میں اپنی عفت و آبرو کی حفاظت کرتی ہیں۔
3 شوہر کے مال اور گھر بار کی حفاظت کرتی ہیں۔
2 مختصر جوابات

﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا﴾

آیت 36: میں اللہ نے کن باتوں کا حکم دیا؟

ترجمہ

اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریبی پڑوسی، اجنبی پڑوسی، پہلو کے ساتھی (مسافر یا رفیق)، راہگیر اور اپنے غلاموں (ملازموں) کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، بے شک اللہ اترانے والے اور بڑائی مارنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

1 اللہ کے احکامات — صرف اللہ کی عبادت کرنا اور شرک نہ کرنا۔
2 والدین — کے ساتھ احسان (بھلائی) کرنا۔
3 رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں — کی مدد کرنا۔
4 قریبی اور دور کے پڑوسیوں — سے اچھا سلوک کرنا۔
5 ہم نشینوں (دوستوں/ساتھیوں)، مسافروں اور ماتحتوں — کے حقوق ادا کرنا۔
3 مختصر جوابات

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾

آیت میں اللہ کے کن احسنات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

بے شک اللہ ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دوگنا (کئی گنا) کر دیتا ہے اور اپنے پاس سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔

اللہ تعالی کے درج ذیل احسانات کا ذکر ہے

1 اللہ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، اس لیے بندوں کو بھی عدل کرنا چاہیے۔
2 چھوٹی سے چھوٹی نیکی ضائع نہیں ہوتی، اللہ اسے بڑھا کر دیتا ہے۔
3 اللہ کے ہاں سے اجرِ عظیم ہے اسکی امید رکھنی چاہیے۔
4 مختصر جوابات

﴿يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّى بِهِمُ الْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا﴾

آیت میں کفار اور رسول ﷺ کی نافرمانی کرنے والے قیامت کے دن کیا آرزو کریں گے؟

ترجمہ

اس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی، یہ آرزو کریں گے کہ کاش انہیں زمین میں دبا کر زمین برابر کر دی جائے (یعنی وہ مٹی ہو جائیں)، اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔

قیامت کے دن ان کی آرزو

1 کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں تاکہ مٹی میں مل کر برابر ہو جائیں۔
2 وہ عبرتناک عذاب اور رسوائی سے بچنے کے لیے اپنے وجود کے ختم ہونے کی تمنا کریں گے۔
5 مختصر جوابات

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾

آیت کی رو سے اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کو مسلسل عذاب کا مزہ کیسے چکھایا جائے گا؟

ترجمہ

بے شک جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا، انہیں ہم عنقریب آگ میں جھونکیں گے، جب بھی ان کی کھالیں پک (جل) جائیں گی، ہم ان کی جگہ دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں، بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

مسلسل عذاب کا طریقہ

1 جہنم کی آگ میں جب ان کی کھالیں جل کر کوئلہ ہو جائیں گی۔
2 اللہ ان پر نئی کھالیں پیدا کر دے گا۔
3 یہ عمل مسلسل جاری رہے گا تاکہ عذاب کی شدت میں کبھی کمی نہ آئے۔
6 مختصر جوابات

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُودًا

آیت 61: میں منافقین کا کیا طرز عمل بیان ہوا؟

ترجمہ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ حکم کی طرف اور رسول کی طرف آؤ، تو آپ منافقوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ سے منہ موڑ کر رک جاتے ہیں۔

منافقین کا طرز عمل

1 جب انہیں قرآن اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق فیصلے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں۔
2 وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے سے شدید نفرت کے ساتھ منہ موڑ لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں
7 مختصر جوابات

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

آیت 65: میں اطاعتِ رسول ﷺ کے حوالے سے ت کیا تعلیم دی گئ

ترجمہ

پس آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ تب تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے آپسی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے پوری طرح تسلیم کر لیں۔

اطاعتِ رسول ﷺ کے حوالے سے تعلیم

1 ایمان کی بنیادی شرط یہ ہے کہ تمام تنازعات میں نبی کریم ﷺ کو حاکم و فیصل مانا جائے۔
2 آپ ﷺ کے فیصلے پر دل میں کوئی اِنقباض یا تنگی محسوس نہ کی جائے۔
3 آپ ﷺ کے ہر حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا جائے اور کامل اطاعت کی جائے

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَاللَّهُ علیم حکیم۔

سورہ النساء آیات 26، 27، 28 (عربی، ترجمہ و مفہوم) بیان کریں

ترجمہ

”اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے (اپنے احکام) واضح کر دے اور تمہیں تم سے پہلے (نیک) لوگوں کے طریقے بتائے اور تمہاری توبہ قبول فرمائے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔“

مفہوم و تشریح

1 ”اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے (تمہاری توبہ قبول کرے) اور جو لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے چلے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ حق سے بھٹک کر بہت دور نکل جاؤ۔“
2 ”اللہ چاہتا ہے کہ تم سے (احکام میں) تخفیف کر دے (آسانی پیدا کرے)، اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔“
3 ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی رحمانیت، شفقت اور احکامِ الٰہی کی حکمت بیان کی گئی ہے:
4 حلال و حرام کی وضاحت — اللہ نے نکاح، خاندانی قوانین اور حلال و حرام کی حدود کو واضح کر دیا ہے تاکہ انسان گمراہی سے بچ سکے۔
5 خواہشات کے پجاریوں کی چالیں — سوسائٹی میں وہ لوگ جو دین سے دور اور شہوات کے اسیر ہیں، وہ مسلمانوں کو بھی بے راہ روی اور اخلاقی پستی میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
6 انسانی کمزوری اور دین کی آسانی — انسان فطرتاً جذباتی اور کمزور ہے۔ اسی لیے اسلام نے سخت احکامات نہیں دیے بلکہ انسانی سہولت کے مطابق قوانین بنائے۔
9 تفصیلی جوابات

إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا

سورہ النساء آیت 31 میں بڑے گناہوں سے بچنے پر کیا انعامات بیان ہوئے

ترجمہ

”اگر تم ان بڑے گناہوں (کبیرہ گناہوں) سے بچتے رہو گے جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے، تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ (صغیرہ گناہ) معاف کر دیں گے اور تمہیں عزت دار جگہ (جنت) میں داخل کریں گے۔“

آیت کی رو سے کبیرہ گناہوں (جیسے شرک، جادو، قتل، سود، والدین کی نافرمانی) سے دور رہنے پر دو بڑے انعامات کا وعدہ ہے:

آیت کے مطابق بڑے گناہوں سے بچنے کے انعامات

1 صغیرہ گناہوں کی معافی — انسان سے نادانی میں ہونے والی چھوٹی برائیاں اور خطائیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خود ہی مٹا دیتا ہے۔
2 عزت و احترام والا داخلہ — اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو آخرت میں معزز مقام یعنی جنت الفردوس میں داخلہ عطا فرمائے گا۔
10 تفصیلی جوابات

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا (33)

سورہ النساء آیت 33 کا ترجمہ و مفہوم بیان کریں

ترجمہ

”اور ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار (وارث) مقرر کر دیے ہیں جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑیں، اور جن سے تمہارا عہد و پیمان ہو چکا ہے انہیں ان کا حصہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔“

مفہوم و تشریح

1 قانونِ وراثت کی تاکید — یہ آیت میراث کے الٰہی نظام کو مستحکم کرتی ہے۔ انسان کی وفات کے بعد اس کے مال میں پہلا حق والدین اور قریبی رشتہ داروں کا ہے، جس کی تقسیم خود اللہ نے طے کی ہے۔
2 عہد و پیمان کی پاسداری — اسلام سے قبل یا ابتدائی دور میں لوگ آپس میں بھائی چارے یا منہ بولے رشتے کا معاہدہ کرتے تھے (موالات)۔ آیت میں حکم دیا گیا کہ اپنے جائز معاہدوں اور وصیتوں کے مطابق ان افراد کا حصہ بھی ادا کرو۔
11 تفصیلی جوابات

فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا (62)

سورہ النساء آیت 62 (منافقین کو مصیبت پہنچنے کا کیا سبب بیان ہوا ہے اور اس پر کس ردِ عمل کا اظہار کرتے ہیں؟)

ترجمہ

”پھر اس وقت کیا حال ہوتا ہے جب ان پر ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت آ پڑتی ہے؟ پھر یہ تمہارے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا مقصد صرف بھلائی اور باہمی موافقت (صلح) کرانا تھا۔“

منافقین پر مصیبت پہنچنے کا سبب اور مصیبت پر منافقین کا ردِ عمل

1 منافقین پر مصیبت پہنچنے کا سبب — اللہ اور رسول کے قانون سے اعراض — منافقین اپنے فیصلے کرانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کے بجائے غیر اللہ (طاغوت/کاہنوں) کے پاس جاتے تھے۔
2 منافقین پر مصیبت پہنچنے کا سبب — اپنے برے اعمال کا نتیجہ — جب ان کے اس دوغلے پن کا پردہ چاک ہو جاتا یا انہیں دنیوی نقصان اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا، تو وہ اپنی ہی بد اعمالیوں کے جال میں پھنس جاتے تھے۔
3 مصیبت پر منافقین کا ردِ عمل — جب منافقین رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے یا مصیبت میں گھیر جاتے، تو وہ درج ذیل ردِ عمل کا اظہار کرتے:
4 مصیبت پر منافقین کا ردِ عمل — جھوٹی قسمیں کھانا — وہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں آ کر اللہ کی سخت قسمیں کھاتے کہ وہ دل سے مسلمان ہیں۔
5 مصیبت پر منافقین کا ردِ عمل — نیت کی صفائی کا جھوٹا دعویٰ — وہ عذر پیش کرتے کہ غیروں کے پاس جانے کا مقصد دین کو نقصان پہنچانا نہیں تھا، بلکہ ہم تو صرف ”بھلائی“ اور فریقین کے درمیان ”موافقت و توازن“ چاہتے تھے۔
12 تفصیلی جوابات

وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِن دِيَارِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ ۖ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا (66)

سورہ النساء آیت 66 کا ترجمہ و مفہوم بیان کریں

ترجمہ

”اور اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ، تو ان میں سے بہت تھوڑے لوگ ہی اس پر عمل کرتے، اور اگر یہ اس نصیحت پر عمل کرتے جو انہیں دی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہت بہتر اور (ایمان پر) زیادہ ثابت قدمی کا باعث ہوتا۔“

مفہوم و تشریح

1 اللہ کی رحمت کا بیان — اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت شفیق ہے۔ بنی اسرائیل کو تو توبہ کے لیے جانیں قربان کرنے کا حکم ملا تھا، مگر امتِ محمدیہ پر ایسے سخت احکام نہیں لگائے گئے۔
2 اطاعت میں خیر اور ثابت قدمی — منافقین چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناک بھوں چڑھاتے تھے۔ اللہ فرما رہا ہے کہ جو احکامات تمہیں دیے جا رہے ہیں (مثلاً نماز، زکوٰۃ، عدل) ان پر عمل کرو، اسی میں تمہاری دنیا و آخرت کی بھلائی ہے اور اسی سے ایمان مضبوط ہوتا ہے۔
13 تفصیلی جوابات

وَمَن يُطِيعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا

سورہ النساء آیت 69 میں اللہ کے انعام یافتہ بندوں کے بارے میں کیا فرمایا گیا اور وہ کون ہیں؟

ترجمہ

”اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرے، تو یہی لوگ (قیامت کے دن) ان ہستیوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین؛ اور یہ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔“

انعام یافتہ بندوں کے بارے میں کیا بتایا گیا؟ اور وہ چار گرہ (کون ہیں؟)

1 انعام یافتہ بندوں کے بارے میں کیا بتایا گیا؟ — یہ بتایا گیا ہے کہ جو بندہ اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت میں گزارے گا، اسے آخرت میں انعام یافتہ بندوں کی دائمی رفاقت اور صحبت نصیب ہوگی۔
2 وہ چار گرہ (کون ہیں؟) — اللہ تعالیٰ نے انعام یافتہ بندوں کے چار درجات بیان فرمائے ہیں:
3 وہ چار گرہ (کون ہیں؟) — الانبیاء (علیہم السلام) — اللہ کے برگزیدہ پیغمبر جو وحی کے حامل ہوتے ہیں۔
4 وہ چار گرہ (کون ہیں؟) — الصدیقین — وہ سچے لوگ جنہوں نے بلا جھجک حق کی تصدیق کی اور ان کا ظاہر و باطن ایک ہوا (جیسے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ)۔
5 وہ چار گرہ (کون ہیں؟) — الشهداء — وہ نفوسِ قدسیہ جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا یا حق کی گواہی دی۔
6 وہ چار گرہ (کون ہیں؟) — الصالحین — وہ نیک لوگ جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو اخلاص کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔

سرگرمیاں

14 سرگرمیاں

تیمم کے احکام اور طریقہ

تیمم پانی نہ ملنے یا پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں مٹی سے پاکیزگی حاصل کرنے کا ایک شرعی رخصت والا طریقہ ہے۔

تیمم کے احکام (شرائط و فرائض) اور تیمم کا مسنون طریقہ (مرحلہ وار)

1 تیمم کے احکام (شرائط و فرائض) — وجوہات — پانی بالکل دستیاب نہ ہو، پانی تک پہنچنا ناممکن ہو، یا انسان ایسا بیمار ہو کہ پانی استعمال کرنے سے مرض بڑھنے کا خطرہ ہو۔
2 تیمم کے احکام (شرائط و فرائض) — مٹی کی جنس — تیمم پاک مٹی، ریت، پتھر، گرد یا زمین کی جنس سے تعلق رکھنے والی کسی بھی پاک چیز پر کیا جا سکتا ہے۔
3 تیمم کے احکام (شرائط و فرائض) — فرائض — تیمم میں کل 3 فرائض ہیں: پاکی حاصل کرنے کی نیت کرنا۔
4 تیمم کے احکام (شرائط و فرائض) — مٹی پر ہاتھ مار کر پورے چہرے کا مسح کرنا۔
5 تیمم کے احکام (شرائط و فرائض) — دوبارہ مٹی پر ہاتھ مار کر کہنیوں سمیت دونوں بازوؤں کا مسح کرنا۔
6 تیمم کا مسنون طریقہ (مرحلہ وار) — نیت اور تسمیہ — دل میں پاکی کی نیت کریں اور بِسْمِ اللَّهِ پڑھیں۔
7 تیمم کا مسنون طریقہ (مرحلہ وار) — پہلا ضرب (چہرہ) — دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو پاک مٹی یا زمین پر ماریں اور اگر مٹی زیادہ لگ جائے تو پھونک مار کر جھاڑ لیں۔ پھر ان ہاتھوں کو پورے چہرے پر اس طرح پھیریں کہ کوئی جگہ باقی نہ رہے۔
8 تیمم کا مسنون طریقہ (مرحلہ وار) — دوسرا ضرب (بازو) — دوبارہ دونوں ہاتھ مٹی پر ماریں اور پہلے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کا کہنیوں سمیت مسح کریں، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا کہنیوں سمیت مسح کریں۔ انگلیوں کے درمیان خلال بھی کریں۔
15 سرگرمیاں

طاغوت کا مفہوم اور دورِ حاضر میں اس کے مظاہر

طاغوت کا مفہوم اور دورِ حاضر میں طاغوت کے مظاہر (Examples)

1 طاغوت کا مفہوم — لغوی معنی — یہ لفظ ”طغیان“ سے نکلا ہے، جس کے معنی حد سے تجاوز کرنا یا سرکشی کرنا ہے۔
2 طاغوت کا مفہوم — شرعی و اصطلاحی معنی — امام ابن قیمؒ کے مطابق، ہر وہ چیز یا شخص جس کی وجہ سے انسان اللہ کی مقرر کردہ حد سے تجاوز کر جائے، خواہ وہ کوئی معبود ہو، کوئی رہنما ہو یا کوئی مطاع (جس کی اطاعت کی جائے)۔ آسان الفاظ میں، اللہ کے قانون کے مقابلے میں اپنا قانون چلانے والی ہر باطل طاقت طاغوت ہے۔ شیطان، بت، جادوگر اور ظالم حکمران سب اس میں شامل ہیں۔
3 دورِ حاضر میں طاغوت کے مظاہر (Examples) — موجودہ دور میں طاغوت مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے موجود ہے:
4 دورِ حاضر میں طاغوت کے مظاہر (Examples) — سیکولر اور الحادی نظریات — وہ عالمی نظریات اور فلسفے (جیسے الحاد، لادینیت) جو اللہ کے وجود یا اس کے احکامات کو زندگی سے خارج کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔
5 دورِ حاضر میں طاغوت کے مظاہر (Examples) — خدا بیزار عدالتی و قانونی نظام — ایسے دساطیر اور اسمبلیاں جو دانستہ طور پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حلال کردہ کو حرام اور حرام کردہ کو حلال کرتی ہیں۔
6 دورِ حاضر میں طاغوت کے مظاہر (Examples) — میڈیا اور کلچرل یلغار — وہ ذرائع ابلاغ اور فیشن انڈسٹریز جو فحاشی، عریانی اور اللہ کی حدود کو توڑنے کو فخر اور آزادی کا نام دیتے ہیں۔
7 دورِ حاضر میں طاغوت کے مظاہر (Examples) — خواہشِ نفس کی پرستش — مادی دنیا میں اندھا دھند غرق ہو کر اپنے نفس کو سب کچھ مان لینا بھی معنوی طور پر طاغوت کی پیروی ہے۔
16 سرگرمیاں

امانت کا وسیع مفہوم اور قرآن و سنت کی روشنی میں اہمیت

عام طور پر امانت سے مراد صرف کسی کے پیسے یا مال کی حفاظت کرنا لیا جاتا ہے، لیکن اسلام میں امانت کا مفہوم انتہائی وسیع ہے:

1 امانت کا وسیع مفہوم — دینی امانت — اسلام کے تمام فرائض (نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ) اللہ کی امانت ہیں جنہیں پورا کرنا واجب ہے۔
2 امانت کا وسیع مفہوم — اخلاقی و سماجی امانت — کسی کا راز اپنے پاس محفوظ رکھنا، کسی کو مخلصانہ مشورہ دینا، اور اپنی سرکاری یا نجی ذمہ داریوں (ڈیوٹی) کو دیانت داری سے پورا کرنا امانت ہے۔
3 امانت کا وسیع مفہوم — جسمانی و مادی امانت — ہماری جان، آنکھیں، کان، زبان، مال اور اولاد سب اللہ کی دی ہوئی امانتیں ہیں، جنہیں اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا لازم ہے۔
4 امانت کا وسیع مفہوم — اہلیت کی امانت — کسی عہدے، نوکری یا منصب کے لیے صحیح اور اہل شخص کا انتخاب کرنا بھی ایک بڑی امانت ہے۔
5 قرآن کی روشنی میں اہمیت — اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کرو۔“ (سورہ النساء: 58)
6 قرآن کی روشنی میں اہمیت — مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔“ (سورہ المومنون: 8)
7 سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اہمیت — رسول اللہ ﷺ نے ایمان اور امانت داری کو لازم و ملزوم قرار دیا: ”اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں“ (مسند احمد)۔
8 سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اہمیت — آپ ﷺ نے امانت میں خیانت کو منافقت کی نشانی بتایا: ”منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے خلاف ورزی کرے، اور جب اسے امین بنایا جائے (امانت دی جائے) تو خیانت کرے“ (صحیح بخاری)۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.