بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 21: سبق 21: سورہ ممتحنہ، سورہ الصف اور جمعہ — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 16 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

إِن يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا۟ لَكُمْ أَعْدَآءًۭ وَيَبْسُطُوٓا۟ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُم بِٱلسُّوٓءِ وَوَدُّوا۟ لَوْ تَكْفُرُونَ

اس آیت میں کفار کے کن اہم مذموم عزائم اور رویوں کا ذکر کیا گیا

جواب

1 غلبہ کے موقع پر کھلی دشمنی — ”اگر وہ تم پر قابو پا جائیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں“
2 جسمانی ایذارسانی — ”اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں آزار دیں“ (یعنی عملی و قولی دونوں طرح سے نقصان پہنچانا)
3 دین سے برگشتگی کی آرزو — ”وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہو جاؤ“
2 مختصر جوابات

﴿لَن تَنفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ ۚ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ ۔ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ۔

آیت میں قیامت کے دن کس کے نفع نہ دینے کا ذکر ہے؟

جواب۔ وضاحت

جواب اس آیت میں ذکر ہے کہ قیامت کے دن انسان کے رشتے دار (قرابتیں) اور اولاد کسی کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکیں گے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں اور کافروں کے درمیان جدائی کر دے گا۔
3 مختصر جوابات

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیهِمۡ أُسوَةٌ حَسَنَةࣱ لِّمَن كَانَ یَرجُوا ٱللَّهَ وَٱلیَومَ ٱلاخِرَۚ﴾

آیت 6 — آیت میں کن لوگوں کے لیے اسوہ حسنہ موجود ہے؟

وضاحت

جواب اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا طرزِ عمل ان لوگوں کے لیے اسوہ حسنہ (اچھا نمونہ) قرار دیا گیا ہے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں۔
4 مختصر جوابات

﴿عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةًؕ﴾

سورہ ممتحنہ آیت 7 (عربی اور وضاحت) — آیت میں اللہ نے کن لوگوں کے درمیان محبت پیدا ہونے کی خبر ہے؟

جواب۔ وضاحت

جواب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ مسلمانوں اور ان لوگوں (کفارِ مکہ) کے درمیان جو اس وقت ان کے دشمن تھے، قریب ہے کہ محبت اور دوستی پیدا فرما دے (جو بعد میں فتح مکہ کے بعد ان کے مسلمان ہونے سے پوری ہوئی)۔
5 مختصر جوابات

﴿يَـأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ إِذَا جَاۤءَكُمُ ٱلْمُؤۡمِنَـٰتُ مُهَـٰجِرَٰتٖ فَٱمۡتَحِنُوهُنَّ﴾

سورہ ممتحنہ آیت 10 ۔ ہجرت کرنے والی عورتوں کے بارے میں کیا ہدایت ہے؟

ترجمہ

عربی کا حصہ: (اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لو)۔

ہدایت

جواب اہل ایمان کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے ایمان کی جانچ پڑتال کرو۔ اگر وہ سچی مومنہ ثابت ہوں تو انہیں کافروں کے پاس واپس مت بھیجو، کیونکہ وہ کافروں کے لیے حلال نہیں اور نہ کافر ان کے لیے حلال ہیں۔
6 مختصر جوابات

وَسْئَلُوا مَا أَنفَقْتُمْ وَلَيْسْأَلُوا مَا أَنفَقُوا ْ

سورہ ممتحنہ آیت 10 (مہر کے کیا احکام بیان ہوئے؟

جواب۔ حکم

جواب اس حصے میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ کافر شوہروں نے جو مہر ان عورتوں پر خرچ کیا تھا، وہ انہیں واپس کر دو؛ اور مسلمانوں کو بھی اجازت دی گئی ہے کہ جو مہر انہوں نے اپنی کافر بیویوں پر خرچ کیا تھا (جو مرتد ہو کر یا کافروں کے پاس چلی گئیں)، وہ کافروں سے مانگ لیں۔
7 مختصر جوابات

﴿يَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَوَلَّوۡا۟ قَوۡمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَیۡهِمۡ قَدۡ یَىِٕسُوا۟ مِنَ ٱلۡـَٔاخِرَةِ كَمَا یَىِٕسَ ٱلۡكُفَّارُ مِنْ أَصۡحَـٰبِ ٱلۡقُبُورِ﴾

سورہ ممتحنہ آیت 13 میں کیا نصیحت کی جا رہی ہے۔

جواب۔ نصیحت

جواب اہل ایمان کو نصیحت کی گئی ہے کہ ان لوگوں سے دوستی نہ کریں جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا ہے (یعنی یہود یا تمام کفار)، کیونکہ وہ آخرت کی بھلائی سے اس طرح ناامید ہو چکے ہیں جیسے قبروں میں پڑے ہوئے کافر ناامید ہوتے ہیں۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

سورہ ممتحنہ آیت 5: ترجمہ اور وضاحت کریں ۔

ترجمہ

”اے ہمارے رب! ہمیں کافروں کے لیے آزمائش (یا فتنہ) نہ بنا اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب! بیشک تو ہی بہت زبردست، بڑا حکمت والا ہے۔“

وضاحت

جواب اس دعا میں مومنین نے التجا کی ہے کہ اے اللہ! کافروں کو ہم پر مسلط نہ کرنا اور نہ ہی ہمیں ایسا کمزور بنانا کہ وہ ہمیں مغلوب کر کے یہ سمجھیں کہ ہم حق پر نہیں ہیں، اور ہمارے گناہوں کی پردہ پوشی فرما کیونکہ تیری ذات غلبے اور حکمت والی ہے۔
9 تفصیلی جوابات

لَّا يَنْهَىٰكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُو إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ

سورہ ممتحنہ آیت 8: ترجمہ اور تشریح کریں ۔

ترجمہ

”اللہ تمہیں ان لوگوں سے جو تم سے دین میں نہیں لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، احسان کرنے اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے نہیں روکتا، بیشک انصاف کرنے والے اللہ کو محبوب ہیں۔“

تشریح

جواب یہ آیت غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور عدل کا بنیادی خارجی اصول فراہم کرتی ہے۔ جو غیر مسلم ریاست کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہیں، ان کے ساتھ مالی امداد، رواداری، نیکی (برّ) اور انصاف (قسط) کا رویہ رکھنے کی مکمل اجازت و ترغیب ہے۔
10 تفصیلی جوابات

وَإِن فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِّنْ أَزْوَاجِكُمْ إِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَآتُوا الَّذِينَ ذَهَبَتْ أَزْوَاجُهُم مِّثْلَ مَا أَنفَقُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ

سورہ ممتحنہ آیت 11: ترجمہ اور وضاحت کریں۔

سوال ۔ وضاحت و مفہوم

جواب اگر کسی مسلمان کی بیوی مرتد ہو کر یا کافروں کی طرف چلی جائے اور مسلمانوں کو کافروں کے پاس موجود مال سے بدلہ یا غنیمت ہاتھ آئے، تو جن مسلمانوں کی بیویاں کافروں کے پاس چلی گئی ہیں، انہیں ان کے حق مہر یا خرچ کے برابر مال پہلے دیا جائے گا۔
11 تفصیلی جوابات

ایأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔

سورہ ممتحنہ آیت 12: ترجمہ اور بتائیں نبی ﷺ کو ہجرت کر کے آن والی عورتوں سے کن باتوں پر بیعت کا حکم دیا گیا؟

ترجمہ

”اے نبی! جب مسلمان عورتیں آپ کے پاس اس بات پر بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا نہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی، کوئی ایسا بہتان خود گھڑ کر نہ لائیں گی جو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان باندھیں (تہمت نہ لگائیں)، اور کسی نیک کام میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گی، تو ان سے بیعت لے لیجیے اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کیجیے۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“

نبی کریم ﷺ کو ان خواتین سے درج بالا 6 اخلاقی و ایمانی شرائط پر بیعت لینے کا حکم تھا:

مہاجر عورتوں سے بیعت کے امور

1 توحید پر پختگی اور شرک سے اجتناب۔
2 چوری نہ کرنے کا عہد۔
3 بدکاری (زنا) سے پرہیز۔
4 اولاد کو قتل نہ کرنا (دورِ جاہلیت میں بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی ممانعت)۔
5 کسی پر جھوٹا بہتان یا الزام نہ لگانا (یا بچوں کے نسب کے بارے میں دھوکا نہ دینا)۔
6 معروف (نیک احکام) میں رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی نہ کرنا۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

سورہ ممتحنہ میں حضرت ابراہیمؑ کی ذکر کردہ دعائیں

ترجمہ

(ترجمہ: ”اے ہمارے رب! تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کیا اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“) (ترجمہ: ”اے ہمارے رب! ہمیں کافروں کے لیے آزمائش نہ بنا اور ہمیں بخش دے، بیشک تو زبردست اور حکمت والا ہے۔“)

جواب سورہ ممتحنہ (آیت 4 اور 5) میں حضرت ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں کی یہ جامع دعائیں نقل کی گئی ہیں:
13 سرگرمیاں

اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق

سورہ ممتحنہ کی آیت 8 کی روشنی میں غیر مسلم اقلیتوں کو درج ذیل بنیادی حقوق حاصل ہیں:

1 حسنِ سلوک کا حق — ان کے ساتھ بھلائی، فخریہ اور مہربان رویہ اپنانا۔
2 معاشرتی و عدالتی انصاف — معاملات میں پورا پورا انصاف اور برابری کا برتاؤ پانا۔
3 جان و مال اور وطن کا تحفظ — جب تک وہ ریاست سے غداری یا جنگ نہ کریں، انہیں جلاوطن یا تنگ کرنے کی ممانعت ہے۔
14 سرگرمیاں

سورہ ممتحنہ کی روشنی میں اسلامی ریاست کے داخلی اور خارجی اصول و ضوابط

خارجی اصول (Foreign Policy): اور داخلي اصول (Domestic Policy):

1 خارجی اصول (Foreign Policy): — امن پسند اور جنگ نہ کرنے والی غیر مسلم اقوام سے تعاون، حسنِ سلوک اور عدل کا قیام۔
2 خارجی اصول (Foreign Policy): — جارح اور مسلمانوں کو وطن سے نکالنے والے دشمنوں سے کلی لاتعلقی، اور ان سے دوستانہ مراسم یا راز و نیاز رکھنے پر سخت پابندی۔
3 داخلي اصول (Domestic Policy): — معاشرے کی اصلاح کی بنیاد اخلاقی اقدار (توحید، پاکدامنی، ایمانداری) پر رکھنا، جس کا آغاز بیعتِ نسواں کے ضابطوں سے ہوتا ہے۔
4 داخلي اصول (Domestic Policy): — ریاست کے اندر نظریاتی وابستگی کی جانچ پڑتال (ممتحنہ) کا اصول تاکہ اندرونی سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔
5 داخلي اصول (Domestic Policy): — تمام معاملات میں اللہ کی ذات پر کامل توکل اور رجوعِ الی اللہ کا داخلی نظام۔

شان نزول

15 شان نزول

آیات 1 تا 3 (دشمنوں سے دوستی کی ممانعت)

جواب واقعہ: جب رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کی تیاری فرما رہے تھے اور آپ نے اس غرض کو صیغہ راز میں رکھا تو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اپنے مکہ میں موجود بال بچوں کی حفاظت کی خاطر ایک خط کے ذریعے اہل مکہ کو اس تیاری کی اطلاع دینا چاہی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
16 شان نزول

آیت 10 (مہاجر خواتین کا امتحان)

جواب واقعہ: صلح حدیبیہ کے معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ مکہ سے جو شخص بھی مسلمان ہو کر مدینہ آئے گا اسے واپس لوٹا دیا جائے گا۔ جب مدینہ ہجرت کر کے کچھ مسلمان خواتین آئیں تو معاہدے کی وضاحت اور جانچ کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ ان خواتین کا امتحان لیا جائے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.