بنو نضیر کی جلاوطنی ربیع الاول 4 ہجری (اگست 625ء) میں پیش آئی۔ اس واقعے کی بنیادی وجوہات معاہدہ شکنی، رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے کی سازش اور منافقین کی پشت پناہی تھیں۔
1
معاہدہ شکنی — مدینہ آمد کے بعد نبی کریم ﷺ نے تمام قبائل کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا تھا، مگر بنو نضیر نے مسلسل سازشیں کیں۔
2
قاتلانہ سازش — جب آپ ﷺ دیت کے معاملے پر ان کی بستی تشریف لے گئے، تو انہوں نے اوپر سے پتھر گرلا کر آپ ﷺ کو شہید کرنے کی ناپاک کوشش کی، جس کی اطلاع وحی کے ذریعے آپ کو مل گئی۔
3
الٹی میٹم — آپ ﷺ نے محمد بن مسلمہؓ کے ذریعے انہیں حکم دیا کہ وہ 10 دن کے اندر مدینہ خالی کر کے چلے جائیں۔ منافقین (عبداللہ بن ابی) نے انہیں روکنے اور مدد کی جھوٹی تسلی دی۔
4
محاصرہ اور جلاوطنی کا عمل — محاصرہ — بنو نضیر نے جب قلعہ بند ہو کر لڑنے کا فیصلہ کیا تو مسلمانوں نے ان کی بستی کا 6 دن تک محاصرہ کیا۔
5
محاصرہ اور جلاوطنی کا عمل — درختوں کا کٹاؤ — حکمت عملی کے تحت مسلمانوں نے ان کے کچھ کھجور کے درخت کاٹے اور جلائے، جس پر قرآن پاک میں احکام نازل ہوئے۔
6
محاصرہ اور جلاوطنی کا عمل — غیر مسلح کوچ — آخرکار وہ ہار مان گئے اور اس شرط پر راضی ہوئے کہ وہ خون بہا اور ہتھیاروں کے علاوہ جتنا سامان اونٹوں پر لاد سکیں لے جائیں گے۔
7
محاصرہ اور جلاوطنی کا عمل — منتقلی — وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے توڑ کر دروازے، کھڑکیاں اور کڑیاں تک اتار کر ساتھ لے گئے۔ وہ 600 اونٹوں پر سامان لاد کر روانہ ہوئے۔
8
انجام — جائے پناہ — ان کے اکثر سردار (جیسے حیی بن اخطب اور سلام بن ابی الحقیق) خیبر چلے گئے، جبکہ کچھ افراد شام کے علاقے (اریحا و تیما) کی طرف روانہ ہو گئے۔
9
انجام — نزولِ قرآن — اس پورے واقعے اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحشر نازل فرمائی۔