بارہویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 20: سبق 20: سورہ المجادلہ، سورہ الحشر — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات، سرگرمیاں اور شان نزول · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

وَلَوْلَا أَن كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاءَ لَعَذَبَهُمْ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ

سورہ الحشر - آیت 3: جلاوطنی نہ ہونے کی صورت میں یہود کا کیا دنیوی و اخروی انجام ہوتا؟

جواب ۔ دنیا میں انجام: اور آخرت میں انجام:

1 جواب ۔ دنیا میں انجام: — جلاوطنی کے فیصلے کے بغیر، ان کے مردوں کو قتل اور عورتوں بچوں کو قیدی بنا کر دنیا ہی میں سخت عذاب سے دوچار کیا جاتا، جیسا کہ بعد میں قبیلہ بنو قریظہ کے ساتھ معاملہ ہوا۔
2 آخرت میں انجام: — دنیاوی سزا کے علاوہ آخرت میں بھی ان کے لیے جہنم کی آگ کا عذاب لازمی طور پر مقدر ہے کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی تھی۔
2 مختصر جوابات

ذٰلِكَ بِاَنَّهُم شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُولَهٗ‌ ۚ وَمَن يُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيدُ العِقَابِ

اس آیت میں یہود کی سزا کی کیا وجہ بیان ہوئی؟

جواب۔ یہود کی سزا کا بیان

1 دنیاوی سزا (جلاوطنی اور جائداد کی ضبطی) — یہودِ بنی نضیر کو مدینہ سے جلاوطن کیا گیا (جلاء) اور ان کے اموال مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ قرآن کے مطابق اگر اللہ نے ان کے لیے یہ دنیاوی جلاوطنی نہ لکھی ہوتی، تو وہ انہیں دنیا میں قتل یا قید کی اور بھی سخت سزا دیتا
2 اخروی سزا (آگ کا عذاب) — دنیاوی جلاوطنی کے علاوہ آخرت میں ان کے لیے جہنم کی آگ کا عذاب مقرر ہے۔
3 سزا کی اصل وجہ — اس سزا کی بنیادی وجہ یہ بیان کی گئی کہ انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی، اور جو بھی اللہ کی مخالفت کرے تو اللہ تعالیٰ اسے سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
3 مختصر جوابات

لئن اخرجوا یٓخرون معھم ۔۔۔۔ ثم لا ینصرون

منافقین کا کیا طرز عمل کی خبر دی گئی؟

جواب

جواب یقیناً اگر انھیں نکالا گیا تو وہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور یقینا اگر ان سے جنگ کی گئی تو وہ ان کی مدد نہ کریں گے“ نے بیان کیا ہے کہ منافقین نے یہود سے جھوٹے وعدے کیے تھے کہ وہ ان کا ساتھ دیں گے، لیکن وقت آنے پر انہوں نے ساتھ نہیں دیا۔ اگر وہ مجبوری میں مدد کرتے بھی تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے
4 مختصر جوابات

لأنتم أشد رهبة ۔۔۔۔۔

یہود کے ڈر کی کیا کیفیت بیان ہو رہی ہے؟

جواب

جواب مسلمانوں کا رعب یہود کے دلوں میں اللہ کے خوف سے بھی زیادہ تھا۔ بلا شبہ تم ان کے سینوں میں خوف کے اعتبار سے اللہ سے زیادہ سخت ہو۔ کیونکہ وہ حقیقت کو سمجھنے اور ایمان کی طاقت سے عاری تھے۔
5 مختصر جوابات

لا يقاتلونكم جميعا الا فی قری محصنۃ او من ورآء حجاب ۔

یہود کی مسلمانوں کے ساتھ قتال کی کیفیت بیان ہوئی ہے۔

جواب

جواب یہود میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ کھلے میدان میں مسلمانوں کا مقابلہ کرتے وہ اکٹھے ہو کر تم سے نہیں لڑیں گے مگر قلعہ بند بستیوں میں، یا دیواروں کے پیچھے سے یعنی وہ بزدلی کی وجہ سے صرف حصار یا قلعوں کے اندر سے وار کرتے تھے بظاہر وہ اکٹھے محسوس ہوتے تھے مگر ان کے دل آپس میں پھٹے ہوئے اور متفرق تھے
6 مختصر جوابات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُون

سورہ الحشر - آیت 18: اہل ایمان کو کیا نصیحت کی گئی ہے؟

جواب۔ اہل ایمان کو نصیحت

1 تقویٰ کی تلقین — اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اس کے احکام کی پابندی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
2 محاسبہ نفس — ہر شخص کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ غور کرے کہ اس نے کل یعنی روزِ قیامت کے لیے آگے کیا اعمال بھیجے ہیں۔
3 نگرانیِ الٰہی کا احساس — اس بات کا دھیان دلایا گیا ہے کہ اللہ تمہارے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔
7 مختصر جوابات

لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُون

سورہ الحشر - آیت 20: آیت میں کن دو گروہوں کا تقابل بیان ہوا؟

جواب۔ تقابل اور کامیاب گروہ

1 دو گروہوں کا تقابل — دوزخ والے (أصحاب النار) اور جنت والے (أصحاب الجنة) برابر نہیں ہو سکتے
2 کامیاب گروہ — جنتی لوگ ہی اصل میں کامیاب ہونے والے ہیں۔

تفصیلی جوابات

8 تفصیلی جوابات

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآىِٕمَةً عَلٰۤی اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَلِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ

ترجمہ و وضاحت کریں۔

ترجمہ

”تم نے کھجور کے جو درخت کاٹے یا جن کو چھوڑ دیا ان کی جڑوں پر کھڑے تو یہ اللہ کے اذن سے ہوا اور تاکہ وہ فاسقوں کو ذلیل و رسوا کرے“

محاصرہ بنی نضیر: جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے یہودی قبیلے بنو نضیر کے قلعوں کا محاصرہ کیا تو حکمتِ عملی کے تحت ان کے بعض کھجور کے درخت کاٹنے اور جلانے کا حکم دیا۔

شانِ نزول اور تشریح و تفصیل

1 شانِ نزول — اعتراضِ یہود: یہودیوں نے شور مچایا اور طعنہ دیا کہ محمد ﷺ فساد سے منع کرتے ہیں پھر خود درخت کیوں کاٹ رہے ہیں؟
2 شانِ نزول — صحابہ میں تردد: اس پر مسلمانوں کے دلوں میں بھی یہ خیال آیا کہ آیا ہمیں اس کا گناہ ملے گا یا ثواب، جس پر یہ تسلی بخش آیت نازل ہوئی۔
3 تشریح و تفصیل — لِیْنَة کا مفہوم: لغت میں ”لینہ“ عمدہ اور بہترین قسم کے کھجور کے درخت کو کہا جاتا ہے۔
4 تشریح و تفصیل — اذنِ الٰہی: جنگی حالات میں دشمن کو عاجز کرنے کے لیے جو اقدام بھی رسول اللہ ﷺ کے حکم سے کیا گیا، وہ سراسر اللہ کی مرضی اور اجازت سے تھا۔
5 تشریح و تفصیل — مقصودِ الٰہی: درختوں کا کاٹنا یا کچھ کو چھوڑ دینا محض بے مقصد عمل نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ نافرمانوں اور یہود کو یہ احساس ہو کہ ان کی طاقت ٹوٹ رہی ہے اور وہ اللہ کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں۔
9 تفصیلی جوابات

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِناَہۡلِ القُرٰی فَلِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَ لِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ کَیۡ لَا یَکُوۡنَ دُوۡلَۃًۢ بَیۡنَ الۡاَغۡنِیَآءِ مِنۡکُمۡ ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ وَ مَا نَہٰکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡہُ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ انَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ

ترجمہ و وضاحت کریں

ترجمہ

”اور جو مال اللہ نے بستیوں والوں (کے کفار) میں سے اپنے رسول ﷺ کو دلایا ہے وہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور رشتہ داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے، تاکہ وہ مال تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ اور جو کچھ تمہیں رسول دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔“

تفصیلی تشریح ۔ 1۔ مالِ فیء کا مفہوم اور تقسیم اور ۲. اطاعتِ رسول ﷺ کا قانون

1 تفصیلی تشریح ۔ 1۔ مالِ فیء کا مفہوم اور تقسیم — مالِ فیء — وہ مال جو کفار سے بغیر جنگ اور لڑائی کے (جیسے صلح یا جزیہ کے ذریعے) حاصل ہو۔
2 تفصیلی تشریح ۔ 1۔ مالِ فیء کا مفہوم اور تقسیم — حقدار — یہ مال ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اجتماعی فلاح کے لیے ہے جو اللہ، رسول ﷺ، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور نادار مسافروں پر خرچ ہوتا ہے۔
3 تفصیلی تشریح ۔ 1۔ مالِ فیء کا مفہوم اور تقسیم — معاشرتی توازن — ”تاکہ وہ مال تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے“، یعنی دولت چند امیروں کے ہاتھ میں مرتکز نہ ہو بلکہ غریبوں اور کمزوروں تک بھی پہنچے۔
4 ۲. اطاعتِ رسول ﷺ کا قانون — قطعی فرمان — ”اور جو کچھ تمہیں رسول دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ“، جو اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حکم اور سنت شریعت میں حجتِ قاطعہ ہیں۔
5 ۲. اطاعتِ رسول ﷺ کا قانون — تقویٰ اور خوفِ خدا — ”اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے“، یعنی احکامِ نبوی کی مخالفت یا مال کی تقسیم پر اعتراض کرنا اللہ کے غضب اور عذاب کو دعوت دینا ہے۔
10 تفصیلی جوابات

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَۚ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ

ترجمہ و تشریح بیان کریں ۔ سورہ الحشر - آیت 18 (محاسبہ اور تقویٰ)

ترجمہ

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (قیامت کے دن) کے لیے آگے کیا بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ ان کاموں سے خوب باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔

تفصیلی تشریح

جواب یہ آیت انسان کو احتسابِ نفس (اپنے اعمال کا جائزہ لینے) کا حکم دیتی ہے۔ ”کل“ سے مراد یومِ قیامت ہے، یعنی انسان کو دنیا میں رہتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ وہ آخرت کی کامیابی کے لیے کون سے اعمالِ صالحہ بھیج رہا ہے۔ تقویٰ کی تاکید دو بار کی گئی ہے تاکہ بندگی اور خوفِ خدا پختہ ہو۔ آخر میں خبردار کیا گیا کہ اللہ تعالی کی ذات سے انسان کا کوئی بھی عمل چھپا ہوا نہیں ہے، وہ ہر چھوٹے بڑے عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔
11 تفصیلی جوابات

لو اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰي جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَتِ اللّٰهِۚ وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ۔

سورہ الحشر - آیت 21 ۔ اس آیت میں قرآن کی کیا عظمت بیان ہوئی؟

ترجمہ

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم اسے دیکھتے کہ وہ اللہ کے ڈر سے جھکا جاتا ہے اور پھٹا پڑتا ہے، اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچ بچار کریں۔

تشریح اور قرآن کی عظمت

جواب یہ آیت قرآن مجید کی جلالتِ شان اور تاثیر کو بیان کرنے کے لیے ایک تمثیل ہے۔ پہاڑ جو اپنی سختی، مضبوطی اور جسامت میں بے مثال ہیں، اگر ان میں عقل و فہم ہوتی اور ان پر یہ عظمت والا قرآن نازل کیا جاتا، تو وہ بھی اللہ کے خوف اور اس کے کلام کے وزن سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے۔ اس کے برعکس، انسان کا دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتا ہے اگر وہ قرآن سن کر بھی نرم نہ ہو۔ اس تمثیل کے ذریعے انسان کو بیدار کیا گیا ہے کہ وہ قرآن کی عظمت کو سمجھے، اس کے معانی پر غور و فکر کرے اور غفلت کی زندگی ترک کر دے۔

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

بنو نضیر کی جلا وطنی ۔

بنو نضیر کی جلاوطنی ربیع الاول 4 ہجری (اگست 625ء) میں پیش آئی۔ اس واقعے کی بنیادی وجوہات معاہدہ شکنی، رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے کی سازش اور منافقین کی پشت پناہی تھیں۔

محاصرہ اور جلاوطنی کا عمل اور انجام

1 معاہدہ شکنی — مدینہ آمد کے بعد نبی کریم ﷺ نے تمام قبائل کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا تھا، مگر بنو نضیر نے مسلسل سازشیں کیں۔
2 قاتلانہ سازش — جب آپ ﷺ دیت کے معاملے پر ان کی بستی تشریف لے گئے، تو انہوں نے اوپر سے پتھر گرلا کر آپ ﷺ کو شہید کرنے کی ناپاک کوشش کی، جس کی اطلاع وحی کے ذریعے آپ کو مل گئی۔
3 الٹی میٹم — آپ ﷺ نے محمد بن مسلمہؓ کے ذریعے انہیں حکم دیا کہ وہ 10 دن کے اندر مدینہ خالی کر کے چلے جائیں۔ منافقین (عبداللہ بن ابی) نے انہیں روکنے اور مدد کی جھوٹی تسلی دی۔
4 محاصرہ اور جلاوطنی کا عمل — محاصرہ — بنو نضیر نے جب قلعہ بند ہو کر لڑنے کا فیصلہ کیا تو مسلمانوں نے ان کی بستی کا 6 دن تک محاصرہ کیا۔
5 محاصرہ اور جلاوطنی کا عمل — درختوں کا کٹاؤ — حکمت عملی کے تحت مسلمانوں نے ان کے کچھ کھجور کے درخت کاٹے اور جلائے، جس پر قرآن پاک میں احکام نازل ہوئے۔
6 محاصرہ اور جلاوطنی کا عمل — غیر مسلح کوچ — آخرکار وہ ہار مان گئے اور اس شرط پر راضی ہوئے کہ وہ خون بہا اور ہتھیاروں کے علاوہ جتنا سامان اونٹوں پر لاد سکیں لے جائیں گے۔
7 محاصرہ اور جلاوطنی کا عمل — منتقلی — وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے توڑ کر دروازے، کھڑکیاں اور کڑیاں تک اتار کر ساتھ لے گئے۔ وہ 600 اونٹوں پر سامان لاد کر روانہ ہوئے۔
8 انجام — جائے پناہ — ان کے اکثر سردار (جیسے حیی بن اخطب اور سلام بن ابی الحقیق) خیبر چلے گئے، جبکہ کچھ افراد شام کے علاقے (اریحا و تیما) کی طرف روانہ ہو گئے۔
9 انجام — نزولِ قرآن — اس پورے واقعے اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحشر نازل فرمائی۔
13 سرگرمیاں

أَلَمْ ترَ إِلَى الَّذِينَ نَافَقُوا يَقُولُونَ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًا وَإِنْ قُوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ

سورہ الحشر - آیت 11 — ترجمہ و وضاحت کریں۔

ترجمہ

”کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے (جو اہل کتاب میں سے ہیں) کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کی بات نہیں مانیں گے، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بے شک وہ بالکل جھوٹے ہیں۔“

تشریح

1 منافقوں کا کردار — اس آیت میں عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی منافقوں کا ذکر ہے جو مدینہ کے یہودی قبیلے (بنو نضیر) کو خفیہ طور پر تسلیاں دیتے تھے۔
2 جھوٹے وعدے — منافقین نے یہودیوں کو پکا وعدہ کیا تھا کہ وہ مصیبت کے وقت ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، مگر جب وقت آیا تو وہ بزدلی کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے۔
3 الہی گواہی — اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیا کیونکہ منافقین کے دل ڈرے ہوئے تھے اور ان کا مقصد صرف فتنہ پھیلانا تھا۔

شان نزول

14 شان نزول

سورہ المجادلہ (آیت 1 تا 4) کا شانِ نزول

1 واقعہ ظہار — حضرت خولہ بنت ثعلبہ اور ان کے شوہر اوس بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی۔ شوہر نے غصے میں کہا: ”اَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ اُمِّیْ“ (تم مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہو)، جو جاہلیت میں طلاق سمجھا جاتا تھا۔
2 حکم الٰہی — خاتون دربارِ رسالت میں فریاد لے کر حاضر ہوئیں، جس پر ”قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِى تُجَادِلُكَ فِى زَوْجِهَا“ نازل ہوئی اور ظہار کا کفارہ (غلام آزاد کرنا، روزے رکھنا یا مسکینوں کو کھانا دینا) مقرر کیا گیا۔
15 شان نزول

سورہ الحشر (مکمل سورت / خصوصیتاً آیات 2 تا 5) کا شانِ نزول

1 غزوہ بنی نضیر — حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ یہ سورہ (جسے سورہ نضیر بھی کہا جاتا ہے) مدینہ کے یہودی قبیلہ بنی نضیر کے معاملے میں نازل ہوئی جنہوں نے معاہدہ توڑا اور آپ ﷺ کے قتل کی سازش کی۔
2 جلاوطنی اور درختوں کی کٹائی — محاصرے کے دوران مسلمانوں نے ان کے بعض درخت کاٹے، جس پر یہود نے طعنہ دیا تو آیت ”مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ“ نازل ہوئی اور بغیر لڑائی کے حاصل ہونے والے اموال (فيء) کا حکم بیان ہوا۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.